Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • پی ٹی آئی اور فضل الرحمان شاید اکٹھے ہو جائیں لیکن علی امین  اور مولانا اکٹھے نہیں ہوسکتے۔ فیصل کریم کنڈی

    پی ٹی آئی اور فضل الرحمان شاید اکٹھے ہو جائیں لیکن علی امین اور مولانا اکٹھے نہیں ہوسکتے۔ فیصل کریم کنڈی

    گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ کہ مولانا فضل الرحمان اور پی ٹی آئی کا اکٹھا ہونا سیاسی قیامت کی نشانی ہوگی، اب دیکھا جائے گا کہ کیسے ایک یہودی ایجنٹ کو مسلمان ثابت کیا جاتا ہے اور کچھ لوگ کیسے مولانا کو حضرت مولانا فضل الرحمان کہہ کر پکارتے ہیں۔ فیصل کریم کنڈی نے کہاکہ پی ٹی آئی اور فضل الرحمان شاید اکٹھے ہو جائیں لیکن علی امین گنڈاپور اور مولانا اکٹھے نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان سے پاکستان کے خلاف دہشتگردی ہورہی ہے، خیبرپختونخوا میں امن امان کی صورتحال درست نہیں، حکومت کو فوری فیصلہ کرنا ہوگا کہ دہشتگردوں کے خلاف ایکشن لینا ہے یا مذاکرات کرنے ہیں۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مذاکرات بندوق کی نوک پر نہیں ہوسکتے، جو شخص پاکستان کے آئین اور قانون کو نہیں مانتا اس کے ساتھ کیا مذاکرات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں تمام سیاسی جماعتوں کو لے کر خیبرپختونخوا کا مقدمہ وفاق میں لڑوں گا، وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور جو کررہے ہیں یہ سب سے آخر میں کرنے والا اقدام ہوتا ہے۔
    فیصل کریم کنڈی نے کہاکہ وزیراعلیٰ گورنر ہاؤس آئیں تو میں ان کی اچھی ضیافت کروں گا یا پھر مجھے اپنے پاس بلا لیں، جانے کے لیے تیار ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ ہماری وجہ سے صوبے کے عوام متاثر ہوں۔انہوں نے کہاکہ صوبے کے حقوق کے لیے وفاق سے بات کرنے کے لیے مختلف فورمز موجود ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم اسی لیے کہتے ہیں سیاست میں اتنی گنجائش ضرور رکھنی چاہیے کہ دوبارہ اگر آمنا سامنا ہوتو کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔گورنر نے کہاکہ ریاست کو فاٹا کے انضمام کو بہت سنجیدگی سے دیکھنا پڑے گا، فاٹا انضمام کا فیصلہ واپس لینے کی آوازیں اس لیے اٹھ رہی ہیں کہ وہاں کے لوگوں سے جو وعدے کیے گئے تھے وہ پورے نہیں ہوئے۔انہوں نے کہاکہ اگر ریاست نے فاٹا کے لوگوں سے 10 سال تک ٹیکس نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے اور اب ٹیکس لینے کی بات ہورہی ہے تو میں عوام کے ساتھ کھڑا ہوں گا۔فیصل کریم کنڈی نے کہاکہ پیپلزپارٹی سی ای سی کے فیصلے کے مطابق وفاقی کابینہ کا حصہ نہ بننے کے اپنے موقف پر قائم ہے، مستقبل میں اگر ایسا کوئی فیصلہ ہوتا ہے وہ بھی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی ہی کرے گی۔

  • کوٹ ادو: ٹرک اور مسافر وین کے درمیان تصادم، 11 مسافر جاں بحق جبکہ 15 شدید زخمی

    کوٹ ادو: ٹرک اور مسافر وین کے درمیان تصادم، 11 مسافر جاں بحق جبکہ 15 شدید زخمی

    کوٹ ادو میں ٹرک اور مسافر وین کے درمیان تصادم کے نتیجے میں 11 مسافر جاں بحق جبکہ 15 شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ ٹریفک کا افسوسناک حادثہ کوٹ ادو کے علاقے چوک سرور شہید محمد والا کے قریب پیش آیا جہاں تیز رفتار مسافر وین سامنے سے آنے والے ٹرک سے ٹکرا گئی، تصادم اس قدر شدید تھا کہ وین کا اگلا حصہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا، حادثے کے نتیجے میں 11 افراد موقع پر دم توڑ گئے جبکہ 15 شدید زخمی ہوئے ہیں۔حادثے کے بعد ریسکیو ٹیم موقع پر پہنچ گئی، لاشوں اور زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کر دیا جہاں زخمی ہونے والوں کو طبی امداد دی جا رہی ہے، جاں بحق ہونے والوں میں 3 خواتین اور 3 بچے شامل ہیں، وین میں سوار افراد کا تعلق ملتان کی بستی لاڑ سے تھا اور وہ اپنے رشہ داروں کو ملنے بھکر جا رہے تھے، پولیس نے حادثے کی تفتیش شروع کر دی۔

  • ایم کیو ایم اور مہاجروں نے سندھ کو جوڑنے کے لئے بہت قربانیاں دی ، خالد مقبول صدیقی

    ایم کیو ایم اور مہاجروں نے سندھ کو جوڑنے کے لئے بہت قربانیاں دی ، خالد مقبول صدیقی

    خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان کے نظام انصاف پر یہ دن بہت بڑا سوال ہے، 26 اور 27 مئی 1990ء سے 2 سال پہلے 30 ستمبر کو بھی سینکڑوں لاشے اٹھائے گئے، شناخت معلوم کرکے انہیں نشانہ لگایا گیا، 30
    ستمبر کا واقعہ اس لئے کیا گیا کہ ایم کیو ایم کے عروج اور بلدیاتی الیکشن میں مکمل کامیابی کے بعد پہلا انتخاب آرہا تھا۔
    چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہم اپنے حصے کی قربانی دے چکے، اب کسی اور کے قربانی دینے کی باری ہے۔چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان خالد مقبول صدیقی نے دعائیہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج سے 34 سال پہلے اسی پکا قلعہ کو محاصرہ کرکے دشمن فوج کی طرح مورچہ زن کیا گیا۔
    انہوں نے کہا کہ 30 ستمبر کا واقعہ آج بھی پاکستان کے اندر یکجہتی، مضبوطی اور غیرت پر سوال اٹھاتا ہوا گزر رہا ہے، آج کا دن گواہی دے رہا ہے کہ ایم کیو ایم اور مہاجروں نے سندھ کو جوڑنے کے لئے اپنے حصے سے زیادہ قربانی دی۔چیئرمین ایم کیو ایم نے مزید کہا کہ یہ وہی پیپلزپارٹی تھی جس نے موقع ملتے ہی مشرقی پاکستان کو تقسیم کرنے کے لئے سیاسی مہر لگائی، بے نظیر بھٹو کبھی وزیراعظم بن ہی نہیں سکتی تھیں، 88ء میں ہم نے حکومت بنوائی، 90ء میں آپ نے اس علاقے کو زیر تسلط کیا۔خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ پولیس کے ذریعے مورچہ بندی کی گئی، محاصرہ کیا گیا، وہ ہجرت کرنے والی مائیں سینوں پر قرآن رکھ کر امن کا پیغام لے کر نکلی تھیں، ان کے سینوں میں گولیاں اتاری گئیں۔

  • وزیر اعظم شہباز شریف کا  ناروے ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ

    وزیر اعظم شہباز شریف کا ناروے ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ

    وزیراعظم شہبازشریف نے ناروے کے وزیر اعظم جونس گیہرسٹور سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے ناروے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا جبکہ شہبازشریف نے اپنے ناروے کے ہم منصب کودورہ پاکستان کی دعوت بھی دی۔
    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہاہےکہ ناروے ،سپین اور آئر لینڈ کافلسطین کو تسلیم کرنے کا فیصلہ دیگر ممالک کو پیروی کی ترغیب دے گا ۔ عوامی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پیغام میں ناروے کے وزیراعظم سے ٹیلیفونک گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نےکہاکہ اسرائیلی فوجی جارحیت کے تناظر میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا ناروے کا فیصلہ قابل تعریف ہے۔ گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے عالمی عدالت انصاف کے حالیہ فیصلے کاخیر مقدم کیا اور کہاکہ عدالتی فیصلے میں اسرائیل کو غزہ اور رفح میں گھناؤنے اقدامات روکنے کا حکم دیا گیاہے ۔ انہوں نےکہاکہ مشرق وسطیٰ میں دیر پا امن کیلئے اقوام متحدہ کی حمایت میں 2 ریاستی حل بہترین راستہ ہے۔محمد شہباز شریف نے امید ظاہر کی کہ عالمی برادری بے گناہ کشمیریوں کی حالت زار پر بھی اسی طرح توجہ دے گی جو 76 سال سے بھارت کے وحشیانہ تسلط اور جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہاکہ ناروے کے وزیراعظم جونس گار ستورا سے دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر بھی بات ہوئی۔ محمد شہباز شریف نےکہاکہ ناروے میں مقیم پاکستانیوں کی تعریف کرنے پر ناروے کے وزیر اعظم کا مشکور ہوں۔اس موقع پر وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ناروے کے وزیر اعظم کو پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی ۔

  • سگریٹ کی کم قیمتیں بچوں اور نوجوانوں کی سگریٹ نوشی شروع کرنے کی بڑی وجہ ہیں، مرتضی سولنگی

    سگریٹ کی کم قیمتیں بچوں اور نوجوانوں کی سگریٹ نوشی شروع کرنے کی بڑی وجہ ہیں، مرتضی سولنگی

    بچوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ(سپارک) کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق نگران وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مرتضی سولنگی نے کہا ، کہ تمباکو کی وبا کے خاتمے کیلئے صحت عامہ کی مداخلت، مضبوط تمباکو کنٹرول پالیسی اور آگاہی مہم جیسی جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے، سگریٹ کی کم قیمتیں بچوں اور نوجوانوں کی سگریٹ نوشی شروع کرنے کی بڑی وجہ ہیں۔ پاکستان تمباکو نوشی سے متعلق بیماریوں سے ہونے والے معاشی نقصانات کو کم کر سکتا ہے۔ سپارک کی جانب سے اس پالیسی ڈائیلاگ کا انعقاد پاکستان کی معیشت میں تمباکو کی صنعت کے کردار اور تمباکو کے استعمال کی وجہ سے صحت پر پڑنے والے بوجھ کو اجاگر کرنے کے لیے تمباکو پر ٹیکس لگانے کے حوالے سے کیا گیا تھا۔
    پاکستان کے سابق نگراں وزیر اطلاعات و نشریات مرتضی سولنگی نے مالی سال 25-2024 کے لیے تمباکو پر ٹیکس میں فوری اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ سگریٹ کی کم قیمتیں بچوں اور نوجوانوں کی سگریٹ نوشی شروع کرنے کی بڑی وجہ ہیں، تمباکو نوشی کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور اموات کے باعث ہر سال پاکستان کے جی ڈی پی میں کافی زیادہ معاشی بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ صحت کی لاگت کے یہ بڑھتے ہوئے بوجھ سے صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات، بیماری اور قبل از وقت موت کی وجہ سے پیداوری کے نقصانات کے ساتھ ساتھ دیگر بالواسطہ معاشی اثرات شامل ہیں۔ تمباکو کے استعمال کو روکنے سے پاکستان تمباکو نوشی سے متعلق بیماریوں سے ہونے والے معاشی نقصانات اور صحت کی دیکھ بھال کے نظام پر پڑنے والے بوجھ کو ممکنہ طور پر کم کر سکتا ہے اور نوجوانوں کو تمباکو کے استعمال کے نقصانات سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔
    کمپین فار ٹوبیکو فری کڈز کے کنٹری ہیڈ ملک عمران احمد نے تفصیل سے بتایا کہ تمباکو پر حالیہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے متعلق اصلاحات سے ریونیو وصولی کے حوالے سے امید افزا نتائج سامنے آئے ہیں ۔ جولائی 2023 سے جنوری 2024 تک کی وصولیاں 122 ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہیں، جو کہ پورے سال کے تخمینوں کے ساتھ دو سو ارب روپے سے زیادہ ہے، جو پچھلے مالی سالوں کے مقابلے میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ مزید برآں ان اصلاحات سے مالی سال 24-2023 کے لیے سگریٹ پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی )کی مد میں 60 ارب روپے اضافی حاصل ہونے کی توقع ہے۔ ایف ای ڈی اور جی ایس ٹی کے مشترکہ اثرات کا تخمینہ لگ بھگ 88 ارب روپے ہے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں تقریبا 49 فیصد کی غیر معمولی نمو کو ظاہر کرتا ہے۔ملک عمران نے مزید کہا کہ مالی فوائد کے علاوہ یہ اصلاحات تمباکو کے استعمال کو کم کرکے اور پاکستان میں تمباکو نوشی سے منسلک صحت کی دیکھ بھال کے کل اخراجات کے 17.8 فیصد کی ممکنہ وصولی کے ذریعے صحت عامہ کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ جس سے محصولات میں اضافہ اور صحت عامہ کی حفاظت کے ذریعے حکومت اور پاکستان کے عوام دونوں کو فائدہ ہوتا ہے۔
    پروفیسر ڈاکٹر مطیع الرحمان، ڈین الائیڈ ہیلتھ کیئر سائنسز، پھیپھڑوں کے امراض اور تمباکو کنٹرول، ہیلتھ سروسز اکیڈمی نے کہا کہ تمباکو سے متعلقہ بیماریاں جنہیں غیر متعدی امراض بھی کہا جاتا ہے جیسے کینسر، ذیابیطس اور دل کی بیماریاں سالانہ 160,000 سے زیادہ اموات کا باعث بنتی ہیں۔ پاکستان یہ اموات نہ صرف افراد کو متاثر کرتی ہیں بلکہ خاندانوں، برادریوں اور صحت کی دیکھ بھال کے نظام پر بھی طویل مدتی اثرات مرتب کرتی ہیں۔

  • پاکستان کرکٹ ٹیم  برمنگھم سے کارڈف پہنچ گئی

    پاکستان کرکٹ ٹیم برمنگھم سے کارڈف پہنچ گئی

    پاکستان کرکٹ ٹیم برمنگھم سے کارڈف پہنچ گئی ہے۔ ٹیم پیر کی صبح ساڑھے نو بجے سے دوپہر ساڑھے بارہ بجے تک پریکٹس کرے گی۔ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان چار میچوں کی سیریز کا تیسرا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل منگل کو کارڈف میں کھیلا جائے گا۔ انگلینڈ کو اسوقت سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل ہے۔واضح رہے کہ سیریز کا پہلا میچ بارش کی نذر ہوگیا تھا جبکہ برمنگھم میں ہونے والے میچ میں انگلینڈ نے پاکستان کو 23 رنز سے شکست دے دی تھی۔

  • تاجروں کے لئےبند کمرے میں بنائی گئی پالیسی نا قا بل قبول ہو گی،صدر کراچی تاجر اتحاد عتیق میر

    تاجروں کے لئےبند کمرے میں بنائی گئی پالیسی نا قا بل قبول ہو گی،صدر کراچی تاجر اتحاد عتیق میر

    صدر کراچی تاجر اتحاد عتیق میر نے کہا ہے کہ فکسڈ ٹیکس پر رضا مند ہونے کےلیے تیار ہیں مگر پہلے بات کی جائے۔ بند کمرے میں بنائی گئی پالیسی نہیں چلتی۔ان کا کہنا تھا کہ حکومتی سطح پر پالیسی پر عملدرآمد ہی نہیں ہوتا، نچلی سطح پر تاجروں کے پاس جایا جائے، ٹیکس دینے والوں کے مسائل کو حل کرنے کی بھی ضرورت ہے۔عتیق میر نے یہ بھی کہا کہ بڑی جگہ پر قائم دکان کا مطلب بڑا کاروبار نہیں ہوتا، تاجروں سے کہتا ہوں کہ فائلر بننے میں فائدہ ہے، ڈرا دھمکا کر ٹیکس نیٹ وسیع نہیں کیا جاسکتا۔ عتیق میر نے کہا کہ اگر ٹیکس دیا بھی تو وہ قرضوں پر سود کی ادائیگی اور حکمرانوں کی عیاشی میں جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے ٹیکس لینے کی سنجیدہ کوشش کی جائے، جنہوں نے ٹیکس لینا ہے وہ آئی ایم ایف کی شرائط لے کر آجاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کاروبار چلانا اس وقت مشکل ترین ہے، مارکیٹ میں کساد بازاری ہے، بجلی بل بڑا خرچہ ہے، ان حالات کو کون درست کرے گا؟صدر کراچی تاجر اتحاد نے کہا کہ اسکیمیں بنانے کےلیے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جاتی ہے، مشاورت کے بغیر کوئی اسکیم لائی جائے گی تو ناکام ہوگی۔

  • بجلی کنکشن کے حصول کےلیے صارف کو انکم ٹیکس میں رجسٹرڈ ہونا چاہیے، شبر زیدی

    بجلی کنکشن کے حصول کےلیے صارف کو انکم ٹیکس میں رجسٹرڈ ہونا چاہیے، شبر زیدی

    سابق چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) شبر زیدی نے کہا ہے کہ ہمارا سیاسی نظام ملک میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں چاہتا اور حکومت ٹیکس لینے میں سنجیدہ ہی نہیں۔انہوں نے کہا کہ صرف بھارتی شہر ممبئی کا ٹیکس پورے پاکستان سے زیادہ ہے، ہمیں طویل مدتی ٹیکس پالیسی لانا ہوگی، 10 سال کی پلاننگ درکار ہے، معیشت پر سوشل معاہدہ ہونا چاہیے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کے دوران شبر زیدی نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ ٹیکس لینے کے بجائے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کو چکر دے کر پیسے پکڑ لے۔شبر زیدی نے مزید کہا کہ پاکستان میں 30 لاکھ صنعتی صارفین ہیں اور ان میں سے صرف 1 لاکھ ہی ریٹرن فائل کرتے ہیں۔
    ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں پراپرٹی ٹیکس کیوں نہیں لگ رہا؟ کسی بھی صوبائی حکومت نے پراپرٹی ٹیکس کا سروے نہیں کروایا۔سابق چیئرمین ایف بی آر نے یہ بھی کہا کہ صوبائی حکومتوں نے آخری پراپرٹی سروے کب کیا ہے؟ پوچھتا ہوں لاہور میں آخری پراپرٹی سروے کب ہوا ہے؟شبر زیدی نے کہا کہ کراچی منیلا جیسا ہے، منیلا نے جیو فینسنگ کروائی اور پراپرٹی ٹیکس وصول کیا گیا، بلڈرز اور ڈیولپرز کو رعایت دینی چاہیے مگر پراپرٹی ڈیلر کو کوئی رعایت نہیں ملنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے بہت سارے شعبے کے لوگوں کو پہلے ہی نچوڑا ہوا ہے، پراپرٹی کا سروے کیا جانا چاہیے، ہمارا سیاسی نظام ملک میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں چاہتا۔
    سابق چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ حکومت کے دیگر ادارے ٹیکس کلیکشن میں منفی کردار ادا کرتے ہیں، ہماری معیشت نہیں چل رہی، ٹیکس نظام کےلیے پوری قوم کو ساتھ چلنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ میں نے پوری زندگی ٹیکس پڑھا ہے، ٹیکس ایکٹ پر عمل درآمد کے بغیر ٹیکس نہیں لیا جاسکتا۔شبر زیدی نے کہا کہ تمام دکانیں صوبائی حکومت کی شاپ ایکٹ میں آتی ہیں، 90 فیصد دکانیں شاپ ایکٹ میں رجسٹر ہی نہیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دکانوں پر فکسڈ ٹیکس لگانے سے پہلے دکانوں کی شناخت اور تعین کرنا ہوگا، یہی دکاندار اسمگلڈ اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا سامان بیچ رہے ہوتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ تاجروں، صنعت کاروں کی بلیک منی کا رئیل اسٹیٹ میں جانا ایک شیطانی چکر ہے، رجسٹری اور مارکیٹ ویلیو میں فرق ہے۔
    سابق چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ بڑے تاجروں کو سیلز ٹیکس نظام میں لانا ہوگا، بڑے تاجروں پر ہاتھ ڈالا جاتا ہے تو چھوٹے تاجر شور مچانا شروع کر دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ درمیانے درجے کے دکانداروں پر ہاتھ ڈالتے ہیں تو عتیق میر چھوٹے دکانداروں کو لے کر میدان میں آجاتا ہے۔شبر زیدی نے کہا کہ بجلی کنکشن کے حصول کےلیے صارف کو انکم ٹیکس میں رجسٹرڈ ہونا چاہیے اور نہیں ہوتا ہے، اس حوالے سے لیسکو والوں نے مجھے کہا تھا کہ ہم آپ سے تعاون نہیں کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر بجلی عمر ایوب نے مجھے اپنے کسٹمرز کی تفصیل تک نہیں دی، صنعتی صارفین کو بجلی اور گیس حکومت ہی فراہم کرتی ہے اور ریکارڈ موجود ہوتا ہے۔

  • امیر کویت اور امیر قطر نے وزیر اعظم شہباز شریف  کی  دورہ پاکستان کی دعوت قبول کرلی

    امیر کویت اور امیر قطر نے وزیر اعظم شہباز شریف کی دورہ پاکستان کی دعوت قبول کرلی

    امیر کویت اور امیر قطر نے وزیر اعظم شہباز شریف کی دورہ پاکستان کی دعوت قبول کرلی۔ سفارتی محاذ پر پاکستان کی مثبت پیشرفت کا سلسلہ جاری ہے۔ امیر کویت اور امیر قطر نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی دورہء پاکستان کی دعوت کو قبول کر لیا۔وزیر اعظم محمد شہباز شریف سےپاکستان میں تعینات کویت اور قطر کے سفراء نے الگ الگ ملاقات کی۔ پاکستان میں تعینات کویت کے سفیر ناصر عبدالرحمن جاسر المطیری نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔ انہوں نے وزیراعظم کو کویت کے امیر شیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح کا ایک خط پیش کیا جس میں وزیراعظم کی طرف سے امیر کو باہمی طور پر مناسب تاریخوں پر دورہ پاکستان کی دعوت کو قبول کرنے کا پیغام دیا گیا ہے۔ خط کو وصول کرتے ہوئے وزیراعظم نے 28 اپریل 2024 کو ریاض میں ورلڈ اکنامک فورم کے خصوصی اجلاس کی سائیڈ لائینز پر امیر کویت سے ہوئی اپنی حالیہ ملاقات کا ذکر کیا ۔ وزیراعظم نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پاکستان- کویت مشترکہ وزارتی کمیشن کا اگلا اجلاس 28 سے 30 مئی 2024 کو کویت میں منعقد ہو گا۔ وزیراعظم نے امیر کویت کے آنے والے دورہء پاکستان کے حوالے سے بھرپور تیاری پر زور دیا تا کہ دورہ سے باہمی فائدہ مند نتائج کو یقینی بنایا جا سکے ۔
    وزیراعظم سے پاکستان میں تعینات قطر کے سفیر عزت مآب مبارک علی عیسیٰ الخطر نے بھی ملاقات کی۔ قطری سفیر نے وزیر اعظم کو قطر کے امیر عزت مآب شیخ تمیم بن حمد الثانی کی طرف سے ایک خط پہنچایا جس میں وزیر اعظم کی طرف سے باہمی طور پر مناسب تاریخوں پر پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت کو قبول کیا گیا تھا۔ وزیر اعظم نے قطر کے امیر عزت مآب کو تہہ دل سے تہنیتی پیغام پہنچایا۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان قطر کے ساتھ اپنے تاریخی برادرانہ تعلقات کو دل کی گہرائیوں سے قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور دونوں برادر ممالک کے درمیان باہمی فائدہ مند تعاون کو مزید گہرا کرنے کے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریقوں کو دونوں دارالحکومتوں کے درمیان وفود کے تبادلے کے ساتھ ہز ہائینس کے دورے کی تیاری شروع کرنی چاہیے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اعلیٰ سطح کا دورہ نتیجہ خیز اور کامیاب ہو اور اس کے نتائج دونوں ممالک کے لیے باہمی طور پر فائدہ مند ہوں،

  • لاہور:شاہ محمود قریشی نو مئی مقدمے میں گرفتار

    لاہور:شاہ محمود قریشی نو مئی مقدمے میں گرفتار

    لاہورپولیس نے تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو گرفتارکرلیا ۔ اڈیالہ جیل میں قید شاہ محمود قریشی کی نو مئی کے 8 مقدمات میں گرفتاری ڈالی گئی۔
    تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کو 9مئی کے 8مقدمات میں گرفتار کر لیا گیا،پولیس نے عدالت سے 3روزہ جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کرلیا۔لاہورپولیس کی خصوصی ٹیم شاہ محمود قریشی کو گرفتار کرنے اڈیالہ جیل پہنچی ۔تفتیشی ٹیم نے عدالت سےملزم شاہ محمود قریشی کو لاہورمنتقل کرنے کی اجازت مانگی۔ عدالت نے سکیورٹی خدشات کےباعث شاہ محمود قریشی کو لاہورمنتقل کرنے سے منع کردیا۔
    تفتیشی ٹیم کی استدعا پرمعزز جج نے شاہ محمود قریشی کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔ لاہورپولیس کی ٹیم نے ملزم شاہ محمود قریشی سےاڈیالہ جیل میں ہی بیان ریکارڈ کیا۔ شاہ محمود قریشی ویڈیو لنک کےذریعے انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش ہونگے۔