Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • خالدہ ضیا کے بیٹے ،  آئی ایس آئی اور لندن کے منصوبے نے ڈھاکہ میں بغاوت کو ہوا دی: بنگلہ دیشی انٹیلی جنس رپورٹ میں انکشاف

    خالدہ ضیا کے بیٹے ، آئی ایس آئی اور لندن کے منصوبے نے ڈھاکہ میں بغاوت کو ہوا دی: بنگلہ دیشی انٹیلی جنس رپورٹ میں انکشاف

    بنگلہ دیش کی انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق، بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ حکومت کے خاتمے کا منصوبہ لندن میں پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ساتھ تعاون سے تیار کیا گیا تھا۔ اس رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی نے حسینہ حکومت کو عدم استحکام کا شکار کرنے اور اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کو بحال کرنے کی کوشش کی، جو کہ پاکستان کی حامی جماعت مانی جاتی ہے۔بنگلہ دیشی حکام نے ثبوت کے ساتھ دعویٰ کیا ہے کہ بی این پی کے قائم مقام سربراہ اور خالدہ ضیا کے بیٹے، طارق رحمان نے سعودی عرب میں آئی ایس آئی کے عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد حکومت کو گرانے کے لیے حکمت عملی تیار کرنا تھا۔
    احتجاج کی شدت سے پہلے، سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کئی "اینٹی-بنگلہ دیش” ہینڈلز نے احتجاجات کو ہوا دی۔ شیخ حسینہ حکومت کے خلاف 500 سے زائد منفی ٹویٹس کی گئیں، جن میں کئی پاکستانی ہینڈلز شامل تھے۔ذرائع کے مطابق، چینی حکومت نے بھی آئی ایس آئی کے ذریعے ان احتجاجات کو بڑھانے میں کردار ادا کیا، جس کا مقصد حسینہ حکومت کو عدم استحکام کا شکار کرنا تھا۔ احتجاج کی شدت اور مظاہروں کے نتیجے میں شیخ حسینہ کو مجبوراً عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا اور وہ فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھارت فرار ہو گئیں۔یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بنگلہ دیش کی داخلی سیاست میں بیرونی عناصر کی مداخلت کتنی زیادہ ہو سکتی ہے، اور اس کے خطے کی سلامتی پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس رپورٹ نے خطے میں جیوپولیٹیکل پیچیدگیوں کو مزید گہرا کر دیا ہے اور مختلف ممالک کی مداخلتوں کا انکشاف کیا ہے۔

  • قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں صحافیوں کے حقوق کے بل پر بحث

    قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں صحافیوں کے حقوق کے بل پر بحث

    اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کی حفاظت کے ترمیمی بل 2022 پر تفصیلی بحث ہوئی۔ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر علی ظفر کی زیر صدارت منعقد ہونے والے اس اجلاس میں صحافیوں کی تعریف اور کمیٹی چیئرمین کی مدت ملازمت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے نمائندوں نے شرکت کی۔ انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ صحافتی تنظیمیں اور سٹیک ہولڈرز بل کے متن سے لاعلم ہیں اور صحافیوں کی تعریف پر خدشات کا اظہار کیا۔ سینئر صحافی حامد میر نے کہا کہ بل میں تکنیکی سٹاف کو بھی صحافیوں میں شامل کیا گیا ہے، جس پر کمیٹی نے صحافی کی تعریف میں تبدیلی کا فیصلہ کیا۔

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ جنسی رحجانات کا صحافتی معیار سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس پر کمیٹی نے جنسی رحجانات کی شق کو بل سے نکالنے کی سفارش کی۔ پی ایف یو جے کے نمائندوں نے صحافیوں کی تعریف کے حوالے سے مختلف قوانین کی موجودگی کا حوالہ دیا اور بل میں موجود شقوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ ترمیمی بل میں کمیشن کے چیئرپرسن کی مدت ملازمت 3 سال مقرر کی گئی ہے جس میں ایک سال کی توسیع دی جا سکے گی۔ تاہم، صحافتی نمائندوں نے چیئرمین کی مدت ملازمت میں توسیع کی مخالفت کرتے ہوئے اس شق کو ختم کرنے کی سفارش کی۔ حامد میر نے کہا کہ ایکسٹینشن نے ملک کو نقصان دیا ہے اور اس پر پابندی لگائی جائے۔

    اجلاس کے دوران کمیٹی نے کمیشن کی جانب سے قید کی سزا دینے کی شق ختم کرنے کی سفارش کی، جبکہ مالی جرمانہ کی شق کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پنجاب اسمبلی کی جانب سے منظور شدہ ہتک عزت قانون پر بھی بحث ہوئی۔سینیٹر عرفان صدیقی نے سوال کیا کہ قانون صوبائی اسمبلی نے منظور کیا ہے، کیا ہم صوبائی اسمبلی کے معاملات میں مداخلت کر سکتے ہیں؟ انہوں نے سینیٹ کمیٹی کی جانب سے صوبائی اسمبلی کے قانون پر بحث کی مخالفت کی اور کہا کہ ہم ایک صوبے کے معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں۔کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ صحافیوں کے حقوق کے لیے کمیشن پرانے قانون کے مطابق بھی موجود ہے اور نئے ترمیمی بل میں کمیشن کے چیئرپرسن کی کوالیفیکیشن متعین کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اجلاس میں صحافیوں کی حفاظت اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔اس اجلاس میں ہونے والی سفارشات اور تجاویز کو حتمی شکل دینے کے بعد سینیٹ میں پیش کیا جائے گا تاکہ صحافیوں کے حقوق اور ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • سینیٹ میں الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2024ء کثرت رائے سے منظور

    سینیٹ میں الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2024ء کثرت رائے سے منظور

    اسلام آباد: سینیٹ نے الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2024ء کو کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے۔ سینیٹر طلال چودھری نے یہ بل ایوان میں پیش کیا، جس پر تحریک انصاف کے سینیٹرز نے شدید شور شرابہ کیا اور احتجاج کیا۔بل کی پیشکش کے دوران، چیئرمین سینیٹ نے الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2024ء پیش کرنے کی اجازت دی، جس کے بعد سینیٹ میں بل کی شق وار منظوری لی گئی۔ بل کی منظوری کے دوران اپوزیشن کی جانب سے بھرپور مخالفت کی گئی، تاہم بل کو کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔
    واضح رہے کہ اس سے قبل قومی اسمبلی میں بھی الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2024ء منظور کر لیا گیا تھا۔ اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی بلال اظہر کیانی نے یہ بل پیش کیا تھا، جسے کثرت رائے سے منظور کیا گیا تھا۔ قومی اسمبلی میں بھی بل کی منظوری کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا تھا۔الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2024ء کی منظوری کے بعد حکومتی ارکان نے اسے ایک اہم کامیابی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بل انتخابی نظام میں شفافیت اور اصلاحات لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

    دوسری جانب اپوزیشن نے اس بل کو غیر جمہوری اور انتخابی عمل میں مداخلت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بل حکومت کی جانب سے انتخابات میں دھاندلی کی راہ ہموار کرنے کی کوشش ہے اور وہ اس کے خلاف بھرپور احتجاج جاری رکھیں گے۔بل کی منظوری کے بعد سیاسی حلقوں میں تناؤ بڑھ گیا ہے اور دونوں جانب سے بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ اپوزیشن نے اس بل کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا عندیہ دیا ہے جبکہ حکومتی ارکان نے اسے انتخابی اصلاحات کے لیے اہم قدم قرار دیا ہے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف نے چیرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن کی تقرری کی منظوری دے دی

    وزیراعظم شہباز شریف نے چیرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن کی تقرری کی منظوری دے دی

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے ڈاکٹر مختار احمد کو مزید ایک سال کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کا چیرمین مقرر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔وزیراعظم کی جانب سے منظوری کے بعد وزیراعظم کے سیکرٹری نے باضابطہ طور پر مراسلہ جاری کر دیا ہے۔ یہ مراسلہ فوری طور پر سیکرٹری ایجوکیشن کو ارسال کر دیا گیا ہے تاکہ تقرری کے عمل کو تیزی سے مکمل کیا جا سکے۔ڈاکٹر مختار احمد کی بطور چیرمین ایچ ای سی تقرری کی توسیع تعلیمی اداروں اور علمی حلقوں میں خوشی کی لہر کا باعث بنی ہے۔ ڈاکٹر مختار احمد نے گزشتہ دور میں ایچ ای سی کے چیرمین کی حیثیت سے تعلیمی نظام میں بہتری اور ریسرچ کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی قائدانہ صلاحیتوں اور تعلیمی اصلاحات کے باعث تعلیمی شعبے میں نمایاں ترقی ہوئی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ڈاکٹر مختار احمد کی تقرری سے ملک میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو مزید فروغ ملے گا اور ان کی قائدانہ صلاحیتوں سے تعلیمی معیار میں مزید بہتری آئے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت تعلیمی شعبے کی ترقی کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور ایچ ای سی کی قیادت میں اصلاحات کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔ڈاکٹر مختار احمد نے اس تقرری پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیراعظم اور حکومت کے اعتماد پر شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ تعلیمی شعبے میں مزید بہتری لانے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے اور ریسرچ اور تعلیمی معیار میں اضافے کے لیے کام جاری رکھیں گے۔یہ تقرری ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ملک میں تعلیمی نظام کو بہتر بنانے اور جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی اشد ضرورت ہے۔ ڈاکٹر مختار احمد کی قائدانہ صلاحیتوں اور تجربے سے امید کی جا رہی ہے کہ وہ تعلیمی شعبے میں مزید بہتری اور ترقی کے لیے اہم کردار ادا کریں گے۔

  • بنگلادیش فوج میں بڑے پیمانے پر تقرر و تبادلے، میجر جنرل ضیاء الاحسن برطرف

    بنگلادیش فوج میں بڑے پیمانے پر تقرر و تبادلے، میجر جنرل ضیاء الاحسن برطرف

    ڈھاکہ: بنگلادیش کی فوج میں بڑے پیمانے پر تقرر و تبادلے کیے گئے ہیں۔ انٹرسروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، میجر جنرل ضیاء الاحسن کو ان کی ملازمت سے برطرف کردیا گیا ہے۔ میجر جنرل ضیاء الاحسن نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن مانیٹرنگ سینٹر (این ٹی ایم سی) کے ڈائریکٹر جنرل تھے۔ این ٹی ایم سی وزارت داخلہ کے ماتحت ایک اہم انٹیلی جنس ایجنسی ہے، جس کی ذمہ داری ملکی صورتحال پر نظر رکھنا، اعداد و شمار جمع کرنا، اور کمیونیکیشن مواد کی ریکارڈنگ شامل ہے۔ اس کے علاوہ، یہ ایجنسی ای میلز، سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی نگرانی اور فون کالز ریکارڈ کرنے کی بھی اجازت رکھتی ہے۔
    آئی ایس پی آر کے مطابق، لیفٹیننٹ جنرل سیف العالم کو وزارت خارجہ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، جبکہ لیفٹیننٹ جنرل مجیب الرحمان کو آرمی ٹریننگ اور ڈاکٹرائن کمانڈ کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ میجر جنرل ضیاء الاحسن کی جگہ میجر جنرل ردوان الرحمان کو نیا ڈائریکٹر جنرل این ٹی ایم سی مقرر کیا گیا ہے۔یہ تقرریاں اور تبادلے بنگلادیش میں جاری سیاسی اور سماجی بحران کے دوران سامنے آئے ہیں۔ حالیہ واقعات کے پس منظر میں، بنگلادیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے طلبہ کے احتجاج کے بعد اقتدار چھوڑ دیا تھا اور فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھارت روانہ ہوگئی تھیں۔ اس کے بعد آرمی چیف نے عبوری حکومت بنانے کا اعلان کیا تھا۔
    صدر کے احکامات کے مطابق، اپوزیشن لیڈر خالدہ ضیا کو بھی جیل سے رہا کردیا گیا ہے۔ تاہم، بنگلادیش میں حالات ابھی تک معمول پر نہیں آئے ہیں اور نظام زندگی مفلوج ہے۔یہ اقدامات بنگلادیش کے سیاسی منظرنامے میں ایک بڑے تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں فوج نے اہم عہدوں پر نئی تقرریاں کرکے ملک کی سمت متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس دوران عوام کی نظروں میں مستقبل کی صورتحال پر نظر رکھنا ضروری ہوگا تاکہ ملک میں استحکام اور امن قائم ہوسکے۔

  • حکومت کا ایف بی آر کی جامع ڈیجیٹائزیشن کے لئے ٹاسک فورس کے قیام کا فیصلہ

    اسلام آباد: حکومت نے فیڈرل بیورو آف ریونیو (ایف بی آر) کی جامع ڈیجیٹائزیشن کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف نے ٹاسک فورس کے قیام کی منظوری دے دی ہے، جو ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن کے لیے ضروری پالیسی اقدامات تجویز کرے گی۔دس رکنی ٹاسک فورس کے چیئرمین وزیر مملکت برائے خزانہ و ریونیو علی پرویز ملک ہوں گے۔ ٹاسک فورس کا کام ڈیٹا آٹومیشن پر عمل درآمد اور سافٹ ویئر سلوشنز کی فراہمی بھی شامل ہے۔ وزیراعظم نے ٹاسک فورس کو ہدایت دی ہے کہ وہ ڈیٹا کو صوبوں کی ریونیو اتھارٹیز، وزارتوں اور سرکاری محکموں کے ساتھ ہم آہنگ کرے۔ اس کا مقصد قومی سطح پر ایک مربوط نظام قائم کرنا ہے جو مختلف محکموں کے درمیان معلومات کے تبادلے کو ممکن بنائے گا۔

    ٹاسک فورس کو ٹیکس کی بنیاد کو وسعت دینے کے لیے قومی شناختی کارڈ کو سنگل بنیادی شناخت بنا کر آڈٹ کرنے کی بھی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ یہ اقدام ٹیکس نیٹ میں اضافہ کرنے اور ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔اس کے علاوہ، ٹاسک فورس کو سپلائی چین کی آٹو میشن بھی کرنی ہے، جس سے ٹیکس کے نظام میں شفافیت اور کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔ وزیر مملکت برائے خزانہ و ریونیوعلی پرویز ملک نے اس موقع پر کہا کہ ٹاسک فورس کی تشکیل کا مقصد ایف بی آر کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور ٹیکس دہندگان کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹائزیشن سے نہ صرف ٹیکس وصولی میں اضافہ ہوگا بلکہ ٹیکس چوری کی روک تھام بھی ممکن ہوگی۔حکومتی اقدام کا مقصد ایف بی آر کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا اور ٹیکس نظام کو موثر اور شفاف بنانا ہے، جس سے ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔

  • کے الیکٹرک کا  بجلی کے بلوں کی تاریخ ادائیگی میں توسیع کا اعلان

    کے الیکٹرک کا بجلی کے بلوں کی تاریخ ادائیگی میں توسیع کا اعلان

    کراچی: کے الیکٹرک نے صارفین کی سہولت کے لیے ماہ جولائی اور اگست کے بجلی بلوں کی تاریخ ادائیگی میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق، بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی طرح، جولائی اور اگست میں واجب الادا بلوں کی آخری تاریخ میں 10 دنوں کی توسیع کی گئی ہے۔اس اعلان کے تحت، صارفین کو اپنے بجلی بلوں کی ادائیگی کے لیے اضافی وقت دیا گیا ہے، جو انہیں مالی طور پر زیادہ سہولت فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ، جو صارفین لیٹ پیمنٹ سر چارج کے ساتھ اپنے بلوں کی ادائیگی کریں گے، ان کے لیٹ پیمنٹ سرچارج کو اگلے ماہ کے بل میں ایڈجسٹ کر دیا جائے گا۔ اس کا مقصد صارفین کو ادائیگی میں مزید سہولت فراہم کرنا اور مالی بوجھ کو کم کرنا ہے۔
    وزیر اعظم پاکستان نے بھی بجلی کے بلوں کی آخری تاریخ میں 10 روز کی توسیع کا اعلان کیا تھا، جس سے صارفین کو مہنگائی کے اس دور میں مالی مشکلات کے باوجود بلوں کی ادائیگی کے لیے مزید وقت مل سکے گا۔ کے الیکٹرک نے اپنے صارفین کو یقین دلایا ہے کہ یہ اقدام ان کی سہولت کے لیے کیا جا رہا ہے، اور کمپنی صارفین کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی خدمات کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔صارفین کو یہ یاد دہانی بھی کرائی گئی ہے کہ وہ بلوں کی ادائیگی وقت پر کرنے کی کوشش کریں تاکہ انہیں اضافی چارجز سے بچنے کا موقع مل سکے۔ اس اعلان کے بعد، کے الیکٹرک کے صارفین اب مطمئن ہو سکتے ہیں کہ انہیں بجلی بلوں کی ادائیگی میں مزید وقت مل گیا ہے، جو کہ خاص طور پر مہنگائی کے اس دور میں ایک بڑی سہولت ہے۔

  • بنگلادیش میں موجودہ سیاسی بحران پر یورپی یونین کا ردعمل: جمہوری اصولوں اور انسانی حقوق کے احترام پر زور

    بنگلادیش میں موجودہ سیاسی بحران پر یورپی یونین کا ردعمل: جمہوری اصولوں اور انسانی حقوق کے احترام پر زور

    بنگلادیش میں جاری حالیہ ہنگامہ آرائی اور مظاہروں پر یورپی یونین نے اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ یورپی خارجہ امور کے سربراہ جوزپ بوریل نے کہا ہے کہ یورپی یونین بنگلادیش میں رونما ہونے والے واقعات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ملک میں امن و امان کی بحالی اور جمہوری اصولوں کے احترام پر زور دیا ہے۔بنگلادیشی چیف آف آرمی اسٹاف جنرل وقار الزمان کے قوم سے خطاب کے بعد جوزپ بوریل نے یورپی یونین کی جانب سے پرسکون رہنے اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ انسانی حقوق اور جمہوری اصولوں کے مکمل احترام کے ساتھ جمہوری طور پر منتخب حکومت کی طرف منظم اور پرامن منتقلی کو یقینی بنایا جائے۔

    یورپی یونین نے حالیہ مظاہروں کے دوران ہونے والے المناک جانی نقصان پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہیں۔ جوزپ بوریل نے کہا کہ یورپی یونین نے جنرل وقار الزمان کی طرف سے دی گئی یقین دہانیوں کا نوٹس لیا ہے کہ صورت حال کو پرامن طریقے سے نمٹایا جائے گا اور تمام غیر قانونی قتل کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں گی۔یورپی یونین نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے احتساب پر زور دیا اور کہا کہ جن لوگوں کو من مانے طور پر حراست میں لیا گیا ہے انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔ جوزپ بوریل نے کہا کہ بنگلادیش کے عوام کے ایک اہم پارٹنر کے طور پر یورپی یونین ملک کی خوشحالی اور ترقی کے لیے پرعزم ہے اور بنگلادیش کے عوام کی حمایت جاری رکھے گی۔

    یورپی یونین نے بنگلادیش میں جمہوری طور پر منتخب حکومت کی پرامن منتقلی کو یقینی بنانے پر زور دیا اور تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔ جوزپ بوریل نے کہا کہ یورپی یونین بنگلادیش کی تازہ ترین صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ملک میں امن و امان کی بحالی کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔بنگلادیش میں حالیہ دنوں میں جاری مظاہروں اور ہنگامہ آرائی کے دوران کئی افراد جاں بحق ہو چکے ہیں اور متعدد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ملک میں سیاسی بحران کے پیش نظر یورپی یونین کی جانب سے جاری کردہ یہ بیان ایک اہم قدم ہے جس سے بنگلادیش میں جمہوری اصولوں اور انسانی حقوق کے احترام پر زور دیا گیا ہے۔بنگلادیش کے عوام کو ان کی مشکلات میں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، اور یورپی یونین ان کے ساتھ کھڑی ہے تاکہ ملک میں امن، خوشحالی اور جمہوری اصولوں کا فروغ ممکن ہو سکے۔

  • بنگلادیش :  سابق کرکٹر مشرفی مرتضیٰ کے گھر پر مظاہرین کا حملہ، اہم حکومتی عمارتیں نذر آتش

    بنگلادیش : سابق کرکٹر مشرفی مرتضیٰ کے گھر پر مظاہرین کا حملہ، اہم حکومتی عمارتیں نذر آتش

    ڈھاکا: بنگلادیش میں جاری ہنگامی صورتحال کے دوران مظاہرین نے سابق کرکٹ کپتان اور عوامی لیگ کے رکن پارلیمنٹ مشرفی مرتضیٰ کے گھر کو نذر آتش کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پولیس اور سکیورٹی فورسز نے طلباء کو حراست میں لے کر ان پر گولی چلائی، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہو گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلادیش میں طلباء کے قتل عام اور وسیع پیمانے پر گرفتاریوں پر حکومتی خاموشی کے خلاف مظاہرین نے عوامی لیگ کے رکن پارلیمنٹ مشرفی مرتضیٰ کے گھر پر حملہ کیا۔ مظاہرین نے ان کے گھر پر توڑ پھوڑ کی اور پھر اسے آگ لگا دی۔ مشرفی مرتضیٰ، جو کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد 2018 میں سیاست میں آئے تھے، نے شیخ حسینہ کی زیرقیادت عوامی لیگ میں شمولیت اختیار کی اور رکن پارلیمنٹ کی نشست جیتی۔ مشرفی مرتضیٰ نے مختلف فارمیٹس میں بنگلادیش کرکٹ ٹیم کی کپتانی کی اور اپنے وسیع کرکٹ کیریئر کے دوران انٹرنیشنل کرکٹ میں 390 وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے 36 ٹیسٹ، 220 ون ڈے اور 54 ٹی ٹوئنٹی میچز میں 2,955 رنز بنائے۔ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد سابق کرکٹر نے 2018 میں سیاست میں قدم رکھا اور عوامی لیگ میں شمولیت اختیار کر کے رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے ایک نشست بھی جیتی۔
    بنگلادیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے استعفیٰ اور بھارت روانگی کے بعد مظاہرین نے عوامی لیگ کی اہم عمارتوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ شیخ حسینہ کے استعفیٰ دینے کے بعد مشتعل مظاہرین نے ڈھاکا میں شیخ مجیب الرحمان کی ذاتی رہائش گاہ 32 دھان منڈی، جو اب بنگابندھو میموریل میوزیم ہے، کو بھی آگ لگا دی۔آج شام تقریباً 4 بجے ایک گروپ نے عوامی لیگ کے صدر دفتر کو آگ لگا دی۔ مظاہرین نے شیخ حسینہ اور عوامی لیگ کے خلاف نعرے بازی کی اور عمارت میں موجود فرنیچر سمیت مختلف اشیاء کو لوٹ کر لے گئے۔ ایک اور گروپ نے عوامی لیگ کے ڈھاکا میں قائم ضلعی دفتر کو بھی نذر آتش کر دیا، جس کی وجہ سے قریبی گیس سلنڈر کی دکان بھی آگ کی لپیٹ میں آگئی۔32 دھان منڈی ڈھاکا میں شیخ مجیب الرحمان کی ذاتی رہائش گاہ ہے اور یہی وہ جگہ ہے جہاں 15 اگست 1975 کو فوجی بغاوت کے دوران انہیں قتل کیا گیا تھا۔ یہ رہائش گاہ اب بنگابندھو میموریل میوزیم کے طور پر جانی جاتی ہے۔احتجاجی کارکنوں نے ڈھاکا میں وزیراعظم ہاؤس پر بھی دھاوا بول دیا اور قیمتی ساڑھیاں بھی لوٹ لیں۔ عوامی لیگ کی اہم عمارتوں کو نشانہ بنانے والے مظاہرین نے شیخ حسینہ اور عوامی لیگ کے خلاف نعرے بازی کی اور عمارتوں میں موجود قیمتی اشیاء کو لوٹ کر لے گئے۔

  • خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کا  ڈی چوک پر جلسے کا اشارہ

    خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کا ڈی چوک پر جلسے کا اشارہ

    صوابی: خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے صوابی میں ایک بڑے جلسے کے دوران اسلام آباد میں جلسے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کی این او سی کی درخواست کے باوجود انہیں جلسے کی اجازت نہیں دی گئی تو وہ ڈی چوک پر جلسہ کریں گے۔علی امین گنڈاپور نے اپنے خطاب میں کہا کہ "نظریہ نہ ہی قید ہو سکتا ہے، نہ ہی ختم ہو سکتا ہے” اور انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ ان کا اسلام آباد میں جلسہ یقینی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام بتا رہے ہیں کہ ہم نے خوف کے بت توڑ دیے ہیں اور اب کوئی بھی ہمیں نہیں روک سکتا۔
    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ بطور وزیراعلیٰ اسلام آباد میں جلسے کا اعلان کر رہا ہوں، جلسے کےلیے کوئی بھی جگہ دے دو، اگر این او سی کی درخواست کے باوجود اجازت نہ دی گئی تو ڈی چوک پر جلسہ ہوگا۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے جلسے کی تاریخ کے بارے میں کہا کہ یہ اگست کے آخری ہفتے یا ستمبر کے پہلے ہفتے میں منعقد ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی نے ہمارے جلسے کو روکنے کی کوشش کی تو ہم ڈی چوک پر جلسہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا، "دما دم مست قلندر ہونے دو”۔ یہ اعلان اس وقت کیا گیا ہے جب اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت پر تنقید اور احتجاجی تحریکوں میں تیزی دیکھنے کو ملی ہے۔ علی امین گنڈاپور کے اس بیان سے ایک بار پھر سیاسی ماحول میں ہلچل مچ گئی ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والا یہ جلسہ ملک کی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔