Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • انٹرنیٹ کی سست روی ناقابل برداشت، 5G کی نیلامی کے لیے کوششیں جاری، شزہ فاطمہ

    انٹرنیٹ کی سست روی ناقابل برداشت، 5G کی نیلامی کے لیے کوششیں جاری، شزہ فاطمہ

    اسلام آباد: وزیر مملکت برائے آئی ٹی، شزہ فاطمہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انٹرنیٹ کی سست رفتاری اور سائبر سیکیورٹی پر بات چیت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو انٹرنیٹ کی رفتار کے حوالے سے متعدد شکایات موصول ہو رہی ہیں اور یہ مسئلہ ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ انٹرنیٹ کبھی بھی سست نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ ڈیجیٹل اکانومی اور ڈیجیٹل گورنمنٹ کا انحصار انٹرنیٹ کی اچھی رفتار پر ہے۔شزہ فاطمہ نے مزید بتایا کہ حکومت 5G کی نیلامی کے لیے کوششیں کر رہی ہے اور جلد ہی اس حوالے سے پیش رفت کی جائے گی۔ اس ضمن میں، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سے گزشتہ دو ہفتوں کا ڈیٹا طلب کیا گیا ہے تاکہ انٹرنیٹ کی رفتار اور ڈیٹا ٹریفک کا جائزہ لیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ واٹس ایپ کے ڈاؤن ہونے کی شکایات کو بھی دور کر دیا گیا ہے۔

    سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے، شزہ فاطمہ نے کہا کہ دنیا بھر کی حکومتیں سائبر سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے فائر والز کا استعمال کر رہی ہیں، اور پاکستان میں بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک پر انٹرنیشنل سائبر سیکیورٹی حملوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، جسے روکنے کے لیے حکومت کو جدید سائبر سیکیورٹی مئیرز کی ضرورت ہے۔وزیر مملکت نے کہا کہ سائبر سیکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے ویب مینجمنٹ سسٹم حکومت کے تحت پہلے سے چل رہا ہے، اور اسے مزید موثر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ سائبر سیکیورٹی حملے بڑھتے جا رہے ہیں اور ریاست کو ضرورت ہے کہ وہ ان حملوں کو روکنے کے لیے موثر حکمت عملی اپنائے۔شزہ فاطمہ نے کہا کہ انٹرنیٹ کی سپیڈ اور سائبر سیکیورٹی مئیرز کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور اس سلسلے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

  • یکم جولائی سے 14 اگست تک بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث 182 افراد جاں بحق

    یکم جولائی سے 14 اگست تک بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث 182 افراد جاں بحق

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے حالیہ بارشوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کی تفصیلی رپورٹ جاری کردی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں یکم جولائی سے 14 اگست تک بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث 182 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں، جن میں 93 بچے، 59 مرد، اور 30 خواتین شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق پنجاب میں سب سے زیادہ 65 اموات رپورٹ ہوئیں۔ خیبرپختونخوا میں 62، سندھ میں 31، بلوچستان میں 15، کشمیر میں 5، اور گلگت بلتستان میں 4 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ بارشوں اور سیلاب نے پورے ملک میں تباہی مچائی، جس کے اثرات ہر صوبے اور علاقے پر پڑے۔
    رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ بارشوں کے دوران 321 افراد زخمی بھی ہوئے۔ ان بارشوں نے نہ صرف انسانی جانوں کو متاثر کیا بلکہ مالی نقصان بھی پہنچایا۔ بارشوں کے باعث 628 گھروں کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا جبکہ 1335 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔ یہ نقصانات کئی خاندانوں کو بے گھر کر گئے اور انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق بارشوں نے تعلیمی اداروں کو بھی نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 8 سکول بارشوں کی نظر ہوگئے۔ اس کے علاوہ 30 پل بھی سیلاب کی وجہ سے تباہ ہوگئے، جس سے نقل و حمل کا نظام شدید متاثر ہوا ہے۔سیلاب کے دوران 321 مویشی بھی بہہ گئے، جس سے کئی غریب کسانوں اور دیہاتیوں کی زندگیوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ مویشیوں کا نقصان ان کی معاشی حالت پر براہ راست اثر انداز ہوگا، کیونکہ دیہی معیشت میں مویشیوں کی اہمیت بے حد زیادہ ہے۔
    رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 5 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔ یہ صورتحال ملک بھر میں بارشوں کے مزید نقصانات کے خدشے کو ظاہر کرتی ہے۔
    این ڈی ایم اے کی رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریاں ملک بھر میں بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان کا باعث بنی ہیں۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت اور متعلقہ اداروں کو فوری اور مؤثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ مزید نقصانات سے بچا جاسکے اور متاثرہ افراد کو ریلیف فراہم کیا جاسکے۔

  • نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں نقدی وصول کرنے والے فوجی افسران کا کورٹ مارشل ہونا چاہیے، عمر ایوب

    نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں نقدی وصول کرنے والے فوجی افسران کا کورٹ مارشل ہونا چاہیے، عمر ایوب

    قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے آج اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کے ممکنہ کورٹ مارشل اور دیگر اہم معاملات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔عمر ایوب نے کہا، "جنرل فیض حمید کے کورٹ مارشل کے معاملے پر قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے معاملے میں جن فوجی افسران نے نقدی وصول کی، ان کا بھی کورٹ مارشل ہونا چاہیے۔اپوزیشن لیڈر نے وزیر دفاع خواجہ آصف پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ "خواجہ آصف کو کسی بات کا علم نہیں ہے۔ انہیں جی ایچ کیو کے قریب بھی نہیں جانے دیا جاتا۔ وہ صرف نام کے وزیر دفاع ہیں اور انہیں کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔” یہ تبصرہ حکومت اور فوج کے درمیان تعلقات پر سوالات کھڑے کرتا ہے۔
    اسی موقع پر، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شبلی فراز نے بھی میڈیا سے بات کی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہماری بانی پی ٹی آئی (عمران خان) سے طے شدہ ملاقات تھی جو نہیں ہونے دی گئی۔” شبلی فراز نے مزید دعویٰ کیا کہ "جیل کے سپرنٹنڈنٹ اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے دھمکیاں دی گئیں۔ ہمیں بتایا گیا کہ اگر کوئی سیاسی گفتگو ہوئی تو قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔”یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ملک میں سیاسی کشیدگی عروج پر ہے۔ حکومتی ذرائع نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ محض سیاسی بیان بازی ہے۔ وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے کہا، "ہم قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔”

  • بنگلادیش کی سابق وزیراعظم پر سنگین الزامات: بین الاقوامی عدالت میں مقدمہ درج

    بنگلادیش کی سابق وزیراعظم پر سنگین الزامات: بین الاقوامی عدالت میں مقدمہ درج

    ڈھاکہ: بنگلادیش کی سیاسی فضا میں ایک نیا طوفان برپا ہوگیا ہے جب بین الاقوامی جرائم ٹریبونل کے تحقیقاتی ادارے میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد اور آٹھ دیگر اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کا مقدمہ درج کیا گیا۔یہ مقدمہ بنگلادیشی سپریم کورٹ کے نامور وکیل غازی ایم ایچ تمیم نے دائر کیا ہے۔ انہوں نے یہ مقدمہ ایک نوجوان طالب علم احمد صائم کے والد کی جانب سے دائر کیا ہے، جو کہ گزشتہ سال مظاہروں کے دوران پولیس فائرنگ میں جاں بحق ہوا تھا۔مقدمے کی تفصیلات کے مطابق، 5 اگست 2023 کو ساور میں ہونے والے ایک مظاہرے کے دوران پولیس نے نویں جماعت کے طالب علم احمد صائم پر گولی چلائی تھی۔ صائم کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں دو دن بعد اس کی موت واقع ہوگئی۔اس واقعے نے ملک بھر میں شدید غم و غصے کی لہر پیدا کر دی تھی اور حکومت پر سخت تنقید کی گئی تھی۔ اب اس واقعے کو لے کر سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد سمیت آٹھ اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔مقدمے میں نامزد دیگر افراد میں سابق وزرا عبیدالقدیر اور اسدالزمان خان کمال، سابق وزیر مملکت جنید احمد اور محمد علی عرفات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سابق آئی جی پولیس چوہدری عبداللّٰہ المامون، سابق ڈیٹیکٹو برانچ (ڈی بی) چیف ہارون رشید، سابق ڈھاکا میٹروپولیٹن پولیس (ڈی ایم پی) کمشنر حبیب الرحمان اور ریپیڈ ایکشن بٹالین (ریب) کے سابق ڈائریکٹر جنرل ہارون الرشید کو بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔
    یہ مقدمہ بنگلادیش کی سیاست میں ایک نیا موڑ لانے کا باعث بن سکتا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ مقدمہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، لیکن اس سے ملک کی سیاسی صورتحال میں نئی کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔حکومتی ذرائع نے اس مقدمے کو "سیاسی انتقام” قرار دیا ہے۔ وزارت داخلہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "شیخ حسینہ کو بنگلادیش چھوڑنے پر کسی نے مجبور نہیں کیا تھا۔ یہ مقدمہ محض سیاسی مقاصد کے لیے دائر کیا گیا ہے۔”دوسری جانب، اپوزیشن جماعتوں نے اس مقدمے کا خیرمقدم کیا ہے۔ بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے ترجمان نے کہا کہ "یہ انصاف کی جیت ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ احمد صائم کے اہل خانہ کو انصاف ملے گا۔” بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس مقدمے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "ہم اس مقدمے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل چھان بین کی جائے۔”اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ مقدمہ کس طرح آگے بڑھتا ہے اور اس کے بنگلادیش کی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ بہرحال، یہ واضح ہے کہ یہ مقدمہ آنے والے دنوں میں بنگلادیش کی سیاسی بحث کا مرکزی نقطہ بنا رہے گا۔

  • سانحہ نو مئی میں جنرل باجوہ، فیض حمید اور عمران خان بھی ملوث ہیں.وزیر دفاع خواجہ آصف

    سانحہ نو مئی میں جنرل باجوہ، فیض حمید اور عمران خان بھی ملوث ہیں.وزیر دفاع خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کے بانی اور سابق آرمی چیف جنرل باجوہ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سانحہ نو مئی میں نہ صرف عمران خان بلکہ سابق آرمی چیف جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید بھی ملوث تھے۔ یہ انکشافات انہوں نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کئے.خواجہ آصف نے بتایا کہ نو مئی کے واقعات کو کوئی حادثاتی یا اچانک رونما ہونے والا واقعہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے مطابق یہ سب ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ تھا جس میں جنرل فیض حمید کا بھی کردار تھا، جو تحریک انصاف کے ساتھ گہرے روابط رکھتے تھے۔ انہوں نے فیض آباد دھرنے میں جنرل فیض حمید کے کردار کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ فیض حمید نے سیاسی معاملات میں براہ راست مداخلت کی۔
    وزیر دفاع نے مزید کہا کہ عمران خان کا سیاسی سفر جنرل باجوہ اور فیض حمید کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عمران خان کا سیاسی گارڈ فادر جنرل باجوہ تھا، جبکہ جنرل فیض حمید کو وہ سیاسی چچا کہتے ہیں۔ خواجہ آصف نے انکشاف کیا کہ نو مئی کو پی ٹی آئی کے دفاتر سے لیپ ٹاپس اور موبائل فونز برآمد کیے گئے جن میں اہم معلومات موجود تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سب شواہد اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ نو مئی کا واقعہ محض اتفاق نہیں تھا، بلکہ ایک منصوبہ بندی کا حصہ تھا جس میں فیض حمید اور عمران خان بھی شامل تھے۔
    انہوں نے کہا کہ جنرل باجوہ اور فیض حمید نے اپنے عہدے کے دوران طاقت کو خوب انجوائے کیا اور عمران خان کو بھی اس کا بھرپور فائدہ پہنچایا۔ خواجہ آصف نے مزید کہا کہ جب طاقت کا نشہ چلا جاتا ہے تو اس کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے، اور یہی حال ان تینوں کا تھا۔وزیر دفاع نے مزید دعویٰ کیا کہ عمران خان اور فیض حمید نے آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے سازشی ماحول کو ہوا دی، اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ گہرے تعلقات کو برقرار رکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان ہمیشہ سے ہی اسٹیبلشمنٹ کے سہارے پر تھے اور ان کا سیاسی مائی باپ آج بھی ملک سے باہر ہے۔خواجہ آصف نے پی ٹی آئی دور حکومت میں طالبان کو ملک میں بسانے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ طالبان کی آمد سے دہشت گردی کے واقعات دوبارہ شروع ہوگئے ہیں۔ انہوں نے جنرل فیض حمید کا کابل میں چائے پینے والا واقعہ بھی یاد دلایا، جو طالبان کی حمایت کا مظہر تھا۔یہ انکشافات پاکستان کی سیاست میں ایک نیا موڑ لا سکتے ہیں، اور اس سے مستقبل کے سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • سیکیورٹی اداروں کی بڑی کارروائی: عمران خان کی سہولت کاری میں ملوث  اڈیالہ جیل کا  اعلیٰ افسر گرفتار

    سیکیورٹی اداروں کی بڑی کارروائی: عمران خان کی سہولت کاری میں ملوث اڈیالہ جیل کا اعلیٰ افسر گرفتار

    راولپنڈی: حساس سیکیورٹی اداروں نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے اڈیالہ جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد اکرم کو حراست میں لے لیا ہے۔ ان پر سابق وزیراعظم اور تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی غیر قانونی سہولت کاری کا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق، محمد اکرم پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے عمران خان کو غیر قانونی سہولیات فراہم کیں۔ خاص طور پر، ان پر خفیہ طور پر عمران خان کے لیے پیغام رسانی کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے، جو کہ جیل کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔سیکیورٹی اداروں کے ایک اعلیٰ افسر نے گمنام رہتے ہوئے بتایا کہ "ہمیں مدت سے شک تھا کہ جیل کے اندر سے کچھ افراد قیدیوں کو غیر قانونی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ ہماری تحقیقات سے یہ شبہ مضبوط ہوا اور آخرکار ہمیں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد اکرم کے خلاف ٹھوس شواہد ملے۔”
    اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے، حساس اداروں نے آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو بھی صورتحال سے آگاہ کر دیا ہے۔ آئی جی نے اس واقعے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ "ہم اپنے محکمے میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا غیر قانونی سرگرمیوں کو برداشت نہیں کریں گے۔ قانون کا مکمل عمل درآمد ہوگا۔”فی الحال محمد اکرم سے تفتیش جاری ہے۔ ان سے مختلف زاویوں سے سوالات کیے جا رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا وہ اکیلے اس غیر قانونی سرگرمی میں ملوث تھے یا جیل کے دیگر افسران بھی اس میں شامل ہیں۔محکمہ داخلہ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ "جیسے ہی تحقیقات مکمل ہوں گی، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد اکرم کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ ایک مثال بنے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی افسر ایسی حرکت کرنے کی جرأت نہ کرے۔”
    اس واقعے نے ایک بار پھر جیلوں میں سیکیورٹی کے مسائل کو اجاگر کیا ہے۔ حکومتی حلقوں میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ جیلوں کے نظام میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔یہ خبر ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ جلد ہی اس معاملے پر ایک تفصیلی پریس کانفرنس کی جائے گی جس میں عوام کو تمام حقائق سے آگاہ کیا جائے گا۔

  • جرمنی میں فوجی اڈے کے پانی میں زہر ملانے کی اطلاعات پر فوجی اڈہ بند، نیٹو ایئر بیس ہائی الرٹ

    جرمنی میں فوجی اڈے کے پانی میں زہر ملانے کی اطلاعات پر فوجی اڈہ بند، نیٹو ایئر بیس ہائی الرٹ

    جرمنی کے کولون شہر میں واقع ایک فوجی اڈے کو اُس وقت بند کر دیا گیا جب وہاں کے پانی میں زہر ملانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اس واقعے نے پورے جرمنی میں سیکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے، خاص طور پر نیٹو کے ایئر بیسز کو جہاں حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔جرمن میڈیا کے مطابق، کولون کے فوجی اڈے میں ایک مشکوک سرگرمی دیکھی گئی جس کے بعد اس علاقے کو فوری طور پر بند کر دیا گیا۔ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ فوجی اڈے کے بیرونی حفاظتی جنگلے کو توڑنے کی کوشش کی گئی تھی، جس سے اس حملے کی سنجیدگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
    حکام نے فوجی اڈے میں موجود تمام ملازمین کو ہدایت کی ہے کہ وہ نلکے کا پانی استعمال نہ کریں جب تک کہ اس کے مکمل محفوظ ہونے کی تصدیق نہ ہو جائے۔ مزید یہ کہ جرمن پولیس، فوج، اور انٹیلی جنس ایجنسی نے مشترکہ طور پر اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ اصل وجوہات کا پتہ چلایا جا سکے اور اس ممکنہ حملے کے پیچھے موجود عناصر کو بے نقاب کیا جا سکے۔نیٹو ایئر بیس کے ترجمان نے بتایا کہ گیلن کرچن کے قصبے میں واقع بیس کو بھی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ یہاں موجود پانی کو چیک کیا گیا اور خوش قسمتی سے اس میں کسی قسم کی آلودگی یا زہر نہیں پایا گیا۔ تاہم، کولون فوجی بیس پر موجود 4,300 فوجی اور 1,200 شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔یہ واقعہ جرمنی میں سیکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیتا ہے اور اس کے باعث ملک بھر کے فوجی اور شہری ادارے چوکنا ہو گئے ہیں۔ مزید تحقیقات سے ہی پتہ چل سکے گا کہ اس حملے کی اصل نوعیت کیا تھی اور اس کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہیں۔

  • ارشد ندیم کی شاندار کامیابی: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا 50 لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان

    ارشد ندیم کی شاندار کامیابی: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا 50 لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے پاکستان کے قومی ہیرو ارشد ندیم کی شاندار کارکردگی کے اعتراف میں 50 لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان انہوں نے ایک خصوصی تقریب سے خطاب کے دوران کیا، جہاں انہوں نے ارشد ندیم کی خدمات اور کامیابیوں کو سراہا۔تقریب میں خطاب کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ارشد ندیم ہمارے ملک کا فخر ہیں اور ان کی شاندار کارکردگی نے پورے پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ انعامی رقم اپنی جیب سے دیں گے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ذاتی طور پر بھی کتنے پرعزم ہیں۔ علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ ہمارے نوجوان ملک کا مستقبل ہیں، اور ہمیں ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے ارشد ندیم کو خیبرپختونخوا آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ یہاں 3 روز کے لیے آئیں اور جویلین تھرو کے نوجوان ایتھلیٹس کو تربیت دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو کھیلوں کی طرف راغب کرنا ہماری ترجیح ہونی چاہیے تاکہ انہیں منشیات اور دیگر منفی سرگرمیوں سے بچایا جا سکے۔

    ارشد ندیم کی کامیابی پر پورے ملک میں ان کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے، اور مختلف حکومتی ادارے اور شخصیات انہیں انعامات سے نواز رہی ہیں۔ گزشتہ روز وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی ارشد ندیم کے آبائی علاقے میاں چنوں کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ارشد ندیم کو 10 کروڑ روپے کا چیک اور ایک خصوصی نمبر پلیٹ والی گاڑی بطور تحفہ پیش کی۔ اس کے علاوہ، ارشد ندیم کو وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اسلام آباد مدعو کیا گیا، جہاں انہیں اسٹیٹ پروٹوکول کے ساتھ وزیراعظم ہاؤس لے جایا گیا اور ان کے اعزاز میں ایک استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ استقبالیہ تقریب میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے ارشد ندیم کے لیے 15 کروڑ روپے نقد انعام کا اعلان کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد کی ایک شاہراہ کو بھی ارشد ندیم کے نام سے منسوب کیا جائے گا، تاکہ ان کی کامیابی اور خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جا سکے۔ارشد ندیم کی اس شاندار کامیابی پر پورے ملک میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، اور ان کے لیے انعامات اور عزت افزائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کی یہ کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی محنت کا نتیجہ ہے بلکہ یہ پاکستان کے لیے ایک اعزاز بھی ہے۔

  • کراچی کی خوشحالی پاکستان کی ترقی کی ضمانت ہے: ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

    کراچی کی خوشحالی پاکستان کی ترقی کی ضمانت ہے: ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

    کراچی کو پاکستان کا چہرہ قرار دیتے ہوئے چیئرمین ایم کیو ایم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اس بات پر زور دیا کہ شہر کی ترقی اور خوشحالی پورے ملک کی ترقی کی ضمانت ہے۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی کی اہمیت کو نظر انداز کرنا دراصل ملک کی تقدیر کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کو چھپانے سے نہ صرف شہر کی پہچان مٹ جائے گی بلکہ اس کے ساتھ ملک کی ترقی کا عمل بھی متاثر ہوگا۔ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ کراچی کی خوشحالی پاکستان کی خوشحالی ہے اور اس کو مزید سرسبز و شاداب بنانے کے لیے اربن فاریسٹ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں کم از کم 30 کروڑ درخت لگانے کی ضرورت ہے تاکہ اسے سرسبز بنایا جا سکے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کچھ عناصر کراچی کو صحرا میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر ایم کیو ایم کا عزم ہے کہ وہ اس شہر کو سرسبز جنگل میں تبدیل کر کے رہیں گے، کیونکہ جنگل کا بھی ایک قانون ہوتا ہے۔
    انہوں نے مزید کہا کہ کراچی پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، جو ملک کی مجموعی آمدنی کا 97 فیصد حصہ کما کر دیتا ہے، جبکہ باقی 3 فیصد کا حصہ کہاں سے آتا ہے، اس پر کوئی وضاحت دینے کو تیار نہیں۔ اس کے باوجود ایم کیو ایم اور کراچی کے عوام بغیر کسی حکومتی مدد کے خدمت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے شجرکاری کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے درخت لگانا ضروری ہے۔ انہوں نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خدا کو خوش کرنے کا ایک راستہ شجرکاری مہم بھی ہے، اور اس سے پہلے کہ موسم ہم کو تبدیل کرے، ہمیں خود کو تبدیل کر لینا چاہیے۔
    انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک بڑا چیلنج ہے اور ہمیں اس کا مقابلہ کرنے کے لیے نہ صرف قدرتی وسائل کا تحفظ کرنا ہوگا بلکہ اپنی سوچ اور طرز زندگی کو بھی بدلنا ہوگا۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ کراچی کو سرسبز اور خوشحال بنانے کے لیے ایم کیو ایم کی قیادت ہر ممکن قدم اٹھائے گی، اور عوام کی شمولیت کے بغیر یہ مقصد حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ شہر کی بہتری کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، اور ایم کیو ایم کی کوشش ہے کہ کراچی کو پاکستان کا سب سے خوبصورت اور ترقی یافتہ شہر بنایا جائے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس مشن میں ساتھ دیں اور کراچی کو دوبارہ سے روشنیوں کا شہر بنائیں۔

  • کراچی میں کانگو وائرس سے متاثرہ پہلا کیس سامنے آگیا

    کراچی میں کانگو وائرس سے متاثرہ پہلا کیس سامنے آگیا

    کراچی میں کانگو وائرس سے متاثرہ پہلا کیس سامنے آگیا ہے، جس سے شہر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق، 32 سالہ مریض کو تیز بخار اور ڈائریا کی شکایت کے باعث اسپتال لایا گیا تھا، جہاں طبی معائنے کے بعد اس کا کانگو وائرس ٹیسٹ مثبت آیا۔ مریض کو فوری طور پر اسپتال کے آئی سی یو میں منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ اس کی حالت کا بغور جائزہ لیا جا سکے اور مناسب علاج فراہم کیا جا سکے۔جناح اسپتال کی انتظامیہ کے مطابق، کانگو وائرس جانوروں سے انسانوں میں اور انسان سے دوسرے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ عیدالاضحیٰ کے موقع پر جانوروں کی بڑے پیمانے پر آمدورفت کے دوران یہ وائرس اکثر رپورٹ ہوتا ہے، کیونکہ اس موقع پر جانوروں کے ساتھ براہ راست رابطے کی وجہ سے وائرس کے پھیلنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
    واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کراچی میں کانگو وائرس کے کیسز رپورٹ ہوئے ہوں۔ نومبر 2023 میں بھی ضلع شرقی سے تعلق رکھنے والے 42 سالہ شہری میں کانگو وائرس کی تصدیق ہوئی تھی، جس سے شہر میں صحت کے حوالے سے مزید احتیاطی تدابیر کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔اسپتال کی انتظامیہ اور محکمہ صحت نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ جانوروں کے ساتھ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور کسی بھی مشتبہ علامات کی صورت میں فوری طور پر قریبی طبی مراکز سے رجوع کریں۔ کانگو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حکومت اور صحت کے اداروں کی جانب سے اقدامات جاری ہیں، تاہم شہریوں کا بھی فرض ہے کہ وہ حفاظتی تدابیر پر عمل کریں تاکہ اس مہلک بیماری سے بچا جا سکے۔حالیہ کیس کے بعد محکمہ صحت نے کانگو وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے کے پیش نظر مختلف اسپتالوں میں خصوصی انتظامات کیے ہیں اور اسپتالوں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی مشتبہ کیس کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام کو دیں اور خود بھی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔