Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • بانی پی ٹی  آئی سے ڈیل کا کوئی امکان نہیں، رانا ثنا ء اللہ

    بانی پی ٹی آئی سے ڈیل کا کوئی امکان نہیں، رانا ثنا ء اللہ

    پاکستان کے وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثناء اللّٰہ نے حال ہی میں اہم سیاسی اور معاشی مسائل پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان ہائی کمیشن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کئی اہم نکات پر روشنی ڈالی۔سب سے پہلے، انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی کو کسی قسم کی ڈیل دینے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ تاہم، انہوں نے ملکی مسائل پر سیاسی قیادت کے درمیان مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔بجلی کے بحران کے حوالے سے، رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ حکومت بلوں میں کمی لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے 2017 میں شروع کیے گئے پروجیکٹس کو ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

    کھیلوں کے شعبے میں بہتری کے لیے انہوں نے نظام میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت پر زور دیا، خاص طور پر فیڈریشنز میں طویل عرصے سے قائم قیادت کی تنقید کی۔
    خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے حوالے سے، رانا ثناء اللّٰہ نے ان کے بیانات اور عملی مؤقف میں تضاد کی نشاندہی کی۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا کے درمیان کچھ شعبوں میں تعاون جاری ہے۔یہ بیانات موجودہ سیاسی صورتحال، بجلی کے بحران، کھیلوں کی صورتحال اور وفاق-صوبہ تعلقات کے بارے میں حکومتی مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں۔

  • جولائی میں ایس ای سی پی میں 2,864 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، کل تعداد 2 لاکھ 25 ہزار 561 تک پہنچ گئی

    جولائی میں ایس ای سی پی میں 2,864 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، کل تعداد 2 لاکھ 25 ہزار 561 تک پہنچ گئی

    اسلام آباد: سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے جولائی کے مہینے میں 2,864 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ کیں، جس کے بعد ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی کل تعداد 2 لاکھ 25 ہزار 561 ہو گئی ہے۔ایس ای سی پی کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق، جولائی میں رجسٹرڈ ہونے والی کمپنیوں میں سے 58 فیصد کمپنیاں پرائیویٹ لمیٹڈ، 39 فیصد سنگل ممبر، جبکہ 3 فیصد پبلک نان لسٹڈ، غیر منافع بخش ادارے، اور تجارتی تنظیمیں شامل ہیں۔رجسٹریشن کے حوالے سے مختلف شعبوں میں سرگرمیاں دیکھی گئیں۔ سب سے زیادہ رجسٹریشن انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہوئی، جہاں 471 کمپنیاں رجسٹرڈ کی گئیں۔ تجارت کے شعبے میں 364 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ خدمات کے شعبے میں 362 نئی کمپنیاں شامل ہوئیں۔
    دیگر اہم شعبوں میں بھی قابل ذکر تعداد میں کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں۔ رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اور کنسٹرکشن کے شعبے میں 284 کمپنیاں، سیاحت کے شعبے میں 164 کمپنیاں، فوڈ سیکٹر میں 139 کمپنیاں، ای کامرس کے شعبے میں 120 کمپنیاں، تعلیم کے شعبے میں 111 کمپنیاں، ٹیکسٹائل کے شعبے میں 65 کمپنیاں، مارکیٹنگ میں 64 کمپنیاں، کارپوریٹ ایگریکلچر میں 63 کمپنیاں، کیمیکل کے شعبے میں 53 کمپنیاں، اور ہیلتھ کے شعبے میں 51 کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں۔
    ایس ای سی پی کے مطابق، جولائی میں 86 نئی کمپنیوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری بھی کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں کاروباری مواقعوں کی طرف عالمی دلچسپی میں اضافہ ہو رہا ہے۔یہ اعدادوشمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان میں کاروباری ماحول میں بہتری آ رہی ہے اور مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع بڑھ رہے ہیں۔ ایس ای سی پی کی جانب سے کی جانے والی اصلاحات اور سہولیات نے کاروباری اداروں کو اپنے آپریشنز کو رسمی طور پر رجسٹر کرنے کی ترغیب دی ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔

  • صدر مملکت آصف علی زرداری اور گورنر پنجاب سردار سلیم  کی ملاقات: پنجاب کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال

    صدر مملکت آصف علی زرداری اور گورنر پنجاب سردار سلیم کی ملاقات: پنجاب کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال

    اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری سے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے ملاقات کی، جس میں پنجاب کی مجموعی صورتحال اور سیاسی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران صدر مملکت نے حالیہ بارشوں کے نتیجے میں پنجاب میں ہونے والے جانی و مالی نقصان پر گہرے افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بارشوں کی وجہ سے جن لوگوں نے اپنے پیاروں کو کھویا ہے یا جن کی املاک کو نقصان پہنچا ہے، ان کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔صدر زرداری نے کہا کہ حکومت پنجاب کی عوام کی مدد کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے اور متاثرین کی بحالی کے لئے فوری امدادی کاموں کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت بھی اس معاملے میں صوبائی حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گی۔

    گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے صدر مملکت کو یقین دلایا کہ پنجاب حکومت متاثرین کی بحالی کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے اور عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے۔اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے پنجاب کی مجموعی سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا اور عوام کے مسائل کے حل کے لئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کے مسائل حل کرنے کے لئے پوری طرح پرعزم ہے اور اس سلسلے میں تمام ادارے مل کر کام کریں گے۔صدر مملکت نے کہا کہ صوبے کی ترقی اور خوشحالی کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مضبوط تعاون ضروری ہے اور اس سلسلے میں ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے۔

  • کشمیری مجاہد قوم ہونے کے ساتھ ساتھ مظلوم قوم بھی ہیں، مولانا فضل الر حمن

    کشمیری مجاہد قوم ہونے کے ساتھ ساتھ مظلوم قوم بھی ہیں، مولانا فضل الر حمن

    جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کشمیر اور فلسطین کی آزادی کی تحریکوں کے حق میں زوردار خطاب کیا ہے۔ ایک بڑے جلسے میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر کی تحریک میں فتح و کامرانی مجاہدوں کے قدم چومے گی۔مولانا نے کشمیریوں کی جدوجہد کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ آزادی کی تحریکیں فوری نتائج نہیں دیتیں۔ انہوں نے زور دیا کہ "اگر تحریک میں شامل قومیں استقامت اور بلند عزم رکھتی ہیں تو تحریک سمندر کی لہروں کی طرح ساحل پر جا کر رکتی ہیں۔”برصغیر کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے مولانا نے کہا کہ یہاں آزادی کی جنگ دو سو سال سے زیادہ لڑی گئی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حالات اور جغرافیے بدلنے کے باوجود، آزادی کا نظریہ نسل در نسل آگے بڑھتا رہتا ہے۔
    مولانا نے بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے فیصلے کی شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ "یہاں پاکستان کے اس وقت کے حکمرانوں نے خاموشی اختیار کی، لیکن پاکستان کے عوام، جوان اور قوم کشمیریوں کے ساتھ ہیں اور انہیں اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔”اپنے خطاب میں مولانا نے فلسطین کے مسئلے کو بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ "فلسطینیوں کی زمین کو نہیں خریدا جاسکتا۔” انہوں نے 1917 کے انگریزی معاہدے کی مذمت کی جس کے تحت یہودیوں کو فلسطین میں بستیاں بنانے کی اجازت دی گئی تھی۔
    مولانا نے یاد دلایا کہ 1940 میں لاہور میں منظور ہونے والی قرارداد پاکستان میں بھی فلسطین کی سرزمین پر یہودی آبادکاری کو ناجائز قرار دیا گیا تھا۔اس خطاب نے جے یو آئی کے کشمیر اور فلسطین کے مسائل پر موقف کو ایک بار پھر واضح کیا ہے۔ مولانا کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ان علاقوں کی آزادی کی تحریکوں کو طویل المدتی جدوجہد سمجھتے ہیں اور ان کی حمایت جاری رکھنے کا عزم رکھتے ہیں۔یہ خطاب پاکستان کی سیاست میں کشمیر اور فلسطین کے مسائل کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے، خاص طور پر مذہبی جماعتوں کے نزدیک۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ پاکستان کی حکومت ان مسائل پر کیا پالیسی اختیار کرتی ہے۔

  • 9 مئی کے واقعات ناقابل فراموش ہے ، بغاوت کے خلاف سخت موقف اختیار کرنا ہو گا،خواجہ آصف

    9 مئی کے واقعات ناقابل فراموش ہے ، بغاوت کے خلاف سخت موقف اختیار کرنا ہو گا،خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے 9 مئی کے واقعات کو ناقابل فراموش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس دن ایک گروہ نے منظم سازش کے تحت بغاوت برپا کرنے کی کوشش کی جو ناکام ہوگئی۔ انہوں نے مقامی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وضاحت کی کہ یہ بغاوت افواج پاکستان کے اتحاد کے خلاف تھی اور اسے ایک شخص نے انجام دیا جو اپنا اقتدار کھو چکا تھا۔خواجہ آصف نے مزید کہا کہ جب تک 9 مئی کے واقعات کا مناسب حل نہیں نکلتا، مذاکرات ممکن نہیں ہیں۔ انہوں نے عدالتی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 9 مئی کے کیسز کے فیصلے جس طرح ہونے چاہیے تھے، ویسے نہیں ہو رہے اور ملوث افراد کو آج بھی قانونی تحفظ مل رہا ہے۔

    انہوں نے پیپلز پارٹی کے رہنما نیر بخاری کے بیان کو ان کی ذاتی رائے قرار دیا اور کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کی جانب سے ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی ہے۔ خواجہ آصف نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی کی لیڈرشپ ہر مسئلے پر حکومت کے ساتھ ہے۔وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کہیں نہیں جا رہی اور میڈیا پر ہونے والا پروپیگنڈا جھوٹا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں نئے انتخابات کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور اگر کبھی قبل از وقت انتخابات کی ضرورت پیش آئی تو اس کا فیصلہ حکومت کرے گی۔خواجہ آصف نے اپنی گفتگو کے اختتام پر کہا کہ اللّٰہ کے فضل سے موجودہ حالات میں حکومت مستحکم ہے اور عوام کے مسائل کے حل کے لئے کوشاں ہے۔

  • پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کا مشترکہ اجلاس: اہم فیصلے  کئے گئے

    پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کا مشترکہ اجلاس: اہم فیصلے کئے گئے

    اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور سنی اتحاد کونسل کی پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی ایک سالہ قید کی مذمت کرتے ہوئے پارٹی کے اسیران کے اہلخانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔اجلاس کے دوران ارکان نے فیصلہ کیا کہ پارلیمنٹ میں ایک قرارداد پیش کی جائے گی جس میں ارکان پارلیمنٹ کو دی جانے والی دھمکیوں کی مذمت کی جائے گی۔ اس موقع پر ارکان نے اس بات پر زور دیا کہ بانی چیئرمین اور دیگر رہنماؤں پر درج مقدمات کے ٹھوس ثبوت نہیں ہیں اور کارکنان کی قید ناحق پاکستان میں انصاف کے ساتھ کھلی زیادتی ہے۔

    پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں پی ٹی آئی کارکنان اور ارکان پارلیمنٹ کی جبری گمشدگیوں کی بھی شدید مذمت کی گئی۔ اجلاس میں شریک اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں انصاف اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ضروری ہے اور سیاسی کارکنان کے حقوق کی حفاظت کے لئے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔اس موقع پر سنی اتحاد کونسل کے نمائندوں نے بھی اپنی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر ہر ممکن اقدامات کریں گے تاکہ انصاف اور حقوق کی بحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • لاہور میں جماعت اسلامی کا دھرنا: تیاریاں عروج پر

    لاہور میں جماعت اسلامی کا دھرنا: تیاریاں عروج پر

    امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کے اعلان کے مطابق لاہور میں دھرنے کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ امیر لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے امیر غربی عبدالعزیز عابد کے ہمراہ زون 165 کا دورہ کیا اور دھرنے کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔زون 165 کے اجلاس میں امیر زون رانا اصغر علی، سیکرٹری شاہد ملک، نائب امیر غربی سید راشد داؤد اور دیگر کارکنان نے شرکت کی۔ اس موقع پر عبدالعزیز عابد نے کہا کہ اسلام آباد دھرنے میں زون 165 کی بڑی تعداد شریک ہو چکی ہے، اور اب بھی حافظ نعیم الرحمان کی کال پر ہم دھرنے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی کا دھرنا مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا اور حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ فارم 47 کے حوالے سے جماعت اسلامی کی جدوجہد عوام کو ریلیف دلانے کے لیے ہے اور اس مقصد کے حصول تک دھرنا ختم نہیں ہوگا۔اجلاس میں ضیاء الدین انصاری نے دھرنے کے لیے کارکنان کی حوصلہ افزائی کی اور تیار رہنے کی ہدایت دی۔ جماعت اسلامی کے کارکنان حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں اور دھرنے کی کامیابی کے لیے مکمل تیاریاں کر رہے ہیں۔

  • سعودی عرب کا انقلابی قدم: حج انتظامات میں مصنوعی ذہانت کی شمولیت

    سعودی عرب کا انقلابی قدم: حج انتظامات میں مصنوعی ذہانت کی شمولیت

    ریاض: سعودی عرب نے حج کے دوران حفاظتی انتظامات کو مزید بہتر بنانے اور غیر رجسٹرڈ حاجیوں کا پتہ لگانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ اس میں مصنوعی ذہانت سے لیس کیمروں کا استعمال بھی شامل ہے۔سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، وزارت داخلہ کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹ نے کوٹ ڈی آئیور کے عابد جان ہوائی اڈے سے آنے والے عازمین حج کے لیے حج کے طریقہ کار کو تیز اور آسان بنانے کے لیے اس ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کیا ہے۔

    یہ اقدام اس وقت اٹھایا گیا ہے جب حالیہ حج سیزن کے دوران مکہ مکرمہ اور دیگر مقدس مقامات پر شدید گرمی کی وجہ سے سینکڑوں عازمین حج کی اموات ہوئیں۔ اس صورتحال نے سعودی حکام کو حج کے انتظامات پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کیا۔نئے نظام کی اہم خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ اسمارٹ کیمرے جدید الگورتھم سے لیس ہیں۔ یہ کیمرے حقیقی وقت میں ویڈیو فیڈز کا تجزیہ کر کے ایسے افراد کی شناخت کر سکیں گے جنہوں نے حج کے لیے باضابطہ رجسٹریشن نہیں کروائی ہے۔

    اس ٹیکنالوجی کا مقصد غیر قانونی زائرین کا پتہ لگانا اور خطرناک حد تک ہجوم کو روکنا ہے۔ یہ نظام حکام کو بہتر انتظامات کرنے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے میں مدد فراہم کرے گا۔سعودی وزارت حج و عمرہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ "ہمارا مقصد ہر حاجی کو محفوظ اور پرسکون ماحول فراہم کرنا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی ہمیں اس مقصد کے حصول میں مدد دے گی۔”تاہم، اس نظام کے استعمال پر کچھ تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ پرائیویسی کے حامی گروپوں کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ذاتی آزادی کو محدود کر سکتی ہے۔ سعودی حکام نے اس تشویش کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نظام صرف حفاظتی مقاصد کے لیے استعمال ہوگا۔

    مسلم دنیا کے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اقدام حج کے انتظامات میں ایک نیا باب ثابت ہو سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ نظام کامیاب رہا تو دوسرے مسلم ممالک بھی اپنے مذہبی تہواروں کے دوران اسی طرح کی ٹیکنالوجی استعمال کر سکتے ہیں۔سعودی عرب کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ ملک اپنے مذہبی سیاحتی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ ویژن 2030 کے تحت سیاحت کے فروغ کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ یہ نیا نظام کتنا مؤثر ثابت ہوتا ہے اور کیا یہ واقعی حج کے دوران حفاظتی خدشات کو کم کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔

  • تمام مدارس رجسٹرڈ ہیں، دہشت گردی کی کوئی سرگرمی نہیں ہوتی، علامہ طاہر اشرفی

    تمام مدارس رجسٹرڈ ہیں، دہشت گردی کی کوئی سرگرمی نہیں ہوتی، علامہ طاہر اشرفی

    پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ ملک میں تمام مدارس رجسٹرڈ ہیں اور ان میں دہشت گردی کی کوئی سرگرمی نہیں ہوتی۔استحکام پاکستان علماء مشائخ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ ہم یہودیوں کی بنائی ہوئی چیزیں چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں، آج یہودیوں نے ہماری معیشت کو جکڑ رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مدرسہ دہشت گردی میں ملوث ہے تو ہمیں اطلاع دیں، ہم خود اسے بند کریں گے۔ کل ملک بھر میں یوم استحصال کشمیر منایا جائے گا۔ آج جو فلسطینیوں کے ساتھ ہو رہا ہے، وہی کشمیریوں کے ساتھ بھی ہو رہا ہے۔

    علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں یوم استحصال کشمیر منایا جائے گا۔ کوئی جبری گمشدگی نہیں ہوئی اور عدالتیں ابھی تک 9 مئی کے مجرموں کو سزا نہیں دے سکیں۔ میں چاہتا ہوں کہ تمام سیاسی جماعتیں مل کر بات چیت کریں۔چیئرمین علماء کونسل نے کہا کہ اگر فوج سیاست میں نہیں آنا چاہتی تو ہم اسے زبردستی کیوں گھسیٹ رہے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ محمود خان اچکزئی ہی سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کریں گے۔ اگر ایران اسرائیل پر حملہ کرتا ہے تو پاکستان او آئی سی کے ساتھ کھڑا ہے اور او آئی سی کے فیصلوں کی حمایت کرے گا۔

    انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر ہماری قانونی اور دینی جماعتوں کی مشاورت جاری ہے اور سب کی متفقہ رائے سے جو بھی فیصلہ ہوگا، اس پر عمل ہوگا۔ پاکستان کے کسی مدرسے میں کوئی منفی سرگرمی نہیں ہو رہی، اور اگر ہوئی تو ہم خود اس کے خلاف کارروائی کریں گے۔علامہ طاہر اشرفی نے مزید کہا کہ 14 اگست کو تمام مدارس پر قومی پرچم لہرائے جائیں گے۔ جنہیں ہم نے 40 سال تک پالا ہے، وہ اب ہمیں آنکھیں دکھا رہے ہیں۔ تمام پاکستانی اپنے پرچم کی حفاظت اور اس کی عزت کرنا جانتے ہیں۔

  • برطانیہ میں نسل پرستی کی لہر: اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ

    برطانیہ میں نسل پرستی کی لہر: اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ

    لندن: برطانیہ میں حالیہ دنوں میں نسل پرستی کی ایک نئی لہر دیکھنے میں آئی ہے، جس میں سفید فام انتہا پسند گروہوں کی جانب سے ایشیائی اور افریقی نژاد شہریوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ واقعات برطانوی معاشرے میں موجود نسلی تناؤ اور عدم برداشت کو ظاہر کرتے ہیں .برطانوی پولیس نے اس صورتحال کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ حکام کے مطابق، اب تک 250 سے زائد مشتبہ حملہ آوروں کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ 500 سے زائد افراد کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا اشارہ ہیں کہ یہ حملے منظم اور وسیع پیمانے پر ہو رہے ہیں۔ان حملوں کے پیچھے انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کا ہاتھ بتایا جا رہا ہے۔ یہ گروہ اکثر سفید فام برتری کے نظریات کی حمایت کرتے ہیں اور اقلیتوں کو اپنے ملک کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ ان کی سرگرمیوں نے خاص طور پر برطانوی مسلمانوں میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔

    متاثرہ کمیونٹیز:
    ایشیائی اور سیاہ فام برطانوی شہری ان حملوں کا خاص نشانہ بن رہے ہیں۔ کئی افراد نے اپنی روزمرہ کی زندگی میں خوف محسوس کرنا شروع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں وہ اپنے گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کر رہے ہیں۔ مساجد اور کمیونٹی سنٹرز جیسی جگہوں پر سیکیورٹی میں اضافہ کیا گیا ہے۔برطانوی حکومت نے ان واقعات کی شدید مذمت کی ہے اور وعدہ کیا ہے کہ نسل پرستی اور نفرت پر مبنی جرائم کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ ملک میں ہر شہری کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔مختلف نسلی و مذہبی کمیونٹیز کے رہنما امن و امان کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں۔ وہ پرامن مظاہرے اور آگاہی مہمات چلا رہے ہیں تاکہ معاشرے میں ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔
    ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ان حملوں کو فوری طور پر روکا نہ گیا تو یہ برطانوی معاشرے میں مزید تقسیم کا باعث بن سکتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نسلی مساوات اور سماجی انضمام کے لیے طویل مدتی حکمت عملی وضع کی جائے۔اس صورتحال نے برطانیہ کے بین الاقوامی امیج کو بھی متاثر کیا ہے، جو روایتی طور پر ایک کثیر الثقافتی اور برداشت کے حامل معاشرے کے طور پر جانا جاتا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ برطانوی حکومت اور معاشرہ اس چیلنج سے کیسے نمٹتا ہے۔