Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • ہتک عزت بل 2024 : صحافیوں کا  پیرکو اسمبلی اجلاس سے پہلے احتجاج کا اعلان

    ہتک عزت بل 2024 : صحافیوں کا پیرکو اسمبلی اجلاس سے پہلے احتجاج کا اعلان

    لاہور پریس کلب میں ہونے والے اجلاس میں سی پی این ای، پی ایف یو جے، کیمرا مین اور فوٹوگرافر ایسوسی ایشنز کے نمائندوں نے شرکت کی۔صدرلاہور پریس کلب ارشد انصاری کا کہنا تھا کہ ارباب اختیار کو پُرامن طور پر اپنے احتجاج سے آگاہ کر رہے ہیں۔صدر سی پی این ای ارشادعارف نے کہا کہ پیمرا، ہتک عزت اورپیکا کے قوانین پہلے سے موجود ہیں، ایسے میں نیا قانون بدنیتی پر مبنی ہے۔ اجلاس کی صدارت صدر لاہورپریس کلب ارشد انصاری نے کی ۔ مجوزہ ہتک عزت بل 2024 کو متفقہ طورپر مستردکردیاگیا۔اجلاس میں متفقہ طورپر مجوزہ ہتک عزت بل کے خلاف بھرپور احتجاج کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔ اجلاس میں سی پی این ای کے صدر ارشاد احمد عارف نے خصوصی شرکت کی۔اجلاس میں فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ، پنجاب یونین آف جرنلسٹس، ایپنک، ، فوٹوگرافرز اور کیمر ہ مین ایسوسی ایشن کے تمام دھڑوں کے نمائندوں،پنجاب اسمبلی پریس گیلری اور سینئر صحافیوں نے شرکت کی۔اجلاس میں وکلاعدیل عباس، خرم محمود، رانا ندیم اور بیرسٹر سہیل انصر کے پینل نے ہتک عزت کے مجوزہ بل کے خدوخال پر بریفنگ دی ۔ صدر ارشد انصاری نے کہاکہ ہتک عزت بل 2024 مسلط کیاجارہاہے اسے قبول نہیں کریں گے ،حکومت بل بنانے سے باز نہ آئی تو سوموار سے اسمبلی اجلاس سے پہلے بھرپور احتجاج ہوگا۔ احتجاج میں پنجاب اسمبلی کی اپوزیشن کو بھی شرکت کی دعوت دی جائے گی ، جبکہ سول سوسائٹی کے نمائندے بھی احتجاج میں شریک ہو ں گے ۔ اس موقع پر سی پی این ای ، پی بی اے ، اے پی این ایس، ایمنڈ اورفیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رکن اور سی پی این ای کے صدر ارشاد احمد عار ف نے کہاکہ ان کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی پہلے ہی اس قانون کو مسترد کر چکی ہے اور ہم اس احتجاج کے حق میں ہیں،پیمرا، ہتک عزت اور پیکا کے قوانین پہلے سے موجود ہیں ، نیاقانون بدنیتی پرمبنی ہے ، یہ قانون آزاد صحافت کو ٹارگٹ کرنے کے لئے بنایاجارہاہے ۔

    سی پی این ای کے سابق صدر کاظم خان نے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کی مکمل حمایت کی۔لاہورپریس کلب کے نائب صدر امجد عثمانی نے کہاکہ صحافی کی جو تعریف کی گئی ہے یہ قانون صحافت پر شکنجہ بنایاجارہاہے ۔ سیکرٹری لاہورپریس کلب زاہد عابد نے کہاکہ ہم حکومت سے کوئی ٹکرانانہیں چاہتے لیکن اگر قانون اس طرح مسلط کیاگیا توپر امن احتجاج کا ہر راستہ اختیارکریں گے ۔ فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سیکرٹری جنرل راجہ ریاض نے کہاکہ آرٹیکل 10 اے کو بھی روندا جارہاہے ، متفقہ طورپر احتجاج کے لئے تیار ہیں۔ فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے جنرل سیکرٹری راناعظیم کی جانب سے بھی اس عزم کا اظہارکیاگیا کہ اس قانون کے خلاف ہرسطح پر مزاحمت کریں گے ۔ پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے صدر زاہد رفیق بھٹی نے کہاکہ سینئر وکلاسے مشاورت کر کے عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹائیں گے ۔ پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے رہنماضیائاللہ خان نیازی نے کہاکہ اس کالے قانون کو یکسر مسترد کرتے ہیں ۔

    پی یوجے دستور کے مرکزی رہنما حامد ریاض ڈوگر نے کہاکہ اس قانون کا راستہ روکنے کے لئے متحد ہوکر احتجاج کرنے کی ضرورت ہے ۔ سابق صدر لاہورپریس کلب معین اظہر نے کہاکہ ہم کسی کی پگڑیاں اچھالنے کے حق میں نہیں ، لیکن پیشہ وارانہ صحافتی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں خوف کی فضاکو برداشت نہیں کریں گے ۔ پریس گیلری کے سیکرٹری حسان احمد نے کہا فیک نیوزکی مجوزہ قانون میں کوئی واضح تعریف نہیں کی گئی کسی مخالف پر بھی الزام لگاکر کارروائی کی جاسکتی ہے ۔ شاہد چودھری ، نعیم حنیف ، قمربھٹی ،ایپنک کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل نواز طاہر ،ممبر گورننگ باڈی عمران شیخ،ممبر گورننگ باڈی فاطمہ مختار بھٹی، ممبر گورننگ باڈی اعجاز مرزا،کورٹ رپورٹرزایسوسی ایشن کے صدر عبادالحق ،پی یوجے کے جنرل سیکرٹری حسنین ترمذی ،وحید بٹ ، رضوان انور ، صلا ح الدین بٹ ، پرویز الطاف نے بھی خطاب کیا ، اجلاس میں پریس کلب کے فنانس سیکرٹری سالک نواز ، ممبران گورننگ باڈی راناشہزاد،عابد حسین ، سید بدر سعید ، سینئر صحافی منور بٹ خاوربیگ ، فرازفاروقی ، رفیق خان ، اعجاز لاہوری، خالد امین ، احسان بھٹی ، شکیل سعید ، تنویر ہاشمی سمیت صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

  • میجر بابر شہید نے بلوچستان کے عوام کے لیے اپنی جان قربان کی، وزیر اعلی بلوچستان

    میجر بابر شہید نے بلوچستان کے عوام کے لیے اپنی جان قربان کی، وزیر اعلی بلوچستان

    وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی میانوالی میں شہید میجر بابر خان نیازی کے گھر پہنچے اور اہلِ خانہ سے تعزيت کی۔سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میجر بابر خان شہید کا قرض دار ہے، میجر بابر شہید نے بلوچستان کے عوام کے لیے اپنی جان قربان کی۔انہوں نے کہا کہ میجر بابر شہید کا خون ہمارے بچوں کی حفاظت میں گرا، بلوچستان کے لوگ اپنی پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں، دہشت گردوں کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے۔وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کا مزید کہنا ہے کہ یہ جنگ عوام، فوج، عدلیہ اور انٹیلیجنس اداروں سمیت ہم سب نے لڑنی ہے۔سرفراز بگٹی نے یہ بھی کہا ہے کہ امن بحال کر کے عوام کو جانی و مالی تحفظ دینا ہماری آئینی ذمے داری ہے، دہشت گردوں کا قلع قمع کر کے دم لیں گے۔

  • پی آئی اے کی اسلام آباد سے ٹورنٹو جانے والی پرواز پی کے 781 میں فنی خرابی

    پی آئی اے کی اسلام آباد سے ٹورنٹو جانے والی پرواز پی کے 781 میں فنی خرابی

    قومی ایئرلائن پی آئی اے کی اسلام آباد سے ٹورنٹو جانے والی پرواز پی کے 781 میں فنی خرابی ہوگئی، جس کے بعد پرواز کا رخ کراچی کی طرف موڑ دیا گیا۔ترجمان پی آئی اے عبداللّٰہ خان کے مطابق جہاز میں فنی خرابی معمولی نوعیت کی ہے، کپتان نے طویل پرواز جاری رکھنے کے بجائے واپسی کو ترجیح دی۔ ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ پرواز کی دوبارہ روانگی کا شیڈول کل دوپہر ایک بجے ہے۔انہوں نے بتایا کہ جہاز کو کراچی لے جانے کا فیصلہ انجینئرنگ بیس پر بہتر انتظامات اور پرزہ جات کی دستیابی کے باعث کیا گیا۔کراچی میں پرواز کے استقبال کے تمام اقدامات مکمل، مسافروں کو ایئر پورٹ ہوٹل میں قیام کروایا جائے گا۔ترجمان کا کہنا تھا کہ مسافروں کی دیکھ بھال کے لیے طعام اور ٹرانسپورٹ کا مکمل انتظام کی گیا ہے۔

  • اگر سیاستدان کہیں کہ وہ معصوم ہیں ساری غلطی اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ نے کی تو یہ درست نہیں۔ رانا ثناءاللہ

    اگر سیاستدان کہیں کہ وہ معصوم ہیں ساری غلطی اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ نے کی تو یہ درست نہیں۔ رانا ثناءاللہ

    وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ 6 ججوں کے خط کے معاملے میں کسی کو کٹہرے میں کھڑا کرکے یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکتا ہے، حل اس کے سوا کوئی نہیں کہ ادارے اور لوگ ایک جگہ بیٹھ کر معاملہ سلجھائیں۔ ایک پروگرام میں گفتگو کے دوران رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ 6 ججوں کے خط کا معاملہ آؤٹ آف کورٹ حل کرنا ہوگا۔رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ جنہوں نے بھی پریس کانفرنس کی، وہ پارلیمنٹ کے ارکان ہیں، حکومت کے پابند نہیں، ان ارکان نے پارلیمنٹ نے جس طرح مناسب سمجھا اس کے مطابق بات کی۔ان کا کہنا تھا کہ روز پی ٹی آئی کے تین چار لوگ آتے ہیں اور میڈیا پر ہوائی فائرنگ شروع کردیتے ہیں، ہماری طرح سے جو لوگ دستیاب ہوتے ہیں تو وہ بھی بات کرتے ہیں۔وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ ایسی بات نہیں کہ کسی پر دباؤ ڈالا گیا ہو کہ جاکر یہ بات کریں، پی ٹی آئی والے جن الفاظ میں تنقید کرتے ہیں کیا اس طرح تنقید کی جاسکتی ہے۔
    انہوں نے کہا کہ کیا پی ٹی آئی کے ارکان عدلیہ کے وقار کو ملحوظ خاطر رکھ کر تنقید کرتے ہیں، اگر سیاستدان کہیں کہ وہ معصوم ہیں ساری غلطی اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ نے کی تو یہ درست نہیں۔راناثناء اللّٰہ نے کہا کہ اگر عدلیہ کہے کہ ہم نے تو بالکل آئین اور قانون کی پاسداری کی ہے وہ بھی درست نہیں ہوگا، اسٹیبلشمنٹ کہے کہ کبھی کسی کے معالے میں دخل نہیں دیا تو یہ بات بھی سچ نہیں ہوگی۔رانا ثناء اللّٰہ نے مزید کہا کہ وزیرِ اعظم سوچ رہے ہیں کہ اس معاملے پر صدر مملکت کو ایڈوائس کریں کہ وہ اس معاملے میں اپنا کردار ادا کریں۔ان کا کہنا تھا کہ میری وزیراعظم سے بات ہوئی ہے، شہباز شریف کا خیال ہے کہ اس طرح معاملات چلتے رہے تو ملک کو کیسے بہتری کی طرف لے جاسکتے ہیں۔وزیراعظم کے مشیر نے یہ بھی کہا کہ ایک طرف سیاستدان یا حکومت، دوسری طرف عدلیہ اور تیسری طرف نشانہ اسٹیبلشمنٹ ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ کسی کے بھی حق میں یہ بہتر ہوسکتا ہے شرمندگی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا، سیاستدان، عدلیہ ،اسٹیبلشمنٹ سب کو ماضی سے نکلنا ہوگا۔
    انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ایک فریق چاہے کہ دیگر 2 پر الزام لگا کر خود کو کلیئر کرلے ایسا نہیں ہوگا، ماضی کے معاملے کو چھوڑ کر آج سے نیا آغاز کیا جائے۔وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ جن جج صاحبان نے خط لکھا ہے وہ سارے ہی قابل عزت اور بہترین انسان ہیں، اگر بات یہ کریں کہ یہ ہوتا رہا ہے اور آج کے بعد نہیں ہونا چاہیے تو یہ ہوسکتا ہے۔

  • صنعتی شعبے کےلیے ٹیرف ریشنلائزیشن کی حکمت عملی بنائی جائے، وزیر اعظم

    صنعتی شعبے کےلیے ٹیرف ریشنلائزیشن کی حکمت عملی بنائی جائے، وزیر اعظم

    وزیراعظم کی زیر صدارت صنعتی شعبے کو سہولیات فراہمی سے متعلق اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزراء اسحاق ڈار، خواجہ محمد آصف، محمد اورنگزیب اور جام کمال نے شرکت کی۔وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں کو کم لاگت پر بجلی اور گیس کی فراہمی یقینی بنانے کا اعلان کیا ہے۔اجلاس میں وزیر مملکت علی پرویز ملک اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔شرکاء کو صنعتوں اور گھریلو صارفین کو فراہم کیے جانے والے بجلی و گیس کے نرخوں پر بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ صنعتی ترقی اور برآمدات بڑھانے کے لیے صنعتوں کو کم لاگت پر بجلی اور گیس کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ صنعتوں کو سہولتیں دینا حکومت کی ترجیح ہے، صنعتی شعبے کو درپیش مسائل کا ترجیحی بنیادوں پر حل تلاش کیا جائے۔وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ صنعتی ترقی اور برآمدات بڑھانے کےلئے صنعتوں کو کم لاگت پر بجلی اور گیس فراہم کی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ صنعتی شعبے کےلیے ٹیرف ریشنلائزیشن کی حکمت عملی بنائی جائے، بجلی و گیس ٹیرف پر صنعتوں سے مشاورت کی جائے۔

  • پنجاب ؛ کسانوں سے کیا  وعدہ پورا کرنے کے لئے چیف سیکرٹری کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل

    پنجاب ؛ کسانوں سے کیا وعدہ پورا کرنے کے لئے چیف سیکرٹری کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل

    پنجاب حکومت کا تاریخی کسان دوست قدم سامنے آ گیا، کسان کارڈ پر کاشتکاروں کو بیج اور کھادوں کی خریداری کیلئے بلاسود قرضے دیئے جائیں گے، پنجاب حکومت نے منصوبے پر عملدرآمد کیلئے چیف سیکرٹری کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دیدی۔کسان کارڈ منصوبے پر 75 ارب روپے لاگت آئے گی، ساڑھے 12 ایکڑ سے کم زرعی زمین رکھنے والے کسان کارڈ کے لئے اہل ہوں گے۔کسان کارڈ پر کاشتکاروں کو بیج اور کھادوں کی خریداری کیلئے ڈیڑھ لاکھ روپے تک فی سیزن بلاسود قرض دیا جائیگا، ابتدائی طور پر 5 لاکھ کسانوں کو پہلے آؤ پہلے پاؤ کے تحت کارڈ جاری ہوں گے۔
    بیج اور کھادوں کے ڈیلرز کو بھی بینک آف پنجاب رجسٹرڈ کرے گا، قرض کی ادائیگی کرنیوالے کسان ہی اگلے برس دوبارہ قرض لینے کے اہل ہونگے، بینک آف پنجاب نے 10 ہزار ڈیلرز کی رجسٹریشن بھی کر لی ہے۔بینک آف پنجاب کے ذریعے کسانوں کو کارڈز فراہم کئے جائیں گے، کسانوں کو فی ایکڑ ایک ہزار روپے پروسیسنگ فیس ادا کرنا ہو گی، بینک آف پنجاب کسانوں کی آن لائن رجسٹریشن کرے گا۔

  • پی ٹی آئی میں اختلافات کی خبریں، بیرسٹر گوہر  کا پارٹی کے حوالے سے موقف سامنے آگیا

    پی ٹی آئی میں اختلافات کی خبریں، بیرسٹر گوہر کا پارٹی کے حوالے سے موقف سامنے آگیا

    پاکستان تحریک انصاف میں اختلافات کی خبریں سامنے آنے کے بعد اڈیالہ جیل میں پارٹی رہنماؤں کی ملاقات میں شبلی فراز پھٹ پڑے۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی میں اختلافات کی خبروں پر شبلی فراز نے سینیٹر اعظم سواتی کی موجودگی میں عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی اور اسد قیصر اور شاندانہ گلزار کے اختلافات سے آگاہ کیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے شبلی فراز کو خاموش رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ شاندانہ گلزار اور باقی رہنماؤں سے بات کریں گے۔
    ذرائع کے مطابق شبلی فراز نے کہا کہ مجھے شک کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے ، مجھے پارٹی میں خرابیوں کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان نے کہا کہ شاندانہ گلزار، شہریار، شیر افضل جذباتی ہیں لیکن پارٹی کیلئے ان کی قربانیاں ہیں۔ذرائع کے مطابق عمران خان نے شاندانہ گلزار کو ملاقات کیلئے طلب کرلیا اور پارٹی مسائل پر جھگڑنے کی بجائے رہنماؤں کی رہائی پر جدوجہد کا کہا۔ذرائع کا کہناہے کہ عمران خان نے مزید کہا کہ شکایتیں مت لگائیں،مجھے معلومات مل رہی ہیں کون کیا کر رہا ہے، مجھے پتہ ہے کس نے قربانیاں دیں اورکون کس سے ملا ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے شبلی فراز کو شکایات کے بجائے پارٹی کیلئے پارلیمان کے اندر اور باہر کام کرنے کا کہا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شاندانہ گلزار اگلے ہفتے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کریں گی، کورکمیٹی کو عمران خان سے ملاقات اور تفصیلات سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا پارٹی میں اختلافات سے متعلق مؤقف سامنے آگیا۔مقامی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ شبلی فراز پارٹی بیانیے اور پارٹی کمانڈ، کنٹرول پر بات کرتے ہیں، شبلی فراز کنونشن اور پارٹی معاملات پر بات کرتے ہیں، کوئی اختلافی بات نہیں۔بیرسٹر گوہر سے سوال کیا گیا کہ شاندانہ گلزار اور دیگر رہنما پہلے ملنا چاہتے تھے، کوئی اختلاف نہیں تو اب کیوں بلایا؟ جس کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے شاندانہ گلزار اور شہریار آفریدی کا نام بہت پہلے لیا تھا۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے انہیں بہت پہلے بلایا تھا، ان کے پاس عدالتی حکم نامہ بھی ہے، ہم نے استدعا کی تھی پارلیمنٹ کے رہنماؤں کو ملنے دیا جائے، یہ اختلاف کی وجہ سے نہیں بلایا بلکہ ہم بانی پی ٹی آئی کو نام دیتے ہیں، بانی پی ٹی آئی ان دیے گئے ناموں میں سے رہنماؤں کو بلاتے ہیں۔بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ اختلاف رائے الگ چیز ہے، یہ پارٹی میں ہوتا ہے لیکن اختلاف نہیں ہے۔

  • پاکستان نے سینٹرل ایشین والی بال چیمپئن شپ کا ٹائٹل جیت لیا ہے

    پاکستان نے سینٹرل ایشین والی بال چیمپئن شپ کا ٹائٹل جیت لیا ہے

    سا ت روزہ چیمپئن شپ پاکستان سپورٹس کمپلیکس اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جہاں فائنل میں پاکستانی ٹیم نے ترکمانستان کے خلاف زبردست کھیل کا مظاہرہ کیا۔ گرین شرٹس نے جارحانہ انداز میں کھیلتے ہوئے پچیس اکیس، پچیس انیس، بیس پچیس، اور پچیس چودہ سے فتح حاصل کی۔ پاکستان نے سینٹرل ایشین والی بال چیمپئن شپ کا ٹائٹل جیت لیا ہے۔ فائنل مقابلے میں پاکستان نے ترکمانستان کو تین ایک سے شکست دے کر یہ کامیابی حاصل کی۔چیمپئن شپ میں کرغزستان نے سری لنکا کو شکست دے کر تیسری پوزیشن حاصل کی۔ فائنل مقابلے کے دوران وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے۔ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر عابد قادری، سیکرٹری خالد محمود، اور مختلف ممالک کے سفرا سمیت بڑی تعداد میں شائقین نے یہ دلچسپ مقابلہ دیکھا۔پاکستان کی اس کامیابی نے نہ صرف کھیلوں کے میدان میں ملک کا نام روشن کیا بلکہ نوجوان کھلاڑیوں کے حوصلے بھی بلند کیے ہیں۔

  • پی سی بی کا پی ایس ایل میں مزید 2 ٹیمیں شامل کرنے کا منصوبہ

    پی سی بی کا پی ایس ایل میں مزید 2 ٹیمیں شامل کرنے کا منصوبہ

    پی سی بی اور پی ایس ایل فرنچائز مالکان کے اجلاس میں ایچ بی ایل پی ایس ایل 2025 کی ونڈو کو حتمی شکل دینے سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا ، لاہور میں پی سی بی اور پی ایس ایل فرنچائز مالکان کا اجلاس ہوا جس دوران پی ایس ایل 2025 کی ونڈو سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا جب کہ اجلاس میں ہرفرنچائزکے ایک ایک کھلاڑی کو براہ راست سائن کرنے کے آپشن پربھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔اجلاس میں بتایا گیا کہ پی سی بی پشاور اورکوئٹہ کو پی ایس ایل کے ممکنہ وینیوز کے طور پرغور کرے گا، ان دونوں شہروں کا ماحول سازگاراور معاون ہونے سے مشروط ہوگا۔اس موقع پر پی سی بی حکام کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل2026 میں مزید 2 ٹیمیں شامل کرنے کا منصوبہ ہے، پی ایس ایل اورآئی پی ایل کے اپریل، مئی کی ایک ساتھ ونڈوز میں کھلاڑیوں اور شائقین کو فائدہ ہوگا۔
    پی سی بی کا خیال ہے کہ ایچ بی ایل پی ایس ایل اور آئی پی ایل کے اپریل/ مئی ونڈوز میں ایک ساتھ رہنے سے کھیل، کھلاڑیوں اور شائقین کو فائدہ اور پھلنے پھولنے کا موقع ملے گا۔ پی سی بی اور فرنچائز مالکان کے درمیان ہر فرنچائز کے ایک ایک کھلاڑی کو براہ راست سائن کرنے کے آپشن پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ،پی سی بی پشاور اور کوئٹہ کو ایچ بی ایل پی ایس ایل کے ممکنہ وینیوز کے طور پر غور کرے گا اور یہ دونوں شہروں کا ماحول سازگار اور معاون ہونے سے مشروط ہوگا۔

  • پلاٹوں کی خرید و فروخت کرنے والے نان فائلرز کیلئے ٹیکسزکی شرح بڑھانے  کی تیاری

    پلاٹوں کی خرید و فروخت کرنے والے نان فائلرز کیلئے ٹیکسزکی شرح بڑھانے کی تیاری

    پلاٹس کی خرید و فروخت کے حوالے سے نان فائلرز کے لئے نئی مشکل کھڑی ہوگئی، ایف بی آر کی تجویز پر آئی ایم ایف متفق ہوگیا۔ذرائع نے کہا ہے کہ ہاؤسنگ سوسائٹیز میں پلاٹس کی خرید و فروخت کو ایف بی آر سے منسلک کرنے کیلئے تجاویز طلب کرتے ہوئے ریئل اسٹیٹ سیکٹر دستاویزی بنانے کیلئے کیش لین دین کے بجائے بینکنگ چینل استعمال کرنے کی تجویز دے دی۔ پاکستان اورآئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کا پانچواں روز ہے،ذرائع ایف بی آر نے بتایا کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے آئی ایم ایف وفد مطمئن نہ ہوسکا۔ہاؤسنگ سوسائٹیز کی رجسٹریشن اور پلاٹس کی خریدوفروخت پرٹیکسیشن کامیکنزم تیار نہ ہو سکا۔
    ذرائع کا کہنا تھا کہ پلاٹس کی خریدوفروخت پرنان فائلرز کیلئے ٹیکس بڑھانےکی تجویز پر آئی ایم ایف متفق ہوگیا۔ذرائع کے مطابق مذاکرات میں پلاٹس کی خریدوفروخت پر کیش لین دین کرنے پراضافی ٹیکسز عائد اور ہاؤسنگ سوسائٹیز میں پلاٹس کی کٹنگ، لینڈ پرچیزنگ سمیت تمام ریکارڈ کی رجسٹریشن کرنے مطالبہ کیا ہے۔وفاق اور صوبوں میں ریئل اسٹیٹ سیکٹر کی ٹیکسیشن پر ہم آہنگی کیلئے اتفاق نہ ہو سکا، پراپرٹی ایجنٹس کا ڈیٹا اور پلاٹوں کی خریدوفروخت کو باقاعدہ ایف بی آر میں رجسٹرڈ کیا جائے گا۔ریئل اسٹیٹ سیکٹر کی ان ڈاکیومینٹڈ ٹرانزکشنز ختم کرنے کیلئے بجٹ میں اقدامات ہوں گے، پلاٹوں کی خرید و فروخت کرنے والے نان فائلرز کیلئے ٹیکسزکی شرح بڑھائی جائے گی۔ذرائع کے مطابق پلاٹوں کی خریدوفروخت پر نان فائلرز کیلئے7 فیصد ودہولڈنگ اور 4 فیصد گین ٹیکس عائد ہے۔