وزیراعظم شہباز شریف سے سعودی عرب کے کاروباری گروپ کے صدر سردار الیاس نے اسلام آباد میں ملاقات کی۔ وزیراعظم نے اس موقع پر پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سردار الیاس کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے جی ڈی پی کی شرح بڑھانے کےلیے پیداوار کی اہمیت پر زور دیا۔اس موقع پر سردار الیاس نے کہا کہ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاروں کی سہولت کےلیے ون ونڈو آپریشن فعال کرنے کی ضرورت ہے۔ رکن قومی اسمبلی حنیف عباسی اور کاروباری شخصیت سردار یاسر الیاس بھی ملاقات میں موجود تھے۔
Author: صدف ابرار
-

وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اہم دورے پر چین روانہ
وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام بھی اسحاق ڈار کے ہمراہ ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار چینی وزیرخارجہ وانگ ژی کے ساتھ ہونے والے سالانہ اسٹریٹیجک ڈائیلاگ میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔چین کے اس دورے کے دوران دوطرفہ تعلقات کے علاوہ علاقائی سلامتی کی صورتِ حال اور کشمیر، افغانستان اور دہشتگردی جیسے امور پر مشاورت ہوگی۔ڈائیلاگ میں بحیرۂ جنوبی چین پر بھی مشاورت ہوگی۔وزیرخارجہ اسحاق ڈار چینی قیادت کے ساتھ بات چیت بھی کریں گے۔
-

پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس کل سہ پہر تین بجے طلب
سپیکر قومی اسمبلی نے پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس کل سہ پہر تین بجے طلب کرلیا۔مسلم لیگ ن سے اعظم نذیر تارڑ، ڈاکٹر طارق فضل چودھری اجلاس میں شریک ہوں گے، سنی اتحاد کونسل سے عامر ڈوگر، پیپلزپارٹی کی نمائندگی اعجاز جاکھرانی کریں گے، ایم کیو ایم سے امین الحق، آئی پی پی سے گل اصغر خان اجلاس میں شرکت کریں گے۔اجلاس میں بجٹ سیشن اور صدر مملکت کے خطاب پر بحث پر مشاورت کی جائے گی، اجلاس میں پہلے پارلیمانی سال کا کیلنڈر بھی زیر غور آئے گا۔
-

شاہین شاہ آفریدی نے انٹرنیشنل کرکٹ میں 300 وکٹیں حاصل کر لیں
قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نے انٹرنیشنل کرکٹ میں 300 وکٹیں حاصل کر لیں۔ڈبلن میں ہونیوالے دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں شاہین شاہ نے آئرلینڈ کیخلاف 3 وکٹیں لے کر یہ سنگ میل عبور کیا ہے۔ قومی فاسٹ بولر نے 145 میچز میں 300 وکٹیں مکمل کیں۔شاہین شاہ آفریدی ون ڈے میں 104 وکٹیں، ٹی ٹوئنٹی میں 84 اور ٹیسٹ میچوں میں 113 وکٹیں لے چکے ہیں۔دوسری جانب قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے آئر لینڈ کے خلاف میچ میں اہم اعزاز حاصل کرلیا ہے۔ بابر اعظم سب سے زیادہ ٹی ٹوئنٹی میچز میں کپتانی کرنے والے کھلاڑی بن گئے ہیں۔بابر اعظم نے 77ویں ٹی ٹوئنٹی میچ میں کپتانی کے فرائض انجام دیے۔
اب وہ سب سے زیادہ ٹی ٹوئنٹی میچز میں کپتانی کرنے والے کپتان بن گئے ہیں۔ان سے پہلے آسٹریلیا کے کپتان ایرون فنچ سب سے زیادہ میچز میں کپتانی کر چکے ہیں انہوں نے 76میچز میں کپتانی کی ہے۔ -

قومی فیصلوں پر عمل درآمد آئینی ذمہ داری ہے۔ سرفراز بگٹی
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت پاک افغان بارڈ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے پاک افغان بارڈر ایریا چمن میں تمام اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کے لیے اعلیٰ سطح کا وفد تشکیل دے دیا۔سرفراز بگٹی نے بات چیت کے ذریعے تصفیہ طلب امور حل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے پاک افغان بارڈر ایریا چمن میں تمام اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کے لیے اعلیٰ سطح کا وفد تشکیل دے دیا۔محکمہ داخلہ کی جانب سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ اب تک بلوچستان سے دو لاکھ 20ہزار غیر قانونی تارکین وطن کو واپس بھجوایا گیا ہے،
وزیراعلٰی بلوچستان نے کہا کہ ون ڈاکیومنٹ ریجیم وفاقی حکومت کا فیصلہ ہے اور صوبے عمل درآمد کے پابند ہیں جبکہ بارڈر ٹریڈ سے وابستہ متاثرین کو معاوضہ ادا کیا جا رہا ہے۔ جبکہ بارڈر ٹریڈ سے وابستہ متاثرین کو معاوضہ ادا کیا جا رہا ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اسپیکر صوبائی اسمبلی اور وزیر داخلہ بلوچستان کی قیادت میں اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کے لیے اعلیٰ سطحی وفد آج ہی چمن جائے گا اور منتخب نمائندے اور اعلیٰ حکام چیمبرز آف کامرس، انجمن تاجران، سول سوسائٹی اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے ملاقات کریں گے۔انہوں نے کہا کہ چمن ماسٹر پلان کی فعالیت سے مقامی طور پر معاشی سرگرمیاں تیز ہوں گی، ون ڈاکیومنٹ رجیم آئینی تقاضہ ہے اور تمام اسٹیک ہولڈرز تعاون کریں۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے یہ بھی کہا کہ آئین سے منافی کوئی اقدام اٹھایا نہ اٹھائیں گے اور آئین و قوانین کا احترام سب پر واجب ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ دھرنا مظاہرین نے حکومت کے خلاف سخت باتیں کیں جنہیں ہم نے برداشت کیا، ہم بات چیت سے معاملات کا حل تلاش کرنے کے خواہاں ہیں لیکن ریاست کی رٹ قائم رکھنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔سرفراز کا کہنا تھا کہ آئندہ ہفتے خود چمن کا دورہ کروں گا، صوبائی حکومت جو ریلیف فراہم کرسکتی ہے، جبکہ قومی فیصلوں پر عمل درآمد آئینی ذمہ داری ہے۔ -

آزاد کشمیر کے عوام کے مطالبات کو پورا کیا جانا چاہیے، صدر مملکت
صدر آصف زرداری سے پیپلز پارٹی آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے ممبران کے وفد نے ملاقات کی۔
پیپلز پارٹی قیادت نے وزیر اعظم آزاد کشمیر کے خلاف شکایات کے انبار لگا دیے۔اجلاس میں کشمیر کی موجودہ صورتحال پر غور کیا گیا،وفد نے صدر مملکت کو آزاد جموں و کشمیر میں ہونے والے حالیہ افسوسناک واقعات سے آگاہ کیا۔صدر مملکت نے آزاد جموں وکشمیر کی موجودہ صورتحال پر افسوس اور پولیس اہلکار کی افسوسناک ہلاکت پر تعزیت کا اظہار کیا۔ صدر مملکت کی حالیہ جھڑپوں میں زخمی ہونے والے تمام افراد کی جلد صحت یابی کیلئے دعا بھی کی۔اس موقع پر صدرمملکت کا کہنا تھا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز تحمل کا مظاہرہ کریں، آزاد جموں و کشمیر کے مسائل بات چیت اور باہمی مشاورت سے حل کریں۔صدر آصف زرداری نے کہا کہ سیاسی جماعتوں، ریاستی اداروں اور آزاد جموں وکشمیر کے عوام کو ذمہ داری سے کام لینا چاہیے، تاکہ دشمن عناصر حالات کا فائدہ نہ اٹھا سکیں۔صدر مملکت کا کہنا تھا کہ آزاد جموں و کشمیر کے عوام کے مطالبات کو قانون کے مطابق پورا کیا جانا چاہیے، موجودہ صورتحال کا حل نکالنے کیلئے عوام کی شکایات پر وزیراعظم سے بات کروں گا۔
دوسری جانب صدر مسلم لیگ ن آزاد کشمیر شاہ غلام قادر نے وزیراعظم شہباز شریف صاحب سے آزاد کشمیر کی تازہ ترین صورتحال پر گفتگو کی اور انہیں عوام کے مطالبات سے پوری طرح آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین سے پرامن رہنے اور پرامن طریقے سے مسائل کے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
علاوہ ازیں ایم کیو ایم پاکستان کی مرکزی کمیٹی نے آزاد کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے، ایم کیو ایم نے کہا کہ آزاد کشمیر میں مہنگی بجلی، مہنگائی اور ڈیمز کی رائلٹی جیسے اہم مسائل پر عوام احتجاج کر رہے ہیں،عوامی احتجاج پر طاقت کا استعمال عوام کو مزید مشتعل کرنے کا باعث بنے گا،حکومت و انتظامیہ عوامی احتجاج پر کسی بھی قسم کی طاقت کے استعمال سے گریز کرے،ایم کیوایم نے آزاد کشمیر کے عوام سے اپیل کی کہ خدارا پُرامن رہیں اور کسی صورت اشتعال میں نہ آئیں۔ تمام معاملات کو طاقت کے بجائے افہام و تفہیم سے حل کیا جائے۔
صحافی و اینکر غریدہ فاروقی ٹویٹر پر کہتی ہیں کہ آزاد کشمیر تاجروں کا احتجاج ایک اھم، سنجیدہ اور سنگین مسئلہ ہے۔ خدارا اسے فوری اور ہنگامی بنیادوں پر حل کریں۔ ایک سال قبل سے تاجروں کا بجلی اور آٹے کے ریٹ پر احتجاج شروع ہوا تھا؛ گزشتہ سال وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق نے اسے احسن طریقے سے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا کام انجام دیا تھا لیکن بجلی ریٹ کا اصل مُدّعا چونکہ پاکستان کی وفاقی حکومت سے جُڑا ہے؛ حکومتِ پاکستان کو چاہییے اس معاملے کے حل کیطرف فوری توجہ دیں۔ ایک کشمیری وزیراعظم پاکستان کے ہوتے، آزاد کشمیر میں حالات ایسے خراب ہو جائیں یہ انتہائی افسوسناک ہے۔ وزیراعظم شہبازشریف کو فوری نوٹس لینا چاہئیے، وزیراعظم آزاد کشمیر کیساتھ engage کریں؛ متعلقہ وزیر اور حکومتِ آزاد کشمیر کو engage کروائیں اور تاجروں کو مذاکرات کے ذریعے مطمئن کریں۔ ہو سکتا ہے احتجاجیوں کے سارے مطالبات درست نہ بھی ہوں لیکن کشیدہ مسئلے کا حل بات چیت سے نکالئیے اور فوری۔ وزیراعظم آزاد کشمیر بار بار مذاکرات کی پیشکش کر رہے ہیں؛ احتجاج کرنیوالوں کو بھی چاہئیے ذرا سا قدم پیچھے ہٹائیں، لچک دکھائیں اور مذاکرات کی میز پر آئیں۔ آزادکشمیر بذاتِ خود ایک حسّاس علاقہ ہے لیکن ایسے وقت میں جبکہ بھارت میں الیکشن ہو رہے ہیں؛ آزاد کشمیر کی صورتحال کو کوئی بھی پاکستان دشمن اپنے مفاد کیلئے استعمال کر سکتا ہے۔ کشمیری انتہائی محِبِّ وطن اور وفادار قوم ہیں، یقیناً کسی بیرونی یا اندرونی دشمن کو ایسا موقع نہیں دینگے۔ جو پولیس افسر شہید ہو گئے ہیں ان کا خون کس کے ہاتھ پر ہو گا؟ سرکاری اِملاک کو کیوں نقصان پہنچایا جائے؟ عوام کی زندگی میں پریشانی کیوں پیدا کی جائے؟ تین دن سے 80% آزاد کشمیر میں شٹرڈاؤن ہے؛ اس احتجاج کو بات چیت سے فوراً حل کیا جانا چاہئیے؛ نوبت یہاں تک کیوں آئی اس کی بھی تفتیش ہونی چاہئیے۔ تاجروں نے گزشتہ آٹھ ماہ/سال بھر، جب سے گزشتہ سال احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا تھا؛ بجلی کے بل ادا نہیں کیے۔ یہ بھی غیرمناسب رویہ ہے، جائز اور مناسب مطالبات حکومت کو تسلیم کرنے چاہئیں اور کچھ لچک تاجر حضرات بھی دکھائیں۔ آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتیں بھی اس معاملے میں اپنا کردار ادا کریں۔ پاکستان کے بیرونی اور اندرونی دشمن و انتشارپسند اس معاملے کو محض اپنی سیاست چمکانے اور مفادات کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ بطور کشمیری، مجھے یہ سب دیکھ کر انتہائی افسوس ہو رہا ہے اور اپیل اور امید ہے کہ اس مسئلے کو ہنگامی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ وزیراعظم شہبازشریف اپنا کردار ادا کریں۔
-

دوسرا ٹی ٹوئنٹی : پاکستان کے ہاتھوں آئر لینڈ کو شکست
ڈبلن: پاکستان نے فخرزمان اور محمد رضوان کی شاندار بلے بازی کے باعث دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں آئرلینڈ کو شکست دے دی ہے۔ 194 رنز کا ہدف 3 وکٹوں کے نقصان پر پورا کرلیا۔ ڈبلن میں کھیلے جا رہے میچ میں کپتان بابر اعظم نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ میزبان بلے بازوں نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقررہ 20 اورز میں 193 رنز بنائے۔ آئرش وکٹ کیپر ٹکر نے 51 رن کی اننگز کھیلی۔قومی کرکٹ ٹیم کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی نے آئر لینڈ کیخلاف 3وکٹیں حاصل کیں جبکہ عباس آفریدی نے2 اور محمد عامر، نسیم شاہ نے ایک ، ایک وکٹ لے سکے۔193 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کو ابتدا میں ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔جب صائم ایوب 6 اور بابر اعظم صفر پر پویلین لوٹ گئے۔ 13 رنز پر دو وکٹیں گرنے کے بعد محمد رضوان اور فخرزمان نے ٹیم کو سنبھالا اور تیسری وکٹ کی شراکت میں ریکارڈ 140 رنز بنائے۔ فخرزمان 40 گیندوں پر 78 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ محمد رضوان 79 رنز بناکر ناٹ آٹ رہے۔ اعظم خان نے 9 گیندوں پر 24 رنز کی اننگز کھیلی۔ آئر لینڈ نے پاکستان کو فتح کے لیے 194 رنز کا ہدف دے دیا۔
ڈبلن میں کھیلے جا رہے ہیں دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں کپتان بابر اعظم نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا جو درست ثابت نہیں ہوا اور آئرش بلے بازوں نے پاکستانی باؤلرز کی ایک نہ چلنے دی۔ مقررہ 20 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 193 رنز بنائے۔
آئرش وکٹ کیپر ٹکر نے 51 رن کی اننگز کھیلی۔قومی کرکٹ ٹیم کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی نے آئر لینڈ کیخلاف 3وکٹیں حاصل کیں جبکہ عباس آفریدی نے2 اور محمد عامر، نسیم شاہ نے ایک ، ایک وکٹ لے سکے۔۔
دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان نے آئرلینڈ کے خلاف پہلے بولنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔قومی ٹیم میں محمد عامر کی واپسی ہوئی ہے، انہیں شاداب خان کی جگہ پر پلیئنگ الیون میں شامل کیا گیا ہے۔ڈبلن میں کھیلے جا رہے میچ میں کپتان بابر اعظم نے ٹاس جیتا اور میزبان ٹیم کو بیٹنگ کی دعوت دی۔ پاکستان کی ٹیم کپتان بابر اعظم، صائم ایوب، محمد رضوان، فخر زمان، اعظم خان، افتخار احمد، عماد وسیم، شاہین آفریدی، نسیم شاہ، عباس آفریدی اور محمد عامر پر مشتمل ہے۔آئرلینڈ کی ٹیم پال اسٹرلنگ کی قیادت میں میدان میں اتر ترہی ہے۔ دیگر کھلاڑیوں میں مارک اڈائر، اینڈریو بلبیرنی، کرٹس کیمفر، گاریتھ ڈیلانے، جارج ڈاکریل، گراہم ہیوم، ہیری ٹیکٹر، لورکان ٹرکر، بین وائٹ اور کریگ ینگ شامل ہیں۔ -

عارف علوی اپنے لیڈر کو سمجھا دے کہ انکے لئے تمام راستے بند ہو چکے ہے، عرفان صدیقی
سابق وزیر اعظم نواز شریف کے قریبی ساتھی اور سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی بند گلی میں چلی گئی، مذاکرات کے دروازے ہی نہیں کھڑکیاں اور روشندان بھی بند ہوچکے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر جاری بیان میں سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہکوئی ادارہ بند گلی میں نہیں گیا، صرف تحریک انصاف بند گلی میں چلی گئی ہے جو سیاست دانوں سے بات کرنا نہیں چاہتی اور جن سے کرنا چاہتی ہے انہوں نے دوٹوک جواب دے دیاہے۔ اب سارے دروازے ہی نہیں، کھڑکیاں اور روشندان بھی بند ہو چکے ہیں۔ علوی صاحب کے پاس صرف ایک ہی آپشن بچا ہے کہ وہ اڈیالہ جاکر اپنے لیڈر سے مذاکرات کریں اور انہیں سمجھائیں کہ دنیا بدل چکی ہے اور انہیں بھی اب نئی حقیقتوں کو تسلیم کر لینا چاہیے۔
-

ملک میں سیاست کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کردیا گیا ، بلاول بھٹو
لاہور میں “بھٹو ریفرنس اورتاریخ “کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا کہ سیمینار میں آنے والوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، سپریم کورٹ نے یہ تسلیم کیا کہ بھٹو کا ٹرائل فیئر نہیں تھا، سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی فیصلہ ہے۔پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ آج ملک میں نفرت کی سیاست عروج پر ہے، ملک میں سیاست کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کردیا گیا جبکہ مسائل کے حل کے لیے سیاستدانوں کو ایک دوسرے سے ہاتھ ملانا پڑے گا، بھٹو ریفرنس پر تاریخی عدالتی فیصلہ آیا، ثابت ہوا کہ شہید بھٹو کے ساتھ ناانصافی ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ اب سیاست میں وہ گنجائش ہی نہیں رہی کہ ایک دوسرے کی اختلاف رائے کا احترام کریں، پاکستان میں سیاست کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کردیا گیا اور ایک دوسرے کے اختلاف رائے کا احترام نہیں کیا جارہا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سیاست ذاتی دشمنی میں تبدیل ہوگئی ہے، ہم نے ہمیشہ کوشش کی کہ نظام میں جمہوری بہتری لے کر آئیں، جب سیاستدان ایک دوسرے سے ہاتھ ملاے کے لیے تیار نہیں ہوں گے تو پھر مسائل کیسے حل ہوں گے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ چارٹر آف ڈیموکریسی میں عدالتی اصلاحات بھی کرنا تھیں، ہم نے ایک ایسا فورم قائم کرنا تھا جو ججز کی تعیناتی کو بھی دیکھتا، ہم نے عدالتی اصلاحات کے حوالے سے عملدرآمد نہیں کیا، کوشش ہے کہ قانونی یا آئینی ترمیم لائیں اور عدالت کو طاقتور بنائیں، ایسی اصلاحت ہوں کہ شہید بھٹو جیسے عدالتی قتل پھر کبھی نہ ہوں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کا مزید کہنا تھا کہ ہم 1973 کا آئین اور 18 ویں ترمیم مشاورت سے لائے، نظام درست کرنے کے لیے جو کرنا ہوگا ہم اس کے لیے تیار ہیں، مسائل کے حل کے لیے سیاستدانوں کو ایک دوسرے سے ہاتھ ملانا پڑے گا، کچھ سیاستدان ذاتی مفاد کے علاوہ کچھ نہیں سوچتے جو درست نہیں۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے مزید کہا کہ حکومت جوڈیشل ریفامرز کے لیے آئینی ترمیم لے کر آئے، عدالت خود بھی ریفارمز لاسکتی ہے لیکن سب سے بڑی ذمہ داری پارلیمان کی ہے۔انہوں نے کہا کہ صدر آصف زرداری نے یکجہتی کا پیغام بھیجا لیکن ایک ایسا سیاستدان ہے جو اپنی ذات سے باہر نہیں دیکھتا، اس نے بات چیت کی پیشکش کے جواب میں گالی گلوچ کی، ہمیں گالم بلوچ کی سیاست کے بجائے پاکستان کے بارے میں سوچنا پڑے گا۔سابق وزیر خارجہ نے کہا عوام کو یقین ہونا چاہیئے کہ دوبارہ عدالتی قتل نہیں ہوگا، سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے بات چیت نہیں کرنا چاہتیں، بات چیت کے بغیر مسائل کا حل ممکن نہیں، عوام مہنگائی اور بیروزگاری کے باعث پریشان ہیں، ہمیں عدلیہ سے متعلق اصلاحات کرنی چاہیئے۔
-

آزاد کشمیر حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کامیاب
آزاد کشمیر حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے، حکومت نے تمام مطالبات تسلیم کر لئے۔مذاکرات کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ آزاد کشمیر میں صارفین کو بجلی پیداواری لاگت پر مہیا کی جائے گی، آٹے پر بھی سبسڈی دی جائے گی، وزرا اور دیگر کی مراعات کم کی جائیں گی۔واضح رہے کہ آزاد کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے تیسرے روز بھی احتجاج جاری رکھتے ہوئے کاروباری مراکز بند، پہیہ جام ہڑتال کر رکھی تھی۔عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک پُرتشدد رخ اختیار کرگئی تھی، کشیدگی کے باعث آزاد کشمیر بھر میں انٹرنیٹ سروس گزشتہ رات سے معطل رہی، دارالحکومت مظفرآباد میں کاروباری مراکز بند، پہیہ جام ہڑتال جاری تھی۔جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے واضح اعلان کیا تھا کہ جب تک ہمارے مطالبات پر سو فیصد عملدرآمد نہیں ہوگا تب تک شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال جاری رہے گی۔جبکہ میرپور میں گزشتہ روز مظاہرہ خونی تصادم میں تبدیل ہو گیا تھا، مشتعل مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور فائرنگ کی تھی، گولی لگنے سے سب انسپکٹر عدنان قریشی شہید ہو گئے تھے، مظاہرین کے پتھراؤ سے ایس پی خاورعلی ، تحصیلدار رضوان لطیف سمیت 28اہلکار بھی زخمی ہوئے تھے جنہیں طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔
دوسری جانب آزاد کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی مرکزی قیادت نے پرتشدد واقعات سے لاتعلقی کا اظہار کردیا ہے۔ مرکزی قیادت نے ان پرتشدد واقعات سے نہ صرف لاتعلقی کا اظہار کیا بلکہ بھارت کے منفی پروپیگنڈا کو بھی بے نقاب کر دیا۔ تمام ممبران نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہماری تحریک پر امن ہے اور رہے گی۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ریاست پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں۔ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مکار دشمن بھارت کا میڈیا مقبوضہ کشمیر میں مظالم کو دبانے کے لیے بے بنیاد الزامات لگا رہا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔قیادت نے اس بات کا یقین دلوایا کہ ہمارا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے اور انشا اللہ مقبوضہ کشمیر بھارت سے آزاد کروا کر پاکستان کا حصہ بنائیں گے۔
