پشاور: خیبر پختونخوا کے وزیر شکیل خان کے استعفے کے معاملے پر نئی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق صوبائی وزیر شکیل خان کو کرپشن کے الزامات کے تحت بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے جیل میں ملاقات کے لیے طلب کیا تھا۔ملاقات کے دوران شکیل خان نے بانی پی ٹی آئی کے روبرو خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی شکایت کی۔ ذرائع کے مطابق شکیل خان نے بانی پی ٹی آئی کو بتایا کہ وہ علی امین گنڈاپور کے طرز عمل اور حکومتی معاملات سے ناخوش ہیں اور ان کے تحت کام کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ شکیل خان نے بانی پی ٹی آئی کے سامنے واضح طور پر کہا کہ وہ استعفیٰ دینے کے لیے تیار ہیں۔ اس ملاقات کے دوران شکیل خان نے علی امین گنڈاپور کی قیادت میں حکومت کے حوالے سے متعدد خدشات کا اظہار کیا۔یہ صورتحال خیبر پختونخوا کی سیاسی فضا میں اہمیت اختیار کر چکی ہے اور شکیل خان کے ممکنہ استعفے کی خبریں حکومتی حلقوں میں گہری تشویش کا باعث بن رہی ہیں۔ اس ملاقات کے نتائج اور اس کے اثرات مستقبل قریب میں خیبر پختونخوا کی سیاست پر نمایاں اثر ڈال سکتے ہیں۔
Author: صدف ابرار
-

خیبر پختونخوا کے وزیر شکیل خان کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات: وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے خلاف شکایات
-

ہفتہ وار مہنگائی رپورٹ: اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں معمولی کمی
اسلام آباد: ادارہ شماریات کی جانب سے ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کی رپورٹ جاری کردی گئی ہے جس کے مطابق ملک میں مہنگائی کی شرح میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ادارہ شماریات کے اعدادوشمار کے مطابق رواں ہفتے کے دوران ملک میں ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کی شرح میں 0.16 فیصد کمی ہوئی ہے، جس کے بعد سالانہ بنیادوں پر ہفتہ وار مہنگائی کی مجموعی شرح 16.86 فیصد رہی۔رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے کے دوران 19 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا، جبکہ 13 اشیاء کی قیمتوں میں کمی ہوئی اور 19 اشیاء کی قیمتیں مستحکم رہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹماٹر کی قیمت میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا، جس کی فی کلو قیمت 40 روپے بڑھ گئی۔ اس کے علاوہ، انڈوں کی فی درجن قیمت میں 13 روپے کا اضافہ ہوا، جبکہ لہسن کی قیمت میں 10 روپے 40 پیسے فی کلو اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بڑے گوشت کی قیمت میں 8 روپے 58 پیسے فی کلو اضافہ ہوا، اور گڑ، کپڑا، دہی اور دال چنا بھی مہنگی ہونے والی اشیاء میں شامل ہیں۔
دوسری جانب، رواں ہفتے کے دوران کچھ اشیاء کی قیمتوں میں کمی بھی دیکھی گئی۔ پیاز کی فی کلو قیمت میں 7 روپے 17 پیسے کی کمی ہوئی، جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 8 روپے 51 پیسے فی لیٹر کمی آئی۔ ڈیزل کی قیمت میں بھی 6 روپے 68 پیسے فی لیٹر کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ، آٹے کا 20 کلو کا تھیلا 34 روپے 43 پیسے سستا ہوا، جبکہ دال مونگ کی قیمت میں 6 روپے 25 پیسے فی کلو کمی ہوئی۔ چکن، کیلے، ایل پی جی، چینی اور آلو بھی سستی ہونے والی اشیاء میں شامل ہیں۔ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق، یہ اعداد و شمار مختلف علاقوں سے جمع کیے گئے ہیں اور یہ موجودہ ہفتے کے دوران قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ عوام کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ مارکیٹ میں موجود اشیاء کی قیمتوں کا جائزہ لیں اور ان کے مطابق اپنی خریداری کریں۔ -

ڈاکٹر یونس کی مودی کو فون کال، اقلیتوں کے تحفظ کی یقین دہانی
نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو فون کر کے موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور بنگلہ دیش میں اقلیتوں کے تحفظ کی یقین دہانی کرائی۔
نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” (پہلے ٹوئٹر) پر کہا کہ، "ڈاکٹر محمد یونس،نے مجھے فون کال کی۔ ہم نے موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ میں نے بھارت کی جانب سے بنگلہ دیش میں جمہوری، مستحکم، پُرامن اور ترقی پسند معاشرے کی حمایت کا اعادہ کیا۔ ڈاکٹر یونس نے بنگلہ دیش میں ہندوؤں اور تمام اقلیتوں کے تحفظ، سلامتی اور سکیورٹی کی یقین دہانی کرائی۔”اس سے پہلے، بھارت نے بنگلہ دیش میں جاری تشدد اور خصوصاً اقلیتوں پر حملوں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا تھا۔ڈاکٹر یونس نے 8 اگست کو عبوری حکومت کے سربراہ کا عہدہ سنبھالا، جب 5 اگست کو شیخ حسینہ نے وزیر اعظم کے عہدے سے استعفیٰ دیا۔بھارتی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ فون کال کے دوران، وزیر اعظم مودی نے بنگلہ دیش میں جمہوری، مستحکم، پُرامن اور ترقی پسند معاشرے کے لیے بھارت کی حمایت کی تصدیق کی۔ انہوں نے بنگلہ دیش کے عوام کی مدد کے لیے مختلف ترقیاتی اقدامات کے ذریعے بھارت کی وابستگی پر زور دیا۔مودی نے خاص طور پر بنگلہ دیش میں ہندوؤں اور دیگر تمام اقلیتوں کی سلامتی اور تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ڈاکٹر یونس نے جواب میں یقین دلایا کہ عبوری حکومت بنگلہ دیش میں ہندوؤں اور تمام اقلیتی گروہوں کے تحفظ، سلامتی اور سکیورٹی کو اولین ترجیح دے گی۔دونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات کو قومی ترجیحات کے مطابق آگے بڑھانے کے طریقوں پر بھی بات چیت کی۔
-

بنگلہ دیش میں حالیہ بدامنی کے دوران 600 سے زائد ہلاکتیں، اقوام متحدہ کا احتساب اور انصاف پر زور
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ ایک ابتدائی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 16 جولائی سے 11 اگست 2024 کے دوران بنگلہ دیش میں شدید احتجاج اور عوامی بدامنی کے دوران 600 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ "بنگلہ دیش میں حالیہ احتجاج اور بدامنی کے ابتدائی تجزیہ” کے عنوان سے جاری کی گئی رپورٹ میں ملک میں جاری تاریخی عبوری دور میں احتساب، انصاف اور قومی مصالحتی عمل کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 16 جولائی سے 4 اگست تک تقریباً 400 اموات کی اطلاع ملی، جبکہ 5 اور 6 اگست کے درمیان نئے مظاہروں کے دوران مزید 250 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ پرتشدد واقعات اس وقت شروع ہوئے جب سول سروس کے عہدوں کے لیے کوٹا سسٹم کی بحالی کے بعد طلباء کے پرامن احتجاج نے شدت اختیار کی۔ تاہم، یہ صورتحال جلد ہی پرتشدد ہوگئی اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی گئیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں نہ صرف مظاہرین بلکہ راہگیر، واقعات کی کوریج کرنے والے صحافی، اور سیکیورٹی فورسز کے ارکان بھی شامل ہیں۔ اسپتال زخمیوں کی بڑی تعداد کے باعث بھر گئے، اور کرفیو اور انٹرنیٹ کی بندش کے باعث معلومات جمع کرنے میں مشکلات کے باعث ہلاکتوں کی تعداد کم ظاہر کی گئی۔ مزید یہ کہ، ریاستی حکام کی جانب سے اسپتالوں کو ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تفصیلات فراہم کرنے سے روک دیا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "ایسی قوی علامات موجود ہیں جو اس بات کی متقاضی ہیں کہ سیکیورٹی فورسز نے صورتحال کے جواب میں غیر ضروری اور غیر متناسب طاقت کا استعمال کیا۔” اضافی الزامات جن کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی ضرورت ہے، ان میں ماورائے عدالت قتل، من مانی گرفتاریاں اور حراست، جبری گمشدگیاں، تشدد اور اظہار رائے اور پرامن اجتماع کی آزادیوں پر سخت پابندیاں شامل ہیں۔
بنگلہ دیشی حکومت کے 5 اگست 2024 کو استعفیٰ دینے کے بعد مزید افراتفری اور انتشار پھیل گیا۔ رپورٹ میں لوٹ مار، آتش زنی، مذہبی اقلیتوں پر حملوں، اور سابق حکمران جماعت کے ارکان اور پولیس کے خلاف انتقامی قتل کے واقعات کی تفصیلات دی گئی ہیں۔ 15 اگست کو، سابق وزیراعظم کے حامیوں پر بامبو کے ڈنڈوں، لوہے کی سلاخوں اور پائپوں سے مسلح ہجوم نے حملہ کیا۔ صحافیوں پر بھی حملے کیے گئے اور انہیں واقعات کی فلم بندی سے روکا گیا۔رپورٹ میں قانون اور نظم و ضبط کی جلد بحالی کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے، اور مزید جانوں کے ضیاع، تشدد اور انتقامی کاروائیوں کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ "قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیار کے مطابق طاقت کے استعمال کے بارے میں واضح ہدایات اور تربیت حاصل کرنی چاہیے۔ انہیں اقلیتی برادریوں سمیت خطرے میں پڑنے والے افراد کو انتقامی یا جوابی تشدد سے بچانا چاہیے۔”
اعلیٰ کمشنر نے مختلف طلباء تنظیموں، مذہبی رہنماؤں اور دیگر افراد کی جانب سے اقلیتی برادریوں اور ان کے مذہبی مقامات کی حفاظت کے لیے گروپ بنانے کے اقدام کا خیر مقدم کیا۔ عبوری حکومت نے بھی ان اقدامات کی سخت مذمت کی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ذمہ دار تمام افراد کو جوابدہ بنایا جانا چاہیے، بشمول وہ لوگ جنہوں نے غیر ضروری اور غیر متناسب طاقت کے استعمال کا حکم دیا یا اسے انجام دیا، اور متاثرین کو معاوضہ اور مؤثر علاج فراہم کیا جانا چاہیے۔ترک نے طویل مدتی سیاسی قیدیوں سمیت ہزاروں قیدیوں کی رہائی کا خیرمقدم کیا اور تمام من مانی طور پر قید افراد کی رہائی پر زور دیا۔ رپورٹ میں عدلیہ، سیکیورٹی سیکٹر اور دیگر اداروں میں تقرریوں اور برطرفیوں کے لیے منظم طریقہ کار اپنانے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ -

حافظ نعیم الرحمان کا بجلی کی قیمتوں میں کمی کا خیرمقدم، ریلیف کو مستقل کرنے کا مطالبہ
پنجاب میں 500 یونٹس والے صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں کمی کے حکومتی اعلان کے بعد امیر جماعت اسلامی پاکستان، حافظ نعیم الرحمان نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی مزاحمت اور جدوجہد بالآخر رنگ لائی ہے، تاہم انہوں نے زور دیا کہ یہ ریلیف عارضی نہیں بلکہ مستقل ہونا چاہیے۔
حافظ نعیم الرحمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر) پر اپنے بیان میں کہا کہ پنجاب میں بجلی کی قیمتوں میں کمی کا اقدام ایک اہم پیشرفت ہے، لیکن وفاقی اور دیگر صوبائی حکومتوں کو بھی اس ریلیف کے دائرے کو پورے ملک میں پھیلانا ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کو تمام پاکستانیوں کے لیے ممکن بنایا جائے تاکہ وہ اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے اپنے بیان میں یہ مطالبہ بھی کیا کہ بجلی کی قیمتوں میں یہ کمی صرف عارضی نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس مسئلے پر مستقل حل تلاش کرنا چاہیے تاکہ عوام کو مستقبل میں بھی بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بوجھ سے نجات مل سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دیگر صوبائی حکومتیں اور وفاق بھی بجلی کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے فوری طور پر کوئی پیش رفت کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کا دائرہ پورے ملک میں پھیلانا ضروری ہے تاکہ ہر شہری کو اس ریلیف سے مستفید ہونے کا موقع ملے۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور حکومت پر دباؤ ڈالتی رہے گی تاکہ عوامی مسائل کا مستقل اور دیرپا حل نکل سکے۔
حافظ نعیم الرحمان نے اپنی جماعت کی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی نے ہمیشہ عوامی مسائل پر آواز اٹھائی ہے اور ان کے حقوق کے لیے جدوجہد کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کا یہ فیصلہ جماعت اسلامی کی مزاحمت اور کوششوں کا نتیجہ ہے، اور وہ اس بات کا عزم رکھتے ہیں کہ وہ عوامی مسائل پر اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔حافظ نعیم الرحمان کا یہ بیان عوام کے حقوق کے لیے جماعت اسلامی کے عزم اور ان کی جاری جدوجہد کو مزید مضبوط کرتا ہے، اور وہ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کو پورے ملک میں مستقل بنیادوں پر نافذ کیا جائے۔ -

تاریخ کے آئینے میں: 15 اگست کی اہم واقعات
تحقیق: آغا نیاز مگسی
1519ء: پانامہ شہر کا قیام
پانامہ شہر کا قیام 1519ء میں ہوا، جو آج پانامہ کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ شہر سمندری راستے کے لیے اہم مرکز رہا ہے اور تاریخی طور پر تجارت کا اہم حصہ رہا ہے۔1772ء: ایسٹ انڈیا کمپنی کا عدالتی نظام
ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1772ء میں اضلاع میں دیوانی اور فوجداری عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا، جس سے برصغیر میں برطانوی قانونی نظام کی بنیاد رکھی گئی۔ اس فیصلے نے برطانوی راج کے قانونی ڈھانچے کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔1854ء: پہلی مسافر ٹرین
ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1854ء میں کولکتہ اور ہگلی کے درمیان پہلی مسافر ٹرین چلائی۔ یہ اقدام ہندوستان میں ریلوے کے فروغ کی سمت میں پہلا قدم تھا، جس نے بعد میں برصغیر کے اقتصادی اور سماجی ڈھانچے میں انقلاب برپا کیا۔1945ء: جنگ عظیم دوم کا خاتمہ
15 اگست 1945ء کو جاپان نے امریکی فوجوں کے آگے ہتھیار ڈال دیے، جس سے دوسری جنگ عظیم کا خاتمہ ہوا۔ یہ دن دنیا بھر میں خوشی اور امن کے دن کے طور پر منایا گیا۔1947ء: پاکستان اور بھارت کی آزادی
15 اگست 1947ء برصغیر کی تاریخ کا وہ اہم دن ہے جب پاکستان اور بھارت کو برطانوی سامراج سے آزادی ملی۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کے عہدہ کا حلف اٹھایا، اور لیاقت علی خان نے پاکستان کے پہلے وزیراعظم کے عہدے کا حلف لیا۔ بھارت میں پنڈت جواہر لعل نہرو نے بھارت کے پہلے وزیراعظم کے عہدہ کا حلف اٹھایا۔1948ء: جنوبی کوریا کی جمہوریہ
15 اگست 1948ء کو جنوبی کوریا کو جمہوریہ کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ یہ دن جنوبی کوریا کی آزادی کا دن بھی منایا جاتا ہے۔1949ء: چندرنگر کا بھارت میں انضمام
چندرنگر ریاست کا بھارت میں انضمام 1949ء میں ہوا، جس نے بھارت کے علاقائی اتحاد کو مضبوط کیا۔1950ء: آسام کا زلزلہ
15 اگست 1950ء کو بھارت کے آسام میں آئے زلزلے کی وجہ سے گیارہ ہزار افراد مارے گئے۔ یہ زلزلہ بھارت کی تاریخ کے بدترین قدرتی آفات میں شمار کیا جاتا ہے۔1955ء: گوا کی آزادی کے لیے ستیہ گرہ
15 اگست 1955ء کو گوا کی آزادی کے لیے ستیہ گرہ کا آغاز ہوا، جو بعد میں گوا کی آزادی کے تحریک میں اہم موڑ ثابت ہوا۔1969ء: اسرو کا قیام
بھارت میں 15 اگست 1969ء کو بین الاقوامی خلائی ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کا قیام عمل میں آیا۔ اسرو نے بھارت کو خلائی تحقیق میں دنیا کے ممتاز ممالک کی صف میں کھڑا کیا۔1972ء: پوسٹل پن کوڈ کا آغاز
15 اگست 1972ء کو بھارت میں چھ نمبروں کے پوسٹل پن کوڈ کے استعمال کا آغاز ہوا، جس سے ڈاک کی ترسیل کو منظم اور تیز تر بنانے میں مدد ملی۔1974ء: بنگلا دیش میں سیلاب
15 اگست 1974ء کو بنگلا دیش میں شدید سیلاب آیا، جس سے چار ہزار افراد ہلاک ہوگئے۔ یہ سیلاب بنگلا دیش کی تاریخ کے بدترین آفات میں شامل ہے۔1975ء: بنگلا دیش میں فوجی بغاوت
15 اگست 1975ء کو بنگلا دیش میں فوجی بغاوت ہوئی، جس میں شیخ مجیب الرحمن کو اہل خانہ سمیت قتل کر دیا گیا۔ صرف ان کی بیٹی حسینہ واجد جو ملک سے باہر تھیں، بچ سکیں۔ یہ واقعہ بنگلا دیش کی سیاست میں ایک اہم موڑ تھا۔1982ء: دہلی دور درشن کا قومی اور رنگین پروگرام
15 اگست 1982ء کو دہلی دور درشن نے قومی اور رنگین پروگرام کی ٹیلی کاسٹ شروع کی، جو بھارت میں ٹیلی ویژن نشریات کے شعبے میں ایک نیا دور لے کر آیا۔1990ء: بھارت کا آکاش میزائل تجربہ
15 اگست 1990ء کو بھارت نے زمین سے فضا میں مار کرنے والے درمیانی دوری کے میزائل ‘آکاش’ کا کامیاب تجربہ کیا، جو بھارت کی دفاعی صلاحیتوں میں اہم اضافہ تھا۔2005ء: اسرائیل کا غزہ سے انخلا
15 اگست 2005ء کو اسرائیل نے غزہ کی پٹی سے 38 سالہ مقبوضہ علاقے کو خالی کردیا۔ یہ اقدام مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک اہم تبدیلی کے طور پر دیکھا گیا۔تعطیلات و تہوار:
1945ء: جنوبی کوریا کی جاپان سے آزادی
15 اگست 1945ء کو جنوبی کوریا کو جاپان سے آزادی ملی، جس کے بعد یہ دن جنوبی کوریا کی آزادی کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔1947ء: بھارت کی برطانیہ سے آزادی
15 اگست 1947ء کو بھارت کو برطانیہ کی غلامی سے آزادی ملی، اور یہ دن بھارت کا قومی دن قرار دیا گیا۔1960ء: کانگو کی فرانس سے آزادی
15 اگست 1960ء کو کانگو کو فرانس سے آزادی ملی، جس کے بعد یہ دن کانگو کی آزادی کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ -

وزیراعظم ریلیف پیکیج میں اضافہ: مستحق خاندانوں کے لیے ماہانہ سبسڈی 3650 روپے تک بڑھا دی گئی
اسلام آباد: معاشی مشکلات اور مہنگائی کے بڑھتے ہوئے بوجھ کے پیش نظر، وزیراعظم ریلیف پیکیج کے تحت مستحق خاندانوں کے لیے ماہانہ سبسڈی میں نمایاں اضافہ کردیا گیا ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے وزیراعظم ریلیف پیکیج جاری رکھنے اور اس میں اضافے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت ہر مستحق خاندان کو ماہانہ 2734 روپے کے بجائے 3650 روپے کی سبسڈی فراہم کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت مستحق خاندانوں کے لیے ماہانہ سبسڈی میں 916 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد، سبسڈی کی مجموعی رقم 3650 روپے ماہانہ تک پہنچ گئی ہے، جس کا مقصد کم آمدنی والے اور معاشی طور پر پسماندہ خاندانوں کو بڑھتی ہوئی قیمتوں کے بوجھ سے ریلیف فراہم کرنا ہے۔
ای سی سی کی منظوری کے بعد، حکومت نے 50 ارب روپے وزیراعظم ریلیف پیکیج کے لیے مختص کیے ہیں، جبکہ 10 ارب روپے رمضان ریلیف پیکیج کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ اس ریلیف پیکیج کے تحت، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شامل مستحق خاندانوں کو پانچ بنیادی اشیاء پر سبسڈی فراہم کی جائے گی، جن میں چینی، گھی، آٹا، چاول، اور دالیں شامل ہیں۔ سبسڈی کا اطلاق 30 جون 2024 سے 31 جولائی 2025 تک ہوگا۔ اس طویل المدتی منصوبے کا مقصد یہ ہے کہ مہنگائی کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کیا جائے اور مستحق خاندانوں کو روزمرہ کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائےپاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال کے پیش نظر، یہ اضافہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس وقت ملک کو شدید مہنگائی اور بے روزگاری کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہوگیا ہے۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے سبسڈی میں یہ اضافہ ایک اہم قدم ہے جو کہ معاشی دباؤ کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ -

ملکی معاشی بحران کے حل کے لیے اسحاق ڈار کو اہم ذمہ داری سونپ دی گئی
اسلام آباد: ملک میں جاری معاشی بحران کے پیش نظر وزیراعظم نے ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کو معاشی بحالی پلان کے حوالے سے اہم ذمہ داری سونپ دی ہے۔ اسحاق ڈار کو مقامی تیار کردہ معاشی ترقیاتی پلان کی تشکیل اور اس پر عملدرآمد کے لیے ایک 7 رکنی کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔وزیراعظم نے ملک کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے اور بحران سے نکلنے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے، جس کی سربراہی اسحاق ڈار کریں گے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکشن کے مطابق، اس کمیٹی میں وزیر منصوبہ بندی، وزیر خزانہ، وزیر اقتصادی امور، وزیر اطلاعات و نشریات، وزیر مملکت ریونیو اور توانائی، اور ایس آئی ایف سی کے قومی کوآرڈینیٹر شامل ہوں گے۔ کمیٹی کا بنیادی کام پروفیسر اسٹیفن ڈیرکان کے تیار کردہ معاشی پلان کے مسودے اور وزارت منصوبہ بندی کے تیار کردہ سیکٹورل پلان کا جائزہ لینا اور شراکت داروں سے فیڈ بیک حاصل کرنا ہے۔ کمیٹی یہ بھی یقینی بنائے گی کہ تیار کردہ ڈرافٹ پلان جامع، ہم آہنگ اور تضادات سے پاک ہو، اور سیکٹورل پلان مقامی تیار کردہ معاشی ترقیاتی پلان کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔
ذرائع کے مطابق، وزیراعظم کو برطانوی ماہر اسٹیفن ڈیرکان کی جانب سے 5 سالہ معاشی پالیسی پر تجاویز دی گئی تھیں، جس کا مقصد پاکستان کی اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانا تھا۔ وزیراعظم نے اسٹیفن ڈیرکان کی معاشی پالیسی سے اتفاق کیا تھا اور 14 اگست کو اس پالیسی کا اعلان کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔تاہم، خزانہ، تجارت، اور منصوبہ بندی کی وزارتوں نے اس پالیسی پر کچھ تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ وزارتوں اور ایف بی آر کے اعتراضات کے باعث وزیراعظم نے اس معاشی پالیسی کے اعلان کو مؤخر کردیا تھا۔ وزراء کا موقف تھا کہ بیرونی ماہرین کی تجاویز کا ملکی حالات کے مطابق جائزہ لینا ضروری ہے۔
وزارتوں کی جانب سے اس معاملے کو نواز شریف کے سامنے اٹھایا گیا، جس میں وزراء نے زور دیا کہ ملکی اقتصادی پالیسی سازی میں بیرونی ماہرین کی تجاویز کو احتیاط سے اور ملکی حالات کے مطابق اپنانا چاہیے۔ اس صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم نے اس معاملے کو مزید غور و خوض کے لیے اسحاق ڈار کی سربراہی میں کمیٹی کے سپرد کردیا۔اب کمیٹی کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ایسا معاشی پلان تیار کرے جو ملک کے موجودہ معاشی چیلنجز کو حل کر سکے۔ کمیٹی کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے حکومت ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔ اس حوالے سے کمیٹی کا جلد از جلد اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرنے کا امکان ہے۔ -

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا موجودہ حالات سے لاتعلقی کا اظہار
لندن: پاکستان کے سابق چیف جسٹس، جسٹس (ر) ثاقب نثار نے پاکستان کے موجودہ حالات سے کسی قسم کا تعلق ہونے کی سختی سے تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے حوالے سے جو من گھڑت خبریں پھیلائی جارہی ہیں، ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ثاقب نثار نے ان افواہوں کی بھی تردید کی ہے جو ان کی گرفتاری کے حوالے سے گردش کر رہی تھیں۔سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بارے میں پھیلائی جانے والی خبریں بے بنیاد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی طے شدہ مصروفیات کے تحت 7 اگست کو لندن پہنچے تھے اور ہر سال تین ہفتے ملک سے باہر گزارتے ہیں۔ ان کے اس دورے کا پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ثاقب نثار نے کہا کہ وہ لندن کے بعد اسکاٹ لینڈ اور ناروے بھی جائیں گے اور دو ہفتوں بعد وطن واپس آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد صرف اپنی سالانہ چھٹیوں کا لطف اٹھانا ہے اور وہ پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کر رہے۔ ثاقب نثار نے کہا کہ ان کے بارے میں پھیلائی جانے والی افواہیں سراسر غلط ہیں اور عوام کو ان پر یقین نہیں کرنا چاہیے۔یہ بیان ان افواہوں کے پس منظر میں سامنے آیا ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی گرفتاری کا امکان ہے، خاص طور پر لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کی گرفتاری کے بعد سے ایسی افواہیں مزید شدت اختیار کر گئی تھیں۔
-

انٹرنیٹ کی سست رفتاری پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے خطرہ: اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس کی وارننگ
اسلام آباد: اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (OICCI) نے ایک انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان بھر میں انٹرنیٹ کی سست رفتار اور اس میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں ملک کی اقتصادی ترقی کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرنے والی اس باڈی کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کی غیر مسلسل دستیابی اور اس میں بار بار پیدا ہونے والی رکاوٹیں نہ صرف ملکی معیشت میں جدت طرازی کو روکتی ہیں بلکہ اقتصادی بحالی کے اہم جُز یعنی غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات کو بھی بری طرح متاثر کر سکتی ہیں۔
ملکی معیشت کے لیے خطرات
اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس کا کہنا ہے کہ ملک کی معاشی ترقی میں ایک مضبوط ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم، انٹرنیٹ سروسز میں بار بار آنے والی رکاوٹیں اور سست رفتاری اس وژن کو خطرے میں ڈالتی ہیں۔ چیمبر کے مطابق، اگر ان مسائل کو جلد حل نہ کیا گیا تو ملکی معیشت کو نہ صرف شدید نقصان پہنچے گا بلکہ مستقبل میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات بھی محدود ہو سکتے ہیں۔انٹرنیٹ سروسز کی رفتار میں نمایاں کمی
وائرلیس اینڈ انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق، گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ملک میں انٹرنیٹ کی رفتار میں 30 سے 40 فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے۔ یہ کمی خاص طور پر کاروباری سرگرمیوں، آن لائن خدمات اور فری لانسنگ کے شعبے کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔فری لانسرز کی آمدنی اور معیشت پر اثرات
پاکستان میں فری لانسرز کی خدمات ملکی معیشت کے لیے سالانہ ایک ارب ڈالر سے زیادہ کی آمدنی کا ذریعہ ہیں۔ یہ اضافی آمدنی مقامی اشیاء اور خدمات پر خرچ کی جاتی ہے، جس سے ملک کی اقتصادی ترقی میں بھی حصہ لیا جاتا ہے۔ تاہم، انٹرنیٹ کی سست روی اور بار بار کی رکاوٹیں فری لانسرز کی آمدنی کو متاثر کر رہی ہیں، جس سے نہ صرف اقتصادی سرگرمیاں محدود ہو رہی ہیں بلکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی ختم ہوتا جا رہا ہے۔حکومت سے مشاورت کی ضرورت
اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور سائبر سیکیورٹی فریم ورک کی تشکیل کے لیے آئی ٹی انڈسٹری کے ماہرین سے مشاورت کرے۔ اس حوالے سے ایک جامع پالیسی کی ضرورت ہے تاکہ انٹرنیٹ سروسز کو مستحکم اور محفوظ بنایا جا سکے، جس سے ملکی معیشت کے لیے ایک سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔
دوسری جانب، ذرائع کے مطابق، سوشل میڈیا سروسز آئندہ دو سے تین روز میں معمول پر آنے کی توقع ہے۔ تاہم، مستقل بنیادوں پر انٹرنیٹ سروسز کی بحالی اور بہتری کے لیے حکومت کو جامع اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ان مسائل سے بچا جا سکے۔