Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • منسوخ میچز کی ٹکٹوں کے پیسے  شائقین کرکٹ کو واپس کرنے کا فیصلہ

    منسوخ میچز کی ٹکٹوں کے پیسے شائقین کرکٹ کو واپس کرنے کا فیصلہ

    پاکستان کرکٹ بورڈ کے اعلامیے کے مطابق راولپنڈی میں بارش سے متاثرہ میچز کے ٹکٹس کی واپسی کیلئے شائقین کرکٹ 12 مارچ تک مختلف برانچز کے مراکز سے رقم کی واپسی کی درخواست دے سکتے ہیں۔ ٹکٹ کی واپسی پر رقم کی وصولی کیلئے شائقین کرکٹ کو اصل شناختی کارڈ دکھانا ہوگا، جس سے میچ کا ٹکٹ حاصل کیا گیا تھا جبکہ آن لائن خریدے گئے ٹکٹوں کی ادائیگیاں خریداروں کے بکنگ بینک اکاؤنٹس میں جمع کر دی جائیں گی۔ اسی طرح کارپوریٹ کے ذریعے خریدے گئے ٹکٹس صرف ادارے کو واپس کیے جا سکیں گے تاہم رقم کی واپسی کی انفرادی درخواستوں پر غور نہیں کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے پشاور زلمی بمقابلہ لاہور قلندرز اور اسلام آباد یونائٹیڈ بمقابلہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے میچز بارش کے باعث منسوخ کردیے گئے تھے۔

  • پاکستانیوں کو خادم مل گیا،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

    پاکستانیوں کو خادم مل گیا،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

    وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے شہباز شریف کو دوسری مرتبہ وزیرِ اعظم منتخب ہونے پر مبارک باد دی ہے۔وزیرِ اعلیٰ مریم نواز نے منتخب وزیرِ اعظم شہباز شریف کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا ہے۔اپنے ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی سربراہی میں آج سے پاکستان میں خدمت کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا، نواز شریف کے سپاہی شہباز شریف کا وزیراعظم منتخب ہونا خوش حالی کی نوید لے کر آئے گا۔
    مریم نواز نے کہا ہے کہ شہباز شریف کی اسپیڈ، محنت، کارکردگی اور ایمانداری کی دنیا معترف ہے، شہباز شریف کا ماضی گواہ ہے وہ محنت، کارکردگی اور میرٹ پر یقین رکھتے ہیں۔وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے عہدے پر شہباز شریف کا انتخاب حقیقی جمہوریت کی فتح ہے۔ پاکستان کے معاشی، سماجی اور سیاسی مسائل کے حل کیلئے شہباز شریف کی قیادت ناگزیر ہے۔

    مسلم لیگ(ن) پنجاب کی ترجمان عظمی بخاری کی محمد شہباز شریف کو وزیراعظم منتخب ہونے پر مبارکباد
    پاکستان مسلم لیگ(ن) پنجاب کی ترجمان عظمی بخاری نے محمد شہباز شریف کو وزیراعظم منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں ترقی اور خوشحالی کا دور دوبارہ شروع ہوگا۔ترجمان مسلم لیگ ن عظمیٰ بخاری نے تہنیتی پیغام میں کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا تھا یہ ان کا سب سے بڑا کریڈٹ ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اب پاکستان کو معاشی گرداب سے نکالیں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی پہلی ترجیح معیشت کی بحالی اور مہنگائی کا خاتمہ ہے۔ ترجمان عظمیٰ بخاری نے کہا کہ جن کی قسمت میں رونا دھونا لکھا ہے وہ اگلے پانچ سال تک چیختے چلاتے نظر آئیں گے۔ نواز شریف کی قیادت میں وفاق اور پنجاب میں مسلم لیگ نون عوامی خدمت کے جذبے سے کام کریں گے۔ میاں نواز شریف کی سرپرستی وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلی مریم نواز کے لیے باعث اعزاز ہوگی.

    چیئرمین سینیٹ, محمد صادق سنجرانی کی میاں محمد شہباز شریف کو پاکستان کا وزیراعظم منتخب ہونے پر مبارکباد
    چیئرمین سینیٹ، محمد صادق سنجرانی نے میاں محمد شہباز شریف کو دوسری بار پاکستان کا وزیراعظم منتخب ہونے پر دلی مبارکباد پیش کی ہے۔ چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ”میاں شہباز شریف کا دوسری مرتبہ بطور وزیر اعظم انتخاب اُنکی قیادت پر پاکستانی عوام اور اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کے بھرپور اعتماد کی عکاسی کرتا ہے”. چیئرمین سینیٹ نے اُمید کا اظہار کیا کہ وزیر اعظم شہباز شریف قوم کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے اور مؤثر حکمت عملی اپنا کر ملک کو معاشی بحران سے نکالیں گے۔ چیئرمین سینیٹ نے وزیر اعظم شہباز شریف کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ میاں شہباز شریف کو بطور وزیر اعظم ملک و قوم کی خدمت کرنے کی ہمت اور طاقت عطا فرمائے

  • شہباز شریف کو وزیر اعظم نہیں مانتے،یہ فارم 47 کی پیداوار ہے، عمر ایوب

    شہباز شریف کو وزیر اعظم نہیں مانتے،یہ فارم 47 کی پیداوار ہے، عمر ایوب

    پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ رکن قومی اسمبلی عمر ایوب خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے شہباز شریف کے کاغذات کو چیلنج کیا تھا، بیرسٹر گوہر اور میں نے اس ہاؤس میں نقظہ اٹھایا کہ یہ ہاؤس مکمل نہیں۔ یہاں جو سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا الیکشن ہوا، یا جو آج وزیر اعظم کا الیکشن ہوا ہے یہ غیر قانونی ہے، ہم نے آئین کے تحت جو پوائنٹ اٹھایا تھا کہ ہاؤس کو ان آرڈر کرائی ، عمر ایوب خان کا کہنا تھا کہ اس حکومت میں آئیڈیالوجی ہی نہیں ہے، یہاں پر مسلم لیگ ن اور پارٹی پارٹیوں کے ایم این ایز فارم 47 کی پیداوار ہیں، فارم 45 کے ایم این اے آتے تو آج ہماری تعداد 180 ہوتی، جو ریزرو سیٹ ملا کر 200 سے زائد تھی۔
    یہ پی ڈی ایم کی حکومت کا تسلسل ہے اور ایک فاشسٹ حکومت ہے، اس حکومت کا کوئی نظریہ نہیں بلکہ صرف ایک چیز ہے لوٹ مار کرنا۔جو مخصوص نشستیں ہمیں ملنی چاہئیں وہ ہمیں نہیں ملیں اس لیے اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور وزیراعظم کا الیکشن غیر قانونی ہوگیا ہے۔ ہم نے آئین کے تحت جو نقطہ اٹھایا تھا کہ یہ ہاؤس ان آرڈر نہیں ہے لیکن راجہ پرویز اشرف نے اس نقطے کو بلڈوز کیا۔عمر ایوب خان کا مزید کہنا تھا کہ ہاں جو مسلم لیگ ن کے لوگ بیٹھے ہیں اور باقی پارٹیوں کے ان کے چہرے مرجائے ہوئے ہیں، جیسے کسی جنازے میں آئے ہوئے ہیں۔انہیں معلوم ہے کہ ان کے پاس جو مینڈیٹ ہے وہ چوری شدہ ہے، آپ کو ان کے چہروں سے ڈر نظر آئے گا، خوف نظر آئے گا۔ نئی حکومت سے متعلق عمر ایوب خان نے کہا کہ میں واضح کر دوں کہ یہ حکومت جو مختلف دعوے کرتی ہے، جو حکومت پی ڈی ایم کی حکومت تھی، اس کا تسلسل ہے۔کل ہم نے پورے ملک میں ہر امن مظاہرے کیے۔ اسی سے زائد ہمارے ورکرز کو گرفتار کیا گیا۔ اس طرف تو یہ کہتے ہیں ہم جمہوری ہیں، یہ فاشسٹ کا چہرہ ہے۔ عمر ایوب خان نے کہا کہ میں کچھ حقائق سامنے رکھنا چاہتا ہوں، جو اسرائیل فلسطین میں جینو سائڈ کر رہا ہے ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ہم اس پر ایک قرار داد لائیں گے۔ اس ہی ڈی ایم حکومت جو چور مارکہ ون حکومت تھی نے ہمارے محبوب قائد کو گرفتار کیا، مگر ہم کھڑے رہے، انہوں نے ہمارے گھروں پر ریڈ کیے۔
    ہماری خواتین کو حراساں کیا، ہم کھڑے رہے، ہمارہ انتخابی نشان چھین لیا مگر ہم کھڑے رہے، ہم اس وقت تک کھڑے رہیں گے جب تک عمران خان وزیر اعظم کا حلف نہیں اٹھا لیتے۔صحافی ارشد شریف سے متعلق عمر ایوب خان کا کہنا تھا کہ ارشد شریف قتل کر دیا گیا، اس کی کاروائی کیوں روک دی گئی، جبکہ زمان پارک میں ظلے شاہ جیسے معصوم شاہ کو قتل کر دیا گیا۔نو مئی کو ہمارے معصوم لوگوں کو گولی ماری کر شہید کر دیا گیا، ہم ڈیمانڈ کرتے ہیں ایک غیر جانبدار انکوائری ہونی چاہیئے، اور حقائق سامنے آنے چاہیئے۔ جاوید ملک، ذاکر سمیت درجنوں شہداء کو گولیاں مار کر شہید کیا گیا۔اس وقت میرے قائد وزیر اعظم عمران خان کو سیاسی قیدی کے بطور کو گرفتار کر رکھا ہے۔ بشری بی بی کو یرغمال بنا رکھا ہے، یہ لوگ نہیں جانتے بشری بی بی عمران خان کی طاقت ہے کمزوری نہیں ہے، انہوں نے اڈیالہ پہنچ کر خود کو جیل حکام کے حوالے کیا۔
    انہوں نے اڈیالہ پہنچ کر خود کو جیل حکام کے حوالے کیا، انہیں ایک چھوٹے سے کمرے میں رکھا گیا ہے، ہمارے وائس چیئرمیں اور صدر سیاسی قیدی ہیں۔ ہماری خواتین اور ایکٹیویٹ اس وقت سیاسی قیدی ہیں۔ہمارے دس ہزار سے زائد لوگ گرفتار ہوئے تھے، صرف اس لئے کہ ہم نے حق کی آواز اٹھائی، عمران ریاض خان کو ایک بار پھر گرفتار کر لیا گیا ہے، اس طور کو پھر گرفتار کر لیا گیا ہے، میڈیا کے حقوق صلب کئے جا رہے ہیں، یہ کنٹرولڈ میڈیا چاہتے ہیں۔

  • 2024 کی دھاندلی نے 2018 کا ریکارڈ توڑ دیا۔ مولانا فضل الر حمن

    2024 کی دھاندلی نے 2018 کا ریکارڈ توڑ دیا۔ مولانا فضل الر حمن

    سربراہ جے یو آئی ف نے کہا کہ یہ حقیقت ہےجمہوریات اپنا مقدمہ ہار رہی ہے، یہ پارلیمنٹ دھاندلی کی پیداوار ہے،عوام کی نمائندہ نہیں، سندھ اسمبلی اور بلوچستان اسمبلی خریدی گئی ہیں، ہمارا خیال تھا 2018 میں سب سے بڑی دھاندلی ہوئی ہے، اس پارلیمنٹ میں کچھ لوگ خود کو حکمران کہلائیں گے، ان حالات کوتسلیم نہیں کرتے، اس پرعوام کا رد عمل آئے گاجمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن میں بیٹھنے کا اعلان کردیا اور کہا کہ موجودہ پارلیمنٹ عوام کی نمائندہ نہیں ہے، یہ پارلیمنٹ دھاندلی کی پیداوار ہے، سندھ اور بلوچستان کی اسمبلیاں خریدی گئیں۔کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ الیکشن کے حوالے سے جے یو آئی ف کا مؤقف سامنے آگیا تھا، ہم نے تحفظات کے ساتھ پارلیمنٹ میں جانے کا فیصلہ کیا ہے، 2024 کی دھاندلی نے 2018 کا ریکارڈ توڑ دیا۔مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ پارلیمنٹ اپنی اہمیت کھورہی ہے، کچھ لوگ اسمبلیوں سے مایوس ہیں انہیں مزید مایوس کیا جارہا ہے، ایک طبقہ وہ بھی ہے جو جمہوریت کو کفر سمجھتا ہے۔

  • وزیر اعظم کے تقریر کے دوران پی ٹی آئی کے رہنما سوتے رہے

    وزیر اعظم کے تقریر کے دوران پی ٹی آئی کے رہنما سوتے رہے

    وزیر اعظم کے تقریر کے دوران جہاں پی ٹی آئی اور حکومتی ارکان جہاں شدید احتجاج اور نعرہ بازی کرتے رہے وہاں پی ٹی آئی کے دو اہم ایم این ایز خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے، مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف دوسری مرتبہ وزیر اعظم پاکستان منتخب ہوگئے ہیں۔ انہیں 201 ووٹ ملے ہیں ان کی تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان سوتے رہے۔ مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی بیرسٹر عقیل کی طرف سے شیئر کی گئی ویڈیو دیکھا جا سکتا ہے کہ سنی اتحاد کونسل کے ایم این اے لطیف کھوسہ اور شیر افضل مروت اپنی سیٹ پر بیٹھ کر سو رہے ہیں۔ واضح رہے کہ جمعہ کو سپیکر قومی اسمبلی کے انتخاب کے دوران بھی لاہور سے منتخب ہونے والے سردار لطیف کھوسہ سوتے رہے تھے۔

  • انٹرا پارٹی انتخابات :  بیرسٹر گوہر علی خان پی ٹی آئی  کے بلامقابلہ چیئرمین اور عمر ایوب جنرل سیکرٹری منتخب

    انٹرا پارٹی انتخابات : بیرسٹر گوہر علی خان پی ٹی آئی کے بلامقابلہ چیئرمین اور عمر ایوب جنرل سیکرٹری منتخب

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اعلان کیا ہے کہ بیرسٹر گوہر علی خان پارٹی کے بلامقابلہ چیئرمین اور عمر ایوب جنرل سیکرٹری منتخب ہوگئے۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران ترجمان پی ٹی آئی رؤف حسن نے کہا کہ پارٹی چیئرمین کے لیے 3 امیدواروں کی درخواست قبول کی تھی تاہم اشرف جباراور اسلم صاحب پارٹی مفاد کے لیے دستبردار ہوئے اور بیرسٹر گوہر علی خان پارٹی کے بلامقابلہ چیئرمین منتخب ہوگئے۔رؤف حسن نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کچھ گائیڈ لائنز مقرر کی تھیں، ہم نے تیسری بار انٹراپارٹی الیکشن کرائے، بلوچستان میں انٹراپارٹی انتخاب جاری، 3 بجے نتائج آئیں گے۔
    سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا چیپٹرز کے صوبائی صدور کا بھی اعلان کر لیا گیا ہے، اب صرف بلوچستان میں پارٹی صدر کے لیے انتخاب ہونا باقی ہے۔پی ٹی آئی بلوچستان کے پینلز میں امین خان جوگیزئی پینل، داؤد شاہ پینل اور منیر احمد بلوچ پینل شامل ہیں، جن کے درمیان مقابلہ 3 مارچ 2024 کو ہوگا۔پی ٹی آئی پنجاب کی صدر یاسمین راشد، پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدر علی امین گنڈا پور اور پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل بلا مقابلہ منتخب ہوگئے ہیں۔

  • سابق وزیراعلی پنجاب دہشتگردی کے تین مقدمات میں نامزد

    سابق وزیراعلی پنجاب دہشتگردی کے تین مقدمات میں نامزد

    سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی ٹیکسلا سرکل کے تین تھانوں میں دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج تین مقدمات میں نامزد کر دیے گئے۔ تحریک انصاف کے صدر و سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی اینٹی کرپشن سمیت دیگر مقدمات میں اڈیالہ جیل میں ہیں۔ راولپنڈی پولیس کی جانب سے حکام کو مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی ٹیکسلا سرکل راولپنڈی کے تین تھانوں تھانہ ٹیکسلا میں دہشت گردی ایکٹ و دیگر دفعات کے تحت 9مئی 2023 کے مقدمہ نمبر 940، اسی طرح دہشت گردی ایکٹ و دیگر دفعات کے تحت ہی تھانہ ٹیکسلا میں درج 11 مئی 2023 کو درج مقدمہ نمبر 948 اور تھانہ صدر واہ میں دہشت گردی ایکٹ و دیگر دفعات کے تحت 10 مئی 2023 کو درج مقدمہ نمبر 744 میں نامزد ہیں اور پولیس کو مطلوب ہیں.

  • جعلی الیکشن اور جعلی نتائج کے بعد بننے والی حکومت بھی جعلی ہے،سراج الحق

    جعلی الیکشن اور جعلی نتائج کے بعد بننے والی حکومت بھی جعلی ہے،سراج الحق

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ ملک میں استحکام لانا ہے تو ادارے آئین اور حلف کی پاسداری کریں، بندوق اور ڈنڈے کے زور سے بہتری نہیں آئے گی، عوام کا فیصلہ قبول کرنا ہوگا، جعلی الیکشن اور جعلی نتائج کے بعد بننے والی حکومت بھی جعلی ہے۔انہوں نے کہا کہ انتخابی دھاندلی کیخلاف پرامن احتجاج کرنے والوں پر تشدد کی مذمت کرتے ہیں۔اپنے ایک بیان میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہناتھا کہ عوام نے انتخابی دھاندلی کے خلاف فردجرم عائد کر دی، پہلے ووٹ چوری ہوتے تھے اب نتائج چوری ہوتے ہیں، فارم 45والے سڑکوں پر جبکہ فارم 47والے عہدوں کی بندربانٹ میں مصروف ہیں۔سراج الحق کا کہنا تھا کہ الیکشن میں نام نہاد کامیابیاں حاصل کرنے والوں کے چہروں پر مسکراہٹ نہیں، یہ ایک دوسرے کو مبارکباد بھی نہیں دے سکتے کیونکہ سب کو حقیقت کا ادارک ہے، آزاد عدالتی کمیشن کے ذریعے الیکشن آڈٹ کا مطالبہ کرتے ہیں۔امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی کا مینڈیٹ چوری ہوا، مسئلہ جیت ہارکا نہیں،ووٹ کے تقدس کی پامالی کاہے، چیف الیکشن کمشنر استعفیٰ دیں، عوام کے حقوق کے لیے چوکوں چوراہوں میں جدوجہد جاری رہے گی۔

  • مل کر فیصلہ کریں  کہ پاکستان کی تاریخ بدلنی ہے ، وزیراعظم شہباز شریف   کی اپوزیشن کو دعوت

    مل کر فیصلہ کریں کہ پاکستان کی تاریخ بدلنی ہے ، وزیراعظم شہباز شریف کی اپوزیشن کو دعوت

    نو منتخب وزیراعظم شہباز شریف نے دوسری مرتبہ وزیرِ اعظم بننے کے بعد قومی اسمبلی سے اپنا پہلا خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اسکے پاؤں پہ کھڑا کرنا ہماری اولین ترجیح ہے ،اس موقع پر اپوزیشن اراکین نے شہباز شریف کے خلاف جبکہ مسلم لیگ ن اور اتحادی اراکین نے ان کے حق میں نعرے بلند کیے۔ شہباز شریف نے کہا کہ ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے ؛لیکن افسوس اپوزیشن جماعتیں یہ حقیقت تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں، آج ایوان مچھلی بازار کا منظر پیش کرہا ہے ، انہوں نے کہا میں گھڑی چوری نہیں کی میں بچلی چوری اور گیس چوری کی بات کرتا ہوں ،جسکا بوجھ غریب عوام پر پڑتا ہے، نومنتخب وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں پاکستان کی تقدیر بدلنے کیلئے مل کر فیصلہ کرنا ہے، اللہ کو گواہ بنا کرکہتا ہوں سمندر نما چیلنجز کو مل کر عبور کریں گے، پاکستان کو اس کا صحیح مقام دلائیں گے۔انہوں نے اپنے تقریر میں اپوزیشن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایوان میں شور کے بجائے شعور ہونا چاہئے، نوجوان نسل کو آگے بڑھائے گے،انکے لئے نئے مواقع اور روزگار مہیا کرے گے، مہنگائی پر قابو کرنا ہماری اولین ترجیح ہے ، جب مہنگائی ختم ہو گی تو غربت میں کمی آئی گی ،
    انہوں نے کہا کہ میرے قائد نوازشریف تین بار وزیراعظم پاکستان منتخب ہوئے، نوازشریف کی لیڈر شپ میں ترقی و خوشحالی کے انقلاب آئے ، نوازشریف معمار پاکستان ہیں، 20،20گھنٹے کی لوڈشیڈنگ نوازشریف کے دور حکومت میں ختم ہوئی، پاکستان میں ایٹمی قوت کی بنیاد رکھی۔نومنتخب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی خدمات کو قوم ہمیشہ یاد رکھے گی، شہید بینظیر بھٹو نے جمہوریت ،قانون اور انصاف کیلئے جان کا نذرانہ پیش کیا، نوازشریف نے پورے ملک میں ترقی و خوشحالی کے مینار تعمیر کیے، قائد ن لیگ کی تمام عوامی منصوبوں پر تختیاں لگی تھیں۔
    شہباز شریف نے کہا کہ نوازشریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا، نوازشریف کو سلاخوں کے پیچھے بھجوایا گیا،بےبنیاد کیسز بنوائے، نوازشریف کو جلا وطنی پر مجبور کیا، نوازشریف اور آصف علی زرداری پر مظالم ڈھائے گئے، آصف زرداری کی ہمشیرہ کو جیل میں بھیجا گیا، نوازشریف اور آصف زرداری نے کبھی پاکستان کے مفاد کو نقصان پہنچانے کا نہیں سوچا۔نومنتخب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات سے شہدا کے ورثا پر کیا بیتی ہوگی؟ شہدا نے دہشتگردی کا مقابلہ کیا ، نوازشریف کا فیصلہ تھا پانی سر سے گزر چکا دہشتگردی کے خلاف متحد ہوجانا چاہیے، افواج کے جوان اپنے بچوں کو یتیم کرگئے لیکن قوم کے بچے محفوظ کرگئے، کیا یہ بات اور چیز قابل معافی ہے ،یہ فیصلہ اس ایوان ،انصاف اور قانون نے کرنا ہے؟
    انہوں نے کہا کہ عدم اعتماد کے بعد ہمارے پاس دوراستے تھے،سیاست بچالیتے اور ملک کو تباہ ہونے دیتے، دوسرا راستہ تھا سیاست کو داؤ پر لگالیتے اور ملک بچالیتے، اتحادی ساتھیوں نے فیصلہ کیا سیاست قربان ہوتی ہے ہوجائے، اتحادی ساتھیوں نے مل کر فیصلہ کیا بطور مسلمان ملک کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے۔وزیرا عظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ راجہ پرویز اشرف نے بطور سپیکر قومی اسمبلی اپنا شاندار کردار ادا کیا، راجہ پرویز اشرف کو اپنی پارٹی کی جانب سے خراج تحسین پیش کرتا ہوں، پاکستان کے پاس بے پناہ صلاحتیں موجود ہیں، ہمارے پاس دریا اور سمندر موجود ہیں، یہ ایوان بہت قابل لوگوں سے بھرا ہوا ہے، بہت قابل لوگ ہمارے چاروں صوبوں میں بیٹھے ہیں، اس ایوان کے قابل لوگ ملک کی کشتی کو مشکلات سے نکال کر کنارے پر لے جائیں گے۔
    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ چیلنجز کا ذکر کرنا چاہتا ہوں تاکہ معلوم ہوسکے مشکلات کیا ہیں، بجٹ کے دورانیے میں کل محصولات کا دورانیہ 12ہزار 300ارب روپے ہے، صوبوں کے حصے کی تقسیم کے بعد 7ہزار 300ارب روپے بچتے ہیں، صوبوں کو تقسیم کے بعد سود کی ادائیگی 8ہزار ارب روپے ہے، ہمیں شروع دن سے 700ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر اتنا خسارہ ہوتو ترقیاتی منصوبوں کا پیسہ کہاں سے آئے گا؟ افواج پاکستان کو تنخواہیں کہاں سے دیں گے؟ وفاق میں سرکاری افسران کی تنخواہیں کہاں سے دیں گے، یہ سب باتیں دکھی دل کے ساتھ کہہ رہا ہوں، گزشتہ کئی سال سے یہ نظام قرض لے کر چلایا جارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آج شعور کا راج ہونا چاہیے تھا،باقی اپوزیشن کی مرضی، اس ایوان کی کارروائی کے اخراجات بھی قرض سے ادا کیے جارہے ہیں،آپ کی اور اس ایوان کی تنخواہ قرضوں سے ادا کی جارہی ہے، کیا یہ مناسب ہے کہ شور شرابہ کیا جائے یا شعور کو فروغ دیا جائے، اس کا فیصلہ ایوان نے کرنا ہے اور تاریخ کرے گی، ہم آج تک 80ہزار ارب ٹوٹل قرضے لے چکے ہیں۔
    نومنتخب وزیراعظم نے کہا کہ کیا پاکستان اپنے وجود کو قرضوں کے بعد برقرار رکھ سکتا ہے؟ پاکستان اپنے وجود کو بالکل برقرار رکھے گا، ہم نے شعبوں میں بنیادی اصلاحات لانی ہیں، یا تو ہم قرضوں کی زندگی سے جان چھڑا لیں یا سر جھکا کر اپنے آپ کو چلائیں،یہ ممکن نہیں، ہم مل کر پاکستان کو عظیم بنائیں گے، ہم سر فخر سے بلند کرکے آگے چلیں گے۔
    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ایک بڑا چیلنج بجلی کے بلوں میں ہوشربا اضافہ ہے، گردشی قرضہ 2300ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، 3800 ارب روپے کی بجلی مہیا کی جاتی ہے لیکن صرف 2800ارب روپے رقم وصول ہوتی ہے، پورے ایک ہزار ارب روپے کا گیپ ہے۔
    انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو اس بات کی سزا دی گئی کہ ملک میں ترقی و خوشحالی کے مینار قائم کیے، ملک کی ترقی پر نواز شریف کی تختیاں لگی ہیں، نواز شریف کی حکومت کا 3 بار تختہ الٹا گیا، کیسز بنے، جلا وطنی پر مجبور کیا گیا۔شہباز شریف نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی خدمات کو قوم ہمیشہ یاد رکھے گی، بے نظیر بھٹو شہید نے جمہوریت اور قانون وانصاف کیلئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ نہ نواز شریف، نہ آصف زرداری، نہ بلاول نے پاکستان کے مفاد کے خلاف بات کی نہ سوچا، جب بے نظیر شہید ہوئیں تو آصف زرداری نے کہا پاکستان کھپے، ان کی باری آئی تو انہوں نے اپوزیشن کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا۔شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے پاکستان کے خلاف اور افواج کے خلاف زہر اگلا، نو مئی کو اداروں پر حملے کیے گئے، جی ایچ کیو پر حملہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ دو صوبوں کے وزیروں کو کہا گیا آئی ایم ایف سے کہو پاکستان کی مدد نہیں کرنی۔ نواز شریف، زرداری، بلاول، خالد مگسی نے کہا سیاست قربان ہو لیکن ہم اپنا کردار ادا کریں گے۔

  • سندھ میں ایک بااختیار بلدیاتی نظام ہے، میئر کراچی بہترین کام کر رہے ہیں،مراد علی شاہ

    سندھ میں ایک بااختیار بلدیاتی نظام ہے، میئر کراچی بہترین کام کر رہے ہیں،مراد علی شاہ

    سندھ کے نو منتخب وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے میڈیا گفتگو میں پیپلز پارٹی کے نامزد سینیٹ کے ممبرز کا اعلان کر دیا ہے۔کراچی میں الیکشن کمیشن سندھ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ سینیٹ کی نشستوں پر کاغذات جمع کرانے آئے تھے، نثار کھوڑو اور جام مہتاب ڈہر صوبائی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے ہیں، 2 امیدوار جتوانے کے لیے 108ووٹ کی ضرورت ہوتی ہے، ہمارے 114 ارکان ہیں، پیپلز پارٹی آسانی سے دونوں نشستیں جیت لے گی۔وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی نےاسلم ابڑو اورسیف اللہ دھاریجو کوسینیٹ کے لیے نامزد کیا ہے، جبکہ وقارمہدی اورعاجزدھامرہ کورنگ امیدوار ہونگے۔ ساتھ ہی مراد علی شاہ نے دونوں سینیٹرز کو مبارکباد دے دی ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا ایم کیو ایم کی لیڈرشپ اسلام آباد میں ہے، صوبے سندھ میں بلدیاتی حکومت موجود ہے، سندھ میں بااختیار مقامی حکومتیں موجود ہیں، مکمل بااختیار اللہ کی ذات ہوتی ہے، مقامی حکومتوں کومؤثربنانےکیلئےترامیم کی ہیں، سندھ میں بااختیار مقامی حکومتیں موجود ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ مقامی حکومتوں کےنظام میں مزید بہتری کےلیےتیار ہیں، کراچی میں مرتضی وہاب میئر ہیں کام کررہے ہیں، وہ فعال طریقے سےکام کررہے ہیں، زید قانون میں ترامیم ہونگی تو صوبائی اسمبلی کرے گی، بہت احترام کےساتھ بلدیاتی ترامیم ن لیگ نہیں کرے گی۔شاید سندھ کےبلدیاتی نظام سےمتاثر ہوکر پنجاب کےلیےمعاہدہ کیا ہے،مزید بھتری کی ضرورت ہوگی تو ہم خود کرینگے، ایک اچھی ٹیم سامنے پیش کریں گےجو سندھ میں کام کرے گی، ہر حکومت ک کام امن و امان کو برقرار رکھنا ہے۔جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ نے بلاول بھٹو کے 10 پوائنٹس پر بھی عمل درآمد پر کہا کہ بلاول بھٹو نے 10 پوائنٹ دئیے تھے ان نکات پر کام کریں گے۔