Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • وزیراعظم شہباز شریف کا جناح میڈیکل کمپلیکس کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے  صحت کی مفت سہولیات کا اعلان

    وزیراعظم شہباز شریف کا جناح میڈیکل کمپلیکس کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے صحت کی مفت سہولیات کا اعلان

    وزیراعظم شہباز شریف نے آج اسلام آباد میں جناح میڈیکل کمپلیکس کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے ملک بھر میں صحت کی مفت سہولیات فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ اس موقع پر خصوصی تقریب منعقد کی گئی جس میں وزیراعظم نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا، "آج ہم سب کو اللہ کے حضور سجدہ شکر بجا لانا چاہیئے۔ جناح میڈیکل کمپلیکس نہ صرف اسلام آباد اور راولپنڈی بلکہ پورے خطے کے لیے ایک شاندار صحت کا مرکز ثابت ہوگا۔”انہوں نے وضاحت کی کہ یہ منصوبہ مخلوط حکومت کا تحفہ ہے جو پورے ملک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ "اس سینٹر میں جدید ترین طبی سہولیات، نرسنگ اسکول اور اعلیٰ معیار کی لیبارٹریز قائم کی جائیں گی،” وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت مستحق مریضوں کو علاج و معالجہ کی مفت اور جدید ترین سہولیات فراہم کرنے کےلئے پرعزم ہے، جناح میڈیکل کمپلیکس جدید سہولیات سے آراستہ خطے کا ایک شاندار اور بے مثال ہسپتال ہوگا۔ اتوار کو جناح میڈیکل کمپلیکس کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ نوازشریف کی قیادت اور مخلوط حکومت کا جڑواں شہروں کے لئے ہی نہیں بلکہ کے پی،کشمیر ،گلگت بلتستان کے مریضوں کے لئے بھی تحفہ ہوگا۔یہاں نرسنگ سکولز اور جدید لیب بنیں گی۔انہوں نے کہا کہ اس جدید ہسپتال میں پیچیدہ ترین امراض کا علاج ہوگا۔آغا خان فائونڈیشن نے اس سنٹر کی تمام کنسلٹنسی بلامعاوضہ دی ہے جس پران کے مشکور ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ پرنس کریم آغا خان نے کئی دہائیوں سے صحت کے شعبہ اور پاکستان کی تعمیر میں نمایاں کردار ادا کیاہے۔انہوں نے کہا کہ اس کمپلیکس کے لئے 600 کنال اراضی مختص کی گئی ہے جبکہ 200 کنال کا کمرشل سنٹر بھی اس ہسپتال کے نام کیا ہے، اس کی آمدن اس ہسپتال کے بننے والے ٹرسٹ میں جائے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ وہی ماڈل ہے جس کا نوازشریف نے اجراء کیاتھا کہ عام پاکستانی کے لئے علاج مفت ہو۔انہوں نے کہا کہ تعلیم اور صحت کی سہولیات کی فراہمی ہر پاکستانی کا حق ہے۔انہوں نے کہا کہ پی کے ایل آئی نہ صرف پاکستان بلکہ جنوبی ایشیاء کا بہترین ہسپتال ہے۔تاہم ایک سازش کرکے اس منصوبے کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی۔شہباز شریف نے غریب طبقے کے لیے خصوصی اہتمام کا ذکر کرتے ہوئے کہا، "یہاں غریب مریضوں کا علاج بالکل مفت کیا جائے گا۔ یہ ان کا بنیادی حق ہے کہ انہیں صحت اور تعلیم کی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کی جائیں۔”وزیراعظم نے اپنی گزشتہ حکومت کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پنجاب کے تمام سرکاری اسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت فراہم کی تھی اور لیبارٹری ٹیسٹوں کی فیس کو گھٹا کر صرف 10 روپے کر دیا تھا۔شہباز شریف نے پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ (پی کے ایل آئی) کے حوالے سے سنگین الزامات بھی لگائے۔ "ایک شخص نے سازش کرکے پی کے ایل آئی کو تباہ کرنے کی کوشش کی،” انہوں نے کہا۔ "یہ ادارہ جہاں ہزاروں مفت آپریشن کر چکا ہے اور کورونا کے دوران علاج کا اہم مرکز تھا، اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔”
    وزیراعظم نے زور دیا کہ عوام کی ترقی اور خوشحالی کے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیئے۔ "صحت اور تعلیم ہر شہری کا بنیادی حق ہے، اور ہماری حکومت اس کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے،” انہوں نے کہا۔اپنے خطاب کے اختتام پر شہباز شریف نے بجلی کے بحران پر بھی بات کی۔ "جب ملک میں بجلی کا شدید بحران تھا، میں نے وعدہ کیا تھا کہ 6 ماہ میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہوگا۔ بہت لوگوں نے اس پر میرا مذاق اڑایا، لیکن اللہ کے فضل سے ہم نے 20-20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کو ختم کرنے میں کامیابی حاصل کی۔”جناح میڈیکل کمپلیکس کے قیام سے نہ صرف مقامی شہریوں کو فائدہ ہوگا بلکہ یہ پورے ملک کے لیے ایک اہم صحت کا مرکز بن جائے گا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، اس منصوبے پر کام تیزی سے شروع کیا جائے گا تاکہ جلد از جلد عوام کو اس کی سہولیات سے فائدہ پہنچ سکے۔
    صحت کے شعبے میں یہ اہم پیش رفت ملک کی معاشی اور سماجی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔ تاہم، مخالفین کا کہنا ہے کہ حکومت کو صرف نئے منصوبوں پر توجہ دینے کی بجائے موجودہ صحت کے ڈھانچے کو بہتر بنانے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔وزیراعظم کے اس اعلان کے بعد عوام میں امید کی ایک نئی لہر دوڑ گئی ہے کہ آنے والے دنوں میں صحت کی سہولیات میں نمایاں بہتری آئے گی۔

  • پاکستان میں واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر خلل

    پاکستان میں واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر خلل

    پاکستان میں عاشورہ کے بعد سے واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر خلل کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ خاص طور پر موبائل ڈیٹا استعمال کرنے والے صارفین کو فائل شیئرنگ اور پیغامات بھیجنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے رپورٹس کے مطابق، 3G اور 4G صارفین واٹس ایپ پر نوٹس، تصاویر اور دستاویزات شیئر کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف واٹس ایپ تک محدود نہیں ہے، بلکہ فیس بک جیسی دیگر سوشل میڈیا ایپس بھی فیڈ لوڈ کرنے اور پیغامات بھیجنے میں دشواریوں کا شکار ہیں۔حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ خلل دو دنوں سے جاری ہے، لیکن کسی بھی ٹیلی کام کمپنی نے اب تک اس مسئلے پر کوئی وضاحت یا اپ ڈیٹ جاری نہیں کی ہے۔
    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ایک ترجمان نے بتایا کہ انہیں اس مسئلے کے بارے میں کوئی باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔ تاہم، میڈیا رپورٹس کے بعد اتھارٹی نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔یہ خلل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں پنجاب حکومت نے وزارت داخلہ سے 6 سے 11 محرم تک سوشل میڈیا ایپس کو بند کرنے کی درخواست کی تھی۔ یہ اقدام نفرت انگیز تقاریر اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تجویز کیا گیا تھا۔
    صارفین کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور بہت سے لوگ متبادل پلیٹ فارمز کی تلاش میں ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے خلل سے نہ صرف عام شہریوں کو پریشانی کا سامنا ہے بلکہ کاروباری سرگرمیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔حکام سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس مسئلے کو فوری طور پر حل کریں اور عوام کو صورتحال سے آگاہ کریں۔ پی ٹی اے سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ جلد از جلد اس معاملے پر تفصیلی بیان جاری کرے گی۔

  • پاکستان پر ڈیٹول صابن کی گمراہ کن مارکیٹنگ پر 15 ملین روپے کا جرمانہ

    پاکستان پر ڈیٹول صابن کی گمراہ کن مارکیٹنگ پر 15 ملین روپے کا جرمانہ

    پاکستان میں مشہور ڈیٹول صابن بنانے والی کمپنی Reckitt Benckiser (RB) پاکستان کو گمراہ کن مارکیٹنگ اور مقابلہ ایکٹ کی دفعہ 10 کی خلاف ورزی پر 15 ملین روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ایک پریس ریلیز کے مطابق، مقابلہ جاتی ٹریبونل نے Reckitt Benckiser (RB) پاکستان کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے مقابلہ کمیشن پاکستان (CCP) کی دی گئی سفارشات کی تصدیق کی ہے۔ یہ سفارشات RB کی گمراہ کن مارکیٹنگ کی عادات کے بارے میں تھیں جو ان کے مشہور پروڈکٹ "ڈیٹول” کے بارے میں تھیں۔کمیشن کو یونی لیور پاکستان کی طرف سے ایک باضابطہ شکایت موصول ہوئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ RB نے اپنے پروڈکٹ "ڈیٹول صابن” کے لیے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں گمراہ کن، بے بنیاد اور غیر اخلاقی اشتہاری مہم چلائی ہے۔

    تحقیقات کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ RB اپنے اشتہار میں کیے گئے دعوے کہ "ڈیٹول صابن 99.9% جراثیم کو ختم کرتا ہے اور 24 گھنٹے تک جراثیم، زکام اور فلو سے حفاظت فراہم کرتا ہے” کو ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ نتیجتاً، RB کو مقابلہ ایکٹ 2010 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گمراہ کن مارکیٹنگ کی عادات میں ملوث پایا گیا۔اپنے حکم نامے میں، CCP نے انکوائری کمیٹی کے نتائج سے اتفاق کیا اور RB کو دیگر کاروباری اداروں کے کاروباری مفادات کو نقصان پہنچانے والے جھوٹے اور گمراہ کن معلومات کی فراہمی اور صارفین کو اپنی مصنوعات کی خصوصیات، خواص اور معیار کے بارے میں بغیر معقول بنیاد کے معلومات فراہم کرنے کا مجرم قرار دیا۔ ان خلاف ورزیوں پر، CCP نے RB پر 30 ملین روپے کا جرمانہ عائد کیا۔RB نے CCP کے حکم کے خلاف مقابلہ جاتی ٹریبونل میں اپیل دائر کی۔ ٹریبونل نے CCP کی سفارشات کو برقرار رکھتے ہوئے RB کی دفعہ 10 کی خلاف ورزیوں کی تصدیق کی، تاہم، جرمانے کی رقم کو کم کر کے 15 ملین روپے کر دیا۔

  • سابق وزیر تعلیم شفقت محمود کا سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان

    سابق وزیر تعلیم شفقت محمود کا سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے آج سیاست سے ریٹائرمنٹ کا حیران کن اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک تفصیلی بیان کے ذریعے کیا۔اپنے پیغام میں شفقت محمود نے کہا، "بہت غور و فکر کے بعد میں نے اب سیاست سے ریٹائر ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ میں اپنی باقی زندگی تحریر اور تدریس کے لیے وقف کرنا چاہتا ہوں۔” انہوں نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ کسی بیرونی دباؤ کا نتیجہ نہیں ہے اور نہ ہی وہ کسی دوسری سیاسی جماعت میں شمولیت کا ارادہ رکھتے ہیں۔
    سابق وزیر نے اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض وقت اور عمر کے تقاضوں کی بنیاد پر لیا گیا ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا، جنہوں نے انہیں قومی خدمت کا موقع فراہم کیا۔شفقت محمود نے اپنے حلقے کے ووٹرز کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے انہیں دو بار قومی اسمبلی کی نمائندگی کا موقع دیا۔ "میں پی ٹی آئی اور اپنے حلقے کے ووٹرز کا بے حد مشکور ہوں جنہوں نے مجھے دو مرتبہ اپنا نمائندہ منتخب کیا،” انہوں نے کہا۔
    یہ اعلان ایسے وقت میں آیا ہے جب پاکستان کی سیاست میں کئی اہم تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ شفقت محمود کے اس فیصلے سے پی ٹی آئی کو ایک تجربہ کار اور قابل رہنما کی کمی محسوس ہوگی۔ ان کے مستقبل کے منصوبوں اور تعلیمی شعبے میں ممکنہ کردار پر نظریں جمی رہیں گی

  • مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ایک بار پھر ملتوی ہو گیا

    مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ایک بار پھر ملتوی ہو گیا

    مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ایک بار پھر ملتوی کردیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پیر کو مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس طلب کیا تھا۔
    اس سے قبل 10 جولائی کو بھی اجلاس ملتوی کردیا گیا تھا۔ذرائع کے مطابق وزیرِ اعظم اور دیگر ارکان کی مصروفیات کی وجہ سے اجلاس ملتوی کیا گیا۔اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان جلد کیا جائے گا۔

  • پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد: ایک مستقل بحران

    پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد: ایک مستقل بحران

    پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد ایک وسیع اور گہری جڑیں رکھنے والا مسئلہ ہے، جو کئی نسلوں سے چلی آ رہی ثقافتی اور معاشرتی بحران کی عکاسی کرتا ہے۔ کچھ شعبوں میں ترقی کے باوجود، پاکستان کی خواتین اپنی حفاظت، وقار اور بنیادی انسانی حقوق کے لیے سنگین خطرات کا سامنا کرتی ہیں، چاہے ان کا سماجی مرتبہ، تعلیم یا پیشہ کچھ بھی ہو۔اس تشدد کی جڑیں قدیم رسومات اور مرد سالارانہ اقدار میں پائی جاتی ہیں جو جدید دور تک برقرار ہیں۔ اس کی سب سے حیران کن مثال لڑکیوں کو پیدائش کے بعد قتل کرنے یا زندہ دفن کرنے کا عمل ہے۔ اگرچہ یہ عمل کم ہو گیا ہے، لیکن کچھ علاقوں میں اب بھی ہوتا ہے، جو خواتین کی زندگی کی شدید بے قدری کو ظاہر کرتا ہے۔
    عزت کے نام پر قتل، گھریلو تشدد، اور جبری شادیاں پاکستانی معاشرے میں ابھی بھی عام ہیں۔ بہت سے معاملات میں، خواتین کو جائیداد کی طرح سمجھا جاتا ہے، جن کی زندگیوں پر خاندان کے مرد افراد یا قبائلی بزرگوں کا کنٹرول ہوتا ہے۔ جرگہ نظام، جہاں مقامی کونسلیں اکثر خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے فیصلے کرتی ہیں، کچھ علاقوں میں اب بھی با اثر ہے۔ خواتین اور لڑکیوں کو بعض اوقات مرد رشتہ داروں کے جرائم کے معاوضے کے طور پر دیا جاتا ہے، ایک ایسا عمل جو انہیں ان کی خود مختاری اور انسانی وقار سے محروم کر دیتا ہے۔
    شادی کی مقدس رشتہ، جسے اکثر معاشرے میں سب سے مضبوط بندھن سمجھا جاتا ہے، متضاد طور پر بہت سی خواتین کے لیے انتہائی تشدد کا باعث بنتا ہے۔ بیویاں اپنے شوہروں اور سسرال والوں کے ہاتھوں جسمانی، جذباتی اور معاشی استحصال کا شکار ہوتی ہیں۔ افسوسناک واقعات میں، خواتین کو بیٹوں کی بجائے بیٹیوں کی پیدائش پر ان کے شوہروں نے قتل کر دیا، چاہے وہ جلا کر ہو یا گولی مار کر۔یہاں تک کہ پڑھی لکھی اور مالی طور پر خود مختار خواتین بھی ان خطرات سے محفوظ نہیں ہیں۔ صنفی بنیاد پر تشدد کی وسیع نوعیت تمام سماجی اور معاشی حدود کو عبور کرتی ہے، دیہی اور شہری علاقوں دونوں میں خواتین کو متاثر کرتی ہے۔
    معاشی عوامل اکثر صورتحال کو مزید خراب کر دیتے ہیں۔ ایسی رپورٹیں سامنے آئی ہیں جہاں خاندانوں نے اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا، علاج کے اخراجات برداشت نہ کر سکنے کا بہانہ بنا کر۔ یہ نہ صرف خواتین کی زندگیوں کی کم قدر کو ظاہر کرتا ہے بلکہ ان سخت معاشی حالات کو بھی جو ایسے غیر انسانی فیصلوں کا باعث بن سکتے ہیں۔
    پاکستان کی حکومت نے خواتین کے خلاف تشدد سے نمٹنے کے لیے قوانین نافذ کیے ہیں، لیکن ان کا نفاذ کمزور رہا ہے۔ ثقافتی رویے، تعلیم کی کمی، اور معاشی عدم مساوات ترقی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ بہت سے معاملات سماجی بدنامی، انتقام کے خوف، یا انصاف کے نظام پر عدم اعتماد کی وجہ سے رپورٹ نہیں کیے جاتے۔
    اس بحران سے نمٹنے کے لیے ایک کثیر الجہتی نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔ تعلیم بہت اہم ہے، لڑکیوں کو با اختیار بنانے کے لیے اور لڑکوں کے رویوں کو ابتدائی عمر سے تبدیل کرنے کے لیے۔ خواتین کی معاشی ترقی ان کی کمزوری کو کم کر سکتی ہے۔ قانون کے سخت نفاذ اور عدالتی اصلاحات ضروری ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مجرموں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ خواتین کو سمجھنے اور ان کی قدر کرنے کے طریقے میں معاشرتی تبدیلی آئے۔ میڈیا، مذہبی رہنماؤں، اور کمیونٹی کے اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کو کردار تبدیل کرنے اور صنفی مساوات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرنا ہے۔
    بین الاقوامی تنظیمیں اور مقامی این جی اوز صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے کام کرتی رہتی ہیں، لیکن چیلنج بہت بڑا ہے۔ پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد کے خلاف جنگ صرف قوانین کو تبدیل کرنے کا معاملہ نہیں ہے؛ اس کے لیے گہری جڑیں جمائے ہوئے معاشرتی اقدار اور عقائد میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔جیسے جیسے پاکستان آگے بڑھتا ہے، اس کی خواتین کے ساتھ سلوک اس کی قومی ترقی کا ایک اہم اشاریہ ہو گا۔ خواتین کی حفاظت، وقار اور مساوات کو نہ صرف خواتین کے مسائل کے طور پر بلکہ ملک کی مجموعی ترقی اور خوشحالی کے لیے ضروری بنیادی انسانی حقوق کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔ صرف جب خواتین تشدد کے خوف سے آزاد ہو کر زندگی گزار سکیں گی تب ہی پاکستان حقیقی معنوں میں ایک ترقی یافتہ معاشرے کا دعوی کر سکے گا

  • پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان ندا ڈار نے ایک اہم مرحلے کو عبور کرلیا

    پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان ندا ڈار نے ایک اہم مرحلے کو عبور کرلیا

    ندا ڈار نے پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی تاریخ میں اہم سنگ میل حاصل کیا ہے، جب وہ پہلی خواتین کرکٹر بن گئیں جنہوں نے 150 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلے ہیں۔
    ان کا یہ سنگ میل ایشیا کپ میں بھارت کے خلاف ہونے والے میچ میں حاصل ہوا۔پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ محمد وسیم نے میچ سے قبل ندا ڈار کو ان کی محنت اور مضبوطی پر سوینئر دیا۔ انہوں نے ٹیم کی دستخط شدہ شرٹ بھی پیش کی جو ان کے اس اہم لمحے کو سیمول کرتی ہے۔اس میچ میں ویمنز ایشیا کپ، بھارت کی ویمنز کرکٹ ٹیم نے پاکستان ویمنز کو 7 وکٹوں سے شکست دے دی، جس کے باوجود ندا ڈارکے اس اہم مرحلے نے پاکستانی کرکٹ کے ایک نیا سفر کی شروعات کو نئی روشنی میں چمکا دیا۔

  • الیکش کمیشن  ایک خود مختار ادارہ ہے جو اپنے فیصلے آزادانہ طور پر کرنے کا مجاز ہے، رانا ثناءاللہ

    الیکش کمیشن ایک خود مختار ادارہ ہے جو اپنے فیصلے آزادانہ طور پر کرنے کا مجاز ہے، رانا ثناءاللہ

    وزیراعظم کے مشیر سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے حال ہی میں الیکشن کمیشن، سپریم کورٹ کے فیصلوں اور ملک کی سیاسی صورتحال پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کی خودمختاری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک آئینی ادارہ ہے جو اپنے فیصلے آزادانہ طور پر کرنے کا مجاز ہے۔رانا ثنا اللہ نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ جلد ہی تفصیلی فیصلے کے آنے کی توقع کرتے ہیں۔ انہوں نے آئین کے تحفظ پر اپنی جماعت کے عزم کا اعادہ کیا اور ماضی کے بعض عدالتی فیصلوں پر سوال اٹھائے۔رانا ثناء اللہ نے پی ٹی آئی کے خلاف فارن فنڈنگ کے الزامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس اس سلسلے میں ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کابینہ میں تحریک انصاف سے متعلق معاملات پر تمام متعلقہ فریقوں کو شامل کیا جائے گا۔رانا ثنا اللہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک میں کوئی آمریت نہیں ہے اور ہر شخص کو اپنی رائے کا اظہار کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے عدالتی فیصلوں پر احترام کے ساتھ تبصرہ کرنے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی

  • چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے 97ویں یوم تاسیس کی تقریب، جنرل ساحر شمشاد مہمان خصوصی

    چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے 97ویں یوم تاسیس کی تقریب، جنرل ساحر شمشاد مہمان خصوصی

    چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے 97ویں یوم تاسیس کی تقریب منعقد ہوئی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے پیپلز لبریشن آرمی کے 97ویں یوم تاسیس کی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ جنرل ساحر شمشاد نے اپنے خطاب میں چینی عوام، سویلینز اور عسکری قیادت اور پیپلز لبریشن آرمی کے تمام رینکس کو مبارکباد دی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق انھوں نے چین کی ترقی اور علاقائی امن و استحکام کے لیے اہم قوت بننے میں پی ایل اے کے کردار کو سراہا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے پاک چین قریبی اور برادرانہ تعلقات پر روشنی ڈالی اور انہیں مزید گہرا اور وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل ساحر شمشاد مرزا نے سی پیک، دفاعی تعاون اور علاقائی امن و استحکام پر چین کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم پر زور دیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق تقریب میں شہریوں اور فوجی افسران، صحافیوں، تاجروں اور سول سوسائٹی کے اراکین نے بڑی تعداد میں شرکت کی

  • ژوب:  پولیو کیس رپورٹ ہونے کے بعد ملک میں پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 9 ہوگئی

    ژوب: پولیو کیس رپورٹ ہونے کے بعد ملک میں پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 9 ہوگئی

    پاکستان میں پولیو وائرس کے پھیلاؤ میں تشویشناک اضافہ، بلوچستان کے ضلع ژوب سے پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے ۔ ضلع ژوب پولیو کیس رپورٹ ہونے کے بعد ملک میں پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 9 ہوگئی ۔ یونین کونسل حسن زئی اربن ٹو کے ڈیڑھ سالہ بچے سے لئے گئے نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ وزارتِ صحت کےمطابق متاثرہ بچے میں معذوری کی علامات 28 جون کو ظاہر ہوئی تھیں، وائرس کی جینیاتی جانچ ابھی جاری ہے۔ وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ کا کہنا ہے کہ پولیو وائرس ابتک 9 بچوں کو متاثر کر چکا ہے، متاثرہ 9 میں سے 7 بچے بلوچستان سے رپورٹ ہوئے تھے، متاثرہ علاقے میں پولیو کی واپسی تشویش ناک ہے ۔فوکل پرسن برائے انسداد پولیو عائشہ رضا کا کہنا ہے کہ پولیو وائرس کی 50 سے زائد اضلاع میں موجودگی بچوں کیلئے مسلسل خطرہ ہے، خاص طور پر ایسے بچے جن کی قوت مدافعت ویکسین نہ لینے کی وجہ سے کمزور ہے، بچوں کو اس سے بچانے کا سب سے موثر طریقہ پولیو سے بچاؤ کی متعدد خوراکیں ہیں ۔