Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • امریکی ایوان میں سیکرٹ سروس ڈائریکٹر نے  ڈونلڈ ٹرمپ کی ریلی پر  حملے کی زمہ داری قبول کر لی

    امریکی ایوان میں سیکرٹ سروس ڈائریکٹر نے ڈونلڈ ٹرمپ کی ریلی پر حملے کی زمہ داری قبول کر لی

    امریکی ایوان نمائندگان کی کمیٹی میں سانس لینے کی بھی جگہ نہ تھی۔ ہر آنکھ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ہونے والے قاتلانہ حملے کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی اس کمیٹی کی کارروائی پر مرکوز تھی۔ سب کی نظریں سیکرٹ سروس ڈائریکٹر کمبرلی چیٹل پر جمی تھیں جو پُر وقار انداز میں اپنا بیان ریکارڈ کروا رہی تھیں۔ان کے الفاظ میں ایک عجیب قسم کی سنجیدگی تھی، "ہم اپنی ذمہ داری پوری نہ کر سکے، سیکرٹ سروس ایجنسی سابق صدر کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی۔” یہ کہتے ہوئے انہوں نے پنسلوانیا میں ہونے والے اس حملے کو سیکرٹ سروس کی تاریخ کی اہم ترین آپریشنل ناکامی قرار دیا۔ سیکرٹ سروس ڈائریکٹر کمبرلی چیٹل نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریلی میں سیکیورٹی ناکامی کی ذمہ داری قبول کرلی۔ سابق امریکی صدر ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے معاملے پر امریکی ایوان نمائندگان کی کمیٹی میں سیکرٹ سروس ڈائریکٹر کمبرلی چیٹل کی پیشی ہوئی۔
    واضح رہے کہ 13 جولائی جب ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا، اب بھی سب کے ذہنوں پر تازہ تھا۔ اس حملے میں جہاں سابق صدر زخمی ہوئے تھے وہیں دو بے گناہ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اس واقعے کے بعد سے ہی سیکرٹ سروس کو شدید تنقید کا سامنا تھا اور آج ڈائریکٹر کمبرلی چیٹل نے خود اس ناکامی کا اعتراف کر کے ایک نیا پنڈورا بکس کھول دیا تھا۔کمیٹی روم میں موجود ہر فرد کے ذہن میں ایک ہی سوال گونج رہا تھا، کیا یہ واقعی ایک ناکامی تھی یا پھر کچھ اور؟ کیا واقعی سیکرٹ سروس اتنی کمزور ہوچکی ہے کہ وہ اپنے سابق صدر کو بھی تحفظ فراہم نہیں کر سکتی؟ یہ وہ سوالات تھے جن کے جوابات ابھی ملنا باقی تھے۔

  • عظمیٰ بخاری نےپنجاب اسمبلی کے اپوزیشن  کو ملکی سیاست پر ایک سیاہ دھبہ قرار دیا

    عظمیٰ بخاری نےپنجاب اسمبلی کے اپوزیشن کو ملکی سیاست پر ایک سیاہ دھبہ قرار دیا

    وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے اپوزیشن پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کو تاریخ کی سب سے ناکام اور ناقص اپوزیشن ملی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن خود ہی اسمبلی اجلاس بلانے کے لیے ریکوزیشن جمع کراتی ہے اور پھر اسمبلی کے گیٹ پر تماشا لگاتی ہے۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اگر اپوزیشن نے اسمبلی کے گیٹ پر تماشا ہی کرنا تھا تو عوام کے ٹیکس کا پیسہ اجلاس پر کیوں خرچ کروایا؟ انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن کا اجلاس کے بائیکاٹ کرنا دنیا کی سب سے نالائق اپوزیشن کی مثال ہے۔
    وزیر اطلاعات نے 9 مئی کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جن دہشت گردوں کو جیلوں میں ہونا چاہیے، وہ اسمبلی کے گیٹ پر ہلڑ بازی اور دشنام طرازی کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس فسادی ٹولے کا ایجنڈا ملک میں فساد پھیلانا قرار دیا اور کہا کہ 9 مئی کے سہولت کاروں اور منصوبہ سازوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا وقت آ گیا ہے۔عظمیٰ بخاری نے اپوزیشن کے فسادی اور انتشاری کردار کو ملکی سیاست پر ایک سیاہ دھبہ قرار دیا اور کہا کہ جب تک اس ٹولے کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جاتا، پاکستان میں استحکام اور خوشحالی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ملک کی بہتری کے لیے ایسے عناصر کے خلاف سخت موقف اختیار کریں۔

  • وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کل 3روز کیلئے چین کا دورہ کریں گے

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کل 3روز کیلئے چین کا دورہ کریں گے، چین سے 15 ارب ڈالر کے توانائی قرضوں کی ری شیڈولنگ کا اہم ترین ٹاسک ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ 15 ارب ڈالر کے توانائی قرض کی ریشیڈولنگ پر بات چیت کریں گے، قرض کی ری شیڈولنگ کیلئے پاکستان اور چین کے درمیان مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کیا جا سکتا ہے،چین کے توانائی کے سرکلر ڈیٹ سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال ہوگا، چین کے توانائی کے سرکولر ڈیٹ کا حجم 500 ارب روپے کے لگ بھگ ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے وزیر خزانہ دورہ چین میں پانڈا بانڈ پر بھی بات چیت کریں گے، پاکستان چائنہ میں 30 ملین ڈالر کا پانڈا بانڈ حاصل کرنا چاہتا ہے۔

  • فوجی آپریشن سے مسائل حل نہیں ہوتے،امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان

    فوجی آپریشن سے مسائل حل نہیں ہوتے،امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان

    امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے ترجمان پاک فوج کے بیان کا خیر مقدم کیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ عزم استحکام ایک فوجی آپریشن نہیں ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اس وضاحت سے کنفیوژن دور ہوگئی ہے اور اگر سیاسی حکومت اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کے بعد اتفاق رائے سے فیصلے کرے تو مزید ابہام پیدا نہیں ہوں گے۔حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی کا اصولی مؤقف ہے کہ فوجی آپریشن سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک مزید کسی فوجی آپریشن کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کے حل کے لئے مشاورت اور اتفاق رائے سے فیصلے کرنا انتہائی ضروری ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی ہمیشہ سے اس بات کی حامی رہی ہے کہ مسائل کے حل کے لئے سیاسی اور پرامن طریقے اپنائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ فوجی آپریشن کے بجائے مکالمے اور مشاورت کے ذریعے ہی ملک میں پائیدار امن اور استحکام لایا جاسکتا ہے۔
    امیر جماعت اسلامی کے بیان نے ایک بار پھر اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ جماعت اسلامی ملک میں فوجی آپریشن کے بجائے سیاسی مشاورت اور اتفاق رائے پر یقین رکھتی ہے۔ ان کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید کی جا سکتی ہے کہ حکومت اور دیگر اسٹیک ہولڈرز بھی مشاورت کے ذریعے مسائل کے حل کے لئے کوششیں جاری رکھیں گے تاکہ ملک میں پائیدار امن اور استحکام یقینی بنایا جا سکے۔

  • فواد چودھری کا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی حمایت، رؤ ف حسن کی گرفتاری کی مذمت

    فواد چودھری کا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی حمایت، رؤ ف حسن کی گرفتاری کی مذمت

    سابق وفاقی وزیر فواد چودھری نے دہشت گردوں کے خلاف عزم استحکام آپریشن کی حمایت کرتے ہوئے اسے ایک مثبت اقدام قرار دیا ہے۔ نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف عزم استحکام آپریشن ایک اچھی بات ہے اور اس کی حمایت کی جانی چاہیے۔ تاہم، انہوں نے رئوف حسن کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے سیاسی عدم استحکام میں مزید اضافہ ہوگا۔فواد چودھری نے کہا کہ شہباز شریف نے عزم استحکام آپریشن کا اعلان غیر سنجیدگی سے کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دور حکومت میں کوئی آپریشن نہیں ہوا اور پی ٹی آئی کی حکومت نے ایک مختلف سیاسی حکمت عملی اپنائی تھی۔
    رؤف حسن کی گرفتاری پر تنقید کرتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ اس اقدام سے سیاسی عدم استحکام میں مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے رؤف حسن کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے ملک میں مزید انتشار پیدا ہوگا اور یہ پاکستان کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔فواد چودھری نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی حالیہ لہر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے نمٹنے کے لئے پاکستان کی سیاست میں استحکام لانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی موجودہ صورتحال میں سیاسی استحکام ہی واحد حل ہے جس سے دہشت گردی کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔سابق وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے تین سالہ دور حکومت پاکستان کے پر امن ترین سال رہے۔ انہوں نے ن لیگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ پورے پاکستان میں ختم ہوگئی ہے اور اب پنجاب میں بھی ن لیگ کا وجود نہیں رہا۔

  • آئی سی سی کا سالانہ اجلاس: چیمپئنز ٹرافی بجٹ کی منظوری پر خاموشی، دیگر اہم فیصلے ہو گئے

    آئی سی سی کا سالانہ اجلاس: چیمپئنز ٹرافی بجٹ کی منظوری پر خاموشی، دیگر اہم فیصلے ہو گئے

    انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے اپنے سالانہ اجلاس کے اختتام پر اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں چیمپئنز ٹرافی کے بجٹ کی منظوری کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ اجلاس میں آئی سی سی کے تمام 108 ممبران نے شرکت کی، اور مختلف اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اعلامیہ کے مطابق، اجلاس میں اولمپکس 2028 میں کرکٹ کی شمولیت پر بات چیت ہوئی۔ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2024 کے معاملات کا ازسر نو جائزہ لینے کی منظوری بھی دی گئی ہے، اور اس کی رپورٹ تین ڈائریکٹرز، راجر ٹوسے، لاسن نائیڈو، اور عمران خواجہ، رواں سال پیش کریں گے۔ اس سلسلے میں یو ایس اے کرکٹ اور کرکٹ چلی کو باضابطہ طور پر نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
    چیف ایگزیکٹوز کمیٹی نے آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے لئے آٹھ علاقائی کوالیفائنگ اسپاٹس کی الاٹمنٹ کی منظوری دی ہے۔ افریقہ اور یورپ سے دو ٹیمیں، امریکہ سے ایک، اور ایشیا و ایسٹ ایشیا سے تین مشترکہ ٹیمیں کوالیفائی کریں گی۔اجلاس میں 2030 میں ہونے والے آئی سی سی خواتین کے ٹی 20 ورلڈ کپ کو 12 سے 16 ٹیموں تک بڑھانے کی منظوری دی گئی۔ آئی سی سی ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے کوالیفائر کے لئے کوالیفائی کرنے کی کٹ آف ڈیٹ 31 اکتوبر 2024 مقرر کی گئی ہے۔اجلاس میں سی ای سی نے پال ریفل کی آئی سی سی مینز کرکٹ کمیٹی میں ایلیٹ پینل کے نمائندے کے طور پر تقرری کی منظوری بھی دے دی۔
    آئی سی سی کے سالانہ اجلاس میں کئی اہم فیصلے کیے گئے، جن میں ٹی 20 ورلڈ کپ کے کوالیفائنگ اسپاٹس کی الاٹمنٹ اور خواتین کے ٹی 20 ورلڈ کپ کی توسیع شامل ہیں۔ تاہم، چیمپئنز ٹرافی کے بجٹ کی منظوری کے بارے میں کوئی ذکر نہ ہونا اہم ہے اور اس پر مزید تفصیلات آنے والے وقت میں سامنے آ سکتی ہیں۔

  • آئیسکو کی صارفین سے غیرمنصفانہ بل وصولی: ایف آئی اے کی رپورٹ میں انکشافات

    آئیسکو کی صارفین سے غیرمنصفانہ بل وصولی: ایف آئی اے کی رپورٹ میں انکشافات

    اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کی جانب سے پروٹیکٹڈ صارفین پر اضافی یونٹ ڈال کر نان پروٹیکٹڈ بل وصول کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ وزارت داخلہ کی درخواست پر ایف آئی اے نے تفصیلی رپورٹ پیش کر دی ہے، جس میں صارفین کو زیادہ بل بھیجنے کے مختلف طریقے ظاہر کیے گئے ہیں.ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق، آئیسکو نے پروٹیکٹڈ صارفین پر اضافی یونٹ ڈال کر نان پروٹیکٹڈ بل وصول کیے۔ اس عمل کے ذریعے صارفین کو زیادہ بلوں کا سامنا کرنا پڑا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ آئیسکو تاخیر کے ساتھ ریڈنگ کر کے صارفین کو زیادہ بل بھیجنے میں ملوث رہا۔ آئیسکو نے وقت سے پہلے ریڈنگ کر کے صارفین کو اوسط یونٹ ڈالنے کا طریقہ بھی اپنایا۔
    آئیسکو نے بند میٹرز پر بھی 2 سے 3 یونٹ روزانہ کی اوسط شامل کی، جس سے اپریل میں 1279 صارفین متاثر ہوئے۔ ایف آئی اے نے آئیسکو کے پرو ریٹا سسٹم کو بھی زائد وصولی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے، جس کے باعث 13,324 صارفین کو زائد بل بھیجے گئے۔ مئی 2024 میں 2447 اور جون میں 8725 صارفین متاثر ہوئے۔
    ایک ماہ میں 17 لاکھ سے زائد پروٹیکٹڈ اور لائف صارفین نے 1,71,851 یونٹ استعمال کیے، جبکہ 31 لاکھ 79 ہزار 120 نان پروٹیکٹڈ صارفین نے 6,19,753 یونٹ استعمال کیے۔ آئیسکو بلوں پر میٹر ریڈنگ اور تاریخ کی عدم موجودگی بھی سامنے آئی، جس سے صارفین کو پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ صارفین کے فرق کے حوالے سے کوئی معلومات فراہم نہیں کی جاتی۔ایف آئی اے انکوائری ٹیم نے سفارش کی ہے کہ آئیسکو کی ایوریج سسٹم سے متاثر ہونے والے صارفین کو دوبارہ پروٹیکٹڈ کیٹگری میں شامل کیا جائے۔ رپورٹ میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ 2 سے 3 دن کی ایوریج ڈال کر صارفین کو نان پروٹیکٹڈ کرنا زیادتی ہے۔ ایف آئی اے نے گزشتہ تین ماہ میں 15,46,846 صارفین کو ریلیف دینے کی سفارش کی، جس سے صارفین کو 51,22,525 یونٹ کا فائدہ پہنچے گا۔
    ایف آئی اے نے آئیسکو کے متعلقہ ڈپارٹمنٹ کی نااہلی اور غفلت پر کارروائی کی سفارش بھی کی ہے، تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح آئیسکو کی غلط کاریوں نے لاکھوں صارفین کو متاثر کیا اور ان پر غیر ضروری مالی بوجھ ڈالا۔ ایف آئی اے کی سفارشات پر عمل درآمد سے امید کی جا رہی ہے کہ صارفین کو ریلیف ملے گا اور بجلی کی بلنگ کے نظام میں شفافیت آئے گی۔

  • رؤف حسن کی رہائی کیلئے قانونی جدوجہد کریں گے:پی ٹی آئی چیئرمین کا اعلان

    رؤف حسن کی رہائی کیلئے قانونی جدوجہد کریں گے:پی ٹی آئی چیئرمین کا اعلان

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ بیرسٹر گوہر نے کے پی ہاؤس اسلام آباد میں ایک اہم پریس کانفرنس کی۔ اس موقع پر انہوں نے پارٹی کے ترجمان رؤف حسن کی گرفتاری پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور اس کی مذمت کی۔بیرسٹر گوہر نے اعلان کیا کہ پارٹی رؤف حسن کی رہائی کے لیے ہر ممکن قانونی چارہ جوئی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ "ہم اس معاملے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے اور ہر ممکن قانونی راستہ اختیار کریں گے۔”پریس کانفرنس میں ایک اور اہم انکشاف کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ حالیہ چھاپے کا اصل مقصد پی ٹی آئی کے ایم این ایز کے پارٹی وابستگی کے حلف نامے حاصل کرنا تھا۔ یہ بیان موجودہ سیاسی صورتحال میں پارٹی کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کی نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔
    اسی پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی کے ایک اور اہم رہنما عمر ایوب نے ملک کی معاشی صورتحال پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ جب "لندن پلان” پر عمل شروع ہوا، اس وقت پاکستان کی شرح نمو 6 فیصد تھی۔ عمر ایوب نے مزید وضاحت کی کہ اس 6 فیصد شرح نمو کی تصدیق خود پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی حکومت نے کی تھی۔یہ پریس کانفرنس پاکستان کی موجودہ سیاسی اور معاشی صورتحال پر پی ٹی آئی کے موقف کو واضح کرتی ہے۔ پارٹی قیادت نے اپنے ارکان کی گرفتاری کو ناجائز قرار دیا اور ملک کی معیشت کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ پی ٹی آئی کس طرح اپنے ترجمان کی رہائی کے لیے قانونی جدوجہد کرتی ہے اور ملک کی سیاسی صورتحال کیا رخ اختیار کرتی ہے۔

  • پاکستانی قونصل خانہ پر ہونے والے حملے کے بعد جرمن سفیر کو دفتر خارجہ طلب

    پاکستانی قونصل خانہ پر ہونے والے حملے کے بعد جرمن سفیر کو دفتر خارجہ طلب

    جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں پاکستانی قونصل خانہ پر افغان شہریوں کی جانب سے حملے اور پتھراؤ کے واقعے کے بعد پاکستانی حکام نے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ ذرائع کے مطابق، پاکستانی قونصل خانہ پر ہونے والے حملے کے بعد جرمن سفیر کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا، جہاں انہیں واقعے پر پاکستان کے تحفظات سے آگاہ کیا گیا۔ افغان شہریوں نے پاکستانی قونصل خانہ پر پتھراؤ کیا اور پاکستانی پرچم اتار دیا، جس سے قونصل خانہ میں شدید نقصانات ہوئے۔ پاکستانی سفارتی حکام نے جرمن وزارت خارجہ سے فوری طور پر واقعے کی تحقیقات اور مناسب کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
    ترجمان دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ویانا کنونشن کے تحت میزبان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ قونصل خانہ کے تقدس کی حفاظت کی جائے اور سفارت کاروں کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد ہم توقع کرتے ہیں کہ جرمن حکومت اپنے قانونی اور سفارتی فرائض کی انجام دہی میں سنجیدہ اقدامات کرے گی۔یہ واقعہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان سفارتی تعلقات میں تناؤ کا باعث بن سکتا ہے، اور اس سے دونوں ممالک کے درمیان قونصلر امور پر توجہ دینے کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ پاکستانی حکام نے قونصل خانہ کی سیکیورٹی میں اضافے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔پاکستانی قونصل خانہ پر ہونے والے اس حملے کے بعد، پاکستانی کمیونٹی اور بین الاقوامی سفارتی حلقوں نے اس واقعے کی مذمت کی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جائیں گی۔

  • آئی پی پیز سے کئے گئے معاہدے قوم کے سامنے لائے جائے،حافظ نعیم الرحمان

    آئی پی پیز سے کئے گئے معاہدے قوم کے سامنے لائے جائے،حافظ نعیم الرحمان

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے آئی پی پیز معاہدوں کو قوم کے سامنے لانے کا مطالبہ کردیا۔اپنے ایک بیان میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بجلی کا بحران ہے، اگربجلی زیادہ ہےتوپھرلوڈشیڈنگ کیوں ہورہی ہے؟ 1994سےآئی پی پیزمعاہدوں کا دھندا چل رہا ہے، مہنگی بجلی نےمعیشت اورمڈل کلاس طبقے کو برباد کر دیا ہے، جاگیردار اور وڈیرے حکومت میں بیٹھےہیں ان پرٹیکس نہیں لگایاگیا۔انہوں نے کہا کہ ہم کسی پارٹی سےنہیں عوام،تاجروں اور نوجوانوں کےساتھ اتحاد کر رہے ہیں، "حق دوعوام کو” تحریک شروع کررہےہیں، 26جولائی کو اسلام آباد ڈی چوک میں دھرنا ہوگا، بجلی کی قیمت اورغیرضروری ٹیکسزکم کیےجائیں، ہمارا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں، ہمارا یجنڈا عوام کوریلیف دلانا ہے۔انہوں نے کہا کہ تاجرٹیکس دینا چاہتا ہےلیکن سہولیات نہیں دی جاتیں، بڑے بڑے لوگوں کی مفت بجلی اورمراعات کوختم کیا جائے، آئی پی پیزمعاہدے ہمیں قبول نہیں، آئی پی پیزمعاہدوں پرنظرثانی کی جائے، آئی پی پیزمعاہدوں کو قوم کے سامنے لایا جائے۔
    حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ امریکی جنگ کے نیتجے میں ہماری معیشت کو نقصان پہنچا، آپریشن کے نتیجے میں فوج اورعوام کےدرمیان فاصلے بڑھتے ہیں، امریکی جنگ کی وجہ سےخیبرپختونخوا کا محفوظ بارڈربھی غیرمحفوظ ہوگیا، افغانستان ہمارا ہمسایہ ملک ہے، خدانخواستہ اگر پاکستان اور افغانستان کی لڑائی ہوگی تواسرائیل،امریکا اور بھارت خوش ہوگا۔انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کو اندھی لڑائی میں نہ جھونکے، قوم سےقربانی مانگنے والے پہلے خود قربانی دیں، بنوں واقعہ کے نتیجےمیں بداعتمادی کی فضا پیدا ہوئی ہے، موجودہ صورتحال میں نقصان عوام اور پاکستان کا ہورہا ہے، امن کےبغیر سیاست اور نہ ہی معیشت چلےگی۔امیر جماعت اسلامی کا مزید کہنا تھا کہ ری الیکشن نئی سودے بازی کےلیے کیا جائےگا، پاکستان کوجمہورکی رائےکےمطابق چلایا جائے، حکومت تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے۔