Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • وزیر اعظم شہباز شریف کا  ناروے ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ

    وزیر اعظم شہباز شریف کا ناروے ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ

    وزیراعظم شہبازشریف نے ناروے کے وزیر اعظم جونس گیہرسٹور سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے ناروے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا جبکہ شہبازشریف نے اپنے ناروے کے ہم منصب کودورہ پاکستان کی دعوت بھی دی۔
    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہاہےکہ ناروے ،سپین اور آئر لینڈ کافلسطین کو تسلیم کرنے کا فیصلہ دیگر ممالک کو پیروی کی ترغیب دے گا ۔ عوامی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پیغام میں ناروے کے وزیراعظم سے ٹیلیفونک گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نےکہاکہ اسرائیلی فوجی جارحیت کے تناظر میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا ناروے کا فیصلہ قابل تعریف ہے۔ گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے عالمی عدالت انصاف کے حالیہ فیصلے کاخیر مقدم کیا اور کہاکہ عدالتی فیصلے میں اسرائیل کو غزہ اور رفح میں گھناؤنے اقدامات روکنے کا حکم دیا گیاہے ۔ انہوں نےکہاکہ مشرق وسطیٰ میں دیر پا امن کیلئے اقوام متحدہ کی حمایت میں 2 ریاستی حل بہترین راستہ ہے۔محمد شہباز شریف نے امید ظاہر کی کہ عالمی برادری بے گناہ کشمیریوں کی حالت زار پر بھی اسی طرح توجہ دے گی جو 76 سال سے بھارت کے وحشیانہ تسلط اور جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہاکہ ناروے کے وزیراعظم جونس گار ستورا سے دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر بھی بات ہوئی۔ محمد شہباز شریف نےکہاکہ ناروے میں مقیم پاکستانیوں کی تعریف کرنے پر ناروے کے وزیر اعظم کا مشکور ہوں۔اس موقع پر وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ناروے کے وزیر اعظم کو پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی ۔

  • سگریٹ کی کم قیمتیں بچوں اور نوجوانوں کی سگریٹ نوشی شروع کرنے کی بڑی وجہ ہیں، مرتضی سولنگی

    سگریٹ کی کم قیمتیں بچوں اور نوجوانوں کی سگریٹ نوشی شروع کرنے کی بڑی وجہ ہیں، مرتضی سولنگی

    بچوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ(سپارک) کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق نگران وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مرتضی سولنگی نے کہا ، کہ تمباکو کی وبا کے خاتمے کیلئے صحت عامہ کی مداخلت، مضبوط تمباکو کنٹرول پالیسی اور آگاہی مہم جیسی جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے، سگریٹ کی کم قیمتیں بچوں اور نوجوانوں کی سگریٹ نوشی شروع کرنے کی بڑی وجہ ہیں۔ پاکستان تمباکو نوشی سے متعلق بیماریوں سے ہونے والے معاشی نقصانات کو کم کر سکتا ہے۔ سپارک کی جانب سے اس پالیسی ڈائیلاگ کا انعقاد پاکستان کی معیشت میں تمباکو کی صنعت کے کردار اور تمباکو کے استعمال کی وجہ سے صحت پر پڑنے والے بوجھ کو اجاگر کرنے کے لیے تمباکو پر ٹیکس لگانے کے حوالے سے کیا گیا تھا۔
    پاکستان کے سابق نگراں وزیر اطلاعات و نشریات مرتضی سولنگی نے مالی سال 25-2024 کے لیے تمباکو پر ٹیکس میں فوری اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ سگریٹ کی کم قیمتیں بچوں اور نوجوانوں کی سگریٹ نوشی شروع کرنے کی بڑی وجہ ہیں، تمباکو نوشی کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور اموات کے باعث ہر سال پاکستان کے جی ڈی پی میں کافی زیادہ معاشی بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ صحت کی لاگت کے یہ بڑھتے ہوئے بوجھ سے صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات، بیماری اور قبل از وقت موت کی وجہ سے پیداوری کے نقصانات کے ساتھ ساتھ دیگر بالواسطہ معاشی اثرات شامل ہیں۔ تمباکو کے استعمال کو روکنے سے پاکستان تمباکو نوشی سے متعلق بیماریوں سے ہونے والے معاشی نقصانات اور صحت کی دیکھ بھال کے نظام پر پڑنے والے بوجھ کو ممکنہ طور پر کم کر سکتا ہے اور نوجوانوں کو تمباکو کے استعمال کے نقصانات سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔
    کمپین فار ٹوبیکو فری کڈز کے کنٹری ہیڈ ملک عمران احمد نے تفصیل سے بتایا کہ تمباکو پر حالیہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے متعلق اصلاحات سے ریونیو وصولی کے حوالے سے امید افزا نتائج سامنے آئے ہیں ۔ جولائی 2023 سے جنوری 2024 تک کی وصولیاں 122 ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہیں، جو کہ پورے سال کے تخمینوں کے ساتھ دو سو ارب روپے سے زیادہ ہے، جو پچھلے مالی سالوں کے مقابلے میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ مزید برآں ان اصلاحات سے مالی سال 24-2023 کے لیے سگریٹ پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی )کی مد میں 60 ارب روپے اضافی حاصل ہونے کی توقع ہے۔ ایف ای ڈی اور جی ایس ٹی کے مشترکہ اثرات کا تخمینہ لگ بھگ 88 ارب روپے ہے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں تقریبا 49 فیصد کی غیر معمولی نمو کو ظاہر کرتا ہے۔ملک عمران نے مزید کہا کہ مالی فوائد کے علاوہ یہ اصلاحات تمباکو کے استعمال کو کم کرکے اور پاکستان میں تمباکو نوشی سے منسلک صحت کی دیکھ بھال کے کل اخراجات کے 17.8 فیصد کی ممکنہ وصولی کے ذریعے صحت عامہ کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ جس سے محصولات میں اضافہ اور صحت عامہ کی حفاظت کے ذریعے حکومت اور پاکستان کے عوام دونوں کو فائدہ ہوتا ہے۔
    پروفیسر ڈاکٹر مطیع الرحمان، ڈین الائیڈ ہیلتھ کیئر سائنسز، پھیپھڑوں کے امراض اور تمباکو کنٹرول، ہیلتھ سروسز اکیڈمی نے کہا کہ تمباکو سے متعلقہ بیماریاں جنہیں غیر متعدی امراض بھی کہا جاتا ہے جیسے کینسر، ذیابیطس اور دل کی بیماریاں سالانہ 160,000 سے زیادہ اموات کا باعث بنتی ہیں۔ پاکستان یہ اموات نہ صرف افراد کو متاثر کرتی ہیں بلکہ خاندانوں، برادریوں اور صحت کی دیکھ بھال کے نظام پر بھی طویل مدتی اثرات مرتب کرتی ہیں۔

  • پاکستان کرکٹ ٹیم  برمنگھم سے کارڈف پہنچ گئی

    پاکستان کرکٹ ٹیم برمنگھم سے کارڈف پہنچ گئی

    پاکستان کرکٹ ٹیم برمنگھم سے کارڈف پہنچ گئی ہے۔ ٹیم پیر کی صبح ساڑھے نو بجے سے دوپہر ساڑھے بارہ بجے تک پریکٹس کرے گی۔ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان چار میچوں کی سیریز کا تیسرا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل منگل کو کارڈف میں کھیلا جائے گا۔ انگلینڈ کو اسوقت سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل ہے۔واضح رہے کہ سیریز کا پہلا میچ بارش کی نذر ہوگیا تھا جبکہ برمنگھم میں ہونے والے میچ میں انگلینڈ نے پاکستان کو 23 رنز سے شکست دے دی تھی۔

  • تاجروں کے لئےبند کمرے میں بنائی گئی پالیسی نا قا بل قبول ہو گی،صدر کراچی تاجر اتحاد عتیق میر

    تاجروں کے لئےبند کمرے میں بنائی گئی پالیسی نا قا بل قبول ہو گی،صدر کراچی تاجر اتحاد عتیق میر

    صدر کراچی تاجر اتحاد عتیق میر نے کہا ہے کہ فکسڈ ٹیکس پر رضا مند ہونے کےلیے تیار ہیں مگر پہلے بات کی جائے۔ بند کمرے میں بنائی گئی پالیسی نہیں چلتی۔ان کا کہنا تھا کہ حکومتی سطح پر پالیسی پر عملدرآمد ہی نہیں ہوتا، نچلی سطح پر تاجروں کے پاس جایا جائے، ٹیکس دینے والوں کے مسائل کو حل کرنے کی بھی ضرورت ہے۔عتیق میر نے یہ بھی کہا کہ بڑی جگہ پر قائم دکان کا مطلب بڑا کاروبار نہیں ہوتا، تاجروں سے کہتا ہوں کہ فائلر بننے میں فائدہ ہے، ڈرا دھمکا کر ٹیکس نیٹ وسیع نہیں کیا جاسکتا۔ عتیق میر نے کہا کہ اگر ٹیکس دیا بھی تو وہ قرضوں پر سود کی ادائیگی اور حکمرانوں کی عیاشی میں جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے ٹیکس لینے کی سنجیدہ کوشش کی جائے، جنہوں نے ٹیکس لینا ہے وہ آئی ایم ایف کی شرائط لے کر آجاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کاروبار چلانا اس وقت مشکل ترین ہے، مارکیٹ میں کساد بازاری ہے، بجلی بل بڑا خرچہ ہے، ان حالات کو کون درست کرے گا؟صدر کراچی تاجر اتحاد نے کہا کہ اسکیمیں بنانے کےلیے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جاتی ہے، مشاورت کے بغیر کوئی اسکیم لائی جائے گی تو ناکام ہوگی۔

  • بجلی کنکشن کے حصول کےلیے صارف کو انکم ٹیکس میں رجسٹرڈ ہونا چاہیے، شبر زیدی

    بجلی کنکشن کے حصول کےلیے صارف کو انکم ٹیکس میں رجسٹرڈ ہونا چاہیے، شبر زیدی

    سابق چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) شبر زیدی نے کہا ہے کہ ہمارا سیاسی نظام ملک میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں چاہتا اور حکومت ٹیکس لینے میں سنجیدہ ہی نہیں۔انہوں نے کہا کہ صرف بھارتی شہر ممبئی کا ٹیکس پورے پاکستان سے زیادہ ہے، ہمیں طویل مدتی ٹیکس پالیسی لانا ہوگی، 10 سال کی پلاننگ درکار ہے، معیشت پر سوشل معاہدہ ہونا چاہیے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کے دوران شبر زیدی نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ ٹیکس لینے کے بجائے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کو چکر دے کر پیسے پکڑ لے۔شبر زیدی نے مزید کہا کہ پاکستان میں 30 لاکھ صنعتی صارفین ہیں اور ان میں سے صرف 1 لاکھ ہی ریٹرن فائل کرتے ہیں۔
    ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں پراپرٹی ٹیکس کیوں نہیں لگ رہا؟ کسی بھی صوبائی حکومت نے پراپرٹی ٹیکس کا سروے نہیں کروایا۔سابق چیئرمین ایف بی آر نے یہ بھی کہا کہ صوبائی حکومتوں نے آخری پراپرٹی سروے کب کیا ہے؟ پوچھتا ہوں لاہور میں آخری پراپرٹی سروے کب ہوا ہے؟شبر زیدی نے کہا کہ کراچی منیلا جیسا ہے، منیلا نے جیو فینسنگ کروائی اور پراپرٹی ٹیکس وصول کیا گیا، بلڈرز اور ڈیولپرز کو رعایت دینی چاہیے مگر پراپرٹی ڈیلر کو کوئی رعایت نہیں ملنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے بہت سارے شعبے کے لوگوں کو پہلے ہی نچوڑا ہوا ہے، پراپرٹی کا سروے کیا جانا چاہیے، ہمارا سیاسی نظام ملک میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں چاہتا۔
    سابق چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ حکومت کے دیگر ادارے ٹیکس کلیکشن میں منفی کردار ادا کرتے ہیں، ہماری معیشت نہیں چل رہی، ٹیکس نظام کےلیے پوری قوم کو ساتھ چلنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ میں نے پوری زندگی ٹیکس پڑھا ہے، ٹیکس ایکٹ پر عمل درآمد کے بغیر ٹیکس نہیں لیا جاسکتا۔شبر زیدی نے کہا کہ تمام دکانیں صوبائی حکومت کی شاپ ایکٹ میں آتی ہیں، 90 فیصد دکانیں شاپ ایکٹ میں رجسٹر ہی نہیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دکانوں پر فکسڈ ٹیکس لگانے سے پہلے دکانوں کی شناخت اور تعین کرنا ہوگا، یہی دکاندار اسمگلڈ اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا سامان بیچ رہے ہوتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ تاجروں، صنعت کاروں کی بلیک منی کا رئیل اسٹیٹ میں جانا ایک شیطانی چکر ہے، رجسٹری اور مارکیٹ ویلیو میں فرق ہے۔
    سابق چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ بڑے تاجروں کو سیلز ٹیکس نظام میں لانا ہوگا، بڑے تاجروں پر ہاتھ ڈالا جاتا ہے تو چھوٹے تاجر شور مچانا شروع کر دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ درمیانے درجے کے دکانداروں پر ہاتھ ڈالتے ہیں تو عتیق میر چھوٹے دکانداروں کو لے کر میدان میں آجاتا ہے۔شبر زیدی نے کہا کہ بجلی کنکشن کے حصول کےلیے صارف کو انکم ٹیکس میں رجسٹرڈ ہونا چاہیے اور نہیں ہوتا ہے، اس حوالے سے لیسکو والوں نے مجھے کہا تھا کہ ہم آپ سے تعاون نہیں کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر بجلی عمر ایوب نے مجھے اپنے کسٹمرز کی تفصیل تک نہیں دی، صنعتی صارفین کو بجلی اور گیس حکومت ہی فراہم کرتی ہے اور ریکارڈ موجود ہوتا ہے۔

  • امیر کویت اور امیر قطر نے وزیر اعظم شہباز شریف  کی  دورہ پاکستان کی دعوت قبول کرلی

    امیر کویت اور امیر قطر نے وزیر اعظم شہباز شریف کی دورہ پاکستان کی دعوت قبول کرلی

    امیر کویت اور امیر قطر نے وزیر اعظم شہباز شریف کی دورہ پاکستان کی دعوت قبول کرلی۔ سفارتی محاذ پر پاکستان کی مثبت پیشرفت کا سلسلہ جاری ہے۔ امیر کویت اور امیر قطر نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی دورہء پاکستان کی دعوت کو قبول کر لیا۔وزیر اعظم محمد شہباز شریف سےپاکستان میں تعینات کویت اور قطر کے سفراء نے الگ الگ ملاقات کی۔ پاکستان میں تعینات کویت کے سفیر ناصر عبدالرحمن جاسر المطیری نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔ انہوں نے وزیراعظم کو کویت کے امیر شیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح کا ایک خط پیش کیا جس میں وزیراعظم کی طرف سے امیر کو باہمی طور پر مناسب تاریخوں پر دورہ پاکستان کی دعوت کو قبول کرنے کا پیغام دیا گیا ہے۔ خط کو وصول کرتے ہوئے وزیراعظم نے 28 اپریل 2024 کو ریاض میں ورلڈ اکنامک فورم کے خصوصی اجلاس کی سائیڈ لائینز پر امیر کویت سے ہوئی اپنی حالیہ ملاقات کا ذکر کیا ۔ وزیراعظم نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان- کویت مشترکہ وزارتی کمیشن کا اگلا اجلاس 28 سے 30 مئی 2024 کو کویت میں منعقد ہو گا۔ وزیراعظم نے امیر کویت کے آنے والے دورہء پاکستان کے حوالے سے بھرپور تیاری پر زور دیا تا کہ دورہ سے باہمی فائدہ مند نتائج کو یقینی بنایا جا سکے ۔
    وزیراعظم سے پاکستان میں تعینات قطر کے سفیر عزت مآب مبارک علی عیسیٰ الخطر نے بھی ملاقات کی۔ قطری سفیر نے وزیر اعظم کو قطر کے امیر عزت مآب شیخ تمیم بن حمد الثانی کی طرف سے ایک خط پہنچایا جس میں وزیر اعظم کی طرف سے باہمی طور پر مناسب تاریخوں پر پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت کو قبول کیا گیا تھا۔ وزیر اعظم نے قطر کے امیر عزت مآب کو تہہ دل سے تہنیتی پیغام پہنچایا۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان قطر کے ساتھ اپنے تاریخی برادرانہ تعلقات کو دل کی گہرائیوں سے قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور دونوں برادر ممالک کے درمیان باہمی فائدہ مند تعاون کو مزید گہرا کرنے کے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریقوں کو دونوں دارالحکومتوں کے درمیان وفود کے تبادلے کے ساتھ ہز ہائینس کے دورے کی تیاری شروع کرنی چاہیے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اعلیٰ سطح کا دورہ نتیجہ خیز اور کامیاب ہو اور اس کے نتائج دونوں ممالک کے لیے باہمی طور پر فائدہ مند ہوں،

  • لاہور:شاہ محمود قریشی نو مئی مقدمے میں گرفتار

    لاہور:شاہ محمود قریشی نو مئی مقدمے میں گرفتار

    لاہورپولیس نے تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو گرفتارکرلیا ۔ اڈیالہ جیل میں قید شاہ محمود قریشی کی نو مئی کے 8 مقدمات میں گرفتاری ڈالی گئی۔
    تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کو 9مئی کے 8مقدمات میں گرفتار کر لیا گیا،پولیس نے عدالت سے 3روزہ جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کرلیا۔لاہورپولیس کی خصوصی ٹیم شاہ محمود قریشی کو گرفتار کرنے اڈیالہ جیل پہنچی ۔تفتیشی ٹیم نے عدالت سےملزم شاہ محمود قریشی کو لاہورمنتقل کرنے کی اجازت مانگی۔ عدالت نے سکیورٹی خدشات کےباعث شاہ محمود قریشی کو لاہورمنتقل کرنے سے منع کردیا۔
    تفتیشی ٹیم کی استدعا پرمعزز جج نے شاہ محمود قریشی کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔ لاہورپولیس کی ٹیم نے ملزم شاہ محمود قریشی سےاڈیالہ جیل میں ہی بیان ریکارڈ کیا۔ شاہ محمود قریشی ویڈیو لنک کےذریعے انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش ہونگے۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز  پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی کارکردگی پر برہم

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی کارکردگی پر برہم

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی کارکردگی پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مارکیٹوں میں پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے نرخوں پر عملدرآمد نہیں کروایا جا رہا، شہریوں کو بازاروں میں کھانے پینے کی چیزیں سرکاری نرخ پرنہیں مل رہیں۔ذرائع کا بتانا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے نظام کو نئی شکل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع محکمہ صنعت و تجارت کا بتانا ہے کہ آئندہ صرف ایک افسر کو مہنگائی کا ذمہ دار قرار دیا جائےگا۔ذرائع کے مطابق اس وقت مارکیٹ میں پھل اور سبزیاں سرکاری قیمت سے 30 فیصد زائد قیمت پر فروخت ہو رہی ہیں، آم 145 کے بجائے 250 اور آڑو 130 کے بجائے 200 روپےکلو فروخت ہو رہا ہے۔ذرائع کے مطابق لوکاٹ 120 کے بجائے 225 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے جبکہ خربوزہ 70 کے بجائے 100، تربوز 30 کےبجائے 59 روپے کلو میں فروخت ہو رہا ہے اور لیموں 400 کی بجائے 600 روپے کلو میں فروخت کیا جا رہا ہے۔مارکیٹ ذرائع کے پھل اور سبزیوں کی قیمت میں اضافے کے اصل ذمہ دار آڑھتی اور افسر شاہی ہے۔

  • ملک پر اشرافیہ قابض ہے جس وجہ سے یہ ملک ترقی نہیں کرپایا، حافظ نعیم الحق

    ملک پر اشرافیہ قابض ہے جس وجہ سے یہ ملک ترقی نہیں کرپایا، حافظ نعیم الحق

    منصورہ میں پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کا کہ ملک میں آئین کی بالادستی بہت ضروری ہے، اگر ملک آئین کے مطابق چلے گا تو سب کیلئے بہتر ہے، جب آئین پر قبضہ کیا جاتا ہے تو ملک اور ادارے دونوں برباد ہوتے ہیں، چند لوگوں کی انا پورے ملک کو برباد کررہی ہے، عید کے فوری بعد آئین کی بالادستی کے لیے بڑی تحریک شروع کریں گے۔ ہم جانتے ہیں پاکستان مشکلات کا شکار ہے، 76 سال سے ہم مختلف غلامیوں میں مبتلا ہیں، ملک پر اشرافیہ قابض ہے جس وجہ سے یہ ملک ترقی نہیں کرپایا۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی بھی آزاد نہیں ہے، کشمیرسےمتعلق سودے بازی کے معاملات کی تحقیقات ہونی چاہیے، نوازشریف اور بھارت کا کلچرایک ہوگا ہمارا نہیں، یہ لوگ ہمیں بھارت کا غلام بنانا چاہتےہیں، بھارت سےدوستی کرنا امریکی ایجنڈا ہے، امریکی آشیرباد اور فارم 47 والے بھارت سےدوستی کی ہی بات کریں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ غزہ کا مسئلہ انسانیت کا مسئلہ ہے، فلسطین کے معاملے پر جنوبی افریقہ عالمی عدالت گیا پاکستان کیوں نہیں ؟ پاکستان کو جنوبی افریقہ کےعالمی عدالت جانے پرشرم نہیں آئی؟ مسلم لیگ(ن)،پیپلزپارٹی والے رسمی باتوں کی بجائے حماس کوتسلیم کریں، ان کو تو اسرائیل کا نام لیتےہوئےتکلیف ہوتی ہے۔امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ پاکستان کےلیےبہت اہم ہے، اس منصوبے کو مکمل ہونا چاہیے، حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے ملین ڈالرز کی گیس امپورٹ ہوتی ہے، پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل ہونے سے اربوں ڈالر بچ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لوڈشیڈنگ سےتنگ آکر لوگوں نے سولر لگائے اب یہ ظالم حکمران آئی ایم ایف کے کہنے پرٹیکس لگانے جا رہے ہیں، ہم اور یہ عوام اس جعلی حکومت کو نہیں مان سکتے، اس ظالم ٹولے کے رحم و کرم پر 25 کروڑ عوام کو نہیں چھوڑ سکتے۔حافظ نعیم الرحمان کا مزید کہنا تھا زراعت کے شعبے میں بہت کچھ ہو سکتا ہے مگر یہ لوگ نہیں کررہے، اس معاملے پر ہم بھرپور طریقے سے کام کریں گے، ہمارا ایجنڈا اس وقت انتخابی نہیں قومی اور عوامی ہے، ہم کسانوں ،مزدوروں اور نوجوانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

  • رئیل اسٹیٹ، زراعت کو مزید ٹیکس چھوٹ نہیں دے سکتے، مفتاح اسماعیل

    رئیل اسٹیٹ، زراعت کو مزید ٹیکس چھوٹ نہیں دے سکتے، مفتاح اسماعیل

    سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ رئیل اسٹیٹ اور زراعت جیسے شعبوں کو مزید ٹیکس چھوٹ نہیں دی جاسکتی۔جیو نیوز کی خصوصی ٹرانسمیشن "آخری موقع” میں اظہار خیال کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ نیشنل فنانشل کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ پر نظر ثانی کیے بغیر کوئی ریفارم کامیاب نہیں ہوگی۔ وفاق کے پاس فنڈز نہیں لیکن صوبوں میں صورتحال مختلف ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی بڑھانے کے لیے ان شعبوں پر ٹیکس لگانا ہوگا جنہیں اب تک چھوٹ دے رکھی ہے، رئیل اسٹیٹ اور زراعت جیسے شعبوں کو مزید چھوٹ نہیں دی جاسکتی، ٹیکس کسی کے زیر استعمال مکان پر نہیں ہے، اضافی جائیداد پر ہوتا ہے۔
    سابق وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ رئیل اسٹیٹ شعبے میں جائیداد کے مختلف ریٹس کو ختم کر دینا چاہیے۔ ریٹیل، زراعت اور رئیل اسٹیٹ سیکٹرز ٹیکس دینے کے موڈ میں ہی نظر نہیں آتے۔ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس کےلیے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشورہ کرنا چاہیے، صورتحال یہ ہے کہ سونے کے کاروبار سے کوئی ٹیکس حاصل نہیں کیا جاتا، تنخواہ داروں پر مزید ٹیکس کی گنجائش نہیں۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ دنیا نے ٹیکس نیٹ بڑھایا ہے، ہم بھی یہ کرسکتے ہیں، رواں مالی سال کو بھی ضائع کردیا گیا کیونکہ ٹیکس نیٹ بڑھایا جاسکتا تھا، ہم غریبوں سے جی ایس ٹی وصول کرتے ہیں لیکن امیروں سے پراپرٹی ٹیکس نہیں لے سکتے۔
    انہوں نے کہا کہ کراچی کے سوا پورے ملک کے 22 لاکھ دکانداروں میں سے صرف 30 ہزار ٹیکس دیتے ہیں۔ 2 سال پہلے میری سفارش پر ریٹیل پر ٹیکس لگتا تو آئی ایم ایف ڈکٹیٹ نہ کرتا۔سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ فکسڈ ٹیکس کا نظام لانا چاہیے، ریٹیلرز پر 3 سے 4 ہزار ٹیکس لگانا ہوگا۔ ریٹیلر سے سیلز ٹیکس نہ لیں، سیلز ٹیکس کا صنعتی سطح پر نفاذ کریں۔ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان میں 9 کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے ہیں، ایک سال میں مزید 1 کروڑ کا اضافہ ہوگا، فری میں قوم کی خدمت بھی نہیں ہوسکتی، ٹیکس تو تمام شعبوں کو دینا ہوگا۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ خسارہ کم کرنے کےلیے ٹیکس آمدن بڑھانا اور اخراجات میں کٹوتی کرنی ہوگی، خسارے کم نہیں کریں گے تو بھوک اور جہالت میں اضافہ ہوگا۔
    انہوں نے کہا کہ ٹیکس دینا کسی کواچھا نہیں لگتا، ٹیکس ٹو جی ڈی پی رواں سال 10 فیصد تک پہنچ جائے گا لیکن یہ اب بھی کم ہے، زراعت پر فکس ٹیکس ہونا چاہیے، بڑے کاشت کار سے ہم تھوڑا سا ٹیکس تو لے سکتے ہیں۔سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ پر اسٹیمپ ڈیوٹی مارکیٹ قیمت پر ہونی چاہیے، ان ڈاکیومنٹڈ پیسا پراپرٹی میں جا کر پاک ہو جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں ٹھیلے والا پولیس کو روز 100 روپے بھتا دیتا ہے، دکانداروں کو ہراساں کرنے کے بجائے اسمگلنگ کو سرحد پر روکیں۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ نان فائلرز کو گاڑیاں اور پراپرٹی خریدنے نہ دیں، دوسرے سال پاسپورٹ بنانے نہ دیں، جس دکان کو بجلی دے رہے ہیں اس سے ٹیکس لیں ورنہ بجلی کاٹ دیں۔انہوں نے کہا کہ 2 ملین ٹن گندم افغانستان اسمگل ہوجاتا ہے، گندم کا مسئلہ افغانستان اسمگل نہ ہونے کی وجہ سے ہوا، انٹرنیشنل مارکیٹ میں قیمت کم ہونے کی وجہ سے افغانستان نے پاکستان کے بجائے انٹرنیشنل مارکیٹ سے گندم خریدی ہے۔