وزیراعظم شہباز شریف سے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ کی منظوری کے بعد ملاقات کی، وزیراعظم نے وزیر خزانہ کو بجٹ 25-2024 کی منظوری پر سراہا۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے، پینشنرز اور مزدوروں کو ریلیف دیا، بجٹ میں صحت، تعلیم، زراعت اور آئی ٹی شعبے کی ترقی پر خصوصی توجہ دی۔وزیراعظم نے کہا کہ اشرافیہ اور ٹیکس نادہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لائیں گے، ایسا ممکن نہیں کہ غریب ٹیکس دے اور اشرافیہ کو ٹیکس مراعات دی جائیں، پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا سفر شروع ہے، الحمداللّٰہ پاکستان کی معیشت درست سمت کی جانب گامزن ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ بجٹ اجلاس میں حکومت، اتحادی ارکان اور حزب اختلاف سب نے بھرپور حصہ لیا، امید کرتے ہیں نیا بجٹ پاکستان کے لیے ترقی و خوشحالی میں معاون ثابت ہوگا، پوری کوشش کی موجود وسائل بروئے کار لاتے ہوئے عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیں۔شہباز شریف نے مزید کہا کہ حکومت کی کاروبار دوست پالیسیوں کی بدولت ملک میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا، اداروں میں اصلاحات اور اداروں کی نجکاری کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔
Author: صدف ابرار
-

وزیرِ اعظم کی عوام دوست بجٹ 2024-25 کی منظوری پروزیر خزانہ کی پزیرائی
-

قومی اسمبلی نے وفاقی بجٹ 25-2024 کثرت رائے سے منظور کر لیا
قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال 25-2024 کے 16 ہزار 877 ارب روپے کے بجٹ کی کثرت رائے سے منظوری دے دی۔فنانس بل 25-2024 وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پیش کیا، قومی اسمبلی میں فنانس بل کی شق وار منظوری دی گئی، بجٹ کی منظوری کےدوران اپوزیشن نے شور شرابا کیا، ارکان کے’’نو‘‘نو‘‘ کے نعرے لگائے۔قومی اسمبلی میں بجٹ 25-2024 کی منظوری کے عمل کے دوران پیپلزپارٹی نے پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں کمی کی ترامیم واپس لے لیں جبکہ اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد کر دی گئیں۔
وزیراعظم شہباز شریف، چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری بھی اجلاس میں شریک ہوئے، اپوزیشن نے بجٹ کو آئی ایم ایف کا تیار کردہ اور عوام دشمن قرار دیتے ہوئے مخالفت کی۔اس دوران 170 ارکان اسمبلی نے پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں کمی کے خلاف ووٹ دے دیا جبکہ 84 ارکان نے لیوی میں کمی کی حمایت کی، اس طرح پٹرولیم لیوی میں کمی کی اپوزیشن کی ترامیم کثرت رائے سے مسترد کر دی گئیں، تاہم وزیر خزانہ نے خود ہی پٹرولیم لیوی میں کمی کا اعلان کر دیا۔
سنی اتحاد کونسل کے رکن جنید اکبر خان نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کہتے ہیں بانی پی ٹی آئی کی طرح میں بھی جیل میں تھا، ہماری حکومت آئی تو آپ کو بتائیں گے جیل کیا ہوتی ہے، آپ نے جو ہماری خواتین کے ساتھ کیا سود سمیت واپس کریں گے۔پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے خیبر پختونخوا کو کم منصوبے دینے اور فنڈز روکنے کا معاملہ اٹھایا جس پر وزیراعظم شہبازشریف نے خود وضاحت کر دی۔ -

وزارت خزانہ کی جانب سے ماہانہ معاشی آؤٹ لک جاری
رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال درآمدات میں 2.3 فیصد کی کمی ہوئی، ایک سال میں مالی خسارے میں 20.3 فیصد کا اضافہ ہوا، رواں مالی سال مالی خسارہ 3929 ارب روپے سے بڑھ کر 4726 ارب روپے تک پہنچ گیا، مہنگائی کی شرح 29.2 فیصد سے کم ہوکر 24.5 فیصد پرآگئی، ایک سال میں مالی ذخائر میں ساڑھے 3 ارب ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، ایک سال میں روپے کی قدر میں 8 روپے سے زیادہ کا اضافہ ہوا، ایک سال میں سرمایہ کاری میں 142.9 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں ترسیلات زر، برآمدات اور سرمایہ کاری میں اضافہ ریکارڈ ہوا ہے،ایک سال میں روپے کی قدرمیں اضافے سمیت مالی ذخائر میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ایف بی آر محصولات سمیت نان ٹیکس آمدنی میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، رواں مالی سال ترسیلات زر میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 7.7 فیصد کا اضافہ ہوا، ایف بی آر محصولات میں 30.8 فیصد اور نان ٹیکس آمدنی 95.8 فیصد کا اضافہ ہوا، رواں مالی سال برآمدات میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 11.3 فیصد کا اضافہ ہواہے۔
-

خواجہ آصف کے امریکہ مخالف بیان سے ملک کو نقصان پہنچا، بیر سٹر گوہر
بیرسٹرگوہر خان نے کہا جمہوریت میں اپوزیشن کا سب سے اہم کردار ہوتا ہے۔ اس حکومت میں برداشت نہیں، ان کو نہیں معلوم اپوزیشن کیا ہوتی ہے۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ حقیقت یہ ہے حکومت انتخابات کے معاملے پر تحقیقات نہیں کرنا چاہتی۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ امریکی ایوان نمائندگان کی قرار داد کو امریکی حکومت کی مداخلت نہیں کہا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ آج اپوزیشن لیڈر پنجاب سے اس کی گاڑی اس کا دفتر اور اسٹاف لے لیا گیا۔ ہمیں بولنے نہیں دیا جاتا ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔
بیرسٹر گوہر خان نے کہا خواجہ آصف کے بیان کی مذمت کرتے ہیں۔ خواجہ آصف کے بیان سے پاکستان کا منفی چہرہ دنیا کی سطح پر گیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی ن لیگ کے ورکر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ خواجہ آصف کے بیان سے ملک کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے اسمبلی کو اعتماد میں لیے بغیر یہ بیان دیا۔ وہ اپنے بیان کا دفاع نہیں کرسکے۔ انہوں نے کہا جو قرارداد یہ لے کر آئے اس سے متعلق ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ امریکی قرار داد کو انہوں نے نہیں پڑھا۔ بیرسٹر گوہر نے کہا قرارداد میں انسانی حقوق کی فراہمی یقینی بنانے اور صاف شفاف انتخابات کی بات کی گئی ہے۔ اس موقع پر زرتاج گل نے کہا خواجہ آصف نے انتہائی غیر ذمہ دارانہ گفتگو کی۔ خواجہ آصف نے کہا ہم افغانستان میں جا کرحملہ کریں گے۔ زرتاج گل نے کہا بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو عدت کیس میں سزا سنا کر دہشتگردوں والے سیل میں رکھا ہوا ہے۔ عدت کیس میں سزا کو معطل نہیں کیا گیا۔ -

سندھ اور بلوچستان سے پولیو کے دو کیسز رپورٹ
اسلام آباد سے قومی ادارہ صحت کے مطابق قلعہ عبداللّٰہ سے 2 سالہ بچے جبکہ کیماڑی کراچی میں 3 سال کی بچی میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔سندھ اور بلوچستان سے پولیو کے دو کیسز سامنے آگئے، رواں سال ملک میں پولیو کیسزکی تعداد 8 ہوگئی۔قومی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ بچوں میں معذوری کی علامات 22 مئی اور 3 جون کو ظاہر ہوئیں۔ اس سال ملک میں 8 میں سے 6 کیسز بلوچستان سے رپورٹ ہوئے ہیں، یکم جولائی سے 41 اضلاع میں انسداد پولیو مہم شروع کی جارہی ہے۔ جس کے دوران 90 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔
-

امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد کے خلاف قومی اسمبلی میں قرارداد کثرت رائے سے منظور
قومی اسمبلی میں قرارداد کی تحریک رکن اسمبلی شائستہ پرویز ملک نے پیش کی۔امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد کے خلاف قومی اسمبلی میں قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی گئی۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایوان، امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد پر تشویش کا اظہار کرتا ہے، ایوان فروری 2024 کے انتخابات میں پاکستانیوں کے ووٹ کے استعمال کے بارے میں ریمارکس پر تشویش میں مبتلا ہے۔ متن میں کہا گیا ہے کہ ایوان، امریکا اور عالمی دنیا سے غزہ اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کی مشکلات کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتا ہے جبکہ امریکی کانگریس کو غزہ اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر توجہ دینی چاہیے۔
قرار داد میں لکھا گیا ہے کہ امریکی قرارداد مکمل طور پر حقائق پر مبنی نہیں ہے، پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے جو اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت برداشت نہیں کرے گا۔قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ ایوان، امریکا کے ساتھ برابری کی سطح پر باہمی تعلقات کے فروغ کا خواہاں ہے اور مستقبل میں امریکی ایوان نمائندگان سے مثبت کردار کی توقع رکھتا ہے۔سنی اتحاد کونسل کے ارکان کی جانب سے قرارداد کی مخالفت اور ایوان میں شدید نعرے بازی کی گئی۔ -

سیلز ٹیکس آڈٹ کیلئے ایف بی آر افسران کے اختیارات میں مزید اضافہ کی ترمیم منظور
قومی اسمبلی میں سیلز ٹیکس آڈٹ کیلئے ایف بی آر افسران کے اختیارات میں مزید اضافہ کی ترمیم بھی منظور کر لی گئی۔ٹیکس فراڈ پکڑنے کیلئے ایف بی آر میں ٹیکس فراڈ انویسٹی گیشن ونگ قائم کیا جائے گا، ونگ ٹیکس چوری، ٹیکس فراڈ، تحقیقات، ٹیکس چوری روکنے کیلئے کام کرے گا، ونگ میں فراڈ انویسٹی گیشن یونٹ، لیگل یونٹ، اکاؤنٹنٹس یونٹ قائم ہوں گے۔ترمیم کے بعد ایف بی آر کو سیلز ٹیکس آڈٹ کیلئے تمام ریکارڈ اور ڈیٹا حاصل کرنے کا اختیار ہو گا، سیلز ٹیکس آڈٹ کے دوران انفرادی حیثیت یا مجاز اتھارٹی کو پیش ہونا ہو گا، سیلز ٹیکس آڈٹ میں چھ سال سے پرانا ریکارڈ ایف بی آر نہیں طلب کر سکے گا۔ونگ میں چیف انویسٹی گیٹر کیساتھ سینئر انویسٹی گیٹر، جونیئر انویسٹی گیٹر و دیگر عملہ شامل ہو گا، ونگ میں سینئر فرانزک اینالسٹ، سینئر ڈیٹا اینالسٹ و دیگر سٹاف بھی شامل ہو گا۔
-

دو ما ہ گزرنے کے باوجود سول ایوی ایشن اتھارٹی کاڈائریکٹر جنرل تعینات نہ ہو سکا
سوا 2 ماہ گزرنے کے باوجود سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) میں مستقل ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) تعینات نہیں ہو سکا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکریٹری ایوی ایشن کو ڈائریکٹر جنرل کا عارضی چارج دے کر کام چلایا جا رہا ہے، نٸے ڈی جی سی اے اے کی تعیناتی کیلئے سوا 2 ماہ گزرنے کے باوجود اشتہار تک نہیں دیا گیا۔
سی اے اے ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی جی نہ ہونے کے باعث اہم فائلیں اور دیگر کام سست روی کا شکار ہے، سابق ڈی جی خاقان مرتضیٰ کو سول ایوی ایشن کے عہدے سے 20 اپریل کو ہٹایا گیا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی سی اے اے ڈی جی کی تعیناتی تین ماہ میں کرنے کی ہدایت کی گٸی تھی، یورپی یونین نے بھی پاکستانی ایئرلائنز سے پابندی نہ اٹھانے میں سی اے اے میں ایڈہاک ازم کا کہا ہے۔ -

حکمران طبقہ اپنی مراعات نہیں چھوڑنا چاہتا،حافظ نعیم الرحمان
اسلام آباد میں جماعت اسلامی پاکستان کے تحت بجٹ سیمینار شروع ہوگیا۔امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا آج سیمینار کا مقصد ایکسپرٹس کی رائے سے باوثوق مطالبات تیار کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آئی ایم ایف پاکستان کے حق میں ہے تو جاگیر داروں سے ٹیکس کیوں نہیں لیتی،حکمران طبقہ اپنی مراعات نہیں چھوڑنا چاہتا،یہ فارم 47 کے مسلط کردہ لوگ ہیں،ان کو عوام کی حمایت حاصل نہیں اس لئے امریکہ کی طرف دیکھتے ہیں۔بلوں کی صورت میں عوام پر بجلی بم گرائے جا رہے ہیں،آئی پی پیز کے کھاتے میں پیسہ تو جائے گا لیکن بجلی نہیں آئے گی،ایف بی آر اشرافیہ کو چھیڑنے کے لئے تیار نہیں۔آئی پی پیز کوہم اس بجلی کے پیسے بھی دے رہے ہیں جو وہ پیدا نہیں کرتی،ایف بی آر بجلی کے بلوں میں سے بھی ٹیکس لے رہا ہے اور تنخواہوں میں سے بھی،نجی شعبے میں ملازمین کو تمام حقوق حاصل نہیں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا شریف فیملی کی شوگر مل چھ مہینے سے غریب کاشتکاروں کے پیسے روک کر بیٹھی ہوئی ہے،دوبئی میں پاکستانیوں کی آمدنی سے جائیدادیں لی گئی ہیں۔دوبئی میں جائیدادیں لینے والوں کی منی ٹریل کا ایف بی آر نے پوچھا بھی نہیں۔جاگیرداروں سے ٹیکس کیوں وصول نہیں کیا جاتا ؟جاگیر دار طبقہ کسان دشمن ہے یہی طبقہ حکومت میں بیٹھا ہوتا ہے،ملک میں یکساں نظام تعلیم موجود نہیں،ملک میں صحت اور تعلیم عام آدمی خرید رہا ہے ریاست فراہم نہیں کررہی۔اشرافیہ کوبجلی گیس پٹرول کیوں فری دیا جارہا ہے،وزراء مراعات کے مزے لے رہے،حکمران طبقے سے منی ٹریل لی جائے،پیپلزپارٹی اور ن لیگ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ -

بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی بریت ہو گی یا سزا برقرار رہے گی، فیصلہ کل سنایا جائے گا
بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی بریت ہو گی یا سزا برقرار رہے گی، فیصلہ کل 3 بجے سنایا جائے گا، ڈسٹرکٹ سیشن جج افضل مجوکا عدت میں نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ سنائیں گے۔بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے خلاف دورانِ عدت نکاح کیس میں سزا معطلی کی درخواستوں پر محفوظ فیصلہ کل سنایا جائے گا۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی اس وقت صرف عدت میں نکاح کیس میں سزا کے باعث اڈیالہ جیل میں ہیں۔
عمران خان توشہ خانہ اور سائفر مقدمات میں پہلے ہی بری ہو چکے ہیں جبکہ 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بانی پی ٹی آئی کی ضمانت منظور ہو چکی ہے، لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد میں درج 9 مئی کے کیسز میں بانی پی ٹی آئی ضمانت پر ہیں۔ایف آئی اے ریاست مخالف ویڈیو ٹوئٹ کرنے پر بانی پی ٹی آئی سے دو بار اڈیالہ جیل میں تفتیش کر چکی ہے، ریاست مخالف ویڈیو ٹوئٹ کرنے پر بانی پی ٹی آئی کے خلاف تاحال کوئی نیا مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔فی الوقت بانی پی ٹی آئی کے خلاف کوئی نیا کیس کہیں دائر نہیں ہوا اور عدت میں نکاح کیس میں فیصلہ حق میں آنے کی صورت بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی رہائی کے امکانات ہیں۔