Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • محسن نقوی اور شرجیل میمن کی دبئی لیکس پہ وضاحت

    محسن نقوی اور شرجیل میمن کی دبئی لیکس پہ وضاحت

    بلاول بھٹو کے بعد وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا کہ انہوں نے دبئی میں جائیداد اہلیہ کے نام پر لی تھی جو کہ مکمل طور پر ڈکلیئرڈ ہے۔محسن نقوی نے کہا کہ بحیثیت نگراں وزیرِاعلیٰ میں نے یہ جائیداد الیکشن کمیشن میں ظاہر کی، یہ جائیداد ایک سال قبل بیچ کر حال ہی میں نئی پراپرٹی لی ہے۔ دوسری جانب سندھ کے صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ ہمارے اثاثہ جات پہلے سے ہی ڈکلیئرڈ اور عوام کے علم میں ہیں، جن جائیدادوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے وہ بھی پہلے ہی ڈکلیئرڈ ہیں۔شرجیل میمن نے کہا کہ ہم ہر سال اثاثہ جات اور جائیداد کی ڈکلیئرشن میں یہ تفصیلات جمع کرواتے ہیں، یہ کوئی نئی بات نہیں، پہلے سے سب کچھ عوام کے علم میں ہے۔

  • جسٹس بابر  ستار کے خط  سے تاثر دیا گیا کہ  جیسے عدلیہ پر دباؤ ڈالا جاتا ہے، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ

    جسٹس بابر ستار کے خط سے تاثر دیا گیا کہ جیسے عدلیہ پر دباؤ ڈالا جاتا ہے، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ

    وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کے قانون و ضوابط کے حوالے سے ٹی وی، اخبار اور ریڈیو میں کافی زیادہ چرچا تھا، ایک سلسلے میں ایک اتھارٹی بنائی گئی جس کے بعد سی ایل سی سی میں بھی معاملہ آیا، وزارت اطلاعات و نشریات نے کافی اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ڈرافٹ بھیجا تھا جو آج منظوری کے لیے وفاقی کابینہ میں آیا تھا۔وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ اور عطاء اللہ تارڑ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج بابر ستار کے عدالتی امور میں مداخلت اور دباؤ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جسٹس بابر ستار کے خط کے مندرجات سے یہ تاثردیا گیا کہ ادارے مداخلت کرتے ہیں، کسی نے یہ پیغام نہیں دیا کہ آپ پیچھے ہٹ جائیں، صرف ان کیمرا بریفنگ کا کہا گیا تھا۔
    ان کا کہنا تھا کہ ابھی اٹارنی جنرل آف پاکستان گفتگو کر کے گئے ہیں، انہوں نے ایک خط کے بارے میں گفتگو کی، کچھ وضاحتیں دیں اور اپنی رائے بھی دی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک معزز جج نے خط لکھا ہے کہ جس کے مندرجات سے یہ تاثر دیا گیا کہ انٹیلی جنس اور دفاعی ادارے ججز کے کام میں کسی قسم کی مداخلت کرنا چاہتے ہیں یا کرتے ہیں۔وزیر قانون نے کہا کہ میرے لیے تکلیف دہ چیز یہ ہے کہ اس چیز کی اس طرح سے تشہیر کی گئی کہ جیسے عدلیہ میں مداخلت ہے، اس سے پہلے بھی چھ جج صاحبان کا ایک خط آیا اور ان کے خط پر حکومت نے فوری طور پر چیف جسٹس اور فل کورٹ کی ہدایات کو مدنظر رکھتے ہوئے فل کورٹ اس لیے بنایا تھا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو۔ اس معاملے کا سپریم کورٹ نے نوٹس لیا تھا اور اب یہ معاملہ زیر سماعت ہے تو میں اس پر زیادہ بات نہیں کروں گا۔
    انہوں نے کہا کہ آزاد عدلیہ ہی ملک کو آگے لے کر جاتی ہے لیکن ہمیں دہشت گرد، امن و امان، معاشی اور سیکیورٹی سمیت جس قسم کے چیلنجز اور ماحول کا سامنا ہے ایسی صورت میں تمام اداروں کو ایک دوسرے کو تھوڑی جگہ دینی چاہیے۔ سب اپنے اپنے دائرے میں رہ کر کام کریں انہوں نے کہا پاکستان کومعاشی بحران سے نکلنے کیلیے اتحاد کی ضرورت ہے۔اس موقع پر وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا کہ اگر اٹارنی جنرل کی جانب سے ایک پیغام دیا جاتا ہے کہ ان کیمرا بریفنگ کی جائے تو اس پر سیاق و سباق سے ہٹ کر ایک خط لکھ دیا جاتا ہے کہ مجھے کہا جا رہا ہے کہ میں پیچھے ہٹ جاؤں۔یہ حقیقت پر مبنی بات نہیں ہے، اگر ان کیمرا بریفنگ کی درخواست قومی سلامتی کی وجہ سے کی گئی تھی اور میں واضح کردوں کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
    انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو اتنا آگے لے کر مت جائیے، بات قومی سلامتی کی ہے اور اس ایک معاملے کو لے کر قومی سلامتی لے کر سوال اٹھانا مناسب نہیں، میں سوشل میڈیا پر دیکھ رہا تھا کہ زیریں عدالتوں کے ججوں نے چیف جسٹس کو خط لکھا ہے کہ ان پر سخت زبان میں باقاعدہ دبا ڈالا جاتا ہے کہ فلاں کیس میں فلاں فیصلہ کرو۔ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کے معاملات کو خطوط کے ذریعے اجاگر نہیں کرنا چاہیے، کوئی معاملہ ڈسکس کرنا ہو تو چیف جسٹس فل کورٹ بلا سکتے ہیں، جس چیف جسٹس سے روزانہ ملاقات ہوتی ہو اس کو خط لکھنا معاملے کو متنازع بنانے والی بات ہے۔عطااللہ تارڑ نے کہا کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور اگر اس مسئلے کو لے کر قومی سلامتی پر سوال اٹھایا جائے گا تو یہ مناسب نہیں ہو گا، کسی نے یہ پیغام نہیں دیا کہ آپ پیچھے ہٹ جائیں، صرف ان کیمرا بریفنگ کا کہا گیا تھا، تو میں سمجھتا ہوں کہ تنا ؤکو کم کرنا ہو گا اور تمام اداروں کو اس پر مل جل کر کام کرنا ہو گا۔

  • ریٹائرڈ فوجی جنرل، پاکستان ایئر فورس کے دو ریٹائرڈ ایئر وائس مارشل بھی دبئی میں جائیدادوں کے مالک

    ریٹائرڈ فوجی جنرل، پاکستان ایئر فورس کے دو ریٹائرڈ ایئر وائس مارشل بھی دبئی میں جائیدادوں کے مالک

    ہزاروں پاکستانی جو جائیدادوں کے مالک ہیں ان میں ایک درجن کے قریب ریٹائرڈ فوجی جنرل، پاکستان ایئر فورس کے دو ریٹائرڈ ایئر وائس مارشل، ایک حاضر سروس انسپکٹر جنرل پولیس، ایک ریٹائرڈ صدر نیشنل بینک آف پاکستان، ایک سابق چیئرمین او جی ڈی سی ایل اور ایک حاضر سروس چیئرمین پاکستان کونسل فار سائنس و ٹیکنالوجی بھی اس میں شامل ہیں۔آرگنائزڈ کرائم اینڈ کرپشن رپورٹنگ پروجیکٹ کے اعداد وشمار میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک درجن سے زیادہ ریٹائرڈ فوجی افسران اور انکے خاندان، بینکرز اور بیوروکریٹس بھی دبئی کے مہنگے اور اعلیٰ درجے کے علاقے میں جائیدادوں کے مالک ہیں۔
    ریٹائرڈ فوجی جنرلز میں سب سے نمایاں نام سابق صدر جنرل پرویز مشرف(مرحوم) کا ہے، سابق فوجی آمر اور انکی اہلیہ کا نام لیک ڈیٹا میں تین پراپرٹیز کی ملکیت کے حوالے سے ظاہر ہوا ہے جو کہ دبئی مرینا، برج خلیفہ اور الثانیہ ففتھ کے علاقوں میں ہیں۔لیک ڈیٹا جو کہ 2020 سے 2022 کے دورانیہ کا ہے، اس میں سابق صدر کے ملٹری سیکریٹری لیفٹننٹ جنرل (ر) شفاعت اللّٰہ شاہ کا نام بھی شامل ہے۔ انکا نام پینڈورا پیپرز میں بھی آیا تھا، جنرل شفاعت کا بیٹا اس جائیداد میں شریک مالک ہے۔ جنرل شفاعت نےOCCRP کے رابطے پر اس پراپرٹی کے حوالے سے ملکیت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ انکی تمام بیرون ملک جائیدادیں پاکستان میں ٹیکس حکام کے پاس ڈیکلیئرڈ ہیں۔جنرل مشرف کے عہد کے سابق ڈی جی سی سابق میجر جنرل احتشام ضمیر، انکے بیٹے اور دیگر بچے الورسان فرسٹ، مرینا آرکیڈ مرسا ایریا میں بطور جائیداد کے مالکان فہرست میں شامل ہیں۔ اسی طرح این ایل سی اسکینڈل کے لیفٹننٹ جنرل (ر) افضال مظفر کے بیٹے اور سابق ڈی جی کائونٹر اینٹلی جنس میجر جنرل احتشام ضمیر اور انکے بچوں کے نام بھی فہرست میں موجود ہیں۔
    ایک اور لیفٹننٹ جنرل (ر) محمد اکرم الیٹ ریذیڈینسس 4 میں جائیداد کے مالک ہیں، لیفٹننٹ جنرل (ر) عالم جان محسود اور انکی اہلیہ الھماری پام جمیرہ ایریا میں پانچ کمروں کے اپارٹمنٹ کے مالک ہیں۔ لیک ڈیٹا میں میجر جنرل (ر) غضنفر علی خان ایس15 بلڈنگ الورسان فرسٹ میں ایک پراپرٹی کے مالک ہیں۔ میجر جنرل (ر) راجہ محمد عارف نذیر بھی گالف پرومینیڈ 2-A الحیبیاہ تھرڈ ایریا میں ایک پراپرٹی کے مالک ہیں۔ دریں اثنا ایئر وائس مارشل (ر) سلیم طارق اور ایئر وائس مارشل (ر) خالد مسعود راجپوت کے نام بھی مالکان پراپرٹی میں شامل ہیں۔ فہرست میں میجر جنرل (ر) محمد فاروق، میجر جنرل (ر) انیس باجوہ کی اہلیہ اور میجر جنرل (ر) نجم الحسن شاہ کا نام بھی شامل ہے۔ سابق چیئرمین او جی سی ڈی ایل زاہد مظفر اور چیئرمین پی سی ایس ٹی سید انوار الحسن گیلانی کا نام بھی فہرست میں جائیداد مالکان کے طور پر موجود ہے۔

    آئی جی آزاد کشمیر ڈاکٹر سہیل حبیب تاجک کا نام الدفراح فرسٹ الثانیہ تھرڈ میں جائیداد مالک کے طور پر فہرست میں شامل ہے، انھوں نے جائیداد مالک ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے یہ 2002 میں اس وقت خریدا جب وہ اقوام متحدہ میں کام کر رہے تھے اور انکی تنخواہ دس ہزار ڈالر تھی۔ انکے مطابق انھوں نے یو این بینک سے یہ رقم قانونی طریقے سے دبئی ٹرانسفر کی اور اس جائیداد کو اپنے اثاثے کے طور پر ڈیکلیئر کیا۔ نیشنل بینک آف پاکستان کے سابق صدر عارف عثمانی کا نام بھی فہرست میں ایک پینٹ ہاؤس کے مالک کے طور پر شامل ہے۔

  • بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے دبئی پراپرٹی لیکس میں نام آنے پر وضاحت

    بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے دبئی پراپرٹی لیکس میں نام آنے پر وضاحت

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے دبئی پراپرٹی لیکس میں نام آںے پر وضاحت جاری کردی گئی ہے۔بلاول بھٹو کے ترجمان ذوالفقار علی بدر کا کہنا ہے کہ بلاول اور آصفہ بھٹو کے تمام اثاثے ڈیکلیئرڈ ہیں۔ترجمان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو اور آصفہ بھٹو نے جلاوطنی میں پرورش پائی، جلاوطنی کے دوران بلاول اور آصفہ بھٹو مذکورہ املاک میں رہائش پذیر تھے۔ترجمان کے مطابق بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد مذکورہ املاک اولاد کو وراثت میں ملیں۔ذوالفقارعلی بدر نے کہا کہ موجودہ خبر میں کچھ نیا نہیں، نہ ہی کچھ غیرقانونی ہے۔

  • بجٹ میں وفاق اور سندھ حکومت عوام کو ریلیف کے ساتھ تنخواہوں میں بھی اچھا اضافہ کرے گی،منظور وسان

    بجٹ میں وفاق اور سندھ حکومت عوام کو ریلیف کے ساتھ تنخواہوں میں بھی اچھا اضافہ کرے گی،منظور وسان

    پی پی پی رہنما منظور وسان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو فائدہ کے بجائے نقصان پہنچے گا، شیر افضل مروت اور بانی پی ٹی آئی کی نوراکشتی بانی پی ٹی آئی کے کہنے پر ہی ہورہی ہے، تھوڑے عرصے کے لئے مروت ایم این اے شپ سے استعفیٰ دے گا، پھر دوبارہ الیکٹ ہوکر بانی پی ٹی آئی کے ساتھ کام کرے گا۔ پی پی پی رہنما منظور وسان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سوچتا ہے کہ دھمکیاں دیکر شاید اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کو کنٹرول کرلے گا تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔
    رہنما پی پی نے کہا کہ امید ہے اس بجٹ میں وفاق اور سندھ حکومت عوام کو ریلیف کے ساتھ تنخواہوں میں بھی اچھا اضافہ کرے گی، آج تک تو کسی بھی وزیراعظم نے اپنا وقت پورا نہیں کیا، شہبازشریف کا نصیب ہوسکتا ہے کہ پانچ سال پورے کرے۔منظور وسان نے مزید کہا کہ جہاں اقلیت میں حکومتیں ہوتی ہیں ایسے فیصلے مانے جاتے ہیں، ن لیگ اقلیت میں ہے، وزارت خارجہ کسی بھی پارٹی کو دی جائے، بانی پی ٹی آئی محسوس کروانا چاہتے ہیں کہ وہ سعودی عرب کے خلاف نہیں، جو بھی سعودی عرب کے خلاف بولے گا اسے پارٹی سے نکالا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ جب تک سعودی عرب بانی پی ٹی آئی کو سپورٹ نہیں کرے گا تب تک یہ گالم گلوچ ہوگا۔

  • پاکستان کے اہم سیاسی رہنماؤں کے نامو ں کا دبئی پر اپرٹی لیکس میں انکشاف

    پاکستان کے اہم سیاسی رہنماؤں کے نامو ں کا دبئی پر اپرٹی لیکس میں انکشاف

    دبئی پراپرٹی لیکس میں انکشاف ہوا ہے کہ 17 ہزار پاکستانیوں نے دبئی میں 23 ہزار جائیدادیں خرید رکھی ہیں، پراپرٹی لیکس میں صدر آصف زرداری کے تین بچوں کے نام شامل ہیں۔دبئی میں غیر ملکیوں کی تقریباً 400 ارب ڈالرز کی جائیدادیں ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ "پراپرٹی لیکس” میں دنیا کی کئی سیاسی شخصیات، حکومتی اہلکاروں اور ریٹائرڈ سرکاری افسروں کے نام شامل ہیں۔اس نئے اسکینڈل میں اس بات کا انکشاف بھی ہوا ہے کہ پاکستانیوں کی دبئی میں 11 ارب ڈالرز کی جائیدادیں ہیں، دبئی میں جائیدادیں خریدنے والے غیرملکیوں میں پاکستانیوں کا دوسرا نمبر ہے۔سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کا نام بھی دبئی کی جائیداد کے مالکوں کی فہرست میں شامل ہے جبکہ پراپرٹی لیکس میں سابق وزیراعظم شوکت عزیز کا نام بھی شامل ہے۔
    ایک درجن سے زیادہ ریٹائرڈ سرکاری افسروں، ایک پولیس چیف، ایک سفارتکار اور ایک سائنسدان کا نام بھی پراپرٹی لیکس میں شامل ہے۔پراپرٹی لیکس کے مطابق حسین نواز شریف کی بھی دبئی میں جائیداد ہے، وزیر داخلہ محسن نقوی کی اہلیہ بھی دبئی میں جائیداد کی مالک ہیں۔شرجیل میمن اور ان کے فیملی ممبرز کے نام بھی دبئی میں جائیداد کے مالکوں کے ناموں میں شامل ہیں۔سینیٹر فیصل واوڈا کا نام بھی دبئی کے جائیداد کے مالکوں کے نام میں شامل ہے۔پراپرٹی لیکس میں انکشاف ہوا ہے کہ سندھ کے چار ارکان قومی اسمبلی کی بھی دبئی میں جائیدادیں ہیں۔ بلوچستان اور سندھ کے چھ سے زائد ارکان صوبائی اسمبلی کے نام بھی پراپرٹی لیکس میں شامل ہیں۔پراپرٹی لیکس میں انکشاف ہوا ہے کہ بھارتی شہری دبئی میں جائیدادیں خریدنے والے غیرملکیوں میں سب سے آگے ہیں۔
    اس میں انکشاف ہوا ہے کہ 29 ہزار 700 بھارتیوں کی دبئی میں 35 ہزار جائیدادیں ہیں۔ بھارتیوں کی دبئی میں جائیدادوں کی مالیت تقریباً 17 ارب ڈالر ہے۔اس کے علاوہ 19 ہزار 500 برطانوی شہریوں کی دبئی میں 22 ہزار جائیدادیں ہیں۔ برطانوی شہریوں کی دبئی میں خریدی گئی جائیدادوں کی مالیت 10ارب ڈالر ہے۔آٹھ ہزار پانچ سو سعودی شہریوں نے دبئی میں ساڑھے آٹھ ارب ڈالرز کی 16 ہزار جائیدادیں خرید رکھی ہیں۔
    دبئی میں جائیدادوں کا یہ ڈیٹا واشنگٹن میں قائم این جی او "سینٹر فار ایڈوانسڈ اسٹیڈیز، نے حاصل کیا ہے۔جائیدادوں کا ڈیٹا واشنگٹن کی این جی او نے ناروے کے فنانشل آؤٹ لک ای ٹوئنٹی فور کے ساتھ شیئر کیا۔ جائیدادوں کا ڈیٹا "آرگنائزڈ کرائم اینڈ کرپشن رپورٹنگ پراجیکٹ” نامی تنظیم سے بھی شیئر کیا گیا۔
    آرگنائزڈ کرائم اینڈ کرپشن رپورٹنگ پراجیکٹ” نے چھ ماہ کے تفتیشی پراجیکٹ پر کام کر کے جائیدادوں کے مالکوں کا پتہ لگایا ۔تفتیشی پراجیکٹ پر 58 ملکوں کے 74 میڈیا اداروں کے رپورٹرز نے کام کیا۔تفتیشی پراجیکٹ سے دبئی میں حال ہی میں کم از کم ایک جائیداد خریدنے والے سزا یافتہ مجرموں، مفروروں اور سیاسی شخصیات کا پتہ لگایا۔

    دبئی لیکس میں‌بلاول و آصفہ کی جائیدادوں پر ترجمان کا ردعمل
    سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان ذوالفقار علی بدر نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو اور آصفہ بھٹو کے ملکی و غیر ملکی اثاثے الیکشن کمیشن اور ایف بی آر میں ڈکلیئر ہیں، دونوں نے جلاوطنی میں پرورش پائی، دبئی میں شہید بینظیر بھٹو کے ہمراہ جلا وطنی کے دوران ان کے بچے مذکورہ املاک میں رہائش پذیر تھے، بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد دبئی میں املاک ان کی اولاد کو وراثت میں ملی، بلاول بھٹو اور آصفہ بھٹو کی دبئی میں املاک کی تفصیلات پہلے سے ہی پبلک ہیں، موجودہ خبر میں کچھ نیا نہیں نہ غیر قانونی ہے، بدنیتی پر مبنی کسی بھی کارروائی کو متعلقہ فورمز پر چیلنج کیا جائے گا۔

    اہلیہ کے نام دبئی میں خریدی جائیداد باقاعدہ ڈکلیئر ہے: وزیر داخلہ
    وزیر داخلہ محسن نقوی نے پراپرٹی لیکس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اہلیہ کے نام دبئی میں خریدی جائیداد باقاعدہ ڈکلیئر ہے، جائیداد کو ٹیکس گوشواروں میں بھی ظاہر کیا، ایک برس قبل جائیداد کو فروخت کر کے اس رقم سے چند ہفتے قبل ایک اور پراپرٹی خریدی ہے۔

    دبئی میں جن جائیدادوں کا تذکرہ ہوا وہ عوام کے علم میں ہیں: شرجیل میمن
    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ دبئی میں جن جائیدادوں کا تذکرہ کیا جا رہا وہ پہلے ہی ڈکلیئرڈ اور عوام کے علم میں ہیں، جائیدادیں الیکشن کمیشن اور متعلقہ ٹیکس اتھارٹیز میں ڈکلیئرڈ ہیں، ہم ہر سال اثاثوں اور جائیداد کی ڈکلیئریشن میں یہ تفصیلات جمع کرواتے ہیں۔

    دبئی میں ایک اپارٹمنٹ کا مالک ہوں جو 6 سال سے ڈکلیئر ہے: شیر افضل مروت
    تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ دبئی میں ایک اپارٹمنٹ کا مالک ہوں، اپارٹمنٹ ایف بی آر، الیکشن کمیشن میں 6 سالوں سے رجسٹرڈ اور ڈکلیئر ہے، ایف بی آر سے بھی تصدیق کی جا سکتی ہے، میں نے 2018ء کے نامزدگی فارموں میں بھی اس کا اعلان کیا تھا۔

  • ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن اتھارٹی کے مسودے کے قیام کے معاملے پر اتحادیوں کی کمیٹی تشکیل

    ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن اتھارٹی کے مسودے کے قیام کے معاملے پر اتحادیوں کی کمیٹی تشکیل

    وفاقی کابینہ ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن اتھارٹی کے مسودے کے قیام کے معاملے پر اتحادیوں کی کمیٹی تشکیل دے دی، کمیٹی اتھارٹی پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے کام کرے گی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیکا ایکٹ میں ترامیم کے مسودے کی بھی منظوری دی گئی ۔ مسودات قانون کو پارلیمنٹ میں قانون سازی کیلئے پیش کیا جاے گا۔ذرائع نے بتایا کہ پیکا ایکٹ 2016کے مقابلے میں مختلف جرائم کی سزاؤں میں کئی گنا اضافہ اور مختلف جرائم کے ناقابل ضمانت قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے.نئے مجوزہ پیکا قانون میں سائبر ٹیررازم سے متعلق خصوصی سیکشن مختص کردیا گیا نئےمجوزہ قانون میں سائبرٹیررازم کی تعریف بھی تبدیل کردی گئی ہے۔ مجوزہ قانون کے مطابق کسی برادری یا فرقے میں خوف یا عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنا سائبر ٹیررازم کہلائے گا، معاشرے میں خوف یا عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنا بھی سائبرٹیررازم تصور ہوگا۔ کالعدم تنظیموں، افراد یا گروہوں کے مقاصد کو آگے بڑھانا بھی سائبر دہشت گردی کہلائے گا.

    مجوزہ قانون میں سائبر ٹیررازم سے متعلق کیسز نیشنل سائبرکرائم انوسٹیگیشن اتھارٹی کے پاس جائیں گے، سائبرکرائم انوسٹی گیشن اتھارٹی پولیس اور ایف آئی اے کی پاور اور وسائل استعمال کرسکے گی سائبرکرائم انوسٹی گیشن اتھارٹی کسی بھی ملزم اور مجرم کی جائیداد ضبط کرنے کی مجاز ہوگی، سائبرکرائم کے سیکشن 8 کی سزائیں 3 سال سے بڑھا کر 7 سال کردی گئیں۔ذرائع کا بتانا ہے کہ پیکا ایکٹ 2024کاسیکشن 8کسی کی ذاتی معلومات میں مداخلت سے متعلق ہے جس میں نفرت انگیز تقاریر کی شق کو سیکشن میں تبدیل کرنے، دہشت گردوں کی بھرتی، مالی معاونت اور منصوبہ بندی کا علیحدہ سیکشن بنانے ، الیکٹرانک جعل سازی کی سزا 3 سال سے بڑھا کر 7 سال یا 50 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں دینے کی تجوید دی گئی ہے ۔ذرائع کے مطابق اسٹیٹ بینک کی اجازت کے بغیر ورچوئل یا کرپٹوکرنسی کے استعمال پر 5 سال کی سزا، الیکٹرانک ڈیوائس کی سپلائی پر سزا 6ماہ سے بڑھا کر3 سال کرنے، بغیر اجازت کسی کی شناختی معلومات استعمال کرنے پر سزا 3 سال سے بڑھا کر 7 سال کرنے او ر غیرقانونی وائس ٹریفک ٹرانسمیشن کی سزا 3 سال کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔

  • اہم شخصیات کی پراپرٹیز سے متعلق گمراہ کن تفصیلات سامنے آنے والی ہے، فیصل واوڈا

    اہم شخصیات کی پراپرٹیز سے متعلق گمراہ کن تفصیلات سامنے آنے والی ہے، فیصل واوڈا

    سابق وفاقی وزیر اور سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ مخصوص میڈیا گروپس میں پھر کوئی پروپیگنڈا ہونے کو ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں فیصل واوڈا نے کہا کہ پراپیگنڈا کے کردار عالمی طاقتوں سے جڑے لیکس والے کھلاڑی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ممکنہ طور پر اہم شخصیات کی پراپرٹیز سے متعلق گمراہ کن تفصیلات بتائی جائیں گی، ایک مخصوص طبقے کو کلین چٹ دینے کا فرمائشی پروگرام بنایا گیا ہے۔سینیٹر فیصل واوڈا نےسوال اٹھایا کہ کیا آنے والی اس مہم کا ہدف ایس آئی ایف سی اور دوست ملکوں کی سرمایہ کاری ہے؟ان کا استفسار تھا کہ کیا آزاد کشمیر میں ہونے والی منصوبہ بندی اور اس کھیل کے کھلاڑی ایک ہی ہیں؟فیصل واوڈا نے یہ بھی کہا کہ اس پراپیگنڈہ مہم کا حتمی ہدف کون ہے؟ وقت آنے پر سب کچھ بتائیں گے۔

  • سائلین کو جلد انصاف کی فراہمی میں ہر ممکن تعاون جاری رہے گا۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ

    سائلین کو جلد انصاف کی فراہمی میں ہر ممکن تعاون جاری رہے گا۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ

    چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس ملک شہزاد احمد خان کے ساتھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن بہاولپور کے وفد کی ملاقات ہوئی۔وفد کی قیادت ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن بہاولپور کے صدر سردار عبدالباسط ایڈووکیٹ نے کی، ملاقات میں عدلیہ اور بار کی مضبوطی کے لئے اکٹھے کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا، ملاقات میں غریب عوام کو جلد انصاف فراہم کرنے میں ہر ممکن تعاون کا اعادہ کیا گیا۔وفد نے چیف جسٹس کو ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن بہاولپور کے جلد از جلد دورہ کی دعوت دی، وکلاء نے چیف جسٹس کو بہاولپور ڈویژن کی بار ایسوسی ایشنز کو درپیش مسائل سے متعلق بھی آگاہ کیا۔وفد کی جانب سے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن رحیم یار خان کے لئے نئے جوڈیشل کمپلیکس کے لئے فنڈز کے اجراء کی درخواست کی گئی، ملاقات کے دوران وفد نے لاہور ہائی کورٹ میں ججز کی تعیناتی میں بہاولپور بار سے وکلاء کی نامزدگیوں کی بھی تجویز دی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن بہاولپور کے صدر سردار عبدالباسط ایڈووکیٹ نے کہا ہائی کورٹ بہاولپور بینچ پر ججز کی تعداد کم ہونے سے زیر التواء مقدمات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، لاہور ہائی کورٹ بہاولپور بینچ پر ججز کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔
    انہوں نے کہا کہ بہاولپور ڈویژن کی کوئی بھی بار عدلیہ یا بار کو کمزور کرنے کی کسی بھی سازش کا حصہ نہیں بنے گی، سائلین کو جلد انصاف کی فراہمی میں ہر ممکن تعاون جاری رہے گا۔اس موقع پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا وکلاء ہڑتال کلچر کی حوصلہ شکنی کریں، جلد اور معیاری انصاف کی فراہمی عدالت عالیہ لاہور کی اولین ترجیح ہے، وکلاء انصاف کی فراہمی کے نظام کو مزید موثر بنانے کیلئے ہمارے شانہ بشانہ کام کریں۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ وکلا ء اور عدلیہ کو آپس میں لڑوانے کی ہر سازش کو عدلیہ اور وکلاء مل کر ناکام بنائیں گے، بینچ اور بار کو کمزور کرنے کی ہر سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا، نوجوان وکلاء کی فلاح کے لئے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔

  • سنی اتحادکونسل نےشیخ وقاص اکرم کوچیئرمین پی اےسی نامزدکردیا

    سنی اتحادکونسل نےشیخ وقاص اکرم کوچیئرمین پی اےسی نامزدکردیا

    سنی اتحاد کونسل نے شیخ وقاص اکرم کا نام چیئرمین پی اے سی کیلئے تجویز کر دیا۔ اس حوالے سے سنی اتحاد کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے اسپیکر قومی اسمبلی کو خط تحریر کر دیا۔ خط کی کاپی سیکرٹری قومی اسمبلی اور بیرسٹر گوہر کو ارسال کر دی گئی۔