اسلام آباد میں محکمہ اوقاف اور غیر اوقاف مسجد و امام بارگاہوں پر 1986ء کے رولز کی جگہ 2023ء کے رولز نافذ کر کے 1986ء کے رولز کے تحت اسلام آباد کی تمام رجسٹرڈ غیر رجسٹرڈ مساجد کمیٹیاں کالعدم قرار دی گئی، نئے رولز کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اب مساجد و امام بارگاہوں سے کوئی متنازعہ تقریر نہیں ہوسکے گی، ر نئے رولز کے تحت مساجد کمیٹیاں مستند عالم دین یا پہلے سے موجود بانی ٹرسٹی کی زیر نگرانی قائم ہوگی ، وفاقی دارالحکومت کے وقف پراپرٹیز (مسجد مینجمنٹ) رولز لاگو کر دیئے گئے ، وفاقی دارلحکومت اسلام آباد کی تمام مساجد و امام بارگاہوں پر یہ قواعد لاگو ہونگے اسلام آباد مسجد مینجمنٹ رولز کے نفاذ سے متعلق تمام بڑی مساجد و امام بارگاہوں کے منتظمین، بانیان اور مہتمم حضرات کی مشاورت سے مرتب کئے گئے. انتظامیہ کی جانب پارلیمنٹ مسجد کے مرکزی خطیب و امام نماز جمعہ مولانا احمد الرحمان کی سربراہی میں کمیٹی نے تمام علماء و خطبا سے مشاورت کی ،
اسلام آباد مسجد مینجمنٹ رولز 9 مرکزی اور 22 زیلی نکات پر مشتمل ہیں، جن پر عملدرآمد لازم ہو گی، وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ کی رجسٹریشن کے سوا تمام غیر رجسٹرڈ کمیٹیاں ختم تصور ہونگی ،اسلام آباد میں مساجد و امام بارگاہوں میں ایک وقف مینجر مستند عالم دین متعین کیا جائے گا ،رولز کے مطابق وقف منیجر کا مستند عالم دین ہونا یا مسجد و امام بارگاہ کا بانی ٹرسٹی ہونا لازم ہوگا، وقف منیجر اس کو متعین کیا جائے گا جو تمام قوانین کا پابند ہو، رولز میں بتایا گیا ہے کہ کسی ایسے شخص جو شیڈول فور میں شامل ہو وہ وقف منیجر نہیں رہے گا، کسی بھی قسم کی مقدمہ بازی میں ملوث شخص بھی کسی مسجد و امام بارگاہ کمیٹی کی سربراہی نہیں کرسکے گا، رولز کے مطابق مسجد منیجر نہ ہونے کی صورت میں چیف ایڈمنسٹریٹر ایک منتظم مقرر کرے گا ، منتظم مسجد کیلئے بھی مسجد منیجر کی تمام شرائط لاگو ہونگی، مسجد منیجر کیلئے اسلام آباد انتظامیہ کو ایک اچھے کردار کے حامل عالم دین یا مہتمم کے نام کی سفارش کی جائے گی، رولز میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے گاکہ جس شخص بطور مسجد منیجر کو نامزد کیا گیا ہے وہ کسی قسم کی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں، اسلام آباد میں کسی نئی مسجد کے قیام کی غرض سے درخواست چیف ایڈمنسٹریٹر کو دی جاسکے گی، محکمہ اوقاف کی تمام ضروریات اور تمام ڈاکومنٹس مکمل کرکے اسلام آباد انتظامیہ کو نئی مسجد کے قیام کیلئے درخواست دی جاسکے گی،
ایک ہی جگہ پر مسجد کے قیام کیلئے ایک سے زائد درخواستوں پر خصوصی کمیٹی قائم کی جائے گی، رولز کے مطابق کمیٹی تمام امور کا جائزہ لینے کے بعد مسجد کیلئے پلاٹ الاٹ کرنے کی سفارش کرے گی، کمیٹی کے فیصلے کے 15 دن کی مدت کے اندر اعتراضات چیف کمشنر اسلام آباد کو دیئے جاسکیں گے، بین المذاہب ہم آہنگی کو ٹھیس پہنچانے والا، ملکی سلامتی سے متصادم یا مسجد فنڈز کے خرد برد کی صورت میں وقف منیجر کو عہدے سے ہٹایا جاسکے گا، مسجد منیجر کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی صورت میں چیف کمشنر اسلام آباد کو درخواست دائر کی جاسکے گی، رولز میں کہا گیا ہے کہ درخواست کے 3 ماہ کے اندر اندر کارروائی عمل میں لائی جائیگی اور نیا منیجر متعین کیا جائیگا، مسجد منیجر کا نمازیوں میں بھائی چارے، باہمی احترام، تمام مذاہب کا احترام، فنڈز کی شفافیت یقینی بنانے سمیت 7 اہم نکات پر عمل پیرا ہونا لازم ہو گا، مسجد منیجر کی اجازت کے بغیر کوئی عالم یا واعظ خطبہ جمعہ یا کوئی تقریر نہیں کرسکے گا، ہر مسجد یا امام بارگاہ میں تمام امور کا ذمہ دار بھی وقف منیجر ہوگا،
Author: صدف ابرار
-

1986ء کے رولز کے تحت اسلام آباد کی تمام رجسٹرڈ غیر رجسٹرڈ مساجد کمیٹیاں کالعدم ،نئے رولز متعارف
-

وفاقی وزیر مصدق ملک کا امریکی کمپنیوں کو معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت
پاکستان نے امریکی کمپنیوں کو معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دے دی۔وفاقی وزیر پیٹرولیم مصدق ملک سے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی ملاقات ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اعلامیہ کے مطابق امریکی سفیر نے ڈاکٹر مصدق ملک کو عہدہ سنبھالنے پر مبارک باد دی، امریکی سفیر نے مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کےلیے دونوں ممالک کے درمیان مسلسل تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔مصدق ملک نے کہا کہ توانائی سیکٹر، معدنیات، تیل اور گیس کی تلاش کےلیے پاکستان میں مواقع موجود ہیں، وفاقی وزیر نے امریکی کمپنیوں کو معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت بھی دی۔اعلامیے کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان توانائی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کی منتقلی اور کیپسٹی بلڈنگ پر بات چیت کی گئی، ملاقات میں قابل تجدید توانائی کے فروغ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔وفاقی وزیر مصدق ملک نے امریکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو اجاگر کیا، امریکی سفیر نے کہا کہ اعلیٰ سطح اقتصادی ڈائیلاگ واشنگٹن میں ہوں گے، مذاکرات میں معدنیات سمیت توانائی کے امور پر بات چیت ہوگی۔
-

امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری سے ملاقات
امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے آج اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کی قیادت میں پاکستان کے پاور ڈویژن سے تعلق رکھنے والے وفد سے مثبت بات چیت کی۔ملاقات کے دوران پاکستان نے قابلِ تجدید توانائی کے حوالے سے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ اس کے علاوہ، پاکستان نے گرین کلائمیٹ فنڈ کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے امریکی کردار پر زور دیا ہے، جس کا مقصد خود کو آنے والے ماحولیاتی مشکلات کے لیے تیار کرنا ہے۔مزید برآں، امریکی سفیر نے قابل تجدید توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے میں امریکی کمپنیوں اور ڈی ایف سی کی دلچسپی کا اظہار کیا، جس سے پاکستان کو اگلے 8-10 سالوں میں اپنے توانائی مکس میں قابل تجدید ذرائع کا حصہ دوگنا کرنے کے ہدف میں مدد ملےگی۔ وفاقی وزیر برائے توانائی نے پاکستان کے آنے والے توانائی بچت پروگرام کے کلیدی پیرامیٹرز پر روشنی ڈالی، جو مستقبل قریب میں توانائی کے تحفظ کے لیے شروع کیا جائے گا۔ وزیر نے پاکستان کے انرجی کنورژن کے اقدامات کے نفاذ کے لیے یو ایس ایڈ کو تعاون کی دعوت دی۔ امریکی سفیر نے امریکہ میں آئندہ ہونے والے اقتصادی مذاکرات کی اہمیت کو اجاگر کیا اور پاکستان کی جانب سے مضبوط موجودگی کی درخواست کی۔
-

چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ کا سی پیک کے فیز 2 کو تیز کرنے پر اتفاق
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ سے ملاقات کی جس میں دو طرفہ اقتصادی اقدامات بالخصوص چین پاکستان اقتصادی راہداری کے فیز 2 کو تیز کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اجلاس کے دوران پانچ نئے اقتصادی راہداریوں کی سہولت کے لیے ورکنگ گروپ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔چینی سفیر جیانگ زیڈونگ اور وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے ملاقات میں سی پیک فیز 2 کو تیز کرنے پر اتفاق کیا کہا کہ پانچ نئی اقتصادی راہداریوں پرایک ورکنگ گروپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ سی پیک کے فیز 2 کو تیز کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔احسن اقبال نے خصوصی اقتصادی زونر کی مزید کامیابی کا خاکہ پیش کیا۔ احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کو آسان بنانے کے لیے اقتصادی زونز کو فعال کرنا شامل ہے۔ لیکن ، صنعتی گروپ اور تکنیکی مہارت کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔اعلامیہ کے مطابق چینی سفیر نے سی پیک پر عملدرآمد کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا، چینی سفیر نے خصوصی زونز کے انچارج افسران کے چین کے دورے کی بھی تجویز دی، انہوں نے کہا کہ انچارج افسران کو چینی صنعتی پارکس کا دورہ کرنا چاہئے۔جس پر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ حکومت پاک چین دوستی کومزیدگہراکرنےکےخواہاں ہیں، حکومت سی پیک کے تحت اقدامات اور تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے حکومت انھتک محنت کرے گی۔
-

خیبر پختونخوا اسمبلی کے باہر اپوزیشن کا احتجاج
گورنر خیبر پختونخواغلام علی کے حکم پر حکومت کی جانب سے اجلاس نہ بلانے کے فیصلے پراپوزیشن اراکین نےاسمبلی ہال کے باہراحتجاج کیا گیا، اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد کا کہنا ہے کہ تین بجے ہم ادھر حاضر ہوئے، سیکرٹری ، اسپیکراور ڈپٹی اسپیکر کے کمرے بند ہیں، ہمیں مجبور نہ کیا جائے کہ ہم اس ایوان کی بے توقیری کریں۔ڈاکٹرعبادکا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف والے ایک طرف فارم 45-47 کا شور مچا رہے ہیں، اسپیکرسمیت تمام عملہ اسمبلی سےغائب ہے، حکومت جب سےآئی ہے، تب سے یہ محکوم لوگوں کومحروم کرنا چاہتا ہے۔جبکہ دیگر اپوزیشن اراکین نے کہا کہ طرف تحریک انصاف والےآئین اور قانون کی خلاف ورزی کر رہےہیں، اپوزیشن اراکین کو حق حاصل ہے کہ وہ حق راہ دہی استعمال کرئے،
اپوزیشن اراکین کا ما مزید کہنا تھا کہ آرٹیکل 109 کے تحت گورنرکےپاس اختیار ہےکہ وہ اجلاس طلب کرے، اجلاس طلب کرنے کیلئے اپوزیشن کے 45 اراکین نے گورنرسےرابطہ کیاتھا، یہ اسمبلی کسی کی خواہش پرنہیں آئین اورقانون کے مطابق چلتی ہے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی ہال کو تالے لگ گئے، حکومتی اراکین نہ ہونے کے باعث اجلاس نہیں ہوسکا۔اپوزیشن اراکین نے اسمبلی ہال کے باہر احتجاج کیا، خواتین اپوزیشن اراکین بھی احتجاج میں شامل تھیں، اپوزیشن اراکین نے آئین شکنی کے نعرے لگائے۔واضح رہے کہ گورنر خیبرپختونخوا کی جانب سے آج اسمبلی کا اجلاس طلب کیا گیا تھا۔ لیکن خیبرپختونخوا حکومت نے گورنرغلام علی کے حکم پراجلاس نہ بلانے کا فیصلہ کر لیا۔ اپوزیشن اراکین نے اسمبلی ہال کے باہر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 109 کے تحت گورنر کے پاس اختیار ہے کہ وہ اجلاس طلب کرے۔۔ ہمیں مجبور نہ کیا جائے کہ ہم اس ایوان کی بے توقیری کریں۔ -

پاکستان سٹاک ایکسچینج کا آج منفی دن رہا
پاکستان سٹاک ایکسچینج (PSX) نے ہفتے کا اختتام کھٹے نوٹ پر کیا کیونکہ کاروبار کا اختتام مندی کے رجحان کے ساتھ ہوا۔ KSE-100 انڈیکس، جسے مارکیٹ کی کارکردگی کا بیرومیٹر سمجھا جاتا ہے، 265 پوائنٹس کی کمی دیکھ کر 65,151 پر بند ہوا۔ مارکیٹ کے جذبات دن بھر دبتے رہے، KSE-100 انڈیکس 477 پوائنٹس کی حد میں اتار چڑھاؤ کے ساتھ۔ انڈیکس دن کی اپنی کم ترین سطح 65,056 پر پہنچ گیا، جو سرمایہ کاروں کی احتیاط اور غیر یقینی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ تجارتی سرگرمی معتدل رہی، جس کا کل ٹرن اوور روپے سے زیادہ تھا۔ 208.4 ملین شیئرز کے تبادلے سے 7.14 بلین روپے ریکارڈ کیے گئے۔پی ایس ایکس مارکیٹ کیپٹلائزیشن 55 ارب روپے کم ہوکر 9 ہزار 177 ارب روپے ہے۔
-

پاکستان کی معاشی اور معاشرتی ترقی میں شانہ بہ شانہ کھڑے ہیں۔یو اے ای کے سفیر حماد عبید ابراہیم
متحدہ عرب امارات کے سفیر حماد عبید ابراہیم سالم الزابی نے اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق سے ملاقات کی۔ بات چیت میں دو طرفہ تعلقات، مشترکہ مفادات اور باہمی دلچسپی کے متعلقہ امور سمیت مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران سفیر الزعبی نے ایاز صادق کو قومی اسمبلی کے سپیکر کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے اپنے نئے عہدے پر اسپیکر کی کامیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔سپیکر ایاز صادق نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تمام شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
انکا مزید کہنا تھا کہ پاکستان علاقائی ترقی، معاشی استحکام کیلئے تمام ممالک کیساتھ وسیع بنیادوں پر تعاون کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ ایاز صادق نے یو اے ای اسپیکر آف پارلیمنٹ کو پاکستان کے دورہ کی دعوت دی۔اماراتی سفیر حماد عبید ابراہیم سالم الزابی نے کہا کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ دوستانہ و برادرانہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ پاکستان کی معاشی اور معاشرتی ترقی میں شانہ بہ شانہ کھڑے ہیں۔ پاکستان میں معاشی مواقع سے اماراتی سرمایہ کار استفادہ کر سکتے ہیں۔ اماراتی سفیر نے کہا پاکستان کی افرادی قوت انتہائی ماہر اور قابل ہے۔ یو اےای کی ترقی میں پاکستان کی افرادی قوت کا کردار قابل رشک ہے۔ انہوں نے کہا دونوں ممالک کے پارلیمانی وفود کے تبادلوں سے دو طرفہ ہم آہنگی میں اضافہ ہوگا۔ -
ملک احمد خان بھچر پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مقرر
اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے تحریک انصاف کے حمایت یافتہ رکن صوبائی اسمبلی ملک احمد خان بھچر کو اپوزیشن لیڈر جبکہ پیر معین الدین ریاض قریشی کو ڈپٹی اپوزیشن لیڈر مقرر کردیا گیا . پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن و ڈپٹی اپوزیشن لیڈر کی باضابطہ تقرری کرتے ہوئے اسپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ، جس کے مطابق پی پی 87 میانوالی سے منتخب رکن پنجاب اسمبلی ملک احمد خان بھچر کو اپوزیشن لیڈر مقرر کیا گیا ہے۔ایک دوسرے نوٹیفکیشن کے مطابق اسپیکر پنجاب اسمبلی نے متعلقہ قواعد وضوابط کے تحت پی پی 125 ملتان تھری سے منتخب رکن اسمبلی پیر معین الدین ریاض قریشی کو ڈپٹی اپوزیشن لیڈر مقرر کیا ہے۔
-

وزیر اعظم شہباز شریف نے کونسی کمیٹیاں تشکیل دیں ؟
وزیراعظم شہباز شریف نے چینی سرمایہ کاری کے منصوبوں کی نگرانی کے لیے کابینہ کمیٹی قائم کرکے فیصلہ کن قدم اٹھایا ہے۔ اس اہم کمیٹی کے سربراہ کوئی اور نہیں بلکہ وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال ہوں گے۔وزیراعظم شہبازشریف نے مختلف کمیٹیاں تشکیل دے دیں، کابینہ کمیٹی برائے سرمایہ کاری اور کمیٹی برائے ڈسپوزل آف لیجسلیٹو کیسز بھی تشکیل دے دی گئی، جس کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔وزیرخارجہ، وزیر داخلہ، وزیر خزانہ، وزیر تجارت کمیٹی اراکین میں شامل ہیں جبکہ وزیر پیٹرولیم، وزیر پاور، وزیر ریلوے اور وزیر سائنس و ٹیکنالوجی کمیٹی کے رکن ہوں گے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے قانون سازی کے مقدمات نمٹانے کے لیے کابینہ کمیٹی تشکیل دے کر اہم اقدام کیا ہے۔ یہ کمیٹی قانون سازی کے عمل کو ہموار کرنے اور قانونی معاملات کے بروقت حل کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ کمیٹی برائے ڈسپوزل آف لیجسلیٹو کیسز تشکیل دے دی، وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ کمیٹی کے چیئرمین ہوں گے۔وزیر اطلاعات، وزیر اوورسیز پاکستانیز اور وزیر تجارت کمیٹی میں شامل ہیں جبکہ وزیر اقتصادی امور اور وزیر صنعت و تجارت کمیٹی کے رکن ہوں گے۔کابینہ ڈویژن نے تمام کمیٹیوں کی تشکیل کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے۔وزیراعظم نے کابینہ کمیٹی برائے سرمایہ کاری تشکیل دے دی، جس کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔وزیرخارجہ اسحاق ڈار کمیٹی کے چئیرمین ہوں گے، وزیر خزانہ، تجارت اور پاور ڈویژن کے وزیر کمیٹی میں شامل ہیں جبکہ وزیر صنعت و پیداوار اور وزیر نجکاری کمیٹی کے رکن ہوں گے۔ -

بلوچستان کے ضلع خضدار میں زلزلے کے جھٹکے
بلوچستان کے ضلع خضدار میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے ہیں۔فوری طور پر جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 4.2 محسوس کی گئی جس کی گہرائی 43 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔زلزلہ پیما مرکز کا مزید کہنا ہے کہ زلزلے کا مرکز خضدار سے 72 کلومیٹر شمال مشرق میں تھا۔