راشد محمود لنگڑیال کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا نیا چیئرمین تعینات کردیا گیا۔ نئے چیئرمین ایف بی آر کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ گریڈ 21 کے راشد محمود لنگڑیال بطور سیکریٹری پاور ڈویژن خدمات انجام دے رہے تھے۔راشد لنگڑیال کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ قابلیت ان کی نئی ذمہ داری کے لیے موزوں ثابت ہوتی ہیں۔ وہ ایک ماہر افسر ہیں جنہوں نے مختلف اہم سرکاری عہدوں پر خدمات انجام دی ہیں۔ ان کی قابلیت اور تجربہ ان کے نئے عہدے پر مؤثر ثابت ہونے کے لیے اہم ہوگا۔
تعیناتی سے قبل، راشد لنگڑیال سیکریٹری پاور کی خدمات انجام دے رہے تھے۔ اس عہدے پر وہ مختلف پالیسیوں اور منصوبوں کے نفاذ میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ان کی محنت اور لگن نے انہیں اس نئی ذمہ داری کے لیے بہترین امیدوار بنا دیا ہے۔ایف بی آر کے چیئرمین کے طور پر، راشد لنگڑیال کو کئی اہم چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا، جن میں ٹیکس وصولیوں میں اضافہ، ٹیکس چوری کی روک تھام اور عوامی اعتماد کی بحالی شامل ہیں۔ ان کی قیادت میں ایف بی آر کو جدید طریقوں اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے بہتر نتائج حاصل کرنے کی توقع ہے۔
حکومت کی ترجیحات میں سے ایک ایف بی آر کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا ہے۔ راشد لنگڑیال کی تعیناتی سے امید کی جارہی ہے کہ وہ ان ترجیحات کو پورا کرنے میں کامیاب ہوں گے اور ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔عوامی سطح پر بھی اس تعیناتی کو مثبت نظروں سے دیکھا جا رہا ہے۔ لوگوں کی توقع ہے کہ راشد لنگڑیال کی قیادت میں ایف بی آر مزید شفاف اور مؤثر ادارہ بنے گا۔ ٹیکس دہندگان کے مسائل کو حل کرنے اور ان کے اعتماد کو بحال کرنے میں ان کی قائدانہ صلاحیتیں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔راشد لنگڑیال کی تعیناتی سے ایف بی آر کے مستقبل کے حوالے سے کئی امیدیں وابستہ ہیں۔ ان کے پیشہ ورانہ تجربے اور قائدانہ صلاحیتوں کی بنا پر توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اس اہم ادارے کو مزید بہتر بنانے میں کامیاب ہوں گے۔
Author: صدف ابرار
-

راشد محمود لنگڑیال چیئرمین ایف بی آر تعینات
-

عمر ایوب نے عمران خان کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے لانے والے بیان کی حمایت کر دی،
اسلام آباد: قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا ہے کہ بانی تحریک انصاف عمران خان نے سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارلیمنٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر ایوب نے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج تمام حقائق کو عیاں کر دے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے نام پہلے ہی ای سی ایل میں ہیں اور باقی سب کے بھی ہونے چاہئیں۔عمر ایوب نے دعویٰ کیا کہ حسینہ واجد ہیلی کاپٹر پر بھارت چلی گئی ہے، اور اسلام آباد سے ہیلی کاپٹر بھی کام نہیں آئے گا، البتہ لاہور سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے امرتسر جایا جا سکتا ہے۔اپوزیشن لیڈر نے نو مئی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم تو لوگوں کو روک رہے تھے اور بتایا تھا کہ اندر ٹریپ ہے، لیکن ہمارا روکنا کسی کو نظر کیوں نہیں آیا؟۔
عمر ایوب کے بیان کے مطابق، سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے لانے سے تمام حقیقت واضح ہو جائے گی۔ اس فوٹیج کی روشنی میں معلوم ہو سکے گا کہ نو مئی کو کیا ہوا تھا اور کون لوگ ذمہ دار تھے۔عمر ایوب نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ای سی ایل میں سب کے نام شامل ہونے چاہئیں تاکہ مزید تحقیقات اور قانونی کارروائی میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔اپوزیشن لیڈر نے عوام کو بھی آگاہ کیا کہ وہ کسی بھی قسم کی افواہوں پر کان نہ دھریں اور تحقیقات کے نتائج کا انتظار کریں۔یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب پارلیمنٹ میں نو مئی کے واقعات پر بحث جاری ہے اور عوامی سطح پر بھی اس معاملے پر کافی دلچسپی پائی جاتی ہے۔ عمر ایوب کا بیان اس معاملے میں مزید وضاحت فراہم کرنے اور شفافیت کو یقینی بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ -

بجلی کی قیمت پر سیاست نہ کرنے کی نصیحت دینے والے خود کرپشن کی سیاست کرتے ہیں،حافظ نعیم الرحمان
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے ایک دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئی پی پیز (آئیندہ پیداوار فراہم کرنے والوں) کے ساتھ کیے گئے ظالمانہ معاہدوں کے ذمہ داروں کے نام ای سی ایل میں ڈال کر ان کے اثاثے منجمد کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی معیشت کو برباد کرنے والوں کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔حافظ نعیم الرحمان نے دھرنے کے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب جماعت اسلامی مارچ کرے گی تو لاکھوں نوجوان ان کے ساتھ ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ رکاوٹوں کو کیسے ہٹانا ہے، یہ فیصلہ جماعت اسلامی خود کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی بھول ہے کہ ہم تھک جائیں گے، ہم پوری قوم کی ترجمانی کر رہے ہیں۔حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کو متنبہ کیا کہ حالات کی سنگینی کو سمجھ لے۔ انہوں نے حکمرانوں کو بنگلہ دیش سے سبق سیکھنے کی نصیحت کی اور کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ حالات اس طرف جائیں، جہاں حسینہ واجد کو ایئرلفٹ کرکے روانہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ تمہیں نہ کوئی ایئرلفٹ کرنے والا ہو اور نہ ہی کوئی راستہ ملے۔
امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ ہماری تاجروں سے مشاورت جاری ہے اور ہم تاریخی ملک گیر ہڑتال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پورے پاکستان کی شاہراہوں کو بند کیا جائے گا اور ممکن ہے کہ چودہ اگست کے بعد آئی ایم ایف کے ایجنٹوں کو ہم بل جمع نہ کرائیں۔امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ بجلی کی قیمت لاگت کے مطابق ہونی چاہئے اور بجلی کے بلوں میں اضافی ٹیکسز کو ختم کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر بجلی کے بل کم نہ ہوئے تو دھرنا ختم نہیں ہوگا اور ہمیں خالی باتوں سے مطمئن نہیں کیا جا سکتا، ہمیں نوٹیفکیشن چاہئے۔انہوں نے شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کی قیمت پر سیاست نہ کرنے کی نصیحت دینے والے خود کرپشن کی سیاست کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسی سیاست قبول نہیں اور ہم عوام کے حقوق کی سیاست کریں گے۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ شہباز شریف کی سیاست دھوکہ، کرپشن اور چاپلوسی پر مبنی ہے اور بجلی کی قیمت کو کم کرنا پڑے گا۔ انہوں نے فرانزک آڈٹ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے نواز شریف اور زرداری کے فرنٹ مینوں کا پتہ چل جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس مطالبے سے دستبردار نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ فری پٹرول کی مراعات کو ختم کرنے کا وقت آگیا ہے اور کوئی بھی سرکاری گاڑی 1300 سی سی سے زائد نہیں ہونی چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ بچوں کے دودھ پر ٹیکس نہیں چلے گا اور بھاری بل صنعتوں کو تباہ کر رہے ہیں۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں کی وجہ سے بڑی صنعتیں تباہ ہو رہی ہیں اور ایف بی آر کے لوگ انویسٹی گیشن کے نام پر کرپشن کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کو لوٹ مار کے لئے رکھا ہوا ہے اور تاجر دوست اسکیم کے نام پر زبردستی ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے تاجروں کو جائز ٹیکس دینے کی نصیحت کی لیکن ناجائز ٹیکس ادا نہ کرنے کی ہدایت دی۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت ترقی کے حوالے سے جھوٹے دعوے کر رہی ہے اور دھرنا پورے جذبے کے ساتھ جاری ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 8 اگست کو مری روڈ سے مارچ کیا جائے گا۔ انہوں نے مریم نواز پر پنجاب کے کسانوں کا حق مارنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ مریم نواز نے سبسڈی کے نام پر قوم سے جھوٹ بولا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں 11 اگست کو تاریخی دھرنا ہوگا اور جماعت اسلامی کے کارکن دھرنے کا پیغام گلی، محلوں میں پہنچائیں۔حافظ نعیم الرحمان نے اپنے خطاب کے آخر میں کہا کہ یہ دھرنا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوگا اور ہم خیرات لینے نہیں بلکہ غریبوں، مزدوروں، تاجروں اور کسانوں کا حق لینے آئے ہیں۔ انہوں نے کارکنوں کو اللہ پر بھروسہ رکھنے کی نصیحت کی اور کہا کہ کامیابی ہماری ہوگی۔ -

6 اگست: تاریخ کے آئینے میں
تحقیق : آغا نیاز مگسی
6 اگست کی تاریخ میں کئی اہم واقعات رونما ہوئے جنہوں نے عالمی تاریخ پر اپنے نقوش چھوڑے۔ یہ دن مختلف واقعات، جنگوں، سیاسی تبدیلیوں اور اہم تاریخی واقعات کی یاد دلاتا ہے۔
1181ء: چین اور جاپان کے ماہر فلکیات نے ستاروں کی عمر سے متعلق سپرنوا دریافت کیا، جو کہ فلکیاتی تحقیق میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔
1799ء: مہاراجہ رنجیت سنگھ نے لاہور شہر پر قبضہ کیا اور اس شہر کو اپنے سلطنت کا حصہ بنایا۔
1806ء: رومن سلطنت کا خاتمہ ہوا، جو کہ تاریخ میں ایک اہم سیاسی تبدیلی تھی۔
1861ء: حکومت ہندوستان نے پہلا کرنسی نوٹ جاری کیا، جس نے مالیاتی نظام میں نئی راہیں ہموار کیں۔
1862ء: ہندوستان میں مدراس ہائی کورٹ نے اپنے کام کا آغاز کیا۔
1896ء: فرانس نے مڈغاسکر پر قبضہ کیا، جو کہ نوآبادیاتی توسیع کی ایک مثال ہے۔
1906ء: چترنجن داس اور کانگریس کے دیگر لیڈروں نے اخبار وندے ماترم کی اشاعت شروع کی، جو کہ ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں ایک اہم قدم تھا۔
1914ء: پہلی عالمی جنگ کے دوران آسٹریا اور ہنگری نے روس اور سربیا کے خلاف جنگ کا اعلان کیا، جبکہ سربیا نے جرمنی کے خلاف اعلان جنگ کیا۔
1937ء: امریکہ اور سوویت یونین نے تجارتی معاہدے پر دستخط کیے۔
1945ء: دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکی بحریہ نے جاپان کے شہر ہیروشیما پر پہلا ایٹم بم گرایا، جس نے جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کی۔
1951ء: منچوریا میں تائیفون سیلاب سے 4800 افراد ہلاک ہو گئے۔
1953ء: نانگا پربت کو آسٹریائی جرمن مہم جو ٹیم نے سر کیا، جو کہ کوہ پیمائی کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔
1973ء: پاکستان سینیٹ کا پہلا اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی چوہدری فضل الٰہی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ حبیب اللہ خان مروت سینیٹ آف پاکستان کے پہلے چیئرمین منتخب ہوئے اور 4 جولائی 1977ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔
1984ء: بھارتی مغوی مسافر طیارے کی لاہور ایئرپورٹ پر لینڈنگ ہوئی، جس میں ہائی جیکروں نے اکالی دل تنظیم کے سرکردہ رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
1990ء: صدر پاکستان غلام اسحاق خان نے بینظیر بھٹو کی حکومت کو برطرف کر دیا اور قومی اسمبلی تحلیل کر دی۔ غلام مصطفی جتوئی نگران وزیر اعظم مقرر کیے گئے۔ اسی سال اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے عراق پر پابندی لگانے کی تجویز منظور کی۔
1997ء: یونائٹیڈ لبریشن فرنٹ آف آسام (الفا) نے اغوا شدہ سماجی کارکن سنجے گھوش کی موت کی تصدیق کی۔
1998ء: سینیٹ آف پاکستان کے قیام کے 25 سال مکمل ہونے پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیے۔تعطیلات و تہوار:
1825: بولیویا کو پیرو سے آزادی ملی۔
1962ء: جمائیکا 300 سال بعد انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوا۔
یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تاریخ میں رونما ہونے والے واقعات نہ صرف اقوام کی تقدیر بدلتے ہیں بلکہ ان سے جڑے افراد اور معاشروں پر بھی گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ 6 اگست کو ہونے والے واقعات نے تاریخ کے مختلف پہلوؤں کو نمایاں کیا اور ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دی کہ ماضی کی یہ داستانیں کس طرح موجودہ دور کی تشکیل میں معاون ثابت ہوئی ہیں۔ -

سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر پاکستانیوں کو لبنان کے سفر سے گریز کی ہدایت: دفتر خارجہ
اسلام آباد: وزارت خارجہ نے لبنان میں موجود پاکستانی شہریوں کے لیے ایک اہم ایڈوائزری جاری کی ہے۔ دفتر خارجہ کی ترجمان نے خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر پاکستانی شہریوں کو لبنان کے سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں جب تک پروازیں دستیاب ہیں، تمام پاکستانی شہریوں کو لبنان چھوڑ دینا چاہیے۔ لبنان میں رہنے والے پاکستانی شہریوں کو خصوصی طور پر حساس علاقوں میں انتہائی احتیاط برتنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس حوالے سے دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے شہریوں کو اپنی سلامتی کے پیش نظر بیروت میں پاکستانی سفارت خانے سے رابطے میں رہنا چاہیے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ لبنان میں موجود پاکستانی شہری اپنی حفاظت کے لیے ہر ممکن احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر سفارت خانے سے مدد حاصل کریں۔ وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایڈوائزری میں پاکستانی شہریوں کو موجودہ حالات کے پیش نظر غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔لبنان میں حالیہ دنوں میں سکیورٹی کی صورتحال انتہائی خراب ہوچکی ہے، جس کی وجہ سے وہاں مقیم پاکستانی شہریوں کی حفاظت کے لیے یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ دفتر خارجہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستانی شہری لبنان میں اپنے قیام کے دوران کسی بھی قسم کی غیر ضروری سرگرمیوں سے پرہیز کریں اور محفوظ مقامات پر رہنے کی کوشش کریں۔
وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی شہری بیروت میں پاکستانی سفارت خانے سے مستقل رابطے میں رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کی صورت میں فوری طور پر سفارت خانے سے مدد حاصل کریں۔ مزید برآں، پاکستانی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی یا واقعے کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ بیروت میں موجود پاکستانی سفارت خانے کے نمبروں +961-81669488 اور +961-81815104 اور ای میل parepbeirut@mofa.gov.pk کے ذریعے رابطے میں رہ سکتے ہیں۔
وزارت خارجہ نے اپنے شہریوں کی سلامتی کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ پاکستانی شہریوں کی مدد کے لیے تیار ہے اور انہیں ہر ممکن مدد فراہم کرے گا۔ اس ایڈوائزری کا مقصد لبنان میں موجود پاکستانی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے اور انہیں موجودہ خطرناک صورتحال سے بچانا ہے۔
-

بنگلا دیشی وزیر اعظم کے مستعفی ہونے کے بعد مظاہرین نے بھارتی کلچرل سینٹر نذر آتش کیا، پاکستان کے خلاف سازش کا ثبوت مل گیا
ڈھاکا: بنگلا دیش میں جاری پرتشدد مظاہروں کے دوران، مظاہرین نے بھارت کے سرکاری محکمے انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشنز کے تحت چلنے والے اندرا گاندھی کلچرل سینٹر کو نذر آتش کر دیا۔ یہ واقعہ بنگلا دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے مستعفی ہونے اور بھارت فرار ہونے کے بعد پیش آیا۔پرتشدد مظاہروں نے ڈھاکا شہر میں شدید ہنگامہ برپا کر دیا، جس کے نتیجے میں کلچرل سینٹر کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کی جانب سے جاری کردہ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کلچرل سینٹر کے احاطے میں ملبہ پھیلا ہوا ہے اور عمارت سے دھواں اٹھ رہا ہے۔ فوٹیج میں عمارت کے اندر موجود ملبے میں ویڈیو کیسٹس کا ڈھیر بھی نظر آ رہا ہے، جن میں سے ایک ویڈیو کیسٹ پاکستان سے متعلق ہے۔
ویڈیو کیسٹ کا عنوان ’پاکستان: دی وار وِد اِن‘ ہے، اور اس کے لیبل سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ویڈیو کیسٹ بھارتی وزارت خارجہ کے ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ کی جانب سے جاری کردہ ہے۔ یہ کیسٹ 30 منٹ کے دورانیے پر مشتمل ہے اور اس میں پاکستان سے متعلق مواد شامل ہے۔بنگلا دیش میں گزشتہ ماہ سے جاری عوامی احتجاج نے ملک میں شدید سیاسی بحران کو جنم دیا۔ وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی مستعفی ہونے کے بعد، بھارت فرار ہونے کے فیصلے نے مزید کشیدگی کو بڑھا دیا۔ فوج کے سربراہ نے اس صورتحال پر عبوری حکومت کے قیام کا اعلان کیا ہے، جس سے ملک کی موجودہ سیاسی عدم استحکام کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔مظاہرین کے غم و غصے کے نتیجے میں بھارتی کلچرل سینٹر کو نشانہ بنانے کے بعد، بھارت اور بنگلا دیش کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، اور اس واقعے نے دونوں ممالک کے درمیان موجود سیاسی اختلافات کو مزید ابھار دیا ہے۔ -

پاکستان کو معاشی استحکام کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے سعودی عرب اور یو اے ای کا بڑا اعلان
اسلام آباد: پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے کیلئے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے بڑا قدم اٹھایا ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے "بلومبرگ” کے مطابق دونوں ممالک نے ایک سال کے لیے پاکستانی قرضے رول اوور کرنے کا وعدہ کیا ہے۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ رول اوور کا حجم پچھلے سال جیسا ہی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس دو طرفہ قرضوں میں 12 بلین ڈالر ہیں جن میں پچھلے کچھ سالوں سے اضافہ ہوا ہے۔یہ اقدام پاکستان کیلئے ایک بڑا ریلیف ہے، کیونکہ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ 7 بلین ڈالر کے قرض کے پروگرام کی حتمی منظوری کی اب بھی منتظر ہے۔ پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے جولائی میں 37 ماہ کے قرض پروگرام کے لیے ایک معاہدہ کیا تھا۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے برسوں سے آئی ایم ایف کے پروگراموں پر بہت زیادہ انحصار کیا ہے۔ بعض اوقات ملک ڈیفالٹ کے دہانے پر بھی پہنچ جاتا ہے اور اسے آئی ایم ایف کی طرف سے مقرر کردہ بیرونی مالیاتی اہداف کو پورا کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسے ممالک کا رخ کرنا پڑتا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق، پاکستان کو فی الوقت سب سے بڑا مسئلہ قرض کی واپسی کا درپیش ہے۔ تاہم، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے اس فیصلے سے حکومت کو کچھ وقت مل جائے گا تاکہ وہ اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے مزید اقدامات کر سکے۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن حکومت کو طویل مدتی حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو اپنی برآمدات بڑھانے، غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور ٹیکس نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں بیرونی قرضوں پر انحصار کم کیا جا سکے۔حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ملک کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور مختلف شعبوں میں اصلاحات لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ ایک طویل اور مشکل عمل ہوگا جس کے لیے قوم کی مکمل حمایت درکار ہے۔ -

نواز شریف کی بیرون ملک سفر پر پابندی کے خبریں من گھڑت اور بے بنیاد ہے، طارق فضل چوہدری
اسلام آباد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما طارق فضل چوہدری نے وضاحت کی کہ نواز شریف کے بیرون ملک جانے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات کا اشارہ دیا کہ نواز شریف پر کسی بھی قسم کی قانونی یا عملی پابندی نہیں ہے، اور یہ افواہیں کہ نواز شریف پر بیرون ملک جانے پر کوئی رکاوٹ ہے، بے بنیاد ہیں۔طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اپوزیشن کے کچھ عناصر بنگلا دیش کی موجودہ صورتحال کو سیاست میں ابھرتے مسائل سے جوڑ رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف نے 2018 کے بعد سیاست میں تقسیم کو فروغ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی پالیسیوں نے سیاست کو محلے اور گلی سطح پر تقسیم کر دیا ہے، جس سے نفرت اور انتشار میں اضافہ ہوا ہے۔
مسلم لیگ ن کی پالیسی پر بات کرتے ہوئے، طارق فضل چوہدری نے کہا کہ پارٹی ہمیشہ کارکردگی کی بنیاد پر سیاست کرتی ہے اور اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلنے پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے احتجاج کی حدود کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کا حق ہر جماعت کو ہے، مگر شہروں کی بندش، پولیس کی گاڑیوں کو جلانا اور اداروں پر حملے کرنا احتجاج کی صحیح شکل نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات سے عام لوگوں کی زندگی متاثر ہوتی ہے اور یہ احتجاج کی روح کے خلاف ہے۔طارق فضل چوہدری نے مزید کہا کہ مسلم لیگ ن نے ریاست کی بہتری کے لیے اپنی سیاست کی قربانی دی ہے اور پاکستانی افواج کی ملک کی سلامتی کے لیے کی جانے والی قربانیوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ افواج نے دہشت گردی اور ملکی سلامتی کے معاملات میں اہم کردار ادا کیا ہے، اور ان کی خدمات کی قدر کی جانی چاہیے۔ -

اڈیالہ جیل میں عمران خان کی قانونی ٹیم سے ملاقات، ملکی صورتحال پر تبادلہ خیال
راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے اڈیالہ جیل میں اپنی قانونی ٹیم، اور وکیل انتظار پنجوتھہ سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں انتظار پنجوتھہ نے اہم انکشافات کیے۔عمران خان نے موجودہ سیاسی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بنگلہ دیش کے واقعے سے موازنہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کی علیحدگی کے پیچھے ظلم بڑا عامل تھا اور خبردار کیا کہ پاکستان میں بھی ایسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔عمران خان نے مہنگائی کے مسئلے پر بھی توجہ دلائی، کہتے ہوئے کہ اس نے عوام کی معیشت کو کمزور کر دیا ہے۔سابق وزیراعظم نے حکومت سے پی ٹی آئی کے خلاف "ظلم کی پالیسی” ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے 8 فروری کے انتخابات سے قبل ہونے والے ظلم کا ذکر کیا، لیکن دعویٰ کیا کہ عوام نے 9 مئی کے واقعات کے بعد بنائے گئے "بیانیے” کا جواب انتخابات میں اپنے ووٹوں سے دیا۔ خان نے الزام لگایا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی اور کہا کہ عوام اس پر شدید غصے میں ہیں۔
انتظار پنجوتہ نے کہا کہ عمران خان نے پارٹی کارکنوں کو 13 اگست کی رات پاکستانی پرچم لے کر باہر نکلنے کی ہدایت دی، جو ممکنہ طور پر یوم آزادی کی تیاریوں سے متعلق ہے۔ انہوں نے حال ہی میں صوابی میں ہونے والے جلسے پر کارکنوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔خیبر پختونخوا کے حوالے سے، خان نے علی امین گنڈاپور کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ کرپشن کے مسئلے پر انہوں نے زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر زور دیا اور بتایا کہ خیبر پختونخوا میں اس مقصد کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ عمران خان نے حکام سے اپیل کی کہ ابھی بھی وقت ہے کہ وہ اپنے فیصلوں پر نظرثانی کریں۔ انہوں نے تاکید کی کہ ملک کو درپیش مشکلات سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔یہ ملاقات اور اس کے دوران ہونے والی گفتگو پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کی پیچیدگی کو ظاہر کرتی ہے، جہاں اپوزیشن رہنما جیل میں ہیں لیکن ملکی سیاست پر اثر انداز ہونے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔
-

14 اگست سے چینی شہریوں کے لیے ویزا آن لائن ہو جائے گا: وزیر داخلہ محسن نقوی
اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اعلان کیا ہے کہ 14 اگست سے چینی شہریوں کے لیے ویزا آن لائن دستیاب ہوگا۔ اس اعلان کا مقصد چین اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنا اور چینی بزنس کمیونٹی کو مزید سہولیات فراہم کرنا ہے۔یہ اعلان محسن نقوی اور چینی بزنس کمیونٹی کے وفد کے درمیان ایک ملاقات کے دوران کیا گیا۔ ملاقات میں چینی قونصل جنرل بھی موجود تھے، جنہوں نے چینی بزنس کمیونٹی کے مفادات اور تحفظات پر بات کی۔ محسن نقوی نے کہا کہ چینی شہریوں کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ان کے تحفظ کے لیے مخصوص سیکیورٹی پلان کے ایس او پیز تیار کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چینی شہریوں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے، اور ہم نے ان کے تحفظ کے لیے جامع سیکیورٹی پلان تیار کیا ہے۔ اس کے علاوہ، کاروباری مواقع فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔
چینی قونصل جنرل نے وزیر داخلہ کے اعلان کا خیرمقدم کیا اور کہا:”ہمیں امید ہے کہ اس میٹنگ کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے، اور چینی بزنس کمیونٹی کو مزید سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔”آن لائن ویزا سہولت کا مقصد چینی شہریوں کو پاکستان میں کاروبار اور دیگر سرگرمیوں کے لیے آسانی فراہم کرنا ہے۔ اس اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو فروغ ملے گا اور چینی شہریوں کو پاکستان آنے میں آسانی ہوگی۔محسن نقوی نے چینی بزنس کمیونٹی کو یقین دلایا کہ ان کے تحفظ کے لیے خصوصی سیکیورٹی پلان تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی پلان کے ایس او پیز چینی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے اور انہیں کسی بھی خطرے سے محفوظ رکھیں گے۔یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اور چینی بزنس کمیونٹی کو مزید سہولیات فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ آن لائن ویزا سہولت سے نہ صرف چینی شہریوں کو آسانی ہوگی بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو بھی فروغ ملے گا۔