مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتوں کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار شہباز شریف نے کہا ہے کہ تمام اتحادی سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلیں گے، چیلنجز سے نمٹنے کے لئے سب کا تعاون ضروری ہے، عوام کی توقعات پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی اور اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا ، پارلیمانی پارٹی کا اجلاس سینٹ بینکوئیٹ ہال میں منعقد ہوا مسلم لیگ (ن) کے نامزد وزیراعظم شہبازشریف، آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری اجلاس میں شریک ہیں۔
پارلیمانی پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ تمام اتحادیوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے وزیراعظم کے لیے نامزد کیا، تمام اتحادی سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلیں گے۔شہباز شریف نے کہا کہ بہت سے چیلنجز ہیں جن سے نمٹنے کے لیے سب کا تعاون ضروری ہے، عوام کی توقعات پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کریں گے، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر منتخب کروانے پر تمام اتحادیوں کا شکریہ۔انہوں نے مزید کہا کہ سب مل کر حصہ ڈالیں گے تو معاشی چیلنج ضرور حل ہو گا۔
Author: صدف ابرار
-

عوام کی توقعات پر پورا اترنے کی بھرپور کوشش کریں گے،شہباز شریف
-

قومی اسمبلی کا اجلاس، قائد ایوان کے ا نتخاب کا طریقہ کار
ملک کے 24ویں وزیراعظم کے انتخاب کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس آج (اتوار) کو جاری ہے کیونکہ پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کے صدر شہباز شریف دوسری مرتبہ وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے لیے تیار ہیں۔قومی اسمبلی کا اجلاس جس کی صدارت سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کر رہے ہیں، آج صبح 11 بجے شروع ہونا تھا تاہم اسے معمولی تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔ ووٹنگ تقسیم کے طریقہ کار سے ہوگی۔آج ہونے والے انتخابات سے قبل قومی اسمبلی کی گھنٹیاں پانچ منٹ تک تمام اراکین کو اسمبلی میں جمع کرنے کے لیے بجیں۔پانچ منٹ کے بعد ایوان کے تمام دروازوں کو تالا لگا دیا گیا اور قائد ایوان کے انتخاب سے قبل کسی کو اندر آنے یا جانے کی اجازت نہیں ہے۔اس کے بعد قومی اسمبلی کے سپیکر وزیراعظم کے عہدے کے لیے امیدواروں کے نام پڑھ کر سنائیں گے اور پھر انتخابات کے باقاعدہ آغاز کا اعلان کریں گے۔تقسیم کے طریقہ کار کے مطابق، اسپیکر ایک نامزد کے لیے دائیں لابی اور دوسرے کے لیے بائیں لابی مختص کرے گا۔
اس کے بعد قانون ساز اپنے امیدوار کو ووٹ دینے کے لیے اپنی پسند کی لابی میں جائیں گے۔ایم این اے اپنا ووٹ لابی کے دروازے پر ڈالیں گے اور ووٹ ڈالنے کے بعد وہ ہال سے باہر نکل جائیں گے اور ایوان میں واپس نہیں آسکیں گے۔اسپیکر ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کا اعلان کریں گے اور ووٹنگ لسٹ طلب کریں گے۔ اس کے بعد ارکان کی لابی سے ایوان میں واپسی کے لیے دو منٹ کے لیے گھنٹیاں بجائی جائیں گی۔اس کے بعد سپیکر صادق قائد ایوان کے انتخابی نتائج کا اعلان کریں گے۔ شہباز، جو سات اتحادی جماعتوں کے مشترکہ امیدوار بھی ہیں، عمر ایوب خان کے خلاف ون آن ون مقابلے میں واضح فیورٹ ہیں، جو کہ سنی اتحاد کونسل (SIC) کے امیدوار ہیں – جس پارٹی نے جیت کر شمولیت اختیار کی تھی۔ 8 فروری کو ہونے والے انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے وابستہ امیدوار۔
سپیکر قومی اسمبلی صادق نے دونوں امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیے۔ پریمیئر شپ جیتنے کے لیے، کسی بھی امیدوار کو 336 مضبوط اسمبلی میں 169 ووٹ حاصل کرنے ہوں گے۔مسلم لیگ (ن) کے شہباز جن کے دوسری بار وزیراعظم بننے کا امکان ہے، انہیں 200 سے زائد ووٹ ملنے کا امکان ہے کیونکہ انہیں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) کی حمایت حاصل ہے۔ -P)، پاکستان مسلم لیگ-قائد (PML-Q)، بلوچستان عوامی پارٹی (BAP)، پاکستان مسلم لیگ-ضیاء (PML-Z)، استحکام پاکستان (IPP) اور نیشنل پارٹی (NP) کے علاوہ اپنی پارٹی جو 205 ممبران پر مشتمل ہو گی۔شہباز اس سے قبل 11 اپریل 2022 سے 14 اگست 2023 تک (ایک سال 125 دن) وزیراعظم آفس میں رہے۔ وہ اس وقت کے وزیر اعظم اور پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے خلاف کامیاب تحریک عدم اعتماد کے بعد پاکستان کے وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے۔
دریں اثنا، ایس آئی سی کے امیدوار عمر کو تقریباً 92 ووٹ ملنے کی امید ہے۔ انہیں پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی کی حمایت حاصل ہوگی، جنہیں SIC نے صدر کے عہدے کے لیے اپنا امیدوار بھی نامزد کیا ہے۔اب تک 304 قانون ساز حلف اٹھا چکے ہیں جبکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے خواتین اور اقلیتوں کی 23 مخصوص نشستوں کا نوٹیفکیشن روک رکھا ہے۔شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی ایم این ایز سید خورشید شاہ، خواجہ محمد آصف، طارق بشیر چیمہ، رانا تنویر حسین، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، سردار محمد یوسف زمان، عطاء اللہ تارڑ، عبدالعلیم خان نے تجویز کیے اور ایم این ایز رومینہ خورشید عالم نے حمایت کی۔ شازہ فاطمہ خواجہ، سردار اویس احمد خان لغاری، احسن اقبال، کیسو مل خیل داس، انوشہ رحمان خان، حنیف عباسی اور جمال شاہ کاکڑ۔
دریں اثناء عمر کے کاغذات نامزدگی ایم این ایز بیرسٹر گوہر علی خان، اسد قیصر، ریاض خان فتیانہ، عمیر خان نیازی نے تجویز کیے جبکہ ایم این ایز محمد ثناء اللہ خان مستی خیل، علی خان جدون، مجاہد علی اور ملک محمد عامر ڈوگر نے حمایت کی۔عمر ایوب نے شہباز کے کاغذات نامزدگی کی منظوری پر سپیکر صادق کے ساتھ اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں "فارم 47 میں ہیرا پھیری کے نتیجے میں سیٹ تحفے میں دی گئی”۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کا نامزد امیدوار وزیر اعظم بننے کے لیے نااہل تھا تاہم ان کے اعتراضات مسترد کر دیے گئے۔ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ایس آئی سی پارلیمنٹیرینز ایوان میں ایک اور شدید احتجاج کرنے کی تیاری کر رہے ہیں اور انہوں نے پی ٹی آئی کے بانی کی تصویریں قومی اسمبلی ہال میں لانے کا منصوبہ بنایا ہے۔
دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام فضل (جے یو آئی ف) انتخابات کا بائیکاٹ کرے گی۔
-

صحافی اسد طور مزید 3 روز کے جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے
چیف جسٹس پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا مہم چلانے کے کیس میں ڈیوٹی جج عباس شاہ نے ایف آئی اے کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا منظور کی.ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے صحافی اسد طور کو مزید 3 روز کے جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کی تحویل میں دے دیا۔سماعت کے آغاز میں ایف آئی اے نے اسد طور کے مزید 9 دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔اسد علی طور کے وکلاء نے مزید جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی۔
اسد طور نے دورانِ سماعت روسٹرم پر آ کر کہا کہ میں موبائل نہیں دوں گا، اپنے ذرائع نہیں بتاؤں گا، صحافی کے لیے ذرائع سب سے زیادہ عزیز ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے بھوک ہڑتال کی ہوئی ہے، مجھے سب کچھ دیتے ہیں لیکن میں خود کچھ نہیں کھانا چاہتا۔کمرۂ عدالت میں موجود صحافی نے اسد طور کی بھوک ہڑتال ختم کرا دی۔ -

علی امین گنڈا پور پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے بلا مقابلہ صدر منتخب
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے صدر منتخب ہو گئے۔پی ٹی آئی کے الیکشن کمشنر قاضی انور ایڈووکیٹ نے علی امین گنڈاپور کی کامیابی کا اعلان کیا۔قاضی انور ایڈووکیٹ نے کہا کہ علی امین گنڈاپور کا پینل بلا مقابلہ منتخب ہوا، ان کے علاوہ کوئی پینل نہیں آیا، نور الحق قادری سینئر نائب صدر، ارباب جہانداد خان نائب صدر منتخب ہوئے۔انہوں نے کہا کہ علی اصغر خان جنرل سیکرٹری، عرفان سلیم ایڈیشنل جنرل سیکرٹری، فخر زمان ڈپٹی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے، دانیال خان جدون، خائستہ محمود اور تیمور خالد جوائنٹ سیکرٹری منتخب ہوئے۔
-

اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر وزیر اعظم کیلئے 200 ووٹ حاصل کریں گے۔حنیف عباسی
16 ماہ کی حکومت کا ڈنکے کی چوٹ پر دفاع کرتا ہوں۔اتحادی رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نہ ہوتے تو ملک ڈیفالٹ کر چکا ہوتا، پی ٹی آئی کا ہمیشہ سے ہی دھاندلی کا بیانیہ رہا ہے، پوری قوم کو بتایا ہے کہ روز جو دھاندلی کا رونا رویا جا رہا ہے یہ ہمیشہ سے چلا آ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں ایسا وقت نہیں دیکھا، پاکستان میں عدم استحکام کی صورتحال پیدا کی جا رہی ہے، ملک کو جمہوریت کی طرف لے جانا ہمارا فرض ہے، تمام اتحادیوں کو شہباز شریف پر مکمل اعتماد ہے، آج ہم اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر وزیر اعظم کیلئے 200 ووٹ حاصل کریں گے۔حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ 16 ماہ کی حکومت کا ڈنکے کی چوٹ پر دفاع کرتا ہوں، نگران حکومت نے دن رات محنت کی، ملک کو معاشی چیلنجز سمیت کئی مسائل کا سامنا ہے، آئی ایم ایف کو خط لکھنا ملک دشمنی کے مترادف ہے۔
-

نگران وزیر اعظم نےوزیرِ اعظم ہاؤس خالی کردیا
نگراں وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ نے وزیرِ اعظم ہاؤس خالی کردیا اور منسٹر انکلیو منتقل ہو گئے۔کابینہ ڈویژن کے ذرائع کے مطابق نگراں وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ کو منسٹر انکلیو میں بنگلہ نمبر 15 الاٹ کیا گیا ہے۔انوار الحق کاکڑ نے بلٹ پروف سرکاری گاڑی اور اسٹاف بھی مانگ لیا ہے۔سابق وزیرِ اعظم کو ایک بلٹ پروف گاڑی اور اسٹاف لینے کا استحقاق ہے۔
-

پی ڈی ایم اے :پختونخوا میں بارشوں سے 27 افراد جاں بحق ہوئے
خیبر کے علاقے علاقہ بازار ذخہ خیل میں بارش سے بوسیدہ کمرے کی چھت گر گئی، جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 6 افراد جاں بحق ہو گئے، جاں بحق ہونے والوں میں 4 بچے اور 2 خواتین شامل ہیں۔دوسری جانب کئی شہروں میں لینڈ سلائیڈنگ سے ہزاروں گاڑیاں پھنس گئی ہیں ، چلاس میں مختلف مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث شاہراہ قراقرم دوسرے روز بھی بند رہی۔اپر کوہستان ، لوئر کوہستان ، شیتان پڑی، گلوز بانڈہ، کائیگا ، بارسین ، لوٹر ، تھور تا رائیکوٹ، تتہ پانی ، لال پڑی میں لینڈ سلائیڈنگ میں ہزاروں افراد کو ملک کے دوسرے حصوں سے رابطہ منقطع ہے۔خیبرپختونخوا میں جاری حالیہ بارشوں میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات سے متعلق پی ڈی ایم اے نے رپورٹ جاری کر دی۔
پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران صوبہ خیبرپختونخوا میں جاری بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے حادثات کے نتجے میں پشاور، مردان، مالاکنڈ، باجوڑ، سوات اور لوئر دیر سمیت مختلف علاقوں میں 27 افراد جاں بحق اور 38 افرادزخمی ہوئے۔ پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق 129گھروں کو جزوی جبکہ 33گھروں کو مکمل نقصان پہنچا۔اس حوالے سے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے بھی نوٹس لیا ہے اور ان کی ہدایت پر متاثرین میں امدادی سامان تقسیم کیا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ کے پی نے جاں بحق افرادکے ورثا اور زخمیوں کو فوری طور پر امدادی چیکس مہیا کرنے کی بھی ہدایت کی ہے اور ہدایت کی ہے کہ بند راستوں کو کھولنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ وزیراعلیٰ نے تمام متعلقہ اداروں، پی ڈی ایم اے، ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو 1122 کو مکمل الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی۔ ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے محمد قیصر خان نے کہا کہ متاثرہ اضلاع میں امدادی کاروائیاں جاری ہیں، مالم جبہ میں شدید برفباری سے محصور 6 سیاحوں کو ریسکیوکر لیا گیا ہے اور پی ڈی ایم اے تمام اضلاع کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔ -

سنی اتحاد کونسل کا آج بھر پور احتجاج کا فیصلہ
تحریک انصاف کے مرکزی رہنما بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ پاکستان میں صاف و شفاف انتخابات نہیں ہوئے،پوری دنیا اس کی گواہی دے رہی ہے ۔پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم آئینی طریقہ کار اپنا کر احتجاج کرتے رہیں گے،جب ان سے سوال کیا گیا کہ آج ایوان میں کیا ہونے جارہا ہے آپ احتجاج کریں گے یا کارروائی ہونے دیں گے جواب میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ کارروائی بھی ہوگی اور احتجاج بھی ہوگا،آج جمہوریت کیلئے ایک سیاہ دن ہے جن لوگوں کو ایوان میں نہیں ہونا چاہئے تھا وہ ایوان میں بیٹھے ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہناتھا کہ ہمارا کردار مثبت ہوگا ، ہم آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر آگے بڑھیں گے اور ہم ملک کی بہتری کیلئے کام کریں گے ۔
دوسری جانب رہنما پاکستان تحریک انصاف زرتاج گل نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن مینڈیٹ چور ہے، عوام کے ووٹوں پر ڈاکا ڈال کر آئی ہے۔پارلیمنٹ ہاؤس سے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے زرتاج گل کا کہنا تھا کہ یہ جو زبردستی جیت کر آئے ہیں، ان کے چہروں پر 12 بجے ہوتے ہیں، اصل میں بانی پی ٹی آئی اور فارم 45 جیت چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ فارم 47 اور فارم 49 والے ہار پہن رہے ہوتے ہیں، احسن اقبال کا اپنا بھی ووٹ چیک ہونا چاہیے۔زرتاج گل کا مزید کہنا تھا کہ 8 فروری کو عوام فیصلہ کر چکے ہیں، یہ زبردستی خانہ پوری ہو رہی ہے، ان کو خود بھی یقین نہیں ہے ایوان میں ان کی شکلیں دیکھا کریں۔
سنی اتحاد کونسل کے رہنما اسد قیصر نے بھی پارلیمنٹ میں احتجاج کرنے کا اشارہ دے دیا ،انہوں نے کہا ہم اس جعلی اسمبلی کو نہیں مانتے، -

جعلی مینڈیٹ قبول نہیں کریں گے،عامر ڈوگر
عامر ڈوگر نے کہا ہے کہ جب تک چھینا گیا مینڈیٹ واپس نہیں ملتا تب تک ایوان کے اندر اور باہر احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل کے رکن عامر ڈوگر کا کہنا ہے کہ جعلی حکومت کو نہیں چلنے دیں گے۔علاوہ ازیں پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل کی رکنِ قومی اسمبلی زرتاج گل نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی جیت چکی ہے، اس وقت صرف خانہ پُری ہو رہی ہے۔دوسری جانب اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ ابھی تک پیپلز پارٹی نے صدارتی انتخاب کیلئے کوئی رابطہ نہیں کیا۔اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ اگر وہ رابطہ کریں گے تو ہم بھی 15 سال کا حساب مانگیں گے۔فاروق ستار نے کہا کہ پیپلز پارٹی بات کرنا چاہے تو ہمارے دروازے کھلے ہیں۔
-

ملک میں ایک بار پھر تعلیم، صحت، آئی ٹی، زراعت، صنعت، نوجوانوں کی ترقی کا سفر شروع ہو رہا ہے۔مریم اورنگزیب
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سیکرٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ شہباز شریف پاکستان کے لئے خوشخبری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی و معاشی استحکام آئے گا، عوام کے مشکل حالات بہتر ہونگے، ملک میں ایک بار پھر تعلیم، صحت، آئی ٹی، زراعت، صنعت، نوجوانوں کی ترقی کا سفر شروع ہو رہا ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر گفتگو کرتے ہوئے مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ترقی کا جو سفر 2018 میں رک گیا تھا پھر سے شروع ہوگا، نوجونوان کے روزگار، کاروبار اور ترقی کا دور شروع ہوگا، شہباز شریف نے پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچایا تھا، اب انشاءاللہ معیشت کو استحکام دیں گے۔
لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ چار سال جس بے رحمی سے ملک کے تمام شعبوں کو برباد کیا گیا، ان کی بحالی اور تعمیر نو کا عمل شروع ہوگا، شفافیت اور عوامی خدمت کا دور پھر سے شروع ہوگا۔مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ نوجوان کو لیپ ٹاپ، آئی ٹی میں ترقی، روزگار اور کھیل کے مواقع دینے کا دور پھر شروع ہو رہا ہے، پاکستان کے خارجہ تعلقات میں بہتری اور اعتماد کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔