متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے لیاری ایکسپریس وے کے معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف سے براہ راست بات چیت کی ہے۔ ٹیلیفونک گفتگو میں،مصطفی کمال نے وزیراعظم کو اس منصوبے کی تاریخ اور اصل مقصد سے آگاہ کیا۔ مصطفی کمال نے وزیراعظم کو بتایا کہ لیاری ایکسپریس وے کا 90 فیصد کام ان کے دورِ نظامت میں مکمل ہوا تھا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ منصوبہ صرف ہلکی ٹریفک کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، بھاری گاڑیوں کے لیے نہیں۔
ایم کیو ایم رہنما نے وزیراعظم کو یاد دلایا کہ بھاری ٹریفک کے لیے ناردرن بائی پاس بنایا گیا تھا۔ انہوں نے تجویز دی کہ اس بائی پاس کو ڈبل ٹریک میں تبدیل کیا جائے تاکہ بھاری ٹریفک کو سنبھالا جا سکے۔
وزیراعظم نے کمال کی تجاویز کو سنجیدگی سے لیا اور فوری طور پر اس معاملے پر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔ شہباز شریف نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ جب تک کسی تھرڈ پارٹی سے جائزہ نہیں لیا جاتا، تب تک لیاری ایکسپریس وے پر بھاری ٹریفک کو اجازت نہیں دی جائے گی۔یہ گفتگو اس وقت ہوئی ہے جب لیاری ایکسپریس وے کے استعمال کو لے کر تنازعات جاری ہیں۔ مصطفیٰ کمال کی جانب سے اٹھائے گئے نکات شہر کی ٹریفک منصوبہ بندی پر سوالات کھڑے کرتے ہیں۔اس ٹیلیفونک رابطے سے امید کی جا رہی ہے کہ حکومت اس اہم شہری بنیادی ڈھانچے کے استعمال کو لے کر ایک جامع پالیسی وضع کرے گی، جو کراچی کے ٹریفک مسائل کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے
Author: صدف ابرار
-

مصطفیٰ کمال کی لیاری ایکسپریس وے کے معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلی فونک بات چیت
-

سول ایوی ایشن کی ایڈیشنل ڈائریکٹر ایرو میڈیکل کی تقرری سے متعلق خبر کی تردید
پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (پی سی سی اے) نے ایڈیشنل ڈائریکٹر ایرو میڈیکل کی تقرری سے متعلق خبر کی تردید کردی۔سول ایوی ایشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ڈاکٹرداؤد اور ڈاکٹر احریمہ معیار پر پورے اترتے تھے، پوسٹ کے لیے معیار مشتہر کیا گیا تھا۔ سی اے اے نے بتایاکہ ڈاؤیونیورسٹی سے ایوی ایشن میڈیسن میں ڈپلومہ ہائر ایجوکیشن کمیشن تسلیم کرتا ہے، اس ڈپلومے کا حصول لازمی شرط بھی نہیں تھی، بھرتی کا عمل دیانت داری، شفافیت سے مکمل کیا گیا۔سول ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر داؤد اور ڈاکٹراحریمہ تربیت یافتہ، تجربہ کار تھے، تقرریوں سے متعلق بے بنیاد الزامات مسترد کرتے ہیں۔سی اے اے کے مطابق اس معاملے پر کسی انٹرنیشنل ریگولیٹرکی کوئی رائےسامنےنہیں آئی۔
-

ملکی کرکٹ کی بہتری کے لئے متعدد سابق کرکٹرز اہم مشاورتی اجلاس کے لیے مدعو
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے ملکی کرکٹ کی بہتری کے لیے ایک نیا قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے متعدد سابق کرکٹرز کو ایک اہم مشاورتی اجلاس کے لیے مدعو کیا ہے۔اس اجلاس میں شرکت کے لیے بلائے گئے کھلاڑیوں میں کئی نامور شخصیات شامل ہیں۔ ان میں سرفراز احمد، انتخاب عالم، سلیم الطاف، شفیق پاپا، اظہر خان، اقبال قاسم، ہارون رشید، اور اعجاز احمد جیسے تجربہ کار کھلاڑی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ، عبدالرؤف، وجاہت اللہ واسطی، یاسر شاہ، سلمان بٹ اور یاسر حمید کو بھی دعوت دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق، اس ملاقات کا بنیادی مقصد ڈومیسٹک کرکٹ کی بہتری پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا خیال ہے کہ ان سابق کھلاڑیوں کے تجربات اور مشورے ملکی کرکٹ کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی سی بی اب کرکٹ کی جڑوں کو مضبوط کرنے پر زور دے رہا ہے۔ سابق کھلاڑیوں کی آراء سے نہ صرف نوجوان کھلاڑیوں کو فائدہ ہو گا، بلکہ یہ پاکستانی کرکٹ کے مستقبل کے لیے ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ ملاقات پاکستانی کرکٹ کے مداحوں کے لیے بھی خوش آئند خبر ہے، کیونکہ اس سے امید کی جا رہی ہے کہ ملکی سطح پر کھیل کا معیار بہتر ہو گا اور نئے صلاحیتوں کو موقع ملے گا۔پاکستان کرکٹ بورڈ کی یہ نئی حکمت عملی ثابت کرتی ہے کہ وہ اپنے سابق ستاروں کے تجربے کو اہمیت دے رہا ہے اور ان کی مدد سے کرکٹ کے مستقبل کو روشن بنانے کی کوشش کر رہا ہے -

معصوم شخص کو پھانسی پر چڑھایا گیا، ذوالفقار بھٹو کا ٹرائل شفاف نہیں تھا۔ سپریم کورٹ
سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی سزا کے خلاف تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے۔ عدالت عظمی نے اپنے فیصلے میں رائے دی ہے کہ جس وقت سابق وزیر اعظم کو پھانسی کی سزا دی گئی اس وقت ملک میں مارشل لا تھا۔آمر کی وفاداری کا حلف اٹھانے والی عدالتیں، عوامی عدالتیں نہیں رہتیں۔تفصیلی تحریری رائے کے مطابق ’پھانسی کے فیصلے کا براہ راست فائدہ ضیا الحق کو ہوا‘، بھٹو کو رہا کردیا جاتا تو وہ ضیا کیخلاف سنگین غداری کا مقدمہ چلا سکتے تھے۔واضح رہے کہ 6 مارچ 2024 کو سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو صدارتی ریفرنس پر رائے سنائی تھی، تاہم اب عدالت عظمیٰ نے تفصیلی تحریری رائے جاری کردی ہے۔
اس وقت سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو آئین کے مطابق مصنفانہ ٹرائل نہیں ملا اور ان کے خلاف مقدمہ قانون کے مطابق نہیں چلایا گیا۔
بھٹو کیس میں شفاف ٹرائل کے تقاضے پورے نہیں کیے۔ کیس میں براہ راست شواہد موجود نہ تھے،اور کیس کو ایک سال تک سماعت کے لیے مقرر ہی نہ کیاگیا۔ کیس میں معصوم شخص کو پھانسی پرچڑھایاگیا، جس کابراہ راست فائدہ جنرل ضیا کو ہوا۔عدالت نے مزید48 صفحات میں رائے دی کہ جس وقت فیصلہ سنایاگیا، اس وقت ملک اور عدالتیں آمر کے غلام تھے۔ ایف آئی نے بھٹو کے کیس کی فائل ملنے سے پہلے ہی تحقیقات کاآغاز کردیا تھا لیکن اگر پولیس پہلے تفتیش مکمل کرچکی ہو تو ایف آئی اے کو تفتیش کا اختیار حاصل نہیں۔ جس وقت کیس چلایاگیا اس ٹائم آئین معطل تھا۔ -

ایم کیو ایم اور پی پی پی کو ایک میز پر بیٹھاؤں گا، کامران ٹیسوری کا دعوی
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ پر ایک میز پر بیٹھانے کے عزم کا اظہار کردیا۔ گورنر ہاؤس کراچی میں تقریب سے خطاب میں کامران ٹیسوری نے کہا کہ سندھ کی دونوں بڑی جماعتیں مل کر صوبے کی خدمت کرسکتی ہیں۔ ایم کیو ایم اور پی پی پی کو ایک میز پر بیٹھاؤں گا.کامران ٹیسوری نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر ملکی معیشت کو ٹھیک کرنے میں مصروف ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف اسپیشل انویسٹمنٹ فیسی لیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے تحت معاشی تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جن کی بائیک چوری ہو اور 6 ماہ میں نہ ملی تو ایف آئی آر دیکر ہم سے لے، ان تمام پروگرامز میں نہ سندھ حکومت کا پیسہ ہے نہ گورنر ہاؤس کا۔کامران ٹیسوری نے کہا کہ اسکالرشپ میں بچوں کی معاونت کے لیے آج سیل قائم کیا جائے گا، پروگرام کے تحت میرٹ پر بچوں کو بیرون ملک تعلیم کے لیے بھجوائیں گے۔گورنر سندھ نےکہا کہ ہم نے کاروبار کے لیے قرضہ حسنہ دینے کا پروگرام شروع کیا ہے، آج کیرئیر کونسلنگ کا گورنر ہاؤس میں پہلا سیشن ہے۔ ہم نے گورنر ہاؤس کی دیوار گرا کر آئی ٹی گیٹ بنادیا ہے۔ -

کیا شہزادہ ہیری اب تنہا محسوس کر رہے ہے ؟
امریکا میں اپنی نئی زندگی کے باوجود، شہزادہ ہیری کو اب اپنے آبائی وطن اور پرانے دوستوں کی یاد ستانے لگی ہے۔شاہی معاملات کے ماہر ٹام کوئین کے مطابق، ہیری کے زیادہ تر دوست اب ان سے ملنے نہیں آتے۔ اس کی وجہ ان کی اہلیہ میگھن مارکل کے ساتھ دوستوں کی ناپسندیدگی بتائی جا رہی ہے۔ یہ صورتحال شہزادہ ہیری کو مزید تنہا کر رہی ہے۔حال ہی میں، ہیری نے اپنے ایک قریبی دوست کی شادی میں شرکت سے بھی گریز کیا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ شہزادہ ولیم کی موجودگی کی وجہ سے کیا گیا، تاکہ کسی قسم کی کشیدگی سے بچا جا سکے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ شہزادہ ہیری اپنے ماضی کی یادوں سے بھی کتراتے نظر آ رہے ہیں۔ وہ اپنے پرانے دوستوں سے اس لیے بھی دوری بنا رہے ہیں کیونکہ وہ انہیں میگھن سے پہلے کی زندگی کی یاد دلاتے ہیں۔تاہم، کچھ حالیہ خبروں کے مطابق، شہزادہ ہیری برطانیہ میں دوبارہ جائیداد خریدنے پر غور کر رہے ہیں۔ یہ خبر ان کے دل میں وطن کی محبت کو ظاہر کرتی ہے۔دوسری طرف، میگھن مارکل کی کہانی مختلف ہے۔ وہ خود کو برطانیہ سے ‘مسترد’ محسوس کرتی ہیں اور اب اپنا دھیان ہالی وڈ میں کیریئر بنانے پر مرکوز کر رہی ہیں۔یہ کہانی شاہی خاندان کے سابق رکن کی پیچیدہ زندگی کو دکھاتی ہے – ایک طرف نئی زندگی کی خواہش، تو دوسری طرف پرانی یادوں اور رشتوں کی کشمکش۔ شہزادہ ہیری کی یہ داستان ثابت کرتی ہے کہ شاہی زندگی چھوڑنا آسان نہیں، اور نئی شروعات کے ساتھ اپنے ماضی سے مکمل طور پر کٹ جانا ممکن نہیں۔
-

وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور اقوام متحدہ ہائی کمشنر کی ملاقات: افغان مہاجرین کی صورتحال زیر غور
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین فلپو گرانڈی سے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کی صورتحال پر گہری بات چیت ہوئی،ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، اس اہم نشست میں افغان مہاجرین سے متعلق متعدد پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ہائی کمشنر گرانڈی نے خصوصی طور پر پاکستان کی مہمان نوازی اور فراخدلی کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے متعدد چیلنجز کے باوجود افغان مہاجرین کی میزبانی میں بے مثال کردار ادا کیا ہے۔
ملاقات میں افغان مہاجرین کے مستقبل پر بھی بات چیت ہوئی۔ دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مہاجرین کی محفوظ، باوقار اور رضاکارانہ واپسی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے طویل مدتی اور پائیدار حل تلاش کرنے پر زور دیا گیا۔اسحاق ڈار نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے افغان مہاجرین کے حقوق کا تحفظ کرتا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان مستقبل میں بھی اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر اس مسئلے کے حل کے لیے کوشاں رہے گا۔فلپو گرانڈی نے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو بھی اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین کی مدد صرف پاکستان کی ذمہ داری نہیں، بلکہ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے۔اس ملاقات سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ افغان مہاجرین کے مسئلے پر جلد کوئی ٹھوس پیش رفت ہو سکے گی۔ -

حکومت سندھ کی جانب سے صوبے میں رین ایمرجنسی نافذ
سندھ بھر میں رین ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ حکومت سندھ نے موسم کی صورتحال کے پیش نظر صوبے بھر میں رین ایمرجنسی نافذ کی ہے۔ ترجمان ریسکیو 1122 (سندھ) کے مطابق سندھ ایمرجنسی ریسکیو 1122 کی ٹیم رین ایمرجنسی کے پیش نظر شہر کے مختلف مقامات پر تعینات ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔انہوں نے عوام الناس سے اپیل کی کہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری ریسکیو 1122 پر کال کریں۔واضح رہے کہ محکمہ موسمیات نے کراچی سمیت سندھ بھر میں آج اور کل بارش کی پیش گوئی کی ہے۔آج کراچی سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں کچھ مقامات پر ہلکی بارش ہوئی تاہم رین ایمرجنسی کی وجہ سے متعلقہ محکمہ الرٹ ہے۔
-

لیاری ایکسپریس وے صرف ہلکی ٹریفک کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، مصطفی کمال
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے سینئر رہنما سید مصطفیٰ کمال نے وزیراعظم شہباز شریف پر لیاری ایکسپریس وے کے حوالے سے غلط معلومات فراہم کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔اپنے ایک بیان میں کمال نے کہا کہ لیاری ایکسپریس وے صرف ہلکی ٹریفک کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا اور اس پر بھاری ٹریفک کی وجہ سے نقصان کا خدشہ ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کو دی گئی بریفنگ کو "غلط” قرار دیا۔ایم کیو ایم رہنما نے ایک متبادل تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھاری ٹریفک کو شہر سے ناردرن بائی پاس پر منتقل کیا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے وہاں کے ٹریکس کو ڈبل کرنے یا ان میں توسیع کرنے کی تجویز بھی دی۔یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب کراچی کے بنیادی ڈھانچے اور ٹریفک کے مسائل زیر بحث ہیں۔ کمال کے اس موقف سے شہر کی ٹرانسپورٹ پالیسی پر نئی بحث چھڑ سکتی ہے۔
-

خیبر پختونخوا اور بلوچستان ایک بار پھر دہشت گردی کے زد میں ہیں، بلاول بھٹو زرداری
پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ہماری کوشش ہو گی حالات بہتری کی طرف لے کے جائے پچھلی حکومت کی وجہ سے پختونخوا سے لے کر بلوچستان تک ایک بار پھر دہشتگرد تنظیمیں سر اٹھارہی ہیں، آپریشن عزم استحکام پر حکومت کی اے پی سی میں اپنا وفد بھیجیں گے۔بلاول بھٹو نے گورنر ہاؤس خیبر پختونخوا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ مثبت سیاست کی ہے، ہم گالم گلوچ کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے، عوام ہمارے نمائندوں پر بھروسہ مسائل کے حل کی وجہ سے کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پیپلزپارٹی کی تنظیم سازی جاری ہے، ہم پختونخوا سے نفرت کی سیاست کرنے والوں کا مثبت سیاست کے ساتھ مقابلہ کریں گے، انشاء اللہ جیت اس سیاست کی ہوگی۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ تاریخ میں کبھی اتنے مسائل ایک ساتھ نہیں دیکھے، معاشی بحران، مہنگائی، بے روزگاری اور غربت ہر پاکستانی کا مسئلہ ہے، تاثر ہے کہ دن بدن حالات بگڑ رہے ہیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت نفرت اور انا کی سیاست ہے، خیبرپختونخوا میں گالم گلوچ کی سیاست عروج پر ہے، ہمیں غیر سیاسی اور غیر جمہوری سیاست کا سیاسی روایتوں سے مقابلہ کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سیاستدان اگر مسائل حل نہیں کریں گے تو عوامی ردعمل کا سامنا کرنا ہوگا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ملک کو معاشی اور سیکیورٹی صورتحال کا بھی مسئلہ درپیش ہے، بہادر افواج نے دہشتگردوں کو تاریخی شکست دی، ہمسایہ ملک کی پوری فوج ناکام ہوئی تو بارڈر کے اس پار پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں نے دہشتگردوں کی کمر کی ہڈی توڑی۔ان کا کہنا تھا کہ پچھلی حکومت کی وجہ سے خیبر پختونخوا سے لے کر بلوچستان تک ایک بار پھر دہشتگرد تنظیمیں سر اٹھارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے آپریشن کے حوالے سے آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلانے کا فیصلہ کیا ہے، ہم اے پی سی میں اپنا وفد بھیجیں گے اور متعلقہ فورم پر بھی اپنی تجاویز اور تحفظات شیئر کریں گے، کوشش ہے کہ مشاورت سے فیصلہ ہو۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ایجنسیز چاروں صوبوں میں قربانیاں دے رہی ہیں، ہم نے اپنے گھر کو ٹھیک کرنا ہے، ماضی میں ہم سے غلطیاں ہوئی اس سے انکار نہیں ہے۔