پنجاب حکومت نے صوبے کے لئے پہلی ائیر ایمبولینس کا آغاز کر دیا ہے، جس نے پاکستان کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا ہے۔ یہ اقدام عوام کو فوری اور مؤثر طبی امداد فراہم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔میانوالی میں ایک چھت سے گر کر مفلوج ہونے والی مریضہ، حلیمہ بی بی، کو فوری طبی امداد کی ضرورت تھی۔ میانوالی کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے سرجن نے انہیں راولپنڈی کے ایک بڑے ہسپتال میں منتقل کرنے کی سفارش کی۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی ہدایت پر، حلیمہ بی بی کو "گولڈن آور” کے دوران میانوالی سے راولپنڈی کامیابی کے ساتھ منتقل کر دیا گیا۔ اس آپریشن کی نگرانی ڈاکٹر رضوان نصیر نے کی۔ ریسکیو ایئر ایمبولینس کی آزمائشی سروس کے ذریعے حلیمہ بی بی کو فوری طور پر منتقل کر کے ان کی جان بچائی گئی۔وزیر اعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ صوبے کی عوام کی خدمت اور ان کی زندگی میں آسانی لانے کے لئے حکومت متعدد منصوبے لا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام کی زندگی میں ریلیف دینے کے لیے یہ اقدامات جاری رہیں گے۔یہ کامیاب آپریشن پنجاب حکومت کی عوامی خدمت کے عزم کا مظہر ہے اور مستقبل میں مزید ایسے اقدامات کی توقع کی جا رہی ہے جو عوام کو فوری طبی امداد فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔
Author: صدف ابرار
-

پاکستان کی پہلی ائیر ایمبولینس نے آپریشن کا آغاز کر دیا
-

7 نامعلوم افراد کا خلیل الرحمان پر تشدد ، مقدمہ درج
معروف رائٹر خلیل الرحمان قمر پر تشدد اور لوٹ مار کا واقعہ ، سندر پولیس نے خلیل الرحمان کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا۔ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ آمنہ نامی خاتون نے 15 جولائی کو رات 12بجےفون کر کے بلایا، خاتون نے کہا کہ وہ ان کی فین ہیں اور ملکر ڈرامہ بنانا چاہتی ہے،خاتون نے4بجکر 40 منٹ پر بلایا اور ڈلیوری بوائے کے بہانے ساتھیوں کو بلا لیا ۔خاتون کے7ساتھیوں نے کمرے میں داخل ہوتے ہی تشددکا نشانہ بنانا شروع کردیا جس کے بعد انھوں نے 2لاکھ 73ہزار نقدی اور موبائل فون بھی چھین لیا،اغوا کار خلیل الرحمان قمر سےایک کروڑ تاوان کا مطالبہ کرتے رہے۔
اغواکارخلیل الرحمان قمرکونامعلوم جگہ پر لے گئے اور تشددکانشانہ بناتےرہے،اغواکاروں کے اسرار پر خلیل الرحمان قمرنے دوست حفیظ کو 10لاکھ دینے کا کہا،دوست کیجانب سےپیسےنہ دینےپراغواکاروں نےتشددکانشانہ بنایا اور پھر ملزمان خلیل الرحمان کو نامعلوم جگہ پر چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تھانہ سندر میں اغوا اور ڈکیتی کی دفعات کےتحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ -

سعودی عرب میں منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن: 4 پاکستانی گرفتار
ریاض: سعودی عرب میں منشیات کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران 4 پاکستانیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ادارہ انسداد منشیات کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران بڑی مقدار میں منشیات برآمد کی گئی ہیں۔ ریاض ریجن میں کی جانے والی کارروائی میں ایک پاکستانی اور ایک ایتھوپین شہری کو گرفتار کیا گیا، جن کے قبضے سے 20 کلوگرام چرس برآمد ہوئی۔ یہ دونوں افراد منشیات کی فروخت اور سپلائی میں ملوث تھے۔اسی طرح جدہ میں 3 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کیا گیا، جن سے 6 کلوگرام چرس برآمد ہوئی۔ ان افراد کو منشیات کی سمگلنگ اور فروخت کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔
ادارہ انسداد منشیات نے ینبع میں بھی ایک کامیاب کارروائی کی، جس کے دوران ایک سعودی شہری کو ساڑھے 7 کلوگرام چرس کے ساتھ گرفتار کیا گیا۔ یہ شخص بھی منشیات کی غیر قانونی تجارت میں ملوث تھا۔جازان میں ادارہ انسداد منشیات نے 4 ایتھوپین شہریوں کو گرفتار کیا اور ان کے قبضے سے بھی منشیات برآمد کی۔ ان تمام افراد کے خلاف مقدمات درج کر لئے گئے ہیں۔ادارہ انسداد منشیات نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ کارروائیاں ملک میں منشیات کے پھیلاؤ کو روکنے اور نوجوان نسل کو اس زہر سے بچانے کے لئے کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ منشیات فروشوں کے بارے میں معلومات فراہم کر کے اس مہم میں ادارے کا ساتھ دیں۔یہ کارروائیاں سعودی عرب کی حکومت کی منشیات کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی کا حصہ ہیں، جس کے تحت منشیات فروشوں اور سمگلروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔
-

کسی بھی سیاسی پارٹی پر پابندی مناسب نہیں،گورنر پنجاب سردار سلیم
گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا ہے کہ میں ذاتی طور پر سیاسی جماعتوں پر پابندی کو مناسب نہیں سمجھتا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سردار سلیم حیدر خان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف پر پابندی کا فیصلہ ن لیگ کا اپنا تھا ہم سے اس بارے مشاورت نہیں ہوئی بعد میں ایک میٹنگ ضرور ہوئی تھی، پاکستان پیپلز پارٹی پی ٹی آئی پر پابندی کے حوالے سے پارٹی اجلاس میں مشورہ کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ میں ذاتی طور پر سیاسی جماعتوں پر پابندی کو مناسب نہیں سمجھتا، پی ٹی آئی کو دو حصوں میں رکھ کر سوچیں ایک 9 مئی والے دوسرے محب وطن سیاستدان ہیں، 9 مئی میں ملوث افراد پر کیسز چلا کر اگر وہ ذمہ دار ہوں تو سزائیں دیں۔گورنر پنجاب نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی میں جو سیاستدان 9 مئی میں ملوث نہیں ان کے خلاف کارروائی مناسب نہیں۔انہوں نے کہا کہ پابندی کے معاملے کو پارٹی کے سی ای سی اجلاس میں لیجایا جائے گا، پی ٹی آئی پر پابندی کے حوالے سے فیصلہ پارٹی کے اعلیٰ سطح اجلاس میں ہوگا۔ -

ہم فارم 47 والوں کے لیے میدان خالی نہیں چھوڑیں گے،علی محمد خان
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنے موقف میں واضح کر دیا ہے کہ وہ نہ تو صوبائی اسمبلیوں کو توڑے گی اور نہ ہی قومی اسمبلی سے استعفیٰ دے گی۔ یہ اعلان پی ٹی آئی کے رہنما علی محمد خان نے کیا۔علی محمد خان نے اپنے بیان میں کہا، "ہم فارم 47 والوں کے لیے میدان خالی نہیں چھوڑیں گے۔ ہم لوٹا ہوا مینڈیٹ واپس لے کر حکومت بنائیں گے، جس کے وزیرِ اعظم بانی پی ٹی آئی ہوں گے۔”یہ بیان جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے دعوے کے بعد آیا ہے۔ مولانا نے گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا اسمبلی توڑنے اور قومی و صوبائی اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی یقین دہانی کروائی ہے۔
تاہم، پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے مولانا فضل الرحمٰن کے اس بیان کی فوری طور پر تردید کی۔ جیو نیوز سے گفتگو میں انہوں نے کہا، "تحریک انصاف نے مولانا فضل الرحمٰن سے اسمبلیاں تحلیل کرنے یا استعفوں پر کوئی بات نہیں کی۔”یہ تضاد پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کی پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ وہ جمہوری عمل کا حصہ بنے رہنا چاہتی ہے، جبکہ دوسری جانب وہ موجودہ حکومت کو "لوٹا ہوا مینڈیٹ” قرار دے رہی ہے۔آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ پی ٹی آئی کس حکمت عملی پر عمل کرتی ہے اور اس کا پاکستان کی سیاسی صورتحال پر کیا اثر پڑتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی اہم ہوگا کہ دیگر سیاسی جماعتیں اس صورتحال پر کیا ردعمل دیتی ہیں -

نیب کی ٹیم کا اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی سے تفتیش کا سلسلہ جاری
قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم نے آج پھر اڈیالہ جیل کا رخ کیا، جہاں وہ توشہ خانہ کیس کے نئے ریفرنس میں سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے تفتیش کر رہی ہے۔نیب کے ڈپٹی ڈائریکٹر مستنصر امام شاہ کی سربراہی میں آئی ٹیم کا یہ تفتیش کا ساتواں روز ہے۔ جیل ذرائع کے مطابق، نیب کی ٹیم عمران خان اور بشریٰ بی بی سے مسلسل پوچھ گچھ کر رہی ہے۔اس تفتیش سے متعلق پیشرفت رپورٹ کل عدالت میں پیش کی جائے گی۔ یہ رپورٹ اہم ہو سکتی ہے کیونکہ اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکے گا کہ تفتیش کس سمت میں جا رہی ہے اور کیا کوئی نئے انکشافات سامنے آئے ہیں۔
یاد رہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ کیس کے نئے ریفرنس میں 8 روز کے جسمانی ریمانڈ پر رکھا گیا ہے۔ یہ ریمانڈ اس ہفتے کے آخر میں ختم ہو رہا ہے۔
توشہ خانہ کیس میں الزام ہے کہ عمران خان نے بطور وزیراعظم اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے توشہ خانہ سے قیمتی تحائف حاصل کیے اور انہیں اپنے ذاتی استعمال میں لایا۔اس کیس نے پاکستان کی سیاست میں ہلچل مچا رکھی ہے۔ پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ یہ سیاسی انتقام کی کارروائی ہے، جبکہ حکومت اور نیب کا کہنا ہے کہ یہ محض قانون کے مطابق کارروائی ہے۔آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ نیب کی تفتیش کے کیا نتائج نکلتے ہیں اور اس کا پاکستان کی سیاسی صورتحال پر کیا اثر پڑتا ہے -

پاکستان میں سیاسی کشیدگی: تحریک تحفظ آئین کا ملک گیر احتجاج کا اعلان
پاکستان کی سیاسی فضا میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے جب تحریک تحفظ آئین نے آئندہ جمعہ، 26 جولائی کو ملک بھر میں احتجاج کی کال دی ہے۔ پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اس احتجاج کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال، مہنگائی، اور سیاسی جماعتوں پر کریک ڈاؤن کے خلاف ہوگا۔اسد قیصر نے خاص طور پر عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے حقوق کے لیے اس احتجاج میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ ساتھ ہی انہوں نے دیگر سیاسی جماعتوں، بشمول جی ڈی اے، کو بھی اس احتجاج میں شامل ہونے کی دعوت دی۔
اسد قیصر نے الزام لگایا کہ حکومت ارکان قومی اسمبلی کی "خریداری” کی کوشش کر رہی ہے اور انہیں دباؤ میں لا کر ان کی وفاداریاں تبدیل کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔
اسی دن، یعنی 26 جولائی کو، جماعت اسلامی پاکستان نے بھی اسلام آباد میں مہنگائی اور بجلی کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف احتجاج اور دھرنے کا اعلان کیا ہے۔یہ احتجاج ملک میں موجودہ سیاسی اور معاشی بحران کی عکاسی کرتا ہے۔ حکومت پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ عوامی مسائل کا حل نکالے اور سیاسی استحکام کو یقینی بنائے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ یہ احتجاج کس طرح کے نتائج سامنے لاتا ہے اور حکومت اس صورتحال سے کیسے نمٹتی ہے -

ہنزہ کی نوجوان گلوکارہ نوریمہ ریحان کی کوک اسٹوڈیو میں شاندار انٹری
گلگت بلتستان کی خوبصورت وادی ہنزہ سے تعلق رکھنے والی 18 سالہ نوریمہ ریحان نے کوک اسٹوڈیو کے 15ویں سیزن کے آخری گانے "مہمان” میں اپنی آواز کا جادو جگایا ہے۔ یہ گانا یوٹیوب پر ریلیز ہونے کے صرف دو ہفتوں میں تقریباً 5 ملین بار دیکھا جا چکا ہے۔نوریمہ ریحان پہلے ہی 2023 میں مشہور بھارتی گلوکارہ آشا بھوسلے کے گانے "ان آنکھوں کی مستی” کی ویڈیو سے شہرت حاصل کر چکی تھیں۔ اس کے بعد انہیں کنگ چارلس تھرڈ کی تاج پوشی کی تقریب میں شرکت کا موقع بھی ملا تھا۔
نوریمہ نے عرب نیوز کو دیئے گئے انٹرویو میں بتایا کہ "میرے خاندان، خاص طور پر میرے والد اور ہنزہ اور گلگت کی کمیونٹی نے مجھے بہت سپورٹ کیا۔ اس لیے مجھے موسیقی کے شعبے میں آگے بڑھنے میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئی۔”

کوک اسٹوڈیو کے پروڈیوسر ذوالفقار جبار خان، جو "ذولفی” کے نام سے مشہور ہیں، نے یوٹیوب پر نوریمہ کی آواز سن کر انہیں شو میں شامل کیا۔ نوریمہ نے بتایا کہ "مہمان” گانے کی ریکارڈنگ ایک مختصر وقت میں مکمل کی گئی۔اس گانے میں نوریمہ کے ساتھ مشہور گلوکارہ زیب النساء بنگش اور نظام الدین تورولی نے بھی اپنی آواز دی ہے۔ نوریمہ نے کہا کہ زیب النساء کے ساتھ کام کرنا ان کے لیے ایک بڑا موقع تھا۔نوریمہ کے والد ریحان شاہ، جو ایک مقامی سیاستدان اور جواہرات کے ڈیلر ہیں، نے کہا کہ ان کی بیٹی نے خاندان کا نام روشن کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہماری سوسائٹی میں لڑکیوں کو موسیقی جیسے شعبوں میں تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن ہم اس سماجی دباؤ کے خلاف لڑیں گے اور ہمیشہ اپنے بچوں کی حمایت کریں گے۔”نوریمہ جلد ہی اسلام آباد کی اقراء یونیورسٹی میں سماجیات کی انڈر گریجویٹ ڈگری شروع کریں گی۔ وہ ایک پیشہ ور آئس ہاکی کھلاڑی بھی ہیں۔ ان کی یہ کامیابی پاکستان کی نوجوان نسل کے لیے ایک مثبت پیغام ہے کہ وہ اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکتے ہیں۔ -

بنگلادیش: سپریم کورٹ کا کوٹہ سسٹم پر نیا فیصلہ، ملک میں کشیدگی برقرار
ڈھاکہ: بنگلا دیش کی سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم پر ہائی کورٹ کے حکم پر عملدرآمد روک دیا ہے۔ عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ صرف آزادی کی جنگ لڑنے والے فوجیوں کے بچوں کیلئے 5 فیصد کوٹہ رکھا جائے، جو کہ پہلے کے 30 فیصد کوٹے میں نمایاں کمی ہے۔ گزشتہ کئی دنوں سے طلبہ سڑکوں پر ہیں، جن کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام ناانصافی پر مبنی ہے۔ پہلے، سرکاری ملازمتوں کا 56 فیصد حصہ مختلف کوٹوں کے تحت تقسیم کیا جاتا تھا، جس میں 1971 کی جنگ میں لڑنے والوں کے بچوں کے لیے 30 فیصد، خواتین کے لیے 10 فیصد، اور مخصوص اضلاع کے رہائشیوں کے لیے 10 فیصد شامل تھے۔
احتجاج کی شدت کے باعث حکومت کو سخت اقدامات اٹھانے پڑے۔ شہروں میں فوجی گشت جاری ہے، انٹرنیٹ اور موبائل سروسز معطل کر دی گئی ہیں، اور تعلیمی ادارے و دفاتر بند ہیں۔ پرتشدد مظاہروں میں اب تک 133 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 2 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں، جبکہ 150 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔سپریم کورٹ کے اس تازہ فیصلے کے بعد یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا احتجاجی تحریک شدت اختیار کرے گی یا پھر معاملہ ٹھنڈا پڑ جائے گا۔ بنگلا دیش میں کوٹہ سسٹم کا مسئلہ محض سرکاری ملازمتوں کی تقسیم کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ ملک کے سیاسی اور سماجی ڈھانچے سے بھی گہرا جڑا ہوا ہے۔ حکومت اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات کی ضرورت ہے تاکہ اس پیچیدہ مسئلے کا ایک متوازن حل نکالا جا سکے۔حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے، عالمی برادری بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ کیا سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ملک میں امن قائم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا یا مزید احتجاج کو ہوا دے گا۔ -

سابق وزیراعظم نواز شریف کے سابق پولیٹیکل سیکرٹری نے پی ایم ایل این کو خیر باد کہہ دیا
سابق وزیراعظم نواز شریف کے سابق پولیٹیکل سیکرٹری ڈاکٹر آصف کرمانی نے پاکستان مسلم لیگ (ن) چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔آصف کرمانی نے کہا کہ وہ ایک طویل عرصے سے نوازشریف کی قیادت والی پارٹی کے سیاسی معاملات سے خود کو دور کر رہے ہیں۔مسلم لیگ (ن) کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ لوگ بجلی کے بلوں اور مہنگائی سے مر رہے ہیں، خوشامدی ٹولہ سب اچھا کی گردان کر رہا ہے، میاں صاحب، سب اچھا نہیں ہے۔آصف کرمانی نے مزید کہا کہ وہ جلد ہی پارٹی چھوڑنے کے اپنے فیصلے کے بارے میں تفصیلی بیان جاری کریں گے۔واضح رہے کہ آصف کرمانی کو سابق وزیر اعظم نواز شریف نے 2013 میں اپنے دور حکومت میں اپنا پولیٹیکل سیکرٹری مقرر کیا تھا، وہ سابق وزیر اعظم کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے تھے اور 2013 میں پارٹی کے اقتدار میں آنے سے پہلے مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم کے دوران انہوں نے فعال کردار ادا کیا تھا۔