صوبائی وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے احمد خان بھچر کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے 42عوامی مفادکے پروجیکٹس متعارف کرائے ہیں۔۔مریم نواز نے30ارب کا رمضان پیکج دیا،راشن بیگز گھروں میں پہنچائے۔۔ انہوں نے کہاکہ تین ماہ میں آٹا سستا کیا جس سے روٹی کی قیمت کم ہوئی جبکہ فیلڈ ہسپتال،مفت ادیات اور کلینک آن ویلز پروگرام متعارف کرائے،۔5لاکھ کسانوں کےلئے 300ارب کا تاریخی پیکج لائے،صوبائی وزیراطلاعات نے کہا کسانوں کیلئے ٹریکٹر سکیم بھی متعارف کرادی ہے۔۔کسان کارڈ،ہمت کارڈ اور لائیو سٹاک کارڈ متعارف کرائے،صوبے بھر کےلئے 657نئی بسوں کی منظوری دی،انہوں نے کہا کہ تختیاں لگانا آپ کی حکومت کا مشغلہ رہا ہے، تحریکِ انصاف کے دور میں 2 کسانوں کو گولیاں ماری گئیں۔
Author: صدف ابرار
-

پاکستان تحریک انصاف کا ہتک عزت بل کے خلاف عدالت جانے کا اعلان
پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر نے پنجاب حکومت کی 100 دن کی کارکردگی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹک ٹاکر پنجاب حکومت کی 100 دن کی کارکردگی کیا ہے؟ ہتک عزت بل ان کی 100 دن کی کارکردگی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہتک عزت بل پر بلی تھیلے سے باہر آچکی ہے، پیپلز پارٹی جمہوری جماعت ہونے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن ہتک عزت قانون پر ان کا کیا کردار ہے؟ پیپلز پارٹی کے گورنر بیرون ملک چلے گئے، سپیکر قائم مقام گورنر بنا تو بل پر دستخط کر دیئے۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان پہلے ہی کہتے تھے ن لیگ اور پیپلز پارٹی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، تحریک انصاف صحافیوں کے ساتھ ہے، ہتک عزت بل کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔
رہنما تحریک انصاف نے کہا کہ صحت کارڈ اور کسان کارڈ ہمارے پراجیکٹس تھے، یہ ہمارے ہی منصوبے ہیں جن کو اپنے نام سے شو کر رہے ہیں، 100 دن میں انہوں نے مقدمات کے سوا کچھ نہیں کیا، ان کی 100 دن کی کارکردگی دیکھیں کیا ایک بھی اپنا منصوبہ شروع کیا؟ یہ ہسپتالوں میں ہمارے منصوبوں پر تختیاں لگا رہے ہیں۔
احمد خان بھچر کا کہنا تھا کہ گندم نہ خریدنا، کسانوں کو معاشی طور پر نقصان پہنچانا پنجاب حکومت کی 100 دن کی کارکردگی ہے، سو دن میں انہوں نے کینسر ہسپتال کیلئے 30 ارب روپے کا اعلان کیا مگر 30 کروڑ روپے کے فنڈز رکھے، 30 کروڑ کے فنڈز میں 5 کلومیٹر سڑک نہیں بنتی۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کسان کو زمین میں دھنسا دیا، حکومت نے کسان کارڈ کا نام نواز شریف کارڈ رکھ دیا، گندم کے معاملے پر ٹک ٹاکر حکومت فیل ہوگئی ہے، انہوں نے آئی جی پنجاب کو صرف پی ٹی آئی پر کارروائیوں کے لئے رکھا ہوا ہے۔اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی نے مزید کہا کہ تحریک انصاف پرامن جماعت ہے، ان کے 3 ماہ میں پچیس فیصد مہنگائی ہوئی ہے، یہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ وفاق سے مشروط کر رہے ہیں، مہنگائی کے اعتبار سے تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ بہت کم ہے۔ -

رواں مالی سال قرضوں اور واجبات میں 4643 ارب روپے کا اضافہ
قومی اقتصادی سروے کے مطابق رواں مالی سال میں بیرونی قرضوں میں 89 ارب روپے کمی ہوئی۔ رواں مالی سال بیرونی قرضہ تقریباً 21 ہزار 941 ارب روپے رہا۔ جولائی سے اپریل کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری 659 ملین ڈالر رہی۔مالی سال میں قرضوں اور واجبات میں 4643 ارب روپے کا اضافہ ہوا جو 67 ہزار 524 ارب روپے تک پہنچ گئے۔دستاویزات کے مطابق رواں مالی سال سیمنٹ کی فروخت 3 فیصد اضافے سے 41.74 ملین ٹن ہو گئی۔ سیمنٹ کی برآمدات میں 66 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مئی میں برآمدات میں 27 فیصد اضافہ جس سے برآمدات بڑھ کر 2.8 بلین ڈالر تک پہنچ گئیں۔اسی طرح رواں مالی سال تجارتی خسارہ 15 فیصد کم ہو کر 21.7 بلین ڈالر رہ گیا، مالی سال کے 10 ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 538 ملین ڈالر رہا۔
معاشی ترقی 2.38 فیصد رہی جبکہ زرعی شعبے کی ترقی 6.25 فیصد اور صنعتی شعبے کی ترقی 1.21 فیصد رہی۔دستاویز کے مطابق رواں مالی سال خدمات کے شعبے میں شرح نمو 1.2 فیصد رہی، گندم کی فصل 11.64 فیصد اضافے سے 28.16 ملین ٹن رہی۔ رواں سال کپاس کی فصل 108 فیصد اضافے سے 10.22 ملین بیلز رہی جبکہ لائیو اسٹاک کے شعبے میں شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔دستاویز میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال درآمدات 14 فیصد اضافے سے 4.9 بلین ڈالر تک پہنچ گئیں۔ جولائی سے مئی تک برآمدات 11 فیصد اضافے سے 28 بلین ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ درآمدات 2.4 فیصد کم ہوکر 49.8 بلین ڈالر ہوگئیں۔ -

قائم مقام گورنر کا ہتک عزت بل پر دستخط کرنا آزادی اظہار رائے پر پابندی کے مترادف ہے، امیر جماعت اسلامی
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ رات کی تاریکی میں کالے قانون کو منظور کیا گیا، جماعت اسلامی وہ پہلی جماعت تھی جس نے اس بل کی مخالفت کی اور اسے مسترد کیا، گورنر پنجاب کا اس موقع پر ملک سے باہر جانا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے ۔امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی ہتک عزت قانون کو مسترد کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ قائم مقام گورنر کا ہتک عزت بل پر دستخط کرنا آزادی اظہار رائے پر پابندی کے مترادف ہے ، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی اس سیاہ قانون کی تیاری، منظوری اور عملداری میں برابر کے شریک ہیں، ہتک عزت کا قانون آزادی اظہار رائے کے آئینی حق پر ایک مذموم حملہ ہے۔حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی صحافیوں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور اسکے اعلامیے کے ساتھ کھڑی ہیں، تمام صحافی تنظیموں نے اسے ’ انسان دشمن‘ قانون قراردے دیا
-

پنجاب حکومت نے 100 دن میں مہنگائی پر قابو پا لیا، مریم اورنگزیب
پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ہر شعبہ ترقی کی طرف گامزن اور مہنگائی کا خاتمہ کر دیا گیا ہے، مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ عوام کو سوچنا چاہیے کہ مہنگائی میں کمی پر بانیٔ پی ٹی آئی کو کیوں تکلیف ہوتی ہے، 100 دن میں روٹی 14 سے 12 روپے پر آ گئی۔پنجاب حکومت کے 100 دن مکمل ہونے پر انہوں نے بیان میں کہا ہے کہ 100 دن میں درست فیصلوں نے عوام کو مہنگائی کم کر کے بڑا تاریخی ریلیف دیا ہے۔صوبائی وزیر کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار رمضان پیکیج مستحقین کے لیے ان کی دہلیز پر پہنچایا گیا، 100 دن میں مہنگائی میں 17 فیصد کمی آ چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ 100 دن میں نوجوان کے ہاتھ میں پیٹرول بم نہیں پھر سے لیپ ٹاپ دیے ہیں، نواز شریف آئی ٹی سٹی کی بنیاد 100 دن میں رکھ دی گئی ہے۔مریم اورنگزیب نے مزید کہا ہے کہ 100 دن میں آٹا، روٹی اور گھی کی قیمت میں واضح کمی آ چکی ہے، پاکستان اور پنجاب کی پہلی سوشیو اکنامک رجسٹری قائم کرنے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ خواتین کا پہلا ورچوئیل پولیس اسٹیشن اور پورے پنجاب میں ڈے کیئر سینٹر فنڈ قائم کیا گیا ہے، پنجاب کا پہلا ای ماس ٹرانزٹ بس اور نوجوانوں کے لیے ای بائیکس سسٹم شروع کر دیا گیا ہے۔
-

کیاخیبرپختونخوا میں حکومت مخالف مضبوط اپوزیشن اتحاد بنا رہی ہے؟
خیبر پختونخوا وزیر اعلی علی امین گنڈا پور کی ہٹ دھرمی انکے ہی گلے پڑنے والی ہے ، خیبر پختونخوا میں حکومت مخالف مضبوط اپوزیشن اتحاد کیلئے صف بندی کی جانے لگی۔چیئرمین تحریک انصاف پارلیمینٹیرین و سابق وزیراعلیٰ محمود خان نے اسلام آباد میں حکومتی اتحادیوں سے اہم ملاقاتیں کیں۔گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور سابق وزیراعلیٰ محمود خان کے درمیان ملاقات ہوئی۔ذرائع کے مطابق فیصل کریم کنڈی نے صوبے میں پی ٹی آئی کو ٹف ٹائم دینے کیلئے نئے اتحاد کے قیام پر زور دیا، گورنر خیبر پختونخوا نے محمود خان کو مرکزی قیادت سے ملاقاتیں کرانے کی بھی یقین دہانی کرائی۔واضح رہے کہ پی ٹی آئی پارلیمنٹیرین کے سربراہ محمود خان سے گزشتہ روز وفاقی وزیر امیر مقام نے بھی ملاقات کی تھی، مسلم لیگ (ن) کی جانب سے بھی پی ٹی آئی پی کو اتحاد میں شمولیت کی آفر کی گئی تھی۔
-

سپارکو کے ترقیاتی بجٹ میں 850 فیصد سے زائد کا اضافہ تجویز
وفاقی بجٹ میں خلائی تحقیقی ادارے سپارکو کے ترقیاتی بجٹ میں 850 فیصد سے زائد کا اضافہ تجویز کردیا گیا۔ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال سپارکو کیلئے 65 ارب61 کروڑ 70 لاکھ روپے رکھنے کی تجویز ہے، رواں مالی سال سپارکو کا ترقیاتی بجٹ 6 ارب 90 کروڑ روپے مختص تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ملٹی مشن کمیونیکیشن سیٹلائٹ سسٹم پاک سیٹ ون کیلئے 59 ارب 18کروڑ 37 لاکھ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔پاک سیٹ 2 کی فیزیبلٹی اینڈ سسٹم ڈیفینیشن اسٹڈی کیلئے 24 کروڑ 80 لاکھ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ جبکہ ڈیپ اسپیس اسٹرونومیکل آبزرویٹریز کے لیے 65 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان اسپیس سینٹر کے قیام کے لیے 4 ارب 18کروڑ 53 لاکھ جبکہ پاکستان آپٹیکل ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ کیلئے ایک ارب 35 کروڑ روپے کا بجٹ تجویز کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق نئے بجٹ میں سپارکو کے لیے نیا منصوبہ شروع کرنے کی بھی تجویز ہے۔
-

پنجاب، ایک ہی کام کرنے والے زائد اداروں کو ختم کرنے کا فیصلہ
صوبہ پنجاب میں حکومت اور گورننس کے نظام میں بڑی تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے ، جبکہ انقلابی فیصلے کیے جانے کی خبر سامنے آئی ہے۔ پنجاب میں وزارتوں اور محکموں کی تاریخ کی سب سے بڑی ری سٹرکچرنگ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ خسارےکے شکار اداروں کی ڈاﺅن سائزنگ کی جائے گی ایک ہی کام کرنے والے زائد اداروں کو ختم کردیا جائے گا۔وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب کے محکموں کی ری سٹرکچرنگ کے منصوبے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ منصوبے کے تحت وزارتوں کا حجم کم کرکے سرکاری امور کی انجام دہی میں آسانی پیدا کی جائے گی ۔ایک ہی کام کرنے والے اداروں کو ضم کیا جائے گا۔ ری سٹرکچرنگ اور ڈاﺅن سائزنگ سے اداروں کی کارکردگی اور عوامی خدمت کے عمل کو سادہ ، آسان اور تیز بنایاجائے گا۔ری سٹرکچرنگ اور ڈاون سائزنگ سے اربوں روپے کی بچت ہوگی ۔ حکومت کے سالانہ اخراجات میں بڑی کمی ہونے سے مالی گنجائش پیدا ہوگی
-

پنجاب میں خسرہ بے قابو، 24 گھنٹوں میں 263 مشتبہ کیسز رپورٹ
لاہور سمیت پنجاب بھر میں 24 گھنٹوں کے دوران بچوں میں خسرہ کے 263 مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔وزیرِ صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر نے بتایا ہے کہ رواں سال اب تک 12 ہزار 220 خسرہ کے کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔اُنہوں نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لاہور میں40، فیصل آبا دمیں 30، ملتان میں 17، راولپنڈی میں 11 بچوں میں خسرہ کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔وزیرِ صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر کے مطابق اس دوران شیخو پورہ میں 16، بہاولپور میں 12، جھنگ میں 23، خانیوال اور وہاڑی میں 13 خسرہ کے کیسز سامنے آئے ہیں۔
-

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان متعدد تجاویز پر ڈیڈ لاک بر قرار
وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق سابق فاٹا کے علاقوں کے لیے ٹیکس چھوٹ ختم کرنے پر اتفاق نہیں ہو سکا ہے، آئی ایم ایف کی جانب سے سابق فاٹا کے لیے ٹیکس چھوٹ ختم کرنے پر اصرار کیا جا رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق فاٹا کی ترقی کے لیے ایک سال کی ٹیکس چھوٹ ضروری ہے، پاکستان اور آئی ایم ایف مذاکرات جاری رکھنے پر متفق ہیں۔ذرائع کے مطابق وزارتِ خزانہ کا مؤقف ہے کہ سابق فاٹا کو درآمدی مشینری اور انکم ٹیکس پر چھوٹ دینا ضروری ہے۔ذرائع کے مطابق تنخواہ دار اور غیر تنخواہ دار طبقے پر انکم ٹیکس ریٹ پر اتفاق نہیں ہو سکا ہے جبکہ زراعت اور ہیلتھ سیکٹر پر 18 فیصد سیلز ٹیکس پر بھی عدم اتفاق ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی طرف سے 1 لاکھ روپے ماہانہ کے پینشنز پر ٹیکس لگانے پر بھی آمادگی کا اظہار کر دیا گیا ہے جبکہ ریئل اسٹیٹ کے شعبے پر ٹیکس لگانے پر پیش رفت جاری ہے۔دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف نے ایکسپورٹرز پر انکم ٹیکس بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، ایکسپورٹرز پر عائد انکم ٹیکس کی شرح بڑھائی جائے گی، اس وقت ایکسپورٹرز پر انکم ٹیکس کی شرح ایک فیصد عائد ہے، ایکسپورٹرز سے اخراجات و آمدنی کے مطابق ٹیکس وصول کیا جائے گا۔وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے اگلے قرض پروگرام کی شرائط کو بجٹ کا حصہ بنا کر پارلیمنٹ سے منظوری کی شرط عائد کر رکھی ہے اور آئی ایم ایف اپنے مطالبات میں کوئی رعایت دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔
