گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو سیاسی جماعتوں سے ہی بات چیت کرنا پڑتی ہے، مولانا فضل الرحمٰن نے ہمیشہ جمہوری راستے سے جدوجہد کی ہے، مولانا فضل الرحمٰن سمیت تمام سیاسی جماعتوں سے بات چیت کریں گے۔گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی 2 مختلف آراء ہیں، پی ٹی آئی آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے بات چیت کا کہہ رہی ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پی ٹی آئی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی دخل اندازی کی بات بھی کررہی ہے، یہ جان بوجھ کر فوج کو سیاست میں دھکیل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے وفاقی کابینہ کا حصہ بننے کا فیصلہ نہیں کیا، کابینہ کا حصہ بننے کا فیصلہ سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کے فورم پر کیا جاتا ہے۔فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو انتخابات سے متعلق تحفظات ہوں گے، تحفظات کے ازالے کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع کرسکتے ہیں۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ حلف برداری میں وزیراعلیٰ یا کابینہ کی نمائندگی نہ ہونے پر تکلیف نہیں، مسائل کے حل کیلئے وزیراعلیٰ ہاؤس سمیت کہیں بھی جاسکتا ہوں، ایسا نہ ہو کہ وفاق اور صوبے کی سیاسی چپقلش میں نقصان عوام کا ہو۔انہوں نے کہا کہ صوبے کا وکیل بن کر مسائل کے حل کیلئے کردار ادا کروں گا، وفاق سے صوبے کے لیے زیادہ سے زیادہ فنڈز کے حصول کو یقینی بنائیں گے، وفاق سے جڑے صوبے کے مسائل افہام و تفہیم سے حل کریں گے، خیبرپختونخوا کو امن اور معاشی بےحالی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ شیرپاؤ، سراج الحق سمیت سیاسی شخصیات سے رابطہ کر کے انہیں اعتماد میں لیا، پشاورہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کو خصوص نشستوں پر حلف لینے کا حکم دیا ہے، صوبائی حکومت ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ گئی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی حکومت توہین عدالت کی مرتکب بھی ہو سکتی ہے۔
Author: صدف ابرار
-

پی ٹی آئی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی دخل اندازی کی بات بھی کررہی ہے، گورنر کے پی کے
-

پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما شیر افضل مروت کی گاڑی کو حادثہ
پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما شیر افضل مروت حادثے سے بال بال بچ گئے۔ رہنما پی ٹی آئی شیر افضل مروت خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے اسلام آباد کیلئے سفر کر رہے تھے کہ ایم 14 موٹر وے پر گاڑی کے 2 ٹائر پھٹ گئے۔ تاہم حادثے میں پی ٹی آئی رہنما اور ان کے ساتھی معجزاتی طور پر محفوظ رہے اور وہ دوسری گاڑی میں سوار ہو کر اسلام آباد روانہ ہوگئے۔
-

چلاس بس حادثے میں شہید جوان کو فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک
چلاس بس حادثے میں شہید جوان کو فوجی اعزاز کے ساتھ آبائی گاؤں میں سپردخاک کردیاگیا۔شہید اہلکارسجاد کی نمازجنازہ چشتیاں کے قدیم قبرستان میں اداکی گئی ۔شہید کو پاک فوج کے دستے نے سلامی پیش کی۔نماز جنازہ میں اہلیان علاقہ سمیت پاک فوج کے اعلی افسران نے شرکت کی ۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز چلاس میں بس کھلائی میں گرنے سے 20مسافر جاں بحق اور 21زخمی ہو گئے تھے ۔شہید کی والدہ کاکنا تھاکہ میرے بیٹے نے جام شہادت نوش فرمایا ہمیں ان کی شہادت پہ ہمیشہ ناز رہے گا ۔
-

سونے کی درآمدات میں ماہانہ بنیادوں پر بھی 100 فیصد کمی ریکارڈ
ملک میں بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث سونے کی درآمدات صفر ہوگئی۔دستاویز کے مطابق مارچ میں ملک کے کسی امپورٹر نے سونے کی درآمدات نہیں کیں، سونے کی درآمدات میں ماہانہ بنیادوں پر بھی 100 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔دستاویز کے مطابق فروری 2024ء میں 32 کلو سونا درآمد کیا گیا تھا جس کا کُل حجم 21 لاکھ 96 ہزار ڈالر تھا۔رواں مالی سال 9 ماہ میں سونے کی درآمدات میں 27.78 فیصد کمی ہوئی، جولائی تا مارچ ملک بھر میں 262 کلو سونا درآمد کیا گیا، 9 ماہ کے دوران سونے کی درآمدات کا حجم 1 کروڑ 70 لاکھ ڈالر رہا۔دستاویز کے مطابق گزشتہ مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں 384 کلو سونا امپورٹ کیا گیا تھا۔
-

9 مئی کو کراچی میں بسوں اور ایمبولینسوں کو آگ لگائی گئی، شرجیل میمن
شرجیل میمن نے کہا ہے کہ اپنے اقتدار کے لیے کوئی لیڈر عوام کو بے وقوف بنائے تو اس کی بات نہیں سننی چاہیے، 9 مئی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، کراچی میں بسوں اور ایمبولینسوں کو آگ لگائی گئی، جناح ہاؤس کو نقصان پہنچایا گیا۔وزیرِ ٹرانسپورٹ سندھ شرجیل میمن نے کہا ہے کہ 9 مئی کو بانیٔ پی ٹی آئی نے عوام کو ورغلایا۔پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ جن معصوم بچوں کو بانیٔ پی ٹی آئی نے استعمال کیا وہ جیلوں میں ہیں، یہ سبق ہے کہ کوئی بھی لیڈر تشدد کی ترغیب دے اسے نہیں سننا چاہیے۔شرجیل میمن نے کہا کہ ہم وفاق میں نہیں ہیں، حکومت کو کام کرنے سے روک نہیں رہے، جو بھی کام ملک کے فائدے میں ہو گا اس میں پی پی ساتھ کھڑی ہو گی، پاکستان اب صحیح راہ پر جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سی ای سی نے جو فیصلے کیے تھے ہم انہی فیصلوں پر چل رہے ہیں، ہم ملکی فائدے کے کام میں حکومت کا ساتھ دیں گے۔علاوہ ازیں کراچی میں ملیر ہالٹ پر ریڈ لائن منصوبے پر جاری کام کا معائنہ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ نگراں حکومت آنکھیں بند کر کے سو گئی تھی۔
شرجیل میمن نے کہا کہ آج بھی ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کام کر رہا ہے، یلو لائن بی آر ٹی پر بھی ہم نے کام شروع کروا دیا ہے، کچھ لوگ مایوسی کی باتیں کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر منفی خبریں دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کی پہلی ترجیح عوامی فلاح ہے، ریڈ لائن منصوبے پر کام شروع کرا دیا ہے، جناح ایوینیو پر انڈر پاس پر بھی کام جاری ہے۔شرجیل میمن نے مزید کہا کہ ٹرانسپورٹ کراچی کی بہت بڑی ضرورت ہے، آپ کو ہمارے ایکشن سے نظر آئے گا کہ حکومت سنجیدہ ہے، ریڈ لائن بی آر ٹی ایک بڑا پروجیکٹ ہے، جب منصوبہ شروع ہوا تو کنٹریکٹرز کو مسائل کا سامنا تھا۔پیپلز پارٹی کے رہنما نے یہ بھی کہا کہ حکومت کا کام ہے کہ عوام کو ریلیف فراہم کرے، ہماری کوشش ہے کہ ٹرانسپورٹ سیکٹر اپنے پیروں پر کھڑا ہو، ہماری ترجیح ہے کہ شہریوں کو سفری سہولتیں عملی طور پر فراہم کریں۔
-

لاہور اور کراچی میں پاسپورٹ 24 گھنٹے کھلا رکھنے کی ہدایت
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے لاہور اور کراچی کے شہریوں کی سہولت کیلئے کم ازکم ایک پاسپورٹ دفتر 24 گھنٹے کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ عوام کو آسانی اور سہولت فراہم کرنے کیلئے لاہور اور کراچی دونوں شہروں میں کم از کم ایک پاسپورٹ آفس 24 گھنٹے کھلا رہے گا۔
-

پیپلز پارٹی نے حکومت کا حصہ بننے پر مشاورت کا آغاز کر دیا
آئینی کلیدی عہدوں کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی نے وفاقی کابینہ میں شمولیت پر مشاورت شروع کردی ۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم میاں شہباز شریف کے ایک مرتبہ پھر وفاقی حکومت میں شمولیت کی پیشکش پر پیپلز پارٹی کی وفاقی میں شمولیت پر 8 وفاقی وزارتیں ملنے کا قوی امکان ہے ۔ذرائع کے مطابق بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی سربراہی بھی پیپلز پارٹی کو دی جائیگی۔ بی آئی ایس پی کی چیئرپرسن روبینہ خالد ہونگی۔صدرمملکت، چیئرمین سینٹ کے بعد پی پی پی کو دواور اہم آئینی عہدے گورنرز کی صورت میں مل چکے۔پیپلز پارٹی کی سی ای سی اجلاس یا پھر ممبران کو نسل سے مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گی۔کابینہ میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیاجائیگا۔
وزیراعظم شہبازشریف نے دو روز قبل پیپلز پارٹی کو حکومت کا حصہ بننے کی دعوت دی تھی، اس حوالے سے اطلاعات ہیں کہ پیپلز پارٹی نے وفاقی حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے، ممکنہ طور پر پی پی کو 8 وزارتیں دی جاسکتی ہیں۔جمعہ کو وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملکی سیاسی صورت حال پر تفصیلی بات چیت کی۔ جس کے بعد اب یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی بڑی اتحادی جماعت نے دو صوبوں میں اپنے گورنروں کی تقرری کے بعد وفاقی حکومت میں بھی شامل ہونے کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے۔یہ بھی اطلاعات ہیں کہ پیپلز پارٹی کو 8 وزارتیں ملنے کا امکان ہے تاہم وزارتوں کے انتخاب اور تعداد کے حوالے سے حتمی فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔واضح رہے کہ وفاقی حکومت میں شمولیت کی محض اطلاعات ہیں اس حوالے سے پیپلزپارٹی کی جانب سے باضابطہ طور پر کوئی اعلان یا تصدیق نہیں کی گئی۔ -

نیپرا ایکٹ میں ترمیم ، اوور بلنگ پر 3 سال کی سزا
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ نیپرا ایکٹ میں ترمیم سے ایک اور وعدہ پورا کر دکھایا۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے اوور بلنگ پر 3 سال کی سزا کا بل منظور کر لیا۔وزارتِ توانائی کے مطابق قومی اسمبلی نے ڈسکوز میں اوور بلنگ پر قانون سازی کی منظوری دی۔اس شق سے اوور بلنگ اور غلط بلنگ کرنے والے افسران کی پکڑ ہو سکے گی۔اویس لغاری نے کہا ہے کہ آئندہ ایف آئی اے نہیں نیپرا اوور بلنگ پر کارروائی کرے گا۔ذرائع نیپرا کے مطابق ایف آئی اے کی بلاوجہ ہراسمنٹ سے بچنے کے لیے رولز تبدیل کیے گئے۔نیپرا کے ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایف آئی اے صرف نشاندہی کرے گا، افسران کی گرفتاری کا مجاز نہیں ہو گا۔
-

ایمل ولی عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر منتخب
اے این پی کی مرکزی کونسل کا اجلاس باچا خان مرکز میں ہوا جس کی صدارت چیئرمین مرکزی الیکشن کمیشن میاں افتخار حسین نے کی۔سینیٹر ایمل ولی خان متفقہ طور پر اے این پی کے مرکزی صدر منتخب ہوئے ہیں۔ان کے مقابلے میں کسی امیدوار نے اے این پی کی صدارت کے لیے کاغذات جمع نہیں کرائے۔امیر حیدر ہوتی نے مرکزی صدارت کیلئے سینیٹر ایمل ولی خان کا نام تجویز کیا تھا۔گزشتہ روز سابق سینیٹر زاہد خان نے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے ترجمان کا عہدہ چھوڑنے کا اعلان کر دیا تھا اور انہوں نے انٹرا پارٹی الیکشن میں بھی حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔علاوہ ازیں رواں ماہ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صوبائی کونسل اجلاس میں خیبر پختون خوا میں پارٹی کی نئی کابینہ تشکیل دی گئی تھی۔باچا خان مرکز کے مطابق میاں افتخار حسین اے این پی کے صوبائی صدر منتخب ہوئے تھے جبکہ سید عاقل شاہ صوبائی سینئر نائب صدر، حسین شاہ خان جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے تھے۔
-

پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے سعودی وفد آج پاکستان آرہا ہیں
پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے سعودی عرب سے 50 افراد پر مشتمل اعلی سطح کا تجارتی وفد آج پاکستان پہنچے گا۔ یاد رہے کہ تین روزہ پاک سعودیہ سرمایہ کاری کانفرنس کل سے اسلام آباد میں شروع ہوگی جس کیلئے سعودی عرب کا وفد پاکستان پہنچے گا۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دورے کے دوران سعودی عرب کی پاکستان میں 10 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری کے معاہدوں اور ایم او یوز پر دستخط ہونے کا امکان ہے۔ سعودی وفد پاکستان میں سرمایہ کاری کے متوقع مواقعوں پر مذاکرات کرے گا، وفد واپس جا کر سعودی فرمانروا محمد بن سلمان کو دورے اور سرمایہ کاری سے متعلق بریفنگ دے گا۔
ذرائع کے مطابق وفد سعودی فرمانروا محمد بن سلمان کی خصوصی ہدایات پر پاکستان کا دورہ کر رہا ہے، 40 سے 50 کاروباری افراد پر مشتمل سعودی وفد پاکستان میں 2 روز قیام کرے گا، وفد میں شامل اہم شخصیات پاکستان میں تجارت و سرمایہ کاری کے نئے مواقع کا جائزہ لیں گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین تجارتی تعلقات کے فروغ کیلئے مختلف شعبوں میں تجارتی وفود کا تبادلہ ہوگا، سعودی تجارتی وفد میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی 30 کمپنیوں کے نمائندے شامل ہیں، وفد کا تعلق ٹیکنالوجی، توانائی، ہوا بازی، تعمیرات، مائننگ اور ہیومن ریسورسز سے ہے۔ اس موقع پر پی آئی اے اور بھاشا ڈیم ، آئی ٹی ، توانائی، خوراک، کیمیکل، گوشت، کان کنی کے متعلق معاہدے طے ہونگے جبکہ زراعت، صنعت و تجارت وغیرہ کے مشترکہ منصوبوں میں سرمایہ کاری کے معاہدے بھی طے پائیں گے۔ خیال رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی وفد کے دورہ پاکستان کے انتظامات کے لئے 16 رکنی سٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دے رکھی ہے۔