اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب نے کہا ہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جانبداری دکھا رہے ہیں، وہ پارٹی بنے ہوئے ہیں۔قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب میں عمر ایوب نے کہا کہ اس ایوان کے ممبران 4 جولائی کو اڈیالہ جیل گئے، جہاں ہمارے ساتھ بدسلوکی کی گئی اپوزیشن لیڈر نے مزید کہا کہ آئی جی جیل خانہ جات اور آئی جی پنجاب سے پوچھا جائے کہ قانون سے کھلواڑ کیوں ہو رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے کئی ساتھی بہت دنوں سے لاپتہ ہیں، ہمیں نہیں معلوم انہیں کہاں لے جایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم عدالتی حکم پر بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے ملنے گئے تھے، آئی جی جیل خانہ جات اور آئی جی پنجاب کو یہاں بلایا جائے۔
عمر ایوب نے یہ بھی کہا کہ ہمارا مخصوص نشستوں کا کیس سپریم کورٹ میں ہے، چیف جسٹس فائز عیسیٰ جانبداری دکھا رہے ہیں، وہ پارٹی بنے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلاو ل بھٹو نے کہا کہ دہشت گردی ہم نے پروان چڑھائی، جو غلط بات ہے،چیئرمین پی پی پی سے پوچھتا ہوں کہ آپ کو سندھ میں کرپشن نظر نہیں آرہی ہے؟اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور ہمیشہ پشاور سے بلاول بھٹو کو رلا کر واپس بھیجتا ہے، میں گنڈاپور سے کہوں گا کہ وہ ایسا نہ کیا کرے۔
Author: صدف ابرار
-

اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر جانبداری کا الزام عائد کر دیا
-

بجلی صارفین کے لیے خوشخبری: حکومت کا 200 یونٹ تک ریلیف کا اعلان
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بجلی کے چھوٹے صارفین کو بڑی راحت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو 200 یونٹ تک کے صارفین کے لیے ٹیرف میں حالیہ اضافے کو واپس لینے کی درخواست بھیج دی ہے۔اس اہم فیصلے کے تحت، ماہانہ 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کو تین ماہ تک ٹیرف اضافے سے مستثنیٰ رکھا جائے گا۔ یہ ریلیف پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ، دونوں قسم کے صارفین کے لیے لاگو ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق، نیپرا کل اس درخواست پر سماعت کرے گا۔ پہلے منظور شدہ اضافے کے تحت، 200 یونٹ تک کے صارفین کے لیے فی یونٹ 3 روپے 95 پیسے سے 7 روپے 12 پیسے تک کا اضافہ کیا گیا تھا۔
اب حکومت کی نئی تجویز کے مطابق، جولائی سے ستمبر 2024 تک 200 یونٹ تک کے صارفین کو اس اضافے سے مکمل استثنیٰ دیا جائے گا۔ نیپرا کو بھجوائی گئی حکومتی درخواست میں مزید کہا گیا کہ اطلاق 200 یونٹ تک پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے ہوگا۔ذرائع کے مطابق حکومتی درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ 200 یونٹ تک صارفین کے لیے 3 روپے 95 پیسے سے 7 روپے 12پیسے تک اضافہ منظور کیا گیا تھا۔درخواست میں کہا گیا کہ جولائی تاستمبر 2024ء تک200 یونٹ والےصارفین کو ٹیرف سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔یہ فیصلہ حکومت کی جانب سے عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے کی کوششوں کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عارضی اقدام ہے اور بجلی کے شعبے میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔نیپرا کی جانب سے اس درخواست پر فیصلے کا انتظار کیا جا رہا ہے، جس کے بعد اس ریلیف پیکج کو عملی جامہ پہنایا جا سکے گا۔ عوام کو امید ہے کہ یہ اقدام ان کے بجلی کے بلوں میں نمایاں کمی لائے گا -

آئین میں جو آزادیاں ہیں وہ کسی صورت سلب نہیں کی جاسکتیں۔ اعظم نذیر تارڑ
وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی میں فون ٹیپنگ قانون کے حق میں زوردار دفاع کیا ہے۔ انہوں نے اس قانون کو شہری آزادیوں کے تحفظ کے ساتھ ملک کی سلامتی کے لیے ضروری قرار دیا۔اپنے خطاب میں اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا کہ یہ قانون کوئی نیا نہیں، بلکہ 1966 میں وضع کیا گیا تھا اور 1996 میں اس میں ترامیم کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے 28 سالوں میں پانچ مختلف حکومتوں نے اس قانون کو برقرار رکھا، جو اس کی اہمیت کا ثبوت ہے۔وزیرقانون نے زور دیا کہ اس قانون کا مقصد شہریوں کی ذاتی زندگی میں مداخلت نہیں، بلکہ قومی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے مثال دی کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات میں بھی اسی قانون کے تحت کال ٹریسنگ کی گئی تھی۔
اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے سخت ضوابط وضع کیے گئے ہیں۔ صرف 18 گریڈ سے اوپر کے افسران کو ہی فون ٹیپنگ کی اجازت ہوگی، اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔وزیر نے تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ قانون واقعی غیر آئینی ہوتا، تو پچھلی حکومت نے اپنے چار سالہ دور میں اسے ختم کر دیا ہوتا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت اس قانون کے استعمال پر سخت نگرانی رکھے گی۔اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت فون ٹیپنگ قانون کو برقرار رکھنے کی پرعزم ہے، لیکن ساتھ ہی شہری آزادیوں کے تحفظ کا بھی دعویٰ کر رہی ہے۔ یہ معاملہ آنے والے دنوں میں بحث کا موضوع بنا رہ سکتا ہے -

افغان شہریوں کی پاکستان آمد و روانگی سے متعلق نیا طریقہ کار نافذ کرنے کا فیصلہ
افغان شہریوں کی پاکستان آمد و روانگی سے متعلق نیا طریقہ کار نافذ کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے افغان شہریوں کی پاکستان آمد اور روانگی سے متعلق نیاطریقہ کار نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نئے طریقے کا مقصد افغان شہریوں کی مانیٹرنگ کو مؤثربناناہے۔ذرائع کے مطابق افغان مہاجرین کے پروف آف رجسٹریشن (پی اوآر) کارڈ اور افغان سیٹیزن کارڈ (اے سی سی) طورخم بارڈرپر ایف آئی اے اپنی تحویل میں لےگی۔ رضاکارانہ طور پر افغانستان واپسی پر وی آر ایف فارم ملےگا اور اس فارم پر افغانستان میں گرانٹ ملےگی۔ذرائع کا مزیدکہنا تھا کہ یو این ایچ سی آر کے بغیر افغانستان واپس جانے والوں کےکارڈ پنچ کرکے ایف آئی اے اپنی تحویل میں رکھےگی، ایف آئی اےکی تحویل میں لیے گئے کارڈ نادرا مستقل بلاک کردےگا۔
-

صدر مملکت کی چودھری شجاعت سے ملاقات، خیریت دریافت کی
صدر مملکت آصف علی زرداری اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی گلبرگ میں مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت حسین کی رہائش گاہ گئے۔صدر آصف زرداری اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے چودھری شجاعت حسین کی عیادت کی اور خیریت دریافت کی، آصف زرداری اور محسن نقوی نے چودھری شجاعت حسین کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا، ملکی اور سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان کی بہتری اور ترقی کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک صفحے پر آنا ہو گا، پاکستان ہم سب کا سانجھا ہے، محسن نقوی نے کہا کہ شجاعت حسین سینئر سیاستدان ہیں اور پاکستان کے لئے ان کی گراں قدر خدمات ہیں۔چودھری سالک حسین، چودھری شافع حسین اور چودھری موسیٰ الہٰی بھی اس موقع پر موجود تھے۔
-

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے جون کے مہینے میں 3.2 ارب ڈالر ملک بھیجے گئے،
اسٹیٹ بینک نےترسیلات زرکےحوالےسےرپورٹ جاری کردی۔جون میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے 3.2 ارب ڈالر ملک میں بھیجے گئے ۔
اسٹیٹ بینک کی جاری کردہ رپورٹ کےمطابق ترسیلات زر میں سال بسال بنیادوں پر 44.4 فیصد اضافہ ہوا، رواں مالی سال کے دوران مجموعی طور پر ترسیلات زر کی مد میں 30.3 ارب ڈالر رقوم موصول ہوئی ، مالی سال 23ء میں 27.3 ارب ڈالر رقوم موصول ہوئی تھیں ۔اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کےمطابق جون میں سعودی عرب 808.6 ملین ڈالر موصول ہوئے، متحدہ عرب امارات سے 654.3 ملین ڈالر آئے ، برطانیہ سے 487.4 ملین ڈالر اور امریکہ سے 322.1 ملین ڈالر آئے۔ -

ماہانہ 200 یونٹ تک صارفین کیلئے بجلی کا ٹیرف بڑھانےکافیصلہ واپس لینے کی تجویز
حکومت ماہانہ 200 یونٹ تک صارفین کیلئے بجلی کی قیمت بڑھانے کا فیصلہ واپس لینے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ماہانہ 200 یونٹ کے پروٹیکیڈ اور نان پروٹیکیڈ صارفین کیلیے ٹیرف میں اضافہ واپس لینے کی تجویز ہے۔ وزیراعظم نے ہنگامی بنیادوں پر سمری کی وفاقی کابینہ سے منظوری لینے کی ہدایت کر دی۔ ذرائع کے مطابق جولائی تا ستمبر 2024 کیلئے ماہانہ 200 یونٹ تک والے صارفین کو ریلیف دینے کی تجویز ہے۔ وفاقی حکومت ٹیرف پر ریلیف دینے کے لیے تقریباً 50 ارب روپے کی سبسڈی دے گی۔ ذرائع کے مطابق اس سے قبل کابینہ نے 200 یونٹ تک پروٹیکیڈ اور نان پرویکٹیڈصارفین کےلیے اضافہ منظور کیا تھا۔ ایک سے 100 یونٹ تک پروٹیکٹڈ صارفین کے ٹیرف میں 3.95 روپے اضافہ منظور کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے بجلی کے فی یونٹ بنیادی ٹیرف میں7 روپے 12 پیسے تک اضافہ منظور کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق ماہانہ101 سے 200 یونٹ تک پروٹیکڈ صارفین کا ٹیرف 4.10 روپے بڑھانے کی منظوری دی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق ماہانہ 1 سے 100 یونٹ نان پروٹیکٹڈ صارفین کے ٹیرف میں 7.11 روپے اضافہ جبکہ ماہانہ101سے 200 یونٹ نان پروٹیکٹڈ صارفین کے ٹیرف میں 7.12 روپے اضافہ منظور کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اضافے کا اطلاق یکم جولائی 2024 سے کرنے کی تجویز ہے۔ ذرائع کے مطابق ماہانہ 50 یونٹ تک لائف لائن صارفین کے لیے فی یونٹ ٹیرف 3.95 روپے برقرار رہے گا۔ذرائع کے مطابق ماہانہ51 سے 100 یونٹ تک لائف لائن صارفین کے لیے فی یونٹ ٹیرف 7.74 روپے برقرار رہے گا۔ -

وزیراعظم کی ایران کے نو منتخب صدر کو ٹیلی فون پر مبارکباد
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے اسلامی جمہوریہ ایران کے نو منتخب صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اور حال ہی میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں ان کی کامیابی پر انہیں دلی مبارکباد پیش کی۔ وزیراعظم نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور جمہوری عمل کے ذریعے نئے صدر کے انتخاب پر انہیں اور ایران کے برادر عوام کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ برادر ہمسایہ ممالک کی حیثیت سے پاکستان اور ایران مشترکہ تاریخ، عقیدے، ثقافت اور روایات کے بندھن میں بندھے ہوئے ہیں۔ایران کے نو منتخب صدر کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وہ پاکستان ایران تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور تجارت، توانائی اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو بڑھانے کے لیے ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں۔ اس حوالے سے وزیراعظم نے مزید کہا کہ اپریل 2024 میں مرحوم صدر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی کے تاریخی دورے کے دوران دونوں ممالک کی جانب سے مشترکہ طور پر لیے گئے فیصلوں نے دونوں ممالک کے درمیان باہمی فائدہ مند تعاون پر مبنی شراکت داری کی ایک بہترین بنیاد رکھی تھی۔نومنتخب صدر پیزشکیان نے دونوں برادر ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مبارکباد پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔
-

مصطفیٰ کمال کی لیاری ایکسپریس وے کے معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلی فونک بات چیت
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے لیاری ایکسپریس وے کے معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف سے براہ راست بات چیت کی ہے۔ ٹیلیفونک گفتگو میں،مصطفی کمال نے وزیراعظم کو اس منصوبے کی تاریخ اور اصل مقصد سے آگاہ کیا۔ مصطفی کمال نے وزیراعظم کو بتایا کہ لیاری ایکسپریس وے کا 90 فیصد کام ان کے دورِ نظامت میں مکمل ہوا تھا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ منصوبہ صرف ہلکی ٹریفک کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، بھاری گاڑیوں کے لیے نہیں۔
ایم کیو ایم رہنما نے وزیراعظم کو یاد دلایا کہ بھاری ٹریفک کے لیے ناردرن بائی پاس بنایا گیا تھا۔ انہوں نے تجویز دی کہ اس بائی پاس کو ڈبل ٹریک میں تبدیل کیا جائے تاکہ بھاری ٹریفک کو سنبھالا جا سکے۔
وزیراعظم نے کمال کی تجاویز کو سنجیدگی سے لیا اور فوری طور پر اس معاملے پر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔ شہباز شریف نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ جب تک کسی تھرڈ پارٹی سے جائزہ نہیں لیا جاتا، تب تک لیاری ایکسپریس وے پر بھاری ٹریفک کو اجازت نہیں دی جائے گی۔یہ گفتگو اس وقت ہوئی ہے جب لیاری ایکسپریس وے کے استعمال کو لے کر تنازعات جاری ہیں۔ مصطفیٰ کمال کی جانب سے اٹھائے گئے نکات شہر کی ٹریفک منصوبہ بندی پر سوالات کھڑے کرتے ہیں۔اس ٹیلیفونک رابطے سے امید کی جا رہی ہے کہ حکومت اس اہم شہری بنیادی ڈھانچے کے استعمال کو لے کر ایک جامع پالیسی وضع کرے گی، جو کراچی کے ٹریفک مسائل کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے -

سول ایوی ایشن کی ایڈیشنل ڈائریکٹر ایرو میڈیکل کی تقرری سے متعلق خبر کی تردید
پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (پی سی سی اے) نے ایڈیشنل ڈائریکٹر ایرو میڈیکل کی تقرری سے متعلق خبر کی تردید کردی۔سول ایوی ایشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ڈاکٹرداؤد اور ڈاکٹر احریمہ معیار پر پورے اترتے تھے، پوسٹ کے لیے معیار مشتہر کیا گیا تھا۔ سی اے اے نے بتایاکہ ڈاؤیونیورسٹی سے ایوی ایشن میڈیسن میں ڈپلومہ ہائر ایجوکیشن کمیشن تسلیم کرتا ہے، اس ڈپلومے کا حصول لازمی شرط بھی نہیں تھی، بھرتی کا عمل دیانت داری، شفافیت سے مکمل کیا گیا۔سول ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر داؤد اور ڈاکٹراحریمہ تربیت یافتہ، تجربہ کار تھے، تقرریوں سے متعلق بے بنیاد الزامات مسترد کرتے ہیں۔سی اے اے کے مطابق اس معاملے پر کسی انٹرنیشنل ریگولیٹرکی کوئی رائےسامنےنہیں آئی۔