وزارت داخلہ نے بیرون ملک پناہ لینے والے پاکستانیوں کو پاسپورٹ جاری نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنی وزارت کو اس سلسلے میں اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کردیں۔ملکی سلامتی اور سکیورٹی کے تناظر میں وزیر داخلہ نے بڑا اقدام اٹھائے ہوئے بیرون ملک پناہ لینے والے پاکستانیوں کو پاسپورٹ جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیر داخلہ کی ہدایت پر وزارت داخلہ نے مراسلہ جاری کردیا، مراسلہ وزارت خارجہ اور دیگر متعلقہ حکام کو بھجوادیا گیا۔وزارت کی جانب سے جاری مراسلے میں کہا گیا کہ ایسے تمام پاکستانی جو کسی بھی بنیاد پر دوسرے ممالک میں پناہ لیں گے، ان کو پاسپورٹ نہیں ملے گا، ایسے پاکستانیوں کے پاسپورٹ منسوخ کردیے جائیں گے اور ان کی دوبارہ تجدید بھی نہیں کی جائے گی۔
Author: صدف ابرار
-

عدت نکاح کیس:عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں پر اعتراض ختم ، خاور مانیکا سے جواب طلب
سیشن عدالت اسلام آباد نے عدت نکاح کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزا کیخلاف اپیلوں پر سماعت 13 جون تک ملتوی کر دی۔سیشن عدالت کے جج افضل کامجو نے عمران خان اور ان کی اہلیہ کی عدت نکاح کیس کی جلد سماعت مقرر کرنے اور سزا معطلی کے مقدمے کی سماعت کی، شکایت کنندہ خاور مانیکا سکیورٹی حصار میں عدالت پیش ہوئے۔جسٹس گل حسن اورنگزیب نے سوال کیا کہ اس درخواست پر کیا اعتراض ہے؟ سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ میں حقائق بتاتا ہوں کہ اس عدالت سے کیوں رجوع کیا ہے، ایک ایڈمنسٹریٹو آرڈر جوڈیشل ریلیف لینے سے نہیں روک سکتا۔جسٹس گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ آپ کہتے ہیں کہ سیشن جج کو واپس معاملہ بھجوائیں یا ہائی کورٹ خود سن لے؟عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 29 مئی کو سیشن جج نے فیصلہ سنانے کے بجائے چیف جسٹس کو رپورٹ بھجوائی، دلائل مکمل ہونے کے بعد صرف فیصلہ آنا باقی تھا، 29 مئی کو کمپلیننٹ نے عدالت پر عدم اعتماد کیا، 23 مئی کو سیشن جج نے کہا 29 مئی کو فیصلہ سنائیں گے۔دوران سماعت خاور مانیکا نے اپنی قانونی ٹیم کو تبدیل کرنے کے حوالے سے عدالت کو آگاہ کر دیا، اس سے قبل راجہ رضوان عباسی شکایت کنندہ خاور مانیکا کے وکیل تھے۔جج افضل کامجو نے ریمارکس دیئے کہ ابھی تک جلد سماعت کی درخواست آئی ہے، اپیلوں پر سماعت شروع نہیں ہوئی۔
اس پر خاور مانیکا نے بتایا کہ میرا ایک مسئلہ ہے، میرے وکیل رضوان عباسی بہترین اور قابل وکیل ہیں، ان کی مصروفیات بہت ہیں، رضوان عباسی نے معذرت کی ہے، اس لئے میں اپنی قانونی ٹیم تبدیل کرنا چاہتا ہوں، میرے پاس 2، 3 آپشنز ہیں، ایک لاہور سے وکیل ہیں، میری عدالت سے استدعا ہے کہ ہمیں وقت دیا جائے۔
جج افضل مجوکا نے استفسار کیا کہ آپ کو کتنے دن چاہیے؟ جس پر خاور مانیکا نے بتایا کہ کم سے کم ایک ہفتہ چاہیے، میں لاہور جاؤں گا وکیل سے مشاورت کروں گا، اس پر جج نے کہا کہ آپ کی ایک ہفتے کی درخواست ہے، آپ چلے جائیں، بعد میں کسی سے کیس کی آئندہ تاریخ پتہ کر لیں۔بعدازاں خاور مانیکا عدالت میں حاضری لگانے کے بعد واپس روانہ ہوگئے۔اس موقع پر پی ٹی آئی وکیل سردار مصروف ایڈووکیٹ نے عدالت سے استدعا کی کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں سزا معطلی کی درخواستوں پر آج سماعت ہے، ہائیکورٹ میں سماعت کے بعد سیشن کورٹ میں سماعت رکھی جائے۔عدالت نے پی ٹی آئی وکیل کی استدعا پر کیس کی سماعت میں 12 بجے تک وقفہ کر دیا۔وقفے کے بعد سماعت کے دوبارہ آغاز پر پی ٹی آئی کے وکیل سردار مصروف ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے، انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں سزا معطلی کی درخواستوں پر 13 جون کیلئے نوٹس ہوئے ہیں، انہوں نے استدعا کی کیس کی سماعت پرسوں تک ملتوی کر دی جائے۔بعد ازاں عدالت نے سردار مصروف ایڈووکیٹ کی استدعا پر کیس کی سماعت 13 جون تک ملتوی کر دی۔ -

آئی ایم ایف کے شرائط ، رواں مالی سال پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بلند ترین سطح تک پہنچی ہے
عالمی مالیاتی ادارے ( آئی ایم ایف ) کی شرائط کے باعث تاریخ میں پہلی مرتبہ پیٹرول اور ڈیزل پر 60 روپے لیوی عائد کی گئی، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح تک بھی پہنچیں۔رواں مالی سال پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔مجموعی طور پر کمی بیشی کے بعد پیٹرول 6 روپے 36 پیسے اور ڈیزل 9 روپے 72 پیسے فی لیٹر مہنگا ہوا، رواں مالی سال کے دوران بجلی ٹیرف اور ایڈجسٹمنٹ چارجز کے ذریعے بجلی صارفین پر ایک ہزار 700 ارب روپے سے زائد کا بوجھ ڈالا گیا، گیس کی قیمت میں بے تحاشا اضافے نے مہنگائی کے مارے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا۔
رواں مالی سال 2023-24 کے آغاز پر فی لیٹر پیٹرول کی قیمت 262روپے اور ڈیزل کی قیمت 260 روپے 50 پیسے تھی، اب مالی سال کے اختتام کے قریب پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 268 روپے 36 پیسے اور ڈیزل کی 270 روپے 22 پیسے ہے۔رواں مالی سال 16 ستمبر 2023 کو نگران دور حکومت میں پیٹرول ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 331 روپے 38 پیسے اور ڈیزل 329 روپے 18 پیسے فی لیٹر پر جا پہنچا تھا۔سال 2024 میں شہری بجلی کی مسلسل بڑھتی قیمتوں کی زد میں رہے، صارفین پر تقریباً ایک ہزار 700 ارب روپے سے زیادہ کا بوجھ ڈلا گیا، اس میں بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اضافے کے ذریعے 700 ارب روپے، مستقل سرچارج کے ذریعے 335 ارب روپے ماہانہ اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے 700 ارب روپے سے زیادہ شامل ہیں۔ رواں مالی سال دو مرتبہ گیس مہنگی کی گئی، یکم نومبر 2023 میں گھریلو صارفین کے لیے گیس 172 فیصد تک مہنگی کی گئی، دوسری بار یکم فروری 2024 کو گھریلو صارفین کے لیے گیس مزید 67 فیصد تک مہنگی کر دی گئی، گیس مہنگی کرنے کے ساتھ نان پروٹیکٹڈ صارفین پر فکسڈ چارجز بھی 460 روپے سے بڑھا کر 2000 ہزار روپے کر دیے گئے۔ -

غیر قانونی بھرتیاں کیس،چودھری پرویز الہٰی کے پرنسپل سیکرٹری محمد خان بھٹی کو رہا کرنے کا حکم
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سلطان تنویر نے پنجاب اسمبلی میں مبینہ طور پر غیر قانونی بھرتیوں کے کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی کے پرنسپل سیکرٹری محمد خان بھٹی کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز عدالتِ عالیہ میں سماعت کے دوران پنجاب اسمبلی میں مبینہ جعلی بھرتیوں کے کیس میں محمد خان بھٹی کی درخواستِ ضمانت پر فریقین نے دلائل پیش کئے تھے۔ دوران سماعت وکیل درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ محمد خان بھٹی کو بوگس مقدمے میں ملوث کیا گیا، الزام یہ ہے جی فیل ہونے والے اُمیدواروں کو گریڈ 17 میں ملازمت دی گئی، ریکارڈ پر جعل سازی کے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں، یہ مقدمہ سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے لیے بنایا گیا، پرویز الٰہی اور محمد خان بھٹی پر جیل سازی کے الزامات جھوٹ پر مبنی ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے پرویز الٰہی اور محمد خان بھٹی کو ملوث کرنے کے لیے رزلٹ تبدیل کیے گئے ہوں، ہو سکتا ہے محمد خان بھٹی اور پرویز الٰہی کے سیاسی مخالفین نے جعل سازی کی ہو، یہ مزید انکوائری کا کیس ہے ریکارڈ پر شواہد موجود نہیں لہذا محمد خان بھٹی کی ضمانت کی درخواست منظور کی جائے۔
واضح رہے کہ اینٹی کرپشن نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی اور ان کے پرنسپل سیکرٹری محمد خان بھٹی کے خلاف پنجاب اسمبلی غیر قانونی بھرتیوں کا مقدمہ درج کر رکھا ہے۔خیال رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے 21 مئی کو مذکورہ مقدمہ میں چودھری پرویز الہٰی کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں کوٹ لکھپت جیل سے رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔سرکاری وکیل نے محمد خان بھٹی کی ضمانت کی مخالفت کی اور ضمانت مسترد کرنے کی استدعا کی۔دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے محمد خان بھٹی کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔واضح رہے کہ گزشہ ماہ محمد خان بھٹی نے پنجاب اسمبلی میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کے مقدمے میں درخواست ضمانت دائر کی تھی۔ -

سوشل میڈیا پر لگام ڈالنے کیلئے فائر وال کی تنصیب کا فیصلہ
سوشل میڈیا پر لگام ڈالنے کیلئے فائر وال کی تنصیب کا فیصلہ کیا گیا، حکومت پاکستان نے انٹرنیٹ سروس فراہم کرنیوالی کمپنیوں کو راضی کرلیا ، فائر وال خصوصی فیچر ڈیپ پیکٹ انسپکشن کی صلاحیت کی حامل ہوگی ، ذرائع کے مطابق ڈیپ پیکٹ انسپکشن سے ڈیٹا کی لیئر7 تک دیکھا جاسکے گا، ڈیپ پیکٹ انسپکشن سے سوشل میڈیا ڈیٹا کو فلٹر کیا جاسکے گا، ذرائع نے کہا کہ فائر وال اپلیکیشن کے بجائے آئی پی لیول پر ڈیٹا بلاک کرسکے گی ، فائر وال سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ پوائنٹس کی نشاندہی کرسکے گی فائر وال پروپیگنڈہ پوائنٹس، آئی ڈیزکو بلاک کرنے کی صلاحیت رکھے گی ، فائر وال کی تنصیب کیلئے یوز کیسز کا تبادلہ بھی کرلیا گیا، ذرائع کے مطابق انٹرنیٹ سروس فراہم کرنیوالی کمپنیوں پر فائر وال نصب ہوگی ، فائر وال کی تنصیب کی کچھ قیمت حکومت پاکستان ادا کرے گی ،فائروال کی باقی قیمت انٹرنیت سروس فراہم کرنیوالی والی کمپنیاں ادا کریں گی پی ٹی اے نے انٹرنیٹ سروس فراہم کرنیوالی کمپنیوں کو راضی کرلیا، پی ٹی اے ذرائع کے مطابق انٹرنیٹ سروس فراہم کرنیوالی کمپنیاں غیرقانونی مواد روکنے کی پابند ہیں، کمپنیاں لائسنس کی شق کے مطابق ایسے مواد کی روک تھام کیلئے اقدامات کی پابند ہیں،تنصیب پی ٹی اے کا دائرہ اختیار ہے، پی ٹی اے کا فائر وال کی تنصیب کے حوالے سے موقف دینے سے گریز ، ترجمان پی ٹی اے نے کئی دن گزرنے کے باوجود کوئی جواب نہ دیا.
-

لاہور ہائیکورٹ : پنجاب ہتک عزت ایکٹ 2024 کے خلاف دائر درخواست کی سماعت
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس امجد رفیق نے پنجاب ہتک عزت ایکٹ 2024 کے خلاف ندیم سرور ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر درخواست پر سماعت کی۔لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب ہتک عزت ایکٹ 2024 کے 3 سیکشنز پر عملدرآمد عدالت کے حتمی فیصلے سے مشروط کر دیا۔درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ یہ ایکٹ عدلیہ کی آزادی، آزادی اظہار رائے کیخلاف ہے، ایکٹ کے مطابق چیف جسٹس 3 ججز کے نام بطور ٹریبونل تجویز کر سکتے ہیں، اگر حکومت چاہے تو ان ناموں کو رد کر کے نئے نام منگوا سکتی ہے۔
جسٹس امجد رفیق نے ریمارکس دیئے کہ ٹریبونل حکومت کے حکم پر چلتے ہیں، عدلیہ کے حکم پر نہیں، جیسے سروس ٹریبونل اور بینکنگ ٹریبونل ہیں، درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ اس ایکٹ کے مطابق ججز کی تنخواہ وغیرہ کا تعین حکومت کرے گی، یہ بھی عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہے۔ندیم سرور ایڈووکیٹ نے کہا کہ چیف جسٹس کی تجویز کو رد نہیں کیا جا سکتا، اس پر عمل لازمی ہے، ایکٹ کے مطابق حکومت پنجاب ججز کے نام بطور ٹریبونل تجویز کر سکتی ہے، ان تین ناموں سے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ایک نام منتخب کر سکتے ہیں، ایسا بالکل نہیں ہو سکتا، عدلیہ کے معاملات میں حکومت مداخلت نہیں کر سکتی۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس امجد رفیق نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ یہ قانون کیسے آزادی اظہار اور بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے۔ندیم سرور ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ اس ایکٹ کے مطابق بغیر کسی ثبوت آپ کیسز کی کارروائی شروع کر سکتے ہیں۔جسٹس امجد رفیق نے کہا اگر آپ چیف منسٹر کو کسی بیان دینے پر عدالت میں لے آئیں تو یہ غلط بات ہے، جس پر ایڈووکیٹ ندیم سرور نے کہا تو چیف منسٹر جھوٹ نہ بولیں، وزیر اطلاعات پنجاب صبح سے شام تک جھوٹ بولتی ہیں۔درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ اس ایکٹ کے مطابق کیس کے فیصلے سے پہلے ہی ملزم 30 لاکھ جرمانہ ادا کرے گا، جس پر جسٹس امجد رفیق نے ریمارکس دیئے کہ قانون کے مطابق ایسا ہو سکتا ہے، تیز ترین انصاف کیلئے یہ ضروری ہے۔سرکاری وکیل نے ہتک عزت ایکٹ کے خلاف دائر درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں خصوصی عدالتوں میں ججز کی تعینات پر حکومت اور لاہور ہائیکورٹ کی مشاورت ہوئی۔
جسٹس امجد رفیق نے ریمارکس دیئے اگر چیف جسٹس کچھ ناموں کی تجویز بھیجتے ہیں تو حکومت یہ نہیں کہہ سکتی کہ ہمارے فلاں وزیر کو یہ نام پسند نہیں آیا، یہ کوئی دکانداری یا سودے بازی ہے، وکیل درخواست گزار کا سوال ہے یہ ٹریبونل کیسے بن سکتا ہے، یہ بھی سوال ہے کہ حکومت اور چیف جسٹس کے درمیان مشاورت سے کیا مراد ہے۔بعدازاں عدالت نے ہتک عزت کے قانون کے سیکشن 3، سیکشن 5 اور سیکشن 8 پر عملدرآمد عدالتی فیصلے سے مشروط کرتے ہوئے اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو معاونت کیلئے نوٹس جاری کر دیئے۔لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت سمیت دیگر سے بھی جواب طلب کر لیا اور کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔ -

عالمی بینک کی پاکستان کیلئے 1 ارب ڈالر قرض کی منظوری
پاکستانی معیشت کیلئے اچھی خبر آگئی، عالمی بینک نے پاکستان کیلئے 1 ارب ڈالر قرض کی منظوری دے دی۔ عالمی بینک کے اعلامیے میں کہا گیا کہ منصوبے سے عوام کو سماجی و معاشی سہولیات تک رسائی حاصل ہوگی، منصوبہ مکمل ہونے پر 4320 سے 5400 میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی۔اعلامیے کے مطابق عالمی بینک نے قرض کی منظوری داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کیلئے دی ہے، رقم داسو ہائیڈرو منصوبے کے فیز ون پر خرچ کی جائے گی۔ورلڈ بینک کے مطابق منصوبے سے بجلی کی سپلائی میں بہتری اور توسیع ہوگی۔واضح رہے کہ داسو ہائیڈرو منصوبہ دنیا کی بہترین سائٹس میں سےایک ہے، داسو صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہستان میں واقع ہے۔
-

پی آئی اے کے قبل از حج آپریشن کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہو گیا
گزشتہ شب کراچی تا جدہ آپریٹ ہونے والی پی آئی اے کی آخری پرواز کے ساتھ ہی قبل از حج آپریشن مکمل ہوگیا کل 171 پروازوں کے ذریعے 35030 عازمین حج حجاز مقدس روانہ ہوئے ،ان پروازوں کے ذریعے سے تقریبا 19500, سرکاری عازمین حج 14900, پرائیوٹ عازمین حج اور 630, خدام الحجاج مدینہ منورہ اور جدہ روانہ ہوئے پی آئی اے کے قبل از حج آپریشن کا آغاز 9 مئی سے ہوا تھا جو 11 جون تک جاری رہاقبل از حج پروازیں کراچی، اسلام آباد، لاہور ملتان، سیالکوٹ اور پشاور سے براہ راست روانہ ہوئیں۔ سکھر، اور کوئٹہ سے عازمین حج نے براستہ کراچی، جدہ کا سفر کیا، 171 پروازوں میں سے 126 پروازیں وقت سے کچھ دیر پہلے ہی روانہ ہوئیں ، قبل از حج آپریشن میں 45 پروازیں موسم کی خرابی اور آپریشنل وجوہات کی بنا پر تاخیر کا شکار ہوئیں، قبل از حج آپریشن کامیابی سے مکمل کرنے پر چیف ایگزیکٹو آفیسر پی آئی اے نے متعلقہ ٹیموں کو شاباش دی،پی آئی اے کے بعد از حج آپریشن کا آغاز 20 جون سے ہوگا جو 21 جولائی تک جاری رہے گا۔
-

انسانی اسمگلنگ اور دھوکا دہی کیس ،صارم برنی کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ
جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی نے انسانی اسمگلنگ اور دھوکا دہی کیس میں گرفتار سماجی کارکن صارم برنی کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ عدالت نے ملزم صارم برنی کی درخواست ضمانت پر وکلاء اور ایف آئی اے کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا۔عدالت نے کہا کہ درخواست ضمانت پر فیصلہ کچھ دیر بعد سنایا جائے گا۔صارم برنی کے خلاف انسانی اسمگلنگ اور دھوکا دہی کے کیس کی سماعت ہوئی۔سماعت کے دوران ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزم کے خلاف مزید ثبوت جمع کرنے ہیں، ملزم کو ضمانت دی گئی تو وہ تفتیش پر اثر انداز ہو سکتا ہے، ملزم مسلسل جھوٹ کا سہارا لے رہا ہے، تفتیش کے دوران مزید انکشافات سامنے آئے ہیں۔ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ بچی کی والدہ کا بیان ہے کہ بیٹی لینے کے لیے صارم برنی سے رابطہ کیا، صارم برنی نے والدہ کو بچی دینے سے انکار کر دیا۔
-

ہنگامہ آرائی اور کارِ سرکار میں مداخلت کے کیس، وزیر اعلی کے پی کی عبوری ضمانت میں 5 جولائی تک تو سیع
راولپنڈی کی ڈسٹرکٹ کورٹ نے موٹر وے پر ہنگامہ آرائی اور کارِ سرکار میں مداخلت کے کیس میں وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی عبوری ضمانت میں 5 جولائی تک توسیع کر دی اور ملزم کو آئندہ تاریخ پر ہر صورت پیش ہونے کا حکم دے دیا۔ایڈیشنل سیشن جج راولپنڈی راجہ فیصل رشید نے علی امین گنڈا پور کے خلاف راولپنڈی موٹروے چوک پر ہنگامہ آرائی، کار سرکار میں مداخلت، دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے مقدمے میں درخواست ضمانت پر سماعت کی۔دورانِ سماعت وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور مصروفیت کے باعث آج بھی عدالت میں پیش نہ ہوئے، ان کی جانب سے ان کے وکیل ایڈووکیٹ محمد فیصل ملک پیش ہوئے۔اس موقع پر علی امین گنڈاپور کے وکیل نے ان کی ایک روز کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دے دی، جس پر عدالت نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی استثنیٰ کی درخواست منطور کرلی۔
عدالت نے علی امین گنڈا پور کی عبوری ضمانت میں 5 جولائی تک توسیع کر دی اور ملزم کو آئندہ سماعت پر ہر صورت عدالت پیش ہونے کا حکم دے دیا۔
