پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ایک اہم ملاقات ہوئی جو صوبے کے مستقبل کو تبدیل کرنے کا وعدہ لے کر آئی۔ سینیئر وزیر مریم اورنگزیب نے عالمی شہرت یافتہ تعلیمی ماہر سر مائیکل باربر کا استقبال کیا، جو ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ آئے تھے۔مریم اورنگزیب نے کہا "آج ہم ایک نئے پنجاب کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔” انہوں نے سر مائیکل کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے ماضی میں بھی وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ کام کیا تھا۔سینیئر وزیر نے پنجاب کے لیے اپنے بلند خوابوں کا ذکر کیا۔ "ہم ہر بچے اور بچی کو تعلیم دینے کا عزم رکھتے ہیں،” انہوں نے کہا۔ "یہ صرف ایک خواب نہیں، بلکہ ایک میگا پراجیکٹ ہے جس پر ہم کام کر رہے ہیں۔”انہوں نے بتایا کہ پسماندہ اضلاع میں 20 ارب روپے کا پروگرام شروع کیا گیا ہے، جس کے تحت سرکاری اسکولوں میں بچوں کو کھانا اور دودھ فراہم کیا جائے گا۔ "ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے صحت مند اور توانا ہوں تاکہ وہ اچھی طرح سے پڑھ سکیں،”
مریم اورنگزیب نے ‘ارلی ایئر ایجوکیشن سسٹم’ کا بھی ذکر کیا، جو چھوٹے بچوں کے لیے عالمی معیار کا تعلیمی نظام ہوگا۔ "ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے شروع سے ہی بہترین تعلیم حاصل کریں،” انہوں نے کہا۔ انہوں نے اعلان کیا۔ کہ "ہم پنجاب کی 10 یونیورسٹیوں کے طلبا کو بین الاقوامی اسکالرشپس دیں گے۔ ہمارے نوجوان دنیا کے بہترین اداروں میں تعلیم حاصل کریں گے اور پھر واپس آکر پنجاب کو آگے بڑھائیں گے۔”سر مائیکل باربر نے اس منصوبے پر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ "میں پنجاب کے ساتھ کام کرنے کے لیے پرجوش ہوں۔ یہاں کے بچوں میں بہت صلاحیت ہے، اور ہم اسے نکھارنے میں مدد کریں گے۔”یہ ملاقات پنجاب کے لیے ایک نئے دور کی نوید لے کر آئی، جہاں تعلیم ہر بچے کا حق ہوگی اور خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا موقع ملے گا
Author: صدف ابرار
-

پنجاب کی 10 یونیورسٹیوں کے طلبا کو بین الاقوامی اسکالرشپس دیں گے،سر مائیکل باربر
-

وزیر اعظم سے تاجر برادری کی کراچی پورٹ ٹرسٹ میں ملاقات ،انفرا سٹرکچر کو بہتر بنانے کا مطالبہ
وزیر اعظم سے تاجر برادری کی کراچی پورٹ ٹرسٹ میں ملاقات ہوئی، بندرگاہ پر درپیش مشکلات اور شپنگ لائنز کی زیادتیوں بارے آگاہ کیا۔ وزیراعظم سے تاجروں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بجلی سستی ہوگی تو برآمدات کو 6 ارب ڈالر تک بڑھا دیں گے، ایکسپورٹ بڑھے گی تو بیرونی قرض کی ضرورت نہیں ہوگی، ایکسپورٹرز پر فکسڈ ٹیکس ختم کرنے پر تحفظات سے بھی شہباز شریف کو آگاہ کیا۔تاجروں نے وزیر اعظم سے پورٹ کے انفرا سٹرکچر کو بہتر بنانے کا مطالبہ کر دیا، وزیراعظم نے پورٹ پر کلیئرنس میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کیا، متعلقہ اداروں کو پورٹ پر درپیش مسائل جلد حل کرنے کی ہدایت کی۔وزیر اعظم نے اگلے ہفتے ایف پی سی سی آئی سے پورٹ پر بہتری کیلئے تجاویز مانگ لیں۔قائم مقام صدرایف پی سی سی آئی ثاقب فیاض مگوں کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو پورٹ پر پیش آنے والی مشکلات سے آگاہ کیا ہے اور پورٹ کے انفرا اسٹرکچر کو بہترکرنے کے بارےمیں کہا ہے۔ثاقب فیاض کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے پورٹ پر کلیئرنس میں تاخیر پر برہمی کا اظہارکیا اور کلیئرنس جلد کرنے کے لیے اسکینرز فوری لگانے کی ہدایت کی ہے۔وزیراعظم نے اگلے ہفتے ایف پی سی سی آئی سے پورٹ پر بہتری کے لیےتجاویز بھی طلب کرلیں۔
-

12 جولائی کو اسلام آباد میں تاریخی دھرنا دیں گے، حافظ نعیم الرحمان
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ظلم کا نظام اب ختم ہو جانا چاہئے، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بجلی کا شدید بحران ہے، بجلی کا بل بھرنے کے لئے عوام اپنے زیور بیچ رہے ہیں، حکمران عوام پر ترس کھانے کے لئے تیار نہیں۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے لئے الگ سیکرٹریٹ کی بات ہوئی، مگر جنوبی پنجاب کو حق نہیں دیا گیا، زراعت کا شعبہ بدترین حالات کا شکار ہے، دبئی لیکس کی فائل دبا دی گئی ہے، کوئی ان سے منی ٹریل لینے کی بات نہیں کرتا۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جاگیردار اور وڈیرے ٹیکس نہیں دیتے، اشرافیہ کو تمام بنیادی سہولیات میسر ہیں، قومی اسمبلی اور سینیٹ کی مراعات میں اضافہ ہو گیا ہے، اشرافیہ کی مراعات کو کم ہونا چاہئے، ایکسپورٹ پر ٹیکس لگا دیا، صنعتیں کیا کریں گی، انڈسٹری کا بیڑا غرق ہو گیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ قوم کو حساب چاہئے، موجودہ حکومت فارم 47 کی پیداوار ہے، چیف جسٹس جوڈیشل کمیشن بنائیں تاکہ یہاں حقیقی حکومت بنے، حالات خراب ہیں، حکمران بھاگ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے لئے الگ سیکرٹریٹ کی بات ہوئی، مگر جنوبی پنجاب کو حق نہیں دیا گیا، زراعت کا شعبہ بدترین حالات کا شکار ہے، دبئی لیکس کی فائل دبا دی گئی ہے، کوئی ان سے منی ٹریل لینے کی بات نہیں کرتا۔ سکیں گے، ہر چیز پر ٹیکس لگا دیئے گئے ہیں۔حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ ہمارا دھرنا ہماری ذات کیلئے نہیں ہے، جماعت اسلامی چاہتی ہے غریب عوام کو ریلیف ملے، کسی سیاسی جماعت کے ایجنڈے میں عوام شامل نہیں، بجلی کا شدید بحران اور لوڈ شیڈنگ سے لوگ بلبلا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا کہنا ہے ہم آئی ایم ایف کے ہاتھوں مجبور ہیں۔ -

پاکستان ریڈ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ جیسن گلیسپی کی ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل اور فیلڈنگ کی بہتری پر زور
پاکستان ریڈ بال ٹیم کے نئے ہیڈ کوچ جیسن گلیسپی نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں پاکستان کرکٹ کے حوالے سے اپنے خیالات اور منصوبوں کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے لیے پاکستان آنا ایک بہترین تجربہ ہے اور وہ پاکستان کی کوچنگ کے لیے بے تاب ہیں۔جیسن گلیسپی نے کہا کہ شاہینز کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ بھی شاندار ہوگا۔ گزشتہ سیزن میں پاکستان کو ہوم سیریز میں شکست ہوئی، تاہم کچھ مواقع پر ٹیم نے آسٹریلیا میں بہترین کھیل پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کافی باصلاحیت ہے، لیکن انہیں اپنی پرفارمنس میں تسلسل لانا ہوگا۔ اگر آپ انٹرنیشنل کرکٹ کھیل رہے ہیں تو آپ کو فٹ اور تیار ہونا چاہیے، اور یہ کھلاڑیوں کی ذمہ داری ہے۔
گلیسپی نے بتایا کہ انہوں نے پاکستان کے سابق آسٹریلوی کوچز، بشمول شان ٹیٹ، سے بات کی ہے، جنہوں نے پاکستان کے حوالے سے کافی مثبت رپورٹ دی ہے۔ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ ہمارا اصل ہدف ہے، اور اس کے لیے ہمیں بہت محنت کرنی ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ شان مسعود سے ان کی کافی بات چیت ہوئی ہے، اگرچہ ملاقات ابھی باقی ہے۔ جیسن گلیسپی نے کہا کہ انہیں مثبت انداز میں کرکٹ کھیلنا پسند ہے اور سلیکشن کے حوالے سے جو کھلاڑی اچھی کارکردگی دکھائے گا، اسے موقع ملے گا۔ سلیکشن کنڈیشن اور فارم کو دیکھتے ہوئے کی جائے گی۔
گلیسپی نے بتایا کہ انہوں نے گیری کرسٹن سے پاکستان ٹیم کے حوالے سے بات کی ہے اور وہ شاہینز ٹیم کے ساتھ جاکر نوجوان کھلاڑیوں کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ بنگلہ دیش اور انگلینڈ کے خلاف کنڈیشن کے حوالے سے سلیکشن کی جائے گی اور ہر کھلاڑی کے حوالے سے سلیکشن پر بات چیت ہوگی۔وائٹ بال کی کپتانی کے حوالے سے جیسن گلیسپی نے کہا کہ ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کی ساری توجہ ٹیسٹ ٹیم کو بڑی ٹیموں کے خلاف جیت دلوانے پر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنی فیلڈنگ بہتر کرنے کی ضرورت ہے اور وہ اس پر کام کریں گے۔ گلیسپی نے اپنی دس سالہ ٹیسٹ کرکٹ کیریئر پر فخر کا اظہار بھی کیا۔آخر میں، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں چیمپئنز ٹرافی کے انعقاد کی خوشی ہے اور امید ہے کہ پاکستان بطور میزبان ایک بہترین ٹورنامنٹ کا انعقاد کرے گا۔ جیسن گلیسپی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ٹیم کو ڈسپلین اور سمارٹ کرکٹ کھیلنے کی طرف راغب کریں گے۔
-

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی اصلاحاتی ہدایات،اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے پر زور
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے صحت اور تعلیم کے نظام میں بہتری کے لیے اہم ہدایات جاری کی ہیں۔ انہوں نے ان شعبوں میں اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے پر زور دیا۔علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت محکمہ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں صحت کارڈ کی طرز پر ایجوکیشن کارڈ کے اجرا پر بھی غور و خوض کیا گیا۔وزیر اعلیٰ نے اجلاس میں کہا کہ صحت اور تعلیم کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اختیارات نچلی سطح پر منتقل کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بڑے محکموں کو صوبائی سطح پر بہتر انداز میں چلانا ممکن نہیں ہے۔
وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ ریجنل سطح پر ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل تعینات کیے جائیں اور ڈومیسائل کی بنیاد پر بھرتی ہونے والے اساتذہ کو ان کے متعلقہ علاقوں میں تعینات کیا جائے۔ اساتذہ اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی ترقی بھی ان کے ڈومیسائل والے علاقوں میں سروس سے مشروط کی جائے۔انہوں نے اس موقع پر کہا کہ سرکاری اسپتالوں میں غیرمستقل طبی آلات کا مکمل ڈیٹا ایک ہفتے میں اکٹھا کیا جائے اور انتظامی عہدوں پر ٹیچنگ کیڈر کے ملازمین کی تعیناتی بند کی جائے۔وزیر اعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ محکمہ صحت اور تعلیم میں ٹیچنگ کیڈر اور مینجمنٹ کیڈر کو الگ رکھا جائے اور کرائے کی عمارتوں میں قائم اسکولوں میں اساتذہ کو کانٹریکٹ پر بھرتی کیا جائے۔ان اصلاحاتی ہدایات کا مقصد خیبرپختونخوا میں صحت اور تعلیم کے نظام کو مضبوط بنانا اور عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔ وزیر اعلیٰ کے ان اقدامات سے امید کی جا رہی ہے کہ صوبے کے دونوں اہم شعبوں میں نمایاں بہتری آئے گی۔
-

بندرگاہوں پر اسکیننگ کی جدیدمشینری کی جلد تنصیب یقینی بنائی جائے. وزیرِ اعظم شہباز شریف
شہباز شریف کی زیر صدارت کے پی ٹی ہیڈ آفس میں اجلاس ہوا، اجلاس میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ، وزیر تجارت جام کمال ، وزیر پورٹ اینڈ شپنگ قیصر احمد شیخ سمیت دیگر حکام شریک ہوئے۔ وزیرِ اعظم کو ملکی آمدنی میں اضافے، کاروباری برادری کو سہولیات اور برآمدی اور درآمدی شعبے کی اصلاحات کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف کو چیئرمین کے پی ٹی اور پورٹ قاسم اتھارٹی کے حکام نے بریفنگ دی، وزیراعظم نے پورٹ پر معاملات میں مزید بہتری لانے کے لیے ہدایات دیں۔
وزیرِ اعظم نے ہدایت دیں کہ بندرگاہوں کی استعداد سے مکمل فائدہ اٹھانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں،کراچی پورٹ ٹرسٹ تک اور اس سے سامان کی بلاتعطل ترسیل کو یقینی بنانے کیلئے لیاری ایکپریس وے کو کارگو ٹریفک کیلئے 24 گھنٹے کھلا رکھا جائے، سامان کی ترسیل کو مزید بہتر بنانے کیلئے ملیر ایکسپریس وے کو بندرگاہ سے جوڑا جائے،کراچی پورٹ تک اور اس سے ریل کے ذریعے سامان کی ترسیل کی استعداد کو بڑھایا جائے۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ کراچی میں موجود بندرگاہوں کی ترقی سے ویلیو ایڈیشن کی صنعت سے برآمدات میں اضافہ کریں گے، پورٹ قاسم اور کراچی پورٹ ٹرسٹ پر جدید آلات و مشینری کی تنصیب سے کسٹمز کلیئرینس کے وقت کو کم کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔
شہباز شر یف کا کہنا تھا کہ پورٹ قاسم پر ایل این جی جہازوں کی فیس کو کم کرکے اسے بین الاقومی سطح پر رائج ریٹس کے مطابق مقرر کیا جائے، شپنگ لائیز کی ریگیولیشن کیلئے ایک جامع لائحہ عمل بنا کر جلد پیش کیا جائے، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن اپنی لاگت کو کم کرنے اور اپنے آپریشنز کو مؤثر بنانے کیلئے ایک جامع لائحہ عمل تشکیل دے کر پیش کرے، ملک میں نجی شعبے کی ترقی، کاروبار میں آسانی اور سرمایہ کاروں کو سہولت حکومت کی اولین ترجیحات ہیں۔ -

وزیر داخلہ کا اے این ایف ہیڈ کوارٹر کا دورہ، ڈرگ مافیا کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
وفاقی وزیر داخلہ و انسداد منشیات محسن نقوی نے ڈرگ مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا۔ محسن نقوی نے اے این ایف ہیڈ کوارٹر میں یادگارِ شہداء پر حاضری دی۔ انہوں نے یادگار شہداء پر پھول رکھے اور فاتحہ خوانی کی جس کے بعد وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت اے این ایف ہیڈ کوارٹر میں اجلاس ہوا۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے اے این ایف ہیڈ کوارٹر اسلام آباد کا دورہ کیا۔ اس موقع پر وزیر داخلہ کا ڈی جی اے این ایف میجر جنرل عبدالمعید نے خیر مقدم کیا۔ وزیر داخلہ نے کم وسائل کے باوجود ڈرگ مافیا کے خلاف کارروائیوں پر اے این ایف کی کارکردگی کو سراہا۔
اس سلسلے میں جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ سرکاری و نجی جامعات، کالجز اور ہاسٹلز میں منشیات کی خرید و فروخت روکنے کے لیے کارروائی کی جائے گی۔ اعلامیہ کے مطابق وفاقی و صوبائی محکموں کا مشترکہ اجلاس رواں ماہ کے آخر میں ہوگا جس میں صوبوں کے وزراء ایکسائز اور آئی جی پولیس کو اجلاس میں شرکت کی دعوت دی جائے گی۔ اس موقع پر وزیر داخلہ نے عوام کو منشیات سے بچانے کیلئے ڈرگ مافیا کے خلاف مؤثر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرتے ہوئے جامع پلان طلب کیا گیا۔ اعلامیہ کے مطابق منشیات کی آن لائن خرید و فروخت روکنے کےلیے بھی پلان طلب کیا گیا۔ -

قانون ہے تو پھر اس قانون کی پاسداری ہونی چاہیے،حافظ طاہر اشرفی
لاہور میں آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) سے خطاب میں حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ اس ملک میں ہندو، سکھ، مسیحی رہتے ہیں، کبھی کسی کو مسئلہ نہیں ہوا، ہم کسی بےگناہ کا قتل جائز نہیں سمجھتے۔چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ اس ملک کے امن کےلیے 8 ہزار علماء شہید ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس ملک کے امن کےلیے آٹھ ہزار علماء شہید ہوئے ہیں، ہم اس ملک کے قانون اور آئین کو سپریم سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی سکھ، عیسائی، ہندو نے یہ نہیں کہا کہ وہ اس ملک کے قانون کو نہیں مانتا۔چیئرمین پاکستان علماء کونسل نے مزید کہا کہ قانون ہے تو پھر اس قانون کی پاسداری ہونی چاہیے۔ ہم قانون کو ہاتھ میں لینے والے کے ساتھ نہیں ہیں۔
-

جام کمال خان کی پی ایس ڈی پی فنڈز کی تقسیم پر وضاحت
بلوچستان کے وفاقی وزیر، جام کمال خان، نے حالیہ بیان پر وضاحت جاری کرتے ہوئے اپنے موقف کو واضح کیا۔ اس بیان کے بعد میڈیا میں جو خبریں گردش کر رہی تھیں، ان میں وزیر موصوف کے خیالات کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا تھا۔وفاقی حکومت کے بجٹ سے متعلق جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جام کمال خان نے وفاقی حکومت کے بجٹ پر کوئی تنقید نہیں کی تھی۔ بلکہ انہوں نے بلوچستان کے لیے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے مختص فنڈز کے حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ جام کمال نے بلوچستان میں ترقیاتی فنڈز کی موجودہ تقسیم کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے تھے اور اس عمل میں شفافیت اور احتساب کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ ان کے بیان نے بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے ایک بحث چھیڑ دی تھی، جس میں فنڈز کے استعمال میں شفافیت اور احتساب کے مسائل پر گفتگو کی گئی۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 5 جولائی 2024ء کو ایک خبر میں وفاقی وزیر جام کمال خان کے وفاقی بجٹ 2024-25ء کے بارے میں بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا تھا۔ اعلامیے کے مطابق، جام کمال کا مقصد بلوچستان کے عوام کے لیے مختص فنڈز کے صحیح استعمال کو یقینی بنانا تھا اور ان کا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ وہ وفاقی حکومت کے بجٹ پر تنقید کریں۔جام کمال خان کے اس وضاحتی بیان کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ عوام اور میڈیا ان کے اصل موقف کو سمجھیں گے اور بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت اور احتساب کی اہمیت پر توجہ دیں گے۔ -

پاکستان ریلوے کا بڑا فیصلہ: 22 مسافر ٹرینیں نجی شعبے کے حوالے
پاکستان ریلوے نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے 22 مسافر ٹرینوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔اس منصوبے کے تحت متعدد مشہور ٹرینیں جیسے قراقرم ایکسپریس، گرین لائن، ہزارہ ایکسپریس، کراچی ایکسپریس اور شالیمار ایکسپریس شامل ہیں۔ خاص طور پر، کوئٹہ سے کراچی تک چلنے والی واحد ٹرین بولان میل بھی اس فہرست میں شامل ہے۔
ریلوے حکام نے بتایا کہ اس پروجیکٹ کے لیے درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔ دلچسپی رکھنے والے افراد یکم اگست کی صبح 11 بجے تک اپنی درخواستیں جمع کروا سکتے ہیں۔مزید تفصیلات کے مطابق، ٹرینوں کو دو کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اے کیٹیگری کی ٹرینوں کے لیے 5 ملین روپے، جبکہ بی کیٹیگری کی ٹرینوں کے لیے 2 ملین روپے کی سکیورٹی مقرر کی گئی ہے۔یہ اقدام پاکستان ریلوے کی جانب سے اپنی خدمات کو بہتر بنانے اور مالی استحکام حاصل کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس سے نہ صرف مسافروں کو بہتر سہولیات ملیں گی بلکہ ریلوے کے نظام میں بھی بہتری آئے گی