لندن: پاکستان پریس کلب لندن کے سینیئر نائب صدر چوہدری تبریز لندن گینگ مافیا کے حملے میں شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، مشرقی لندن کی الفریڈ لائن پر واقع مقامی ریسٹورنٹ میں چوہری تبریز اور ان کے صحافی دوست کھانا کھا رہے تھے کہ چھ سے سات افراد پر مشتمل گینگ نے اچانک حملہ کر دیا۔چوہدری تبریز اور نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے گینگ کا مقابلہ کیا اور انہیں بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ پولیس کو فوری طور پر بلایا گیا اور چوہدری تبریز کو زخمی حالت میں پولیس کی حفاظت میں ایمرجنسی ہسپتال منتقل کیا گیا۔
واضح رہے کہ چوہدری تبریز اور انے کل ہی اپنی ایک ویڈیو میں الفریڈ لائن پر موجود بزنسز کے بارے میں سنسنی خیز انکشافات کیے تھے، جس کے بعد ان پر یہ حملہ ہوا۔ لندن کے صحافیوں اور پاکستانی پریس کلبز نے واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ہسپتال پہنچنے والے صحافیوں نے چوہدری تبریز اور کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی بدمعاشی برداشت نہیں کی جائے گی۔ صحافیوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ معاشرتی ناسوروں کو بے نقاب کریں گے اور ایسے حملوں کے خلاف متحد ہو کر آواز اٹھائیں گے۔
لندن میں پاکستانی صحافیوں کے لیے یہ واقعہ ایک سنگین انتباہ ہے کہ صحافت اور سچائی کے اظہار کی قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔ صحافیوں کی برادری نے اس حملے کو آزادی صحافت پر حملہ قرار دیتے ہوئے مزاحمت کا عزم ظاہر کیا ہے۔یہ واقعہ صحافیوں کی سیکیورٹی اور ان کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور اس بات کی ضرورت کو واضح کرتا ہے کہ صحافتی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے دوران پیش آنے والی مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔
Author: صدف ابرار
-

لندن میں پاکستانی صحافی چوہدری تبریز اورا پر حملہ: صحافیوں کا شدید احتجاج
-

شرپسند عناصر کا پاکستان کے پرچم کو اتارنا ناقابل برداشت ہے، امیر مقام
فرینکفرٹ میں پاکستانی قونصل خانے پر افغان شہریوں کے حملے نے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں نئی کشیدگی پیدا کر دی ہے۔ وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان، انجینئر امیر مقام نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے افغان حکومت سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔امیر مقام نے اپنے بیان میں کہا، "پاکستانی پرچم کو اتارنا ایک ناقابل برداشت عمل ہے۔ یہ ہماری قومی عزت کی توہین ہے اور اسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔” انہوں نے جرمن حکومت سے بھی اپیل کی کہ وہ اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرے۔
وزیر نے اس واقعے کو پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کو خراب کرنے کی سازش قرار دیا۔ انہوں نے کہا، "پاکستان نے چوالیس سال تک افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے۔ کیا یہ اس مہمان نوازی کا بدلہ ہے؟” ان کا اشارہ ان لاکھوں افغان مہاجرین کی طرف تھا جو 1979 سے پاکستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔امیر مقام نے اس بات پر زور دیا کہ سفارت خانے کی حفاظت میزبان ملک کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ انہوں نے جرمن حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق اقدامات کرے۔ "ہم جرمنی سے توقع کرتے ہیں کہ وہ اس سنگین واقعے کو نظرانداز نہیں کرے گا،” انہوں نے کہا۔
وزیر نے خبردار کیا کہ پاکستان کے پرچم کی توہین کرنے والوں کے لیے پاکستانیوں کے دلوں میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ "ہم ایسے عناصر کو کبھی معاف نہیں کریں گے جو ہماری قومی شناخت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں،” انہوں نے مزید کہا۔یہ واقعہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات پہلے سے ہی کشیدہ ہیں۔ حال ہی میں، پاکستان نے افغانستان پر سرحد پار دہشت گردی کے الزامات عائد کیے ہیں، جبکہ افغانستان نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔اس واقعے کے بعد، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کس سمت میں جاتے ہیں۔ پاکستان کی طرف سے سخت ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے لے رہا ہے اور افغان حکومت سے ٹھوس اقدامات کی توقع کر رہا ہے۔ -

جنوری 2025 سے بجلی کی قیمتوں میں 4 سے 5 فیصد کمی کی جائے گی : اویس لغاری
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے اعلان کیا ہے کہ جنوری 2025 سے بجلی کی قیمتوں میں 4 سے 5 فیصد کمی کی جائے گی۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کوئلے سے بجلی بنانے کیلئے چینی سرمایہ کاری لا رہے ہیں، جس سے بجلی کی قیمت 2 روپے فی یونٹ کم ہوگی۔اویس لغاری نے کہا کہ بجلی کی قیمت کم کرنا ہمارے لئے سب سے بڑا چیلنج اور ترجیح ہے۔ پچھلے سال کی ری بیسنگ کے باعث بجلی کے بلوں پر 6 ماہ تک دباؤ رہے گا، لیکن 200 یونٹ والے 2 کروڑ 80 لاکھ صارفین کی سہولت اور تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ آئی پی پیز (آزاد پاور پروڈیوسرز) کی کپیسٹی پیمنٹ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ معاہدوں کی شرائط میں نرمی کے لئے حکومت کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی بیان بازی کرنا آسان ہے، لیکن ہم مکمل ذمہ داری کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔اویس لغاری نے موجودہ حکومت کے دورانیے کے بارے میں کہا کہ ابھی حکومت کو تین چار ماہ ہی ہوئے ہیں اور مسائل کا حل جلد نکال لیا جائے گا۔ انہوں نے سابق نگران وزرا پر تنقید کی اور کہا کہ انہوں نے اپنے دور میں کچھ نہیں کیا اور اب صرف سیاسی بیان بازی کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر کے اس اعلان کے بعد عوام کو امید ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی سے ان کے بجلی کے بلوں میں کمی آئے گی اور ان کی زندگیوں میں ریلیف ملے گا۔ چینی سرمایہ کاری کے ساتھ کوئلے سے بجلی بنانے کے منصوبے کی تکمیل سے ملک میں بجلی کی قیمتوں میں مزید کمی ممکن ہوگی۔اویس لغاری کا یہ اعلان عوام کے لئے ایک خوشخبری ہے، جو بجلی کے بلوں میں کمی کے منتظر تھے۔ حکومت کی کوششیں اور چینی سرمایہ کاری سے بجلی کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے، جس سے عوام کو بڑا ریلیف ملے گا۔ -

گلگت بلتستان: 2 پاکستانیوں سمیت 13 کوہ پیماؤں کی گاشہ برم ٹو (کے فور) سر کرنے کی کامیابی
گلگت بلتستان: دنیا کی تیرویں بلند ترین چوٹی، گاشہ برم ٹو، جسے کے فور بھی کہا جاتا ہے، کو 2 پاکستانی کوہ پیماؤں سمیت 13 کوہ پیماؤں نے کامیابی سے سر کر لیا ہے۔ اس عظیم کارنامے کا اعلان نیپالی کوہ پیمائی کمپنی سیون سمٹ ٹریکس کے منیجر چھانگ داوا شیرپا نے سوشل میڈیا پر کیا۔چھانگ داوا شیرپا نے اپنی پوسٹ میں بتایا کہ ان کی ٹیم نے گاشہ برم ٹو کو کامیابی کے ساتھ سر کر لیا ہے اور اس پر انہیں فخر ہے۔ انہوں نے کہا، "ہم نے یہ سنگ میل رسیوں کو ٹھیک کرتے ہوئے اور ٹریل کھولتے ہوئے حاصل کیا، اور یہ سب ٹیم ورک کے ذریعے ممکن ہوا ہے۔ ہر رکن کی غیر معمولی استقامت پر ہم انہیں مبارکباد پیش کرتے ہیں۔”
چوٹی سر کرنے والے کوہ پیماؤں میں روس کی الینا پیکووا، پولینڈ سے ڈوروٹا لیڈیا راسینسکا سموکو، سوئٹزرلینڈ سے جوزیٹ ویلوٹن، اٹلی سے مارکو کمڈونا، اور نیپال سے پاسنگ ٹینجے شیرپا شامل ہیں۔ نیپال سے داوا نوربو شیرپا، چھانگ داوا شرپا، فربو کُوبا، شیرپا، پاسنگ ڈوکپا شیرپا، اور سانو شیرپا بھی چوٹی سر کرنے والوں میں شامل ہیں۔نیپال کی ٹیم کے علاوہ، البانیہ سے یوتا ابراہیمی اور پاکستان سے شاہدہ جمیل آفریدی اور رانا حسین جاوید نے بھی چوٹی سر کرنے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔قراقرم ایڈوینچر ٹورازم کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر سخاوت حسین نے بھی تصدیق کی کہ 13 کوہ پیماؤں نے اتوار کو مختلف اوقات میں چوٹی کو سر کر لیا ہے۔یہ کارنامہ ان کوہ پیماؤں کے عزم اور ہمت کا منہ بولتا ثبوت ہے، جو اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے دنیا کی بلند ترین چوٹیاں سر کرنے کے لئے نکلتے ہیں۔ گاشہ برم ٹو کو سر کرنا ان تمام کوہ پیماؤں کے لئے ایک بڑا اعزاز ہے اور یہ ان کی محنت اور لگن کا نتیجہ ہے۔ -

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور پر شدید تنقید، مناظرے کا چیلنج
مانسہرہ: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے کی بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کو مناظرے کا چیلنج دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کا بٹن میرے ہاتھ میں ہے اور جس دن چاہوں اسے آن آف کر سکتا ہوں۔مانسہرہ میں ایک ورکرز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہو چکی ہے اور حکومت اس مسئلے کو حل کرنے میں ناکام ہے۔ انہوں نے کہا کہ "جن کی عزت نہیں وہ بھی مجھے ہتک عزت کا نوٹس بھیج رہے ہیں۔” انہوں نے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کی طرف سے بھیجے گئے ہتک عزت نوٹسز کو بے حیثیت قرار دیا۔
فیصل کریم کنڈی نے علی امین گنڈا پور کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی پارٹی کے دور حکومت کی دس سالہ کارکردگی پر ان سے مناظرہ کریں۔ "چاہیں تو چینل اور اینکر اپنی مرضی کے لے کر آئیں،گورنر نے مزید کہا کہ عوام نے پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا ہے اور وہ گورنر رول کا نفاذ کر کے اسے سیاسی شہید نہیں بننے دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں لاقانونیت عروج پر ہے اور حکومت کو امن عامہ کی سنگین صورتحال پر اسمبلی کا ان کیمرہ اجلاس جلد بلانا چاہیے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت اپنے ممبران اسمبلی کو بھی صوبے کی مخدوش صورتحال پر آگاہی دینے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس سنگین مسئلے پر فوری توجہ دے اور امن و امان کی بحالی کے لئے ٹھوس اقدامات کرے۔گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ "صوبے میں عوام کی جان و مال کی حفاظت حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، لیکن موجودہ حکومت اس میں ناکام رہی ہے۔” انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ صوبے کی عوام کے حقوق کے لئے ہر ممکن اقدامات کریں گے اور حکومت کو اس کی ناکامیوں پر آڑے ہاتھوں لیں گے۔صوبے کی بگڑتی صورتحال پر تنقید
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ "صوبے میں لاقانونیت عروج پر ہے اور حکومت امن عامہ کی سنگین صورتحال پر فوری اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔” انہوں نے پی ٹی آئی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "پی ٹی آئی حکومت اپنے ممبران اسمبلی کو ہی صوبے کی مخدوش صورت حال پر آگاہی دینے میں ناکام ہے۔”گورنر رول کا نفاذ
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ عوام نے پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا ہے اور وہ گورنر رول کا نفاذ کر کے اسے سیاسی شہید نہیں بننے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم عوام کے حق کی حفاظت کریں گے اور حکومت کی ناکامیوں کو بے نقاب کریں گے۔”گورنر خیبرپختونخوا کے یہ بیانات صوبے کی سیاسی صورتحال میں ایک نیا موڑ لانے کا سبب بن سکتے ہیں اور سیاسی میدان میں گرما گرمی کا باعث بن سکتے ہیں۔ عوام اور سیاسی تجزیہ کار ان بیانات کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ -

شفقت محمود کے استعفی کی وجہ سامنے آگئی
تحریک انصاف کے سابق وفاقی وزیر شفقت محمود کے استعفی کی وجہ پارٹی سے اندرونی اختلافات اور پارٹی قیادت کے ساتھ ناچاقی بتائی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق، شفقت محمود کے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ اس وقت کیا گیا جب گزشتہ سال کے انتخابات میں لاہور کے ماڈل ٹاؤن حلقے کے لئے پارٹی نے ان کی بجائے سلمان اکرم راجہ کو ٹکٹ دیا۔شفقت محمود، جو لاہور کے ماڈل ٹاؤن حلقے سے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر دو مرتبہ رکن قومی اسمبلی رہ چکے ہیں، نے 9 مئی سے پارٹی میں کوئی فعال کردار ادا نہیں کیا۔ تحریک انصاف کی قیادت کی متعدد کوششوں کے باوجود محمود نے کوئی جواب نہیں دیا، جس کے نتیجے میں انہوں نے بالآخر استعفیٰ دے دیا۔
ذرائع کے مطابق، محمود اور تحریک انصاف کی قیادت کے درمیان اختلافات اس وقت شروع ہوئے جب پارٹی نے راجہ کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا، جس سے محمود کو مایوسی اور احساس محرومی کا سامنا کرنا پڑا۔ محمود کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کا استعفیٰ ان کی بڑھتی ہوئی مایوسی اور پارٹی کی داخلی سیاست سے بیزاری کا نتیجہ ہے۔
شفقت محمود کا تحریک انصاف سے مستعفی ہونا پارٹی کے لئے ایک بڑا دھچکہ سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ ان کا پارٹی کے اندر بڑا اثر و رسوخ تھا۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں پارٹی کی داخلی سیاست پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور پارٹی کی تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلیاں متوقع ہیں۔
جیسے ہی محمود کے استعفیٰ کی خبر پھیل گئی، سیاسی تجزیہ کاروں نے اس پیش رفت کے ممکنہ نتائج پر تبصرے شروع کر دیے ہیں۔ کچھ تجزیہ کار اسے تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات کی علامت سمجھتے ہیں، جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ یہ محمود کی جانب سے پارٹی کی تنازعات سے دور رہنے کی ایک حکمت عملی ہو سکتی ہے۔آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت محمود کے استعفیٰ پر کیسے ردعمل دیتی ہے اور کیا پارٹی اس اہم رکن کے جانے سے پیدا ہونے والے اثرات کو سنبھال پائے گی یا نہیں۔ ایک بات تو واضح ہے کہ شفقت محمود کا استعفیٰ سیاسی منظر نامے میں زبردست ہلچل پیدا کر چکا ہے اور اس کے اثرات کو سیاسی مبصرین اور تجزیہ کار بہت قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ -

سیاست پیپلزپارٹی سے شروع، پی ٹی آئی پر ختم، وزیر دفاع خواجہ آصف کا شفقت محمود پر تنقید
وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنے ایک تازہ ٹویٹ میں تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود پر سخت تنقید کی ہے، ان کی سیاستی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان کی سیاست پیپلزپارٹی سے شروع ہوئی، پھر مشرف کے دور سے گزرتی ہوئی شہباز شریف اور پی ٹی آئی پر ختم ہوئی۔خواجہ آصف نے کہا کہ وہ شفقت محمود کو 1964ء سے جانتے ہیں اور ان کے ساتھ تقریباً 50 سے 55 سال قریبی دوستی کی غلط فہمی بھی رہی۔ اس دوران انہوں نے بہت سے اچھے اور برے کام اکٹھے کیے، جن میں برے زیادہ اور اچھے کم تھے۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ جب بانی پی ٹی آئی عمران خان کی کابینہ نے ان پر آرٹیکل 6 لگانے کا فیصلہ کیا تو شفقت محمود نے ان کے خلاف زبردست پریس کانفرنس کی اور ان کے اقامے اور بیرون ملک تنخواہ کو اس کا جواز بتایا۔ "میں نے ایف آئی اے کی انکوائری بھگتی، میرا اقامہ، تنخواہ اور کاروبار سب 30 سال سے ڈیکلیئرڈ تھے، انکوائری نمٹ گئی مگر کچھ لوگ تو پہچانے گئے لیکن نصف صدی لگی،” خواجہ آصف نے کہا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ جب شفقت محمود شہباز شریف کے ساتھ تھے تو عمران خان کے خلاف بڑی اچھی انگریزی میں کالم لکھتے رہے۔ "مشکل وقت میں تعلق نبھانا، ڈی این اے میں وفاداری اور حوصلہ ہونا اللہ کی عطا ہے،” انہوں نے مزید کہا۔خواجہ آصف کی یہ تنقید سیاسی میدان میں ایک نئی بحث کو جنم دے سکتی ہے، جس میں دونوں رہنماؤں کی سیاسی تاریخ اور ان کی وفاداریوں پر سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں۔ -

پی ٹی آئی ایک دہشت گرد جماعت ہے،عطا اللہ تارڑ
اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بنوں مارچ میں تحریک انصاف کے مسلح افراد شامل تھے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ اس واقعے میں سکیورٹی ادارے اور عوام کو لڑانے کی کوشش کی گئی اور بنوں حملے کو پی ٹی آئی نے غلط رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کے پی حکومت کے انکوائری کے حکم کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے سمجھ سے بالاتر قرار دیا۔اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران، عطا تارڑ نے کہا، "کچھ حقائق عوام کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ پی ٹی آئی نے ہمیشہ انتشار اور تشدد کی سیاست کی ہے۔ ملک میں عدم استحکام اور انتشار پیدا کرنا ہی پی ٹی آئی کا منشور اور مشن ہے۔”
انہوں نے وضاحت کی کہ بنوں میں تاجروں کا ایک امن مارچ تھا جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے لوگ شامل ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے لوگوں کو تشدد پر اکسایا۔ "کیا امن مارچ میں لوگ مسلح ہو کر آتے ہیں؟ جہاں دہشتگردی ہوئی وہاں جا کر فائرنگ کی گئی۔ بنوں میں دنگا فساد کرانے کی کوشش کی گئی۔ بنوں واقعہ تحریک انصاف نے خود کیا ہے اور اس میں آپ کے لوگ ملوث ہیں، آپ خود ہی کیسے انکوائری کراسکتے ہیں؟” عطا تارڑ نے سوال اٹھایا۔انہوں نے مزید کہا کہ 2014 کے دھرنے کے دوران پی ٹی وی پر حملے اور توڑ پھوڑ کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت نے مبارکبادیں دیں۔ "یہ لوگ ہمیشہ لاشوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ کسی جلسے میں لوگ بے ہوش ہوئے تو بانی پی ٹی آئی خوش ہوئے۔ ان کی کوشش رہی کہ اپنے لوگوں کو مروا کر الزام حکومت پر لگایا جائے۔ یہ لوگ شہداء کی قربانیوں کا بھی پاس نہیں رکھتے،” عطا تارڑ نے کہا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بنوں واقعہ میں تحریک انصاف کے افراد کا شامل ہونا اور اس کے بعد کے پی حکومت کا انکوائری کا حکم سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے اس واقعے کو پی ٹی آئی کی ایک اور کوشش قرار دیا کہ وہ عوام میں انتشار اور بدامنی پھیلانے کے لیے سکیورٹی اداروں کو نشانہ بنائیں۔عطا تارڑ کے مطابق، حکومت اس طرح کے واقعات کی پوری تفتیش کرے گی اور عوام کو مکمل حقائق سے آگاہ رکھا جائے گا تاکہ ملک میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور حکومت کے ساتھ تعاون کریں تاکہ ملک میں امن و استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔ -

پاکستان کی پہلی ائیر ایمبولینس نے آپریشن کا آغاز کر دیا
پنجاب حکومت نے صوبے کے لئے پہلی ائیر ایمبولینس کا آغاز کر دیا ہے، جس نے پاکستان کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا ہے۔ یہ اقدام عوام کو فوری اور مؤثر طبی امداد فراہم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔میانوالی میں ایک چھت سے گر کر مفلوج ہونے والی مریضہ، حلیمہ بی بی، کو فوری طبی امداد کی ضرورت تھی۔ میانوالی کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے سرجن نے انہیں راولپنڈی کے ایک بڑے ہسپتال میں منتقل کرنے کی سفارش کی۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی ہدایت پر، حلیمہ بی بی کو "گولڈن آور” کے دوران میانوالی سے راولپنڈی کامیابی کے ساتھ منتقل کر دیا گیا۔ اس آپریشن کی نگرانی ڈاکٹر رضوان نصیر نے کی۔ ریسکیو ایئر ایمبولینس کی آزمائشی سروس کے ذریعے حلیمہ بی بی کو فوری طور پر منتقل کر کے ان کی جان بچائی گئی۔وزیر اعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ صوبے کی عوام کی خدمت اور ان کی زندگی میں آسانی لانے کے لئے حکومت متعدد منصوبے لا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام کی زندگی میں ریلیف دینے کے لیے یہ اقدامات جاری رہیں گے۔یہ کامیاب آپریشن پنجاب حکومت کی عوامی خدمت کے عزم کا مظہر ہے اور مستقبل میں مزید ایسے اقدامات کی توقع کی جا رہی ہے جو عوام کو فوری طبی امداد فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔ -

7 نامعلوم افراد کا خلیل الرحمان پر تشدد ، مقدمہ درج
معروف رائٹر خلیل الرحمان قمر پر تشدد اور لوٹ مار کا واقعہ ، سندر پولیس نے خلیل الرحمان کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا۔ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ آمنہ نامی خاتون نے 15 جولائی کو رات 12بجےفون کر کے بلایا، خاتون نے کہا کہ وہ ان کی فین ہیں اور ملکر ڈرامہ بنانا چاہتی ہے،خاتون نے4بجکر 40 منٹ پر بلایا اور ڈلیوری بوائے کے بہانے ساتھیوں کو بلا لیا ۔خاتون کے7ساتھیوں نے کمرے میں داخل ہوتے ہی تشددکا نشانہ بنانا شروع کردیا جس کے بعد انھوں نے 2لاکھ 73ہزار نقدی اور موبائل فون بھی چھین لیا،اغوا کار خلیل الرحمان قمر سےایک کروڑ تاوان کا مطالبہ کرتے رہے۔
اغواکارخلیل الرحمان قمرکونامعلوم جگہ پر لے گئے اور تشددکانشانہ بناتےرہے،اغواکاروں کے اسرار پر خلیل الرحمان قمرنے دوست حفیظ کو 10لاکھ دینے کا کہا،دوست کیجانب سےپیسےنہ دینےپراغواکاروں نےتشددکانشانہ بنایا اور پھر ملزمان خلیل الرحمان کو نامعلوم جگہ پر چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تھانہ سندر میں اغوا اور ڈکیتی کی دفعات کےتحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔