Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • بلوچستان انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ،میجر بابر خان شہید ، 3 دہشت گرد جہنم واصل

    بلوچستان انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ،میجر بابر خان شہید ، 3 دہشت گرد جہنم واصل

    سیکیورٹی فورسز کا بلوچستان کے ضلع ژوب کے علاقے سمبازہ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، سیکیورٹی اہلکاروں کی دہشت گردوں کے ٹھکانے پر موثر کارروائی، تین دہشت گرد مارے گئے۔ فائرنگ کے شدید تبادلے میں 33 سالہ میجر بابر خان بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئےآئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع ژوب کے علاقے سمبازہ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔آپریشن کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے دہشت گردوں کے ٹھکانے پر موثر کارروائی کی، جس کے نتیجے میں تین دہشت گرد مارے گئے، ہلاک دہشت گردوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا۔تاہم فائرنگ کے شدید تبادلے میں آپریشن کرنے والی ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے میانوالی کے 33 سالہ میجر بابر خان بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔علاقے میں موجود کسی دوسرے دہشت گرد کو ختم کرنے کے لئے آپریشن بھی کیا گیا۔ترجمان کے مطابق سیکیورٹی فورسز قوم کے شانہ بشانہ بلوچستان کے امن، استحکام اور ترقی کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لئے پرعزم ہیں اور ہمارے بہادر سپاہیوں کی یہ قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

    میجر بابر نیازی شہید کا تعلق ضلع میانوالی سے ہے میجر بابر نیازی شہید نے 2012 میں پاکستان آرمی کی پنجاب رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا ،میجر بابر نیازی شہید اس وقت فرنٹیر کوربلوچستان میں اپنے فرائض سر انجام دےرہے تھے میجر بابر نیازی شہید نے سوگواران میں بیوہ ،ایک 3 سالہ بیٹا اور والدین چھوڑے

    میجر بابر کی نماز جنازہ ژوب کینٹ میں ادا کر دی گئی۔نماز جنازہ میں اعلیٰ فوجی اور سول افسران، عوام اور سول انتظامیہ کے نمائندوں نے شرکت کی۔شہید کو مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ آبائی شہر میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

    پاکستان کی مسلح افواج قوم کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ملک کے امن و استحکام کو سبوتاژ کرنے کی دہشت گردی کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہے،ہمارے بہادر بیٹوں کی یہ قربانیاں دہشت گردی کی لعنت کے خلاف لڑنے کے ہمارے عزم کو تقویت دیتی ہیں،مادر وطن سے دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے تک دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی،

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے ژوب کے علاقے سمبازہ میں کامیاب آپریشن پر سیکورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا،صدر مملکت نے فرائض کی انجام دہی کے دوران جام شہادت نوش کرنے پر میجر بابر خان شہید کو خراج عقیدت پیش کیا،

    وفاقی وزیر داخلہ کا دہشتگردوں کے خلاف آپریشن میں شہید ہونے والے میجر بابر خان کو خراج عقیدت
    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ژوب، بلوچستان میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن میں شہید ہونے والے میجر بابر خان کی بہادری کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے شہید میجر بابر خان کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میجر بابر خان نے دہشتگردوں کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے اپنی قیمتی جان وطن پر نچھاور کی۔ انہوں نے کہا کہ شہید میجر بابر خان نے جرات اور بہادری کے ساتھ دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا، دہشتگردوں کے مذموم عزائم خاک میں ملانے پر شہید میجر بابر خان کو سلام پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ میجر بابر خان نے شہادت کا بلند ترین رتبہ پایا اور ان کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ شہداء وطن نے اپنے قیمتی لہو سے امن کی آبیاری کی ہے اورپوری قوم کو شہداء کی عظیم قربانیوں پر ناز ہے۔

  • پراپرٹی لیکس اصل وارداتیوں سے توجہ ہٹانے کا منصوبہ ہے، خواجہ آصف

    پراپرٹی لیکس اصل وارداتیوں سے توجہ ہٹانے کا منصوبہ ہے، خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پہلے پاناما لیکس کا کیا ہوا تھا جو اب پراپرٹی لیکس کا رولا پڑگیا ہے۔ اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ نواز شریف کا پاناما سے کوئی تعلق نہیں تھا اسے ٹارگٹ کر لیا گیا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ واردات کیا ہوئی ہے کوئی بتائے، یہ پرانی ڈبہ فلم کا چربہ ہے۔ یہ بڑی خبر ڈبہ فلم پہلے بھی چلی ہوئی ہے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ اب پراپرٹی لیکس میں کیا نیا انکشاف ہوا ہے؟۔ انھوں نے کہا کہ مشرف، شوکت عزیز، واوڈا اور سامنے آئے بہت سے نام پہلے بھی تھے۔
    خواجہ آصف نے کہا کہ وہی کہانی وہی کردار وہی نام نئی بات کیا ہے؟ لگتا ہے یہ دو نمبر فلم صرف اصل وارداتیوں سے توجہ ہٹانے کا منصوبہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسکی فنڈنگ بھی وہی وارداتیے کر رہے ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کام جیسے جیسے قریب آ رہا ہے ایسی بڑی خبریں سامنے آئیں گی۔

  • پیپلز پارٹی کے پارلیمانی وفد کی وفاقی وزیر برائے نجکاری عبدالعلیم خان کے دفتر آمد و ملاقات

    پیپلز پارٹی کے پارلیمانی وفد کی وفاقی وزیر برائے نجکاری عبدالعلیم خان کے دفتر آمد و ملاقات

    وفاقی وزیر نجکاری و سرمایہ کاری بورڈ عبدالعلیم خان سے پیپلز پارٹی کے نامزد کردہ پارلیمانی وفد نے ان کے دفتر میں آ کر ملاقات کی، نوید قمر،شیری رحمان اور سلیم مانڈوی والا ملاقات کرنے والوں میں شامل تھے،وفاقی وزیر برائے نجکاری و سرمایہ کاری بورڈ عبدالعلیم خان نے پارلیمنٹ اراکین کو مختلف منصوبوں کے نجکاری کے امور کے حوالے سے آگاہ کیا،انہوں نے کہا کہ خسارے میں چلنے والے منصوبے ملکی معیشت پر بوجھ ہیں۔عبدالعلیم خان کا مزید کہنا تھا کہ معیشت مستقل بنیادوں پر دیوالیہ منصوبوں کابو جھ برداشت نہیں کر سکتی اور ہمیں ان منصوبوں کو جلد از جلد نجی شعبے کے حوالے کرنا ہے۔وفاقی وزیر نجکاری و سرمایہ کاری بورڈ عبدالعلیم خان کا مزید کہنا تھا کہ تمام منصوبوں کی شفاف نجکاری کو یقینی بنا رہے ہیں اور نجکاری کے اس عمل کو میڈیا کے ذریعے سب کے سامنے رکھیں گے،انہوں نے کہا کہ کسی بھی اور سیاسی جماعت کونجکاری کے حوالے سے آگاہی چاہیے تو وہ انہیں بھی خوش آمدید کہیں گے،پارلیمنٹ اراکین کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے نجکاری و سرمایہ کاری بورڈ عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے خدشات دور کرنے اور سوالات کے جوابات دینے کے لیے تیار ہیں،وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے کہا کہ نجکاری پر پیپلز پارٹی کی طرح دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی آگاہی سیشن ہو سکتا ہے تا کہ ان کے تحفظات دور کیے جا سکیں،وفاقی وزیر نے پارلیمانی وفد سے ملاقاتوں کو خوش آئیندقرار دیا جس سے صورتحال کو واضح کرنے میں مدد ملے گی۔

  • وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب سے پی بی سی  کے چیئرمین اور  وفد کی ملاقات

    وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب سے پی بی سی کے چیئرمین اور وفد کی ملاقات

    وفاقی وزیر خزانہ اور ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب سےپاکستان بزنس کونسل (پی بی سی ) کے وفد نے چیئرمین پی بی سی شبیر دیوان کی قیادت میں آج فنانس ڈویژن میں ملاقات کی جس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین ملک امجد زبیر ٹوانہ بھی موجود تھےتاکہ تاجر برادری کے تحفظات پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) کے وفد نے وزیر خزانہ سے ملک کے موجودہ معاشی منظرنامے پر تبادلہ خیال کیا اور بجٹ اور ٹیکس کی مخصوص تجاویز کو زیرغورلانے کے لیے پیش کیا۔وفاقی وزیر محمد اورنگزیب نے پی بی سی کی تجاویز کو تسلیم کیا اور ان کا شکریہ ادا کیا، اور چیئرمین ایف بی آر سے اس کا نوٹس لینے کو کہا۔ انہوں نے ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن کی جاری کوششوں پر تبادلہ خیال کیا، جس کا مقصد ٹیکس کے دائرے میں نہ آنے والے طبقات کو لانا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت اور تاجر برادری دونوں کے لیے بہترین نتائج کو یقینی بنانے کے لیے تمام اقدامات باہمی مشاورت سے کیے جائیں گے۔

  • پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام: گزشتہ دہائی میں کوئی پارلیمانی سفارشات قبول نہیں کی گئیں۔ پلڈاٹ

    پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام: گزشتہ دہائی میں کوئی پارلیمانی سفارشات قبول نہیں کی گئیں۔ پلڈاٹ

    بجٹ کے عمل کے بارے میں اراکین پارلیمنٹ کی سمجھ کو بڑھانے کے حوالے سے پلڈاٹ کے زیراہتمام اسلام آباد میں ایک نشست کا اہتمام کیا گیا۔ "بجٹ کی موثر نگرانی کے لیے پارلیمنٹرین کو بااختیار بنانا” کے عنوان سے ہونے والی اس بحث نے پاکستان کے پارلیمانی بجٹ کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے اہم اصلاحات پر بصیرت انگیز بات چیت اور غور و خوض کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا۔سینیٹرز اور ممبران قومی اسمبلی نے اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا کہ گزشتہ 10 سالوں میں قائمہ کمیٹیوں کی جانب سے 200 سے زائد سفارشات پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے حوالے سے وزارتوں کو پیش کرنے کے باوجود کوئی ایک سفارش بھی قبول نہیں کی گئی اور نہ ہی مسترد کرنے کی وجہ بتائی گئی جو کہ قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔ اراکین نے بجٹ پر غور و خوض کے دنوں میں اضافے کے لیے پلڈاٹ کی تجویز کی تائید کی اور اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ موجودہ مدت میں بجٹ دستاویزات کی تعداد کا مناسب مطالعہ نہیں کیا جا سکتا۔ اراکین نے بجٹ کے صنفی تجزیے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور بجٹ سے باخبر رہنے اور پیش رفت کی رپورٹس کے عوامی انکشاف کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
    پلڈاٹ کے بریفنگ سیشن میں خطاب کرتے ہوئے پلڈاٹ کے صدر احمد بلال محبوب نے "پاکستان کے پارلیمانی بجٹ کا عمل – تبدیلی کی کیا ضرورت ہے؟” کے عنوان سے انتہائی اختصار لیکن دلائل کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کیا۔جناب محبوب نے پارلیمانی بجٹ کے عمل کا ایک جائزہ فراہم کیا، جس میں بجٹ کی حکمت عملی پیپر، پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کی بجٹ تجاویز کی جانچ پڑتال میں قائمہ کمیٹیوں کے کردار، اور سالانہ بجٹ اسٹیٹمنٹ کی پیش کش سمیت اہم واقعات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے قومی اسمبلی کے پچھلے 25 سالوں کے رجحانات کا تجزیہ پیش کیا۔ ان کے تجزیے کے مطابق ہر بجٹ سیشن اوسطاً صرف 14 دن چلتا تھا اور اس میں 45 فیصد سے بھی کم اراکین اسمبلی نے شرکت کی۔ انہوں نے بھارت اور چین کے ساتھ موازنہ کیا، اور بجٹ کے عمل میں پانچ بڑی تبدیلیوں کی سفارش کی۔ ان کے مطابق ہمیں آئین کے
    آرٹیکل 84 میں ترمیم کرنی چاہیے، جو حکومت کو قومی اسمبلی کی منظوری کے بغیر سپلیمنٹری گرانٹس کی اجازت دیتا ہے۔ پبلک فنانس منیجمنٹ ایکٹ 2019 میں ترمیم کر کے حکومت کو پابند بنایا جائے کہ وہ وفاقی کابینہ کی منظوری سے قبل مالیات کی قائمہ کمیٹیوں کے ساتھ بی ایس پی کا اشتراک کرے تاکہ کابینہ کمیٹی کی سفارشات پر غور کر سکے۔ اسمبلی میں بجٹ پیش کرنے کے بعد اسٹینڈنگ کمیٹیوں کو اس کا جائزہ لینے کے لیے بااختیار بنانے کے لیے قومی اسمبلی کے قواعد میں ترمیم کی جائے۔
    گزشتہ 10 سالوں میں قائمہ کمیٹیوں کے ذریعے پی ایس ڈی پی کے جائزے کے حوالے سے قومی اسمبلی کے رول 201 (6) اور (7) کے نفاذ کا جائزہ لیا جائے اور پارلیمانی بجٹ کی مدت موجودہ 14 دن سے بڑھا کر کم از کم 30 اور ترجیحاً 45 دن کی جائے۔
    قومی اسمبلی کے قوانین میں ترمیم کر کے وفاقی حکومت کو اسمبلی سے منظور کیے گئے بجٹ پر عملدرآمد کے حوالے سے سہ ماہی رپورٹس پیش کرنے کا پابند بنایا جائے۔
    رکن قومی اسمبلی اور ڈپٹی سپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ نے پلڈاٹ کے بریفنگ سیشن کی صدارت کی اور مالی ذمہ داری اور احتساب کو یقینی بنانے میں پارلیمانی نگرانی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ایک جامع اور شفاف بجٹ کے عمل کی ضرورت پر زور دیا، جس میں نہ صرف فنڈز مختص کرنے پر توجہ دی جائے بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ ان فنڈز کو مطلوبہ نتائج کے لیے استعمال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایگزیکٹو کی بالادستی اور پارلیمانی کمیٹیوں کو بااختیار بنانے کے لیے، بجٹ سے پہلے اور بعد کی جانچ پڑتال اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 84 میں ترمیم کے ساتھ متوازن ہونا چاہیے، جیسا کہ پلڈاٹ نے تجویز کیا ہے۔
    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب خان نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور بجٹ اصلاحات کے لیے پلڈاٹ کی طرف سے پیش کی گئی سفارشات کی حمایت کا اظہار کیا۔ انہوں نے قائمہ کمیٹیوں کو بااختیار بنانے اور مختلف سرکاری ڈویژنوں اور وزارتوں میں بیوروکریٹک سپورٹ کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
    جناب عمر ایوب خان، ایم این اے اور پاکستان کی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور بجٹ اصلاحات کے لیے پلڈاٹ کی سفارشات کی حمایت کا اظہار کیا۔ انہوں نے بااختیار قائمہ کمیٹیوں اور مختلف سرکاری ڈویژنوں اور وزارتوں میں بیوروکریٹک سپورٹ کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ مجموعی طور پر، اراکین پارلیمنٹ نے پاکستان کے بجٹ کے عمل میں مثبت تبدیلی کے لیے فوری اور اجتماعی کاوشوں کے عزم کا اظہار کیا تاکہ بجٹ سازی کے عمل میں مثبت تبدیلیاں لائی جا سکیں۔

  • پاکستان کوسٹ گارڈز کا انسداد منشیات اور سمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن

    پاکستان کوسٹ گارڈز کا انسداد منشیات اور سمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایت پر پاکستان کوسٹ گارڈز نے ساحلی پٹی پر خصوصی آپریشن کرکے بھاری مقدار میں ممنوعہ اشیاء کو ضبط کر لیا۔آپریشن کے دوران 12970 کلوگرا م سپاری، 3049 پیکٹ گٹگا مکس، 1524 پیکٹ سگریٹ، 1543 کلوگرام کپڑا مکس، 206 بنڈل نیٹ کا کپڑا قبضے میں لے لیا گیا۔ ڈیری و بیکری مصنوعات، گروسری کی دیگر اشیاء، خشک میوہ جات، میک اپ کا سامان، کوکنگ آئل، کراکری، الیکٹرانک آلات، سپیڈ بوٹس اور مختلف گاڑیاں بھی ضبط کی گئیں۔ کاروائی کے دوران انجن آئل، ایرانی پیٹرول اور ڈیزل بھی ضبط کیا گیا۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہدایات دی ہیں کہ منشیات اور سمگلنگ کی روک تھام کیلئے بلا امتیاز کارروائی جاری رکھی جائے۔ انہوں نے کہا کہ منشیات و سمگلنگ کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل کیا جائے کیونکہ اس سے ملکی صنعت اور معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کہ سمگلر مافیا کی بروقت سرکوبی ضروری ہے۔ محسن نقوی نے مزید کہا کہ منشیات کی خرید و فروخت کے خلاف ہر سطح پر کارروائی کی جائے کیونکہ ہمارا عزم ہے کہ نئی نسل کو منشیات سے بچانا ہے۔

  • آئرلینڈ کو 6 وکٹوں سے شکست، پاکستان نے سیریز جیت لی

    آئرلینڈ کو 6 وکٹوں سے شکست، پاکستان نے سیریز جیت لی

    ڈبلن میں کھیلے گئے تیسرے ٹی 20 میچ میں پاکستان نے آئرلینڈکو 6 وکٹوں سے شکست دے کر سیریز 2-1 سے سیریز اپنے نام کرلی۔ آئرلینڈ کے شہر ڈبلن کے کلونٹرف کرکٹ کلب میں ہونیوالے پاکستان آئرلینڈ ٹی 20 سیریز کے آخری اور فیصلہ کن میچ میں قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے ٹاس جیت کر میزبان ٹیم کے کپتان کو بیٹنگ کی دعوت دی۔پاکستان نے دیئے گئے 179 رنز کا ہدف 4 وکٹوں کے نقصان پر 17 اوورز میں باآسانی حاصل کرلیا۔کپتان بابر اعظم 42 گیندوں پر 6 چوکے اور 5 چھکے 75 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ محمد رضوان نے 56 رنز بنائے، صائم ایوب 14 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے، افتخار احمد 5 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، اعظم خان 18 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔آئرلینڈ کی جانب سے تین وکٹیں مارک ادائر جبکہ کریگ یونگ ایک وکٹ حاصل کرسکے۔
    اس سے قبل آئرلینڈنے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 178 رنز بنائے تھے اور پاکستان کو جیت کے لیے 179 رنز کا ہدف دیا تھا۔
    کپتان لورکان ٹکر نے 73 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، اینڈی بالبرنی 35 رنز کے ساتھ نمایاں رہے، ہیری ٹیکٹر نے بھی 30 رنز کی ناٹ آؤٹ اننگز کھیلی۔پاکستان کی جانب سے شاہین آفریدی نے عمدہ بولنگ کرتے ہوئے تین وکٹیں حاصل کیں، عباس آفریدی نے 2، محمد عامر اور عماد وسیم ایک، ایک وکٹ حاصل کرسکے۔ فاسٹ بولر حسن علی نے تین اوور میں 42 رنز دیے اور کوئی وکٹ حاصل نہ کرسکے۔

  • محسن نقوی اور شرجیل میمن کی دبئی لیکس پہ وضاحت

    محسن نقوی اور شرجیل میمن کی دبئی لیکس پہ وضاحت

    بلاول بھٹو کے بعد وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا کہ انہوں نے دبئی میں جائیداد اہلیہ کے نام پر لی تھی جو کہ مکمل طور پر ڈکلیئرڈ ہے۔محسن نقوی نے کہا کہ بحیثیت نگراں وزیرِاعلیٰ میں نے یہ جائیداد الیکشن کمیشن میں ظاہر کی، یہ جائیداد ایک سال قبل بیچ کر حال ہی میں نئی پراپرٹی لی ہے۔ دوسری جانب سندھ کے صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ ہمارے اثاثہ جات پہلے سے ہی ڈکلیئرڈ اور عوام کے علم میں ہیں، جن جائیدادوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے وہ بھی پہلے ہی ڈکلیئرڈ ہیں۔شرجیل میمن نے کہا کہ ہم ہر سال اثاثہ جات اور جائیداد کی ڈکلیئرشن میں یہ تفصیلات جمع کرواتے ہیں، یہ کوئی نئی بات نہیں، پہلے سے سب کچھ عوام کے علم میں ہے۔

  • جسٹس بابر  ستار کے خط  سے تاثر دیا گیا کہ  جیسے عدلیہ پر دباؤ ڈالا جاتا ہے، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ

    جسٹس بابر ستار کے خط سے تاثر دیا گیا کہ جیسے عدلیہ پر دباؤ ڈالا جاتا ہے، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کے قانون و ضوابط کے حوالے سے ٹی وی، اخبار اور ریڈیو میں کافی زیادہ چرچا تھا، ایک سلسلے میں ایک اتھارٹی بنائی گئی جس کے بعد سی ایل سی سی میں بھی معاملہ آیا، وزارت اطلاعات و نشریات نے کافی اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ڈرافٹ بھیجا تھا جو آج منظوری کے لیے وفاقی کابینہ میں آیا تھا۔وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ اور عطاء اللہ تارڑ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج بابر ستار کے عدالتی امور میں مداخلت اور دباؤ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جسٹس بابر ستار کے خط کے مندرجات سے یہ تاثردیا گیا کہ ادارے مداخلت کرتے ہیں، کسی نے یہ پیغام نہیں دیا کہ آپ پیچھے ہٹ جائیں، صرف ان کیمرا بریفنگ کا کہا گیا تھا۔
    ان کا کہنا تھا کہ ابھی اٹارنی جنرل آف پاکستان گفتگو کر کے گئے ہیں، انہوں نے ایک خط کے بارے میں گفتگو کی، کچھ وضاحتیں دیں اور اپنی رائے بھی دی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک معزز جج نے خط لکھا ہے کہ جس کے مندرجات سے یہ تاثر دیا گیا کہ انٹیلی جنس اور دفاعی ادارے ججز کے کام میں کسی قسم کی مداخلت کرنا چاہتے ہیں یا کرتے ہیں۔وزیر قانون نے کہا کہ میرے لیے تکلیف دہ چیز یہ ہے کہ اس چیز کی اس طرح سے تشہیر کی گئی کہ جیسے عدلیہ میں مداخلت ہے، اس سے پہلے بھی چھ جج صاحبان کا ایک خط آیا اور ان کے خط پر حکومت نے فوری طور پر چیف جسٹس اور فل کورٹ کی ہدایات کو مدنظر رکھتے ہوئے فل کورٹ اس لیے بنایا تھا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو۔ اس معاملے کا سپریم کورٹ نے نوٹس لیا تھا اور اب یہ معاملہ زیر سماعت ہے تو میں اس پر زیادہ بات نہیں کروں گا۔
    انہوں نے کہا کہ آزاد عدلیہ ہی ملک کو آگے لے کر جاتی ہے لیکن ہمیں دہشت گرد، امن و امان، معاشی اور سیکیورٹی سمیت جس قسم کے چیلنجز اور ماحول کا سامنا ہے ایسی صورت میں تمام اداروں کو ایک دوسرے کو تھوڑی جگہ دینی چاہیے۔ سب اپنے اپنے دائرے میں رہ کر کام کریں انہوں نے کہا پاکستان کومعاشی بحران سے نکلنے کیلیے اتحاد کی ضرورت ہے۔اس موقع پر وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا کہ اگر اٹارنی جنرل کی جانب سے ایک پیغام دیا جاتا ہے کہ ان کیمرا بریفنگ کی جائے تو اس پر سیاق و سباق سے ہٹ کر ایک خط لکھ دیا جاتا ہے کہ مجھے کہا جا رہا ہے کہ میں پیچھے ہٹ جاؤں۔یہ حقیقت پر مبنی بات نہیں ہے، اگر ان کیمرا بریفنگ کی درخواست قومی سلامتی کی وجہ سے کی گئی تھی اور میں واضح کردوں کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
    انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو اتنا آگے لے کر مت جائیے، بات قومی سلامتی کی ہے اور اس ایک معاملے کو لے کر قومی سلامتی لے کر سوال اٹھانا مناسب نہیں، میں سوشل میڈیا پر دیکھ رہا تھا کہ زیریں عدالتوں کے ججوں نے چیف جسٹس کو خط لکھا ہے کہ ان پر سخت زبان میں باقاعدہ دبا ڈالا جاتا ہے کہ فلاں کیس میں فلاں فیصلہ کرو۔ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کے معاملات کو خطوط کے ذریعے اجاگر نہیں کرنا چاہیے، کوئی معاملہ ڈسکس کرنا ہو تو چیف جسٹس فل کورٹ بلا سکتے ہیں، جس چیف جسٹس سے روزانہ ملاقات ہوتی ہو اس کو خط لکھنا معاملے کو متنازع بنانے والی بات ہے۔عطااللہ تارڑ نے کہا کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور اگر اس مسئلے کو لے کر قومی سلامتی پر سوال اٹھایا جائے گا تو یہ مناسب نہیں ہو گا، کسی نے یہ پیغام نہیں دیا کہ آپ پیچھے ہٹ جائیں، صرف ان کیمرا بریفنگ کا کہا گیا تھا، تو میں سمجھتا ہوں کہ تنا ؤکو کم کرنا ہو گا اور تمام اداروں کو اس پر مل جل کر کام کرنا ہو گا۔

  • ریٹائرڈ فوجی جنرل، پاکستان ایئر فورس کے دو ریٹائرڈ ایئر وائس مارشل بھی دبئی میں جائیدادوں کے مالک

    ریٹائرڈ فوجی جنرل، پاکستان ایئر فورس کے دو ریٹائرڈ ایئر وائس مارشل بھی دبئی میں جائیدادوں کے مالک

    ہزاروں پاکستانی جو جائیدادوں کے مالک ہیں ان میں ایک درجن کے قریب ریٹائرڈ فوجی جنرل، پاکستان ایئر فورس کے دو ریٹائرڈ ایئر وائس مارشل، ایک حاضر سروس انسپکٹر جنرل پولیس، ایک ریٹائرڈ صدر نیشنل بینک آف پاکستان، ایک سابق چیئرمین او جی ڈی سی ایل اور ایک حاضر سروس چیئرمین پاکستان کونسل فار سائنس و ٹیکنالوجی بھی اس میں شامل ہیں۔آرگنائزڈ کرائم اینڈ کرپشن رپورٹنگ پروجیکٹ کے اعداد وشمار میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک درجن سے زیادہ ریٹائرڈ فوجی افسران اور انکے خاندان، بینکرز اور بیوروکریٹس بھی دبئی کے مہنگے اور اعلیٰ درجے کے علاقے میں جائیدادوں کے مالک ہیں۔
    ریٹائرڈ فوجی جنرلز میں سب سے نمایاں نام سابق صدر جنرل پرویز مشرف(مرحوم) کا ہے، سابق فوجی آمر اور انکی اہلیہ کا نام لیک ڈیٹا میں تین پراپرٹیز کی ملکیت کے حوالے سے ظاہر ہوا ہے جو کہ دبئی مرینا، برج خلیفہ اور الثانیہ ففتھ کے علاقوں میں ہیں۔لیک ڈیٹا جو کہ 2020 سے 2022 کے دورانیہ کا ہے، اس میں سابق صدر کے ملٹری سیکریٹری لیفٹننٹ جنرل (ر) شفاعت اللّٰہ شاہ کا نام بھی شامل ہے۔ انکا نام پینڈورا پیپرز میں بھی آیا تھا، جنرل شفاعت کا بیٹا اس جائیداد میں شریک مالک ہے۔ جنرل شفاعت نےOCCRP کے رابطے پر اس پراپرٹی کے حوالے سے ملکیت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ انکی تمام بیرون ملک جائیدادیں پاکستان میں ٹیکس حکام کے پاس ڈیکلیئرڈ ہیں۔جنرل مشرف کے عہد کے سابق ڈی جی سی سابق میجر جنرل احتشام ضمیر، انکے بیٹے اور دیگر بچے الورسان فرسٹ، مرینا آرکیڈ مرسا ایریا میں بطور جائیداد کے مالکان فہرست میں شامل ہیں۔ اسی طرح این ایل سی اسکینڈل کے لیفٹننٹ جنرل (ر) افضال مظفر کے بیٹے اور سابق ڈی جی کائونٹر اینٹلی جنس میجر جنرل احتشام ضمیر اور انکے بچوں کے نام بھی فہرست میں موجود ہیں۔
    ایک اور لیفٹننٹ جنرل (ر) محمد اکرم الیٹ ریذیڈینسس 4 میں جائیداد کے مالک ہیں، لیفٹننٹ جنرل (ر) عالم جان محسود اور انکی اہلیہ الھماری پام جمیرہ ایریا میں پانچ کمروں کے اپارٹمنٹ کے مالک ہیں۔ لیک ڈیٹا میں میجر جنرل (ر) غضنفر علی خان ایس15 بلڈنگ الورسان فرسٹ میں ایک پراپرٹی کے مالک ہیں۔ میجر جنرل (ر) راجہ محمد عارف نذیر بھی گالف پرومینیڈ 2-A الحیبیاہ تھرڈ ایریا میں ایک پراپرٹی کے مالک ہیں۔ دریں اثنا ایئر وائس مارشل (ر) سلیم طارق اور ایئر وائس مارشل (ر) خالد مسعود راجپوت کے نام بھی مالکان پراپرٹی میں شامل ہیں۔ فہرست میں میجر جنرل (ر) محمد فاروق، میجر جنرل (ر) انیس باجوہ کی اہلیہ اور میجر جنرل (ر) نجم الحسن شاہ کا نام بھی شامل ہے۔ سابق چیئرمین او جی سی ڈی ایل زاہد مظفر اور چیئرمین پی سی ایس ٹی سید انوار الحسن گیلانی کا نام بھی فہرست میں جائیداد مالکان کے طور پر موجود ہے۔

    آئی جی آزاد کشمیر ڈاکٹر سہیل حبیب تاجک کا نام الدفراح فرسٹ الثانیہ تھرڈ میں جائیداد مالک کے طور پر فہرست میں شامل ہے، انھوں نے جائیداد مالک ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے یہ 2002 میں اس وقت خریدا جب وہ اقوام متحدہ میں کام کر رہے تھے اور انکی تنخواہ دس ہزار ڈالر تھی۔ انکے مطابق انھوں نے یو این بینک سے یہ رقم قانونی طریقے سے دبئی ٹرانسفر کی اور اس جائیداد کو اپنے اثاثے کے طور پر ڈیکلیئر کیا۔ نیشنل بینک آف پاکستان کے سابق صدر عارف عثمانی کا نام بھی فہرست میں ایک پینٹ ہاؤس کے مالک کے طور پر شامل ہے۔