Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • مراد سعید  ہتک عزت کیس،  گزشتہ سماعتیں کالعدم قرار دینے کی درخواست

    مراد سعید ہتک عزت کیس، گزشتہ سماعتیں کالعدم قرار دینے کی درخواست

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما مراد سعید نے اپنے وکیل کے ذریعے اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں ہتک عزت کیس کی گزشتہ سماعتیں کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر کر دی۔سابق وفاقی وزیر مراد سعید نے درخواست میں مؤقف اپنایا کہ 15 مئی کو معلوم ہوا کہ مراد سعید کے خلاف یکطرفہ عدالتی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ ہوا ہے حالانکہ 23 اپریل کو معاون وکیل کو عدالتی عملے نے بتایا تھا کہ آئندہ سماعت 6 جون کو ہے۔درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ ہم سمجھے سماعت 6 جون کو ہے جس کے باعث ہم سے 6 مئی اور 14 مئی کی عدالتی کارروائی چھوٹ گئی، جائزہ لینے کے بعد معلوم ہوا سماعت کی تاریخ اوور رائٹ ہوگئی تھی، احسن اقبال نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 4 سال میں پہلی بار گواہ کا بیان ریکارڈ کروایا۔
    اس کے مطابق غیر حاضری کے باعث احسن اقبال کی درخواست دو بار خارج ہوچکی ہے، مراد سعید کے خلاف سازش ہوئی لہٰذا 6 اور 14 مئی کی سماعتوں کو کالعدم قرار دیا جائے اور احسن اقبال کو سابق وزیر کے وکیل کی موجودگی میں دوبارہ شواہد پیش کرنے کی ہدایت دی جائے۔درخواست میں مزید استدعا کی گئی ہے کہ عدالت کی جانب سے ریکارڈ کی ٹیمپرنگ پر انکوائری بھی کروائی جائے۔واضح رہے کہ آج اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنل عدالت میں ایڈیشنل سیشن جج حسینہ ثقلین کی رخصت کے باعث سماعت نہ ہوسکی، سماعت اب 4 جون تک ملتوی کردی گئی ہے۔

  • پاسپورٹ پر شادی شدہ خاتون کے والد یا شوہر کے نام کے اندراج کے معاملے کا نوٹس

    پاسپورٹ پر شادی شدہ خاتون کے والد یا شوہر کے نام کے اندراج کے معاملے کا نوٹس

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاسپورٹ پر شادی شدہ خاتون کے والد یا شوہر کے نام کے اندراج کے معاملے کا نوٹس لے لیا۔ محسن نقوی نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں اٹھائے گئے اس مسئلے کا نوٹس لیا اور مسئلے کے حل کے لیے سیکرٹری داخلہ خرم علی کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی۔محسن نقوی نے قابل عمل حل طلب کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی تمام مسئلے کا جائزہ لے کر بہترین حل کے لیے تجاویز پیش کرے، شادی شدہ خواتین کی سہولت اور آسانی کو مدنظر رکھ کر سفارشات تیار کی جائیں۔
    دوسری جانب ڈی جی پاسپورٹ مصطفیٰ جمال نے کہا کہ نادرا کا ریکارڈ لوکل ہوتا ہے، پاسپورٹس کا استعمال انٹرنیشنل طور پر ہوتا ہے، صارفین کا یہ ڈیٹا بیس صرف پاکستان میں ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ صارف کے ڈیٹا کو صرف پاکستان اون کرتا ہے، شادی شدہ خاتون کے پاسپورٹ میں نام کےساتھ شوہر کا نام درج کرانا قانون ہے، حکومت ڈاکیومنٹ پر چلتی ہے، سرکار میں انفارمل چیزیں استعمال نہیں ہوتیں۔مصطفیٰ جمال کا کہنا تھا کہ پاسپورٹس میں موڈیفکیشن کریں گے، سابقہ شوہر کے نام کا باکس ہوگا، پاسپورٹس کی تیاری میں مشینری کا ایشو تھا، 28 مارچ تک نارمل پاسپورٹس بنوانے والوں کو پاسپورٹس مل چکے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پاسپورٹس کے اجرا کا بیک لاگ جلد کلیئر کر دیں گے، روز کی بنیاد پر 75 ہزار پاسپورٹس پراسس ہوتے ہیں، ہفتے میں 7 روز 24 گھنٹے کی شفٹس چلا رہے ہیں، ہمارے پاس یومیہ پاسپورٹس پرنٹ کی صلاحیت 25 ہزار کی ہے۔

  • جب لوگوں نے مایوس ہوکر جمع پونجی لگا کر سولر پینل لگانا شروع کیے تو نیٹ میٹرنگ شروع ہوئی ، حافظ نعیم الر حمن

    جب لوگوں نے مایوس ہوکر جمع پونجی لگا کر سولر پینل لگانا شروع کیے تو نیٹ میٹرنگ شروع ہوئی ، حافظ نعیم الر حمن

    امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ دبئی پراپرٹی لیکس پر سپریم کورٹ کو نوٹس لینا چاہیے۔ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر الیکشن کمیشن کو سامنے آنا چاہیے، الیکشن کمیشن بھی دیکھے کہ دبئی لیکس میں آنے والوں نے اثاثے کیوں نہیں ظاہر کئے۔
    انہوں نے کہا کہ ایک وزیر نے کہا کہ انہوں نے یہ قانونی طور پر سرمایہ کاری کی، اگر ایسی بات ہے تو انہیں چاہیے کہ وہ دبئی کے ہی وزیر بن جائیں، پاکستان سے وزارت چھوڑ دیں جہاں آپ لوگوں سے سرمایہ کاری کرنے کا تقاضہ کرتے ہیں۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ یہ لوگوں سے کہتے ہیں انویسٹمنٹ لے کر آؤ مگر خود یہ باہر سرمایہ لگاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دبئی میں پراپرٹی رکھنے والوں کو منی ٹریل دینی چاہیے چاہے وہ سیاستدان ہو، بیوروکریٹ ہو یا فوجی افسر۔ان کا کہنا تھا کہ ایک مخصوص طبقہ پاکستان کی دولت کو باہر لے کر جارہا ہے، وہ اپنے اثاثوں کو ڈیکلیئر بھی نہیں کرتا، اب تک تو الیکشن کمیشن کو ایکشن لینا چاہیے تھا، الیکشن ایکٹ کے تحت فارم میں اثاثوں کی تفصیل دی جاتی ہے، جن لوگوں کے نام دبئی پراپرٹی لیکس میں آئے ان کو 2 دن میں چیک کرکے ڈی سیٹ کیا جاسکتا ہے۔
    انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت پائی پائی کے محتاج ہیں، لوگ ساڑھے 3 ہزار ارب روپے لے کر دبئی چلے گئے، دبئی لیکس والے معاملے پر منی ٹریل سامنے آنا چاہیے، ایک مخصوص طبقہ پاکستان کی دولت کو باہر لے کر جا رہا ہے۔امیر جماعت اسلامی پاکستان کا کہنا تھا کہ بجٹ کی تیاری جاری ہے، حکمران سارا کا سارا بوجھ عوام پر ڈالنا ضروری سمجھتے ہیں، پاکستان کو آئی ایم ایف نے اب تک 23 بیل آؤٹ پیکج دیئے ہیں، آئی ایم ایف کے ان پیکج سے پاکستان تباہ و برباد ہوچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف امریکا کا زیر اثر ادارہ ہے، سامراجی طاقتیں اپنے احکاما ت منواتی ہیں، اب آئی ایم ایف کے لوگ براہ راست ہمارے اداروں سے رابطہ کر رہے ہیں، آئی ایم ایف نے نیپرا کو بجلی کے ٹیرف بڑھانے کا کہا ہے، آئی پی پیز کے معاہدے پوری قوم کیلئے تباہ کن ہیں۔
    حافظ نعیم الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ لوگوں نے حالات سے مایوس ہو کر سولر پینل لینا شروع کئے، اب کہا جا رہا ہے نیٹ میٹرنگ بھی ختم کر دی جائے گی، اب لوگوں کی سرمایہ کاری پر بھی تلوار لٹک رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ چند لوگوں کے مفادات کی خاطر پاکستانی قوم سزا بھگت رہی ہے، بجلی کے بل آپ اور میں اس لیے زیادہ ادا کرتے ہیں کیونکہ اربوں روپے کے معاہدے ہوئے ہیں کہ آپ لیں یا نہ لیں، آپ کو بجلی کی قیمت ادا کرنی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک ایسی آئی پی پی بھی موجود ہے جس نے ایک میگاواٹ بجلی پیدا کیے بغیر 28 ارب روپے کا منافع کمایا، قوم کے پیسوں پر ڈاکہ ڈال کر اس آئی پی پی کو 28 ارب روپے ادا کیے گئے کیونکہ معاہدہ تھا کہ آپ بجلی لیں یا نہ لیں قیمت ادا کرنا ہوگی۔
    حافظ نعیم نے کہا کہ ایسے ظالمانہ قسم کے معاہدے کرنے میں حکمران اور ساری جماعتیں شامل ہیں، بجلی اتنی مہنگی ہوگی تو صنعت کا پہیہ کیسے چلے گا، چھوٹی صنعتیں کیسے چلیں گی، کھیتوں میں ٹیوب ویل کیسے چلیں گے۔انہوں نے کہا کہ جب لوگوں نے مایوس ہوکر جمع پونجی لگا کر سولر پینل لگانا شروع کیے تو نیٹ میٹرنگ شروع ہوئی جس کے تحت لوگوں کو پیسے ملنے چاہئیں اور اب سازش ہورہی ہے کہ نیٹ میٹرنگ ختم کردی جائے، حکومت نے لوگوں سے اتنی بڑی سرمایہ کاری کروائی جس پر اب تلوار لٹک رہی ہے، اس کے علاوہ سولر پینل پر مزید ٹیکس لگانے کی بات کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسی صورت میں غریب لوگ کہاں جائے، جو تھوڑی بہت سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں ان کے راستے بند کیے جارہے ہیں جس کی وجہ سے لوگ مایوس ہوکر ملک سے باہر نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔

  • یاسمین راشد کی طبیعت بہتر ہے  ، ہسپتال انتظامیہ

    یاسمین راشد کی طبیعت بہتر ہے ، ہسپتال انتظامیہ

    سروسز اسپتال لاہور کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی رہنما یاسمین راشد کی طبیعت بہتر ہے ڈرپس لگنے کے بعد سے یاسمین راشد کے جسم میں پانی کی کمی اور کمزوری دور ہوئی، ان کو پیٹ اور کمر میں درد کی شکایت ہے۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یاسمین راشد کی سانس بحال رکھنے کے لیے آکسیجن لگائی ہوئی ہے۔ اسپتال انتظامیہ نے کہا کہ یاسمین راشد کو قے اور پانی کی کمی کی شکایت پر جیل سے اسپتال لایا گیا تھا۔ واضح رہے کہ یاسمین راشد کی طبعیت کل شدید گرمی کے باعث بگڑ گئی تھی جن کو ہسپتال پہنچا کر طبی امداد دی گئی ،

  • محکمہ موسمیات نے گلگت بلتستان میں ممکنہ  سیلاب کی وارننگ دیدی

    محکمہ موسمیات نے گلگت بلتستان میں ممکنہ سیلاب کی وارننگ دیدی

    محکمہ موسمیات نے گلگت بلتستان کے رہائشیوں کو درجہ حرارت بڑھنے کے باعث رواں ہفتے گلیشیر پگلنے سے ممکنہ سیلاب کے خطرے سے خبردار کردیا۔محکمہ موسمیات نے گلگت بلتستان کے رہائشیوں کو اس ہفتے ممکنہ گلیشیئل لیک آؤٹ برسٹ فلڈ (گلوف) کے واقعات اور سیلاب کے خطرے سے خبردار کردیا۔ اس حوالے سے محکمہ موسمیات نے پیر کو مقامی حکام کو متنبہ کیا کہ GB اور خیبر پختونخواہ میں 21 اور 27 مئی کے درمیان دن کے وقت درجہ حرارت چار سے چھ ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کی توقع ہے، جو معمول سے زیادہ ہے۔
    محکمہ موسمیات نے خطے میں رواں ہفتے ممکنہ گلیشیل لیک آؤٹ برسٹ فلڈ (گلوف) کے واقعات اور سیلاب سے خبردار کیا ہے۔ اس دورانیہ میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ طوفان بھی متوقع ہے۔گلوف اور فلڈ سیلاب سے گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے ضلع چترال کے برف سے ڈھکے ہوئے اور برفانی علاقے متاثر ہونے کا امکان ہے۔مقامی حکام نے گلیشیئرز کے قریب رہنے والے لوگوں کو خبر دار کیا ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، سیاحوں کو بھی بارش کے دوران محتاط رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔الرٹ کی روشنی میں گلگت کے ڈپٹی کمشنر امیر اعظم حمزہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ شدید موسم میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور بل بورڈز، بجلی کے تاروں اور درختوں کے نیچے کھڑے نہ ہوں۔
    ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گلیشیئرز کے قریب رہنے والے لوگ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، اس کے علاوہ سیاحوں کو بھی بارش کے دوران محتاط رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ 2022 میں گلگت بلتستان کے اضلاع ہنزہ، نگر، غذر، استور، اسکردو اور گلگت کے کئی دیہاتوں کو سیلاب اور گلیشیر لگلنے کی وجہ سے بننے والے سیلاب اور دیگر واقعات نے متاثر کیا تھا۔

  • چینی کی قیمت میں اضافہ کسی صورت قبول نہیں ، وزیر اعظم شہباز شریف

    چینی کی قیمت میں اضافہ کسی صورت قبول نہیں ، وزیر اعظم شہباز شریف

    وزیر اعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ چینی کی قیمت میں اضافہ کسی صورت قبول نہیں ہے، درآمد کا فیصلہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کرے گی۔وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت چینی کی برآمد سے متعلق معاملات کا جائزہ لینے کیلئے خصوصی اجلاس ہوا،اجلاس میں وزیر اعظم کو بریفنگ دی گئی کہ کرشنگ شروع نہ ہوئی تو آئندہ سیزن میں شوگرملز دیوالیہ ہوجائیں گی، وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ آئندہ سیزن میں مالی مسائل کی وجہ سے 40 شوگر ملز بند ہو نے کے قریب ہیں ۔بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ شوگر ملز نے رواں سیزن گنے کے کاشت کاروں کو 800 ارب روپے میں سے 760 ارب روپے ادا کیے، ملز نے رواں سیزن کاشت کاروں کو ابھی بھی 40 ارب روپے ادا کرنا ہیں، اگر چینی برآمد نہ ہوئی تو شوگر ملز نومبر میں کرشنگ نہیں کرسکیں گی۔
    حکام کا کہنا تھا کہ ملک میں 15 لاکھ ٹن چینی اضافی ہے، اگر 5 لاکھ ٹن چینی ایکسپورٹ کی گئی تو 26 کروڑ ڈالر حاصل ہوں گے۔اجلاس میں وزیراعظم شہبازشریف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چینی کی برآمد کا فیصلہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کرے گی،انہوں نے ہدایت کی اقتصادی رابطہ کمیٹی چینی کے سٹاک اور عالمی مارکیٹ کا جائزہ لے، ملک میں چینی کی قیمت میں اضافہ کسی صورت قبول نہیں، شوگر ملز پورا سال 140 روپے ایکس فیکٹری قیمت پرچینی کی فراہمی کی یقین دہانی کرائیں

  • وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر متحدہ عرب امارات پہنچ گئے

    وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر متحدہ عرب امارات پہنچ گئے

    وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ دورے پر متحدہ عرب امارات پہنچ گئے۔متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، نائب وزیراعظم اور صدارتی دربار کے چیئرمین نے وزیراعظم شہباز شریف کا استقبال کیا۔وزیراعظم کے استقبال میں متحدہ عرب امارات میں پاکستانی سفیر اور اعلیٰ پاکستانی و اماراتی حکام بھی شریک تھے۔
    وزیراعظم شہباز شریف آئی ٹی شعبے سے تعلق رکھنے والی پاکستانی اوریو اے ای کی کاروباری شخصیات سے ملاقات کریں گے۔وزیراعظم شہباز شریف وفاقی وزرا کے ہمراہ ایک روزہ دورے پر متحدہ عرب امارات روانہ ہوگئے ہیں۔ وزیرِ اعظم کا وزارتِ عظمی کا منصب سنبھالنے کے بعد شہباز شریف کا متحدہ عرب امارات کا یہ پہلا دورہ ہے، ان کا یہ دورہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین موجود دیرینہ برادرانہ تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا۔وزیراعظم ہاؤس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف و نائب وزیراعظم اسحاق ڈار دیگر وفاقی وزرا کے ہمراہ ایک روزہ دورے پر متحدہ عرب امارات روانہ ہوگئے ہیں، وزیرِاعظم شہباز شریف صدر متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کریں گے، ملاقات میں متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے مابین تعاون کے مزید فروغ کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوگا۔
    وزیرِاعظم اپنے دورے کے دوران انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے سے تعلق رکھنے والی پاکستانی اور متحدہ عرب امارات کی کاروباری شخصیات و سرمایہ کاروں سے ملاقات بھی کریں گے۔پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف آج 2 بجکر 30 منٹ پر پاکستانی اور متحدہ عرب امارات کی کاروباری شخصیات و سرمایہ کاروں سے خطاب بھی کریں گے جو پی ٹی وی نیوز پر براہ راست دیکھایا جائے گا۔’وزیرِ اعظم کی اعلی اماراتی قیادت اور کاروباری برادرای سے ملاقاتیں حکومت کی سفارتی کامیابیوں اور دوست ممالک کے پاکستان میں سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتی ہیں۔‘واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ متحدہ عرب امارات روانہ ہونے والے وفاقی وزرا میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیردفاع خواجہ آصف، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیراطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور معاون خصوصی طارق فاطمی شامل ہیں۔

  • کرغزستان میں پھنسے سندھ کے 205 طلبہ کو واپس لایا گیا ہے، ترجمان سندھ حکومت

    کرغزستان میں پھنسے سندھ کے 205 طلبہ کو واپس لایا گیا ہے، ترجمان سندھ حکومت

    کرغزستان میں پھنسے پاکستانیوں کی وطن واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔بشکیک سے 205 طلبہ کو لے کر پی آئی اے کی پہلی پرواز پی کے 6260 کراچی پہنچ گئی، اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سمیت دیگر افراد نے طلبہ کا واپسی پر استقبال کیا۔کراچی ایئر پورٹ پر طلبہ کے اہلخانہ بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔بشکیک سے پی آئی اے کی جانب سے مرحلہ وار لاہور، اسلام آباد، پشاور اور ملتان کیلئے بھی خصوصی پروازیں آپریٹ کی جا رہی ہیں۔واضح رہے کہ بشکیک سے کئی پروازوں کے ذریعے پاکستانی طلبہ وطن واپس پہنچ چکے ہیں۔
    اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ آج 205 بچے کراچی پہنچے ہیں، سندھ کے مزید 180 طلبا کرغزستان میں ہیں جن میں 6 زخمی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ کوشش کر رہے ہیں کہ ان بچوں کے لیے خصوصی پرواز بھیجیں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ کرغزستان کا واقعہ کے بعد چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے ہدایت دی تھی کہ طلبا کی واپسی کا بندوبست کریں، سندھ حکومت نے بچوں کی واپسی کا بندوبست کیا اور ان کے والدین سے بھی رابطے میں رہے۔ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق، کرغزستان میں پھنسے سندھ کے 205 طلبہ کو واپس لایا گیا ہے، صوبائی حکومت طلبا کی واپسی کے حوالے سے متعلقہ حکام اور شہریوں سے مسلسل رابطے میں رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ طلبا کے والدین اور رشتہ دار بھی کراچی ایئرپورٹ پر بڑی تعداد میں موجود ہیں، کرغستان سے پاکستان تک سفر کا انتظام صوبائی حکومت نے کیا اور طلبا کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنایا۔

  • پیمرا  کی جانب سے عدالتی کارروائی کی نشریات پر پابندی کا نوٹیفکیشن اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی چیلنج

    پیمرا کی جانب سے عدالتی کارروائی کی نشریات پر پابندی کا نوٹیفکیشن اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی چیلنج

    عدالتی کارروائی کی رپورٹنگ پر پابندی کا پیمرا کا نوٹیفکیشن اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ ایسوسی ایشن کے صدور عقیل افضل اور فیاض محمود نے نوٹیفکیشن کیخلاف درخواست دائر کی، درخواست بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی اور صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار ریاست علی آزاد کے ذریعے دائر کی گئی۔پیمرا نوٹیفکیشن کے خلاف درخواست میں سیکرٹری اطلاعات اور چیئرمین پیمرا کو فریق بنایا گیا ہے ،درخواست میں کہا گیا کہ پیمرا نے 21 مئی کو ترمیمی نوٹیفکیشن کے ذریعے عدالتی رپورٹنگ سے متعلق ہدایات جاری کیں، پیمرا کا نوٹیفکیشن آئین کے آرٹیکل 19 اور 19 اے کی خلاف ورزی ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کی پیمرا کے نوٹیفکیشن میں غلط تشریح کی گئی۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت پیمرا کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے اور پٹیشن کے حتمی فیصلہ تک نوٹیفکیشن معطل کرے۔
    قبل ازیں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی جانب سے عدالتی کارروائی کی نشریات پر پابندی کا نوٹیفکیشن لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔ثمرہ ملک ایڈووکیٹ نے لاہور ہائیکورٹ میں پیمرا کا 21 مئی نوٹیفکیشن چیلنج کیا جبکہ درخواست میں پیمرا، وفاقی حکومت اور سیکرٹری انفارمیشن کو فریق بنایا گیا۔درخواست گزار نے کہا کہ پیمرا کا 21 مئی کو جاری کردہ نوٹیفکیشن غیر قانونی اور آئین کے آرٹیکل 19 اور 19 اے کی خلاف ورزی ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت پیمرا کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے اور پٹیشن کے حتمی فیصلہ تک نوٹیفکیشن معطل کرے۔

  • آئی ایم ایف مذاکرات ، بجٹ 25-2024 میں پاکستان کے قرضوں میں اضافہ ہونے کا امکان

    آئی ایم ایف مذاکرات ، بجٹ 25-2024 میں پاکستان کے قرضوں میں اضافہ ہونے کا امکان

    عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے نئے قرض پروگرام کے لیے مذاکرات کا آغاز قرض اہداف کی پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد ہوگا۔ بجٹ 25-2024 میں پاکستان کے قرضوں میں اضافہ ہونے کا امکان ہے، آئی ایم ایف نے بھی آئندہ بجٹ میں قرضوں کےاضافے کاخدشہ ظاہر کیا ہے قرض 10ہزار 433 ارب روپے ہوسکتا ہے اس طرح آئندہ مالی سال میں قرض87 ہزار346ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔اس حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ آئندہ مالی سال حکومت کےمقامی قرض میں7 ہزار636 ارب روپے اضافے کا امکان ہے۔ علاوہ ازیں ایک سال میں حکومت کےغیر ملکی قرض میں 2 ہزار797 ارب روپے اضافے کا امکان ہے۔
    ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال پاکستان کامقامی قرضہ بڑھ کر53 ہزار878 ارب روپے، ایک سال میں حکومت کاغیر ملکی قرضہ بڑھ کر33 ہزار648 ارب روپے پرپہنچ سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق رواں مالی سال حکومت کے قرضے 76ہزار913 ارب روپے، مالی سال کے اختتام تک حکومت کا مقامی قرضہ46 ہزار242 ارب روپے اور حکومت کاغیر ملکی قرضہ مالی سال کے اختتام تک30 ہزار671 ارب روپےرہنےکا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف وفدکے ساتھ پاکستانی حکام کے مذاکرات کا آج آخری دن ہے، آئی ایم ایف وفد کے ارکان بغیر کسی اعلان کے آج اور کل روانہ ہوجائیں گے جب کہ آئی ایم ایف کے ساتھ حالیہ مذاکرات قرض پروگرام کے لیے نہیں تھے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان سے معیشت کے بارے ڈیٹا حاصل کیا اور ڈیٹا وصولی کی بعد معیشت کا جائزہ لےکربجٹ کے خدوخال پاکستانی حکام کو بتا دیے ہیں، نجکاری اور توانائی کے شعبے کی اصلاحات کے اہداف سے بھی پاکستانی حکام کوآگاہ کردیا گیا ہے، اگلےسال کےلیے ٹیکس وصولیوں اور ایف بی آر اصلاحات کےلائحہ عمل سے بھی آگاہ کردیاگیا ہے۔
    ذرائع کا کہنا ہے کہ بجٹ اہداف اورخدوخال کی پارلیمنٹ سےمنظوری کے بعد مذاکرات شروع ہوں گے، یہ پہلی بارہوگا کہ پاکستان مذاکرات سے پہلے آئی ایم ایف کے تمام مطالبات پر عملدرآمد شروع کردےگا یا اہداف اور خدوخال کی پارلیمنٹ سے منظوری کراکے ان پر عملدرآمدکی تاریخ کا تعین کریگا۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ نئے قرض پروگرام کے لیے مذاکرات جون کے آخر میں شروع ہوں گے، آئی ایم ایف اور پاکستانی حکام کوشش کررہے ہیں کہ یکم جولائی سے پہلے معاہدہ ہوجائے۔