وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے اپوزیشن جماعتوں کو دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئیں !چارٹر آف اکانومی پر اتفاق کرتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر اعظم محمد شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی پہلی تقریرمیں چارٹر آف ڈیموکریسی کی بات کی ، پھر اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دیتا ہوں۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میں نے کہا کہ آئیں، چارٹر آف ڈیمو کریسی پر اتفاق کریں ، میری بات کو حقارت سے نظر انداز کیا گیا، میری بات پر ایسے نعرے بلند کیے گئے جس کا ذکر اس ایوان کی توہین ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’آج تلخیاں جس حد تک پہنچ گئی ہیں، اس کا ذمہ دار کون ہے۔ آج 76 سال بعد ہم ایسی جگہ پر پہنچے ہیں کہ ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے سے بھی ہم جھجھکتے ہیں۔‘انھوں نے کہا کہ ’اس اسمبلی میں ماضی میں بھی بہت تنقید ہوتی تھی، مخالفت میں باتیں ہوتی تھیں مگر سیاست دان ایک دوسرے کے دکھ اور تکلیف میں شریک ہوتے تھے،
محمد شہبازشریف کا کہنا تھا کہ میری والدہ کا انتقال ہوا تو میں جیل تھا، آج ان کے بانی پی ٹی آئی کو مشکلات ہیں،میں پھر کہتا ہوں آئیں آج بیٹھ کر بات کریں معاملات کو حل کریں، میں آج یہاں اپنی تکلیف کا رونا نہیں رونا چاہتا ، میں بھی کینسر کی بیماری میں مبتلا ہوں، میں قیدی وین میں عدالت گیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ خواجہ آصف اور رانا ثنااللہ سمیت ہمیں زمینوں پر لٹایا گیا، گھر سے کھانا نہیں لانے دیا گیا، ہماری دوائیاں بند کی گئیں، نہیں چاہتے کہ ان کے ساتھ بھی ایسی زیادتی ہو جو ہمارے ساتھ ہوئی، میں بھی کینسر کی بیماری میں مبتلا رہا کبھی جیل میں رویا نہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس دور میں ہمارے ساتھ جو سلوک ہوا وہ بھی سب جانتے ہیں،آج بانی پی ٹی آئی جیل میں مشکلات میں ہیں تو آئیں بات کریں، ملک کی ترقی اور اس کو آگے لے کر جانے کیلئے آئیں ملکر بیٹھیں، پاکستان کے مفاد میں معاملات طے کریں۔
Author: صدف ابرار
-

وزیر اعظم شہباز شریف کی ایک بار پھر پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دعوت
-

عمر ایوب نے وزیرا عظم سے مصافحہ کرنے کے بعد پھر فارم 47 کا وزیر اعظم کہہ دیا
اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے وزیراعظم شہباز شریف کی مذاکرات کی پیشکش بارے کہا کہ بات تب ہوگی جب بانی پی ٹی آئی باہر آئیں گے، بات تب ہوگی جب ہمارے قیدی باہر آئیں گے۔قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا کہ میں فارم سینتالیس کے وزیراعظم کو کچھ کہنا چاہتا ہوں، جس پر سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ایسی گفتگو نہ کریں ماحول بہتر ہو رہا تھا، جس پر عمر ایوب نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی مجھے جواب دینے کا حق ہے، یہ ہاؤس اس وقت چل سکے گا جب ہمارا احترام ہوگا۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ مفاہمت تب ہوگی جب آپ یاسمین راشد، محمود الرشید، حسان نیازی کے ساتھ زیادتی کا احساس کریں گے۔اس موقع پر سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ آپ بیٹھ جائیں آپ کی بات ہوگئی ہے، آپ کو موقع دے دیا ہے، آپ کا جواب آگیا ہے، آپ کے نام پر کوئی کٹ موشن نہیں ہے عمر ایوب کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے والدہ محترمہ کے جنازے کا ذکر کیا، ہم کلثوم نواز کے جنازے میں شریک ہوئے لیکن میں اپنے والد کے جنازے میں شریک نہیں ہوسکا۔عمر ایوب نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میرے لیڈر کو ڈیتھ سیل میں رکھا گیا ہے جب کہ انہیں تو ایئرکنڈیشنر ملے ہوئے تھے، انہوں نے کہا کہ ملک میں عدم استحکام کی وجہ قانون کی حکمرانی نہ ہونا ہے۔ -

لوگ اس وقت ٹیکس دیں گے جب ان کو سہولتیں دی جائیں گی۔ مصفطیٰ کمال
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ملک میں بجلی وافر مقدار میں موجود ہے۔ اس گرمی میں کراچی میں 18 گھنٹے لائٹ نہیں ہے۔ ایم کیو ایم رہنما کا کہنا تھا کہ بجٹ میں ٹیکس پر بات کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ جو لوگ پہلے سے ٹیکس دے رہے تھے ان پر مزید ٹیکس لگ گیا۔ اس سے لوگوں کے بزنس اثر انداز ہوں گے، کاروبار بند ہوں گے۔ اسٹیشنری، دودھ اور اسٹنٹ پر ٹیکس پر ہم نے اعتراض اٹھایا۔اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ کل بھی وزیراعظم اور ان کے وفد کے ساتھ میٹنگ ہوئی، بجٹ پر ایم کیو ایم نے فلور پر ایشوز اٹھائے۔ انکا کہنا تھا کہ ہم حقیقت سے دور کی بات نہیں کریں گے، سو دن میں مہنگائی کم ہوئی ہے۔ اسٹاک ایکسچینج میں بہتری آئی ہے۔ حکومت نے یہ بات صاف کہی کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا لازمی ہے۔ یہ ایک مثبت بات ہے کہ کچھ مبہم نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم پر 77 ہزار ارب روپے قرضہ ہے، حکومت سمجھتی ہے یہ قرض ٹیکس لگا کر اتارا جائے گا۔ لوگ اس وقت ٹیکس دیں گے جب ان کو سہولتیں دی جائیں گی۔ مصفطیٰ کمال نے یہ بھی کہا کہ یہ روایتی بجٹ ہے، پاکستان کے بڑے معاشی اور ابنارمل مسائل ہیں۔ اس ابنارمل صورتحال میں روایتی بجٹ لایا گیا۔ شہر کراچی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ کراچی معاشی اور سیکیورٹی مسائل میں گھرا ہے۔ ہم نے حکومت سے تمام مسائل اور بجٹ پر تجاویز شیئر کی ہیں۔ بجٹ میں 15 ارب کراچی، 5 ارب حیدرآباد کےلیے رکھا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کے فور کیلئے 25 ارب رکھے گئے ہیں جس پر ہم نے اعتراض کیا۔ اب وزیراعظم نے کے فور کیلئے 30 ارب کردیے، بعد میں 40 ارب کردیے جائیں گے۔ مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ملک میں بجلی وافر مقدار میں موجود ہے۔ اس گرمی میں کراچی میں 18 گھنٹے لائٹ نہیں ہے۔ کراچی میں گرمی سے 442 لوگ مرگئے۔ انہوں نے کہا کہ کپیسٹی چارجز کے نام پر ڈالرز میں پیمنٹ ہوتی ہے، حکومت ڈسکوز کی قرض دار ہے، حکومت آئی پی پیز کے نظام کو درست کرے۔ -

خود ہی منصف اور مدعی بننے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔علامہ طاہر اشرفی
پاکستان علماء کونسل کے سربراہ علامہ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ خود ہی منصف اور مدعی بننے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔ ا نہوں نے کہا کہ یہ حق کسی کو نہیں دیا جاسکتا کہ خود ہی الزام لگائے اور خود ہی جلاد بن جائے، لاہور میں جوزف کالونی جلادی گئی تھی پھر تمام مجرمان بری ہوگئے ، ایسے واقعات اسلام اور پاکستان کو بدنام کرتے ہیں۔
لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے علامہ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ سوات میں قرآن کریم کا نام لے کر ایک انسان کو جلا دیا گیا، جس نے ایک انسان کو قتل کیا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا، قرآن رحمت ہی رحمت ہے،قرآن عدل کا حکم دیتا ہے، خود ہی منصف اور مدعی بننے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کل وزیراعظم کی سربراہی میں ہونے والی میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ عزم استحکام کے نام سے ایک آپریشن لانچ کیا جائے گا، یہ آپریشن انتہا پسندی،بڑھتے تشددکے خلاف ہونا چاہیے، تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں سر جوڑ کر بیٹھیں، میرے ملک کے نوجوانوں کو رہنمائی کی ضرورت ہے۔علامہ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ تمام مجرمین سامنے ہیں ان کو سزا نہیں ہوتی، یہ اتنا لمبا پراسیس ہے کہ وہ پھر ہیرو بن جاتے ہیں، چیف جسٹس ایک ہفتے کیلئے وی وی آئی پیز اور سیاسی مقدمات کو ایک طرف رکھ دیں، توہین مذہب اور ناموس رسالت کے مقدمات میں گناہ گاروں کو سزا دیں اور جو بے گناہ ہیں ان کو رہا کیا جائے۔ -

پی ڈی ایم اے پنجاب نے مون سون بارشوں بارے الرٹ جاری کر دیا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے صوبہ بھر کی انتظامیہ کو مون سون بارشوں سے متعلق مراسلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال مون سون بارشیں 35 فیصد تک زیادہ ہونے کے امکانات ہیں۔پی ڈی ایم اے نے یکم جولائی سے پنجاب میں مون سون بارشوں کا سلسلہ شروع ہونے کی پیشگوئی کی ہے۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ جولائی کے پہلے ہفتے میں 15 سے 50 ملی میٹر بارش کے امکانات ہیں جبکہ جولائی کے دوسرے ہفتے میں 25 سے 35 ملی میٹر بارشیں متوقع ہیں۔
مراسلے کے مطابق جولائی کے تیسرے ہفتے میں بالائی پنجاب اور جنوبی پنجاب میں 15 سے 25 ملی میٹر بارش ہو سکتی ہے، جولائی کے چوتھے ہفتے میں 50 سے 70 ملی میٹر بارشوں کی پیشگوئی ہے، بالائی پنجاب وسطی پنجاب اور جنوبی پنجاب میں گرج چمک کے ساتھ شدید بارشیں متوقع ہیں۔پی ڈی ایم اے کے مراسلے میں کہا گیا کہ جولائی میں مون سون بارشوں سے اربن فلڈنگ اور جنوبی پنجاب میں ہل ٹورنٹس کا خطرہ ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایات کے مطابق متعلقہ محکموں کو الرٹ کر دیا ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے اس حوالے سے کہا ہے کہ ضلعی انتظامیہ مون سون بارشوں سے قبل تمام تر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائے، ندی نالوں کی صفائی اور نکاسی آب کے انتظامات جلد از جلد مکمل کیے جائیں۔ -

قومی اسمبلی: وزیرِ قانون کی سوات کے معاملے پر قرار داد کثرتِ رائے سے منظور
قومی اسمبلی نے سوات واقعے کے تناظر میں اقلیتوں کے تحفظ کی قرارداد منظور کرلی۔اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی اجلاس ہوا جس میں بجٹ پر بحث کی گئی۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کے لئے اٹھنے والی آواز کا گلا گھونٹا جارہا ہے، اقلیتوں کا کبھی سوات کبھی سرگودھا کبھی فیصل آباد میں قتل ہوتا ہے، مذہب کے نام پر خون بہانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، ایوان کو اس مسئلہ پر متفق اور متحدہ موقف اختیار کرنا چاہیے، پاکستان میں مسلمانوں کے چھوٹے فرقے اور کوئی مذہبی اقلیت محفوظ نہیں۔وزیرقانون اعظم نزیر تارڑ نے سوات معاملے اور اقلیتوں سے متعلق قرارداد پیش کی جس میں زور دیا گیا کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں، اقلیتوں کے خلاف واقعات میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ کچھ ویب سائٹ روزانہ توہین رسالت کررہے ہیں، یہ معاملہ وفاق خود دیکھے ، ہمیں اقلیتوں سے کوئی مسئلہ نہیں ، مگر ہم اداروں کی طرف سے کسی شخص یا گروہ کی سرعام سزا کے بھی خلاف ہیں، کوئی ادارہ بھی غیر قانونی سزا نہ دے۔اپوزیشن نے قرارداد کے مندرجات پر احتجاج کیا تو وزیر قانون نے کہا کہ اپوزیشن ہر معاملہ کو اپنے لیڈر کی رہائی کے ساتھ نہ مشروط کرے، آپ اگر اپنے قائد کی رہائی اس میں شامل کرنا چاہتے ہیں تو ایسا نہیں ہوسکتا۔ایوان نے وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کی قرار داد کثرتِ رائے سے منظور کر لی۔قرار داد کے متن کے مطابق اقلیتوں کے تحفظ کو وفاقی اور صوبائی حکومتیں یقینی بنائیں، اقلیتوں کو مکمل تحفظ دیا جائے۔
قرار داد میں کہا گیا ہے کہ اقلیتوں کے خلاف واقعات میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔واضح رہے کہ 20 جون کو مدین میں لوگوں نے قرآن کی بے حرمتی کے الزام میں ایک سیاح کو تشدد کا نشانہ بنا کر اسے جلا ڈالا تھا۔ -

حکومت نے پیپلزپارٹی کے تمام مطالبات مان لیے،کمیٹیوں نے تحریری سفارشات کا مسودہ تیارکرلیا
پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے درمیان مذاکراتی کمیٹیوں کا تیسرا دور ختم ہوگیا، جس میں حکومت نے پیپلزپارٹی کے تمام مطالبات مان لیے جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے درمیان مذاکراتی کمیٹیوں کے تیسرے دور میں پیپلزپارٹی کے تحفظات دورکرنے کے لیے سفارشات بھی مرتب کرلی گئیں۔ پنجاب میں پیپلزپارٹی کو انتظامی امورمیں حصہ دینے سے متعلق مطالبات کا جائزہ لیا گیا جبکہ پنجاب سے متعلق پیپلزپارٹی کے مطالبات پرکمیٹیوں نے تحریری سفارشات کا مسودہ تیارکرلیا گیا.ذرائع کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے درمیان مذاکراتی کمیٹیوں کے تیسرا دوروزیراعظم ہاوس میں ہوا۔ذرائع کے دعوی ہے کہ حکومت نے پیپلزپارٹی کے تمام مطالبات مان لیے ہیں۔
پیپلزپارٹی کے تحفظات کو دورکرنے کے لیے سفارشات بھی مرتب کرلی گئیں ہیں، ترقیاتی فنڈز اور پنجاب میں انتظامی عہدوں پر بھی پیپلزپارٹی کو ترجیح دی جائے گی۔بعدازاں کمیٹیوں کے ارکان وزیر اعظم ہاؤس سےروانہ ہو گئے ہیں، اجلاس میں چیف سیکرٹری پنجاب اورآئی جی پنجاب بھی شریک ہوئےاس سے قبل اسلام آباد میں ہونے والے مذاکراتی کمیٹیوں کے اجلاس کی صدارت وزیر اعظم نے کی۔ذرائع کے مطابق پی پی اورن لیگ میں پنجاب کے امورپرمعاملات پنجاب کی کمیٹی نے طے کی جبکہ کمیٹی میں راجہ پرویزاشرف،علی حیدرگیلانی، ندیم افضل چن اورحسن مرتضی شامل ہیں۔ذرائع کی جانب سے مزید بتانا تھا کہ پنجاب میں پاور شیئرنگ فارمولا،خصوصاً جنوبی پنجاب کے معاملات زیرغور آئے۔دوسری جانب پنجاب حکومت کی نمائندگی اسپیکرپنجاب اسمبلی ملک احمد خان،رانا ثنااللہ ،سعد رفیق نے کی۔ -

کرم میں شہید ہوئے 5 جوان آبائی علاقوں میں سپردِ خاک
خیبر پختون خوا کے ضلع کرم میں 21 جون کو شہید ہونے والے پاک فوج کے 5 جوانوں کو فوجی اعزاز کے ساتھ آبائی علاقوں میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 33 سالہ حوالدار عقیل احمد شہید کو اوکاڑہ میں، 30 سالہ لانس نائیک محمد طفیر شہید کو ضلع پونچھ میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔24 سالہ سپاہی انوش رفون شہید کی اٹک میں تدفین کی گئی، 26 سالہ سپاہی محمد اعظم خان شہید ہری پور میں، 29 سالہ سپاہی ہارون ولیم شہید کو اسلام آباد میں سپردِ خاک کیا گیا۔شہداء کی نمازِ جنازہ و تدفین میں سینئر حاضر سروس افسران، جوانوں، لواحقین اور مقامی افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کی لعنت ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں، ہمارے بہادر شہداء کی یہ قربانیاں ہمارے عزم کو مزید تقویت دیتی ہیں۔واضح رہے کہ 21 جون کو خیبر پختون خوا کے ضلع کرم کے علاقے صدہ میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑی پر آئی ای ڈی حملہ ہوا تھا، جس کے نتیجے میں مذکورہ 5 جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا تھا۔
-

وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنی تقریر کے دوران سنی اتحاد کونسل کے اراکین کی ہنگامہ آرائی
ایوان میں اپوزیشن کے شور شرابہ کی وجہ سے وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنی تقریر روک دی۔ اپوزیشن ارکان نے اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کیا جس میں جے یو آئی کے ارکان بھی شریک تھے۔ خواجہ آصف نے ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقلیتوں کے خلاف بڑھتے واقعات قوم کے لیے شرمساری کا باعث ہیں، اقلیتوں کے معاملے پر ایوان میں اتفاق رائے ہونا چاہیے، میں بلیک میل نہیں ہوں گا، ہاؤس کو بلیک میل نہ کرائیں۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں خواجہ آصف کے خطاب کے دوران سنی اتحاد کونسل کے اراکین نے احتجاج کیا اور فاٹا آپریشن بند کرو کے نعرے لگائے۔جس پر اسپیکر نے جواب دیا کہ یہ چیئر بلیک میل نہیں ہو گی۔
خواجہ آصف وزیرِ دفاع کا کہنا ہے کہ ایپکس کمیٹی آج سے پانچ چھ سال پہلے وجود میں آئی، اس ہاؤس میں اپیکس کمیٹی کے فیصلہ پر بحث کریں گے، یہ لوگ تشدد کی سیاست کرنا چاہتے ہیں، کل کی میٹنگ میں وزیرِ اعلیٰ کے پی موجود تھے، ان کے سامنے دہشت گردی کے خلاف آپریشن کا فیصلہ ہوا تھا، آج یہ احتجاج کر کے دہشت گردوں کا ساتھ دے رہے ہیں، یہ گالیاں دیتے ہیں اس ہاؤس کی تذلیل کرتے ہیں، اپوزیشن والوں سے کہوں گا کہ کچھ شرم ہوتی ہے کچھ حیا ہوتی ہے۔ کہا کہ میں بولوں گا، کوئی نہیں روک سکتا، یہ ہمیں گالیاں نکال رہے ہیں، ابھی کل والی گالی کا مسئلہ حل نہیں ہوا، نئی گالیاں دے رہے تھے ،ڈپٹی اسپیکر نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف آپ بات کریں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ آپ پہلے ہاؤس کو ان آرڈر کریں، اپوزیشن ایوان میں گالیاں نکال رہی ہے، ابھی کل کی گالیوں کا مسئلہ حل نہیں ہوا، میں سیاسی نہیں بلکہ اہم مسئلہ پر بات کررہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ملک میں اقلیتیں غیرمحفوظ ہو چکی ہیں، یہ ایک بہت حساس مسئلہ ہے، یہ ہمیں بات نہیں کرنے دے رہے، یہاں کہا گیا یہ آپ کے باپ کا ایوان نہیں ہے، ہم ایک قرار داد پیش کرنا چاہتے ہے کہ اس ملک میں اقلیت محفوظ نہیں ہے۔ڈپٹی اسپیکر نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایک گھنٹے کا وقفہ کر دیا۔
بعد ازاں وزیر نے بتایا کہ ہم ایک قرارداد لانا چاہتے ہیں تاکہ اقلیتیں محفوظ رہ سکیں ، یہ ملک سب کا ہے، جب اس موضوع پر ایوان میں بات کی جاتی ہے تو اپوزیشن والے اس موضوع کا گلہ گھونٹ رہے ہیں، یہ اپنے ذاتی مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں، میں اس ایوان میں ان کے مسائل کا بھی جواب دوں گا مگر یہ مجھے بولنے نہیں دے رہے، اقلیتوں کے قتل کا سلسلہ بند ہونا چاہیے، ہمارا مذہب بھی اس کی اجازت نہیں دیتا، لوگ ذاتی جھگڑوں پو توہین کا الزام لگا کر لوگوں کو قتل کر رہے ہیں۔
-

کسی بھی ملٹری آپریشن کے حق میں نہیں ہیں، پی ٹی آئی آراکین کا اسمبلی سے واک آوٹ
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے کسی بھی ملٹری آپریشن کی مخالفت کر دی۔قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے احتجاجاً واک آؤٹ کر کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی آپریشن پارلیمان کو اعتماد میں لئے بغیر نہیں ہونا چاہیے، اپوزیشن کے بغیر جمہوریت نہیں ڈکٹیٹر شپ ہوتی ہے۔ سنی اتحاد کونسل کے رہنماؤں کے ہمراہ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہ آج ہم نے بات کرنے کی کوشش کی تو مائیک بند کر دیے گئے، کوئی بھی آپریشن ہو اس کیلئے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا ضروری ہے، کوئی بھی کمیٹی کتنی ہی بڑی ہو آئین کے مطابق پارلیمان سپریم ہے، اس لیے ہم نے احتجاجی طور پر پارلیمنٹ سے واک آؤٹ کیا۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آج اتوار کو بجٹ کا خصوصی سیشن چل رہا ہے، آج اتوار کو بھی ہم نے اپنی بھرپور موجودگی رکھی ہے، آج حکومت کے اراکین پارلیمان میں موجود نہیں ہیں، آج ہم نے پوائنٹ آف آرڈر مانگا لیکن ہمیں ٹائم نہیں ملا، اس لیے ہم نے اجلاس سے واک آوٹ کر دیا۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ ملک میں آپریشن عزم استحکام کا اعلان کیا گیا ہے، ہم چاہتے تھے کہ کسی بھی آپریشن کے لیے پارلیمان کو اعتماد میں لینا ضروری ہے، پہلے بھی عسکری قیادت نے پارلیمان آکر ان کیمرہ بریفنگ دی تھی، بتایا تھا کہ کیا صورتحال ہے، ویسے ہی اب ہو، چاہے کوئی بھی کمیٹی ہو وہ پارلیمان سے بالاتر نہیں ہوسکتی۔
اتنے بڑے فیصلے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا جا رہا:اسد قیصر
سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ اتنا بڑا فیصلہ ہو رہا ہے، پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا جا رہا، ہم کسی طور پر کسی آپریشن کی حمایت نہیں کرتے، خورشید شاہ اور مسلم لیگ ن کے رہنماؤں سے بھی بات ہوئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ پارلیمنٹ کو کسی صورت خاطر میں نہیں لاتے، یہ پارلیمنٹ پھر ہے کس لئے؟ آپریشنز بہت ہو رہے ہیں، پوچھنا چاہتا ہوں آج تک کون سا آپریشن کامیاب ہوا ہے۔ سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ ہم کسی طور پر کسی آپریشن کی حمایت نہیں کرسکتے، اس وقت قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے ، آپ اتنا بڑا فیصلہ کر رہے ہیں مگر پارلیمان کو خاطر میں نہیں لاتے تو یہ اتنا بڑا پارلیمان کس لیے ہے؟ میں نے کل مولانا سے بھی بات کی اور ابھی میں نے ایوان کے اندر خورشید شاہ اور رانا تنویر سے بھی بات کی ہے کہ یہ کیا ہورہا ہے؟اسد قیصر نے بتایا کہ ہم سے کوئی مشاورت نہیں کی جاتی، بہت سے آپریشنز ہوچکے ہیں، آج تک کونسا آپریشن کامیاب ہوا ہے؟ ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف ہیں، ایک طرف یہ آپریشن کر رہے دوسری طرف فاٹاا ور پاٹا پر ٹیکس لگا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں پوائنٹ آف آرڈر پر بات کی اجازت نہیں ملتی، آئین کے مطابق پارلیمان سب سے سپریم ہے اور رہے گا، ہم اپنے آئینی فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔اسد قیصر نے مزید کہا کہ ہم امن چاہتے ہیں لیکن ظلم کے خلاف ہیں، آپ ایک طرف آپریشن شروع کر رہے ہیں دوسری طرف فاٹا اور پاٹا پر ٹیکس لگا رہے ہیں، یہ ایک مارشل لاء والی ذہنیت ہے، میں سادہ مطالبہ کرتا ہوں، اگر کوئی آپریشن کا فیصلہ ہوا ہے تو پارلیمنٹ میں لایا جائے اور اعتماد میں لیا جائے۔
ہم کسی اور کی جنگ میں اپنے آپ کو نہیں دھکیل سکتے:عمر ایوب
اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کا کہنا ہے کہ ہم کسی اور کی جنگ میں اپنے آپ کو نہیں دھکیل سکتے، بجٹ اقتصادی دہشتگردی ہے، پاکستان کے عوام کو غلامی میں دھکیل دیا گیا، اس بجٹ کو ہم قبول نہیں کرتے۔پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری عمر ایوب نے کہا کہ اس وقت ہمارا گلہ اسپیکر سے ہے ان کا رویہ اپوزیشن کے ساتھ قابل تشویش ہے، درحقیقت فارم 45 کے تحت 180 سیٹیں تحریک انصاف کی ہیں، وفاق نے 198 ارب روپے خیبر پختونخوا کو دینے ہیں۔اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ یہ حکومت اینٹی اسٹیٹ ہے، یہ بجٹ اقتصادی دہشت گرد کا بجٹ ہے اسے مسترد کرتے ہیں، کسی قسم کا آپریشن کرنے سے پہلے پارلیمان کو اعتماد میں لیں، چین سے آئے ساتھیوں نے واضح طور پہ کہا تھا کہ سی پیک پر سیکیورٹی خدشات ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کئی بار کہہ چکے ہیں ملک میں امن رول آف لاء سے آئے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ ایک بوگس، اقتصادی دہشت گردی کا بجٹ ہے، حکومت کے اپنے اتحادی اس بجٹ کو انڈورس نہیں کر رہے۔ بانی پی ٹی آئی نے بار بار کہا کسی اور کی جنگ میں خود کو نہیں دھکیل سکتے۔ سی پیک کے حوالے سے سکیورٹیز ایشوز پر سمجھوتا نہیں کرسکتے۔ ملک میں رول آف لاء ہوگا تب ملک ترقی کرے گا۔ پنجاب میں مریم نواز کی فارم 47 کی حکومت ہےانہوں نے کہا کہ سپیکر ایاز صادق صاحب نے ہمیں وقت نہیں دیا، میرا سپیکر صاحب سے کئی سالوں کا احترام کا رشتہ ہے، ان کا رویہ اپوزیشن کے ساتھ ٹھیک نہیں، وہ کس پریشر کے ساتھ کام کررہے ہیں ہمیں معلوم نہیں، ہم یہاں عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں،