Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • ملک میں دہشت گردی ختم اور تعلیم کا فروغ ضروری ہے. چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی

    ملک میں دہشت گردی ختم اور تعلیم کا فروغ ضروری ہے. چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی

    یوم آزادی کی مناسبت سے سویٹ ہوم اسلام آباد میں ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ تقریب کے دوران چیئرمین سینیٹ نے سویٹ ہوم کے بچوں کے ساتھ مل کر قومی پرچم کے ساتھ پریڈ میں حصہ لیا اور بچوں کے جوش و خروش کو سراہا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پورے ملک میں جاری دہشت گردی کی لہر کو ختم ہونا چاہئے اور اس کے لیے تعلیم کا فروغ انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے اس موقع پر افغانستان کو پاکستان کا جڑواں بھائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے استحکام کے لیے یہ ضروری ہے۔یوسف رضا گیلانی نے سویٹ ہوم کے بچوں کی تعلیم و تربیت کو سراہتے ہوئے کہا کہ تعلیم کے ذریعے سویٹ ہوم کے بچے مستقبل کے ڈاکٹر، کیڈٹ اور بڑے افسران بن رہے ہیں۔ انہوں نے بینظیر بھٹو کے پیغام کو دہراتے ہوئے کہا کہ ملک کے تمام بچوں اور بچیوں کو تعلیم فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے، اور جنہوں نے سویٹ ہوم کے قیام میں حصہ لیا، وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔چیئرمین سینیٹ نے مزید کہا کہ یتیم وہ نہیں جس کے ماں باپ نہیں ہوتے، بلکہ یتیم وہ ہے جس کے پاس علم نہیں ہوتا۔
    انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جن علاقوں میں تعلیم کا فقدان ہے، وہاں دہشت گردی پنپتی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے ملالہ یوسفزئی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملالہ نے امن ایوارڈ کے لیے اپلائی کیا تھا، مگر انہیں نہیں دیا گیا، تاہم میں نے اپنے آفس میں بلا کر ملالہ کو پاکستان کا پہلا پیس ایوارڈ دیا۔ بعد میں پوری دنیا نے ملالہ کی خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں نوبل انعام کا حقدار مانا۔یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ جب ملالہ کو پیس ایوارڈ دیا گیا، اس وقت ان کا بیٹا طالبان کے پاس تھا، لیکن پھر بھی انہوں نے ملالہ کے ایوارڈ پروگرام میں شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نوجوان ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں اور ان کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ ملک کا روشن مستقبل بن سکیں۔

  • اسلام آباد : ون ویلنگ اور سائلنسر نکال کر موٹرسائیکل چلانے والوں کے خلاف بڑا آپریشن جاری

    اسلام آباد : ون ویلنگ اور سائلنسر نکال کر موٹرسائیکل چلانے والوں کے خلاف بڑا آپریشن جاری

    جشن آزادی کے موقع پر ون ویلنگ اور سائلنسر نکال کر موٹرسائیکل چلانے والوں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن جاری ہے۔ ٹریفک پولیس نے شہر کی اہم شاہراہوں پر خصوصی ناکے لگا دیے ہیں تاکہ ان غیر قانونی اور خطرناک سرگرمیوں کو روکا جا سکے۔شہر کے مختلف مقامات پر ٹریفک پولیس کی جانب سے ایکسپریس ہائی وے، سری نگر ہائی وے، اور بلیو ایریا جیسے اہم علاقوں میں خصوصی ناکے لگائے گئے ہیں۔ ان ناکوں پر پولیس اہلکار ون ویلنگ کرنے والے اور سائلنسر کے بغیر موٹرسائیکل چلانے والوں کو پکڑ رہے ہیں۔ اب تک درجنوں موٹرسائیکلوں کو تحویل میں لے لیا گیا ہے اور ان کے مالکان پر بھاری جرمانے بھی عائد کیے جا چکے ہیں۔ون ویلنگ اور سائلنسر نکال کر موٹرسائیکل چلانا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ یہ عام لوگوں کے لیے بھی شدید پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹریفک پولیس نے اس سال جشن آزادی کے موقع پر اس خطرناک عمل کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اس کے علاوہ، پولیس ہیلمٹ نہ پہننے والے موٹرسائیکل سواروں کے خلاف بھی کارروائی کر رہی ہے اور ان پر بھی بھاری جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں۔ تاہم، فیملیز کے ساتھ جانے والے موٹرسائیکل سواروں کو ہیلمٹ نہ ہونے کی صورت میں جانے کی اجازت دی جا رہی ہے، تاکہ وہ کسی قسم کی پریشانی کا شکار نہ ہوں۔ایس ایس پی ٹریفک کا کہنا ہے کہ جشن آزادی منانا ہر شہری کا حق ہے، لیکن اس دوران دوسروں کے لیے مشکلات پیدا کرنا درست نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹریفک قوانین کا احترام کرنا ضروری ہے تاکہ ہر شہری آزادی کا جشن بغیر کسی رکاوٹ اور پریشانی کے منا سکے۔ٹریفک پولیس کی یہ کارروائی جاری رہے گی اور شہر کے دیگر اہم مقامات پر بھی ناکے لگائے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کو روکا جا سکے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ٹریفک قوانین کی پابندی کریں اور اپنی اور دوسروں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔

  • حکومت کا کھیلوں سے وابستہ سات مختلف شخصیات کے لیے سول اعزازات کا اعلان

    حکومت کا کھیلوں سے وابستہ سات مختلف شخصیات کے لیے سول اعزازات کا اعلان

    حکومت پاکستان نے کھیلوں سے وابستہ سات مختلف شخصیات کے لیے سول اعزازات کا اعلان کیا ہے، جنہیں یومِ آزادی کے موقع پر خصوصی طور پر نوازا جائے گا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے جشن آزادی کے موقع پر ان سول اعزازات کے حوالے سے ناموں کی منظوری دی ہے۔حکومت کی جانب سے جن کھیلوں کی شخصیات کو اعزازات کے لیے منتخب کیا گیا ہے، ان میں سب سے نمایاں اولمپک گولڈ میڈلسٹ جیولین تھرور ارشد ندیم ہیں، جن کے لیے "ہلال امتیاز” کا اعلان کیا گیا ہے۔ ارشد ندیم نے اپنی شاندار کارکردگی سے عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا ہے اور ان کی محنت اور لگن کو سراہتے ہوئے حکومت نے انہیں اس اعلیٰ ترین اعزاز کے لیے منتخب کیا ہے۔کوہ پیمائی کے شعبے میں مراد سد پارہ، جنہوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے قوم کا سر فخر سے بلند کیا، کو بعد از مرگ "ستارہ امتیاز” سے نوازا جائے گا۔ مراد سد پارہ نے پاکستان کے لیے کئی بلندیاں سر کیں اور ان کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔بلائنڈ کرکٹ کے میدان میں شاندار کارکردگی دکھانے والے عامر اشفاق کے لیے "پرائیڈ آف پرفارمنس” ایوارڈ کا اعلان کیا گیا ہے۔ عامر اشفاق نے اپنی قابلیت سے پاکستان کو عالمی سطح پر پہچان دی ہے اور ان کے اعزاز میں یہ ایوارڈ دیا جا رہا ہے۔

    پاکستان ہاکی ٹیم کے کپتان عماد شکیل بٹ، جنہوں نے قومی ہاکی ٹیم کو کئی اہم فتوحات دلائیں، کو "تمغہ امتیاز” سے نوازا جائے گا۔ عماد شکیل بٹ نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں اور بہترین کھیل سے پاکستان ہاکی کو بلند مقام پر پہنچایا ہے۔اسکواش کے سابق کھلاڑی مقصود احمد، جنہوں نے اپنے دور میں پاکستان اسکواش کو عروج پر پہنچایا، کے لیے بھی "تمغہ امتیاز” کا اعلان کیا گیا ہے۔ مقصود احمد کی خدمات کو سراہتے ہوئے یہ اعزاز دیا جا رہا ہے۔آف روڈ ریلی کے مشہور ریسر نادر مگسی، جو اپنی شاندار ڈرائیونگ کے لیے جانے جاتے ہیں، کے لیے بھی "تمغہ امتیاز” کا اعلان کیا گیا ہے۔ نادر مگسی نے آف روڈ ریسنگ کے میدان میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔، کبڈی کے شعبے میں نمایاں مقام حاصل کرنے والے رحمان اشتیاق کو بھی "تمغہ امتیاز” سے نوازا جائے گا۔ رحمان اشتیاق نے کبڈی کے کھیل میں پاکستان کے لیے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔یہ سول اعزازات ان شخصیات کی محنت، لگن اور ملک کے لیے خدمات کا اعتراف ہیں، اور یومِ آزادی کے موقع پر انہیں یہ اعزازات دے کر ملک و قوم کے لیے ان کی خدمات کو سراہا جائے گا۔

  • آزادی: ایک نعمت یا بوجھ؟

    آزادی: ایک نعمت یا بوجھ؟

    77 سال سے ہم 14 اگست کو یوم آزادی منا رہے ہیں لیکن کیا ہم واقعی آزادی کے اصل معنی کو سمجھتے ہیں؟ آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے لیکن اگر اسے نہ سمجھا جائے تو یہ ایک بہت بڑا بوجھ بن سکتی ہے۔ ہر سال، جیسے ہی 14 اگست کی رات آتی ہے، ہم ملک بھر میں جشن کی ایک عجیب اور پریشان کن شکل کا مشاہدہ کرتے ہیں، جو ہماری سمجھ بوجھ کے بارے میں سوال اٹھاتے ہیں کہ آزاد ہونے کا کیا مطلب ہے۔آدھی رات کا وقت جب لوگ، اپنے جوش میں، آسمان میں گولیاں برساتے ہیں، اس حقیقت سے غافل ہوتے ہیں کہ وہ گولیاں زمین پر کسی کی موت کا باعث بن سکتی ہیں۔ جیسے پچھلی رات آزادی کے دن کے آنے خوشی میں کراچی اور حیدرآباد میں ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور 80 زخمی ہوئے۔ اس رات، کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ انہیں تمام اخلاقی شائستگی کو ترک کرنے کی آزادی ہے، خواتین کو ایسے گھورتے ہیں جیسے ان کے جسم کو نشانہ بنانا ان منچلوں کا ایک اہم ٹارگٹ ہو۔ کراچی کا سی ویو ہو، لاہور کا مینار پاکستان، مری کا مال روڈ، اسلام آباد کا بلیو ایریا، فیصل مسجد، یا ایف نائن پارک، یہ جگہیں ایسے لوگوں سے بھری ہوتی ہیں جو ایسا رویہ کرتے ہیں کہ گویا وہ ان جگہوں کے مالک ہیں، عوامی مقامات کا دعویٰ ایسے کرتے ہیں.جس ان کی باپ کی جاگیر ہو، سڑکوں پر دکھائے جانے والا رویہ اکثر پاگل پن کا ہوتا ہے، جہاں منشیات یا الکحل کے زیر اثر لوگ خود کو واقعی آزاد سمجھتے ہیں۔ وہ خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہوئے اسے نظر انداز کرتے ہیں۔ موٹرسائیکل سوار اپنی موٹر سائیکلوں سے سائلینسر نکال دیتے ہیں، یہ سوچتے ہیں کہ دوسرے ان کے شور سے متاثر ہوں گے، جب کہ حقیقت میں لوگ ان پر دل اور اونچی آواز میں لعنت بھیجتے ہیں۔ اسپیکرز پر اونچی آواز میں ترانے بجانے سے ان کے دل حب الوطنی کے جذبے سے بھر سکتے ہیں، لیکن اس سے دل کے مریضوں کو تکلیف پہنچتی ہے اور بہت سے دوسرے لوگوں کے سکون میں خلل پڑتا ہے۔

    اور تو اور پاکستان کا جھنڈا، جو ہماری محنت سے حاصل کی گئی آزادی کی علامت ہے، زمین پر پڑا ہوا نظر آتا ہے، آزادی کا جشن منانے والے اسے بغیر سوچے سمجھے روند دیتے ہے۔ یعنی وہی لوگ جو اپنے ملک سے محبت کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں وہی لوگ ہیں جو اس کی علامتوں کی بے عزتی کرتے ہیں اور تعظیم پر خوشی کا انتخاب کرتے ہیں۔بہت سی خواتین کے لیے یوم آزادی کی رات ایک بھیانک خواب بن گئی ہے۔ وہ اپنے گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ سڑکیں شکاریوں سے بھری پڑی ہوتی ہیں، ہراساں کرنے اور نقصان پہنچانے کے منتظر ہوتی ہیں،۔ گزشتہ چند سالوں کے پریشان کن واقعات، جہاں خواتین کو عوامی مقامات پر کھلے عام ہراساں کیا گیا، یہ افسوسناک صورتحال اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اہل خانہ اب اپنی بیٹیوں کو بتاتے ہیں کہ آزادی کا جشن منانے کے لیے رات کو باہر جانے کا خطرہ مول لینے سے بہتر ہے کہ گھر میں رہیں۔اس کے برعکس امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور دیگر یورپی ممالک بھی اپنے یوم آزادی مناتے ہیں۔ لوگ سڑکوں پر نکل آتے ہیں، پریڈ ہوتے ہے، میوزک ڈرامے ہوتے ہیں، اور شراب پینا بھی تہواروں کا حصہ ہے۔ تاہم، جو مختلف ہے وہ رویہ ہے۔ زیر اثر ہونے کے باوجود لوگ سجاوٹ کو برقرار رکھتے ہیں۔ رقص اور گانا کرتےہے، لیکن کوئی ہراساں نہیں ہوتا ۔ آتش بازی آسمان کو روشن کرتی ہے، لیکن آپ نے افسوسناک واقعات کے بارے میں شاذ و نادر ہی سنا ہ ہوگا کیونکہ تقریبات خوشی سے ہوتی ہیں، افراتفری نہیں۔

    پاکستان کے نوجوان ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہیں لیکن انہیں آزادی کے حقیقی معنی سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے مذہبی اداروں، علمائے کرام اور عوامی شخصیات کو ایسے طریقے سے منانے کی اہمیت پر زور دینے کی ضرورت ہے جس سے دوسروں کے حقوق اور تحفظ کی خلاف ورزی نہ ہو۔ امن و امان کے احترام کا فقدان ہمارے سامنے سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ بیرون ملک، ہم پاکستانیوں کو قوانین کی سختی سے پیروی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں، ان کو توڑنے کے نتائج کے خوف سے۔ لیکن ان کے اپنے ملک میں، وہ بغیر کسی احتساب کے کام کرنے میں آزاد محسوس کرتے ہیں، یہ جانتے ہوئے کہ وہ رشوت دے کر مصیبت سے باہر نکل سکتے ہیں۔یہ دیکھ کر مایوسی ہوتی ہے کہ ایک دن جس کا مقصد آزادی کا جشن منانا تھا، قانون نافذ کرنے والے ادارے پیچھے ہٹتے نظر آتے ہیں۔ لوگ کھلم کھلا قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں، یہ جانتے ہوئے کہ تھوڑی سی رشوت انہیں اپنے لاپرواہ رویے کو جاری رکھنے کی اجازت دے گی۔ احتساب کا یہ فقدان صرف افراتفری کو ہوا دیتا ہے، جس سے سڑکیں عام شہریوں کے لیے غیر محفوظ ہو جاتی ہیں جو پرامن طریقے سے جشن منانا چاہتے ہیں۔یہ ملک لاتعداد افراد کی قربانیوں سے وجود میں آیا ہے ہوئی ، اور یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ذمہ داری سے برتاؤ کرتے ہوئے اس کا احترام کریں۔ اگر ہم آج اپنی آزادی کی اصل قدر کو سمجھنے میں ناکام رہے تو کل بہت دیر ہو جائے گی۔ آزادی ہر ایک کا حق ہے لیکن اسے اس طرح منایا جائے کہ دوسروں کو اپنے گھروں میں قید ہونے کا احساس نہ ہو.ہمارا مسئلہ صرف ان افراد تک محدود نہیں ہے جو ناشائستہ رویوں میں ملوث ہیں؛ بلکہ یہ ہمارے پورے معاشرے کا مسئلہ ہے جو ان رویوں کو چپ چاپ برداشت کرتا ہے۔ یوم آزادی کے موقع پر ہمارے ملک کا ماحول گھٹن بھرا محسوس ہوتا ہے، جو ہماری قومی شناخت کے لیے ایک سنگین خدشہ ہے۔ یہ افسوسناک ہے کہ ہم اپنی آزادی کا جشن وقار اور احترام کے ساتھ منانے کا طریقہ نہیں جانتے۔

    ہمیں اپنی آزادی کے جشن کو ایک ایسے موقع میں تبدیل کرنا چاہیے جہاں ہم اپنی کامیابیوں کا جائزہ لیں اور مستقبل کے چیلنجوں کے لیے تیار ہوں، بجائے اس کے کہ ہم اپنی گلیوں کو ہنگاموں کا شکار بنائیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے جشن منانے کے طریقوں پر نظرثانی کریں اور اپنی نوجوان نسل کو آزادی کے حقیقی معنی سے روشناس کرائیں۔ہمیں ایسے انداز میں جشن منانا سیکھنا ہوگا جو ہماری قومی وقار کو بلند کرے اور ہر شہری کے حقوق کا خیال رکھے۔ جب ہم یہ کر لیں گے، تب ہم حقیقی معنوں میں آزاد کہلائیں گے۔ اس وقت تک، ہماری تقریبات آزادی کے حقیقی مفہوم کے بارے میں ہماری غلط فہمیوں کا ایک دردناک مظہر بنی رہیں گی۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ آزادی صرف ایک تحفہ نہیں، بلکہ ایک ذمہ داری بھی ہے۔ ہر شہری کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ اس کے اعمال کا اثر پورے معاشرے پر پڑتا ہے۔ ہمیں ایسی تقریبات کی ضرورت ہے جو ہماری ثقافت، تاریخ اور اقدار کی عکاسی کریں، نہ کہ ایسی جو ہماری کمزوریوں کو ظاہر کریں۔آئیے ہم سب مل کر ایک ایسا پاکستان بنائیں جہاں آزادی کا مطلب ذمہ داری، احترام اور ترقی ہو۔ جہاں ہر شہری اپنے ملک کے لیے فخر محسوس کرے اور اس کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرے۔ یہی ہماری آزادی کا حقیقی جشن ہوگا، اور یہی ہمارے بزرگوں کے خوابوں کا پاکستان ہوگا۔

  • پاکستان کے 78ویں یوم آزادی کے موقع پر ملک بھر میں جشن و مسرت کا سماں

    پاکستان کے 78ویں یوم آزادی کے موقع پر ملک بھر میں جشن و مسرت کا سماں

    پاکستان کے 78ویں یوم آزادی کے موقع پر ملک بھر میں جشن و مسرت کا سماں ہے۔ 14 اگست کی آمد کے ساتھ ہی پاکستان کے ہر شہر، ہر گاؤں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ملک کے طول و عرض میں سبز ہلالی پرچموں کی بہار نظر آ رہی ہے۔ عمارتوں، گھروں، دکانوں اور گاڑیوں پر قومی پرچم لہرا رہے ہیں، جو قومی یکجہتی اور وطن سے محبت کا عکاس ہیں۔بڑے شہروں جیسے کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ اور ملتان میں خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ ان شہروں میں رات کے وقت چراغاں اور شاندار آتش بازی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے، جس نے رات کے اندھیرے کو دن میں تبدیل کر دیا ہے۔

    لاہور کے تاریخی مقام مینار پاکستان پر خصوصی فائر ورکس کا اہتمام کیا گیا ہے۔ ہزاروں شہری اس خوبصورت منظر کو دیکھنے کے لیے وہاں جمع ہوئے ہیں۔ مینار پاکستان کے آس پاس کا علاقہ رنگ برنگی روشنیوں سے جگمگا رہا ہے۔اسلام آباد کے مشہور ایف-نائن پارک میں بھی خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا گیا ہے۔ اس موقع پر حال ہی میں پیرس اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے والے پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم کی خصوصی شرکت نے تقریب کی رونق کو دوبالا کر دیا ہے۔ ارشد ندیم کی موجودگی نے نوجوانوں میں جوش و خروش پیدا کر دیا ہے۔کراچی، جو پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے، میں بھی جشن آزادی کی دھوم ہے۔ شہر کے مشہور مقامات پورٹ گرینڈ اور گورنر ہاؤس پر خصوصی آتش بازی کا انتظام کیا گیا ہے۔ ہزاروں شہری اس منظر کو دیکھنے کے لیے ان مقامات پر جمع ہیں۔

    ملک بھر میں لوگ اپنے گھروں سے نکل کر سڑکوں پر آ گئے ہیں۔ ہر شہر اور قصبے میں جشن آزادی کی ریلیاں نکالی جا رہی ہیں۔ ان ریلیوں میں شریک لوگ قومی ترانے گا رہے ہیں اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں۔نوجوان اور بچے خاص طور پر جوش و خروش کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ وہ قومی پرچموں اور جھنڈیوں کے ساتھ سڑکوں پر نکلے ہیں۔ کئی جگہوں پر موٹر سائیکل اور کار ریلیاں بھی نکالی جا رہی ہیں۔یہ جشن صرف ایک دن تک محدود نہیں ہے۔ کئی شہروں میں یوم آزادی کے سلسلے میں ہفتہ بھر چلنے والے پروگراموں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ ان میں ثقافتی تقریبات، موسیقی کے پروگرام، اور کھیلوں کے مقابلے شامل ہیں۔
    اس سال کے جشن کی خاص بات یہ ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب لوگ کھل کر اور بڑی تعداد میں اکٹھے ہو کر جشن منا رہے ہیں۔ تاہم، حکام نے لوگوں سے احتیاطی تدابیر برتنے کی اپیل کی ہے۔یوم آزادی کے اس جشن نے ایک بار پھر پاکستانیوں کو اپنے ملک سے محبت اور اس کی آزادی کی اہمیت کا احساس دلایا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزادی ایک انمول نعمت ہے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا۔

  • نا اتفاقی اور انتشار ملک کو اندر سے کھوکھلا کرکے بیرونی جارحیت کے لئے راہ ہموار کر دیتے ہیں۔ آرمی چیف  جنرل عاصم منیر

    نا اتفاقی اور انتشار ملک کو اندر سے کھوکھلا کرکے بیرونی جارحیت کے لئے راہ ہموار کر دیتے ہیں۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر

    پاکستان کے 77ویں یوم آزادی کے موقع پر پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں منعقدہ آزادی پریڈ میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے ایک جامع اور پرمعنی خطاب کیا۔ اس خطاب میں انہوں نے ملکی سلامتی، قومی اتحاد، اور علاقائی امن جیسے اہم موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔جنرل عاصم منیر نے اپنے خطاب کا آغاز تمام پاکستانیوں کو یوم آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے آزادی کو اللہ کی عظیم نعمت قرار دیا اور کہا کہ اللہ نے ہمیں اس ملک کا دفاع کرنے اور اسے آنے والی نسلوں کے لیے ایک کامیاب مثال بنانے کی طاقت عطا کی ہے۔آرمی چیف نے پاکستان کے قیام کے پس پردہ نظریے پر زور دیا، کہتے ہوئے کہ یہ محض ایک جغرافیائی خطے کا حصول نہیں تھا۔ انہوں نے ملک کے حصول کے لیے ہمارے اسلاف کی بے شمار قربانیوں کو یاد کیا اور پاکستان کو ایک "ناقابل تسخیر ملک” قرار دیا۔
    جنرل منیر نے قومی اتحاد کی اہمیت پر خصوصی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ نااتفاقی اور انتشار ملک کو اندر سے کمزور کرتے ہیں اور بیرونی خطرات کے لیے راہ ہموار کرتے ہیں۔
    آرمی چیف نے قوم اور افواج کے درمیان باہمی اعتماد کو کلیدی قرار دیا، کہتے ہوئے کہ یہ اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے جسے کوئی منفی قوت کمزور نہیں کر سکتی۔انہوں نے واضح کیا کہ افواج پاکستان کو کمزور کرنا ملک کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ جنرل منیر نے عزم کا اظہار کیا کہ وہ کسی بھی قیمت پر اپنی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔آرمی چیف نے بلوچستان کے حوالے سے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان بہادر اور حب الوطن لوگوں کا مسکن ہے، اور پاک فوج صوبے کی سالمیت اور فلاح و بہبود کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کرتی رہے گی۔افغانستان کے ساتھ تعلقات پر بولتے ہوئے جنرل منیر نے کہا کہ پاکستان اپنے برادر ہمسایہ ملک کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے۔ انہوں نے افغانستان سے اپیل کی کہ وہ "فتنہ الخوارج” کو اپنے دیرینہ اور خیرخواہ ہمسائے پر ترجیح نہ دیں۔

    آزادی اظہار کے حوالے سے آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان کا آئین اس کی اجازت دیتا ہے، لیکن اس کی واضح حدود بھی متعین کرتا ہے۔جنرل عاصم منیر نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ پاکستان کا مقام ہر دور میں نہ صرف خطے اور مسلم امہ میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان میں آزاد اظہارِ رائے یعنی Freedom of Speech کی آئین ضرور اجازت دیتا ہے، مگر آئین پاکستان نے اسکی واضح حد بندی بھی کر رکھی ہے۔انہوں نے کہا کہ قوم کا پاک فوج پرغیرمتزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں، کوئی منفی قوت، اعتماد اور محبت کے اس رشتے کو نہ کبھی کمزور کرسکی اور نہ ہی آئندہ کرسکے گی، افواج پاکستان نے ملک کے اندرونی اور بیرونی دفاع کی قسم کھا رکھی ہے۔آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان کا مقام ہر دورمیں نہ صرف خطے اورمسلم امہ میں بلکہ بین الاقوامی سطح پربھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے یہ خطاب ملکی سلامتی، قومی اتحاد، اور علاقائی امن کے حوالے سے آرمی چیف کے واضح موقف کا اظہار تھا، جس نے یوم آزادی کی تقریبات کو مزید معنی خیز بنا دیا۔

  • صدر مملکت آصف علی زرداری کا یوم آزادی پر قوم سے عزم: پاکستان کو خوشحال بنانے کا عہد

    صدر مملکت آصف علی زرداری کا یوم آزادی پر قوم سے عزم: پاکستان کو خوشحال بنانے کا عہد

    اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے یوم آزادی کے موقع پر قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے عوامی ترقی اور ملک کو خوشحال بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ یہ دن ہندوستانی مسلمانوں کی تاریخی سیاسی جدوجہد کا نقطہ عروج ہے، اور پاکستان کے قیام کا پرامن اور جمہوری جدوجہد کے ذریعے عمل میں آنا تاریخ کا بے مثال باب ہے۔صدر زرداری نے تحریکِ پاکستان کے رہنماؤں، کارکنوں اور ان کے آباؤ اجداد کو خراج عقیدت پیش کیا، جنہوں نے پاکستان کے قیام کے لیے بے شمار قربانیاں دیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہمیں اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔

    صدر مملکت نے ملک کی سالمیت، اتحاد، اور معاشی استحکام کے لیے پرعزم ہو کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان کو قدرت نے بے شمار وسائل سے نوازا ہے، جو عوامی فلاح و بہبود کے لیے بروئے کار لانے کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔انہوں نے قانون کی حکمرانی، جمہوری اداروں کے استحکام، اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے دل و جان سے کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ قوم کو ہم سے بہت سی توقعات وابستہ ہیں، جنہیں پورا کرنے کے لیے ہمیں قائداعظم محمد علی جناح کے فرامین کی روشنی میں عوام الناس اور غریب طبقے کی فلاح و بہبود پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔

    صدر مملکت نے ملک کی ترقی کے لیے نوجوانوں اور خواتین پر سرمایہ کاری کی اہمیت کو اجاگر کیا اور کہا کہ ہمیں خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے، کاروبار کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے، اور پاکستان کو ایک عظیم ملک بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔انہوں نے اپنے پیغام میں کشمیری اور فلسطینی بھائیوں کو بھی یاد رکھنے کی تلقین کی، جو سات دہائیوں سے اپنی آزادی اور حق خود ارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آج بھی مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔یہ پیغام یوم آزادی کے موقع پر قوم کو ایک نئی امید اور عزم کے ساتھ متحد ہو کر پاکستان کی ترقی کے لیے کام کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

  • "وزیراعظم کا ارشد ندیم کے لیے 15 کروڑ روپے اور اسلام آباد میں سڑک کا نام منسوب کرنے کا اعلان”

    "وزیراعظم کا ارشد ندیم کے لیے 15 کروڑ روپے اور اسلام آباد میں سڑک کا نام منسوب کرنے کا اعلان”

    پاکستان کے اولمپک گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم کی وطن واپسی پر ملک بھر میں جشن کا ماحول ہے۔ 40 سال بعد اولمپکس میں پاکستان کو گولڈ میڈل دلانے والے اس نوجوان ایتھلیٹ کے اعزاز میں وزیراعظم ہاؤس میں ایک شاندار استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملک کی سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔تقریب کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے ارشد ندیم کی کامیابی کو "25 کروڑ پاکستانیوں کی کامیابی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک یادگار دن ہے۔ انہوں نے کہا، "ارشد ندیم نے جشن آزادی کی خوشیوں کو دوبالا کر دیا ہے۔ ان کی جیت نے پوری پاکستانی قوم کو ایک نیا حوصلہ دیا ہے۔”

    وزیراعظم نے اس موقع پر کئی اہم اعلانات کیے جن میں سب سے نمایاں ارشد ندیم کے لیے 15 کروڑ روپے کے انعام کا اعلان تھا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت نے 5 کروڑ اور پنجاب حکومت نے 10 کروڑ روپے کا انعام دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ تمام رقوم ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گی۔وزیراعظم نے مزید اعلان کیا کہ اسلام آباد میں ایف-9 اور ایف-10 سیکٹرز کے درمیان ایک اہم شاہراہ کا نام "ارشد ندیم روڈ” رکھا جائے گا۔ ساتھ ہی، جناح اسٹیڈیم میں "ارشد ندیم ہائی پرفارمنس اکیڈمی” قائم کی جائے گی، جو مستقبل کے ایتھلیٹس کی تربیت کا مرکز ہوگی۔کھیلوں کے فروغ کے لیے حکومت نے ایک ارب روپے کے انڈومنٹ فنڈ کا بھی اعلان کیا، جس کا مقصد نوجوان کھلاڑیوں کی مدد اور ان کی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ ارشد ندیم کو ملک کے اعلیٰ ترین سول اعزاز "ہلال امتیاز” سے نوازا جائے گا۔

    پورے پاکستان نے میرا استقبال میری محنت سے زیادہ کیا۔ ارشد ندیم
    تقریب میں خطاب کرتے ہوئے ارشد ندیم نے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، "میں وزیراعظم اور پورے پاکستان کا شکرگزار ہوں، میرا استقبال میری محنت سے کہیں زیادہ شاندار رہا ہے۔” ارشد نے اپنے کھیل کے سفر کے بارے میں بتایا کہ انہوں نے شروع میں کرکٹ کھیلی تھی لیکن 2012 میں جیولین تھرو کی طرف راغب ہوئے۔اپنے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے ارشد نے کہا، "اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ گولڈ میڈل عطا کیا ہے، اب میرا اگلا ہدف عالمی ریکارڈ قائم کرنا ہے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ 14 اگست کو یوم آزادی کے موقع پر اپنے گولڈ میڈل کے ساتھ جشن منائیں گے۔ارشد ندیم کا مزید کہنا تھا کہ پورے پاکستان نے میرا استقبال میری محنت سے زیادہ کیا۔ جو عزت کھلاڑی کو دی جاتی ہے وہ سب سے اہم ہوتی ہے،پلیئرز کی حوصلہ افزائی سے اس میں مزید جوش و جذبہ پیدا ہوتا ہے، میں بہت خوش ہوں کہ اللّٰہ تعالیٰ نے گولڈ میڈل جتوایا ہے اب تک کئی ریکارڈ قائم کیے، اللّٰہ تعالیٰ مجھے فٹ رکھے میں ورلڈ ریکارڈ قائم کروں گا۔

    پیرس اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے میں بڑی محنت ہے، ان شاء اللّٰہ مزید آگے جاؤں گا ، ارشد ندیم
    ارشد ندیم کا مزید کہنا تھا کہ پہلی تھرو کرتے ہوئے میرا رن اپ خراب ہوگیا تھا، دوسری تھرو کرتے ہوئے سوچا کہ یہ بیسٹ کرنی ہے اور تھرو کے بعد کوچ نے کہا کہ ہمارا گولڈ میڈل پکا ہے، سب سے پہلے اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کروں گا والدین اور پوری قوم کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں، کامیابی کے پیچھے ہماری بہت محنت ہے، پیرس اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے میں بڑی محنت ہے، ان شاء اللّٰہ مزید آگے جاؤں گا ، شہباز شریف نے جو پودا 2012 میں لگایا تھا یہ اس کا پھل ہے، جب 2012 میں میاں نواز شریف نے یوتھ فیسٹیول کروایا تو میرا سفر وہاں سے شروع ہوا، آپ سب کی دعاؤں سے میں نے اولمپکس کا ریکارڈ توڑا، وطن واپس پہنچنے پر میرا شاندار استقبال کیا گیا،مریم نواز آج ہمارے گاؤں آئیں تھیں، لوگوں نے انہیں بہت عزت دی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے گفٹ بھی دیا، پوری قوم نے بہت عزت دی، قوم نے ہماری محنت کا پھل دیا، جیسا استقبال ہوا ہے وہ یادگار ہے، سب نے بہت محبت دی ہے، قوم نے اور وزیراعظم نے اتنی عزت دی ہے جو میڈل سے بھی زیادہ ہے، آنے والے وقت میں جتنے مقابلے ہیں ان کیلئے بھرپور تیاری کروں گا۔

    اس پورے واقعے نے پاکستان میں کھیلوں کی اہمیت کو نئے سرے سے اجاگر کیا ہے۔ حکومت کے اعلانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل میں کھیلوں کے شعبے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ ارشد ندیم کی کامیابی نے نہ صرف ملک کا نام روشن کیا ہے بلکہ نوجوان نسل کے لیے ایک نئی راہ کھول دی ہے۔

    اس تقریب کے بعد، ملک بھر میں ارشد ندیم کے استقبال کے لیے تقریبات کا سلسلہ جاری ہے۔ مختلف شہروں میں ان کے اعزاز میں تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں، جہاں عوام انہیں اپنا پیار اور احترام پیش کر رہے ہیں۔ یہ سب کچھ پاکستان میں کھیلوں کے مستقبل کے لیے ایک نئی امید کی کرن ہے، جہاں ہر نوجوان ارشد ندیم کی طرح اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا خواہاں ہے۔

    گولڈ میڈل جیت کر پاکستان کے قومی ہیر و ارشد ندیم لاہور پہنچ گئے،شاندار استقبال

    واضح رہے کہ ارشد ندیم نے پیرس اولمپکس میں پاکستان کو 40 سال بعد گولڈ میڈل جتوایا ہے، یہ انفرادی مقابلوں میں پاکستان کا پہلا گولڈ میڈل بھی ہے ،ارشد ندیم کی اس تاریخی کامیابی پر پوری قوم جشن منا رہی ہے، اور ان کی محنت، عزم اور لگن کی بدولت پاکستان نے ایک بار پھر عالمی سطح پر اپنا لوہا منوایا ہے۔ ارشد ندیم نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے کھیلوں کے شائقین کے دلوں میں اپنی جگہ بنالی ہے۔ارشد ندیم کی اس شاندار کامیابی نے پوری قوم کو خوشی سے سرشار کر دیا ہے، اور ان کے اس کارنامے کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کی محنت، عزم اور لگن نے انہیں اولمپکس کے سب سے بڑے اسٹیج پر نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے سامنے سرخرو کیا ہے۔

    چینی سفیر کی جانب سے ارشد ندیم کو مبارکباد

    اللہ کی مدد،ارشد ندیم نے تاریخ رقم کر دی،سارے ریکارڈ توڑ دیئے

    مولانا فضل الرحمان کی ارشد ندیم کو گولڈ میڈل جیتنے پر مبارکباد

    جنرل (ر ) عارف حسن عہدے پر ہوتے تو آج ہم جشن نہ منا رہے ہوتے،مبشر لقمان

    ارشد ندیم نے اپنی محنت سے اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتا۔بلاول

    ارشدندیم کو قومی اسمبلی میں‌خراج تحسین ،سحر کامران نے کی قرارداد پیش

    سینیٹ اجلاس میں ارشد ندیم کو مدعو کرنے کا فیصلہ

    ارشد ندیم نے گولڈ میڈل جیتا وہ بھی میرا بیٹا ہے،بھارتی جیولین تھرور نیرج چوپڑا کی والدہ

    گولڈ میڈل پاکستانی قوم کے نام کرتا ہوں، ارشد ندیم

    بیٹے کو گلے لگانے کیلئے بے چین ہوں،والدہ ارشد ندیم

    افواج پاکستان کے سربراہان کی ارشد ندیم کو گولڈ میڈل جیتنے پر مبارکباد

    پیرس اولمپکس: ارشد ندیم نے پاکستان کو 40 سال بعد اولمپک گولڈ مڈل جتوا دیا

    کرکٹر بننا تھالیکن عدم سہولت کی وجہ سے کرکٹ چھوڑی،ارشد ندیم

    کوشش ہے کہ نیرج چوپڑا سے دوستی طویل عرصے تک چلتی رہے،ارشد ندیم

  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی: عوام کو بڑی ریلیف

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی: عوام کو بڑی ریلیف

    حکومت پاکستان نے عوام کو بڑی راحت دیتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا ہے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، پٹرول اور ڈیزل دونوں کی قیمتوں میں بڑی کمی کی گئی، پٹرول کی قیمت میں 8 روپے 47 پیسے فی لٹر کی کمی کی گئی ہے۔ اس کمی کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 260 روپے 96 پیسے فی لٹر مقرر کی گئی ہے۔ یہ کمی گاڑیوں کے مالکان اور عام صارفین کے لیے خاصی راحت کا باعث بنے گی۔اسی طرح، ڈیزل کی قیمت میں بھی 6 روپے 7 پیسے فی لٹر کی کمی کی گئی ہے۔ نئی قیمتوں کے مطابق، ڈیزل اب 266 روپے 7 پیسے فی لٹر میں دستیاب ہوگا۔ یہ کمی خاص طور پر ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے لیے اہم ہے، جہاں ڈیزل کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔
    حکومت کے اس فیصلے کو مہنگائی سے پریشان عوام کے لیے ایک بڑی ریلیف قرار دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے مسلسل بڑھتی ہوئی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں نے عام آدمی کی جیب پر بھاری بوجھ ڈالا تھا۔ اس کمی سے نہ صرف ذاتی استعمال بلکہ مجموعی طور پر معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ مسلسل عالمی مارکیٹ کی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جائے۔ وزارت خزانہ کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ آئندہ بھی قیمتوں کا جائزہ باقاعدگی سے لیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر مزید ایڈجسٹمنٹس کی جائیں گی۔

  • ارشد ندیم کے اعزاز میں اسلام آباد کی اہم شاہراہ ان کے نام سے منسوب کرنے کا فیصلہ

    ارشد ندیم کے اعزاز میں اسلام آباد کی اہم شاہراہ ان کے نام سے منسوب کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد: وفاقی حکومت نے قومی ہیرو ارشد ندیم کی شاندار کارکردگی اور اولمپک گولڈ میڈل جیتنے پر ان کے اعزاز میں اسلام آباد کی ایک اہم شاہراہ کو ان کے نام سے منسوب کرنے کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے۔سینیئر صحافی کاشف علی عباسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اپنی ایک پوسٹ میں اس خبر کا انکشاف کیا۔ انہوں نے لکھا کہ حکومت نے اس بات پر اتفاق کرلیا ہے کہ اسلام آباد کی ایک نمایاں شاہراہ کو ارشد ندیم کے نام سے موسوم کیا جائے گا، جو پاکستان کے لیے فخر کا باعث بنے۔
    یہ فیصلہ ارشد ندیم کی جانب سے پیرس اولمپکس 2024 میں جیولین تھرو کے مقابلے میں گولڈ میڈل جیتنے کے بعد کیا گیا ہے۔ ارشد ندیم نے اپنی بہترین کارکردگی کے ذریعے پاکستان کے لیے 40 سال بعد اولمپک مقابلوں میں گولڈ میڈل جیتا، جس پر پوری قوم میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ارشد ندیم کا یہ اعزاز نہ صرف ان کے لیے بلکہ پوری قوم کے لیے باعث فخر ہے، اور ان کے نام سے اسلام آباد کی شاہراہ کا منسوب ہونا ان کی غیر معمولی کارکردگی کا اعتراف ہے۔