وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ 6 ججوں کے خط کے معاملے میں کسی کو کٹہرے میں کھڑا کرکے یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکتا ہے، حل اس کے سوا کوئی نہیں کہ ادارے اور لوگ ایک جگہ بیٹھ کر معاملہ سلجھائیں۔ ایک پروگرام میں گفتگو کے دوران رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ 6 ججوں کے خط کا معاملہ آؤٹ آف کورٹ حل کرنا ہوگا۔رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ جنہوں نے بھی پریس کانفرنس کی، وہ پارلیمنٹ کے ارکان ہیں، حکومت کے پابند نہیں، ان ارکان نے پارلیمنٹ نے جس طرح مناسب سمجھا اس کے مطابق بات کی۔ان کا کہنا تھا کہ روز پی ٹی آئی کے تین چار لوگ آتے ہیں اور میڈیا پر ہوائی فائرنگ شروع کردیتے ہیں، ہماری طرح سے جو لوگ دستیاب ہوتے ہیں تو وہ بھی بات کرتے ہیں۔وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ ایسی بات نہیں کہ کسی پر دباؤ ڈالا گیا ہو کہ جاکر یہ بات کریں، پی ٹی آئی والے جن الفاظ میں تنقید کرتے ہیں کیا اس طرح تنقید کی جاسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کیا پی ٹی آئی کے ارکان عدلیہ کے وقار کو ملحوظ خاطر رکھ کر تنقید کرتے ہیں، اگر سیاستدان کہیں کہ وہ معصوم ہیں ساری غلطی اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ نے کی تو یہ درست نہیں۔راناثناء اللّٰہ نے کہا کہ اگر عدلیہ کہے کہ ہم نے تو بالکل آئین اور قانون کی پاسداری کی ہے وہ بھی درست نہیں ہوگا، اسٹیبلشمنٹ کہے کہ کبھی کسی کے معالے میں دخل نہیں دیا تو یہ بات بھی سچ نہیں ہوگی۔رانا ثناء اللّٰہ نے مزید کہا کہ وزیرِ اعظم سوچ رہے ہیں کہ اس معاملے پر صدر مملکت کو ایڈوائس کریں کہ وہ اس معاملے میں اپنا کردار ادا کریں۔ان کا کہنا تھا کہ میری وزیراعظم سے بات ہوئی ہے، شہباز شریف کا خیال ہے کہ اس طرح معاملات چلتے رہے تو ملک کو کیسے بہتری کی طرف لے جاسکتے ہیں۔وزیراعظم کے مشیر نے یہ بھی کہا کہ ایک طرف سیاستدان یا حکومت، دوسری طرف عدلیہ اور تیسری طرف نشانہ اسٹیبلشمنٹ ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ کسی کے بھی حق میں یہ بہتر ہوسکتا ہے شرمندگی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا، سیاستدان، عدلیہ ،اسٹیبلشمنٹ سب کو ماضی سے نکلنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ایک فریق چاہے کہ دیگر 2 پر الزام لگا کر خود کو کلیئر کرلے ایسا نہیں ہوگا، ماضی کے معاملے کو چھوڑ کر آج سے نیا آغاز کیا جائے۔وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ جن جج صاحبان نے خط لکھا ہے وہ سارے ہی قابل عزت اور بہترین انسان ہیں، اگر بات یہ کریں کہ یہ ہوتا رہا ہے اور آج کے بعد نہیں ہونا چاہیے تو یہ ہوسکتا ہے۔
Author: صدف ابرار
-

اگر سیاستدان کہیں کہ وہ معصوم ہیں ساری غلطی اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ نے کی تو یہ درست نہیں۔ رانا ثناءاللہ
-

صنعتی شعبے کےلیے ٹیرف ریشنلائزیشن کی حکمت عملی بنائی جائے، وزیر اعظم
وزیراعظم کی زیر صدارت صنعتی شعبے کو سہولیات فراہمی سے متعلق اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزراء اسحاق ڈار، خواجہ محمد آصف، محمد اورنگزیب اور جام کمال نے شرکت کی۔وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں کو کم لاگت پر بجلی اور گیس کی فراہمی یقینی بنانے کا اعلان کیا ہے۔اجلاس میں وزیر مملکت علی پرویز ملک اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔شرکاء کو صنعتوں اور گھریلو صارفین کو فراہم کیے جانے والے بجلی و گیس کے نرخوں پر بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ صنعتی ترقی اور برآمدات بڑھانے کے لیے صنعتوں کو کم لاگت پر بجلی اور گیس کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ صنعتوں کو سہولتیں دینا حکومت کی ترجیح ہے، صنعتی شعبے کو درپیش مسائل کا ترجیحی بنیادوں پر حل تلاش کیا جائے۔وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ صنعتی ترقی اور برآمدات بڑھانے کےلئے صنعتوں کو کم لاگت پر بجلی اور گیس فراہم کی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ صنعتی شعبے کےلیے ٹیرف ریشنلائزیشن کی حکمت عملی بنائی جائے، بجلی و گیس ٹیرف پر صنعتوں سے مشاورت کی جائے۔
-

پنجاب ؛ کسانوں سے کیا وعدہ پورا کرنے کے لئے چیف سیکرٹری کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل
پنجاب حکومت کا تاریخی کسان دوست قدم سامنے آ گیا، کسان کارڈ پر کاشتکاروں کو بیج اور کھادوں کی خریداری کیلئے بلاسود قرضے دیئے جائیں گے، پنجاب حکومت نے منصوبے پر عملدرآمد کیلئے چیف سیکرٹری کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دیدی۔کسان کارڈ منصوبے پر 75 ارب روپے لاگت آئے گی، ساڑھے 12 ایکڑ سے کم زرعی زمین رکھنے والے کسان کارڈ کے لئے اہل ہوں گے۔کسان کارڈ پر کاشتکاروں کو بیج اور کھادوں کی خریداری کیلئے ڈیڑھ لاکھ روپے تک فی سیزن بلاسود قرض دیا جائیگا، ابتدائی طور پر 5 لاکھ کسانوں کو پہلے آؤ پہلے پاؤ کے تحت کارڈ جاری ہوں گے۔
بیج اور کھادوں کے ڈیلرز کو بھی بینک آف پنجاب رجسٹرڈ کرے گا، قرض کی ادائیگی کرنیوالے کسان ہی اگلے برس دوبارہ قرض لینے کے اہل ہونگے، بینک آف پنجاب نے 10 ہزار ڈیلرز کی رجسٹریشن بھی کر لی ہے۔بینک آف پنجاب کے ذریعے کسانوں کو کارڈز فراہم کئے جائیں گے، کسانوں کو فی ایکڑ ایک ہزار روپے پروسیسنگ فیس ادا کرنا ہو گی، بینک آف پنجاب کسانوں کی آن لائن رجسٹریشن کرے گا۔ -

پی ٹی آئی میں اختلافات کی خبریں، بیرسٹر گوہر کا پارٹی کے حوالے سے موقف سامنے آگیا
پاکستان تحریک انصاف میں اختلافات کی خبریں سامنے آنے کے بعد اڈیالہ جیل میں پارٹی رہنماؤں کی ملاقات میں شبلی فراز پھٹ پڑے۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی میں اختلافات کی خبروں پر شبلی فراز نے سینیٹر اعظم سواتی کی موجودگی میں عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی اور اسد قیصر اور شاندانہ گلزار کے اختلافات سے آگاہ کیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے شبلی فراز کو خاموش رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ شاندانہ گلزار اور باقی رہنماؤں سے بات کریں گے۔
ذرائع کے مطابق شبلی فراز نے کہا کہ مجھے شک کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے ، مجھے پارٹی میں خرابیوں کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان نے کہا کہ شاندانہ گلزار، شہریار، شیر افضل جذباتی ہیں لیکن پارٹی کیلئے ان کی قربانیاں ہیں۔ذرائع کے مطابق عمران خان نے شاندانہ گلزار کو ملاقات کیلئے طلب کرلیا اور پارٹی مسائل پر جھگڑنے کی بجائے رہنماؤں کی رہائی پر جدوجہد کا کہا۔ذرائع کا کہناہے کہ عمران خان نے مزید کہا کہ شکایتیں مت لگائیں،مجھے معلومات مل رہی ہیں کون کیا کر رہا ہے، مجھے پتہ ہے کس نے قربانیاں دیں اورکون کس سے ملا ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے شبلی فراز کو شکایات کے بجائے پارٹی کیلئے پارلیمان کے اندر اور باہر کام کرنے کا کہا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شاندانہ گلزار اگلے ہفتے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کریں گی، کورکمیٹی کو عمران خان سے ملاقات اور تفصیلات سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا پارٹی میں اختلافات سے متعلق مؤقف سامنے آگیا۔مقامی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ شبلی فراز پارٹی بیانیے اور پارٹی کمانڈ، کنٹرول پر بات کرتے ہیں، شبلی فراز کنونشن اور پارٹی معاملات پر بات کرتے ہیں، کوئی اختلافی بات نہیں۔بیرسٹر گوہر سے سوال کیا گیا کہ شاندانہ گلزار اور دیگر رہنما پہلے ملنا چاہتے تھے، کوئی اختلاف نہیں تو اب کیوں بلایا؟ جس کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے شاندانہ گلزار اور شہریار آفریدی کا نام بہت پہلے لیا تھا۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے انہیں بہت پہلے بلایا تھا، ان کے پاس عدالتی حکم نامہ بھی ہے، ہم نے استدعا کی تھی پارلیمنٹ کے رہنماؤں کو ملنے دیا جائے، یہ اختلاف کی وجہ سے نہیں بلایا بلکہ ہم بانی پی ٹی آئی کو نام دیتے ہیں، بانی پی ٹی آئی ان دیے گئے ناموں میں سے رہنماؤں کو بلاتے ہیں۔بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ اختلاف رائے الگ چیز ہے، یہ پارٹی میں ہوتا ہے لیکن اختلاف نہیں ہے۔ -

پاکستان نے سینٹرل ایشین والی بال چیمپئن شپ کا ٹائٹل جیت لیا ہے
سا ت روزہ چیمپئن شپ پاکستان سپورٹس کمپلیکس اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جہاں فائنل میں پاکستانی ٹیم نے ترکمانستان کے خلاف زبردست کھیل کا مظاہرہ کیا۔ گرین شرٹس نے جارحانہ انداز میں کھیلتے ہوئے پچیس اکیس، پچیس انیس، بیس پچیس، اور پچیس چودہ سے فتح حاصل کی۔ پاکستان نے سینٹرل ایشین والی بال چیمپئن شپ کا ٹائٹل جیت لیا ہے۔ فائنل مقابلے میں پاکستان نے ترکمانستان کو تین ایک سے شکست دے کر یہ کامیابی حاصل کی۔چیمپئن شپ میں کرغزستان نے سری لنکا کو شکست دے کر تیسری پوزیشن حاصل کی۔ فائنل مقابلے کے دوران وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے۔ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر عابد قادری، سیکرٹری خالد محمود، اور مختلف ممالک کے سفرا سمیت بڑی تعداد میں شائقین نے یہ دلچسپ مقابلہ دیکھا۔پاکستان کی اس کامیابی نے نہ صرف کھیلوں کے میدان میں ملک کا نام روشن کیا بلکہ نوجوان کھلاڑیوں کے حوصلے بھی بلند کیے ہیں۔
-

پی سی بی کا پی ایس ایل میں مزید 2 ٹیمیں شامل کرنے کا منصوبہ
پی سی بی اور پی ایس ایل فرنچائز مالکان کے اجلاس میں ایچ بی ایل پی ایس ایل 2025 کی ونڈو کو حتمی شکل دینے سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا ، لاہور میں پی سی بی اور پی ایس ایل فرنچائز مالکان کا اجلاس ہوا جس دوران پی ایس ایل 2025 کی ونڈو سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا جب کہ اجلاس میں ہرفرنچائزکے ایک ایک کھلاڑی کو براہ راست سائن کرنے کے آپشن پربھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔اجلاس میں بتایا گیا کہ پی سی بی پشاور اورکوئٹہ کو پی ایس ایل کے ممکنہ وینیوز کے طور پرغور کرے گا، ان دونوں شہروں کا ماحول سازگاراور معاون ہونے سے مشروط ہوگا۔اس موقع پر پی سی بی حکام کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل2026 میں مزید 2 ٹیمیں شامل کرنے کا منصوبہ ہے، پی ایس ایل اورآئی پی ایل کے اپریل، مئی کی ایک ساتھ ونڈوز میں کھلاڑیوں اور شائقین کو فائدہ ہوگا۔
پی سی بی کا خیال ہے کہ ایچ بی ایل پی ایس ایل اور آئی پی ایل کے اپریل/ مئی ونڈوز میں ایک ساتھ رہنے سے کھیل، کھلاڑیوں اور شائقین کو فائدہ اور پھلنے پھولنے کا موقع ملے گا۔ پی سی بی اور فرنچائز مالکان کے درمیان ہر فرنچائز کے ایک ایک کھلاڑی کو براہ راست سائن کرنے کے آپشن پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ،پی سی بی پشاور اور کوئٹہ کو ایچ بی ایل پی ایس ایل کے ممکنہ وینیوز کے طور پر غور کرے گا اور یہ دونوں شہروں کا ماحول سازگار اور معاون ہونے سے مشروط ہوگا۔ -

پلاٹوں کی خرید و فروخت کرنے والے نان فائلرز کیلئے ٹیکسزکی شرح بڑھانے کی تیاری
پلاٹس کی خرید و فروخت کے حوالے سے نان فائلرز کے لئے نئی مشکل کھڑی ہوگئی، ایف بی آر کی تجویز پر آئی ایم ایف متفق ہوگیا۔ذرائع نے کہا ہے کہ ہاؤسنگ سوسائٹیز میں پلاٹس کی خرید و فروخت کو ایف بی آر سے منسلک کرنے کیلئے تجاویز طلب کرتے ہوئے ریئل اسٹیٹ سیکٹر دستاویزی بنانے کیلئے کیش لین دین کے بجائے بینکنگ چینل استعمال کرنے کی تجویز دے دی۔ پاکستان اورآئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کا پانچواں روز ہے،ذرائع ایف بی آر نے بتایا کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے آئی ایم ایف وفد مطمئن نہ ہوسکا۔ہاؤسنگ سوسائٹیز کی رجسٹریشن اور پلاٹس کی خریدوفروخت پرٹیکسیشن کامیکنزم تیار نہ ہو سکا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ پلاٹس کی خریدوفروخت پرنان فائلرز کیلئے ٹیکس بڑھانےکی تجویز پر آئی ایم ایف متفق ہوگیا۔ذرائع کے مطابق مذاکرات میں پلاٹس کی خریدوفروخت پر کیش لین دین کرنے پراضافی ٹیکسز عائد اور ہاؤسنگ سوسائٹیز میں پلاٹس کی کٹنگ، لینڈ پرچیزنگ سمیت تمام ریکارڈ کی رجسٹریشن کرنے مطالبہ کیا ہے۔وفاق اور صوبوں میں ریئل اسٹیٹ سیکٹر کی ٹیکسیشن پر ہم آہنگی کیلئے اتفاق نہ ہو سکا، پراپرٹی ایجنٹس کا ڈیٹا اور پلاٹوں کی خریدوفروخت کو باقاعدہ ایف بی آر میں رجسٹرڈ کیا جائے گا۔ریئل اسٹیٹ سیکٹر کی ان ڈاکیومینٹڈ ٹرانزکشنز ختم کرنے کیلئے بجٹ میں اقدامات ہوں گے، پلاٹوں کی خرید و فروخت کرنے والے نان فائلرز کیلئے ٹیکسزکی شرح بڑھائی جائے گی۔ذرائع کے مطابق پلاٹوں کی خریدوفروخت پر نان فائلرز کیلئے7 فیصد ودہولڈنگ اور 4 فیصد گین ٹیکس عائد ہے۔ -

اپریل 2024 کے کرنٹ اکاؤنٹ اور بیرونی سرمایہ کاری سے متعلق اعداد و شمار جاری
کرنٹ اکاؤنٹ اور بیرونی سرمایہ کاری سے متعلق اعداد و شمار جاری کردیے گئے ہیں۔ اپریل میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس رہا۔سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپریل 2024 کے کرنٹ اکاؤنٹ اور بیرونی سرمایہ کاری سے متعلق اعداد و شمار جاری کردیے۔سٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2024 میں ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ 49 کروڑ ڈالر سرپلس رہا۔سٹیٹ بینک کے مطابق رواں مالی سال کے 10 مہینوں میں ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20 کروڑ ڈالر ہے جبکہ مالی سال 2023 کے ابتدائی 10 مہینوں کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 3.92 ارب ڈالر تھا۔سٹیٹ بینک کے مطابق 10 مہینوں میں برآمدات 10 فیصد بڑھی ہیں جبکہ درآمدات 5 فیصد کم ہوئی ہیں۔10 مہینوں میں تجارت خدمات اور آمدن خسارہ 27 ارب سےکم ہوکر تقریباً 25 ارب ڈالر ہوا ہے۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2024 میں بیرونی سرمایہ کاری میں 60 کروڑ 47 لاکھ ڈالر کمی ہوئی۔ اپریل میں ملکی نجی شعبے میں 37 کروڑ 51 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی، ملکی نجی شعبے میں براہ راست 35.88 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی جبکہ سٹاک مارکیٹ میں اپریل میں 1.63کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی۔اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں سرکاری شعبے سے 97.99 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری نکالی گئی، 10مہینوں میں بیرونی سرمایہ کاری93 فیصد اضافے سے 65.93 کروڑ ڈالر رہی۔سٹیٹ بینک کے مطابق نجی شعبے میں 10 مہینوں میں 1 ارب 53 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی، 10 مہینوں میں براہ راست سرمایہ کاری 8 فیصد بڑھ کر 1.45ارب ڈالر رہی۔اعداد و شمار کے مطابق 10 مہینوں میں اسٹاک مارکیٹ میں 8.12 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی۔ -

پیشکشوں میں توسیع کا وقت ختم، نجکاری کمیشن پری کو آلیفیکیشن کریگا:عبدالعلیم خان
وفاقی وزیر برائے نجکاری، سرمایہ کاری بورڈ و مواصلات عبدالعلیم خا ن نے کہا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کے لئے پیشکشوں کا توسیع کا وقت ختم ہو گیا ہے اور اب تک پرائیویٹائزیشن کمیشن کو پاکستان انٹر نیشنل ائیر لائنز کی نجکاری کے لئے 8اہم کاروباری گروپس نے بات چیت کرتے ہوئے دلچسپی کا اظہار کر دیا ہے جن کی پی سی آرڈیننس 2000کے قوا عد و ضوابط کے مطابق نجکاری کمیشن پری کو آلیفیکیشن کا عمل سر انجام دے گا۔وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے بتایا کہ اب تک پیشکشیں جمع کروانے والوں میں فلائی جناح، ائیر بلیو لمیٹڈ، حبیب کارپوریشن، سردار اشرف ڈی بلوچ، شونکسی چائنہ سی آئی جی لیمیٹڈ اور جیریز انٹرنیشنل پرائیویٹ لمیٹڈجیسے نمایاں ادارے شامل ہیں۔اسی طرح کنسورشیم لیڈ بائی یونس برادرز ہولڈنگز اور کنسورشیم پاک ایتھنول کے علاوہ کنسورشیم لیڈ بائی بلیو ورلڈ سٹی نے بھی پیشکش جمع کروانے میں حصہ لیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے نجکاری عبدالعلیم خان نے بتایا کہ ان 8اداروں نے مقررہ وقت کے اندر اپنی اہلیت کا بیان اور دلچسپی کا اظہار جمع کروا دیا ہے اور اب اسے مد نظر رکھتے ہوئے پرائیویٹائزیشن کمیشن اہل اداروں کو بولی کے عمل کے اگلے مرحلے کے لئے مدعو کرے گا تاکہ پی آئی اے کی نجکاری کو حتمی مرحلے تک پہنچایا جا سکے۔
دریں اثناء وفاقی وزیر نجکاری و سرمایہ کاری بورڈ عبدالعلیم خان نے اسلام آباد میں تین روزہ پاکستان لائف سٹائل فرنیچر ایکسپو کا افتتاح کر دیا۔بطور مہمان خصوصی اس ایکسپو میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیرعبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ پاکستانی مصنوعات معیار اور لاگت میں ہر مارکیٹ کا مقابلہ کر سکتی ہیں بالخصوص پاکستانی فرنیچر عالمی معیار کا حامل ہے جسے ملکی و غیر ملکی منڈی میں فروغ ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری میڈیم اور سمال انڈسٹری مناسب تشہیر اور مواقع کے ساتھ مارکیٹ میں مقام حاصل کر سکتی ہے کیونکہ ہمارا نجی شعبہ کم لاگت سے بہترین مصنوعات کی پیداوار کر رہا ہے۔وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے کہا کہ ملکی مصنوعات کے فروغ سے زر مبادلہ میں اضافہ اور روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں،فرنیچر ایکسپو کا انعقاد خوش آئند ہے کیونکہ اس سے ہماری "سکلڈ لیبر” کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ عبدالعلیم خان نے تین روزہ پاکستان لائف سٹائل فرنیچر ایکسپو کے منتظمین کو مبارکباد دیتے ہوئے اُن کی کامیابی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور وہاں نمائش کے لیے لگائے گئے فرنیچر کو دیکھا اور اُن کے معیار اور طریقہ کار کو سراہا۔ -

اراکین پارلیمنٹ کا نوجوانوں اور عوامی صحت کے تحفظ کے لیے تمباکو پر ٹیکس بڑھانے پر زور
ہیومن ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن اور اس کی شراکت دار تنظیموں کے زیر اہتمام ایک حالیہ تقریب میں، پارلیمنٹ کے ارکان نے تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ان کی کھپت کو کم کیا جا سکے۔ اس اجتماع نے تمباکو کے استعمال کے وسیع اثرات سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے پالیسی سازوں، ماہرین، کارکنوں اور اسٹیک ہولڈرز کو اکٹھا کیا۔تقریب کے دوران، اراکین پارلیمنٹ نے اس اہم خطرے پر روشنی ڈالی جو تمباکو نوجوانوں اور پوری قوم دونوں کے لیے لاحق ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانا کھپت کو کم کرنے کا ایک مؤثر طریقہ ہو گا، اس طرح صحت عامہ کی حفاظت اور تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کے بوجھ کو کم کیا جا سکے گا۔
تقریب میں ماہرین اور کارکنوں نے تمباکو کے استعمال کے مضر اثرات کے بارے میں بصیرت کا اشتراک کیا، خاص طور پر نوجوانوں میں، اور صحت عامہ کے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مربوط کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ شرکاء نے مضبوط پالیسیوں پر عمل درآمد اور تمباکو کے خطرات کے بارے میں عوامی آگاہی بڑھانے کے لیے متحد اقدام پر زور دیا۔تقریب کا اختتام ایک سخت کال ٹو ایکشن کے ساتھ ہوا، جس میں حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ تمباکو پر زیادہ ٹیکس لگانے اور قوم کی صحت اور مستقبل کے تحفظ کے لیے سخت نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے جرات مندانہ اقدامات کرے۔تقریب سے مہمان خصوصی رکن قومی اسمبلی شہلا رضا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قیمتوں میں اضافہ سے سگریٹ نوجوانوں کی پہنچ سے دور کیا جا سکتا ہے۔ صحت عامہ کے تحفظ اور سماجی بہبود کو فروغ دینے کے لیے تمباکو کنٹرول کے موثر اقدامات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے شہلا رضا نے کہا معاشرے میں تمباکو کے استعمال کی حوصلہ شکنی کے لیے پوری قوم اور تمام سٹیک ہولڈرز کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
اس موقع پر پاکستان میں قائم تھنک ٹینک سینٹر فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ (CRD) کی ڈائریکٹر مریم گل طاہر نےکہا کہ سروے سے پتہ چلتا ہے کہ سگریٹ کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے 18 فیصد نے سگریٹ نوشی چھوڑ دی ہے۔ٹیکس میں اضافہ صحت عامہ اور حکومتی محصول دونوں کے لیے ایک جیت کا وعدہ کرتا ہے۔تقریب کے دوران ڈبلیو ایچ او کے ٹیکنیکل ایڈوائزر شہزاد عالم نے کہا کہ تمباکو کی غیر قانونی تجارت پر عالمی ادارہ صحت کی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ مجموعی طور پر پاکستان میں سگریٹ کی غیر قانونی تجارت تمباکو کی صنعت کے دعووں کے برعکس کل تجارت کا صرف 23.1 فیصد ہے۔
اس موقع پر رکن پارلیمنٹ نیلسن عظیم نے کہا کہ پاکستان میں تمباکو سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے صحت کی دیکھ بھال کے چیلنجز ہیں۔ قوم کو صحت کی دیکھ بھال پر سالانہ 615 ارب روپے کے خطرناک بوجھ کا سامنا ہے۔محمد صابر نے تمباکو پر ٹیکس میں اضافے کے فوائد پر زور دیتے ہوئے کہاجولائی 2023 سے جنوری 2024 کے درمیان ریونیو میں نمایاں اضافہ ہوا ہےجو 122 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔تقریب کا اختتام تمباکو کے استعمال کے خلاف جنگ میں تعاون جاری رکھنے کے عزم کے ساتھ ہوا۔