Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف  کی چین میں 19ویں ویسٹرن پیسیفک نیول سمپوزیم میں شرکت

    پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف کی چین میں 19ویں ویسٹرن پیسیفک نیول سمپوزیم میں شرکت

    پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف نے چین میں 19ویں ویسٹرن پیسیفک نیول سمپوزیم میں شرکت کی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سمپوزیم کا موضوع ’سمندر کے ساتھ مشترکہ مستقبل‘ تھا۔ جس میں دنیا بھر سے مختلف ممالک کی بحریہ کے سربراہان اور نمائندے شریک ہوئے۔ ایڈمرل نوید اشرف نے فرسٹ سی لارڈ اور رائل نیوی کے چیف آف نیول اسٹاف سے بھی ملاقات کی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف نے کمانڈر یو ایس پیسیفک فلیٹ سے ملاقات کی۔
    انھوں نے کمانڈر انچیف رشین فیڈریشن نیوی، چیف آف انڈونیشین نیوی اور چیف آف بنگلادیش نیوی سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ایڈمرل نوید اشرف نے جنوبی کوریا کے چیف آف نیول آپریشنز، برونائی بحریہ کے قائم مقام ڈپٹی کمانڈر اور سنگاپور کی بحریہ کے سربراہ سے بھی ملاقات کی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق نیول چیف نے عالمی سطح پر میری ٹائم ڈومین میں بڑھتے خطرات اور بلیو اکانومی سے نمٹنے کیلئے پاک بحریہ کے کردار پر روشنی ڈالی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاک بحریہ 2014 سے ویسٹرن پیسیفک نیول سمپوزیم میں بطور مبصر شامل ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دورہ علاقائی اور عالمی میری ٹائم سیکیورٹی بڑھانے کیلئے شریک بحری افواج کے ساتھ دوطرفہ تعاون کو تقویت دے گا۔

  • دو ماہ کے دوران آٹے کا 20 کلو کا تھیلا 800 روپے سستا ہونا وزیراعلی کی گڈ گورننس کا عملی مظاہرہ ہے۔ عظمی بخاری

    دو ماہ کے دوران آٹے کا 20 کلو کا تھیلا 800 روپے سستا ہونا وزیراعلی کی گڈ گورننس کا عملی مظاہرہ ہے۔ عظمی بخاری

    وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمی بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ دو ماہ کے دوران آٹے کا 20 کلو کا تھیلا 800 روپے سستا ہوا،یہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی بہتر حکمت عملی اور ویژن کا ثبوت ہے،یہ کوئی عجوبہ نہیں بلکہ متحرک اور فعال وزیراعلی کی گڈ گورننس کا عملی مظاہرہ ہے۔
    اپنے بیان میں عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں پہلی بار سستی روٹی اور سستا آٹا مل رہا ہے،عام آدمی کی ضرورت روٹی ہے اسکو پورا کرنا مریم نواز کی پہلی ترجیح ہے،مریم نواز کمزور طبقات کی محرومیاں ختم کرنے آئی ہیں،مریم نواز کا کام بول رہا اس لیے مخالفین ان سے خوفزدہ ہیں،عوام سے کیا ہر وعدہ پورا ہوگا پنجاب میں صرف خدمت،ریلیف اور آسانیاں پیدا کرنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز پر کیچڑ اچھالنے کی بجائے ان سے کارکردگی میں مقابلہ کریں،غریب کا پیٹ تقریروں اور بھڑکیں مارنے سے نہیں روٹی سے بھرتا ہے،ہماری وزیراعلی کو غریب کی روٹی،آٹے اور سبزیوں کی فکر ہے،غریب کا چولہا چلے گا فلاحی ریاست بنیں گے اگر غریب کا چولہا بند تو ہم ناکام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز نیک نیتی اور ایمانداری سے عوام کی خدمت کررہی ہیں اس لیے اللہ ان کو کامیابیاں دے ر ہا ہے۔

  • پولیٹیکل پولرائزیشن کی وجہ سے ملک کو نقصان ہورہا ہے،ماہر معیشت عارف حبیب

    پولیٹیکل پولرائزیشن کی وجہ سے ملک کو نقصان ہورہا ہے،ماہر معیشت عارف حبیب

    معروف صنعت کار اور ماہر معیشت عارف حبیب نے نے کہا کہ آرمی چیف کو بھی میٹنگ میں کہا تھا کہ پولیٹیکل پولرائزیشن کی وجہ سے ملک کو نقصان ہورہا ہے، جسے ختم ہونا چاہیے۔عارف حبیب نے یہ بھی کہا کہ سیاسی پولرائزیشن پر آرمی چیف نے جواب دیا تھا کہ تمام جماعتیں ساتھ ہیں، ایک ہی جماعت مخالف سمت میں ہے۔
    انہوں نے کہا کہ شہباز شریف میں بہت اہلیت ہے، اُنہوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات حل کیے، اتحادی جماعتوں اور نواز شریف کے معاملات حل کیے۔
    اُن کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کو کہا کہ سیاسی پولرائزیشن کے خاتمے کےلیے اقدامات کرنے چاہئیں، جس پر آرمی چیف نے کہا کہ پولرائزیشن ویسی نہیں جیسی آپ دیکھ رہے ہیں۔معروف صنعت کار اور ماہر معیشت نے کہا کہ شہباز شریف میں کچھ تو ہے، جس کی وجہ سے وہ تمام معاملات حل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
    اُن کا کہنا تھا کہ میں نے بانی پی ٹی آئی کو آصف علی زرداری، بلاول بھٹو اور شہباز شریف سے فون پر رابطہ کرنے کا مشورہ دیا تھا، لیکن اُنہوں نے نہیں سُنا۔معروف صنعت کار نے کہا کہ بختاور بھٹو کی شادی کے وقت بانی پی ٹی آئی کو کہا تھا کہ آصف زرداری صاحب کو فون کرکے مبارک باد دیں۔انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو کو جب کورونا ہوا تھا تو بانی پی ٹی آئی کو کہا تھا کہ ان کو بھی فون کریں، بانی پی ٹی آئی نے جواب دیا تھا کہ میں نے ٹوئٹ کردیا ہے۔عارف حبیب نے کہا کہ آصف زرداری کو فون کرنے کی میری بات پر بانی پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ آپ وہ بات کریں جو میں کرسکتا ہوں۔

  • 25 سے 29 اپریل کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں طوفانی بارشوں اور سیلاب کا خطرہ

    25 سے 29 اپریل کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں طوفانی بارشوں اور سیلاب کا خطرہ

    محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق 25 اپریل سے ا29 اپریل کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں آندھی، جھکڑاور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔ 26 سے 27 اپریل کے دوران بلوچستان نوشکی، پشین، ہرنائی، ژوب، بارکھان،، گوادر، کیچ آواران کے مقامی اور برساتی ندی نالوں میں سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے،27 سے 28 اپریل کے دوران دیر، سوات، چترال، مانسہرہ اور کوہستان کے مقامی ندی نالوں میں موسلادھار بارش کے باعث سیلابی صوتحال متوقع ہے۔ تیز بارش کے باعث بالائی خیبر پختونخواہ، مری، گلیات، کشمیر اور گلگت میں لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خطرہ موجود ہے ، این ڈی ایم اے نے تمام پی ڈی ایم ایز اور دیگر انتظامی اداروں کو کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔ این ڈی ایم نے خبر دار کیا ہے کہ سیاح و اور مسافر پہاڑی علاقوں میں غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں۔سفر ضروری ہو تو موسم اور راستوں کی صورتحال سے آگاہ رہیں۔ کسی جگہ ندی نالے میں پانی کا بہاؤ تیز ہونے کی صورت میں برساتی ندی نالوں کو پار کرنے سے گریز کریں ۔ اپنی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے بجلی کے کھمبوں،کچی عمارتوں، ٹوٹی دیواروں اور چھتوں سے دور رہیں اور نشیبی علاقوں کے مکین ندی نالوں میں طغیانی کے خدشے کے پیش نظر محتاط رہیں۔ موسم برسات میں نقصان سے بچاؤ کے لیے چھتوں، تہہ خانوں اور بیرونی دیواروں کی واٹر پروفنگ کو یقینی بنائیں۔

  • آئی ایم ایف پاکستان کیلئے1.1 بلین ڈالر کی فنڈنگ کی منظوری  کا  امکان

    آئی ایم ایف پاکستان کیلئے1.1 بلین ڈالر کی فنڈنگ کی منظوری کا امکان

    انٹرنیشنل مانیٹری فنڈز (آئی ایم ایف) پاکستان کیلئے1.1 بلین ڈالر کی فنڈنگ کی منظوری دے گا۔آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی میٹنگ 29 اپریل کو ہوگی، جس میں آئی ایم ایف بورڈ پاکستان کےلیے 1.1 بلین ڈالر کی فنڈنگ کی منظوری دے گا۔جون 2023 میں آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے 3 بلین ڈالر قرضہ پروگرام کی منظوری دی تھی، نئے آئی ایم ایف پروگرام کےلیے آئی ایم ایف مشن کے اگلے ماہ کے وسط میں دورۂ پاکستان کا امکان ہے۔پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ 24ویں قرض پروگرام میں داخل ہوگا۔

  • نواز شریف کاراستہ روکنے کی باتیں بالکل بے بنیاد ہیں، عرفان صدیقی

    نواز شریف کاراستہ روکنے کی باتیں بالکل بے بنیاد ہیں، عرفان صدیقی

    پی ایم ایل کے رہنما عرفان صدیقی نے کہا کہ میں کسی اور کے بیان کی تردید یااختلاف کرنے سے گریز کرتا ہوں، جاوید لطیف نے جو کچھ کہا ہے ان کے پاس کوئی شواہد بھی ہوں گے، لیکن نواز شریف کاراستہ روکنے کی باتیں بالکل بے بنیاد ہیں، رہنما ن لیگ نے کہا کہ آج بھی پاکستان میں نوازشریف کی حکومت ہے،ہمارے قائد اقتدار کے بھوکے نہیں ہیں ،اگر وہ چوتھی بار وزیراعظم بننا چاہتے تو ایک سیکنڈ نہیں لگنا تھا، ان راستے میں پیپلز پارٹی رکاوٹ تھی نہ شہبازشریف اورنہ ہی کوئی اور ، بلکہ وہ خود وزیراعظم نہیں بننا چاہتے تھے ۔
    نوازشریف کے وزارت عظمیٰ قبول نہ کرنے کا واحد سبب نوازشریف خود ہیں، قائد ن لیگ نے فیصلہ کیا تھا کہ اس بار وزارت عظمی کیلئے میں نہیں بلکہ شہبازشریف نے آنا ہے اور شہبازشریف کو وزیراعظم بنانے کا فیصلہ بھی نواز شریف کا تھا۔ عرفان صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ جنرل باجوہ نے ایکسٹینشن کی خواہش ظاہر بھی کی اور پیغام بھی بھیجا تھا ، سابق آرمی چیف نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر ایکسٹینشن نہ ہوئی تو مارشل لا بھی لگ سکتا ہے،پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نوازشریف نے جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دینے کی مخالفت کی تھی۔

  • امریکی صدر  کا  اسرائیل، یوکرین اور تائیوان کیلئے 95 ارب ڈالر کے امدادی بل پر دستخط

    امریکی صدر کا اسرائیل، یوکرین اور تائیوان کیلئے 95 ارب ڈالر کے امدادی بل پر دستخط

    واشنگٹن سے خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیل، یوکرین اور تائیوان کیلئے امدادی بل پر دستخط کے بعد امریکی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ عالمی امن کے لیے یہ ایک عظیم دن ہے۔امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل، یوکرین اور تائیوان کیلئے 95 ارب ڈالر کے امدادی بل پر دستخط کر دیے۔ انھوں نے کہا کہ امدادی بل امریکی قومی سلامتی کے مفاد میں ہے۔ امریکی امداد امریکا اور دنیا کو محفوظ بنائے گی۔ اب ہمیں تیزی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔امریکی صدر نے کہا یوکرین کے پاس جیتنے کا ارادہ اور صلاحیت ہے۔ اسے امداد کی فراہمی فوری شروع کرنے کو یقینی بنائیں گے۔انھوں نے کہا یوکرین کو فوجی امداد چند گھنٹوں میں شروع ہو جائے گی۔ ہم روسی صدر پیوٹن کے خلاف کھڑے ہیں۔ اسرائیل کی سلامتی کی صورتحال پر تشویش ہے۔ صدر بائیڈن نے کہا امریکی امداد اسرائیل کے فضائی دفاع کو دوبارہ تازہ کر دے گی۔ امدادی بل سے غزہ کیلئے انسانی امداد میں قابل ذکر اضافہ ہوگا۔ اسرائیل غزہ میں امداد کی بلا تاخیر فراہمی کو یقینی بنائے۔

  • ہمارے خطے میں بڑی طاقتوں کی مداخلت بڑھ گئی ہے ،خواجہ آصف

    ہمارے خطے میں بڑی طاقتوں کی مداخلت بڑھ گئی ہے ،خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ہمارے خطے میں بےامنی ہے، یہاں بڑی طاقتوں کی مداخلت بڑھ گئی ہے، ہمیں اپنے مفادات کے تحفظ کےلئے ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر ضرور جمع ہونا چاہیے۔ ہمارے خطے میں بڑی طاقتوں کی مداخلت بڑھ گئی ہے، پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ تکمیل کے مراحل عبور کر لے گا۔
    مقامی ٹی وی سے گفتگو میں خواجہ آصف نے کہا کہ ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کا دورہ پاکستان کامیاب رہا۔خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی ہمارا مشترکہ مسئلہ ہے، اسے کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے، دونوں برادر ممالک مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ایرانی صدر کے دورے سے اگر کسی کو بھی درد یا تکلیف ہو تو اس کی کوئی اہمیت نہیں، دراصل پاکستان کے عوام کی تکالیف کا مداوا ہونا چاہیے۔وزیر دفاع نے مزید کہا کہ اس صورتحال میں ایران کے صدر کا دورہ پاکستان بہت بڑی پیشرفت تھی، تہران اور اسلام آباد کے تعلقات کی ایک لمبی چوڑی تاریخ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایران کے صدر چاہتے تھے وہ ایک بڑا جلسہ کریں، سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے بعض چیزیں ہم ارینج نہ کر سکے۔وزیر دفاع نے کہا کہ یہ حکومت ایک سال کے اندر پاکستان میں نمایاں تبدیلی لے کر آئے گی، پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے لئے راستے نکل آئیں گے۔ منصوبہ تکمیل کے مراحل عبور کر لے گا۔

    خواجہ آصف نے مزید کہا کہ جب طالبان نے کابل فتح کیا تو میں نے ٹوئٹ کیا تھا، جس میں کہا تھا طاقتیں تمہاری ہیں اور خدا ہمارا ہے، میں آج بھی اپنے اس ٹوئٹ پر قائم ہوں۔انہوں نے کہا کہ طالبان کی کابل میں فتح کی آج بھی تعریف بنتی ہے، جن لوگوں کے پیچھے دولت مند ممالک نہیں، انہوں نے سپر پاور کو شکست دی، وہ ایک مظلوم کی فتح تھی، جس کی میں نے تعریف کی۔وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ فلسطین کی حمایت کرنا پاکستان کا فرض ہے، جو نسل کشی آج کل غزہ میں ہو رہی ہے، دنیا کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔

  • مختلف اکابرین جیل جاتے ہیں،جیل بھیجنے والے مذاکرات بھی کرتے ہیں،جاوید لطیف

    مختلف اکابرین جیل جاتے ہیں،جیل بھیجنے والے مذاکرات بھی کرتے ہیں،جاوید لطیف

    جاویدلطیف نے کہا کہ پاکستان کے اندر سیاسی جماعتوں کے اکابرین ملک دشمن نہیں ہوتے،مختلف اکابرین جیل جاتے ہیں،جیل بھیجنے والے مذاکرات بھی کرتے ہیں۔ پہلے ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ جیل کے اندر جو شخص ہے وہ ملک کا دشمن ہے،جب آپ فیصلہ کر لیتے ہیں تو کسی سے بھی مذاکرات کرنا آسان ہو جاتے ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ ہم نے کچھ اسپیس انہیں دینی ہے اور کچھ اسپیس ہم نے بھی لینی ہے،رہنما ن لیگ نے کہا کہ اگر ریاست کو انصاف نہیں مل رہا تو پھر میں کہاں کھڑا ہوں یہ ہمیں سوچنا ہوگا، ریاست اپنے ریاستی اداروں کوانصاف نہیں دے سکی، یہاں تو جیل میں موجود کسی قیدی کو چھینک بھی آجائے تو نوٹس لے لیا جاتا ہے۔ جس طرح بانی پی ٹی آئی کی سزائیں معطل کی جا رہی ہیں وہ سہولت کاری ہے۔جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں عالمی قوتوں کا دباو ہے، کیا پاکستان کے اداروں کے اندر خوداحتسابی کا ایک طریقہ کا ر موجود نہیں، انکا کہنا تھا کہ پارٹی کے اختلافات پارٹی کے اندر ہونے چاہئیں،مجھے آج بھی جنرل باجوہ اور فیض حمید کے اثرات نظرآتے ہیں۔

  • پاکستان دنیا کے 90 فیصد سگریٹ پیدا کرنے والے 9 غریب ممالک میں شامل

    پاکستان دنیا کے 90 فیصد سگریٹ پیدا کرنے والے 9 غریب ممالک میں شامل

    امپیریل کالج لندن کی جانب سے جاری کردہ حالیہ رپورٹ میں تمباکو کی عالمی صنعت میں پاکستان کی حیثیت کے حوالے سے چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے 90 فیصد سگریٹ کی پیداوار کے لیے ذمہ دار 9 غریب ترین ممالک میں شامل ہے۔امپیریل کالج نے "تمباکو کے عالمی ماحولیاتی نقش” کے عنوان سے وسیع تحقیق کی، جس نے پسماندہ ممالک میں تمباکو کی پیداوار میں اضافے سے متعلق روشنی ڈالی۔ رپورٹ ان ممالک کی معیشتوں اور ماحول پر تمباکو کی کاشت کے نقصان دہ اثرات کی نشاندہی کرتی ہے۔
    اینڈیس یونیورسٹی کے ڈین ڈاکٹر آفتاب مدنی نے نتائج کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں تقریباً 90% تمباکو کی پیداوار ترقی پذیر ممالک سے ہوتی ہے۔ تمباکو پیدا کرنے والے سرفہرست 10 ممالک میں سے 9 کو ترقی پذیر معیشتوں کے طور پر درجہ بندی کیا گیا ہے، پاکستان ان میں سے ایک ہے۔اس تحقیق سے واضح ہونے والی تلخ حقیقت سگریٹ تک رسائی کی وجہ سے غربت میں اضافہ ہے۔ سگریٹ کے حصول میں آسانی غریب برادریوں کی حالت زار کو مزید گہرا کرتی ہے، اہم وسائل کو خوراک اور رزق جیسی ضروری ضروریات سے ہٹا دیتی ہے۔اس حوالے سے کیپیٹل کالنگ کی جانب سے کہا گیاہے کہ ملک پاکستان میں تمباکو پر ٹیکس لگانے کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت کی تجاویز پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔حکومت کے زیرانتظام ایک معروف تحقیقی ادارے PIDE کی رپورٹ میں کہا گیاہے کہ ملک میں 24 ملین افراد سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔پاکستان میں 2019 کے دوران تمباکو نوشی سے متعلقہ بیماریوں اور اموات پر آنے والی کل لاگت 615.07 بلین روپے (3.85 بلین ڈالر) ہے، اور بالواسطہ اخراجات ان کا مجموعی طورپر 70 فیصد بنتے ہیں۔ تمباکو نوشی سے منسوب لاگت جی ڈی پی کا 1.6 فیصد ہے، جب کہ کینسر، امراض قلب اور سانس کی بیماریوں کے سگریٹ نوشی سے ہونے والے اخراجات جی ڈی پی کا 1.15 فیصد ہیں۔