اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ضلع کرم میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کی کامیاب کارروائیوں پر خراج تحسین پیش کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت اور دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے ضلع کرم میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے خوارج دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے اس کارروائی میں شامل افسران اور جوانوں کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو سراہا اور کہا کہ ملک کو فتنہ خوارج سے پاک کرنے کے لیے قوم کا عزم مضبوط ہے۔
صدر آصف زرداری نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں قابل ستائش ہیں، اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ خوارج کے خلاف کاروائیاں جاری رکھی جائیں گی تاکہ وطن عزیز کو مکمل طور پر دہشت گردوں سے نجات دلائی جا سکے۔
اسی طرح وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھی ضلع کرم میں دہشت گردوں کے ٹھکانے پر کامیاب کارروائی کرنے اور فتنہ خوارج کے سات دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے پر پاک فوج کو مبارکباد دی۔ انہوں نے پانچ دہشت گردوں کو زندہ پکڑنے پر سیکیورٹی فورسز کے افسران و جوانوں کو شاباش دی اور کہا کہ افواجِ پاکستان وطن کی حفاظت کے لیے دن رات مصروف عمل ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ پاک فوج کے بہادر جوان اور افسران ملک کی سالمیت کے لیے اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر فرائض کی انجام دہی میں مصروف ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور دہشت گردی کے عفریت سے وطن عزیز کی مٹی کو پاک کرنے کے لیے ان کے عزم میں شامل ہے۔
صدر مملکت اور وزیراعظم کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ پاک فوج ملک کے دشمن عناصر کے خلاف لڑنے میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے اور قوم کا ہر فرد ان کی کامیابی کے لیے دعاگو ہے۔ ان بیانات سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی عوام اور فوج یکجا ہیں، اور اس جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
Author: صدف ابرار
-

صدر مملکت اور وزیراعظم کا پاک فوج کی دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں پر خراج تحسین
-

انٹرنیٹ فائروال کے نفاذ سے پاکستانی معیشت کو 30 کروڑ ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے: پی ایس ایچ اے
پاکستان میں انٹرنیٹ فائروال کے نفاذ پر پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (پی ایس ایچ اے) کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ پی ایس ایچ اے کے مطابق اس فیصلے سے ملک کی معیشت کو 30 کروڑ ڈالر تک کا نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔پی ایس ایچ اے نے اپنے بیان میں کہا کہ انٹرنیٹ فائروال کے نفاذ کے بعد سے ملک میں انٹرنیٹ کی سروسز میں خلل پیدا ہوا ہے، جس کی وجہ سے انٹرنیٹ کی معطلی اور وی پی این کی خراب کارکردگی دیکھنے میں آئی ہے۔ اس صورتحال نے کاروباری سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں اور مختلف کاروباری اداروں کو بھاری مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ایسوسی ایشن نے واضح کیا کہ انٹرنیٹ کی سست روی اور وی پی این کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے کاروباری اداروں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ رکاوٹیں نہ صرف تکلیف دہ ہیں بلکہ ملک کی صنعتی ترقی پر بھی براہ راست حملہ ہیں۔ ایسوسی ایشن کے مطابق، ان مسائل کی وجہ سے ہونے والا تخمینہ شدہ مالی نقصان 30 کروڑ ڈالر سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔پی ایس ایچ اے نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سائبر سیکیورٹی فریم ورک کے نفاذ کے سلسلے میں آئی ٹی انڈسٹری کے ساتھ مشاورت کرے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ سروسز کو معیاری بنانے اور کاروباری شعبے کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے انڈسٹری کی رائے اور تجربات کو شامل کرنا ضروری ہے۔
پی ایس ایچ اے کے مطابق، انٹرنیٹ فائروال کے نفاذ سے پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری کو بھی شدید دھچکا لگ سکتا ہے، کیونکہ انٹرنیٹ کی معطلی اور وی پی این کی خراب کارکردگی سے عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ اس صورت حال سے نہ صرف مقامی کاروباری ادارے متاثر ہوں گے بلکہ پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر میں بین الاقوامی سرمایہ کاری اور ترقی کے امکانات بھی محدود ہو سکتے ہیں۔پی ایس ایچ اے نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ انٹرنیٹ فائروال کے نفاذ کے فیصلے پر نظر ثانی کرے اور سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے پالیسی سازی میں آئی ٹی انڈسٹری کے اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرے تاکہ ملکی معیشت کو نقصان سے بچایا جا سکے اور پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری عالمی سطح پر اپنا مقام برقرار رکھ سکے۔ -

سابق آرمی چیف جنرل باجوہ نے ملک میں مارشل لا لگانے کی دھمکی دی تھی،وزیر دفاع خواجہ آصف کا دعویٰ
وزیر دفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے ملک میں مارشل لا لگانے کی دھمکی دی تھی، اور یہ بات انہوں نے انفرادی طور پر نہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی کی تھی۔نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے، خواجہ آصف نے کہا کہ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے مارشل لا کی بات نہ صرف ان کے سامنے بلکہ مجمع کے سامنے بھی کی تھی۔ یہ بیان ملکی سیاسی منظرنامے میں ایک نئی بحث کا آغاز کر سکتا ہے، کیونکہ خواجہ آصف کے اس دعوے نے اس وقت کے اعلیٰ فوجی قیادت کی پوزیشن پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔خواجہ آصف نے اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کے جنرل باجوہ کی ایکسٹینشن کی تردید والے بیان پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ملک احمد خان ان کے بھائی اور بیٹے ہیں، لیکن ان کی باتیں موجودہ حالات سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ وزیر دفاع نے کہا کہ جنرل باجوہ نے اس وقت کے ڈیڈ لاک کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ایکسٹینشن کو بھی ایک آپشن قرار دیا تھا، جو کہ ایک عبوری حل کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ جنرل باجوہ نے اپنے چنے ہوئے فرد کو اقتدار میں لانے کی خواہش ظاہر کی تاکہ ان کی پالیسیوں اور فیصلوں کا تسلسل برقرار رہے۔ خواجہ آصف نے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید کے درمیان قریبی تعلقات کی تصدیق کی، اور کہا کہ دونوں کی قریبی شراکت داری تھی۔ایک سوال کے جواب میں، خواجہ آصف نے تصدیق کی کہ جنرل باجوہ نے این ڈی یو کی میٹنگ میں مارشل لا کا ذکر کیا تھا، اور یہ بھی کہا تھا کہ مارشل لا کے بعد گرفتاریوں کی فہرستیں تیار کی جا چکی تھیں۔ یہ باتیں جنرل باجوہ نے ایک بیٹھک میں کی تھیں اور مجمعے کے سامنے بھی اس کا ذکر کیا تھا۔خواجہ آصف کے اس بیان نے پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت کی شفافیت پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، اور ممکنہ طور پر اس سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آئیں گی جو ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر اثرانداز ہو سکتی ہیں۔
-

بشریٰ بی بی سے 9 مئی کے مقدمات کی تفتیش کا آغاز: پولیس کی چھ رکنی ٹیم کی اڈیالہ جیل میں تفتیش
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے 9 مئی کے واقعات سے متعلق 12 مقدمات کی تفتیش کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں راولپنڈی پولیس کی چھ رکنی تفتیشی ٹیم اڈیالہ جیل پہنچی، جہاں بشریٰ بی بی سے پوچھ گچھ کی گئی۔تفتیشی ٹیم کی سربراہی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) فیصل سلیم کر رہے تھے، جبکہ ٹیم میں ایک خاتون ڈی ایس پی فوزیہ بھی شامل تھیں۔ ذرائع کے مطابق، پولیس کی تفتیشی ٹیم نے 30 منٹ تک بشریٰ بی بی سے تفتیش کی۔ اس دوران ڈی ایس پی فوزیہ نے بشریٰ بی بی سے مختلف سوالات کیے، جن میں 9 مئی کے مظاہروں، جلاؤ گھیراؤ، اور اہم تنصیبات پر حملے کی منصوبہ بندی سے متعلق دریافت کیا گیا۔
پولیس کی تفتیشی ٹیم نے بشریٰ بی بی سے موجود شواہد کی بنیاد پر سوالات کیے، تاکہ 9 مئی کے سانحے میں ان کے ممکنہ کردار اور ملوث ہونے کا تعین کیا جا سکے۔ عدالت نے پولیس کو ہدایت دی ہے کہ بشریٰ بی بی سے تفتیش ایک ہفتے کے اندر مکمل کی جائے۔یاد رہے کہ 12 اگست کو عدالت نے بشریٰ بی بی کی درخواستِ ضمانت کو خارج کر دیا تھا، اور انہیں 9 مئی کے 12 مقدمات میں نامزد کیا گیا ہے۔ ان مقدمات میں انہیں مظاہروں کے دوران ہونے والے جلاؤ گھیراؤ اور اہم تنصیبات پر حملوں کی منصوبہ بندی کے الزامات کا سامنا ہے۔بشریٰ بی بی کے کیس کی تفتیش میں ہونے والی پیش رفت کو ملک بھر میں بڑی دلچسپی کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف 9 مئی کے واقعات کی مزید تفصیلات سامنے آئیں گی بلکہ ملک کی سیاسی صورتحال پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ -

پی ایس ایکس : ہنڈرڈ انڈیکس 228 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 78,105 پوائنٹس پر بند
کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں کاروباری دن کے اختتام پر مثبت رجحان دیکھنے میں آیا، جہاں ہنڈرڈ انڈیکس 228 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 78,105 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔ دن بھر کے دوران مجموعی طور پر 441 کمپنیوں کے شیئرز میں کاروبار ہوا، جن میں سے 226 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ 162 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ مارکیٹ کی بلند ترین سطح 78,709 پوائنٹس جبکہ کم ترین سطح 77,987 پوائنٹس رہی۔کاروباری دن کے دوران 59 کروڑ 10 لاکھ سے زائد شیئرز کا لین دین ہوا، جن کی مجموعی مالیت 20 ارب 10 کروڑ روپے سے زائد رہی۔ دوسری جانب، آج ڈالر کے بھاؤ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق، انٹربینک میں ڈالر 278 روپے 70 پیسے پر مستحکم رہا جبکہ اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر کا بھاؤ 280 روپے 40 پیسے پر برقرار رہا۔
ماہرین کے مطابق، اسٹاک مارکیٹ میں بہتری ملکی معیشت میں استحکام کی علامت ہے تاہم آنے والے دنوں میں سیاسی اور معاشی حالات کے تناظر میں مزید استحکام کی ضرورت ہے۔ -

کرم میں سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، 7 دہشتگرد ہلاک، 5 زخمی
کرم: سیکیورٹی فورسز نے کرم کے علاقے میں خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس کی بنیاد پر کامیاب آپریشن کرتے ہوئے 7 خوارج کو ہلاک کر دیا، جبکہ 5 دیگر زخمی ہوئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، اس آپریشن کے دوران دہشتگردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ یہ خوارج سیکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کے خلاف متعدد دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث تھے۔ ان کے خاتمے سے علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانے کو گھیرے میں لے کر ان کے خلاف کارروائی کی۔ اس آپریشن کے نتیجے میں علاقے میں مزید ممکنہ دہشتگردوں کی موجودگی کے پیش نظر کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی مزید خارجی کو گرفتار یا ہلاک کیا جا سکے۔آئی ایس پی آر کے مطابق، پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملک سے دہشتگردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے پرعزم ہیں اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گی۔ آئی ایس پی آر نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ دہشتگردوں کے بارے میں معلومات فراہم کریں تاکہ ملک کو امن کا گہوارہ بنایا جا سکے۔
یاد رہے کہ ملک بھر میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشتگردوں کے خلاف مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کیے جا رہے ہیں تاکہ ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ کرم میں ہونے والا یہ آپریشن بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جو دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر فوری طور پر کیا گیا۔سیکیورٹی فورسز کی اس کامیاب کارروائی پر عوام نے بھی اطمینان کا اظہار کیا ہے اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ عوام نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر ملک سے دہشتگردی کے ناسور کو ختم کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ -

پاکستان میں ایم پاکس کا مشتبہ کیس رپورٹ، وزارت قومی صحت کی تصدیق
اسلام آباد: خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے ایک شخص میں ایم پاکس (Monkeypox) کا مشتبہ کیس رپورٹ ہوا ہے، جس نے حال ہی میں خلیجی ممالک کا سفر کیا تھا۔ ترجمان وزارت قومی صحت نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مشتبہ شخص کے نمونے قومی ادارہ صحت (NIH) کو بھجوا دیے گئے ہیں تاکہ وائرس کی موجودگی کی حتمی تصدیق کی جا سکے۔ترجمان کے مطابق، متاثرہ شخص میں ایم پاکس کی علامات معمولی ہیں، تاہم احتیاطی تدابیر کے طور پر اس کے کانٹیکٹ ٹریسنگ کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، وزارت صحت کے حکام نے مزید افراد کے نمونے حاصل کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے جو متاثرہ شخص کے رابطے میں رہے ہیں۔
وزارت قومی صحت نے تمام صوبوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ منکی پاکس کے حوالے سے فوکل پرسنز مقرر کریں تاکہ اس بیماری کی ممکنہ پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ مزید برآں، بارڈر ہیلتھ سروسز کو تمام پوائنٹس آف اینٹری پر نگرانی کو سخت کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے تاکہ بیرون ملک سے آنے والے افراد کی مکمل سکریننگ کی جا سکے۔ترجمان وزارت قومی صحت کا کہنا تھا کہ ایم پاکس ایک نیا وائرس ہے اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ گھبرانے کی بجائے احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور اگر کسی میں علامات ظاہر ہوں تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
ایم پاکس کی علامات میں بخار، جسم پر دانے، سر درد، اور دیگر فلو جیسی علامات شامل ہیں۔ یہ وائرس ایک شخص سے دوسرے شخص میں قریبی رابطے کے ذریعے پھیل سکتا ہے، لہذا اس حوالے سے عوام کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔حکومت پاکستان اور وزارت قومی صحت ملک میں اس بیماری کی روک تھام کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں اور عوام کو جلد ہی مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔ -

حماد اظہر کے بعد چوہدری اصغر گجر اور حافظ ذیشان رشید نے بھی عہدے چھوڑ دیے
لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندرونی بحران کے دوران مزید دو اہم رہنماؤں نے اپنے پارٹی عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ لاہور کی تحریک انصاف کے صدر چوہدری اصغر گجر اور جنرل سیکریٹری حافظ ذیشان رشید نے اپنے عہدے چھوڑنے کا اعلان کیا ہے، جس سے پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے میں مزید مسائل کھڑے ہوگئے ہیں۔چوہدری اصغر گجر نے اپنے استعفیٰ کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تحریک انصاف لاہور کی صدارت چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے جدوجہد میں ساتھ دینے پر وہ کارکنوں کے مشکور ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ان کے بعد آنے والا صدر ان سے بھی بہتر انداز میں جدوجہد کرے گا۔دوسری جانب، حافظ ذیشان رشید، جو لاہور کے جنرل سیکریٹری تھے، نے بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ استعفے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پی ٹی آئی کے اندرونی معاملات میں بے یقینی اور قیادت تک رسائی میں مشکلات کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔
تاہم اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما حماد اظہر نے آج ایک حیران کن اقدام میں پنجاب کی پارٹی صدارت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ حماد اظہر نے اپنے استعفے کے پیچھے کئی وجوہات بیان کیں۔ انہوں نے کہا، "بڑی تنظیمی ذمہ داریاں صرف ان لوگوں کے پاس ہونی چاہئیں جن کی پارٹی لیڈر تک براہ راست رسائی ہو۔ بدقسمتی سے، میری بانی پی ٹی آئی (عمران خان) تک رسائی نہیں ہے۔” حماد اظہر نے واضح کیا کہ وہ کسی دباؤ میں نہیں آئے ہیں۔ "میں نے نہ تو کوئی پریس کانفرنس کی ہے اور نہ ہی کسی قسم کی ڈیل کی ہے۔ میں صرف اپنے ضمیر کی آواز پر عمل کر رہا ہوں،
انہوں نے پارٹی کے اندرونی فیصلہ سازی کے عمل پر بھی تنقید کی۔ "پنجاب کی تنظیم میں بہت سے ایسے فیصلے ہوئے جن پر نہ تو میری رائے شامل تھی اور نہ ہی میری رضامندی۔ ان میں سے اکثر فیصلے میرٹ کی بجائے لابنگ اور یک طرفہ معلومات کی بنیاد پر کیے گئے۔حماد اظہر نے لاہور کے صدر چوہدری اصغر کی برطرفی کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا، "کافی عرصے سے لابنگ جاری تھی کہ لاہور کے صدر چوہدری اصغر کو بدلا جائے۔ آج وہ لوگ کامیاب ہو گئے، جبکہ چوہدری اصغر کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ دو ماہ قید میں رہے اور نواز شریف کے حلقے سے الیکشن جیتے۔”
حماد اظہر نے چوہدری اصغر کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا، "میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ تین ماہ میں جو کام انہوں نے کیا اور جس طرح فرنٹ سے لیڈ کیا، وہ پہلے لاہور کے کسی صدر نے نہیں کیا۔ احتجاج، ورکر کنونشن، پریس کلب کے باہر بڑا احتجاج اور 13 اگست کی لاہور میں کامیاب ریلیوں میں ان کا کلیدی کردار تھا۔”
حماد اظہر نے یہ بھی الزام لگایا کہ پارٹی کے کچھ عناصر عمران خان تک محدود رسائی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ "پارٹی کی قیادت بھی میرے ساتھ متفق ہے کہ یہ فیصلہ اور ایسے بہت سے فیصلے صرف اور صرف عمران خان تک محدود رسائی کے نتیجے میں لیے جاتے ہیں،حماد اظہر نے اپنے موقف پر زور دیتے ہوئے کہا، "اس صورتحال میں میرے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ میں میرٹ کو پامال کروں۔ ایسی صورت میں مفاد پرست اس رابطے کے فقدان کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔”
یہ استعفی پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات کو ظاہر کرتا ہے اور پارٹی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہو سکتا ہے۔پی ٹی آئی کے ترجمان نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے، لیکن کہا ہے کہ پارٹی جلد ہی ایک تفصیلی بیان جاری کرے گی۔ -

آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر 16 اگست کو ارشد ندیم کے اعزاز میں خصوصی تقریب منعقد کریں گے
پاکستان کے قومی ہیرو اور گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم کو نشانِ امتیاز (ملٹری) کے اعزاز میں جمعہ، 16 اگست کو جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا جائے گا۔ پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے اس موقع پر جاری کردہ بیان میں کہا کہ یہ تقریب ارشد ندیم اور ان کے اہلخانہ کے اعزاز میں منعقد کی جائے گی۔بیان کے مطابق، اس خصوصی تقریب کا مقصد ارشد ندیم کی کھیلوں میں شاندار صلاحیتوں کا اعتراف اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ ارشد ندیم نے گولڈ میڈل جیت کر نہ صرف قوم کی توقعات پر پورا اترا بلکہ ملک کا نام بھی روشن کیا۔ ان کی کامیابی کو قومی سطح پر سراہا جائے گا اور انہیں نشانِ امتیاز (ملٹری) سے نوازا جائے گا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق، گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم کھیلوں کی دنیا میں پاکستان کی نوجوان نسل کے لئے ایک مشعل راہ ثابت ہوں گے۔ ان کی کامیابی کھیلوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے نوجوانوں کے لیے ایک حوصلہ افزائی کا باعث ہے اور انہیں اپنے مقصد کے حصول میں مدد فراہم کرے گی۔ اس تقریب میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر ارشد ندیم کی خدمات اور کامیابیوں کو سراہیں گے اور ان کے خاندان کو بھی خراجِ تحسین پیش کریں گے۔ -

حالیہ گرفتاریاں پی ٹی آئی اور سہولت کاروں کی سازشوں کو بے نقاب کر رہی ہے، شر جیل میمن
سینئر صوبائی وزیر سندھ، شرجیل میمن نے حالیہ گرفتاریوں کے پس منظر میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور اس کے سہولت کاروں کے کردار کو بے نقاب کیا ہے۔ ایک پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے انکشاف کیا کہ ملک میں ہونے والی حالیہ گرفتاریاں ایک بڑے سازشی منصوبے کی طرف اشارہ کرتی ہیں جس میں پی ٹی آئی کی قیادت اور اس کے سہولت کار ملوث تھے۔پریس کانفرنس کے دوران شرجیل میمن نے بتایا کہ سندھ کابینہ نے ملیر میں سولر پارک کی منظوری دی ہے، جو صوبے میں توانائی بحران کے حل کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ نے آج کچھ اور بھی اہم فیصلے کیے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے صدر مملکت کے بیان کا حوالہ دیا کہ بجلی کے بل عوام کے لیے بہت زیادہ ہو چکے ہیں اور ان میں ریلیف دینے کی ضرورت ہے۔
شرجیل میمن نے زور دیا کہ حالیہ دنوں میں اہم گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں اور ان گرفتاریوں سے واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت نو مئی کے واقعات میں ملوث تھی۔ انہوں نے کہا کہ نو مئی پاکستان کی تاریخ کا بدترین دن تھا اور اس دن کی سازش میں پی ٹی آئی کی قیادت کے ساتھ ساتھ کچھ سہولت کار بھی شامل تھے۔شرجیل میمن نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے سہولت کاروں میں ایک بدنام زمانہ شخصیت شامل ہے جو عدالتوں میں سہولت کاری کرتی رہی ہے۔ اس شخص نے مخالف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو جیل بھجوایا، جس میں پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ اور آغا سراج درانی بھی شامل تھے۔ انہوں نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پی ٹی آئی کے لیے مینجمنٹ کی اور اس کے انتشار کا حصہ رہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ہمیں اپنے اداروں کا دفاع مل کر کرنا ہے اور کسی کو بھی ملکی سالمیت کے خلاف سازش کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری نے جیل کاٹی لیکن کبھی بھی ملک کے خلاف سازش نہیں کی، جبکہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے خلاف اوپن اینڈ شٹ کیسز موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اور بھارت کی طرف سے تحریک انصاف کو سپورٹ حاصل تھی اور یہ ملک اور اس کے اداروں کے خلاف ایک گھناؤنی سازش تھی۔شرجیل میمن کے ان بیانات نے ملک کی سیاسی فضا میں مزید گرمی پیدا کر دی ہے اور اس بات کے شواہد فراہم کیے ہیں کہ پی ٹی آئی اور اس کے سہولت کاروں نے کس طرح ملکی اداروں کے خلاف سازش کی۔