الیکشن کمیشن نے خیبرپختونخوا اسمبلی میں خواتین کی 20 مخصوص نشستیں الاٹ کردیں۔دستاویزات کے مطابق مسلم لیگ ن، جمعیت علمائے اسلام، عوامی نیشنل پارٹی، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی پارلیمنٹیرین کو نشستیں مل گئیں، جمعیت علمائے اسلام کو 8، مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کو 5،5 نشتیں ملیں، عوامی نیشنل پارٹی اور پی ٹی آئی پارلیمنٹیرین کو ایک ایک نشست دیدی گئی۔جمعیت علمائے اسلام کی نعیمہ کشور، ستارہ آفرین، ایمن جلیل، مدینہ گل آفریدی رکن اسمبلی بن گئیں، اسی طرح رابعہ شاہین، نیلوفر بیگم، ناہیدہ نور اور عارفہ بی بی بھی جمعیت علمائے اسلام کی رکن اسمبلی ہوں گی، مسلم لیگ ن کی آمنہ سردار، فائزہ ملک، افشاں حسین، شازیہ جدون اورجمیلہ پراچہ رکن اسمبلی بن گئی۔الیکشن کمیشن کی جاری کردہ دستاویز میں بتایا گیا کہ پیپلز پارٹی کی شازیہ طہماس، نائمہ کنول، مہر سلطانہ، اشبر جدون اور فرزانہ شیرین، پی ٹی آئی پارلیمنٹیرین کی نادیہ شیر اور عوامی نیشنل پارٹی کی خدیجہ بی بی رکن اسمبلی بن گئیں۔
Author: صدف ابرار
-

پاکستان کے اندرون ملک گیس کے ذخائر مزید کم ہونے کا خطرہ
سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اندرون ملک گیس ذخائر مالی سال 2026-27 تک موجودہ پیداوار کے نصف تک گر جانے کا امکان ہے۔ گیس سپلائی کرنے والی کمپنی نے کہا کہ قدرتی گیس کی کم ہوتی ہوئی پیداوار درآمدی چینلز پر منحصر ہے جس کی وجہ ایل این جی کی قیمت میں زبردست اضافہ ہے۔ ’اس منظر نامے میں گیس کی دستیاب مقداروں کے محتاط استعمال کی ضرورت ہے‘۔ایس ایس جی سی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ’مقامی گیس کے بدلے آر ایل این جی درآمد کی جاتی ہے، جو کہ دن بدن مہنگی ہوتی جا رہی ہے جبکہ موجودہ حالات میں آر ایل این جی کی دستیابی بھی ایک چیلنج ہے۔‘
کمپنی نے کہا کہ قدرتی گیس کا ایک سستا متبادل تھر کول کے گیسیفیکیشن سے تیار کی جانے والی مصنوعی گیس ہے۔ایس ایس جی سی نے کہا کہ تھر میں 175 بلین ٹن کوئلے کے دنیا کے ساتویں بڑے ذخائر ہیں جو 200 سال سے زائد عرصے تک 100,000 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے لیے کافی ہیں۔ ایس ایس جی سی نے نوٹ کیا کہ پاکستان میں بائیو گیس کی پیداوار کی کافی صلاحیت موجود ہے اور اس کے ساتھ ملک قابل تجدید توانائی کے ذرائع جیسے جانوروں کے گوبر، میونسپل ٹھوس فضلہ، توانائی کی فصلیں، سلاٹر ہاؤس کا فضلہ وغیرہ استعمال کر کے آر ایل این جی کی درآمدات کو کم کر سکتا ہے۔ -

دنیا بھر میں فیس بک و انسٹاگرام اکاؤنٹس بند رہنے کے بعد بحال
دنیا بھر میں میٹا کی فیس بک سمیت دیگر سروسز کے اکاؤنٹس اچانک بند ہوگئے، جو ایک گھنٹے سے زائد معطل رہنے کے بعد بحال ہوئے۔ اس دوران صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔دنیا کی سب سے بڑی سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک اکاؤنٹس کے سیشنز خود بخود ایکسپائر ہوگئے تھے۔ جس کے باعث صارفین کو مشکلات کا سامنا ہوا ۔دنیا کی سب سے بڑی سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک اکاؤنٹس کے سیشنز خود بخود ایکسپائر ہوگئے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ دوبارہ لاگ ان کرنے کی کوشش کی تو فیس بک نے ان کے پاس ورڈ کو ہی غلط قرار دے دیا۔
فیس بک کے علاوہ میٹا کی ایک اور سروس انسٹاگرام پر بھی صارفین کو رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ دوسری جانب میٹا کی ایک اور سروس واٹس ایپ پر ابھی تک صارفین کو رسائی حاصل ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق فیس بک، انسٹاگرام اور میسینجر وسیع پیمانے پر ڈاؤن ہوگئے ہیں۔ اب تک میٹا کی جانب سے اس بارے میں کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
صارفین کا کہنا ہے کہ دوبارہ لاگ ان کرنے کی کوشش کی تو فیس بک نے ان کے پاس ورڈ کو ہی غلط قرار دے دیا۔ فیس بک کے علاوہ میٹا کی ایک اور سروس انسٹاگرام پر بھی صارفین کو رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ دوسری جانب میٹا کی ایک اور سروس واٹس ایپ پر ابھی تک صارفین کو رسائی حاصل ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق فیس بک، انسٹاگرام اور میسینجر وسیع پیمانے پر ڈاؤن ہوگئے ہیں۔ اب تک میٹا کی جانب سے اس بارے میں کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
اس سے قبل 17 فروری سے بند ایکس سروسز بھی تاحال بحال نہ ہو سکیں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کی سروسز صارفین وی پی این سے استعمال کر رہے،پی ٹی اے کا ایکس سروسز کی بندش پر 15 روز سے ڈاؤن سروسز پر تاحال کوئی مؤقف نہیں آیا. -

اسلام آباد کے بعد کراچی میں پلاسٹک کے فضلے سے سڑک تعمیر
وفاقی دارلحکومت اسلام آباد کے بعد شہر قائد میں بھی پی ایس او ہاؤس سے متصل پی ایس او ایکو اسٹریٹ منصوبے کے تحت پلاسٹک کے فضلے سے تیار کردہ سڑک کا افتتاح کردیا گیا۔میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب اور پاکستان اسٹیٹ آئل کے ایم ڈی اور سی ای او سید محمد طٰہٰ نے پی ایس او ایکو اسٹریٹ کا افتتاح کیا۔ یہ اقدام ایک پائیدار پلاسٹک روڈ، پلاسٹک کے فضلے میں کمی اور ماحول دوست انفرا اسٹرکچر کے فروغ کیلیے پی ایس او کی جاری کوششوں کا ایک حصہ ہے۔منصوبے کا مقصد زمین پر مضرماحولیاتی اثرات مرتب کرنے والے پلاسٹک کے اثرات میں نمایاں طور پر کمی اور پائیدار انفرا اسٹرکچر کے فوائد حاصل کرنا ہے۔
اس موقع پر میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف ہمارے شہر کو خوبصورت بنائے گا بلکہ ماحول کے تحفظ کیلیے ذمہ دارانہ رویوں اورکردار کا بھی عکاس ہے۔
پی ایس او کے ایم ڈی اور سی ای او سید محمد طہٰ نے کہا کہ یہ اقدام پی ایس او کی پائیداری اور ماحولیاتی تحفظ کیلیے غیر متزلزل لگن کی مثال ہےاس اقدام کے تحت کراچی میں پی ایس او کے لبریکنٹ مینو فیکچرنگ ٹرمینل سے جمع کردہ لبریکنٹس کی خالی بوتلوں اور کین سے 5ہزار کلو گرام ری سائیکلڈ پلاسٹک فضلہ استعمال کرتے ہوئے 49ہزار 4سو 48مربع فٹ طویل روایتی سڑک کو پلاسٹک کی سڑک میں تبدیل کیا گیا۔۔
-

وزیرخزانہ کون ہوگا؟ ن لیگی سینیٹر اسحاق ڈار اس دوڑ سے باہر ہوگئے
وزیر اعظم شہباز شریف کابینہ کے حوالے سے نواز شریف سے ملاقات کریں گے جس کے بعد وزیر خزانہ کے لیے محمد اورنگزیب کے نام کا اعلان کیا جائےگا۔ نوازشریف دور میں وزیرخزانہ رہنے والے اسحاق ڈارکو ئی اور اہم ذمہ داری دی جائیگی ۔محمد اورنگزیب حبیب بینک کے صدر اور چیف ایگزیکٹو کے طور پر فرائض سرانجام دے رہے ہیں ،انہیں برطانیہ سے پاکستان لایا گیا ہے۔ گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانےکے بعد جو میٹنگ کی اس میں محمد اورنگزیب بھی موجود تھے۔محمد اورنگزیب 30اپریل 2018 سے حبیب بنک کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر کے طور پر فرائض سرانجام دے رہے ہیں جبکہ اس سے قبل وہ گلوبل کارپوریٹ بینک کی ایشیائی شاخ کے سربراہ تھے۔انہوں نے بی ایس اور ایم بی اے کی ڈگریاں وارٹن اسکول (پنسلوانیا یونیورسٹی) سے حاصل کیں۔ان کے پاس 30 سال سے زیادہ کا بین الاقوامی بینکنگ کا تجربہ ہے۔انہیں معاشی مہارت، شاندار کیریئر اور بہترین انٹرنیشنل ریپوٹیشن کے باعث وزارت خزانہ جیسی اہم ترین ذمہ داری سونپنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
محمد اورنگزیب پانچ دہائیوں پر محیط اپنی شاندار پروفیشنل لائف کے دوران اے بی این ایمرو اور رائل بینک آف اسکاٹ لینڈ میں بھی سنیئر پوزیشنز پر تعینات رہے۔وہ وال اسٹریٹ جنرل یعنی ڈاؤ جونز گروپ کی قائم کردہ گلوبل سی ای او کونسل کے واحد پاکستانی ممبر ہیں جبکہ پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے چیئرمین اور انسٹی ٹیوٹ آف بینکرز کے کونسل ممبر بھی ہیں۔اس حوالے سے جب مسلم لیگ ن کے رہنما عطاتارڑ سے سوال کیا گیا کہ کیا محمد اورنگزیب کو مشیر خزانہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے؟تو ان کا کہناتھا کہ کابینہ کے تمام وزرا کے ناموں کا اکٹھے اعلان کیا جائیگا ، سب وزراء کے نام اور انکے محکموں کا اعلان کابینہ ڈویژن کی طرف سے کیا جائیگا۔ -

صدارتی انتخابات: پنجاب اسمبلی کا اجلاس 9 مارچ کو طلب،جبکہ پی پی پی کا نمبر گیم پورا
اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے صدارتی انتخابات کے لئے پنجاب اسمبلی کا اجلاس 9مارچ کو دن10بجے طلب کرلیا۔ اجلاس میں پنجاب اسمبلی کے ارکان نئے صدر کے انتخاب کے لئے اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے. اجلاس میں صدر مملکت کے انتخاب کے لیے ووٹنگ ہوگی۔سپیکر ملک محمد احمد خان نے صدارتی انتخاب رولز 1988 کی قاعدہ 9 کی شق بی کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے اجلاس طلب کیا ہے۔ اس موقع پر سپیکر ملک محمد احمد خان نے کہا کہ اجلاس میں پنجاب اسمبلی کے ارکان نئے صدر کے انتخاب کے لئے اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ اجلاس میں صدر مملکت کے انتخاب کے لیے ووٹنگ ہوگی۔
دوسری جانب صدارتی انتخابات کیلئے پیپلزپارٹی کا نمبر گیم پورا ہوگیا۔
صدارتی الیکشن میں آصف علی زرداری اور محمود خان اچکزئی مد مقابل ہونگے جبکہ دونوں امیدواروں کی جانب سے ووٹ کیلئے سیاسی جماعتوں سے رابطے بھی کیے جا رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق صدارتی انتخاب کیلئے پی پی پی کا نمبرگیم پورا ہوگیا۔ذرائع نے بتایاکہ بلاول بھٹو کوپی پی پی کی کمیٹی برائے صدارتی مہم کے اراکین نے بریفنگ میں بتایا کہ آصف زرداری کیلئے اب تک 345 الیکٹورل ووٹوں کی حمایت حاصل ہوگئی۔دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے صدارتی الیکشن میں آصف زرداری کو ووٹ دینے یا نہ دینے کے حوالے سے رابطہ کمیٹی فیصلہ آج کرے گی۔مسلم لیگ ق اور استحکام پاکستان پارٹی آصف علی زرداری کو ووٹ دینے کی یقین دہانی کروا چکی ہیں۔ -

مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ مکمل، مسلم لیگ ن سب سے بڑی جماعت
قومی اسمبلی کے 334 نشستوں پر نمائندے ایوان میں موجود ہیں، مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کے بعد قومی اسمبلی میں پارٹی پوزیشن تبدیل ہوگئی۔ مسلم لیگ ن 123 نشستوں کے ساتھ قومی اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت بن گئی، ن لیگ نے 75 سیٹیں جیتیں، 9 آزاد شامل ہوئے، 34 خواتین، 5 اقلیتوں کی نشستیں ملیں۔قومی اسمبلی میں سنی اتحاد کونسل کے ارکان کی تعداد 82 ہے، پیپلزپارٹی کے ارکان کی مجموعی تعداد 73 ہو گئی، پیپلزپارٹی نے 54 جنرل نشستیں جیتیں، خواتین کی 16، اقلیتوں کی 3 نشستیں ملیں۔ایم کیو ایم پاکستان کے ارکان کی مجموعی تعداد 22 ہے، ایم کیو ایم کو 17 جنرل، چار خواتین، 1 اقلیتوں کی نشست ملی،
جمیعت علمائے اسلام کے ارکان کی مجموعی تعداد 11 ہو گئی، جے یو آئی نے 6 جنرل، 4 خواتین، 1 اقلیت کی نشست حاصل کی۔مسلم لیگ ق کے ارکان کل تعداد 5 جن میں 4 جنرل سیٹیں، ایک نشست خواتین کی ملی، آئی پی پی کے 4 ارکان میں سے تین جنرل، ایک خواتین کی نشست ملی، ایم ڈبلیو ایم، مسلم لیگ ضیاء، باپ، بی این پی، نیشنل پارٹی اور پی کے میپ کی ایک ایک نشست ہے۔ قومی اسمبلی میں 8 ارکان کی آزاد حیثیت برقرار ہے، قومی اسمبلی کے ایک حلقے پر الیکشن نہیں ہوا، ایک کا نوٹیفکیشن روک رکھا ہے۔ -

پرفارمنس کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑی ہمارے سٹارز ہیں،محسن نقوی
چیئرمین پی سی بی محسن نقوی سے مقامی ہوٹل میں ایچ بی ایل پی ایس ایل میں شریک پاکستانی کھلاڑیوں کی ملاقات کی چیئرمین پی سی بی محسن نقوی فردا فردا ہر کھلاڑی کی نشت پر گئے اور کھلاڑیوں سے مصافحہ کیا چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کا پاکستانی کھلاڑیوں سے اہم خطاب کیا اور کہا کہ کسی نے غلط کیا ہے یا صحیح۔ تنقید نہیں کرنا چاہتا۔ ہم سب کا ایک ہی مشن ہے اور وہ ہے جیتنا۔ پی سی بی چئیر مین محسن نقوی نے کہا ہم جیت سکتے ہیں اور جیت اس وقت ممکن ہے جب سب اکٹھے ہوں۔ اب ٹیم میں تمام کھلاڑی میرٹ پر آئیں گے۔ محسن نقوی نے کہا کہ اچھے کھلاڑیوں کو ٹیم میں آنے کے لیے انتظار نہیں کرنا پڑے گا بلکہ پرفارمنس کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑی ہمارے سٹارز ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہر میدان میں نشیب و فراز آتے ہیں پرفارم کرنے والے کھلاڑیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں اس بات پر بارہا زور دیا کہ ٹیم سلیکشن میرٹ پر ہو گی۔ کھلاڑیوں کی فٹنس پر فوکس کیا جائیگا۔ محسن نقوی نے کہا نیوزی لینڈ ٹیم پاکستان آرہی ہے، ہم نے انگلینڈ، آئر لینڈ اورامریکہ جانا ہے۔ ٹریننگ کے لئے وقت نکالنا مشکل تھا تاہم 25سے 8 تک کاکول میں کیمپ لگے گا۔ میں آپ سب کے لئے ہر وقت حاضر ہوں۔
پی سی بی چئیر مین نے کہا کرکٹ بورڈ کے پاس جتنے پیسے ہیں کھلاڑیوں پر لگائے جائیں گے۔ قذافی سٹیڈیم لاہور اور نیشنل سٹیڈیم کراچی کے قریب 5سٹار ہوٹل کے حوالے سے تیاری کی جارہی ہیں۔ اور کوچنگ اسٹاف کی تقرری کے لیے رابطے میں ہیں اور بہترین دستیاب افراد کو کوچنگ اسٹاف میں تعینات کیا جائے گا۔ اس موقع پر چیف سلیکٹر وہاب ریاض۔ چیف آپریٹنگ آفیسر سلمان نصیر اور پی سی بی کے اعلی حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ -

خیبر پختونخوا میں 9 مئی والوں کو دو تہائی اکثریت دلا کر مسلط کردیاگیا، ایمل ولی
رہنما اے این پی ایمل ولی خان نے الزام عائد کیا ہے کہ ایک امیدوار کے 2 ہزار ووٹ کو چند کروڑ میں 28 ہزار بنا دیا جاتا ہے، حیات آباد سے افغان شہری ممبرقومی اسمبلی منتخب ہوا، جس کا نادرا کا کارڈ بلاک ہے۔پاکستان ایک قوم نہیں بلکہ مختلف اقوام کے مجموعے کا ملک ہے، 1973 کا آئین بتاتا ہے کہ تمام قومیتوں کو ایک سسٹم پر متفق کرکے چلایا جائے۔ خیبر پختونخوا میں 9 مئی والوں کو دو تہائی اکثریت دلا کر مسلط کردیاگیا،خیبر پختونخوا میں بدترین دھاندلی ہوئی ہے، جو ہار گئے ان کے پیسے بھی گئے۔
اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک قوم نہیں بلکہ مختلف اقوام کے مجموعے کا ملک ہے، 1973 کا آئین بتاتا ہے کہ تمام قومیتوں کو ایک سسٹم پر متفق کرکے چلایا جائے۔ ایمل ولی خان نے یہ بھی کہا کہ یہ کیسا جنون ہے جو سندھ، بلوچستان اور پنجاب میں نہیں، صرف خیبر پختونخوا میں رہ گیا، پوچھتا ہوں 10 سال میں صوبے میں انہوں نے ایسی کیا کارکردگی دکھائی؟ -

پنجاب کابینہ کی حلف برداری کل 4بجے گورنر ہاؤس میں ہو گی
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر اور پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز نے اپنی کابینہ کیلئے نام فائنل کر لیے ہیں، کابینہ کیلئے منتخب ارکان کل حلف اٹھائیں گے ، پنجاب کابینہ کے وزراء کی حلف برداری کی تقریب کل ہوگی ،پنجاب کابینہ کی حلف برداری کل 4بجے گورنر ہاؤس میں ہو گی،گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمن نامزد صوبائی وزراء سے حلف لیں گے ۔
گورنر ہاؤس انتظامیہ کو حلف برداری کے حوالے سے آگاہ کردیاگیا ،نامزد صوبائی وزراء کو اطلاع دے دی گئی ہے، قائد مسلم لیگ ن میاں محمد نواز شریف نے پنجاب کابینہ کے ناموں کی منظوری دے دی ،پنجاب کابینہ میں 16 سے 25وزراء شامل ہونگے ،پنجاب کابینہ میں مشیران اور معاونین خصوصی بھی شامل ،پنجاب کابینہ میں مریم اورنگزیب ،رانا ثنااللہ ، پرویز رشید ،عظمی بخاری ،خواجہ عمران نذیز ،خواجہ سلمان رفیق، صہیب بھرت ،ملک فیصل ایوب کھوکھر، رانا سکندر حیات، سردارشیر علی گورچانی ،میاں مجتبی شجاع الرحمن، بلال یاسین کا نام شامل ہے، مسلم لیگ ق اور آئی پی پی کا ایک ایک وزیر بھی پنجاب کابینہ کا حصہ ہوگا۔پنجاب حکومت نے 25 رکنی کابینہ کے نام فائنل کر لیے ہیں۔ذرائع کے مطابق پنجاب کی 25 رکنی کابینہ کل گورنر ہاؤس میں حلف اٹھائے گی۔کابینہ میں مریم اورنگزیب، عظمیٰ بخاری، خواجہ سلمان رفیق، خواجہ عمران نذیر، صہیب بھرت، فیصل ایوب کھوکھر، رانا اسحاق شامل ہیں۔ ق لیگ سے شافع حسین، آئی پی پی سےغضنفرعباس چھینہ بھی کابینہ کا حصہ ہوں گے۔اس کے علاوہ مجتبیٰ شجاع الرحمٰن اور بلال یاسین بھی کابینہ میں شامل ہوں گے۔جبکہ پرویز رشید اور رانا ثناء اللہ معاون خصوصی ہوں گے۔
