وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور کے دو بڑے ہسپتالوں میں اپ گریڈڈ سہولیات کا افتتاح کر دیا ہے۔ لیڈی ایچیسن ہسپتال میں اپ گریڈڈ او پی ڈی اور میو ہسپتال میں اپ گریڈڈ آئی وارڈ کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے لیڈی ایچیسن ہسپتال کی اپ گریڈڈ او پی ڈی بلاک کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے کنسلٹنٹ او پی ڈی، او پی ڈی، اینٹی نینٹل کلینک، نرسنگ آفس، اور ٹرائیج روم کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے وارڈ میں موجود زچہ و بچہ کی خیریت دریافت کی، ننھے بچوں کو پیار کیا اور درازی عمر کی دعائیں دیں۔ وزیراعلیٰ نے وارڈ میں موجود نومولود بچے کو گود میں اٹھا کر پیار کیا اور ایک مریضہ کے مسائل سنے۔ وزیراعلیٰ نے مریضہ کو تسلی دیتے ہوئے مسئلہ فوری حل کرنے کا حکم دیا۔ ڈاکٹروں اور نرسوں کی خواہش پر وزیراعلیٰ نے ان کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز میو ہسپتال کے آپتھلما لوجی وارڈ پہنچ گئیں اور اپ گریڈیشن پراجیکٹ کا افتتاح کیا۔ انہوں نے آپتھلما لوجی بلاک کے مختلف فلورز کا دورہ کیا، تعمیراتی کام کا جائزہ لیا، اور او پی ڈی، آپریشن تھیٹر، سی ایس ایس ڈی سٹرلائزیشن روم کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو سہیل اشرف نے اپ گریڈیشن پراجیکٹ کے حوالے سے بریفنگ دی۔وزیراعلیٰ مریم نواز کے ان دوروں کا مقصد صحت کی سہولیات کو بہتر بنانا اور عوام کو معیاری طبی خدمات فراہم کرنا ہے۔ ان اقدامات سے مریضوں کو بہتر علاج معالجہ اور ہسپتال کی سہولیات میں بہتری ملے گی۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر ہسپتال عملے کی محنت اور لگن کی تعریف کی اور انہیں مزید بہتر خدمات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
Author: صدف ابرار
-

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لیڈی ایچیسن اور میو ہسپتال میں اپ گریڈڈ سہولیات کا افتتاح کیا
-

عمران خان کا وکلاء کی عدم موجودگی میں تفتیش سے انکار، لاہور پولیس کی ٹیم اڈیالہ جیل سے واپس
9 مئی کے مقدمات میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان سے تفتیش کے لئے جانے والی لاہور پولیس کی ٹیم ناکام لوٹ آئی۔ عمران خان نے وکلاء کی عدم موجودگی میں تفتیش میں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔لاہور پولیس کی ٹیم عمران خان کے انکار پر اڈیالہ جیل سے واپس چلی گئی۔ 14 جولائی کو بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری عمل میں آئی تھی اور انسداد دہشت گردی لاہور کی عدالت نے 15 جولائی کو 12 مقدمات میں دس روز کا ریمانڈ دیا تھا۔ آج عمران خان کے ریمانڈ کا آٹھواں دن تھا، لیکن ان کا پولی گرافی اور فوٹو گرامیٹری ٹیسٹ بھی نہ ہوسکا۔
اڈیالہ جیل پہنچنے والی لاہور پولیس کی ٹیم میں ڈی ایس پیز جاوید اور عثمان شامل تھے، جبکہ انسپکٹر رانا اکمل، رانا ارحم، عالم لنگڑیال، رانا منیر، اور محمد علی بھی ٹیم کا حصہ تھے۔ پی ایس ایف کی ٹیمیں بھی اڈیالہ جیل سے واپس چلی گئیں۔لاہور پولیس کی ناکام کوشش کے بعد، تفتیش کا عمل مزید پیچیدہ ہو گیا ہے اور عمران خان کے وکلاء کی موجودگی میں تفتیش کے عمل کو مکمل کرنے کی ضرورت ہے۔ -

ن لیگ ووٹ کو عزت دو کے بیانیے سے ہٹ رہی ہے، محمد زبیر
سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ مخصوص نشستوں کے فیصلے کے بعد حکومتی رویے میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، اور وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کی حالیہ پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی پر پابندی عائد کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومتی اقدامات سے واضح ہوتا ہے کہ "ایکس” (سابق ٹوئٹر) کے بعد دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بھی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔محمد زبیر نے افسوس کا اظہار کیا کہ انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ اینٹی اسٹیٹ (ملکی مفادات کے خلاف) کا مطلب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایسے اقدامات پہلی بار نہیں ہو رہے، بلکہ بار بار دیکھے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر، سابق وزیراعظم حسین شہید سہروردی کو اینٹی اسٹیٹ ٹیررازم کے کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔ محمد زبیر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اینٹی اسٹیٹ وہ چیز ہوتی ہے جو سب سے زیادہ مقبول ہوتی ہے۔
سابق گورنر سندھ نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت نے معاشی مسائل کو حل کرنے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اپریل 2022 سے برسراقتدار ہے، لیکن ڈالرز اور تیل کی اسمگلنگ کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔محمد زبیر نے پی ٹی آئی کے ساتھ پابندیوں کی بات کو ن لیگ کے بیانیے سے ہٹنے کا اشارہ دیا اور کہا کہ ن لیگ کے رہنما ووٹ کو عزت دو کے بیانیے سے پیچھے ہٹنے پر پارٹی چھوڑ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ن لیگ ایک قدم پیچھے ہٹتی ہے تو اسے وفاق اور پنجاب میں اپنی اکثریت کھونے کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ -

مخصوص نشستوں کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی نے 9 مئی کی راہ اپنالی ، فیصل واوڈا
سینیٹر فیصل واوڈا نے مخصوص نشستوں کے فیصلے کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی موجودہ حکمت عملی پر تنقید کی ہے، اور کہا ہے کہ پارٹی نے ایک بار پھر 9 مئی کی ڈگر پر چلنا شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مخصوص نشستوں کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کی مایوسی نے پارٹی کو ماضی کے راستے پر گامزن کر دیا ہے، اور اس پر عملدرآمد مشکل ہوگا۔فیصل واوڈا نے کہا کہ وہ اپنی رائے پر قائم ہیں کہ مخصوص نشستوں پر پی ٹی آئی کو مایوسی ہوگی، اور اس فیصلے پر عمل ممکن نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین میں ترمیم صرف پارلیمنٹ کے ذریعے کی جا سکتی ہے، جبکہ سپریم کورٹ کا کام آئین کی تشریح کرنا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ مخصوص نشستوں کے کیس میں پی ٹی آئی کو نتیجہ ملنے کے باوجود مقدمے کی مدعی سنی اتحاد کونسل تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس کارکردگی دکھانے کا بہترین موقع ہے، لیکن اگر حکومت نے دونوں طرف کھیلا تو اس سے نقصان ہو گا۔فیصل واوڈا نے مزید کہا کہ ملک میں اچھی کارکردگی کے لیے ضروری ہے کہ وزیر 3، 3 وزارتیں نہ رکھے، کیونکہ اس سے ملک کی بہتری کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک آدمی کو بہت ساری وزارتیں دینے سے ملک کی کارکردگی پر منفی اثر پڑتا ہے۔یہ بیان سینیٹر فیصل واوڈا کی طرف سے حکومت کی موجودہ پالیسیوں اور پارٹی کی سمت پر تنقید کا حصہ ہے، اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ مخصوص نشستوں کے فیصلے اور پارٹی کی حکمت عملی کے بارے میں گہرے خدشات رکھتے ہیں۔
-

وزیراعظم شہباز شریف کی خان یونس پر اسرائیلی فورسز کے حملے کی شدید مذمت
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے غزہ کے خان یونس علاقے پر اسرائیلی فورسز کے حالیہ حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خان یونس میں پناہ گزینوں کو انخلاء کے احکامات دیے جانے کے چند منٹ بعد اسرائیلی فورسز کا جارحانہ حملہ انسانیت کی توہین ہے۔ شہباز شریف نے بیان میں کہا کہ نہتے فلسطینی پناہ گزینوں کو انخلاء کا موقع بھی نہ دیا جانا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اسرائیلی فورسز فلسطینیوں کی نسل کشی کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستانی قوم اپنے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑی ہے اور اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ مسئلہ فلسطین کو حل کرنے میں اپنی ذمہ داری پوری کرے۔عرب میڈیا کے مطابق، اسرائیلی فورسز کی جانب سے غزہ میں بمباری کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں مزید 40 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیلی طیاروں نے خان یونس اور محلے الطفاح میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا۔ مشرقی خان یونس میں اسرائیلی حملے میں 39 فلسطینی شہید جبکہ 91 زخمی ہوئے۔
اسرائیلی فورسز کے ڈرون نے الاقصیٰ ہسپتال پر بھی حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایک فلسطینی شہید اور تین زخمی ہوئے۔ اس حملے میں ایک صحافی کی ہلاکت بھی ہوئی، جس سے مرنے والے صحافیوں کی تعداد 163 ہو گئی ہے۔ وزارت صحت کے مطابق، اسرائیلی گولہ باری انخلاء کے احکام کے چند منٹ بعد کی گئی تھی، اور ابھی بھی متعدد افراد عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔اب تک اسرائیلی بربریت کے نتیجے میں 39,600 فلسطینی شہید اور 89,818 زخمی ہو چکے ہیں۔ ان حملوں نے علاقے میں انسانی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے، اور عالمی برادری سے فوری مداخلت کی ضرورت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ -

ضلع دیر میں پاک افغان بارڈر پر دہشتگردوں کی دراندازی کی کوشش ناکام، تین دہشتگرد ہلاک
ضلع دیر میں پاک افغان بارڈر پر گذشتہ رات سیکیورٹی فورسز نے 3 دہشتگردوں کی دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی ، سیکیورٹی فورسز کی فوری کارروائی اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد تینوں دہشتگرد مارے گئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق ضلع دیر میں پاک افغان بارڈر پر گذشتہ رات 3 دہشتگردوں کی نقل و حرکت دیکھی گئی، جس پر سیکورٹی فورسز نے فوری کارروائی کی اور دراندازوں کا محاصرہ کر لیا۔اس موقع پر ہونے والے شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد تینوں دہشت گرد مارے گئے۔
ترجمان کے مطابق پاکستان بارہاں عبوری افغان حکومت سے کہتا آ رہا ہے کہ وہ سرحد پر اپنی طرف موثر بارڈر مینجمنٹ کو یقینی بنائے۔ترجمان نے کہا کہ توقع ہے کہ عبوری افغان حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی اور دہشت گردوں کی جانب سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے لئے افغان سرزمین کے استعمال سے روکے گی۔ سیکیورٹی فورسز اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے اور ملک سے دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لئے پرعزم ہیں۔ -

نیشنل ویمنز فٹبال کلب چیمپئن شپ 2024 میں دوسرے روز تین میچوں کا فیصلہ ہوا
نیشنل ویمنز فٹبال کلب چیمپئن شپ 2024 میں دوسرے روز تین میچوں کا فیصلہ ہوا۔ اسلام آباد میں کھیلے جانے والے پہلے میچ میں ہائی لینڈرز ویمنز فٹبال کلب نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نواں شیر یونائیٹڈ فٹبال کلب کو 16-0 سے شکست دی۔ کوئٹہ میں ہونے والے دوسرے میچ میں میں ہزارہ یونائیٹڈ فٹبال کلب کا مقابلہ کوئٹہ ویمن فٹبال کلب سے ہوا، دلچسپ مقابلے کے بعد ہزارہ یونائیٹڈ نے 1-0 سے میچ اپنے نام کر لیا۔ دن کا تیسرا میچ کراچی میں ہوا جہاں دیہ فٹبال کلب نے بلوچ محمڈن ویمن فٹبال کلب کو 4-2 سے شکست دی۔
-

کراچی میں شہری سیلاب کی روک تھام کے لیے جامع منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت
صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیرِ صدارت کراچی میں شہری سیلاب سے نمٹنے کے لیے اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں کراچی میں سیلاب کی روک تھام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔صدر مملکت نے ہدایت کی کہ کراچی میں شہری سیلاب روکنے کے لیے ایک جامع منصوبہ ترجیحی بنیادوں پر تیار کیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومتِ سندھ کو پائیدار اور طویل مدتی حکمت عملی اپنانی چاہیے تاکہ سیوریج اور سیلابی پانی کے مؤثر انتظام کو یقینی بنایا جا سکے۔
صدر زرداری نے کہا کہ کراچی میں زیرِ زمین سرنگوں کے ذریعے سیلاب پر قابو پانے کی فزیبلٹی اسٹڈی تین ماہ کے اندر مکمل کی جائے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کراچی اور اس کے ساحلی علاقوں کو صاف ستھرا بنانے اور عالمی معیار کے میٹروپولیٹن شہروں کے برابر لانے کی ضرورت ہے۔اجلاس کے دوران ماحولیاتی اثرات پر بھی بات چیت کی گئی۔ صدر مملکت نے کہا کہ سرنگوں کے مجوزہ منصوبے کے ماحولیاتی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت سندھ کو بین الاقوامی ڈونرز سے ماحولیاتی فنانسنگ حاصل کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے آلودہ پانی صاف کرنے کے نظام کی تعمیر سے بلوچستان کو زراعت کے لیے پانی میسر ہونے اور ماہی گیری کے شعبے کو فروغ حاصل ہونے کے امکانات پر بھی روشنی ڈالی۔
صدر مملکت نے حیدرآباد شہر کو بھی شہری سیلاب اور سیوریج کے مسائل حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس میں صدر مملکت کو عالمی آبی اور سیوریج مینجمنٹ ماہرین کی طرف سے جامع بریفنگ دی گئی، جنہوں نے کراچی میں شہری سیلاب اور سیوریج کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں۔ماہرین نے کراچی کے ہائی فلڈ زونز میں زیرِ زمین سرنگوں کے سیوریج نظام کے بارے میں بھی روشنی ڈالی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ کراچی میں تقریباً 450 ملین گیلن یومیہ سیوریج پیدا ہوتا ہے، اور سیوریج اور بارش کا پانی چھوٹے اور بڑے نالوں میں جمع ہوتا ہے۔ تاہم، نالوں کے موجودہ نیٹ ورک کی صلاحیت محدود ہے اور موجودہ جال عام حالات میں تقریباً 50 فیصد بارش کے پانی کو جذب کرتا ہے، جس کی وجہ سے شہری سیلاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اجلاس میں ایڈجوٹنٹ جنرل لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک، وزیر بلدیات سندھ سعید غنی، اور میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں سینئر سرکاری افسران، مقامی اور بین الاقوامی پانی کے انتظام کے ماہرین بھی شریک تھے۔ -

پاکستان کی مالیاتی اصلاحات: وزیر خزانہ کی فچ ریٹنگز کے نمائندوں کو بریفنگ
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے حال ہی میں فچ ریٹنگز ایجنسی کے نمائندوں کے ساتھ ایک ورچوئل ملاقات کی، جس میں انہوں نے پاکستان کے مالیاتی نظام میں کی جانے والی حالیہ اصلاحات اور ترقیاتی اہداف کی تفصیلات شیئر کیں۔ وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں اب تک تقریباً ڈیڑھ لاکھ تاجروں نے پہلی بار اپنے آپ کو ٹیکس نیٹ میں رجسٹرڈ کروایا ہے۔ مالی سال 2025 کے دوران محصولات کو جی ڈی پی کے 1.5 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے فچ نمائندوں کو مالی سال 2025 کے لیے حکومتی معاشی اہداف کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ فچ ریٹنگز ایجنسی کے نمائندوں نے پاکستان کے مالیاتی اقدامات اور اصلاحات کی تعریف کی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ تین سالوں کے دوران ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب کو 3 فیصد تک بڑھانے کا ہدف رکھا گیا ہے، اور مالی سال 2025 کے لیے جی ڈی پی کے 1 فیصد کا بنیادی سرپلس حاصل کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ موجودہ معاہدے کے ذریعے اقتصادی اصلاحات کے ایجنڈے کو مزید تقویت ملے گی۔
وزیر خزانہ نے بھی یہ اعلان کیا کہ ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے نئی ٹیکس اسکیم کی منظوری دے دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2024 کے دوران ٹیکس کی وصولی میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو کہ مالی سال 2023 کے مقابلے میں ایک قابل ذکر بہتری ہے۔اس کے علاوہ، وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ مہنگائی کی شرح میں کمی آئی ہے اور مالی ذخائر میں استحکام دیکھنے کو ملا ہے۔ گزشتہ مالی سال کے دوران ترسیلات زر میں 7.7 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ آئی ٹی کے شعبے کی درآمدات 3 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں، جو کہ اس شعبے کی ترقی کا عکاس ہے۔ اسٹاک ایکسچینج کی بہترین کارکردگی بھی مثبت معاشی رجحانات کی عکاسی کرتی ہے۔ افراطِ زر کی شرح اب 12.6 فیصد پر آگئی ہے، اور جون 2024 تک پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 9.4 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ -

پنجاب اسمبلی میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے قرارداد جمع
پنجاب اسمبلی میں ایم پی اے باسمہ چودھری نے امریکی جیل میں قید پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے ایک اہم قرارداد جمع کرادی ہے۔ قرارداد میں عافیہ صدیقی کی پاکستانی شہری ہونے کے ناطے حفاظت کا مطالبہ کیا گیا ہے، اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ہر پاکستانی شہری کو اس حق کا تحفظ حاصل ہے چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہو۔قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ عافیہ صدیقی کے وکیل نے انکشاف کیا ہے کہ ان پر جسمانی اور جنسی تشدد کیا جا رہا ہے، اور ان کی عزت کی پامالی کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ، ذہنی دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور انہیں اپنے مذہب سے دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ عافیہ صدیقی کو امام سے ملنے نہیں دیا جا رہا اور انہیں قانونی دفاع کے حق سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔ دستاویزات پر دستخط کرنے کی اجازت نہ دینے کی شکایت بھی کی گئی ہے، اور کہا گیا ہے کہ پاکستان کی بیٹی پر یہ ظلم اور بربریت ہرگز قابل قبول نہیں۔قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عافیہ صدیقی کو وطن واپس لانے کے لیے بھرپور اور مخلصانہ کوششیں کی جائیں، اور یہ کوششیں صرف زبانی نہیں بلکہ عملی طور پر کی جائیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے آرڈرز پر فوری عمل درآمد کا بھی کہا گیا ہے۔قرارداد میں عافیہ صدیقی کی گرتی ہوئی جسمانی اور ذہنی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہائی کی درخواست کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ امریکہ سے تحریری طور پر صدارتی معافی اور ہمدردی کی بنیاد پر رہائی کے لیے درخواست کریں۔
قرارداد میں حکومت پاکستان سے درخواست کی گئی ہے کہ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے فوری طور پر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی میڈیکل ٹیم کے معائنہ اور اپنی مرضی کے امام سے ملاقات کی اجازت طلب کی جائے۔یہ قرارداد عافیہ صدیقی کی رہائی کے معاملے پر مزید توجہ مبذول کروانے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف ایک مضبوط پیغام دینے کی کوشش ہے۔