لاہور: انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ارشد علی نے جناح ہاؤس حملہ کیس میں ملزمان علیمہ خان اور عظمی خان کی ضمانت میں 3 ستمبر تک توسیع کر دی ہے۔ عدالت نے تفتیشی افسران کو ملزمان کو شامل تفتیش کرنے کے لیے آخری موقع دیا ہے۔سماعت کے آغاز پر علیمہ خان اور عظمی خان روسٹرم پر آئیں۔ علیمہ خان نے جج سے سوال کیا کہ اگر وہ عدالت میں کوئی جعلی دستاویز پیش کریں تو کیا ان کی سزا ہوگی؟ جج نے جواب دیا کہ ہاں، اس پر سزا ہوتی ہے۔ علیمہ خان نے اس پر کہا کہ پھر تفتیشی افسر کو بھی سزا ملنی چاہیے۔
علیمہ خان کے وکیل رانا مدثر عمر نے عدالت کو بتایا کہ 9 مئی کے واقعے کے بعد ان کے موکلین نے دو بار جے آئی ٹی جوائن کی ہے اور عدالت میں بھی پیش ہو چکے ہیں۔ ان کا واحد قصور یہ ہے کہ وہ بانی پی ٹی آئی کی بہنیں ہیں۔عدالت نے تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ وہ علیمہ خان اور عظمی خان کو شامل تفتیش کریں، ورنہ آئندہ سماعت پر فیصلہ سنایا جائے گا۔ عدالت نے کہا کہ 4 جون کو مقدمہ میں نامزد کیا گیا تھا اور ملزمان کو اپنی بے گناہی کے ثبوت اور دلائل پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔
علیمہ خان نے کہا کہ انصاف وہی ہوتا ہے جو نظر آتا ہے، اور اگر ثبوت غلط استعمال ہوں تو ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تفتیشی افسران اور پولیس پر کوئی پابندی نہیں ہے اور پولیس عدالت کو کچھ نہیں سمجھتی۔عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد کیس کی مزید سماعت 3 ستمبر تک ملتوی کر دی۔
Author: صدف ابرار
-

جناح ہاؤس حملہ کیس: علیمہ خان اور عظمی خان کی ضمانت میں 3 ستمبر تک توسیع
-

پیپلز پارٹی پنجاب میں اپنی حکومت بنانے کے لیے تیار ہے،گورنر پنجاب
لاہور: گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے اعلان کیا ہے کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں اپنی حکومت بنانے کے لیے تیار ہے اور ان کا مقصد بلاول بھٹو کو پاکستان کا وزیراعظم بنانا ہے۔ گورنر پنجاب نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن شہید ذوالفقار علی بھٹو اور بی بی بینظیر بھٹو کے وفادار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جیالوں کو آصف علی زرداری سے محبت کرنی چاہیے، کیونکہ محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد آصف علی زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ بلند کر کے ملک کو مشکل سے بچایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ن لیگ سے اتحاد پر کارکنوں کو شکوہ رہتا ہے، کیونکہ ن لیگ نے ہمارے ساتھ سیاسی کارروائیاں کی ہیں۔ لیکن پیپلز پارٹی نے ہمیشہ ملک کے مفاد میں فیصلے کیے اور قربانیاں دیں۔ ایک جماعت نے عوام کو بھڑکایا اور گالی گلوچ کی سیاست کی، لیکن پیپلز پارٹی نے ملک کے اداروں کے ساتھ کھڑے ہو کر اپنی سیاست کو نقصان پہنچایا۔
سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ پیپلز پارٹی سندھ کی نہیں بلکہ پنجاب کی جماعت ہے اور ان کا مقصد بلاول بھٹو کو وزیراعظم بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے وقت میں پیپلز پارٹی نے لاہور، پنجاب اور ملک سے جیتنا ہے اور ان کے ہوتے ہوئے کوئی بھی پیپلز پارٹی کے ورکرز کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔گورنر پنجاب نے پیپلز پارٹی کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ملک کی بقاء کے لیے اپنی سیاست کو نقصان پہنچایا اور ہمیشہ ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی نے اپنے قائدین کی قربانیوں کے باوجود ملک کے خلاف بات نہیں کی اور ہمیشہ ملک کے مفاد میں فیصلے کیے ہیں۔سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے جیالوں کو چاہیے کہ وہ آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کے ساتھ کھڑے ہوں اور ملک کی ترقی کے لیے کام کریں۔ -

وزیر اعلیٰ پنجاب کی ای بائیک پراجیکٹ میں قسطوں کی کم از کم رقم مقرر کرنے کی ہدایت
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے طلبہ کے لیے ای بائیک پراجیکٹ کی قسطوں کی کم از کم رقم مقرر کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ مریم نواز کا کہنا ہے کہ پنجاب طلبہ کو سہولیات فراہم کرنے میں ہمیشہ لیڈ کرے گا اور یہ اقدام طلبہ کی زندگیوں میں اہم تبدیلی لائے گا۔تاریخ میں پہلی بار، چیف منسٹر یوتھ انیشیٹو کے تحت پنجاب میں طلبہ کے لیے ای اور پٹرول بائیکس فراہم کی جا رہی ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس پراجیکٹ کو طلبہ کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کا وعدہ کیا ہے، اور ان کا کہنا ہے کہ ذاتی سواری طلبہ کے پیسے اور وقت کی بچت میں مددگار ثابت ہوگی۔
مریم نواز نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وقت کی بچت اور سفر میں آسانی طلبہ کی تعلیمی استعداد کار میں بہتری کا سبب بنے گی۔ اس پراجیکٹ کے تحت، والدین کے سایہ سے محروم طلبہ کے لیے ای بائیک سکیم میں والدین کی گارنٹی کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔ پنجاب کو عالمی سطح پر الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے میدان میں آگے بڑھانا ہماری کوشش ہے۔اس کے علاوہ، پنجاب بھر میں ای بائیکس کی چارجنگ کے لیے سولرائزڈ چارجنگ اسٹیشن قائم کیے جائیں گے، اور طلبہ کے لیے ای بائیک کی بیٹری کی انشورنس اور وارنٹی بھی فراہم کی جائے گی۔ بائیکس کے ساتھ ہیلمٹ اور کائٹ پروٹیکشن کا استعمال بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے مزید کہا کہ طلبہ کو آمدورفت میں آسانی فراہم کرنے کے لیے ای بائیک کا اقدام خوش آئند ہے۔ اس اقدام سے سموگ اور ماحولیاتی آلودگی میں کمی آئے گی، اور کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سولرائزڈ چارجنگ اسٹیشن بھی قائم کیے جائیں گے۔ -

رؤف حسن اڈیالہ جیل سے رہا
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ترجمان رؤف حسن کو اڈیالہ جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔ ان کی رہائی اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت کی طرف سے ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست کی منظوری کے بعد عمل میں آئی۔انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے رؤف حسن کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔ کیس میں پراسیکیوٹر راجہ نوید نے رؤف حسن کی ضمانت کو مسترد کرنے کی درخواست دی، جبکہ ان کے وکلا علی بخاری اور علی ظفر نے عدالت میں موجودگی ظاہر کی۔ تفتیشی افسر اس موقع پر غیر حاضر رہے۔
جج طاہر عباس سپرا نے سماعت کے دوران پراسیکیوٹر سے سوال کیا کہ ریکارڈ کب پیش کیا جائے گا۔ پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ ریکارڈ کی فراہمی کی ذمہ داری ان کی نہیں، اور اس کے لیے تفتیشی افسر سے معلوم کرنا ہوگا۔ عدالت نے ریکارڈ کی عدم موجودگی کے باعث سماعت کو ملتوی کر دیا۔رؤف حسن کے وکلا نے عدالت میں دلائل دیے کہ ان کے موکل کے خلاف مقدمہ میں کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں، اور انہیں ضمانت دی جانی چاہیے۔ عدالت نے ان دلائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست منظور کر لی۔
رؤف حسن کی رہائی کے بعد، ان کے وکلا ایڈووکیٹ شائستہ کھوسہ اور راجہ یاسر انہیں اڈیالہ جیل سے لے کر روانہ ہو گئے۔ رہائی کی روبکار انسداد دہشت گردی عدالت سے جاری کی گئی تھی۔یہ پیشرفت اس وقت ہوئی جب منگل کے روز انسداد دہشت گردی عدالت نے رؤف حسن کی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔ اس کیس میں اسلحہ برآمدگی اور دہشت گردی کی مالی معاونت کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ -

قانون سازی کا اختیار صرف ایوان کو حاصل ہے، 17 افراد کو نہیں”فاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ
اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹ میں ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ قانون سازی کا اختیار صرف ایوان کو حاصل ہے اور یہ اختیار 17 افراد کو نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل اور الزامات کے باوجود، قانون سازی کا عمل ایوان کی خودمختاری میں ہے اور اس پر کسی کی اجارہ داری نہیں ہو سکتی۔وزیر قانون نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "پی ٹی آئی والے ہمیشہ یوٹرن لیتے ہیں”، اور ان کے دورِ حکومت میں قانون سازی کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے دور میں پیش کردہ سپلیمنٹری بل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت اپوزیشن لیڈر کی عدم موجودگی میں ایک ووٹ کے فرق سے بل منظور کیا گیا تھا۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ "ہماری قانون سازی کو کوئی بھی غیر منتخب لوگ ختم نہیں کر سکتے”، اور آئین کی تشریح اور آئین میں ترامیم کے درمیان فرق واضح کیا۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈر کی جانب سے دیے گئے بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن لیڈر نے جذبات میں آ کر کہا کہ انہیں دو تہائی اکثریت ملی ہے، جو کہ حقیقت کے مطابق نہیں ہے۔وفاقی وزیر قانون نے مزید کہا کہ "آزاد ارکان کسی دباؤ کے بغیر سنی اتحاد کونسل میں شامل ہو چکے ہیں”، اور سابقہ دور میں خواجہ سعد رفیق کے حلقہ میں ری اکاؤنٹنگ کا سٹے آرڈر اسمبلی کی مدت تک برقرار رہا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریٹائرڈ ججز نے بطور الیکشن ٹریبونل 80 فیصد پٹیشنز کا فیصلہ کیا، جو حاضر سروس ججز سے زیادہ تیزی سے نمٹائی گئی ہیں۔
وزیر قانون نے اپنے بیان میں کہا کہ "تاریخ اور حقائق کو درست رکھنا ضروری ہے”، اور اس بات پر زور دیا کہ "قانون سازی کرنا، ترمیم کرنا یہ پارلیمنٹ کا اختیار ہے”۔ انہوں نے کہا کہ "پارلیمنٹ کو اپنی خود مختاری اور آزادی کے ساتھ اپنے اختیارات استعمال کرنے چاہیے”۔ اعظم نذیر تارڑ نے اختتام پر کہا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کو اپنی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے قانون سازی کا عمل جاری رکھنا چاہیے تاکہ آئین اور قانون کی بالادستی قائم رہے۔ -

محکمہ کھیل کے زیر اہتمام 14 اگست سپورٹس فیسٹیول میں فینسنگ کے مقابلے اختتام پذیر
محکمہ کھیل کے زیر اہتمام جشن آزادی کے موقع پر "14 اگست سپورٹس فیسٹیول” کے تحت فینسنگ کے میل اینڈ فیمیل گیمز کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر ایک شاندار اختتامی تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں کھلاڑیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔تقریب کے مہمان خصوصی ایس ایس پی کرائم انویسٹیگیشن زوہیب محسن تھے، جن کے ہمراہ ڈائریکٹر پاکستان سپورٹس بورڈ، اولمپک ایسوسی ایشن کے اراکین اور مختلف شعبوں کے افراد بھی موجود تھے۔تقریب کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایس ایس پی زوہیب محسن نے کہا کہ جشن آزادی ہمیں ملک سے محبت کا درس دیتا ہے اور 14 اگست کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی ایک بڑی نعمت ہے اور کھیلوں کے ذریعے ہی ہم صحت مند معاشرہ قائم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ کھیلوں میں حصہ لیں، کیونکہ یہ نہ صرف جسمانی صحت کے لیے مفید ہے بلکہ نشہ جیسے منفی اثرات سے بھی بچا جا سکتا ہے۔
زوہیب محسن نے اپنی دیرینہ خواہش کا اظہار کیا کہ فینسنگ کے ایونٹ کا انعقاد اپنے آبائی علاقے تربت میں بھی کیا جائے، تاکہ وہاں کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بھی اس کھیل میں حصہ لے سکیں۔تقریب کے اختتام پر، پوزیشن لینے والے کھلاڑیوں کو انعامات سے نوازا گیا۔ ایس ایس پی زوہیب محسن نے کہا کہ کھیلوں کے ذریعے ہی ملک کی ترقی کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے اور نوجوانوں کو کھیلوں میں حصہ لے کر ایک مثبت سمت فراہم کی جا سکتی ہے۔ -

وفاقی حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس عائد نہیں کرے گی: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ملک کی معاشی صورتحال اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعلقات پر اہم انکشافات کیے ہیں۔ منگل کو صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں انہوں نے کئی اہم معاشی مسائل پر روشنی ڈالی۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ اس ماہ کے آخر میں اجلاس کرے گا، جو پاکستان کے لیے 7 بلین ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کے حوالے سے امید کی کرن ہے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف پروگرام کے دوران 3 سے 5 بلین ڈالر کے فنانسنگ گیپ کا سامنا ہے۔ اورنگزیب نے اس خلا کو قابل انتظام قرار دیا اور اسے پر کرنے کی کوششوں کا ذکر کیا۔
ایک اہم انکشاف کے مطابق، وزیر خزانہ نے تصدیق کی کہ وفاقی حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس عائد نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ عوام پر معاشی بوجھ کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔بین الاقوامی کمرشل بینکوں سے قرض لینے کے حوالے سے وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ زیادہ شرح سود پر قرضے نہیں لیے جائیں گے۔ یہ بیان ملک کی معاشی پالیسی میں احتیاط کا اشارہ دیتا ہے۔چین کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون پر بات کرتے ہوئے انہوں نے آئی پی پیز سے مذاکرات کے لیے مشیر کی تقرری کی ضرورت کا ذکر کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے چین میں پانڈا بانڈ کے لیے پہلے ہی ایک مشیر مقرر کر رکھا ہے۔
وزیر خزانہ نے ایف بی آر کی جاری ڈیجیٹلائزیشن اور کول پاور پلانٹس کو مقامی کوئلے پر منتقل کرنے کے منصوبے کا بھی ذکر کیا، جس کی تکمیل میں دو سے تین سال لگ سکتے ہیں۔یہ انکشافات پاکستان کی موجودہ معاشی حکمت عملی، بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعلقات، اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی عکاسی کرتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے یہ اقدامات ملکی معیشت کو مستحکم کرنے اور عوام پر معاشی بوجھ کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ -

ہم پاکستان کے ساتھ جانا پسند کریں گے۔ بنگلہ دیشی شہریوں کا اعلان
بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیش کے شہریوں نے جشن منایا ۔ اس دوران کئی مقامات پر پاکستان کے پرچم لہرائے گئے۔ حسینہ واجد کے گھر حملہ کر کے لوٹ مار کی گئی ۔ شیخ مجیب الرحمن کے کئی مقامات پر مجسموں کو گرایا۔ بنگلہ دیشی شہری سڑکوں پر نکلے اور جشن منایا اس دوران شہریوں سے سوال کیا گیا کہ پاکستان یا بھارت کسی ایک میں سے کس کے ساتھ جانا چاہیں گے تو اکثر شہریوں نے جواب دیا کہ ہمیں پاکستان پسند ہے پاکستان کے لوگ اچھے ہیں اس لئے ہم پاکستان کے ساتھ جانا چاہیں گے بھارت میں تو مودی سرکار اقلیتوں پر ظلم کرتی ہے کوئی بھی وہاں محفوظ نہیں ہے بنگالی شہریوں کے ساتھ بھئ بھارت میں ناروا سلوک رکھا جاتا ہے اس لئے بھارت کے ساتھ جانے کا کبھی سوچ بھی نہیں سکتے۔
بنگلہ دیشی شہریوں کی کئی ویڈیو سامنے آ چکی ہیں جس میں وہ پاکستان کے لیے اچھے جذبات اور مودی سرکار کے خلاف نفرت کا اظہار کر رہے ہیں۔بنگلہ دیش کی خواتین کا بھی کہنا ہے وہ پاکستان کے ساتھ جانا پسند کریں گی واضح رہے کہ حسینہ واجد مستعفی کو کر بھارت پہنچ گئی ہیں اجیت سے حسینہ کی ملاقات ہوئی ہے۔ حسینہ بھارتی فضائیہ کے گیسٹ ہاؤس میں مقیم ہیں جس کی سیکورٹی انتہائی سخت رکھی گئی ہے حسینہ کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جا رہی حسینہ لندن میں سیاسی پناہ کی خواہش مند ہیں تا ہم ابھی تک لندن سے کوئی حوصلہ افزا پیغام نہیں ملا۔ حسینہ واجد کسی بھی دوسرے ملک جانے تک بھارت میں ہی رہے گی۔ -

چینی وفد کا گوادر کا دورہ: مستقبل کی سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبوں پر گفتگو
آج چینی وزارت خارجہ کے اعلیٰ سطحی وفد نے گوادر کا دورہ کیا، جس میں مستقبل میں سرمایہ کاری کے مواقع، ترقیاتی پروگراموں اور اہم منصوبوں کی پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد کی قیادت مسٹر ونگ فوکانگ نے کی، اور ان کے ہمراہ گوادر پورٹ اتھارٹی کے حکام نے ملاقات کی۔دورے میں گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین پاسند خان بلیدی نے چینی وفد کو پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی راہداری (CPEC) فیز 2 کے منصوبے کی اہمیت اور گوادر پورٹ کی کامیابی میں اس کے کردار پر بریفنگ دی۔ مسٹر یو بو، چیئرمین چائنہ اوورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی (COPHC)، نے تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے قیمتی تجاویز فراہم کیں۔
چینی وفد نے نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور پاک چین فرینڈ شپ ہسپتال سمیت موجودہ ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے ساؤتھ فری زون اور گوادر پورٹ کا دورہ کیا اور ان کی تجارتی اور اقتصادی اہمیت کو سراہا۔وزیر خزانہ بلوچستان، ظہور بلیدی نے وفد کا خیرمقدم کیا اور گوادر کے ترقیاتی منصوبوں پر روشنی ڈالی۔ چینی وفد نے مختلف منصوبوں پر کام کرنے والے چینی ملازمین کے حفاظتی اقدامات کو بھی تسلیم کیا اور اس بات کا اظہار کیا کہ ان کے دورے نے پاکستان کی صلاحیت میں اضافے اور مستقبل کی چیلنجز کا سامنا کرنے میں مددگار ثابت ہونے کی امید کو تقویت دی ہے۔26 رکنی چینی وفد میں چینی سفارتخانے کے نمائندے مسٹر یانگ گوانگ یوان اور مسٹر چن جنجی شامل تھے، جبکہ پاکستانی حکام میں اویس منظور سُمرا، وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے مسٹر ذوالفقار علی شالوانی اور وزارت سمندری امور کے جناب سیس ظفر علی شاہ بھی موجود تھے۔
-

سینیٹ میں شبلی فراز کی طرف سے الیکشن ایکٹ ترمیمی بل پر شدید تنقید
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2024ء کو سپریم کورٹ پر حملہ قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں عوام کے ووٹ کی قدر کی جاتی ہے، مگر موجودہ الیکشن کمیشن کی کارکردگی سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اب یہ ایک "سلیکشن کمیشن” بن چکا ہے۔ شبلی فراز نے الزام عائد کیا کہ الیکشن کمیشن نے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 90 دن کے اندر دو اسمبلیوں کے انتخابات نہیں کرائے۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے عدلیہ کو نظرانداز کرتے ہوئے بیوروکریسی سے آر اوز حاصل کیے، جس سے صاف اور شفاف انتخابات کے انعقاد میں ناکامی ہوئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن نے ان کی جماعت کے انتخابی نشان کو چھین کر مضحکہ خیز نشانات دیے، اور الیکشن کے دن انٹرنیٹ اور موبائل سروسز بند کر دی گئیں تاکہ لوگوں کو معلومات تک رسائی نہ مل سکے۔شبلی فراز نے کہا کہ جب پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں کی کامیابی یقینی ہوئی، تو فارم 47 جاری کر دیا گیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی تنقید کی کہ الیکشن کے بعد آئینی راستے کو بند کرنے کے لیے قانون سازی کی گئی اور ریٹائرڈ ججز کو ٹریبونلز میں لگانے کا انتظام کیا گیا، جس نے پارلیمنٹ کے اختیار کو محدود کر دیا۔
شبلی فراز نے سینیٹ میں کہا کہ عوامی فیصلے کو روکنے کے لیے تمام کوششیں کی جا رہی ہیں اور کہا کہ یہ بل بدنیتی پر مبنی ہے، جو سپریم کورٹ کے ججز پر حملہ کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پی ٹی آئی کے مینڈیٹ کو تسلیم نہ کرنا، چاہے آئین اور قانون کچھ بھی کہیں، ایک واضح پیغام ہے۔ان کی تنقید نے سینیٹ میں اس بل پر جاری بحث میں شدت پیدا کر دی ہے اور اپوزیشن کی طرف سے اس بل کے خلاف ایک مضبوط موقف اپنایا گیا ہے۔