Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز  پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی کارکردگی پر برہم

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی کارکردگی پر برہم

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی کارکردگی پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مارکیٹوں میں پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے نرخوں پر عملدرآمد نہیں کروایا جا رہا، شہریوں کو بازاروں میں کھانے پینے کی چیزیں سرکاری نرخ پرنہیں مل رہیں۔ذرائع کا بتانا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے نظام کو نئی شکل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع محکمہ صنعت و تجارت کا بتانا ہے کہ آئندہ صرف ایک افسر کو مہنگائی کا ذمہ دار قرار دیا جائےگا۔ذرائع کے مطابق اس وقت مارکیٹ میں پھل اور سبزیاں سرکاری قیمت سے 30 فیصد زائد قیمت پر فروخت ہو رہی ہیں، آم 145 کے بجائے 250 اور آڑو 130 کے بجائے 200 روپےکلو فروخت ہو رہا ہے۔ذرائع کے مطابق لوکاٹ 120 کے بجائے 225 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے جبکہ خربوزہ 70 کے بجائے 100، تربوز 30 کےبجائے 59 روپے کلو میں فروخت ہو رہا ہے اور لیموں 400 کی بجائے 600 روپے کلو میں فروخت کیا جا رہا ہے۔مارکیٹ ذرائع کے پھل اور سبزیوں کی قیمت میں اضافے کے اصل ذمہ دار آڑھتی اور افسر شاہی ہے۔

  • ملک پر اشرافیہ قابض ہے جس وجہ سے یہ ملک ترقی نہیں کرپایا، حافظ نعیم الحق

    ملک پر اشرافیہ قابض ہے جس وجہ سے یہ ملک ترقی نہیں کرپایا، حافظ نعیم الحق

    منصورہ میں پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کا کہ ملک میں آئین کی بالادستی بہت ضروری ہے، اگر ملک آئین کے مطابق چلے گا تو سب کیلئے بہتر ہے، جب آئین پر قبضہ کیا جاتا ہے تو ملک اور ادارے دونوں برباد ہوتے ہیں، چند لوگوں کی انا پورے ملک کو برباد کررہی ہے، عید کے فوری بعد آئین کی بالادستی کے لیے بڑی تحریک شروع کریں گے۔ ہم جانتے ہیں پاکستان مشکلات کا شکار ہے، 76 سال سے ہم مختلف غلامیوں میں مبتلا ہیں، ملک پر اشرافیہ قابض ہے جس وجہ سے یہ ملک ترقی نہیں کرپایا۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی بھی آزاد نہیں ہے، کشمیرسےمتعلق سودے بازی کے معاملات کی تحقیقات ہونی چاہیے، نوازشریف اور بھارت کا کلچرایک ہوگا ہمارا نہیں، یہ لوگ ہمیں بھارت کا غلام بنانا چاہتےہیں، بھارت سےدوستی کرنا امریکی ایجنڈا ہے، امریکی آشیرباد اور فارم 47 والے بھارت سےدوستی کی ہی بات کریں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ غزہ کا مسئلہ انسانیت کا مسئلہ ہے، فلسطین کے معاملے پر جنوبی افریقہ عالمی عدالت گیا پاکستان کیوں نہیں ؟ پاکستان کو جنوبی افریقہ کےعالمی عدالت جانے پرشرم نہیں آئی؟ مسلم لیگ(ن)،پیپلزپارٹی والے رسمی باتوں کی بجائے حماس کوتسلیم کریں، ان کو تو اسرائیل کا نام لیتےہوئےتکلیف ہوتی ہے۔امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ پاکستان کےلیےبہت اہم ہے، اس منصوبے کو مکمل ہونا چاہیے، حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے ملین ڈالرز کی گیس امپورٹ ہوتی ہے، پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل ہونے سے اربوں ڈالر بچ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لوڈشیڈنگ سےتنگ آکر لوگوں نے سولر لگائے اب یہ ظالم حکمران آئی ایم ایف کے کہنے پرٹیکس لگانے جا رہے ہیں، ہم اور یہ عوام اس جعلی حکومت کو نہیں مان سکتے، اس ظالم ٹولے کے رحم و کرم پر 25 کروڑ عوام کو نہیں چھوڑ سکتے۔حافظ نعیم الرحمان کا مزید کہنا تھا زراعت کے شعبے میں بہت کچھ ہو سکتا ہے مگر یہ لوگ نہیں کررہے، اس معاملے پر ہم بھرپور طریقے سے کام کریں گے، ہمارا ایجنڈا اس وقت انتخابی نہیں قومی اور عوامی ہے، ہم کسانوں ،مزدوروں اور نوجوانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

  • رئیل اسٹیٹ، زراعت کو مزید ٹیکس چھوٹ نہیں دے سکتے، مفتاح اسماعیل

    رئیل اسٹیٹ، زراعت کو مزید ٹیکس چھوٹ نہیں دے سکتے، مفتاح اسماعیل

    سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ رئیل اسٹیٹ اور زراعت جیسے شعبوں کو مزید ٹیکس چھوٹ نہیں دی جاسکتی۔جیو نیوز کی خصوصی ٹرانسمیشن "آخری موقع” میں اظہار خیال کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ نیشنل فنانشل کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ پر نظر ثانی کیے بغیر کوئی ریفارم کامیاب نہیں ہوگی۔ وفاق کے پاس فنڈز نہیں لیکن صوبوں میں صورتحال مختلف ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی بڑھانے کے لیے ان شعبوں پر ٹیکس لگانا ہوگا جنہیں اب تک چھوٹ دے رکھی ہے، رئیل اسٹیٹ اور زراعت جیسے شعبوں کو مزید چھوٹ نہیں دی جاسکتی، ٹیکس کسی کے زیر استعمال مکان پر نہیں ہے، اضافی جائیداد پر ہوتا ہے۔
    سابق وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ رئیل اسٹیٹ شعبے میں جائیداد کے مختلف ریٹس کو ختم کر دینا چاہیے۔ ریٹیل، زراعت اور رئیل اسٹیٹ سیکٹرز ٹیکس دینے کے موڈ میں ہی نظر نہیں آتے۔ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس کےلیے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشورہ کرنا چاہیے، صورتحال یہ ہے کہ سونے کے کاروبار سے کوئی ٹیکس حاصل نہیں کیا جاتا، تنخواہ داروں پر مزید ٹیکس کی گنجائش نہیں۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ دنیا نے ٹیکس نیٹ بڑھایا ہے، ہم بھی یہ کرسکتے ہیں، رواں مالی سال کو بھی ضائع کردیا گیا کیونکہ ٹیکس نیٹ بڑھایا جاسکتا تھا، ہم غریبوں سے جی ایس ٹی وصول کرتے ہیں لیکن امیروں سے پراپرٹی ٹیکس نہیں لے سکتے۔
    انہوں نے کہا کہ کراچی کے سوا پورے ملک کے 22 لاکھ دکانداروں میں سے صرف 30 ہزار ٹیکس دیتے ہیں۔ 2 سال پہلے میری سفارش پر ریٹیل پر ٹیکس لگتا تو آئی ایم ایف ڈکٹیٹ نہ کرتا۔سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ فکسڈ ٹیکس کا نظام لانا چاہیے، ریٹیلرز پر 3 سے 4 ہزار ٹیکس لگانا ہوگا۔ ریٹیلر سے سیلز ٹیکس نہ لیں، سیلز ٹیکس کا صنعتی سطح پر نفاذ کریں۔ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان میں 9 کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے ہیں، ایک سال میں مزید 1 کروڑ کا اضافہ ہوگا، فری میں قوم کی خدمت بھی نہیں ہوسکتی، ٹیکس تو تمام شعبوں کو دینا ہوگا۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ خسارہ کم کرنے کےلیے ٹیکس آمدن بڑھانا اور اخراجات میں کٹوتی کرنی ہوگی، خسارے کم نہیں کریں گے تو بھوک اور جہالت میں اضافہ ہوگا۔
    انہوں نے کہا کہ ٹیکس دینا کسی کواچھا نہیں لگتا، ٹیکس ٹو جی ڈی پی رواں سال 10 فیصد تک پہنچ جائے گا لیکن یہ اب بھی کم ہے، زراعت پر فکس ٹیکس ہونا چاہیے، بڑے کاشت کار سے ہم تھوڑا سا ٹیکس تو لے سکتے ہیں۔سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ پر اسٹیمپ ڈیوٹی مارکیٹ قیمت پر ہونی چاہیے، ان ڈاکیومنٹڈ پیسا پراپرٹی میں جا کر پاک ہو جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں ٹھیلے والا پولیس کو روز 100 روپے بھتا دیتا ہے، دکانداروں کو ہراساں کرنے کے بجائے اسمگلنگ کو سرحد پر روکیں۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ نان فائلرز کو گاڑیاں اور پراپرٹی خریدنے نہ دیں، دوسرے سال پاسپورٹ بنانے نہ دیں، جس دکان کو بجلی دے رہے ہیں اس سے ٹیکس لیں ورنہ بجلی کاٹ دیں۔انہوں نے کہا کہ 2 ملین ٹن گندم افغانستان اسمگل ہوجاتا ہے، گندم کا مسئلہ افغانستان اسمگل نہ ہونے کی وجہ سے ہوا، انٹرنیشنل مارکیٹ میں قیمت کم ہونے کی وجہ سے افغانستان نے پاکستان کے بجائے انٹرنیشنل مارکیٹ سے گندم خریدی ہے۔

  • ہمارے دروازے بامقصد  مذاکرات کے لئے تمام جماعتوں کے لئے کھلے ہیں، احسن اقبال

    ہمارے دروازے بامقصد مذاکرات کے لئے تمام جماعتوں کے لئے کھلے ہیں، احسن اقبال

    وفاقی وزیر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ احسن اقبال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سمت صحیح کی طرف ہو چکی ہے، پاکستان کی معیشت ترقی کی طرف گامزن ہو رہی ہے، سٹاک مارکیٹ 76 ہزار انڈیکس کراس کر گئی ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ بیرونی اور اندرونی سرمایہ کاروں کو حکومت کی پالیسیوں پر بھرپور اعتماد کا اظہار ہے، اگلے پانچ سالوں میں پاکستان کی معیشت کی بحالی کے سفر کو محاذ آرائی کی سیاست سے بچائیں، پاکستان کی معیشت مشکلات کا شکار ہوتی ہے تو مشکلات پی ٹی آئی پر نہیں ن لیگ پر آئیں گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر ملک ترقی کرے گا تو 24 کروڑ عوام کا بھلا ہو گا، اگر ملک بحران کی طرف جائے گا تو عوام اس کی سزا بھگتیں گے، پی ٹی آئی قیادت کو مشورہ ہے سڑکوں کو چھوڑ کر ایوانوں میں آئے، ایوانوں میں مثبت اپوزیشن کا کردار ادا کرے۔
    وفاقی وزیر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ احسن اقبال نے کہاکہ پی ٹی آئی عدالت کو اسٹیبلشمنٹ اور حکومت سے لڑا کر اپنے لئے راستہ بنانا چاہتی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ 2029ء تک انتظار کریں، خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے، عوام کی خدمت کریں، جہاں پر جس کو مینڈیٹ ملا ہے عوام کی خدمت کریں، ہمیں اب جلسوں کا کھیل نہیں کھیلنا ہمیں عوام کی خدمت کا مقابلہ کرنا ہے، ہمارے دروازے بامقصد بامعنی مذاکرات کے لئے تمام جماعتوں کے لئے کھلے ہیں۔احسن اقبال نے مزید کہا کہ بامقصد بامعنی مذاکرات تبھی ہوسکتے ہیں جب ہر فریق کھلے دل سے مثبت ایجنڈے کے ساتھ مذاکرات کرے، ضد انا کے ساتھ مذاکرات ہوں گے تو وہ کامیاب نہیں ہوں گے، 9 مئی کے واقعات کو قوم کبھی معاف نہیں کر سکتی۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی سیاست میں مار کھانے کے بعد عدالت کا کندھا استعمال کررہی ہے، آج پھر سیاست میں مات کھا چکی ہے، اس کو کوئی امکان نظر نہیں آرہا، اپنی سیاست کے لئے عدالت کے کندھے استعمال کرنا چاہتی ہے، پاکستان کی عدلیہ بہت جہاں دیدہ اور میچور ہیں، پاکستان کے تمام ستون سمجھتے ہیں ہم سب کو مل کر پاکستان کے لئے کام کرنا ہے۔

  • آرمی چیف کا  ایرانی صدر اور رفقاء کے انتقال پر اظہار افسوس

    آرمی چیف کا ایرانی صدر اور رفقاء کے انتقال پر اظہار افسوس

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ایرانی چیف آف جنرل سٹاف کو ٹیلی فون کیا، آرمی چیف نے ایرانی صدر اور رفقاء کے انتقال پر اظہار افسوس کیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف نے پاک فوج کے تمام رینکس کی جانب سے مرحوم کی روح کیلئے دعا اور سوگوار خاندانوں کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔آرمی چیف نے کہا مرحوم ابراہیم رئیسی اور ایرانی وزیر خارجہ غیرمعمولی رہنما اور پاکستان کے سچے دوست تھے، دونوں رہنماؤں اور ان کے رفقاء کا جانی نقصان ناقابل تلافی ہے، پاکستان کے ایران کے ساتھ تاریخی، ثقافتی اور برادرانہ تعلقات ہیں۔

    آرمی چیف نے مزید کہا کہ پاکستان اور ایران کی مسلح افواج ہمیشہ ایک ساتھ کھڑی ہیں۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ مرحوم ایرانی صدراوروزیرخارجہ پاکستان کےسچے دوست تھے، دونوں رہنماوں سمیت دیگر کےانتقال سےناقابل تلافی نقصان پہنچا۔پاک فوج کے تمام رینکس مرحومین کےایصال ثواب کیلئے دعاگوہیں۔ آرمی چیف کی جانب سے سوگوارخاندانوں کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ایران کےساتھ تاریخی ،ثقافتی اوربرادرانہ تعلقات ہیں، پاکستان اور ایران کی مسلح افواج ہر موقع پر ایک ساتھ کھڑی ہے۔ ایرانی مسلح کےچیف آف جنرل اسٹاف نے دکھ کی اس گھڑی میں ساتھ دینےپرآرمی چیف سے اظہار تشکرکیا۔ ایرانی جنرل نے دونوں افواج کے درمیان تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ۔

  • ہتک عزت بل پر تمام اسٹیک ہولڈرز   سےمشاورت ہو گی ، گورنر پنجاب

    ہتک عزت بل پر تمام اسٹیک ہولڈرز سےمشاورت ہو گی ، گورنر پنجاب

    گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان سے صحافتی تنظیموں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے عہدیداران کی ملاقات ہوئی۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے وفد میں سی پی این ای، پی بی اے، پی ایف یو جے، اے پی این ایس، ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز کے نمائندے شامل تھے۔ اس کے علاوہ وفد میں ارشاد عارف صدر سی پی این ای، سیکرٹری پی ایف یو جے، سابق صدر سی پی این ای کاظم خان، محمد عثمان وائس پریذیڈنٹ، ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز، نوید کاشف پی بی اے، امتنان شاہد، حافظ عثمان طارق شامل تھے ۔اس موقع پر جنرل سیکرٹری پیپلزپارٹی وسطی پنجاب حسن مرتضی، سابق ایم پی اے مخدوم مرتضی محمود، شہزاد سعید چیمہ انفارمیشن۔سیکرٹری وسطی پنجاب بھی موجود تھے۔ صحافتی تنظیموں کے نمائندوں نے گورنر پنجاب کو ہتک عزت بل بارے تحفظات سے اگاہ کیا۔
    گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر کا کہنا تھا کہ میری پوری کوشش ہو گی کہ آئندہ چند روز میں ہتک عزت بل پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو مشاورت کے لیے اکٹھا کیا جائے۔ہتک عزت بل پر تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت بہت ضروری ہے۔

  • پیر کو سورج خانہ کعبہ کے عین اوپر ہوگا

    پیر کو سورج خانہ کعبہ کے عین اوپر ہوگا

    رواں سال پہلی مرتبہ سورج کَل عین خانہ کعبہ کے اوپر ہوگا، اس دوران قبلہ رخ کا بھی تعین کیا جاسکتا ہے۔سورج کے گردش زمین کی گردش کے دوران کبھی کبھار سورج عین خانہ کعبہ کے برابر اوپر آجاتا ہے۔ رواں سال یہ پہلا واقعہ ہے جب سورج خارجہ کعبہ کے عین اوپر ہوگا، سال میں ایسا دو بار ہوتا ہے۔فلکیاتی سوسائٹی کے نگران انجینئر کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے مقامی وقت کے مطابق سورج کے خانہ کعبہ کے عین اوپر آنے کا وقت دوپہر 12 بج کر 18 منٹ بتایا گیا ہے۔ سورج 90 ڈگری پر ہو گا جس کی وجہ سے خانہ کعبہ اور کسی بھی مجسم عمارت یا دیگر اشیا کا سایہ نہیں ہوگا۔ اس دوران دیگر مقامات پر سورج قدرے مائل ہو گا۔ وہ علاقے جو عرض بلد پر 23.5 ڈگری شمال اور جنوب میں واقع ہیں وہاں یہ مشاہدہ سال میں دو بار دیکھا جاسکتا ہے۔دوسری طرف سورج کے عین خانہ کعبہ کے اوپر آنے پر قبلہ کے رخ کا تعین بھی کیا جاسکتا ہے۔

  • بشام میں چینی انجینیئرز پر حملے  میں ٹی ٹٰی پی  ملوث ہے ، محسن نقوی

    بشام میں چینی انجینیئرز پر حملے میں ٹی ٹٰی پی ملوث ہے ، محسن نقوی

    وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ بشام میں چینی انجینیئرز پر حملے میں افغان سرزمین استعمال کی گئی، کالعدم ٹی ٹی پی دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہے۔لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ تمام شواہد موجود ہیں کہ بشام واقعہ کالعدم ٹی ٹی پی نے کیا، افغان سرزمین استعمال ہوئی، منصوبہ بندی سے چینی شہریوں پر حملہ کیا گیا۔ ثبوت افغان حکومت کے حوالے کیے گئے لیکن اب افغان حکومت نے کوئی جواب نہیں دیا۔محسن نقوی نے کہا کہ چینی شہریوں کی سیکیورٹی ہماری ذمہ داری ہے، چین اور پاکستان کے تعلقات ہمارے لیے بہت اہمیت رکھتے ہیں، دونوں ممالک مختلف فورمز پر ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں، وہ ہماری بہتری اور ہم ان کی بہتری کیلئے کام کرتے ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم نے اپنی سرحدوں پر سیکیورٹی بڑھائی ہے، حکومت بخوبی جانتی ہے کہ کونسی طاقتیں امن خراب کرنا چاہتی ہیں، چینی شہریوں کی سیکیورٹی ہمارے لیے بہت ضروری ہے، چینی شہریوں کی حفاظت کیلئے ہر ممکن اقدام کیا جا رہا ہے۔ محسن نقوی نے کہا کہ چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لئے نئے ایس او پیز بنائے ہیں، چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لئے ہرممکن اقدامات کر رہے ہیں، اگلے مہینے وزیراعظم چین کا دورہ کریں گے۔
    اس موقع پر نیکٹا کے سربراہ رائے طاہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چینی شہریوں کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے، بشام حملہ ٹی ٹی پی نے کیا جس کے تمام شواہد موجود ہیں، 26 مارچ کوچینی انجینئرزکا قافلہ داسو جارہا تھا، قافلہ داسوکی طرف رواں دواں تھا کہ کارمیں بیٹھے خودکش بمبار نے خود کو اڑا لیا۔انہوں نے بتایا کہ دھماکہ خیزمواد کار کے دروازوں میں فکس کیا گیا تھا، چینی انجیئنرز کی بس دھماکے بعد 150 فٹ گہرے نالے میں گرگئی تھی، حملے میں استعمال ہونے والی سلور کارکا ماڈل 2006ء تھا۔رائے طاہر نے مزید بتایا کہ گاڑی پاکستانی نہیں یہ کار افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوئی، حملے کا سارا پلان افغانستان میں بنایا گیا۔

  • پاکستان میں پانچ برسوں کے دوران غربت میں اضافہ

    پاکستان میں پانچ برسوں کے دوران غربت میں اضافہ

    پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے ملک میں غربت کی شرح کے حوالے سے اعداد و شمار جاری کر دیئے۔پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی رپورٹ کے مطابق 5 برسوں میں غربت کی شرح 38.6 فیصد سے بڑھ کر 39.5 فیصد تک پہنچ گئی۔پائیڈ کے مطابق بلوچستان میں 70 فیصد، خیبرپختونخواہ میں 48 فیصد، سندھ 45 فیصد، پنجاب میں 30 فیصد لوگ غربت کا شکار ہیں، ملک بھر میں شہری علاقوں کی نسبت دیہی علاقوں میں غربت کی شرح زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔
    پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے مطابق دیہی علاقوں میں غربت کی شرح 51 فیصد تک ریکارڈ ہوئی جبکہ شہری علاقوں میں غربت کی شرح 17 فیصد تک ریکارڈ ہوئی۔پائیڈ کے مطابق 26.5 فیصد لوگ رہن سہن سہولت، 49.4 فیصد تعلیمی سہولت، 24.1 فیصد لوگ صحت کیلئےسہولیات سے محروم ہیں۔پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی ریسرچ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سب سے زیادہ غربت کی شرح صوبہ بلوچستان میں ریکارڈ کی گئی ہے۔

  • جنس معلوم کرنے کیلئے حاملہ بیوی کا پیٹ چاک کرنے والے شوہر کو عمرقید

    جنس معلوم کرنے کیلئے حاملہ بیوی کا پیٹ چاک کرنے والے شوہر کو عمرقید

    بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع بوداؤں میں بچے کی جنس معلوم کرنے کیلئے اپنی 8 ماہ کی حاملہ بیوی کا پیٹ چاک کرنے والے شخص کو عمر قید کی سزا سنادی گئی۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق واقعہ 19 ستمبر 2020 کو سول لائنز کے علاقے میں پیش آیا ، جہاں 46 سالہ ملزم پنا لال نے ایک پنڈت کے کہنے پر اپنی بیوی انیتا دیوی پر درانتی سے پیٹ کاٹ لیا ،ملزم نے بتایا کہ پنڈت نے کہا کہ اس کی بیوی دوبارہ بیٹی پیدا کرنے والی ہے اور ملزم بیٹے کا خواہش مند تھا۔ انیتا کو پولیس نے دہلی کے اسپتال میں داخل کرادیا جہاں ڈاکٹر اس کی جان تو بچا لیں لیکن نومولود کو نہیں بچا سکے ،ڈاکٹرز کے مطابق پنڈت کی پیشگوئی کے برعکس خاتون بیٹی نہیں بیٹے کو جنم دینے والی تھی ،ملزم پنا لال کو انڈین پینل کوڈ(آئی پی سی) کے تحت اقدامِ قتل اور عورت کی رضامندی کے بغیر اسقاط حمل کا مقدمہ درج کر کے جیل بھیج دیا گیا تھا، 2021 میں اس کے خلاف چارج شیٹ جمع کرادی گئی تھی۔ متاثرہ خاتون کے بھائی روی سنگھ نے بتایا کہ انیتا کی 5 بیٹیاں تھیں لیکن پنا لال کو لڑکا چاہیے تھا، جب میری بہن چھٹی بار حاملہ ہوئی تو پنا لال چاہتا تھا کہ وہ اسقاط حمل کرا دے کیونکہ گاؤں کے کسی پنڈت نے اس کے دماغ میں یہ بات بٹھا دی تھی کہ انیتا دوبارہ بیٹی پیدا کرنے والی ہے۔ عدالت نے قتل کی کوشش کرنے کے جرم کے لیے مجرم کو عمر قید کی سزا سنا ئی جبکہ50 ہزار روپے جمع کرونے کی ہدایت بھی کی۔