سابق نگراں وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے حال ہی میں بجلی کی قیمتوں اور پاور پلانٹس کے ساتھ حکومتی معاہدوں پر تشویشناک انکشافات کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ معاہدوں کی وجہ سے حکومت کچھ پاور پلانٹس سے بجلی 750 روپے فی یونٹ تک خرید رہی ہے۔ گوہر اعجاز کے مطابق، حکومت کول پاور پلانٹس سے اوسطاً 200 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی خرید رہی ہے، جبکہ ونڈ اور سولر کی قیمت 50 روپے فی یونٹ سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگے ترین آئی پی پیز (انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز) کو کی گئی ادائیگی 1.95 کھرب روپے تک پہنچ گئی ہے۔
سابق وزیر نے تین خاص پلانٹس کا ذکر کیا جن کو حکومت کم لوڈ فیکٹر پر بھاری رقوم ادا کر رہی ہے۔ ان تین پلانٹس کے لیے کل 370 ارب روپے کی ادائیگی کی جا رہی ہے، جو سال بھر صرف 15 فیصد لوڈ فیکٹر پر چل رہے ہیں۔اعجاز نے وضاحت کی کہ یہ صورتحال معاہدوں میں ‘کیپیسٹی پیمنٹ’ کی شرط کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے، جس کے تحت آئی پی پیز کو بجلی پیدا کیے بغیر بھی بڑی رقوم ادا کی جاتی ہیں۔انہوں نے تجویز دی کہ صرف سستی ترین بجلی فراہم کرنے والوں سے ہی بجلی خریدی جائے۔ اعجاز نے بتایا کہ ان پلانٹس میں سے 52 فیصد حکومت کی ملکیت ہیں، 28 فیصد نجی شعبے کی، جس کا مطلب ہے کہ 80 فیصد پلانٹس پاکستانیوں کی ملکیت میں ہیں۔
سابق وزیر نے کرپشن، بدانتظامی اور نااہلی کو ان اونچی قیمتوں کا ذمہ دار قرار دیا، جس کی وجہ سے عوام کو بجلی 60 روپے فی یونٹ کے حساب سے فروخت کی جا رہی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ملک کو بچانے کے لیے ان معاہدوں کے خلاف آواز اٹھائیں۔ گوہر اعجاز نے کہا کہ اب یہ قوم پر منحصر ہے کہ وہ آئی پی پیز کے بارے میں کیا فیصلہ کرتی ہے.
Author: صدف ابرار
-

حکومت بجلی 750 روپے فی یونٹ تک خرید رہی ہے. گوہر اعجاز
-

پاکستان کا جرمنی میں قونصل خانے پر حملے پر شدید احتجاج
پاکستان نے جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں اپنے قونصل خانے پر ہونے والے حملے پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے اس واقعے کو سنگین قرار دیتے ہوئے جرمن حکومت سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔گزشتہ روز فرینکفرٹ میں پاکستانی قونصل خانے پر ایک انتہا پسند گروہ نے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں قونصل خانے کے عملے کی جان کو خطرہ لاحق ہوا اور سفارتی مشن کی سلامتی داؤ پر لگ گئی۔دفتر خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا، ہم انتہا پسند گروہ کی جانب سے فرینکفرٹ میں اپنے قونصل خانے پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ساتھ ہی، جرمن حکام کی طرف سے قونصل مشن کے احاطے کی تقدس اور سلامتی کے تحفظ میں ناکامی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان نے جرمن حکومت کو اپنے شدید احتجاج سے آگاہ کر دیا ہے۔ "ہم جرمن حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ ویانا کنونشنز کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے اور جرمنی میں پاکستانی سفارتی مشنز اور عملے کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کرے،” انہوں نے کہا۔پاکستان نے جرمن حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعے میں ملوث افراد کو فوری طور پر گرفتار کریں اور ان کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ ساتھ ہی، سکیورٹی کی خامیوں کے ذمہ دار افراد کو بھی جوابدہ ٹھہرایا جائے۔دفتر خارجہ کے ترجمان نے ویانا کنونشن برائے قونصلر تعلقات، 1963 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کے تحت میزبان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ قونصلر احاطے کی تقدس کی حفاظت کرے اور سفارتکاروں کی سلامتی کو یقینی بنائے۔
اس واقعے نے پاکستان اور جرمنی کے درمیان سفارتی تعلقات پر ایک سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو متاثر کر سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں سفارتی سطح پر کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔جرمن حکومت کی طرف سے ابھی تک اس واقعے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم، سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ جرمن وزارت خارجہ اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہے اور جلد ہی اس پر اپنا موقف واضح کرے گی۔پاکستانی کمیونٹی کے نمائندوں نے بھی اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ فرینکفرٹ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے ایک رہنما نے کہا، "ہم جرمن حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پاکستانی شہریوں اور سفارتی عملے کی حفاظت کو یقینی بنائے۔ ایسے واقعات سے ہمارے لیے جرمنی میں رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔”اس دوران، پاکستان کے وزیر خارجہ نے اس معاملے پر اپنے جرمن ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، اس بات چیت میں پاکستانی وزیر خارجہ نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور جرمن حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔
اس واقعے کے بعد، پاکستان کے دیگر یورپی ممالک میں موجود سفارتخانوں اور قونصل خانوں کی سکیورٹی بھی بڑھا دی گئی ہے۔ حکومت پاکستان نے اپنے تمام سفارتی مشنز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے انتظامات کا جائزہ لیں اور ضرورت پڑنے پر مزید احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات نہ صرف دو ملکوں کے درمیان تعلقات کو متاثر کرتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس لیے اس معاملے کو انتہائی حساسیت اور سفارتکاری کے ساتھ نمٹانے کی ضرورت ہے۔آنے والے دنوں میں اس واقعے کے مزید تفصیلات اور اس پر دونوں حکومتوں کے ردعمل پر نظریں جمی رہیں گی۔ عالمی میڈیا بھی اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ یہ واقعہ بین الاقوامی سفارتی تعلقات اور سلامتی کے معاملات پر اثرانداز ہو سکتا ہے -

وزیراعظم شہباز شریف کا جناح میڈیکل کمپلیکس کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے صحت کی مفت سہولیات کا اعلان
وزیراعظم شہباز شریف نے آج اسلام آباد میں جناح میڈیکل کمپلیکس کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے ملک بھر میں صحت کی مفت سہولیات فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ اس موقع پر خصوصی تقریب منعقد کی گئی جس میں وزیراعظم نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا، "آج ہم سب کو اللہ کے حضور سجدہ شکر بجا لانا چاہیئے۔ جناح میڈیکل کمپلیکس نہ صرف اسلام آباد اور راولپنڈی بلکہ پورے خطے کے لیے ایک شاندار صحت کا مرکز ثابت ہوگا۔”انہوں نے وضاحت کی کہ یہ منصوبہ مخلوط حکومت کا تحفہ ہے جو پورے ملک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ "اس سینٹر میں جدید ترین طبی سہولیات، نرسنگ اسکول اور اعلیٰ معیار کی لیبارٹریز قائم کی جائیں گی،” وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت مستحق مریضوں کو علاج و معالجہ کی مفت اور جدید ترین سہولیات فراہم کرنے کےلئے پرعزم ہے، جناح میڈیکل کمپلیکس جدید سہولیات سے آراستہ خطے کا ایک شاندار اور بے مثال ہسپتال ہوگا۔ اتوار کو جناح میڈیکل کمپلیکس کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ نوازشریف کی قیادت اور مخلوط حکومت کا جڑواں شہروں کے لئے ہی نہیں بلکہ کے پی،کشمیر ،گلگت بلتستان کے مریضوں کے لئے بھی تحفہ ہوگا۔یہاں نرسنگ سکولز اور جدید لیب بنیں گی۔انہوں نے کہا کہ اس جدید ہسپتال میں پیچیدہ ترین امراض کا علاج ہوگا۔آغا خان فائونڈیشن نے اس سنٹر کی تمام کنسلٹنسی بلامعاوضہ دی ہے جس پران کے مشکور ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ پرنس کریم آغا خان نے کئی دہائیوں سے صحت کے شعبہ اور پاکستان کی تعمیر میں نمایاں کردار ادا کیاہے۔انہوں نے کہا کہ اس کمپلیکس کے لئے 600 کنال اراضی مختص کی گئی ہے جبکہ 200 کنال کا کمرشل سنٹر بھی اس ہسپتال کے نام کیا ہے، اس کی آمدن اس ہسپتال کے بننے والے ٹرسٹ میں جائے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ وہی ماڈل ہے جس کا نوازشریف نے اجراء کیاتھا کہ عام پاکستانی کے لئے علاج مفت ہو۔انہوں نے کہا کہ تعلیم اور صحت کی سہولیات کی فراہمی ہر پاکستانی کا حق ہے۔انہوں نے کہا کہ پی کے ایل آئی نہ صرف پاکستان بلکہ جنوبی ایشیاء کا بہترین ہسپتال ہے۔تاہم ایک سازش کرکے اس منصوبے کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی۔شہباز شریف نے غریب طبقے کے لیے خصوصی اہتمام کا ذکر کرتے ہوئے کہا، "یہاں غریب مریضوں کا علاج بالکل مفت کیا جائے گا۔ یہ ان کا بنیادی حق ہے کہ انہیں صحت اور تعلیم کی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کی جائیں۔”وزیراعظم نے اپنی گزشتہ حکومت کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پنجاب کے تمام سرکاری اسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت فراہم کی تھی اور لیبارٹری ٹیسٹوں کی فیس کو گھٹا کر صرف 10 روپے کر دیا تھا۔شہباز شریف نے پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ (پی کے ایل آئی) کے حوالے سے سنگین الزامات بھی لگائے۔ "ایک شخص نے سازش کرکے پی کے ایل آئی کو تباہ کرنے کی کوشش کی،” انہوں نے کہا۔ "یہ ادارہ جہاں ہزاروں مفت آپریشن کر چکا ہے اور کورونا کے دوران علاج کا اہم مرکز تھا، اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔”
وزیراعظم نے زور دیا کہ عوام کی ترقی اور خوشحالی کے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیئے۔ "صحت اور تعلیم ہر شہری کا بنیادی حق ہے، اور ہماری حکومت اس کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے،” انہوں نے کہا۔اپنے خطاب کے اختتام پر شہباز شریف نے بجلی کے بحران پر بھی بات کی۔ "جب ملک میں بجلی کا شدید بحران تھا، میں نے وعدہ کیا تھا کہ 6 ماہ میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہوگا۔ بہت لوگوں نے اس پر میرا مذاق اڑایا، لیکن اللہ کے فضل سے ہم نے 20-20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کو ختم کرنے میں کامیابی حاصل کی۔”جناح میڈیکل کمپلیکس کے قیام سے نہ صرف مقامی شہریوں کو فائدہ ہوگا بلکہ یہ پورے ملک کے لیے ایک اہم صحت کا مرکز بن جائے گا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، اس منصوبے پر کام تیزی سے شروع کیا جائے گا تاکہ جلد از جلد عوام کو اس کی سہولیات سے فائدہ پہنچ سکے۔
صحت کے شعبے میں یہ اہم پیش رفت ملک کی معاشی اور سماجی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔ تاہم، مخالفین کا کہنا ہے کہ حکومت کو صرف نئے منصوبوں پر توجہ دینے کی بجائے موجودہ صحت کے ڈھانچے کو بہتر بنانے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔وزیراعظم کے اس اعلان کے بعد عوام میں امید کی ایک نئی لہر دوڑ گئی ہے کہ آنے والے دنوں میں صحت کی سہولیات میں نمایاں بہتری آئے گی۔ -

پاکستان میں واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر خلل
پاکستان میں عاشورہ کے بعد سے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر خلل کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ خاص طور پر موبائل ڈیٹا استعمال کرنے والے صارفین کو فائل شیئرنگ اور پیغامات بھیجنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے رپورٹس کے مطابق، 3G اور 4G صارفین واٹس ایپ پر نوٹس، تصاویر اور دستاویزات شیئر کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف واٹس ایپ تک محدود نہیں ہے، بلکہ فیس بک جیسی دیگر سوشل میڈیا ایپس بھی فیڈ لوڈ کرنے اور پیغامات بھیجنے میں دشواریوں کا شکار ہیں۔حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ خلل دو دنوں سے جاری ہے، لیکن کسی بھی ٹیلی کام کمپنی نے اب تک اس مسئلے پر کوئی وضاحت یا اپ ڈیٹ جاری نہیں کی ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ایک ترجمان نے بتایا کہ انہیں اس مسئلے کے بارے میں کوئی باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔ تاہم، میڈیا رپورٹس کے بعد اتھارٹی نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔یہ خلل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں پنجاب حکومت نے وزارت داخلہ سے 6 سے 11 محرم تک سوشل میڈیا ایپس کو بند کرنے کی درخواست کی تھی۔ یہ اقدام نفرت انگیز تقاریر اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تجویز کیا گیا تھا۔
صارفین کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور بہت سے لوگ متبادل پلیٹ فارمز کی تلاش میں ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے خلل سے نہ صرف عام شہریوں کو پریشانی کا سامنا ہے بلکہ کاروباری سرگرمیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔حکام سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس مسئلے کو فوری طور پر حل کریں اور عوام کو صورتحال سے آگاہ کریں۔ پی ٹی اے سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ جلد از جلد اس معاملے پر تفصیلی بیان جاری کرے گی۔ -

پاکستان پر ڈیٹول صابن کی گمراہ کن مارکیٹنگ پر 15 ملین روپے کا جرمانہ
پاکستان میں مشہور ڈیٹول صابن بنانے والی کمپنی Reckitt Benckiser (RB) پاکستان کو گمراہ کن مارکیٹنگ اور مقابلہ ایکٹ کی دفعہ 10 کی خلاف ورزی پر 15 ملین روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ایک پریس ریلیز کے مطابق، مقابلہ جاتی ٹریبونل نے Reckitt Benckiser (RB) پاکستان کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے مقابلہ کمیشن پاکستان (CCP) کی دی گئی سفارشات کی تصدیق کی ہے۔ یہ سفارشات RB کی گمراہ کن مارکیٹنگ کی عادات کے بارے میں تھیں جو ان کے مشہور پروڈکٹ "ڈیٹول” کے بارے میں تھیں۔کمیشن کو یونی لیور پاکستان کی طرف سے ایک باضابطہ شکایت موصول ہوئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ RB نے اپنے پروڈکٹ "ڈیٹول صابن” کے لیے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں گمراہ کن، بے بنیاد اور غیر اخلاقی اشتہاری مہم چلائی ہے۔
تحقیقات کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ RB اپنے اشتہار میں کیے گئے دعوے کہ "ڈیٹول صابن 99.9% جراثیم کو ختم کرتا ہے اور 24 گھنٹے تک جراثیم، زکام اور فلو سے حفاظت فراہم کرتا ہے” کو ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ نتیجتاً، RB کو مقابلہ ایکٹ 2010 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گمراہ کن مارکیٹنگ کی عادات میں ملوث پایا گیا۔اپنے حکم نامے میں، CCP نے انکوائری کمیٹی کے نتائج سے اتفاق کیا اور RB کو دیگر کاروباری اداروں کے کاروباری مفادات کو نقصان پہنچانے والے جھوٹے اور گمراہ کن معلومات کی فراہمی اور صارفین کو اپنی مصنوعات کی خصوصیات، خواص اور معیار کے بارے میں بغیر معقول بنیاد کے معلومات فراہم کرنے کا مجرم قرار دیا۔ ان خلاف ورزیوں پر، CCP نے RB پر 30 ملین روپے کا جرمانہ عائد کیا۔RB نے CCP کے حکم کے خلاف مقابلہ جاتی ٹریبونل میں اپیل دائر کی۔ ٹریبونل نے CCP کی سفارشات کو برقرار رکھتے ہوئے RB کی دفعہ 10 کی خلاف ورزیوں کی تصدیق کی، تاہم، جرمانے کی رقم کو کم کر کے 15 ملین روپے کر دیا۔
-

سابق وزیر تعلیم شفقت محمود کا سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے آج سیاست سے ریٹائرمنٹ کا حیران کن اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک تفصیلی بیان کے ذریعے کیا۔اپنے پیغام میں شفقت محمود نے کہا، "بہت غور و فکر کے بعد میں نے اب سیاست سے ریٹائر ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ میں اپنی باقی زندگی تحریر اور تدریس کے لیے وقف کرنا چاہتا ہوں۔” انہوں نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ کسی بیرونی دباؤ کا نتیجہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ کسی دوسری سیاسی جماعت میں شمولیت کا ارادہ رکھتے ہیں۔
سابق وزیر نے اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض وقت اور عمر کے تقاضوں کی بنیاد پر لیا گیا ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا، جنہوں نے انہیں قومی خدمت کا موقع فراہم کیا۔شفقت محمود نے اپنے حلقے کے ووٹرز کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے انہیں دو بار قومی اسمبلی کی نمائندگی کا موقع دیا۔ "میں پی ٹی آئی اور اپنے حلقے کے ووٹرز کا بے حد مشکور ہوں جنہوں نے مجھے دو مرتبہ اپنا نمائندہ منتخب کیا،” انہوں نے کہا۔
یہ اعلان ایسے وقت میں آیا ہے جب پاکستان کی سیاست میں کئی اہم تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ شفقت محمود کے اس فیصلے سے پی ٹی آئی کو ایک تجربہ کار اور قابل رہنما کی کمی محسوس ہوگی۔ ان کے مستقبل کے منصوبوں اور تعلیمی شعبے میں ممکنہ کردار پر نظریں جمی رہیں گی -

مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ایک بار پھر ملتوی ہو گیا
مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ایک بار پھر ملتوی کردیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پیر کو مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس طلب کیا تھا۔
اس سے قبل 10 جولائی کو بھی اجلاس ملتوی کردیا گیا تھا۔ذرائع کے مطابق وزیرِ اعظم اور دیگر ارکان کی مصروفیات کی وجہ سے اجلاس ملتوی کیا گیا۔اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان جلد کیا جائے گا۔ -

پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد: ایک مستقل بحران
پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد ایک وسیع اور گہری جڑیں رکھنے والا مسئلہ ہے، جو کئی نسلوں سے چلی آ رہی ثقافتی اور معاشرتی بحران کی عکاسی کرتا ہے۔ کچھ شعبوں میں ترقی کے باوجود، پاکستان کی خواتین اپنی حفاظت، وقار اور بنیادی انسانی حقوق کے لیے سنگین خطرات کا سامنا کرتی ہیں، چاہے ان کا سماجی مرتبہ، تعلیم یا پیشہ کچھ بھی ہو۔اس تشدد کی جڑیں قدیم رسومات اور مرد سالارانہ اقدار میں پائی جاتی ہیں جو جدید دور تک برقرار ہیں۔ اس کی سب سے حیران کن مثال لڑکیوں کو پیدائش کے بعد قتل کرنے یا زندہ دفن کرنے کا عمل ہے۔ اگرچہ یہ عمل کم ہو گیا ہے، لیکن کچھ علاقوں میں اب بھی ہوتا ہے، جو خواتین کی زندگی کی شدید بے قدری کو ظاہر کرتا ہے۔
عزت کے نام پر قتل، گھریلو تشدد، اور جبری شادیاں پاکستانی معاشرے میں ابھی بھی عام ہیں۔ بہت سے معاملات میں، خواتین کو جائیداد کی طرح سمجھا جاتا ہے، جن کی زندگیوں پر خاندان کے مرد افراد یا قبائلی بزرگوں کا کنٹرول ہوتا ہے۔ جرگہ نظام، جہاں مقامی کونسلیں اکثر خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے فیصلے کرتی ہیں، کچھ علاقوں میں اب بھی با اثر ہے۔ خواتین اور لڑکیوں کو بعض اوقات مرد رشتہ داروں کے جرائم کے معاوضے کے طور پر دیا جاتا ہے، ایک ایسا عمل جو انہیں ان کی خود مختاری اور انسانی وقار سے محروم کر دیتا ہے۔
شادی کی مقدس رشتہ، جسے اکثر معاشرے میں سب سے مضبوط بندھن سمجھا جاتا ہے، متضاد طور پر بہت سی خواتین کے لیے انتہائی تشدد کا باعث بنتا ہے۔ بیویاں اپنے شوہروں اور سسرال والوں کے ہاتھوں جسمانی، جذباتی اور معاشی استحصال کا شکار ہوتی ہیں۔ افسوسناک واقعات میں، خواتین کو بیٹوں کی بجائے بیٹیوں کی پیدائش پر ان کے شوہروں نے قتل کر دیا، چاہے وہ جلا کر ہو یا گولی مار کر۔یہاں تک کہ پڑھی لکھی اور مالی طور پر خود مختار خواتین بھی ان خطرات سے محفوظ نہیں ہیں۔ صنفی بنیاد پر تشدد کی وسیع نوعیت تمام سماجی اور معاشی حدود کو عبور کرتی ہے، دیہی اور شہری علاقوں دونوں میں خواتین کو متاثر کرتی ہے۔
معاشی عوامل اکثر صورتحال کو مزید خراب کر دیتے ہیں۔ ایسی رپورٹیں سامنے آئی ہیں جہاں خاندانوں نے اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا، علاج کے اخراجات برداشت نہ کر سکنے کا بہانہ بنا کر۔ یہ نہ صرف خواتین کی زندگیوں کی کم قدر کو ظاہر کرتا ہے بلکہ ان سخت معاشی حالات کو بھی جو ایسے غیر انسانی فیصلوں کا باعث بن سکتے ہیں۔
پاکستان کی حکومت نے خواتین کے خلاف تشدد سے نمٹنے کے لیے قوانین نافذ کیے ہیں، لیکن ان کا نفاذ کمزور رہا ہے۔ ثقافتی رویے، تعلیم کی کمی، اور معاشی عدم مساوات ترقی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ بہت سے معاملات سماجی بدنامی، انتقام کے خوف، یا انصاف کے نظام پر عدم اعتماد کی وجہ سے رپورٹ نہیں کیے جاتے۔
اس بحران سے نمٹنے کے لیے ایک کثیر الجہتی نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔ تعلیم بہت اہم ہے، لڑکیوں کو با اختیار بنانے کے لیے اور لڑکوں کے رویوں کو ابتدائی عمر سے تبدیل کرنے کے لیے۔ خواتین کی معاشی ترقی ان کی کمزوری کو کم کر سکتی ہے۔ قانون کے سخت نفاذ اور عدالتی اصلاحات ضروری ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مجرموں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ خواتین کو سمجھنے اور ان کی قدر کرنے کے طریقے میں معاشرتی تبدیلی آئے۔ میڈیا، مذہبی رہنماؤں، اور کمیونٹی کے اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کو کردار تبدیل کرنے اور صنفی مساوات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرنا ہے۔
بین الاقوامی تنظیمیں اور مقامی این جی اوز صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے کام کرتی رہتی ہیں، لیکن چیلنج بہت بڑا ہے۔ پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد کے خلاف جنگ صرف قوانین کو تبدیل کرنے کا معاملہ نہیں ہے؛ اس کے لیے گہری جڑیں جمائے ہوئے معاشرتی اقدار اور عقائد میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔جیسے جیسے پاکستان آگے بڑھتا ہے، اس کی خواتین کے ساتھ سلوک اس کی قومی ترقی کا ایک اہم اشاریہ ہو گا۔ خواتین کی حفاظت، وقار اور مساوات کو نہ صرف خواتین کے مسائل کے طور پر بلکہ ملک کی مجموعی ترقی اور خوشحالی کے لیے ضروری بنیادی انسانی حقوق کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔ صرف جب خواتین تشدد کے خوف سے آزاد ہو کر زندگی گزار سکیں گی تب ہی پاکستان حقیقی معنوں میں ایک ترقی یافتہ معاشرے کا دعوی کر سکے گا -

پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان ندا ڈار نے ایک اہم مرحلے کو عبور کرلیا
ندا ڈار نے پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی تاریخ میں اہم سنگ میل حاصل کیا ہے، جب وہ پہلی خواتین کرکٹر بن گئیں جنہوں نے 150 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلے ہیں۔
ان کا یہ سنگ میل ایشیا کپ میں بھارت کے خلاف ہونے والے میچ میں حاصل ہوا۔پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ محمد وسیم نے میچ سے قبل ندا ڈار کو ان کی محنت اور مضبوطی پر سوینئر دیا۔ انہوں نے ٹیم کی دستخط شدہ شرٹ بھی پیش کی جو ان کے اس اہم لمحے کو سیمول کرتی ہے۔اس میچ میں ویمنز ایشیا کپ، بھارت کی ویمنز کرکٹ ٹیم نے پاکستان ویمنز کو 7 وکٹوں سے شکست دے دی، جس کے باوجود ندا ڈارکے اس اہم مرحلے نے پاکستانی کرکٹ کے ایک نیا سفر کی شروعات کو نئی روشنی میں چمکا دیا۔ -

الیکش کمیشن ایک خود مختار ادارہ ہے جو اپنے فیصلے آزادانہ طور پر کرنے کا مجاز ہے، رانا ثناءاللہ
وزیراعظم کے مشیر سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے حال ہی میں الیکشن کمیشن، سپریم کورٹ کے فیصلوں اور ملک کی سیاسی صورتحال پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کی خودمختاری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک آئینی ادارہ ہے جو اپنے فیصلے آزادانہ طور پر کرنے کا مجاز ہے۔رانا ثنا اللہ نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ جلد ہی تفصیلی فیصلے کے آنے کی توقع کرتے ہیں۔ انہوں نے آئین کے تحفظ پر اپنی جماعت کے عزم کا اعادہ کیا اور ماضی کے بعض عدالتی فیصلوں پر سوال اٹھائے۔رانا ثناء اللہ نے پی ٹی آئی کے خلاف فارن فنڈنگ کے الزامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس اس سلسلے میں ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کابینہ میں تحریک انصاف سے متعلق معاملات پر تمام متعلقہ فریقوں کو شامل کیا جائے گا۔رانا ثنا اللہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک میں کوئی آمریت نہیں ہے اور ہر شخص کو اپنی رائے کا اظہار کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے عدالتی فیصلوں پر احترام کے ساتھ تبصرہ کرنے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی