پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اراکین نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے اپنے احتجاجی کیمپ کو دوسرے روز بھی جاری رکھا۔ یہ کیمپ دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک قائم رہا، جس میں پارٹی کے متعدد اہم رہنما شریک ہوئے۔اس موقع پر اپوزیشن تحریک کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کے دو طریقے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ ایسا راستہ اختیار کر رہے ہیں جو امن و امان کو برقرار رکھے۔ اچکزئی نے ملک کے موجودہ بحرانوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال ہماری اپنی غفلت کا نتیجہ ہے۔پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے بھی میڈیا سے بات چیت کی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پی ٹی آئی پر کوئی پابندی نہیں لگا سکتا کیونکہ یہ عوام کی جماعت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پابندیاں ان لوگوں پر لگنی چاہئیں جن کے بیانات عالمی عدالت انصاف میں پاکستان کے خلاف استعمال ہوئے۔
احتجاجی کیمپ میں پی ٹی آئی کے دیگر اہم رہنما بھی موجود تھے، جن میں سابق اسپیکر اسد قیصر، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب خان، اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز شامل تھے۔یہ احتجاج پارٹی کے چیئرمین اور دیگر گرفتار ارکان کی رہائی کے لیے منعقد کیا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ آئین اور قوم کی بالادستی کے لیے متحد ہیں۔عمر ایوب خان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پر کوئی پابندی نہیں لگا سکتا، پی ٹی آئی کو عوام نے منتجب کر کے ثابت کیا کہ یہ عوام کے حقوق کی بات کرتی ہے ہر غیر آئینی معاملے کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا۔سینٹر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس وقت آئین معطل ہے، آزادی اظہار پر پابندی ہے، شہریوں کی آزادی پر قدغن لگائی جا رہی ہے۔ہڑتالی اراکین کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کا مینڈیٹ چھینا گیا اور نااہل ٹولہ مسلط کیا گیا، جمعے کے روز ملک بھر میں پرامن احتجاج ہو گا۔
Author: صدف ابرار
-

پاکستان کی موجودہ مشکلات ہماری اپنی کوتاہیوں کا نتیجہ ہیں. محمود خان اچکزئی
-

پیرس میں یونیسکو فورم: پاکستان کے نوجوان کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کا عالمی اعتراف
پیرس میں یونیسکو کے ہیڈکوارٹر میں ایک اہم وزارتی فورم منعقد ہوا جس میں پاکستان کی نمائندگی وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ رانا ثناء اللّٰہ خان نے کی۔ ‘چینج دی گیم’ کے عنوان سے منعقد ہونے والے اس فورم میں معیاری جسمانی تعلیم اور کھیلوں کے ذریعے پائیدار سماجی وراثت کے فروغ پر توجہ دی گئی۔
اپنے خطاب میں رانا ثناء اللّٰہ نے 2024 کے پیرس اولمپکس کے حوالے سے اس فورم کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اولمپکس جیسے بڑے کھیل ایونٹس پوری دنیا کو ایک مثبت مقابلے میں متحد کرنے کا ذریعہ ہیں۔وزیر نے پاکستان کی نوجوان آبادی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ملک کی دو تہائی آبادی 24 سال سے کم عمر ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے وزیر اعظم کے ‘یوتھ پروگرام’ کی تفصیلات پیش کیں جس کا مقصد نوجوانوں کو تعلیم اور اختیار دینا ہے۔رانا ثناء اللّٰہ نے ‘یوتھ ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام’ کا بھی ذکر کیا جو 12 مختلف کھیلوں میں نئے کھلاڑیوں کی تلاش اور ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد نہ صرف کھیلوں میں بہتری لانا بلکہ نوجوانوں میں ایسی سماجی اقدار کو فروغ دینا بھی ہے جو ان کی پوری زندگی کے لیے مفید ثابت ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کھیل نظم و ضبط کا درس بھی دیتے ہیں، سرحدوں کے پار دوستی کو فروغ دیتے ہیں اور باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینے میں مثبت کردار ادا کرتے ہیں۔ ثقافتی تنوع کا جشن منانا اور نوجوانوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کو بڑھانا اس کا حصہ ہے۔ اس لیے سماجی وراثت، جیسا کہ شمولیت کو فروغ دینا، کمیونٹی کی تعمیر، رضاکارانہ اور جسمانی سرگرمیاں، کھیلوں کی ضمنی پیداوار ہیں جو ہمارے معاشروں میں بہتری کو یقینی بناتے ہیں۔رانا ثناء نے مزید کہا کہ اس میدان میں یونیسکو کا مرکزی کردار ہے اور وہ جسمانی تعلیم اور کھیلوں سے متعلق صلاحیتوں میں اضافے کے پروگراموں کے ذریعے رکن ممالک کی مدد کر سکتا ہے۔فرانس میں پاکستان کے سفیر اور یونیسکو کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد بھی تقریب میں موجود تھے۔ -

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لیڈی ایچیسن اور میو ہسپتال میں اپ گریڈڈ سہولیات کا افتتاح کیا
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور کے دو بڑے ہسپتالوں میں اپ گریڈڈ سہولیات کا افتتاح کر دیا ہے۔ لیڈی ایچیسن ہسپتال میں اپ گریڈڈ او پی ڈی اور میو ہسپتال میں اپ گریڈڈ آئی وارڈ کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے لیڈی ایچیسن ہسپتال کی اپ گریڈڈ او پی ڈی بلاک کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے کنسلٹنٹ او پی ڈی، او پی ڈی، اینٹی نینٹل کلینک، نرسنگ آفس، اور ٹرائیج روم کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے وارڈ میں موجود زچہ و بچہ کی خیریت دریافت کی، ننھے بچوں کو پیار کیا اور درازی عمر کی دعائیں دیں۔ وزیراعلیٰ نے وارڈ میں موجود نومولود بچے کو گود میں اٹھا کر پیار کیا اور ایک مریضہ کے مسائل سنے۔ وزیراعلیٰ نے مریضہ کو تسلی دیتے ہوئے مسئلہ فوری حل کرنے کا حکم دیا۔ ڈاکٹروں اور نرسوں کی خواہش پر وزیراعلیٰ نے ان کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز میو ہسپتال کے آپتھلما لوجی وارڈ پہنچ گئیں اور اپ گریڈیشن پراجیکٹ کا افتتاح کیا۔ انہوں نے آپتھلما لوجی بلاک کے مختلف فلورز کا دورہ کیا، تعمیراتی کام کا جائزہ لیا، اور او پی ڈی، آپریشن تھیٹر، سی ایس ایس ڈی سٹرلائزیشن روم کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو سہیل اشرف نے اپ گریڈیشن پراجیکٹ کے حوالے سے بریفنگ دی۔وزیراعلیٰ مریم نواز کے ان دوروں کا مقصد صحت کی سہولیات کو بہتر بنانا اور عوام کو معیاری طبی خدمات فراہم کرنا ہے۔ ان اقدامات سے مریضوں کو بہتر علاج معالجہ اور ہسپتال کی سہولیات میں بہتری ملے گی۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر ہسپتال عملے کی محنت اور لگن کی تعریف کی اور انہیں مزید بہتر خدمات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ -

عمران خان کا وکلاء کی عدم موجودگی میں تفتیش سے انکار، لاہور پولیس کی ٹیم اڈیالہ جیل سے واپس
9 مئی کے مقدمات میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان سے تفتیش کے لئے جانے والی لاہور پولیس کی ٹیم ناکام لوٹ آئی۔ عمران خان نے وکلاء کی عدم موجودگی میں تفتیش میں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔لاہور پولیس کی ٹیم عمران خان کے انکار پر اڈیالہ جیل سے واپس چلی گئی۔ 14 جولائی کو بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری عمل میں آئی تھی اور انسداد دہشت گردی لاہور کی عدالت نے 15 جولائی کو 12 مقدمات میں دس روز کا ریمانڈ دیا تھا۔ آج عمران خان کے ریمانڈ کا آٹھواں دن تھا، لیکن ان کا پولی گرافی اور فوٹو گرامیٹری ٹیسٹ بھی نہ ہوسکا۔
اڈیالہ جیل پہنچنے والی لاہور پولیس کی ٹیم میں ڈی ایس پیز جاوید اور عثمان شامل تھے، جبکہ انسپکٹر رانا اکمل، رانا ارحم، عالم لنگڑیال، رانا منیر، اور محمد علی بھی ٹیم کا حصہ تھے۔ پی ایس ایف کی ٹیمیں بھی اڈیالہ جیل سے واپس چلی گئیں۔لاہور پولیس کی ناکام کوشش کے بعد، تفتیش کا عمل مزید پیچیدہ ہو گیا ہے اور عمران خان کے وکلاء کی موجودگی میں تفتیش کے عمل کو مکمل کرنے کی ضرورت ہے۔ -

ن لیگ ووٹ کو عزت دو کے بیانیے سے ہٹ رہی ہے، محمد زبیر
سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ مخصوص نشستوں کے فیصلے کے بعد حکومتی رویے میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، اور وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کی حالیہ پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی پر پابندی عائد کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومتی اقدامات سے واضح ہوتا ہے کہ "ایکس” (سابق ٹوئٹر) کے بعد دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بھی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔محمد زبیر نے افسوس کا اظہار کیا کہ انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ اینٹی اسٹیٹ (ملکی مفادات کے خلاف) کا مطلب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایسے اقدامات پہلی بار نہیں ہو رہے، بلکہ بار بار دیکھے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر، سابق وزیراعظم حسین شہید سہروردی کو اینٹی اسٹیٹ ٹیررازم کے کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔ محمد زبیر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اینٹی اسٹیٹ وہ چیز ہوتی ہے جو سب سے زیادہ مقبول ہوتی ہے۔
سابق گورنر سندھ نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت نے معاشی مسائل کو حل کرنے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اپریل 2022 سے برسراقتدار ہے، لیکن ڈالرز اور تیل کی اسمگلنگ کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔محمد زبیر نے پی ٹی آئی کے ساتھ پابندیوں کی بات کو ن لیگ کے بیانیے سے ہٹنے کا اشارہ دیا اور کہا کہ ن لیگ کے رہنما ووٹ کو عزت دو کے بیانیے سے پیچھے ہٹنے پر پارٹی چھوڑ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ن لیگ ایک قدم پیچھے ہٹتی ہے تو اسے وفاق اور پنجاب میں اپنی اکثریت کھونے کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ -

مخصوص نشستوں کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی نے 9 مئی کی راہ اپنالی ، فیصل واوڈا
سینیٹر فیصل واوڈا نے مخصوص نشستوں کے فیصلے کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی موجودہ حکمت عملی پر تنقید کی ہے، اور کہا ہے کہ پارٹی نے ایک بار پھر 9 مئی کی ڈگر پر چلنا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مخصوص نشستوں کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کی مایوسی نے پارٹی کو ماضی کے راستے پر گامزن کر دیا ہے، اور اس پر عملدرآمد مشکل ہوگا۔فیصل واوڈا نے کہا کہ وہ اپنی رائے پر قائم ہیں کہ مخصوص نشستوں پر پی ٹی آئی کو مایوسی ہوگی، اور اس فیصلے پر عمل ممکن نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین میں ترمیم صرف پارلیمنٹ کے ذریعے کی جا سکتی ہے، جبکہ سپریم کورٹ کا کام آئین کی تشریح کرنا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ مخصوص نشستوں کے کیس میں پی ٹی آئی کو نتیجہ ملنے کے باوجود مقدمے کی مدعی سنی اتحاد کونسل تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس کارکردگی دکھانے کا بہترین موقع ہے، لیکن اگر حکومت نے دونوں طرف کھیلا تو اس سے نقصان ہو گا۔فیصل واوڈا نے مزید کہا کہ ملک میں اچھی کارکردگی کے لیے ضروری ہے کہ وزیر 3، 3 وزارتیں نہ رکھے، کیونکہ اس سے ملک کی بہتری کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک آدمی کو بہت ساری وزارتیں دینے سے ملک کی کارکردگی پر منفی اثر پڑتا ہے۔یہ بیان سینیٹر فیصل واوڈا کی طرف سے حکومت کی موجودہ پالیسیوں اور پارٹی کی سمت پر تنقید کا حصہ ہے، اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ مخصوص نشستوں کے فیصلے اور پارٹی کی حکمت عملی کے بارے میں گہرے خدشات رکھتے ہیں۔
-

وزیراعظم شہباز شریف کی خان یونس پر اسرائیلی فورسز کے حملے کی شدید مذمت
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے غزہ کے خان یونس علاقے پر اسرائیلی فورسز کے حالیہ حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خان یونس میں پناہ گزینوں کو انخلاء کے احکامات دیے جانے کے چند منٹ بعد اسرائیلی فورسز کا جارحانہ حملہ انسانیت کی توہین ہے۔ شہباز شریف نے بیان میں کہا کہ نہتے فلسطینی پناہ گزینوں کو انخلاء کا موقع بھی نہ دیا جانا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اسرائیلی فورسز فلسطینیوں کی نسل کشی کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستانی قوم اپنے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑی ہے اور اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ مسئلہ فلسطین کو حل کرنے میں اپنی ذمہ داری پوری کرے۔عرب میڈیا کے مطابق، اسرائیلی فورسز کی جانب سے غزہ میں بمباری کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں مزید 40 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیلی طیاروں نے خان یونس اور محلے الطفاح میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا۔ مشرقی خان یونس میں اسرائیلی حملے میں 39 فلسطینی شہید جبکہ 91 زخمی ہوئے۔
اسرائیلی فورسز کے ڈرون نے الاقصیٰ ہسپتال پر بھی حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایک فلسطینی شہید اور تین زخمی ہوئے۔ اس حملے میں ایک صحافی کی ہلاکت بھی ہوئی، جس سے مرنے والے صحافیوں کی تعداد 163 ہو گئی ہے۔ وزارت صحت کے مطابق، اسرائیلی گولہ باری انخلاء کے احکام کے چند منٹ بعد کی گئی تھی، اور ابھی بھی متعدد افراد عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔اب تک اسرائیلی بربریت کے نتیجے میں 39,600 فلسطینی شہید اور 89,818 زخمی ہو چکے ہیں۔ ان حملوں نے علاقے میں انسانی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے، اور عالمی برادری سے فوری مداخلت کی ضرورت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ -

ضلع دیر میں پاک افغان بارڈر پر دہشتگردوں کی دراندازی کی کوشش ناکام، تین دہشتگرد ہلاک
ضلع دیر میں پاک افغان بارڈر پر گذشتہ رات سیکیورٹی فورسز نے 3 دہشتگردوں کی دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی ، سیکیورٹی فورسز کی فوری کارروائی اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد تینوں دہشتگرد مارے گئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق ضلع دیر میں پاک افغان بارڈر پر گذشتہ رات 3 دہشتگردوں کی نقل و حرکت دیکھی گئی، جس پر سیکورٹی فورسز نے فوری کارروائی کی اور دراندازوں کا محاصرہ کر لیا۔اس موقع پر ہونے والے شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد تینوں دہشت گرد مارے گئے۔
ترجمان کے مطابق پاکستان بارہاں عبوری افغان حکومت سے کہتا آ رہا ہے کہ وہ سرحد پر اپنی طرف موثر بارڈر مینجمنٹ کو یقینی بنائے۔ترجمان نے کہا کہ توقع ہے کہ عبوری افغان حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی اور دہشت گردوں کی جانب سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے لئے افغان سرزمین کے استعمال سے روکے گی۔ سیکیورٹی فورسز اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے اور ملک سے دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لئے پرعزم ہیں۔ -

نیشنل ویمنز فٹبال کلب چیمپئن شپ 2024 میں دوسرے روز تین میچوں کا فیصلہ ہوا
نیشنل ویمنز فٹبال کلب چیمپئن شپ 2024 میں دوسرے روز تین میچوں کا فیصلہ ہوا۔ اسلام آباد میں کھیلے جانے والے پہلے میچ میں ہائی لینڈرز ویمنز فٹبال کلب نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نواں شیر یونائیٹڈ فٹبال کلب کو 16-0 سے شکست دی۔ کوئٹہ میں ہونے والے دوسرے میچ میں میں ہزارہ یونائیٹڈ فٹبال کلب کا مقابلہ کوئٹہ ویمن فٹبال کلب سے ہوا، دلچسپ مقابلے کے بعد ہزارہ یونائیٹڈ نے 1-0 سے میچ اپنے نام کر لیا۔ دن کا تیسرا میچ کراچی میں ہوا جہاں دیہ فٹبال کلب نے بلوچ محمڈن ویمن فٹبال کلب کو 4-2 سے شکست دی۔
-

کراچی میں شہری سیلاب کی روک تھام کے لیے جامع منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت
صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیرِ صدارت کراچی میں شہری سیلاب سے نمٹنے کے لیے اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں کراچی میں سیلاب کی روک تھام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔صدر مملکت نے ہدایت کی کہ کراچی میں شہری سیلاب روکنے کے لیے ایک جامع منصوبہ ترجیحی بنیادوں پر تیار کیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومتِ سندھ کو پائیدار اور طویل مدتی حکمت عملی اپنانی چاہیے تاکہ سیوریج اور سیلابی پانی کے مؤثر انتظام کو یقینی بنایا جا سکے۔
صدر زرداری نے کہا کہ کراچی میں زیرِ زمین سرنگوں کے ذریعے سیلاب پر قابو پانے کی فزیبلٹی اسٹڈی تین ماہ کے اندر مکمل کی جائے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کراچی اور اس کے ساحلی علاقوں کو صاف ستھرا بنانے اور عالمی معیار کے میٹروپولیٹن شہروں کے برابر لانے کی ضرورت ہے۔اجلاس کے دوران ماحولیاتی اثرات پر بھی بات چیت کی گئی۔ صدر مملکت نے کہا کہ سرنگوں کے مجوزہ منصوبے کے ماحولیاتی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت سندھ کو بین الاقوامی ڈونرز سے ماحولیاتی فنانسنگ حاصل کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے آلودہ پانی صاف کرنے کے نظام کی تعمیر سے بلوچستان کو زراعت کے لیے پانی میسر ہونے اور ماہی گیری کے شعبے کو فروغ حاصل ہونے کے امکانات پر بھی روشنی ڈالی۔
صدر مملکت نے حیدرآباد شہر کو بھی شہری سیلاب اور سیوریج کے مسائل حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس میں صدر مملکت کو عالمی آبی اور سیوریج مینجمنٹ ماہرین کی طرف سے جامع بریفنگ دی گئی، جنہوں نے کراچی میں شہری سیلاب اور سیوریج کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں۔ماہرین نے کراچی کے ہائی فلڈ زونز میں زیرِ زمین سرنگوں کے سیوریج نظام کے بارے میں بھی روشنی ڈالی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ کراچی میں تقریباً 450 ملین گیلن یومیہ سیوریج پیدا ہوتا ہے، اور سیوریج اور بارش کا پانی چھوٹے اور بڑے نالوں میں جمع ہوتا ہے۔ تاہم، نالوں کے موجودہ نیٹ ورک کی صلاحیت محدود ہے اور موجودہ جال عام حالات میں تقریباً 50 فیصد بارش کے پانی کو جذب کرتا ہے، جس کی وجہ سے شہری سیلاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اجلاس میں ایڈجوٹنٹ جنرل لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک، وزیر بلدیات سندھ سعید غنی، اور میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں سینئر سرکاری افسران، مقامی اور بین الاقوامی پانی کے انتظام کے ماہرین بھی شریک تھے۔