فیڈرل انویسٹیگیشن اتھارٹی ( ایف آئی اے) نے جعلی اور غیر رجسٹرڈ ٹیکنکل ڈگریوں کے اجراء میں ملوث ملزمان کے خلاف کریک ڈاون کرتے ہوئے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آبادنے کارروائیاں کی، چھاپہ مار کاررو ائیاں ماڈرن انسٹیٹیوٹ آف انفورمیٹکس، جوہر انسٹیٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اسلام آباد اور انٹرنیشنل کالج آف ایجوکیشن کے نام سے بنائے گئے جعلی اور غیر رجسٹرڈ اداروں میں کئے گئے جس میں مذکورہ انسٹیٹوٹ کے مالکان کو تحویل میں لےلیا گیا، گرفتار ملزمان میں ذیشان زاہد، عمر فاروق اور احسن الدین شامل ہیں،تینوں ملزمان کو راولپنڈی اور اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا، ملزمان نے عام شہریوں کو بھاری رقوم کے عوض جعلی ٹیکنیکل سرٹیفیکٹ، ڈگریاں اور کارڈز جاری کئے۔ ملزمان کے خلاف کارروائیاں نویٹیک کی شکایت پر کی گئی کہ یہ افراد جعلی اور غیر رجسٹرڈ تعلیمی ادارے چلا رہے ہیں اور مذکورہ انسٹیٹیوٹ میں جعلی ڈپلومے، سرٹیفیکٹ اور جعلی ڈگریاں جاری کرنے میں ملوث ہیں،ملزمان نےجعلی اداروں کے نام سے مختلف اخبارات اور سوشل میڈیا پر داخلے کے اشتہارات لگاتے تھے۔ چھاپے کے دوران بھاری مقدار میں جعلی ٹیکنیکل ڈگریاں، سرٹیفیکیٹ، کارڈز اور ڈپلومے بنانے والے آلات برآمد کر لئے گئےجبکہ جعلی مہریں، ڈپلومہ اسٹیکرز، خالی سرٹیفیکٹس ،لیٹر ہیڈ اور ایمبوزڈ مشینز برآمد کر لئےگئے۔ ملزمان کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے، دیگر ملزمان کی گرفتاری کیلئے بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
Author: صدف ابرار
-

یوم تکبیر پر سفر اور نواز شریف کا عوامی خطاب، تجزیہ : شہزاد قریشی
گذشتہ دن اپنے دیرینہ و مخلص دوست وسینیٹر اور رہنما پروفیسر عرفان صدیقی کی صحبت جمیلہ میں اسلام آباد سے لاہور یوم تکبیر کی مرکزی تقریب میں شرکت کے لئے سفر کرنے کا شرف حاصل ہو ا اور سینیٹر ناصر بٹ بھی ہمارے ہم رکاب تھے ہم خیال ہم عمر اور مہم ہمدم دوستوں کا اکٹھا سفر اور ایک ہی منزل اور ایک ہی لیڈر و عظیم لیڈر سے ملاقات کے اشتیاق نے ہمارے سفر کو انتھک اور خوشگوار بنا دیاجونہی ہماری گاڑی اسلام آباد سے لاہور کے لئے موٹر وے پر پہنچی تو کون محب وطن اور ترقی پسند ہے جس کے دل سے میاں نواز شریف کے جذبہ دل اور غنچہء شوق کی خوشبو کا اعتراف نہ اُبلتا ہوسینیٹر پروفیسر عرفان صدیقی ، سینیٹر ناصر بٹ اور میری اپنی گفتگو میں جو تجزیہ کرنے لگے کہ اگر میاں نواز شریف پشاور اسلام آباد لاہور فیصل آباد ، لواری ٹنل اور دیگر موٹر ویز نہ بناتے تو آج کا پاکستان کیسا ہوتاشیر شاہ سور ی دور کا گرینڈ ٹرنک روڈ کوہستان برہان بٹالہ پاک وطن کی وہ بسیں ہوتیں جوراولپنڈی سے فیصل آباد کا سفر 14 گھنٹے میں کرتی تھیں اور جب مسافر ان سے اترتے تھے تو انہیں اپنے گھر والے بھی نہ پہچان سکتے تھے تاجر کئی دن تک اپنے ساز وسامان کے پہنچنے کا انتظار کرتے رہتے تھے اور آئے دن گاڑیوں کے خطرناک حادثات کی خبریں اخبارات کے پہلے صفحات کی زینت بنتی تھیں اور سوال یہ بھی آیا کہ اگر نواز شریف موٹر وے نہ بناتے تو کوئی اور بناتا؟ جی بالکل نہیں کیونکہ ان کے ہم عصر ایک اور وزیرا عظم اس پر تنقید کرکے موٹر وے کی چوڑائی کم کر گئی تھیں جس کا پچھتاوا آج بھی قوم کو ہےکیا آج ہم اتنے طویل موٹر ویز بنا سکتے ہیں ؟ جی بالکل نہیں کیا آج ہم میٹرو بس اور اورنج ٹرین کے منصوبے شروع کر سکتے ہیں جی بالکل نہیں ہماری معاشی حالت ابتر ہو چکی ہے
سینیٹر پروفیسر عرفان صدیقی نے نکتہ اٹھایا اگر میاں نواز شریف سی پیک کی تکمیل کر چکے ہوتے اور کراچی لاہورا سلام آباد تاکاشغر دو رویہ ریل ٹریک بن کر چالو ہو چکا ہوتا تو پھر پاکستان کہاں کھڑا ہوتاہم سب کا جواب تھا کہ پاکستان ایشین ٹائیگر بن چکا ہوتادنیا کے بڑ ےبڑے برانڈراپنی مصنوعات کے کارخانے پاکستان میں لگاتے اور اپنی مصنوعات کی ترسیل دوسرے دور دراز ممالک میں کررہے ہوتےبیرون ملک سے پاکستانی لیبر واپس آکر اپنے دیس میں روزی کما رہی ہوتی پاکستان کی اعلیٰ تعلیم یافتہ یوتھ ڈنکیاں لگاکر سات سمندر پار ڈوب نہ رہی ہوتی اور پاکستان کا برین ڈ رین نہ ہوتالاہور پہنچ کر حسب معمول سینیٹر پرویز رشید کی مہمانداری نصیب ہوئی تو ان کے گرد میاں نواز شریف کے مخلص دوستوں کا ہجوم دیکھ کر دل بے ساختہ کہہ اٹھابقول اقبال و فقط یہ بات کہ پیر مغاں ہے مردخلیق
میاں نواز شریف نے یوم تکبیر کے موقع پر اپنے خطاب میں عوام کے دل موہ لئے اور یہ خطاب بلاشبہ ایک تاریخی خطاب ہے جس میں انہوں نے سات سال کے عرصہ میں جلا وطنی اور اقتدار سے زبردستی علیحدگی صادر فرمانے والے ٹولے کی نشاندہی بھی کی اور اس سے پاکستان کے ترقی کے سفر میں ناقابل تلافی رخنہ اندیزی کاتذکرہ کیاانہوں نے نشاندہی کی کہ کس طرح پاکستان کو سی پیک کی منزل سے گمراہ کرنے کے لیے انہیں لندن پلان اور ا س وقت کی عدلیہ کی ملی بھگت کا نشانہ بنایا گیا اور ایک نااہل قیادت کو پاکستان کی تقدیر سے کھیلنے کا کھلا موقع فراہم کیا گیا
میاں نواز شریف نے موٹر ویز سے لے کر ایٹمی دھماکوں تک صنعتی انقلاب سے سی پیک ا ور لوڈ شیڈنگ کے خاتمے تک جتنے بھی اقدامات کیے کا ذکر کیا ان کارناموں کوفیض احمد فیض کے ایک قطعہ میں تخلیق کیا جا سکتا ہے
قتل گاہوں سے چن کر ہمارے علم
اورنکلیں گے عشاق کے قافلے
جن کی راہ طلب میں ہمارے قدم
مختصر کر چلے درد کے فاصلے -

آئندہ بجٹ میں عوام کو ہر ممکن ریلیف دینے کے اقدامات پر غور
پی ایم ایل این کا آئندہ مالی سال کے بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے بارے سفارشات کے معاملہ پر اجلاس ہوا، اجلاس میں تین نکاتی ایجنڈے پر تفصیلی مشاورت اور پارٹی قائدین کو بریفگ دی گئی۔پارٹی ذرائع کے مطابق جاتی امراء رائیونڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کی زیر صدارت تین گھنٹے طویل مشاورتی اجلاس ہوا، اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وفاقی وزراء محمد اورنگزیب ، ڈاکٹر مصدق ملک، اویس لغاری، عطاء تارڑ، رانا تنویر حسین سمیت دیگر شریک ہوئے۔ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، پارٹی کے سینئر رہنما سینیٹر پرویز رشید، وفاقی و صوبائی محکموں کے مختلف سیکرٹریز نے بھی شرکت کی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ طویل مشاورتی اجلاس میں آئندہ بجٹ میں عوام کو ہر ممکن ریلیف دینے کے اقدامات کی تجاویز پر تبادلہ خیال ہوا، وفاقی و صوبائی سطح پر عوام کو ہر ممکن ریلیف دینے کے حوالے سے اقدامات بارے تجاویز لی گئیں۔اجلاس میں شرکت کرنے والے وفاقی وزراء اور سیکرٹریز نے اپنے اپنے محکموں کی جانب سے ممکنہ ریلیف کے اقدامات کی تجاویز پیش کیں، پارٹی قائدین نے بھی عوام کو ہر ممکنہ ریلیف دینے بارے اپنی اپنی تجاویز شرکاء کے سامنے رکھیں۔علاوہ ازیں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اپنی صوبائی حکومت کی جانب سے بھرپور ریلیف فراہم کرنے کے اقدامات تجویز کئےجبکہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے بجٹ مشاورتی اجلاس میں اپنے وسیع تر سیاسی و انتظامی تجربے کی بنیاد پر ہدایات بھی جاری کیں۔
-

تاجروں کے مسا ئل وزیراعظم شہباز شریف کے سامنے رکھے گے ، وزیر خزانہ
گورنر سندھ کامران ٹیسوری اور وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کے درمیان رابطہ ہوا ہے۔ترجمان گورنر ہاؤس کے مطابق کامران ٹیسوری اور محمد اورنگزیب کی گفتگو میں ملکی معاشی صورتحال، صنعتوں کو بجلی اور گیس کی فراہمی اور تاجروں کے مسائل زیر بحث آئے۔ترجمان کے مطابق گورنر سندھ نے دوران گفتگو وفاق کے تحت جاری منصوبوں کو جلد مکمل کرنے کا مطالبہ کیا۔کامران ٹیسوری نے کہا کہ وفاقی کے منصوبوں کے فنڈز میں رکاوٹ کو ختم کیا جائے، گرین بس منصوبہ اور جاری ترقیاتی کاموں کو مکمل کرکے عوام کو ریلیف دیا جائے۔اس دوران وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ تاجروں کے مسائل پر وزیراعظم شہباز شریف سے بات کروں گا۔انہوں نے کہا کہ ملک ٹیکس سے چلتا ہے، آپ عوام کو اس بات سے آگاہ کریں، عوام کو آگا کریں کہ وہ ٹیکس دیں اور ٹیکس نیٹ میں آئیں۔
-

پی ٹی آئی ترجمان رؤف حسن حملہ کیس میں پیشرفت
پی ٹی آئی ترجمان رؤف حسن حملہ کیس میں پیشرفت سامنے آگئی، تفتیشی ذرائع کے مطابق خواجہ سرا گاڑی پر سوار ہو کر ستارہ مارکیٹ پہنچے تھے۔ذرائع کے مطابق خواجہ سراؤں نے بلیک رنگ کی مہران گاڑی استعمال کی، ٹیم نے دو کلومیٹر تک کی سیف سٹی فوٹیج حاصل کر لی۔واقعے کے حوالے سے پرائیویٹ سی سی ٹی وی کی چھان بین جاری ہے، گاڑی کے مکمل روٹ کی چھان بین کی جارہی ہے۔تفتیشی ذرائع کے مطابق حملہ آوروں کے حوالے سے نادرا رپورٹ کا انتظار ہے، زیادہ میک اپ کے باعث چہروں کی شناخت کے امکانات کم ہیں، زیر استعمال گاڑی کے حروف مدہم ہونے کے باعث ڈیٹا نہ مل سکا۔
-

سابق گورنر عشرت العباد کی شیر افضل مروت سے دبئی میں ملاقات
سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شیر افضل مروت سے دبئی میں ملاقات ہوئی۔ ملاقات کی تصویر ڈاکٹر عشرت العباد کے ٹوئٹر ہینڈل سے جاری کی گئی ہے۔سابق گورنر سندھ نے کہا کہ آج میری شیر افضل مروت سے ملاقات ہوئی، جس میں پاکستان کے سیاسی حالات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔عشرت العباد نے کہا کہ میں نے تجویز دی ہے کہ سیاسی استحکام کے لیے بامعنی گفتگو ضروری ہے۔ معاشی مشکلات کے اس دور میں عوام کی راحت اولین ترجیح ہونی چاہیے، جس کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں ہم آہنگی ضروری ہے۔
-

توشہ خانہ کیس میں بانی تحریک انصاف پر چوتھا کیس بنانے کی تیاری کی جا رہی ہے، روف حسن
پی ٹی آئی رہنما اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات رؤف حسن نے عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں انصاف ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ، جوں جوں وقت گزر رہا ہے ریاست پر پریشر بڑھتا جا رہا ہے ، بانی تحریک انصاف کے کیسسز کے فیصلوں کو آگے بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں ، ہم انصاف کا قتل ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں ، ہم2سال سے تماشہ دیکھ رہے ہیں، ہماری جدو جہد جاری رہے گی ۔ شاعر احمد فرہادکیس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کیس بھی سب کے سامنے ہے ، حقائق پر مبنی نظم لکھنے کی احمد فرہاد کو سزا دی جا رہی ہے ، ریاست پر گھناؤنے دھبے لگائے جا رہے ہیں،شنوائی کے بغیر ریاست آگے نہیں بڑھ رہی۔ روف حسن نے کہا کہ عدالتوں میں انصاف ہوتا نظر نہیں آرہا ہے ، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ریاست پر دباؤ بڑھتا جارہا ہے ، آج بھی یہ لوگ ججز کو خریدنا چاہ رہے ہیں اور کوششیں بھی جاری ہیں ،ان کو ڈر ہے کہ بانی تحریک انصاف کو انصاف ملنا شروع ہوا تو وہ باہر آ جائیں گے۔ پاکستان تحریک انصاف( پی ٹی آئی) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات رؤف حسن نے نیشنل پریس کلب میں گفتگو کرتے ہوئے کہناتھا کہ آج جو عدت کیس کے حوالے سے عدالت میں ہوا وہ سب نے دیکھا خاور مانیکا نے بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے گندی زبان استعمال کی ،اندرون خانہ پریشر کے باعث وکیل کو کہا کیس کو دوبارہ بیان کیا جائے ، گفتگو کے بعد ایک نئے سرے سے کیس دوسرے جج کے پاس چلا گیا ہے ،صاحب اقتدار لوگوں کی پالیسی ہے کہ کیس کو مزید آگے بڑھایا جائے،کوشش ہے کہ بانی تحریک انصاف کو مزید جیل میں رکھا جائے ، توشہ خانہ کیس میں بانی تحریک انصاف پر چوتھا کیس بنانے کی تیاری کی جا رہی ہے سوچی سمجھی سازش کے تحت یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما رؤف حسن نے کہا کہ عدت اور سائفر کے کیسسز ختم ہو چکے ہیں ، توشہ خانہ اور القادر کیس بھی جھوٹ پر مبنی اور سب کے سامنے واضح ہے ،حمود الرحمن کمیشن جس نے پڑھی ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے ،افواج پاکستان کے خلاف کہیں بھی کوئی ذکر نہیں ، آج بھی ایک شخص ، شخص واحدنے اپنے اقتدار کو بڑھانے کیلئے ریاست کو مشکل میں ڈال رکھا ہے ، اس پاکستان کی6 اکائیاں ہیں، ہمارے ادارے کب رول ادا کریں گے ،پاکستان دنیا میں واحد ریاست ہے جہاں آئین و قانون کا فقدان واضح دکھائی دے رہا ہے ، پاکستان دوسروں کی لڑائیوں میں گھسنے کی تیاریاں کر رہا ہے ،ہماری لڑائی فوج کے ساتھ نہیں بلکہ شخص واحد کے ساتھ ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ ملک میں آئین و قانون کو بحال کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ابھی تک بانی تحریک انصاف کے خلاف 203 مقدمات درج ہیں ، ملک ریاض پر بھی پریشر ڈالا جا رہا ہے ،انہوں نے بیان بھی دیا ہے کہ وہ پریشر میں نہیں آئیں گے ،صدر پاکستان بھی دبئی میں ہیں سنا ہے کہ انہوں نے ملک ریاض سے ملاقات بھی کی ہے ،بظاہر دکھائی دے رہا ہے کہ بانی تحریک انصاف کے خلاف مزید کیسسز بنانے کی تیاری جاری ہے ،انصاف کے تقاضے اگر پورے نہیں ہوتے تو مسائل مزید جنم لیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ دو سال سے تماشہ دیکھ رہے ہیں، دیکھتے ہیں ہم کب تک برداشت کر سکتے ہیں ،ہمیں لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہم کیوں احتجاجی تحریک شروع نہیں کر رہے ہمیں امید ہے کہ صاحب اقتدار کو احتجاجی تحریک شروع کرنے سے پہلے خیال آ جائے۔ -

اب کوئی بچہ بھوکا سکول نہیں جائے گا، گورنر سندھ
سکولوں میں بچوں کو مفت ناشتہ دیاجائے گا۔ اس بارے میں حکومت سندھ نے باقاعدہ آغاز کردیا ہے اور کامران ٹیسوری نے کراچی میں ایک تقریب کے دوران گورنر ”انیشیٹیو فری بریک فاسٹ فور سٹوڈنٹس“ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ اب کوئی بچہ بھوکا سکول نہیں جائے گا، سکولوں میں بچوں کو مفت ناشتہ فراہم کیا جائے گا۔گورنر سندھ کاکہنا ہے کہ سروے سے پتہ چلا ہے مہنگائی اور غربت کی وجہ سے ایسے بھی بچے ہیں جنہوں نے دو سال سے دودھ نہیں پیا، کسی نے 6 ماہ سے انڈا نہیں کھایا اور کچھ بچے تو بغیر ناشتہ کیے سکول چلے جاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مفت ناشتہ سکیم کو صرف کراچی نہیں اندرون سندھ میں بھی شروع کریں گے۔ اس پر ایک ویب سائٹ بھی لانچ کی جائے گی۔ جو اسکول خود کو ہمارے پاس رجسٹریشن کرائیں گے۔چیئرمین ایم کیو ایم اور وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول نے کہا کہ تعلیم کا معیار یہ ہے کہ ڈھائی کروڑ سے تین کروڑ بچے تعلیم نہیں حاصل کر پا رہے اور یہ تعداد دنیا کی ڈیڑھ سو ممالک کی مجموعی آبادی سے زیادہ ہے۔
-

چینی کے ذخائر اور برآمد کا جائزہ لینےکے لیے شوگر ایڈوائزری بورڈ کا اجلاس کل طلب
چینی کے ذخائر اور برآمد کا جائزہ لینےکے لیے شوگر ایڈوائزری بورڈ کا اجلاس کل لاہور میں طلب کرلیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں پاکستان شوگرملز ایسوسی ایشن کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے، اجلاس میں شوگر ملز مالکان ملک سے چینی برآمد کا معاملہ اٹھائیں گے۔وزیراعظم نےحال ہی میں چینی کی برآمدکا جائزہ لینے کےاحکامات جاری کیے تھے اور کہا تھا کہ مقامی ضروریات پوری ہونےکی شرط پر چینی ایکسپورٹ پرغورکیا جائے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی تھی کہ چینی کی برآمد پر غورکرتے وقت چینی کی قیمت میں اضافہ نہ ہونےکویقینی بنانا ہوگا۔گزشتہ ماہ شوگر ایڈوائزری بورڈ کے دو اجلاسوں میں چینی برآمد کا فیصلہ نہیں ہوسکا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ شوگر ملز مالکان نے15 لاکھ میٹرک ٹن چینی کی برآمد کا مطالبہ کر رکھا ہے، شوگر ملز مالکان نے پہلے مرحلے میں 5 لاکھ ٹن چینی کی برآمد کے لیے اجازت مانگی ہے۔
-

تربیلہ سے ایک بٹن بند کردیا تو آدھے پاکستان کی بجلی بند ہوجائے گی۔وزیر اعلی کے پی
صوابی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ تربیلہ سے ایک بٹن بند کردیا تو آدھے پاکستان کی بجلی بند ہوجائے گی۔ خیبر پختونخوا میں 22 گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ برداشت نہیں کریں گے۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کل وفاق کا شکریہ ادا کیا اور آج دھمکی لگادی اور کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے جب جیل سے کال دی تو ان کیساتھ وہ کھیل کھیلیں گے کہ ان کی نسلیں یاد رکھیں گی۔انکا کہنا تھا کہ نوکریوں کے علاوہ لوگوں کو روزگار دینگے، کاروبار شروع کرنے کے لیے بلاسود قرضے دینگے۔
علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں ہمارے لیے قید ہیں، بانی پی ٹی آئی کے خلاف جو کیسز ہیں وہ سارے جعلی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگ بانی پی ٹی آئی کی طاقت ہو۔ عوام نے آج خوف کے بت توڑ دیے ہیں۔ حق کے لیے بانی پی ٹی آئی اور میرے ساتھ نکلو گے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ آپ لوگ وعدہ کریں رشوت ختم کرنے میں میرا ساتھ دیں گے۔ جس گاڑی میں آیا ہوں وہ عوام کی ٹیکس سے چلتی ہے۔انکا کہنا تھا کہ ایکسین صاحب دوبارہ یہاں آؤں تو روڈ پر گڑھا نظر نہیں آنا چاہیے، یہاں منشیات فروش مجھے نظر نہیں آنا چاہیے، منشیات فروشوں کو یہاں سے نکالو۔ عوام منشیات فروشوں کی نشاندہی کریں۔
انکا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی وزیراعظم ہوتا تو اسرائیل کی ہمت نہ ہوتی کہ فلسطین پر حملہ کرتا۔ آج مجھے بانی پی ٹی آئی نے وزیراعلیٰ بنایا ہے۔ ہم لوگ فارم 45 والے ہیں، فارم 47 والے کی آنکھیں شرم سے جھک رہی ہیں۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے صوابی کا دورہ کیا جہاں پیہور ہائی لیول کینال ایکسٹینشن پراجیکٹ کے لاٹ ون کا افتتاح کیا۔لاٹ ون مجموعی طور پر ایک ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے، منصوبہ 15.6 ارب روپے کی لاگت سے 3 لاٹس اور 4 پیکجز میں مکمل کیا جائے گا۔ منصوبے کی ابتدائی کمانڈ ایریا 30 ہزار ایکڑ ہے، مزید 8 ہزار سے زائد ایکڑز کا اضافہ کیا جائے گا۔
