بنگلادیش کے صدر محمد شہاب الدین نے سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی جیل سے رہائی کا حکم دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ صدارتی اجلاس میں کیا گیا، جہاں اپوزیشن جماعت بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی سربراہ خالدہ ضیا کی رہائی پر اتفاق ہوا۔ خالدہ ضیا، جو بنگلادیش کی معروف سیاستدان اور بی این پی کی رہنما ہیں، ایک عرصے سے جیل میں قید تھیں۔ ان کی رہائی کے حکم نے ملک بھر میں سیاسی اور سماجی حلقوں میں گہری دلچسپی پیدا کر دی ہے۔ خالدہ ضیا کی رہائی بنگلادیش کی سیاست میں ایک اہم تبدیلی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، کیونکہ ان کی جماعت کی جانب سے اس اقدام کی تائید کی گئی ہے۔
دوسری جانب، بنگلادیش کی فوج نے ملک میں نافذ کرفیو کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔ فوج کے ترجمان نے بتایا کہ کرفیو منگل کی صبح سے ہٹا دیا جائے گا، جس کے بعد اسکول کھل جائیں گے اور کاروباری سرگرمیاں معمول پر آ جائیں گی۔ کرفیو کے خاتمے کا اعلان ملک میں سکونت کی حالت کو بحال کرنے اور عوام کی زندگی کو معمول پر لانے کے عزم کا عکاس ہے۔اس اعلان کے بعد، عوامی زندگی میں تیزی سے بحالی متوقع ہے، جس سے ملک کی معیشت اور سماجی سرگرمیوں پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس وقت بنگلادیش میں سیاسی و سماجی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے اور یہ اقدامات ملک کی موجودہ صورتحال پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔
Author: صدف ابرار
-

بنگلادیش: سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کی رہائی کا حکم، کرفیو کے خاتمے کا اعلان
-

صوابی: پی ٹی آئی کا جلسہ ، محمود خان اچکزئی اور تحریک انصاف کے رہنماؤں کی تقاریر،
صوابی میں تحریک تحفظ پاکستان کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان جیل سے نکلنے کے بعد تعصب کی سیاست نہیں کریں گے۔ محمود اچکزئی نے یہ بات جلسے میں موجود ہجوم سے کی، جس میں انہوں نے عمران خان کی قیادت کی حمایت کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ پختونخوا کے عوام کے ساتھ ہیں۔محمود اچکزئی نے کہا کہ "پاکستان ہمارا ملک ہے، پختون، بلوچ، سرائیکی اس قوم کا حصہ ہیں”۔ انہوں نے عمران خان کے بارے میں کہا کہ وہ جیل سے باہر آ کر تعصب کی سیاست نہیں کریں گے اور پاکستان کے عوام کے لئے ایک مثبت پیغام دیں گے۔
دوسری جانب، تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر نے پنجاب کے عوام کو احتجاج کی تیاری کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے بھر میں مظاہروں کی قیادت کریں گے اور پنجاب میں پارٹی رہنماؤں کی قید کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔ حماد اظہر نے مزید کہا کہ ان پر 53 ایف آئی آرز درج ہیں، مگر وہ اپنے لیڈر کے لئے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔جلسے میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے الزام عائد کیا کہ مسلم لیگ ن فوج اور تحریک انصاف میں دراڑ ڈال رہی ہے، اور کہا کہ اس سازش کو ناکام بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے شہباز شریف پر معیشت کا بیڑہ غرق کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ جب بانی پی ٹی آئی کی کال آئے گی، سب نے لبیک کہنا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کا کسی سے جھگڑا نہیں ہے اور دوریاں ختم کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ آزاد عدلیہ کے لیے لڑائی جاری رہے گی اور بانی پی ٹی آئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
اس موقع پر اسد قیصر نے کہا کہ جلسہ تاریخ بھی ہے اور انقلاب بھی، اور پاکستان کو آئین کے مطابق چلانے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے بلوچستان میں حقوق کی خلاف ورزی اور خیبرپختونخوا کی حکومت کو ناکام بنانے کی کوششوں کی مذمت کی۔ اسد قیصر کی تقریر کے دوران ان کی طبیعت خراب ہو گئی، جس سے جلسے میں افرا تفری پھیل گئی۔علی محمد خان نے بھی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کے انصاف کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ایک سال گزر چکا ہے، اور اگر مسائل حل نہ ہوئے تو ان کا حل تلاش کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی تک مسائل حل نہیں ہوں گے اور پریس کانفرنسیں کچھ نہیں کر سکتیں۔یہ جلسہ سیاسی طور پر اہمیت کا حامل ہے اور اس کے ذریعے مختلف سیاسی رہنماؤں نے اپنے اپنے موقف کا اظہار کیا، جو کہ پاکستان کی سیاسی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ -

پی سی بی کی بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کو ٹیسٹ ٹیم کی پاکستان میں ٹریننگ کی پیشکش
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کو پیشکش کی ہے کہ ان کی ٹیسٹ ٹیم جلد پاکستان میں ٹریننگ کے لیے آ سکتی ہے۔ یہ پیشکش خاص طور پر بنگلہ دیشی ٹیم کی پاکستان میں ہونے والی ٹیسٹ سیریز کے تیاریوں کے لیے کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق، بنگلہ دیشی بورڈ کو یہ پیشکش راولپنڈی میں ٹریننگ کی سہولت فراہم کرنے کے حوالے سے کی گئی ہے، تاکہ ٹیم ٹیسٹ سیریز سے پہلے اپنی تیاریوں کو بہتر بنا سکے۔ پی سی بی کی طرف سے پیشکش کا مقصد بنگلہ دیشی ٹیم کو بہتر تیاری کے مواقع فراہم کرنا اور سیریز کی تیاری کو یقینی بنانا ہے۔
تاہم، ابھی تک بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے پی سی بی کی پیشکش پر کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا ہے۔ اس دوران، بنگلہ دیش کی موجودہ سیاسی صورتحال کے باعث، بنگلہ دیشی ٹیم کا میرپور میں ٹریننگ سیشن دو دنوں سے معطل رہا ہے، جس سے ٹیم کی تیاریوں پر اثر پڑا ہے۔واضح رہے کہ بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے پاکستان پہنچنے کی تاریخ 17 اگست ہے، اور اس دوران پاکستان میں اپنی ٹریننگ کی پیشکش بنگلہ دیشی ٹیم کے لیے ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے۔ پی سی بی کی پیشکش کی قبولیت کی صورت میں، بنگلہ دیشی ٹیم کو راولپنڈی میں عالمی معیار کی سہولتیں میسر آئیں گی، جو کہ ان کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ -

وفاقی وزیر اویس لغاری کا بجلی کی قیمتوں میں کمی اور آئی پی پیز کی پالیسی پر اہم فیصلوں کا اعلان
وفاقی وزیر پاور ڈویژن اویس لغاری نے کہا ہے کہ حکومت بجلی کی پیداوار اور تقسیم سے متعلقہ معاملات میں اصلاحات کر رہی ہے اور عوام کو جلد ہی اچھے نتائج ملیں گے۔ اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے، اویس لغاری نے اعلان کیا کہ صارفین پر بجلی کے بوجھ کو کم کرنے کے لئے جلد فیصلے کیے جائیں گے اور ان کا مقصد بجلی کی قیمتوں میں کمی لانا ہے۔وزیر پاور نے بتایا کہ انہوں نے ایم کیو ایم کے تحفظات کا بغور جائزہ لیا ہے اور انہیں پاور سیکٹر پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو جلد سستی بجلی فراہم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
اویس لغاری نے 2018 کے بعد روپے کی قدر میں کمی اور شرح سود میں اضافے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسائل کیپیسٹی پیمنٹس کی وجہ سے سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چین اور پاکستان نے مل کر کوئلے کے پلانٹس میں مقامی کوئلے کے استعمال پر اتفاق کیا ہے اور چین نے ڈیٹ پروفائلنگ کے مسائل کو سنجیدگی سے لیا ہے۔وزیر توانائی نے آئی پی پیز کے معاملے پر سنجیدگی سے کام جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا اور کہا کہ پاور سیکٹر میں بنیادی اصلاحات کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کے مسائل یا دیگر مشکلات کی تفصیلات میں نہیں جانا چاہتے، لیکن تمام امور کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اویس لغاری نے کہا کہ بعض افراد، جیسے گوہر اعجاز، جنہوں نے سپریم کورٹ میں بھی اپنی رائے دی ہے، وہ کیپیسٹی پیمنٹس کے مسئلے کو صحیح طرح نہیں سمجھ سکتے۔ انہوں نے سابق وزیراعظم کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کیپیسٹی ریٹ کے مسائل کی تفہیم کا دعویٰ کرنے والے افراد مکمل طور پر صورتحال کو نہیں سمجھتے۔ -

شیخ حسینہ واجد کے بیٹے صجیب واجد نے والدہ کی سیاست کو خیر باد کہنے کی تصدیق کر دی
شیخ حسینہ واجد کے بیٹے صجیب واجد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کی والدہ، جو کہ بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم ہیں، اب کبھی سیاست میں واپس نہیں آئیں گی۔ صجیب واجد نے اس بات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ شیخ حسینہ واجد نے بنگلہ دیش کی تعمیر اور ترقی کے لیے بے پناہ محنت کی ہے، اور ان کی سیاست سے رخصت ہونا ان کے خاندان کے لیے ایک بڑا دھچکہ ہے۔صجیب واجد نے بتایا کہ ان کی والدہ نے بنگلہ دیش کی سیاست کو ترک کرنے کا فیصلہ اہل خانہ کی ضد اور سیکیورٹی خدشات کی بنا پر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری والدہ کی زندگی خطرے میں تھی، اور ہمارے دباؤ کے تحت انہوں نے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
صجیب واجد نے مزید کہا کہ شیخ حسینہ واجد کی حکومت کا یوں چلے جانا ہمارے لیے ایک سنجیدہ دھچکا ہے کیونکہ انہوں نے ملک اور قوم کی خدمت کے لیے دن رات محنت کی۔ ان کی کوششوں کی عالمی سطح پر بھی تعریف کی گئی ہے، اور ان کی معیشت کو مضبوط کرنے کی پالیسیوں کا اعتراف کیا گیا ہے۔صجیب واجد نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ شیخ حسینہ واجد اب سیاست میں واپس نہیں آئیں گی، اور ان کی سیاست سے رخصت ہونے کا فیصلہ آخری ہے۔ ان کے مطابق، یہ فیصلہ ان کی والدہ کی محفوظیت اور خاندان کی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ -

سپریم کورٹ نے ارشد شریف قتل کیس اور دیگر امور پر اجلاس کے منٹس جاری کر دیے
سپریم کورٹ نے یکم اگست کو ہونے والے پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کے اجلاس کے منٹس جاری کر دیے ہیں، جن میں اہم فیصلے اور سفارشات شامل ہیں۔ اجلاس میں صحافی ارشد شریف کے قتل سے متعلق از خود نوٹس کے معاملے پر بھی بات چیت ہوئی۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ارشد شریف کیس کے آئینی تشریح کے نکتہ نظر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کیس کی سماعت تین رکنی بینچ بھی کر سکتا ہے۔ کمیٹی نے جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں ایک تین رکنی بینچ کی تجویز دی، جبکہ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر نے لارجر بینچ کی تشکیل کی تجویز دی تھی۔
اعلامیہ کے مطابق، ماضی میں پانچ رکنی لارجر بینچ اس مقدمے کی سماعت کر چکا ہے، اور موجودہ اجلاس میں سینئر ججز نے جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ کی تشکیل پر زور دیا۔ تاہم، چیف جسٹس نے لارجر بینچ کی تشکیل کی مخالفت کی ہے۔اجلاس میں ایڈہاک ججز کے لیے اضافی کیسز دینے اور شریعت اپیلٹ بینچ کی تشکیل کی بھی منظوری دی گئی۔ جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے چیف جسٹس کو خط بھیجا، جس میں ایڈہاک ججز کی کارکردگی اور کیسز کی تعداد کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی۔ایڈہاک ججز نے روزانہ صرف 10 مقدمات مقرر کیے جانے کی تصدیق کی اور ایک گھنٹے کے اندر ان مقدمات کا فیصلہ کرنے کی صلاحیت کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس نے ایڈہاک ججز کی محنت اور جذبے کو سراہا۔ اجلاس میں 5 اگست سے 6 ستمبر تک کے ڈیوٹی روسٹر کی بھی منظوری دی گئی۔ -

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیر خارجہ او آئی سی اجلاس میں شرکت کریں گے
ترجمان دفتر خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سعودی عرب کے شہر جدہ میں ہونے والے او آئی سی کے ایگزیکٹو کمیٹی کے غیر معمولی اجلاس میں شریک ہوں گے۔ یہ اجلاس ایران اور فلسطین کی درخواست پر بلایا گیا ہے، جس میں اسرائیل کی جانب سے فلسطین پر کیے جانے والے حملوں اور دیگر اہم علاقائی مسائل پر گفتگو کی جائے گی۔اجلاس میں فلسطینی کاز کی حمایت میں پاکستان کے کردار پر زور دیا جائے گا۔ اس موقع پر، وزیر خارجہ اسحاق ڈار غزہ اور مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر پاکستان کے موقف کو اجاگر کریں گے اور فوری امن اور امداد کی فراہمی پر زور دیں گے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ اس اجلاس کے دوران وزیر خارجہ اسحاق ڈار او آئی سی کے رکن ممالک کے اپنے ہم منصبوں سے دو طرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے، تاکہ علاقائی مسائل اور فلسطین کی صورتحال پر مشترکہ اقدامات پر بات چیت کی جا سکے۔ پاکستان نے ہمیشہ او آئی سی اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر فلسطین کی حمایت میں اپنی آواز بلند کی ہے اور اس اجلاس میں بھی اپنے مضبوط موقف کو پیش کرے گا۔
-

ہندوستان نے کشمیر کی خصوصی اہمیت کو ختم کرنے کا جارحانہ اقدام اٹھایا ہے۔ خآلد مقبول صدیقی
کراچی: ایم کیو ایم کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے یوم استحصال کشمیر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کی منتظر ہے اور جب موقع ملا تو اس کے لیے سرگرم ہوگی۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ پانچ اگست 2019ء کو کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کیا گیا تھا، اور ایم کیو ایم ان پانچ سالوں میں ہر پانچ اگست کو اس مسئلے پر ضرور بات کرتی ہے۔ خالد مقبول صدیقی نے زور دیا کہ ایم کیو ایم ہمیشہ مظلوم کی آواز کے ساتھ آواز ملاتی ہے اور کشمیر کے امن اور خطے کی استحکام کی کوشش میں شامل ہے۔خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ کشمیر کے دونوں جانب رہنے والوں کو کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے، اور ہندوستان نے کشمیر کی خصوصی اہمیت کو ختم کرنے کا جارحانہ اقدام اٹھایا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی اکثریت نے کبھی مذہبی جنونیت پسند شخص کو وزیراعظم منتخب نہیں کیا، جبکہ ہندوستان نے تین انتخابات میں ایسے شخص کو وزیراعظم منتخب کیا ہے۔ایم کیو ایم کے چیئرمین نے اقوام متحدہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسماعیل ہانیہ کے قتل کے بعد اقوام متحدہ نے اپنا جواز کھو دیا ہے۔ اگر اقوام متحدہ نے کشمیر کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا تو کشیدگی کی ذمہ داری پاکستان پر عائد نہیں ہوگی، کیونکہ پاکستان اسلامی ممالک کے نام پر بنا تھا۔خالد مقبول صدیقی نے اپنے خطاب کے آخر میں زور دیا کہ ہمیں مذمت سے آگے بڑھ کر سفارتی میدان میں کامیابی حاصل کرنی ہوگی تاکہ کشمیر کے مسئلے کو حل کیا جا سکے۔ -

نیکٹا کا دہشتگرد تنظیموں کے خلاف مشترکہ انٹیلی جنس آپریشنز کا فیصلہ
اسلام آباد: دہشتگرد تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے نیکٹا کی ماہانہ کاؤنٹر ٹیررازم انٹیلی جنس کانفرنس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ کانفرنس میں حالیہ کالعدم قرار دی جانے والی تنظیموں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا فیصلہ کیا گیا۔کانفرنس میں پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر ملک کی داخلی سکیورٹی کی صورتحال اور ممکنہ خطرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ حساس اداروں اور تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے درمیان انٹیلی جنس کا تبادلہ بھی ہوا تاکہ مؤثر کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی جا سکے۔ترجمان نیکٹا نے بتایا کہ تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے مشترکہ کوششوں سے دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو مکمل طور پر محفوظ اور پرامن ملک بنایا جائے گا۔کانفرنس میں طے پایا کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے دہشتگرد تنظیموں کے خلاف مزید مؤثر کارروائیاں کی جائیں گی۔ اس مقصد کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان رابطوں کو مضبوط بنایا جائے گا اور معلومات کے تبادلے کو تیز کیا جائے گا۔ یہ فیصلے ملک کی داخلی سکیورٹی کو بہتر بنانے اور ممکنہ خطرات کا سامنا کرنے کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ نیکٹا اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنی کوششوں کو مزید تیز کریں گے تاکہ پاکستان کو ایک محفوظ اور پرامن ملک بنایا جا سکے۔
-

ایران نے خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کو مسترد کر دیا
تہران: ایرانی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ ایران خطے میں جنگ کی صورت حال کو پھیلانے پر یقین نہیں رکھتا اور نہ ہی عدم استحکام میں اضافہ کرنا چاہتا ہے۔یہ بیان گروپ سیون کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے بڑھتے ہوئے حالات پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ گروپ سیون کا اجلاس اٹلی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
حماس کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کی تہران میں اچانک ہلاکت کے بعد علاقے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا تھا۔ تاہم، ایران نے اپنے حالیہ بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ جنگی ماحول کے پھیلاؤ کا حامی نہیں ہے اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے پرعزم ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے اس بیان سے خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور یہ پیغام دیا گیا ہے کہ ایران تنازعات کے حل کے لیے پرامن طریقوں کا خواہاں ہے۔