پاک بحریہ کی جانب سے سمندر میں کارروائی کرتے ہوئےمنشیات سمگلنگ کی بڑی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر ) کے مطابق پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس اصلت نے ریجنل میری ٹائم سیکیورٹی پٹرولنگ کے دوران شمالی بحیرہ عرب میں بڑی مقدار میں منشیات ضبط کی،منشیات کی بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمت ہزاروں ڈالرز ہے،منشیات سمگلنگ کے خلاف کامیاب آپریشن پاک بحریہ کی سمندر میں مؤثر نگرانی کا نتیجہ ہے، پاک بحریہ کے بحری جنگی جہاز ریجنل میری ٹائم سیکیورٹی پٹرول پر سمندر میں منشیات اسمگلنگ، بحری قزاقی اور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے باقاعدگی سے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔
Author: صدف ابرار
-

دستک ایپ نے گلوبل ایپس میں جگہ بنالی، بیر سٹر سیف
مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ دستک ایپ نے گلوبل ایپس میں جگہ بنالی ہے۔پبلک سروس ڈیلیوری میں بین الاقوامی سطح پر خیبر پختونخوا نے بڑی کامیابی حاصل کرلی۔ صوبائی محکمہ داخلہ کی ایپ دستک کی بین الاقوامی سطح پذیرائی ہوگئی۔بیرسٹر سیف نے مزید کہا کہ دستک ایپ نے گلوبل ایپس میں جگہ بنالی، یہ خیبر پختونخوا کی واحد ایپ ہے، جو پورے پاکستان سے مقابلے میں شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ مقابلے میں بھارت، انڈونیشیا، ملائیشیا، پیرو اور بنگلادیش مقابلے کا حصہ تھے۔ پاکستان سٹیزن پورٹل کے بعد بین الاقوامی سطح پر یہ دوسری بڑی کامیابی ہے۔مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا نے یہ بھی کہا کہ بین الاقوامی ایپ مقابلے کے ٹاپ ٹین ملکوں میں دستک ایپ کا شامل ہونا اعزاز کی بات ہے۔
-

نوازشریف کو مسلم لیگ (ن) کی صدارت دوبارہ ملنا عوام کی خدمت کا صلہ ہے۔ شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آج نواز شریف سرخرو ہوگیا، مخالفین کے منہ کالے ہوگئے۔لاہور میں ن لیگ کے جنرل کونسل اجلاس سے خطاب میں شہباز شریف نے کہا کہ جو امانت مجھے دی گئی تھی، وہ آج واپس نواز شریف کے سپرد کردی ہے۔انہوں نے کہا کہ دوبارہ وہی پاکستان بنائیں گے جو 2017ء میں نواز شریف نے چھوڑا تھا، ملک کو بانی پی ٹی آئی کی سازش سے بچائیں گے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ 2018 میں نواز شریف جیتا ہوا تھا مگر اسے ہروایا گیا اور بانی پی ٹی آئی کو جتوایا گیا، 190 ملین پاؤنڈ نواز شریف نے نہیں بانی پی ٹی آئی نے چرائے تھے۔
شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ آج بانی پی ٹی آئی کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے آگیا ہے، آج بانی پی ٹی آئی فوج اور ملک کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ آج نواز شریف سرخرو ہوگئے مخالفین کے منہ کالے ہوگئے۔ ہم افواج پاکستان کے افسروں کے خاندانوں کو سرباز رسوا کرنے نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا کہ آج مشورے ہو رہے ہیں کہ کسی طرح بانی پی ٹی آئی کی ضمانت ہوجائے، جیل سے باہر آنے کےلیے بانی پی ٹی آئی کی سازشیں ناکام ہوں گی۔وزیراعظم نے کہا کہ ججوں کی اکثریت پاکستانی سوچ رکھتی ہے، پاکستان کی ترقی چاہتی ہے۔ -

مجھے ہمیشہ کیلئے فارغ کرنے والے سن لیں، ،آج پھر نواز شریف آپ کے سامنے کھڑا ہے۔ صدر پی ایم ایل این نواز شریف
نواز شریف مسلم لیگ ن کے بلامقابلہ صدر منتخب ہوگئے ،جنرل کونسل اجلاس نے توثیق کر دی۔وزیراعظم شہباز شریف نے پارٹی صدر منتخب ہونے پر نواز شریف کو گلے لگا کر مبارکباد دی،مسلم لیگ ن کے رہنماؤں اور کارکنوں نے بھی صدر مسلم لیگ ن نوازشریف کو مبارکباد پیش کی۔بعد ازاں جنرل کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ثاقب نثار نے زندگی بھر کیلئے مجھے پارٹی صدارت سے ہٹا دیا تھا ،یہ لوگ مجھے پارٹی صدارت پر واپس لے آئے ہیں انہیں خوشی منانے دیں ۔
مسلم لیگ ن کے صدر نوازشریف نے کہا کہ عوام نے آج ثاقب نثار کا فیصلہ ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا۔مسلم لیگ ن کے صدر نے جنرل کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ثاقب نثار نے مجھے زندگی بھر کے لئے صدارت سے ہٹا دیا تھا، یہ لوگ مجھے واپس لیکر آئے ہیں تو خاموش کیوں بیٹھیں، آپ نے میرے صدر بننے پر خوشی نہیں منانی، ثاقب نثار کا فیصلہ ردی کی ٹوکری میں ڈالنے پرخوشی منانی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ انہیں بلائیں آج جنہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ نواز شریف کو ہمیشہ کےلیے فارغ کیا جاتا ہے انہیں کارکنوں کا فیصلہ دکھائیں۔ آج نواز شریف پھر آپکے سامنے کھڑا ہے۔ نوازشریف نے کہا کہ مجھے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر صدارت سے ہٹایا گیا، بھئی! بیٹے سے تنخواہ نہیں لی تمہارے بیٹے سے تو تنخواہ نہیں مانگی تھی، آج کئی برسوں بعد ملاقات ہو رہی ہے، مجھے کارکنوں پر بہت فخر ہے، آندھی، برسات، گرمی، سردی آئی کارکنوں نے پرواہ نہیں کی، کارکنوں نے (ن) لیگ کا جھنڈا تھامے رکھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آفرین ہے شہبازشریف ڈولے نہیں نہ جھکے، کھڑے رہے، مجھے شہبازشریف پر ناز ہے، شہبازشریف نے ذمہ داری پھر میرے کندھوں پر ڈالی ہے، شہبازشریف کو کہا گیا تھا آپ نوازشریف کو چھوڑیں اور وزیراعظم بنیں، شہبازشریف نے انکار کیا اور بیووفائی نہیں کی۔مسلم لیگ ن کے صدر نے کہا کہ شہبازشریف کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں، بہت اتار چڑھاؤ آئے مگر شہبازشریف استحکام کے ساتھ کھڑے رہے، شہبازشریف پارٹی کے امتحان پر پورا اترے، بہت سارے لوگوں نے ہمارے رشتے میں دراڑیں ڈالنے کی کوشش کی۔نوازشریف نے کہا کہ وفا کے جرم میں شہبازشریف جیل تک گئے اُف تک نہیں کی، ہمارا رشتہ قائم و دائم اور پہلے سے زیادہ مضبوط رہے گا، مریم نواز نے بھی کڑے وقت میں پارٹی کو متحرک رکھا، مریم نواز بھی ہر امتحان میں پورا اتریں۔
صدر مسلم لیگ ن کے مزید کہنا تھا کہ جیل میں میرے سامنے مریم نواز کو ہتھکڑی لگائی گئی، حمزہ شہبازنے بھی جواں مردی کے ساتھ جیل کاٹی، حمزہ شہباز نے بھی کبھی اُف تک نہیں کی، سب سے زیادہ مبارکباد کے مستحق کارکن ہیں۔ان کا کہناتھا کہ رانا ثنا اللہ، خواجہ سعد رفیق، حنیف عباسی، اسحاق ڈار، احسن اقبال، خواجہ آصف اور ہمارے دوست شاہد خاقان عباسی نے بھی مصیبتیں برداشت کیں، کبھی اُف تک نہیں کی۔نوازشریف نے مزید کہا کہ جب بھی (ن) لیگ کی حکومت آئی ہم نے ملک کی تقدیر بدلی، اگر ہماری حکومتوں میں خلل نہ آتا تو پاکستان اس خطے کی بہت بڑی طاقت ہوتا، بدقسمتی سے ٹانگیں کھینچنے کا سلسلہ 1947ء سے لیکر آج تک جاری ہے، افسوس اس سلسلے نے پاکستان کو بہت کمزور کیا۔
صدر ن لیگ کا کہنا تھا کہ مان لینا چاہئے ہم نے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑیاں ماری ہیں، 1990ء میں جب وزیراعظم بنا بیچ میں ٹانگیں کھینچنے والے نہ ہوتے تو آج پاکستان میں غربت، بے روزگاری نام کی کوئی چیز نہ ہوتی، میرے دورمیں ڈالر 104 روپے کا تھا، میں آج کے دور کی نہیں اپنے دور کی بات کروں گا نوازشریف کا کہنا تھا کہ 2017ء میں جو کچھ ہوا قوم کو پتہ چلنا چاہئے، میرے دورمیں آٹا 35 روپے کلو تھا، روٹی 4 روپے، چینی 50 روپے، پٹرول 65 روپے لٹر تھا، سونا فی تولا 50 ہزار روپے کا تھا، سبزیاں10،10 روپے کلو ملتی تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف ہمارے دور میں اس وقت کوئی کشکول نہیں تھا، ہم نے اس وقت سب کچھ اپنے وسائل سے کام کئے تھے، ہماری حکومت نے کراچی کا امن بحال کیا تھا، 1947ء سے لیکر 2024ء تک کسی نے کوئی موٹروے بنائی تو دکھائے۔ -

آئی پی ایل 2024 فائنل: کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے سن رائزرز حیدرآباد کو شکست دے کر تیسری بار ٹرافی جیت لی
چنئی میں انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2024 کے فائنل میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے سن رائزرز حیدرآباد کو آٹھ وکٹوں سے شکست دے دی ہے۔کولکتہ نے حیدرآباد کو آئی پی ایل کے فائنل میں سب سے کم مجموعے پر آؤٹ کیا، صرف 113، آسٹریلیا کے بائیں ہاتھ کے تیز اسٹارک نے 2-14 کے اعداد و شمار کی واپسی کی۔اسٹارک نے آئی پی ایل کا اختتام دو شاندار پرفارمنس کے ساتھ کیا، جس میں انہی مخالفین کے خلاف پہلے کوالیفائر میں 3-34 سے میچ جیتنا بھی شامل ہے۔ کولکتہ کے بلے بازوں کو تھوڑی دشواری کا سامنا کرنا پڑا، اور سنیل نارائن کی جلد روانگی کے باوجود، رحمن اللہ گرباز، جنہوں نے 39 رنز بنائے، اور وینکٹیش آئیر، 52 رنز بنا کر ناقابل شکست، 91 کی شراکت کے بعد 9.3 اوورز کے ساتھ ٹیم کو گھر پہنچا دیا۔بائیں ہاتھ کے بلے باز آئیر نے 24 گیندوں میں اپنے 50 رنز تک پہنچائے اور کولکتہ کے لیے جشن منانے کے لیے فاتحانہ رنز بنائے۔کپتان شریاس آئر چھ رنز پر ناقابل شکست رہے۔اس نے 2012 میں اپنی ابتدائی فتح کے بعد، اس مقام پر کولکتہ کی دوسری ٹائٹل جیت کا نشان لگایا۔
اس سے قبل، حیدرآباد کے کپتان پیٹ کمنز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا انتخاب کیا، اس سال کے ایڈیشن میں آئی پی ایل کے ریکارڈ 277 اور 287 کے مجموعی اسکور کو حاصل کرنے کے بعد، زیادہ اسکور کرنے میں اپنی ٹیم کی طاقت پر بھروسہ کیا۔تاہم، سٹارک نے اپنے پہلے ہی اوور میں وکٹ حاصل کر کے اسپاٹ لائٹ کو چرایا، فارم میں موجود ہندوستانی بلے باز ابھیشیک شرما کو ایک ایسی ڈلیوری کے ساتھ دو رنز پر آؤٹ کر دیا جو درمیان میں لگی اور آف سٹمپ کے اوپری حصے کو کلپ کر گئی۔ٹریوس ہیڈ نے بھی اس کی پیروی کی، تین میچوں میں اپنی دوسری صفر پر روانہ ہوئے، فاسٹ باؤلر ویبھو اروڑہ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ اسٹارک نے ایک بار پھر حملہ کیا، سات اوورز کے اندر 47-4 پر اپوزیشن کے ٹاپ آرڈر کو بے ترتیبی میں ڈال دیا۔آندرے رسل نے ایڈن مارکرم کو 20 رنز پر آؤٹ کیا اور ساتھی جنوبی افریقی ہینرک کلاسن 16 رنز بنا کر وکٹیں گرتی رہیں۔کمنز، جنہیں سٹارک نے 10 کے سکور پر ڈراپ کر دیا، ٹیم کو 100 کے اسکور سے آگے بڑھایا، اس سے پہلے رسل نے 24 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جنہوں نے 3-19 کے اسکور کے ساتھ اختتام کیا۔ -

کے پی حکومت نے ماضی میں کتنا قرضہ لیا ؟
سرکاری دستاویزکے مطابق پی ٹی آئی کے سابق وزیر اعلیٰ محمودخان کے دور میں ریکارڈ 405 ارب سے زائدکا قرضہ لیا گیا، محمود خان دور سے قبل سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے دور میں بھی خیبرپختونخوا پر 200 ارب روپے سے زائد کا قرضہ تھا۔ دستاویزات کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ محمود خان کے ساڑھے 4 سالہ دور حکومت کے دوران قرضوں کا حجم 200 ارب سے بڑھ کر 632 ارب 44 کروڑ تک پہنچ گیا تھا۔ دستاویز کے مطابق سال 20-2019 میں 265 ارب 36کروڑ، 21-2020 میں قرضہ 295 ارب 96 کروڑ روپے ہوگیا، سال 22-2021 میں قرضہ 363 ارب 80 کروڑ روپے جبکہ 23-2022 میں قرض کر 530 ارب 72 کروڑ ہوگیا۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق 24-2023 میں خیبرپختونخوا پر قرضہ میں بڑھ کر 632 ارب 448 کروڑ تک پہنچ گیا۔ خیبرپختونخوا حکومت آئندہ مالی سال کے دوران مزید 123 ارب روپے قرضہ لےگی۔
-

انڈونیشیا کے ملک ،پاپوا نیو گنی میں لینڈ سلائیڈنگ، 600 سے زائد ہلاکتوں کا خدشہ
انڈونیشیا کے مشرق میں واقع ملک پاپوا نیو گنی میں لینڈ سلائیڈنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔ دارالحکومت پورٹ مورسبی سے یو این مہاجرین ایجنسی کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ سے 670 افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔ اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے مہاجرین کے مطابق جنوب مغربی بحرالکاہل میں واقع ملک میں لینڈ سلائیڈنگ سے 150 مکانات ملبے تلے دبے ہیں۔ ملبے تلے دبے 5 لاشیں نکالی گئی ہیں، 20 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی مہاجرین ایجنسی کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ سے 1200سے زائد افراد بےگھر ہوگئے ہیں۔ خبر ایجنسی کے مطابق تباہ کن لینڈ سلائیڈنگ سے پہاڑی گاؤں مکمل تباہ ہوگیا۔ خبر ایجنسی کے مطابق دشوار گزار پہاڑی راستوں کے باعث امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق پاپوا نیو گنی کے صوبے اینگا میں لینڈ سلائیڈنگ کا واقعہ جمعہ کی رات پیش آیا تھا۔
-

پی ٹی آئی اور فضل الرحمان شاید اکٹھے ہو جائیں لیکن علی امین اور مولانا اکٹھے نہیں ہوسکتے۔ فیصل کریم کنڈی
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ کہ مولانا فضل الرحمان اور پی ٹی آئی کا اکٹھا ہونا سیاسی قیامت کی نشانی ہوگی، اب دیکھا جائے گا کہ کیسے ایک یہودی ایجنٹ کو مسلمان ثابت کیا جاتا ہے اور کچھ لوگ کیسے مولانا کو حضرت مولانا فضل الرحمان کہہ کر پکارتے ہیں۔ فیصل کریم کنڈی نے کہاکہ پی ٹی آئی اور فضل الرحمان شاید اکٹھے ہو جائیں لیکن علی امین گنڈاپور اور مولانا اکٹھے نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان سے پاکستان کے خلاف دہشتگردی ہورہی ہے، خیبرپختونخوا میں امن امان کی صورتحال درست نہیں، حکومت کو فوری فیصلہ کرنا ہوگا کہ دہشتگردوں کے خلاف ایکشن لینا ہے یا مذاکرات کرنے ہیں۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مذاکرات بندوق کی نوک پر نہیں ہوسکتے، جو شخص پاکستان کے آئین اور قانون کو نہیں مانتا اس کے ساتھ کیا مذاکرات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں تمام سیاسی جماعتوں کو لے کر خیبرپختونخوا کا مقدمہ وفاق میں لڑوں گا، وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور جو کررہے ہیں یہ سب سے آخر میں کرنے والا اقدام ہوتا ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہاکہ وزیراعلیٰ گورنر ہاؤس آئیں تو میں ان کی اچھی ضیافت کروں گا یا پھر مجھے اپنے پاس بلا لیں، جانے کے لیے تیار ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ ہماری وجہ سے صوبے کے عوام متاثر ہوں۔انہوں نے کہاکہ صوبے کے حقوق کے لیے وفاق سے بات کرنے کے لیے مختلف فورمز موجود ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم اسی لیے کہتے ہیں سیاست میں اتنی گنجائش ضرور رکھنی چاہیے کہ دوبارہ اگر آمنا سامنا ہوتو کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔گورنر نے کہاکہ ریاست کو فاٹا کے انضمام کو بہت سنجیدگی سے دیکھنا پڑے گا، فاٹا انضمام کا فیصلہ واپس لینے کی آوازیں اس لیے اٹھ رہی ہیں کہ وہاں کے لوگوں سے جو وعدے کیے گئے تھے وہ پورے نہیں ہوئے۔انہوں نے کہاکہ اگر ریاست نے فاٹا کے لوگوں سے 10 سال تک ٹیکس نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے اور اب ٹیکس لینے کی بات ہورہی ہے تو میں عوام کے ساتھ کھڑا ہوں گا۔فیصل کریم کنڈی نے کہاکہ پیپلزپارٹی سی ای سی کے فیصلے کے مطابق وفاقی کابینہ کا حصہ نہ بننے کے اپنے موقف پر قائم ہے، مستقبل میں اگر ایسا کوئی فیصلہ ہوتا ہے وہ بھی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی ہی کرے گی۔ -

کوٹ ادو: ٹرک اور مسافر وین کے درمیان تصادم، 11 مسافر جاں بحق جبکہ 15 شدید زخمی
کوٹ ادو میں ٹرک اور مسافر وین کے درمیان تصادم کے نتیجے میں 11 مسافر جاں بحق جبکہ 15 شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ ٹریفک کا افسوسناک حادثہ کوٹ ادو کے علاقے چوک سرور شہید محمد والا کے قریب پیش آیا جہاں تیز رفتار مسافر وین سامنے سے آنے والے ٹرک سے ٹکرا گئی، تصادم اس قدر شدید تھا کہ وین کا اگلا حصہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا، حادثے کے نتیجے میں 11 افراد موقع پر دم توڑ گئے جبکہ 15 شدید زخمی ہوئے ہیں۔حادثے کے بعد ریسکیو ٹیم موقع پر پہنچ گئی، لاشوں اور زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کر دیا جہاں زخمی ہونے والوں کو طبی امداد دی جا رہی ہے، جاں بحق ہونے والوں میں 3 خواتین اور 3 بچے شامل ہیں، وین میں سوار افراد کا تعلق ملتان کی بستی لاڑ سے تھا اور وہ اپنے رشہ داروں کو ملنے بھکر جا رہے تھے، پولیس نے حادثے کی تفتیش شروع کر دی۔
-

ایم کیو ایم اور مہاجروں نے سندھ کو جوڑنے کے لئے بہت قربانیاں دی ، خالد مقبول صدیقی
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان کے نظام انصاف پر یہ دن بہت بڑا سوال ہے، 26 اور 27 مئی 1990ء سے 2 سال پہلے 30 ستمبر کو بھی سینکڑوں لاشے اٹھائے گئے، شناخت معلوم کرکے انہیں نشانہ لگایا گیا، 30
ستمبر کا واقعہ اس لئے کیا گیا کہ ایم کیو ایم کے عروج اور بلدیاتی الیکشن میں مکمل کامیابی کے بعد پہلا انتخاب آرہا تھا۔
چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہم اپنے حصے کی قربانی دے چکے، اب کسی اور کے قربانی دینے کی باری ہے۔چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان خالد مقبول صدیقی نے دعائیہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج سے 34 سال پہلے اسی پکا قلعہ کو محاصرہ کرکے دشمن فوج کی طرح مورچہ زن کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ 30 ستمبر کا واقعہ آج بھی پاکستان کے اندر یکجہتی، مضبوطی اور غیرت پر سوال اٹھاتا ہوا گزر رہا ہے، آج کا دن گواہی دے رہا ہے کہ ایم کیو ایم اور مہاجروں نے سندھ کو جوڑنے کے لئے اپنے حصے سے زیادہ قربانی دی۔چیئرمین ایم کیو ایم نے مزید کہا کہ یہ وہی پیپلزپارٹی تھی جس نے موقع ملتے ہی مشرقی پاکستان کو تقسیم کرنے کے لئے سیاسی مہر لگائی، بے نظیر بھٹو کبھی وزیراعظم بن ہی نہیں سکتی تھیں، 88ء میں ہم نے حکومت بنوائی، 90ء میں آپ نے اس علاقے کو زیر تسلط کیا۔خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ پولیس کے ذریعے مورچہ بندی کی گئی، محاصرہ کیا گیا، وہ ہجرت کرنے والی مائیں سینوں پر قرآن رکھ کر امن کا پیغام لے کر نکلی تھیں، ان کے سینوں میں گولیاں اتاری گئیں۔
