Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • وزیرِ اعظم  شہباز شریف کا  پاکستانی وفد کے ہمراہ چین کے تاریخی ورثےٹیراکوٹا وارئیر میوزیم کا دورہ

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کا پاکستانی وفد کے ہمراہ چین کے تاریخی ورثےٹیراکوٹا وارئیر میوزیم کا دورہ

    وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستانی وفد کے ہمراہ چین کے تاریخی ورثے ’ٹیرا کوٹا وارئیر‘ میوزیم کا دورہ کیا۔وفاقی وزراء خواجہ محمد آصف، احسن اقبال، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، ڈاکٹر مصدق ملک، سردار اویس خان لغاری، رانا تنویر حسین بھی دورے کے دوران وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔دورے کے دوران شہباز شریف اور پاکستانی وفد کو تاریخی ورثہ جات کے تحفظ و بحالی اور سیاحت کے فروغ کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔وزیر اعظم نے میوزیم کے مختلف حصوں کا دورہ کیا اور قدیم چینی تاریخی ورثے کی خوبصورتی اور چینی ہنر کی تعریف کی۔اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دو سو برس قبل مسیح کے چینی کاریگروں کا ہنر قابل تعریف ہے، چینی حکومت کی اس تاریخی ورثے کی حفاظت اور بحالی قابل تقلید ہے، عظیم قومیں چین کی طرح اپنے تاریخی ورثے کی حفاظت کرتی ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ چین نے اپنی محنت سے دنیا کے ہر شعبے میں اپنا لوہا منوایا ہے، چینی صدر عزت مآب شی جن پنگ کی اس میوزیم کے دورے کی دعوت پر انکا بے حد مشکور ہوں، پاکستان تاریخی و ثقافتی ورثے سے مالامال ہے۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بھی ایسی تاریخی جگہوں کی بحالی کے بعد انہیں سیاحتی مقامات میں تبدیل کریں گے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز چینی صدر عزت مآب شی جن پنگ نے وزیرِ اعظم کو اپنے آبائی شہر شی-آن میں ٹیرا کوٹا وارئیرز میوزیم کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔

  • آئی ایم ایف کی تجویز مسترد، حکومت کی سابق فاٹا کیلئے ٹیکس چھوٹ کی تجویز تیار

    آئی ایم ایف کی تجویز مسترد، حکومت کی سابق فاٹا کیلئے ٹیکس چھوٹ کی تجویز تیار

    وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کی تجویز مسترد کر کے سابق فاٹا کیلئے ٹیکس چھوٹ کی تجویز تیار کرلی۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ذرائع کے مطابق آئندہ وفاقی بجٹ میں سابق فاٹا کیلئے ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز ہے، سابق فاٹا کی ڈیولپمنٹ کیلئے درآمدی مشینری پر ٹیکس چھوٹ دی جائے گی۔ذرائع ایف بی آر کے مطابق سابق فاٹا میں کاروبار، فیکٹریوں پر انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور ایف ای ڈی چھوٹ ہوگی، سابق فاٹا کیلئے ٹیکس چھوٹ معاشی حالات بہتر نہ ہونے کے باعث دی جائے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق فاٹا کیلئے ٹیکس چھوٹ 2023ء کے اختتام پر ختم ہوچکی تھی۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے سابق فاٹا کیلئے ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تجویز دی تھی جبکہ حکومت نے سابق فاٹا کو مزید ایک سال کیلئے ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز تیار کی ہے۔ذرائع ایف بی آر کے مطابق سابق فاٹا کی باؤنڈری پر چیک پوسٹ قائم کیے جانے کی بھی تجویز ہے، چیک پوسٹوں کے قیام سے ٹیکس فری مشینری ملک کے باقی حصوں میں نہیں لائی جاسکے گی۔

  • عمران خان پر سنگین نوعیت کے مقدمات درج کرنے کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

    عمران خان پر سنگین نوعیت کے مقدمات درج کرنے کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

    لاہور ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان پر سنگین نوعیت کے مقدمات درج کرنے کے فیصلے کے خلاف درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی۔جسٹس فاروق حیدر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ 10 جون کو عمران خان کی درخواست پر سماعت کرے گا۔یاد رہے کہ عدالت نے پنجاب حکومت کو جواب جمع کرانے کی ہدایت کر رکھی ہے۔ بانی پی ٹی آئی نے مقدمات درج کرنے کے کابینہ کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کررکھا ہے۔واضح رہے کہ 25 مئی کو وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی سمیت پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے خلاف فوج اوردیگر ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانے پر مزید مقدمات کی منظوری دے دی تھی۔

  • اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب اور پی ٹی آئی رہنما زرتاج گل کی ضمانت میں توسیع

    اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب اور پی ٹی آئی رہنما زرتاج گل کی ضمانت میں توسیع

    گوجرانوالہ کی انسداد دہشت گردی عدالت نے اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب اور پی ٹی آئی رہنما زرتاج گل کی ضمانت میں توسیع کر دی۔اے ٹی سی گوجرانوالہ کے جج کے چھٹی پر ہونے کے باعث ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے 9 مئی ہنگامہ آرائی جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے کی سماعت کی، عمر ایوب اور زرتاج گل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جاوید اقبال وڑائچ کی عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت نے دونوں کی درخواست ضمانت میں 8 جولائی تک توسیع کر دی۔یاد رہے کہ دونوں کے خلاف تھانہ کینٹ میں 9 مئی ہنگامہ آرائی سمیت دیگر سنگین دفعات کا مقدمہ درج ہے۔
    سیشن کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک کا فارم 47 والا وزیراعظم بڑی شان سے چین گیا، انہوں نے آئینہ دکھا دیا ، ڈپٹی میئر نے استقبال کیا، بانی پی ٹی آئی چین سمیت جہاں بھی گئے انہیں پروٹوکول دیا جاتا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم چمن اور پشین گئے وہاں جلسہ کیا، گوادر کے حالات خراب اور افغانستان بارڈر غیر محفوظ ہے، کچے کے ڈاکووں سے زیادہ زہریلے پکے کے ڈاکو ہیں۔عمرایوب کا کہنا تھا کہ بجلی کا شارٹ فال ہے کیوں کہ ایندھن نہیں خریدا گیا، ہمارے دور میں بجلی کا یونٹ 17 روپے تھا، آج یونٹ پچاسی روپے کا ہے یہ ایک سو تک جائے گا، گیس کی قیمتیں چار سو گنا تک بڑھا دی گئی ہیں ابھی اور بڑھیں گی، حکومت بجٹ میں کیا ریلیف دے گی، مہنگائی سوچ سے بھی زیادہ ہونے والی ہے۔
    اپوزیشن لیڈر نے مزید کہا کہ ہم تمام شہروں میں جلسے کیلئے درخواست دیتے ہیں تو کہتے ہیں دہشت گردی کا خطرہ ہے، اگر دہشت گردی ہے تو پھر باہر سے کون انویسٹر آئے گا۔علاوہ ازیں سیشن کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما زرتاج گل کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار سیاسی خواتین قیدیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، دو سال میں خواتین سیاسی قیدیوں کی تعداد میں 60 فیصد اضافہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ حکومت سیاسی فرنٹ پر بانی پی ٹی آئی عمران خان کا مقابلہ نہیں کر سکتی، خواتین کا راستہ اس لئے روکا جا رہا ہے تاکہ کوئی خاتون سیاست میں نہ آئے، سیاست کا مقابلہ سیاست سے کریں، ذاتی دشمنی نہ کریں، پولیس سٹیٹ نہ بنائیں۔
    زرتاج گل کا کہنا تھا کہ عالیہ حمزہ اور صنم جاوید کو دو دو گھنٹے پریژن وین میں بٹھایا گیا، ضمانت ہونے پر اگلے شہر کی پولیس انہیں اٹھانے کیلئے کھڑی ہوتی ہے، 78 کے قریب خواتین کو جعلی مقدمات میں ملوث کرنا سب سے بڑی زیادتی ہے۔

  • زرتاج گل سنی اتحاد کونسل کی قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر نامزد

    زرتاج گل سنی اتحاد کونسل کی قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر نامزد

    قائد حزبِ اختلاف عمر ایوب نے قومی اسمبلی میں بطور پارلیمانی لیڈر زرتاج گل کے نام کا اعلان کردیا۔عمر ایوب کا کہنا ہے کہ سنی اتحاد کونسل کی جانب سے زرتاج گل پارلیمانی لیڈر ہوں گی، جبکہ زین قریشی قومی اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر ہوںگے، احمد چٹھہ بھی قومی اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈرہوں گے۔بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے زرتاج گل کی بطور پارلیمانی لیڈر تقرری کی منظوری دی گئی ہے۔قبل ازیں پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر کے لیے چار نام تجویز کیے تھے، جن میں زرتاج گل، صاحبزادہ محبوب سلطان، زین قریشی اور احمد چٹھہ شامل تھے۔

  • جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد، صارم برنی عدالتی ریمانڈ پرجیل منتقل

    جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد، صارم برنی عدالتی ریمانڈ پرجیل منتقل

    دو روزہ جسمانی ریمانڈ کے بعد ملزم صارم برنی کو عدالت میں پیش کر دیا گیا۔ملزم صارم برنی کو جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ سٹی کورٹ بچوں کی سمگلنگ کے الزام میں سماجی کارکن صارم برنی کودو روزہ جسمانی ریمانڈ کے بعد عدالت میں پیش کردیا گیا۔ سٹی کورٹ نے چیمبر میں ہی ایف آئی اے کو ملزم کا بیان رکارڈ کرنے کا حکم دیدیا ، ایف آئی اے کی جانب سے مزید سات دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بیان میں کہا کہ ملزم نے دوران تفتیش بالکل تعاون نہیں کیا، ملزم سے جو سوال کرتے ہیں وہ کہتا کہ میں نہیں جانتا، ملزم نے اپنا بیان بھی ریکارڈ نہیں کروایا، ملزم سے ڈیجیٹل اور فنانشل انکوائری کرنی ہے ،اس حوالے سے دیگر ادراوں سے بھی ریکارڈ حاصل کیا جا رہا ہے۔
    تفتیشی افسرنے کہا کہ امریکی انٹیلیجنس سے ملنے والے ریکارڈ بارے ملزم سے تفتیش کرنا ہے، حیا نامی بچی کو صارم برنی نے 3 ہزار ڈالر میں حرا نامی خاتون کوفروخت کیا۔
    تفتیشی افسر نے 3ہزار ڈالر کی رسید بھی عدالت میں پیش کی، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے یہ 3ہزارڈالر وصول کیے؟جس پر صارم برنی نے جواب دیا کہ مجھے نہیں معلوم، عدالت نے کہا کہ آپ ٹرسٹ کے چیئرمین ہیں جس پر صارم برنی نے کہا کہ پیسے ٹرسٹ نے لیے ہوں گے.تفتیشی افسرنے مزید کہا اب تک 3 بچوں کے معاملات کی تفتیش ہو چکی ہے جبکہ 20مزید کیسز کی تفتیش کرنا ہے۔ وکلا صفائی عامر وڑائچ اور اعجاز خٹک نے عدالت میں بیان دیا کہ صارم برنی کا ریمانڈ نہ دیا جائے، اگر جسمانی ریمانڈ دیا تو صارم برنی کو ٹارچر کیا جائے گا۔عدالت میں سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کردی گئی ۔بعدازاں عدالت نے ایف آئی اے کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے صارم برنی کو عدالتی ریمانڈ پرجیل بھیج دیا، درخواست ضمانت کی سماعت پیر کو ہو گی۔
    یاد رہے کہ صارم برنی کو جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی نے بچوں کو غیر قانونی بیرون ملک بھیجنے اور سمگلنگ کیس میں دوروزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کیا تھا۔
    گزشتہ سماعت میں عدالت نے صارم برنی کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا تھا۔

  • پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج برین ٹیومر کا عالمی دن منایا جارہا ہے

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج برین ٹیومر کا عالمی دن منایا جارہا ہے

    دنیا بھر میں آج دماغی کینسر یا برین ٹیومر اور اس سے بچاؤ سے متعلق آگاہی کے لیے برین ٹیومر کا دن منایا جارہا ہے۔ دماغ کی رسولیوں، ان کی تشخیص اور ممکنہ علاج سے متعلق عمومی شعور مقابلتاً بہت کم ہے۔ اسی لیے عام انسانوں کو برین ٹیومر اور اس سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں سے آگاہ کرنے کے لیے ہر سال آٹھ جون کو ورلڈ برین ٹیومر ڈے بھی منایا جاتا ہے۔ اس سال مارچ میں تو عالمی سطح پر دماغی رسولیوں سے متعلق آگہی کا مہینہ بھی منایا گیا۔ اس سال اس عالمی دن کا موضوع تھا: ”خود کو بچائیے، ذہنی دباؤ سے دور رہیے۔‘‘
    دنیا بھر میں آج دماغی کینسر یا برین ٹیومر اور اس سے بچاؤ سے متعلق آگاہی کے لیے برین ٹیومر کا دن منایا جارہا ہے۔اس سال ورلڈ ٹیومر ڈے کا تھیم’’ Close the Care Gap‘‘ہے ، پاکستان میں برین ٹیومر کے مریضوں کی تعداد میں سالانہ 13 ہزار سے زائد کا اضافہ ہو رہا ہے، اس بیماری کی120 اقسام ہیں جن میں دو اقسام بینجن اور مالی گانٹ تیزی سے پھیلتی اور نسبتاً زیادہ خطرناک ہیں ۔ برین ٹیومر یوں تو کسی بھی عمر میں حملہ آور ہو سکتا ہے لیکن عموماً 35 سال سے زائد عمر کے افراد میں یہ مرض پایا جاتا ہے۔اس بیماری کی علامات میں مسلسل سر درد، متلی،آواز،بصارت،سماعت میں تبدیلی شامل ہیں ، بازو یا ٹانگ میں جھرجھری محسوس ہونا اور پٹھوں کا پھڑکنا بھی اس کی علامات ہیں ۔
    عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کے مطابق برین ٹیومر کا شکار خواتین کی تعداد مردوں سے کہیں زیادہ ہے ، برین ٹیومر کے ایک تہائی مریض 5 سال تک اس بیماری سے لڑتے لڑتے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔اس حوالے سے ملک بھر میں سیمینارز اور تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا جس سے خطاب کے دوران ماہرین صحت، نیورو سرجن اورمقررین برین ٹیومر کی علامات،علاج اور پرہیز کے متعلق معلومات فراہم کریں گے ۔ماہرین صحت کے مطابق جدید طرز زندگی اور جدید ٹیکنالوجی موبائل فونز اور کمپیوٹر کا استعمال برین ٹیومرکی شرح میں اضافے کا بڑا سبب ہے تاہم ایک خاص قسم کے وائرس اور غیر متوازن غذا بھی اس مرض کو پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں ہے ، برین ٹیومر کے مریض علاج کے بعد صحت مند زندگی گزارتے ہیں۔

  • پاکستان پانچواں ملک ہے جسے موسمیاتی تبدیلی کے خطرے کا سامنا ہے، جسٹس منصور علی

    پاکستان پانچواں ملک ہے جسے موسمیاتی تبدیلی کے خطرے کا سامنا ہے، جسٹس منصور علی

    اسلام آباد میں موسمیاتی تبدیلی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے نبردآزما ہونے کے لیے ہم سب متحد ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2022ء میں پاکستان میں بہت بڑا سیلاب آیا، سیلاب نے ہزاروں افراد کو متاثر کیا، اربوں ڈالرز کا نقصان ہوا، پاکستان پانچواں ملک ہے جسے موسمیاتی تبدیلی کے خطرے کا سامنا ہے سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے لیے آسان نہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹے۔جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے پاکستان میں پانی کی قلت بڑھ رہی ہے، موسمیاتی تبدیلیوں سے جن خطرات کا سامنا ہے ان پر غور کے لیے یہاں اکٹھے ہوئے ہیں۔
    سپریم کورٹ کے جج نے مزید کہا کہ موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے خشک سالی تباہ کن سیلاب جیسے مسائل کا سامنا ہے، موسمیاتی تبدیلی سے درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، موسم کی تبدیلی خوراک کی قلت کا باعث بن رہی ہے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ موسم کی تبدیلی لوگوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ ہے، موسمی تبدیلیوں کا اثر صحت کی سہولتوں پر بھی پڑتا ہے، زرعی پیداوار کو موسمی تبدیلیوں نے متاثر کیا ہے، موسمی تبدیلیوں سے کلائمنٹ فنڈ کے بغیر نہیں نمٹا جا سکتا،

  • پاکستان کا دوسرا سیٹلائٹ ‘پاک سیٹ ایم ایم ون’ زمینی مدار میں پہنچ گیا

    پاکستان کا دوسرا سیٹلائٹ ‘پاک سیٹ ایم ایم ون’ زمینی مدار میں پہنچ گیا

    پاکستان کے دوسرے مواصلاتی سیٹلائٹ پاک سیٹ ایم ایم ون زمینی مدار میں کامیابی سے پہنچ گیا ہے، سیٹلائٹ 5 جون کو منزل تک پہنچی ہے۔پاکستان اسپیس اور اپر اٹماسفئیر کمیشن (سپارکو) کی جانب سے اس حوالے سے بیان سامنے آیا ہے، جس میں تصدیق کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق پاک سیٹ ایم ایم ون زمین سے 38 ہزار 786 کلومیٹر کی بلندی پر موجود ہے، جبکہ زمینی مدار کے 38 اعشاریہ 2 ایسٹ میں موجود ہے۔مدار میں پہنچنے کے بعد سیٹلائٹ کے شمسی پینل نے کام کرنا شروع کر دیا ہے، ترجمان سپارکو کے مطابق کئی ٹیسٹ کیے گئے ہیں، جس سے سیٹلائٹ کی صورتحال کے بارے میں جانچا گیا ہے۔پاک ایم ایم ون ایک جیو اسٹیشنری سیٹلائٹ ہے جو کہ جدید مواصلاتی ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔جس کی وجہ سے سیٹلائٹ مواصلاتی سروسز کو مزید بہتر بنایا جا سکے گا جبکہ ملک کے صارفین کے لیے بھی مددگار ثابت ہو سکے گا۔واضح رہے پاک ایم ایم ون 30 مئی کو چین کے ژی چیانگ سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے لانچ کی گیا تھا۔

  • قائم مقام گورنر ملک احمد خان نے ہتک عزت بل پر دستخط کر دیئے

    قائم مقام گورنر ملک احمد خان نے ہتک عزت بل پر دستخط کر دیئے

    گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر کے رخصت پر جانے کے بعد قائم مقام گورنر ملک احمد خان نے ہتک عزت بل پر دستخط کر دیئے۔ گزشتہ ماہ پنجاب اسمبلی سے ہتک عزت بل پاس ہوا جسے منظوری کیلئے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر کو بھجوایا گیا، گورنر نے بل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا، بل کے معاملے پر پنجاب حکومت اور گورنر کے درمیان ملاقات بھی ہوئی جس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہ نکل سکا۔ذرائع کے مطابق گورنر پنجاب سے ملاقات کے بعد مسلم لیگ (ن) کی جانب سے صدر آصف علی زرداری سے رابطہ کیا گیا، صدر نے گورنر پنجاب کو چھٹی پر جانے کا مشورہ دیا، گورنر سردار سلیم حیدر 6 جون سے 12 جون تک رخصت پر چلے گئے اور سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے قائم مقام گورنر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اگلے ہی روز بل پر دستخط کر دیئے۔گورنر ہاؤس نے ہتک عزت بل پر قائمقام گورنر پنجاب ملک احمد خان کی جانب سے دستخط کیے جانے کی تصدیق کر دی ہے، بل پر دستخط کے بعد سمری وزارت قانون کو بھجوا دی گئی جس کا جلد ہی گزٹ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا جائے گا، نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد ہتک عزت قانون باقاعدہ طور پر پنجاب میں لاگو ہو جائے گا اور اس کا اطلاق ہر شہری پر ہو گا۔
    صحافیوں نے ہتک عزت بل کی منظوری کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے تحفظات کا اظہار کیا تھا، اس حوالے سے صحافتی تنظیموں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے گورنر سردار سلیم حیدر سے ملاقات بھی کی، صدر سی پی این ای ارشاد عارف، صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری اور سابق صدر سی پی این ای کاظم خان اور دیگر شامل تھے۔صحافتی نمائندوں نے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر کو ہتک عزت بل کے بارے میں تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہتک عزت بل آزادی اظہار کا گلا دبانے کی کوشش ہے جبکہ گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر کا کہنا تھا کہ متنازع شقوں پر تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے گا، بل پر پہلے مشاورت ہونی چاہیے تھی تاہم مزید مشاورت کے بغیر بل پر دستخط نہیں کروں گا۔