Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • برطانیہ میں نسل پرستی کی لہر: اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ

    برطانیہ میں نسل پرستی کی لہر: اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ

    لندن: برطانیہ میں حالیہ دنوں میں نسل پرستی کی ایک نئی لہر دیکھنے میں آئی ہے، جس میں سفید فام انتہا پسند گروہوں کی جانب سے ایشیائی اور افریقی نژاد شہریوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ واقعات برطانوی معاشرے میں موجود نسلی تناؤ اور عدم برداشت کو ظاہر کرتے ہیں .برطانوی پولیس نے اس صورتحال کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ حکام کے مطابق، اب تک 250 سے زائد مشتبہ حملہ آوروں کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ 500 سے زائد افراد کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا اشارہ ہیں کہ یہ حملے منظم اور وسیع پیمانے پر ہو رہے ہیں۔ان حملوں کے پیچھے انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کا ہاتھ بتایا جا رہا ہے۔ یہ گروہ اکثر سفید فام برتری کے نظریات کی حمایت کرتے ہیں اور اقلیتوں کو اپنے ملک کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ ان کی سرگرمیوں نے خاص طور پر برطانوی مسلمانوں میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔

    متاثرہ کمیونٹیز:
    ایشیائی اور سیاہ فام برطانوی شہری ان حملوں کا خاص نشانہ بن رہے ہیں۔ کئی افراد نے اپنی روزمرہ کی زندگی میں خوف محسوس کرنا شروع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں وہ اپنے گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کر رہے ہیں۔ مساجد اور کمیونٹی سنٹرز جیسی جگہوں پر سیکیورٹی میں اضافہ کیا گیا ہے۔برطانوی حکومت نے ان واقعات کی شدید مذمت کی ہے اور وعدہ کیا ہے کہ نسل پرستی اور نفرت پر مبنی جرائم کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ ملک میں ہر شہری کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔مختلف نسلی و مذہبی کمیونٹیز کے رہنما امن و امان کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں۔ وہ پرامن مظاہرے اور آگاہی مہمات چلا رہے ہیں تاکہ معاشرے میں ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔
    ماہرین کا خیال ہے کہ اگر ان حملوں کو فوری طور پر روکا نہ گیا تو یہ برطانوی معاشرے میں مزید تقسیم کا باعث بن سکتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نسلی مساوات اور سماجی انضمام کے لیے طویل مدتی حکمت عملی وضع کی جائے۔اس صورتحال نے برطانیہ کے بین الاقوامی امیج کو بھی متاثر کیا ہے، جو روایتی طور پر ایک کثیر الثقافتی اور برداشت کے حامل معاشرے کے طور پر جانا جاتا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ برطانوی حکومت اور معاشرہ اس چیلنج سے کیسے نمٹتا ہے۔

  • راول ڈیم میں مچھلیوں کی اموات: سی ڈی اے نے نوٹس لے لیا

    راول ڈیم میں مچھلیوں کی اموات: سی ڈی اے نے نوٹس لے لیا

    راول ڈیم میں مچھلیوں کی بڑھتی ہوئی اموات کے معاملے پر سی ڈی اے نے سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے فوری کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ چیئرمین سی ڈی اے اور چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا نے اس سلسلے میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے۔ممبر انوائرمنٹ طلعت گوندل کی سربراہی میں قائم کی گئی اس ٹیم نے انوائرنمنٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ کے افسران کے ہمراہ راول ڈیم کا دورہ کیا۔ ٹیم نے مچھلیوں کی اموات کے اصل حقائق جاننے کے لیے نمونے اکٹھے کیے ہیں، جو مزید تجزیے کے لیے متعلقہ محکموں کو بھیجے گئے ہیں۔
    ابتدائی مشاہدے کے مطابق، مچھلیوں کی اموات جولائی کے آخری ہفتے میں ہوئیں۔ تاہم، حکام نے مردہ مچھلیوں کو ڈیم سے نکال لیا ہے اور صورتحال میں بتدریج بہتری آ رہی ہے۔سی ڈی اے نے اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تنصیب کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔ اس کا مقصد پانی کو آلودگی سے بچانا اور مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنا ہے۔ڈیم پر تعینات واچ اینڈ وارڈ سٹاف مچھلیوں کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور باقاعدگی سے رپورٹس جمع کر رہا ہے۔حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ متعلقہ محکموں سے دو دن کے اندر تفصیلی رپورٹ موصول ہو جائے گی، جس کے بعد آگے کی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ یہ واقعہ ماحولیاتی تحفظ اور پانی کے وسائل کے انتظام کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، جس پر حکومت خصوصی توجہ دے رہی ہے۔

  • 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات کے خلاف کل یوم استحصال منایا جائے گا، امیر مقام

    5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات کے خلاف کل یوم استحصال منایا جائے گا، امیر مقام

    مسلم لیگ ن کے رہنما اور وفاقی وزیر امیر مقام نے اعلان کیا ہے کہ 5 اگست 2019ء کے بھارتی اقدامات کیخلاف کل یوم استحصال منایا جائے گا۔ اس موقع پر انہوں نے بھارتی حکومت کے اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کرکے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کی، جو کہ ایک غیر قانونی عمل ہے۔امیر مقام نے کہا کہ بھارت نے 5 اگست 2019ء کو مقبوضہ جموں و کشمیر پر اپنے غیر قانونی قبضے کو مضبوط بنانے کی کوشش کی تھی۔ اس اقدام کو آج 5 سال مکمل ہوگئے ہیں، اور یہ دن جموں و کشمیر کی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس دوران بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و جبر کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اڑھائی ہزار سے زائد کشمیری زخمی ہو چکے ہیں اور 24 ہزار کشمیریوں کو جیلوں میں ڈالا جا چکا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت نے حریت کے دفاتر کو بند کر دیا اور 2022ء میں پریس کلب کو بھی بند کرادیا گیا۔ یہ مظالم نہ دبنے والے ہیں اور نہ تھمنے والے، اور بھارت نے جمہوریت کے نام پر ان ظالمانہ اقدامات کو جاری رکھا ہوا ہے۔امیر مقام نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں اپنی جگہ قائم و دائم ہیں اور ہم آخری دم تک کشمیریوں کی حمایت کرتے رہیں گے۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے اپیل کی کہ وہ قراردادوں پر عملدرآمد کرائیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فلسطین اور کشمیر دونوں میں ظلم و جبر جاری ہے اور اس کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

    وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا کہ ہم مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی قبضے کو مسترد کرتے ہیں اور عالمی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کشمیری عوام کی حق خود ارادیت کی حمایت کریں۔اس اعلان کے ساتھ، مسلم لیگ ن اور دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے 5 اگست کو یوم استحصال کے طور پر منانے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ اس دن مختلف تقریبات، سیمینارز اور مظاہرے منعقد کئے جائیں گے تاکہ عالمی برادری کو بھارتی ظلم و ستم سے آگاہ کیا جا سکے اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت میں آواز بلند کی جا سکے۔

  • امریکا میں صدارتی انتخابات:   ٹرمپ نے ایک بار پھر کملا ہیرس کے ساتھ مباحثے میں شرکت سے انکار کر دیا

    امریکا میں صدارتی انتخابات: ٹرمپ نے ایک بار پھر کملا ہیرس کے ساتھ مباحثے میں شرکت سے انکار کر دیا

    امریکا میں صدارتی انتخابات کی مہم کے دوران سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر نائب صدر کملا ہیرس کے ساتھ مباحثے سے راہ فرار اختیار کر لی ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کملا ہیرس کے بائیڈن کی جگہ لینے سے اے بی سی پر مباحثہ تمام ہو گیا ہے اور مزید کسی بھی مباحثہ کی ضرورت نہیں رہی۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ کملا ہیرس کے موجودہ پوزیشن کے تحت مباحثے کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی اور اس وجہ سے وہ اس میں حصہ لینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ ٹرمپ نے اے بی سی نیوز کے خلاف ہتک عزت کے مقدمے کو جواز بنانے کی کوشش کی اور کہا کہ اس کی وجہ سے وہ مباحثے میں شامل نہیں ہو سکتے۔
    خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن کے درمیان ستمبر میں اے بی سی نیوز پر مباحثہ ہونا تھا۔ تاہم، ٹرمپ کی جانب سے مباحثے سے انکار اور ہتک عزت کے مقدمے کو جواز بنانے کی کوشش نے اس مباحثے کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔دوسری جانب، کملا ہیرس نے ٹرمپ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "ڈونلڈ ٹرمپ، اُمید ہے کہ تم نظر ثانی کرو گے اور مباحثے کے سٹیج پر مجھ سے ملو گے۔ اگر کہنے کیلئے کچھ ہے تو تم ضرور آؤ گے۔ تم نے خوفزدہ ہو کر مباحثے سے دوڑ لگائی ہے۔” کملا ہیرس نے مزید کہا کہ عوام کے سامنے اپنی پالیسیوں اور نظریات کا دفاع کرنے سے راہ فرار اختیار کرنا عوام کی خدمت نہیں بلکہ ان کے ساتھ دھوکہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ٹرمپ کے پاس کہنے کے لئے کچھ ہے تو انہیں سامنے آ کر بات کرنی چاہیے۔صدارتی انتخابات کے قریب آتے ہی یہ معاملہ سیاسی منظرنامے پر ایک اہم موضوع بن گیا ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ کیا ٹرمپ اپنے فیصلے پر قائم رہتے ہیں یا کملا ہیرس کے چیلنج کا سامنا کرتے ہیں۔ عوام اور سیاسی تجزیہ کار دونوں ہی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور آئندہ چند دنوں میں اس حوالے سے مزید پیش رفت کا انتظار کر رہے ہیں۔

  • صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا دہشت گردی کے خلاف پولیس فورس کے کردار پر خراج تحسین

    صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا دہشت گردی کے خلاف پولیس فورس کے کردار پر خراج تحسین

    صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے دہشت گردی کے خلاف کامیابی میں پولیس فورس کے نمایاں کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ قوم کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پولیس اہلکاروں کی بے مثال جرأت اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس کے شہداء نے گراں قدر خدمات انجام دیں اور ان کی قربانیوں کی بدولت قوم کو امن و سکون ملا ہے۔صدرِ مملکت نے کہا کہ پوری قوم کو اپنے بہادر شہداء پر فخر ہے، پولیس نے دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑتے ہوئے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کے جوان ملک کے مختلف حصوں میں سماج دشمن عناصر اور دہشت گردوں کے خلاف لڑتے ہوئے جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں اور ان کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جائیں گی۔
    آصف علی زرداری نے کہا کہ میں پوری قوم کی جانب سے پولیس شہداء کو خدمات اور قربانیوں پر سلام پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قوم کے امن و استحکام کے لیے پولیس اہلکاروں کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں اعلیٰ ترین اعزازات سے نوازا جائے گا۔صدرِ مملکت نے پولیس فورس کو یقین دلایا کہ حکومت اور قوم ان کی قربانیوں کو کبھی نہیں بھولے گی اور ان کے اہلخانہ کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس فورس کی جرأت اور بہادری کی داستانیں آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہوں گی۔پولیس فورس کے شہداء کی یاد میں یہ پیغام ایک اہم یاد دہانی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قوم کی حفاظت کے لیے جانیں قربان کرنے والے اہلکاروں کی خدمات اور قربانیوں کا اعتراف کیا جائے اور انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے۔

  • پی سی بی کی ڈسپلنری کمیٹی کی تشکیل کے حوالے سے خبروں کی تردید

    پی سی بی کی ڈسپلنری کمیٹی کی تشکیل کے حوالے سے خبروں کی تردید

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ڈسپلنری کمیٹی کی تشکیل کے حوالے سے نشر ہونے والی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے۔ پی سی بی کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ نہ تو کوئی ڈسپلنری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور نہ ہی کسی کرکٹر کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔پی سی بی نے کہا ہے کہ کمیٹی کی تشکیل اور رپورٹ بنانے کے حوالے سے جو خبریں گردش کر رہی ہیں، وہ بے بنیاد اور حقائق سے منافی ہیں۔ مزید یہ کہ کھلاڑیوں پر پابندی لگانے اور جرمانہ عائد کرنے کے سلسلے میں جو خبریں چل رہی ہیں، وہ بھی من گھڑت ہیں۔پی سی بی نے میڈیا سے درخواست کی ہے کہ وہ ایسی بے بنیاد خبروں پر یقین نہ کریں اور صحیح اور مستند معلومات کے لیے صرف پی سی بی کے سرکاری ذرائع پر انحصار کریں۔

  • پاکستان کرکٹ بورڈ کا تاریخی اقدام: تعلیمی اداروں میں کرکٹ کے فروغ کے لیے وسیع پیمانے پر منصوبہ

    پاکستان کرکٹ بورڈ کا تاریخی اقدام: تعلیمی اداروں میں کرکٹ کے فروغ کے لیے وسیع پیمانے پر منصوبہ

    اسلام آباد: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ملک بھر میں کرکٹ کے فروغ اور نئے ٹیلنٹ کی نشاندہی کے لیے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی کی ہدایت پر، پاکستان بھر کے تعلیمی اداروں میں کرکٹ کو فروغ دینے اور انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اس مقصد کے لیے، پی سی بی نے انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن (آئی بی سی سی)، ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے ساتھ مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔ یہ تقریب سی ڈی اے ہیڈکوارٹر میں منعقد ہوئی، جس میں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی اور وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی خصوصی مہمان تھے۔اس معاہدے کے تحت، ملک بھر کے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے کرکٹ ٹورنامنٹس اور لیگز کا انعقاد کیا جائے گا۔ یہ مقابلے ضلعی سطح سے شروع ہو کر قومی سطح تک جائیں گے۔

    محسن نقوی نے کہا کہ یہ پہلی بار ہے کہ کرکٹ کے نچلی سطح پر فروغ کے لیے اتنی سنجیدہ کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس سے گراس روٹ لیول پر کرکٹ مضبوط ہوگی اور نئے ٹیلنٹ کو سامنے آنے کا موقع ملے گا۔وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی نے اس اقدام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سکول ہر ٹیلنٹ کی نرسریاں ہیں اور اچھے کھلاڑی سکولوں سے ہی اوپر آتے ہیں۔اس منصوبے کے تحت، پی سی بی کھلاڑیوں کی تربیت، کوچنگ کورسز، اور ہائی پرفارمنس سنٹرز میں تربیت کا انتظام کرے گا۔ ساتھ ہی، بہترین کھلاڑیوں کو سکالرشپس اور قومی انڈر 17 اور انڈر 19 ٹیموں میں شرکت کا موقع دیا جائے گا۔یہ اقدام پاکستان میں کرکٹ کے مستقبل کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے، جو نئی نسل کو اعلیٰ معیار کی کرکٹ کھیلنے کا موقع فراہم کرے گا۔

  • شاہراہِ کاغان کی جزوی بحالی: چھوٹی گاڑیاں گزر سکتی ہے

    شاہراہِ کاغان، جو چھ دن کی بندش کے بعد دوبارہ کھول دی گئی ہے، مہانڈری کے مقام پر پُل ٹوٹنے کی وجہ سے بند ہوگئی تھی۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے حکام کے مطابق، شاہراہ کی عارضی بحالی کے بعد وہاں سے پیدل گزرنے والوں کا رش لگ گیا ہے۔فی الحال، شاہراہ پر صرف چھوٹی گاڑیاں گزر سکیں گی، جبکہ بڑے پُل کی مکمل بحالی کے لیے کام جاری ہے۔ حکام نے اعلان کیا ہے کہ تین دن کے اندر اسٹیل پُل لگا کر شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا۔عوام اس اقدام پر خوش ہیں کیونکہ انہیں آمد و رفت میں غیر معمولی مشکلات کا سامنا تھا۔ شاہراہ کی جزوی بحالی کے نتیجے میں، منور نالے میں پانی کے پائپ لگاکر ٹریفک بحال کی گئی ہے، اور پُل کی مکمل بحالی کے سلسلے میں دن رات کام کیا جارہا ہے۔حکام نے یقین دلایا ہے کہ جلد ہی پُل مکمل طور پر بحال کر دیا جائے گا تاکہ عوام کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

  • وزیراعظم کی زیرصدارت یوم استحصال کشمیر کی تیاریوں پر خصوصی اجلاس: مظلوم کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا عزم

    وزیراعظم کی زیرصدارت یوم استحصال کشمیر کی تیاریوں پر خصوصی اجلاس: مظلوم کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا عزم

    وزیراعظم شہباز شریف نے آج ایک اہم اجلاس کی صدارت کی جس میں آنے والے 5 اگست کو منائے جانے والے یوم استحصال کشمیر کی تیاریوں پر غور کیا گیا۔ یہ دن بھارت کی جانب سے 2019 میں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو غیر قانونی طور پر ختم کرنے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔اجلاس میں وفاقی وزراء، مشیران اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔ وزیراعظم کو یوم استحصال کے حوالے سے ہونے والی تیاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر وزیراعظم نے کہا، "5 اگست 2019 کو بھارت نے جو یک طرفہ اور غیر قانونی اقدامات کیے، ہم ان کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کشمیری عوام آج بھی اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔”اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس سال یوم استحصال پر ملک بھر میں خصوصی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ وفاق، چاروں صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں ہونے والی ان تقریبات میں کشمیریوں کی جدوجہد آزادی، ان کی قربانیوں اور بھارتی مظالم کو اجاگر کیا جائے گا۔

    خاص طور پر، پاکستانی اور کشمیری قیادت کی مشترکہ مرکزی تقریب کے انعقاد کی بھی منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ، ایک خصوصی واک کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا کہ وہ 5 اگست کو کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے مظفرآباد کا دورہ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس موقع پر ایک اہم پالیسی بیان بھی دیں گے۔حکومتی ذرائع کے مطابق، اس دن ملک بھر میں خصوصی نشریات چلائی جائیں گی جن میں تحریک آزادی کشمیر کے قائدین، کشمیریوں کی قربانیوں اور بھارتی مظالم کے حقائق کو اجاگر کیا جائے گا۔وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "پاکستان ہمیشہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت کرتا رہے گا۔ ہم عالمی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرے۔”دوسری جانب، کشمیری رہنماؤں نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے ایک ترجمان نے کہا، "پاکستان کی جانب سے یہ مسلسل حمایت ہمارے لیے طاقت کا ذریعہ ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اس سے عالمی سطح پر کشمیر کے مسئلے پر توجہ مرکوز ہوگی۔”
    یہ قابل ذکر ہے کہ 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات کو عالمی برادری، کشمیری اور پاکستانی عوام مسترد کر چکے ہیں۔ اس سال کے یوم استحصال پر پاکستان ایک بار پھر عالمی برادری کی توجہ اس اہم مسئلے کی طرف مبذول کرانے کی کوشش کرے گا۔حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ اس دن کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں اور امید ہے کہ یہ تقریبات کشمیریوں کے حقوق کی جدوجہد کو مزید مضبوط کریں گی۔

  • خیبرپختونخوا میں حکومتی کارکردگی کی نگرانی کے لیے خصوصی کمیٹی قائم

    خیبرپختونخوا میں حکومتی کارکردگی کی نگرانی کے لیے خصوصی کمیٹی قائم

    خیبرپختونخوا کی حکومت میں بدعنوانی اور گورننس کے مسائل پر نظر رکھنے کے لیے ایک اہم قدم اٹھایا گیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کے احکامات پر ایک تین رکنی خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر محمدعلی سیف نے اس اہم پیش رفت کی تفصیلات بیان کیں۔ انہوں نے بتایا کہ کمیٹی میں سابق گورنر شاہ فرمان، معاون خصوصی برائے انٹی کرپشن مصدق عباسی اور قاضی انور ایڈووکیٹ شامل ہیں۔ یہ تمام ارکان خود عمران خان نے منتخب کیے ہیں۔کمیٹی کے مقاصد میں صوبائی حکومت کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی اور تمام محکموں کی مانیٹرنگ شامل ہے۔ خاص طور پر، یہ وزرا اور انتظامی سیکرٹریز کے خلاف لگنے والے الزامات کی تحقیقات کرے گی۔ اگر کوئی الزام ثابت ہوتا ہے تو متعلقہ وزیر یا افسر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔بیرسٹر سیف نے واضح کیا کہ کمیٹی اپنی تمام تر رپورٹس براہ راست عمران خان کو پیش کرے گی۔ یہ قدم خیبرپختونخوا میں حکومتی شفافیت اور احتساب کو بہتر بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔اس اقدام سے توقع کی جا رہی ہے کہ صوبے میں انتظامی معاملات میں بہتری آئے گی اور عوام کو بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں گی۔ تاہم، کچھ حلقوں میں اس بات پر بھی بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا یہ کمیٹی صوبائی حکومت کے معاملات میں مداخلت تو نہیں کرے گی۔ آنے والے دنوں میں اس کمیٹی کی کارکردگی پر سب کی نظریں ہوں گی۔