Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • سپریم کورٹ آف پاکستان کا   سوشل میڈیا پر جاری پروپیگنڈے کے حوالے سے اعلامیہ جاری

    سپریم کورٹ آف پاکستان کا سوشل میڈیا پر جاری پروپیگنڈے کے حوالے سے اعلامیہ جاری

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک فیصلے سے متعلق پرنٹ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر جاری پروپیگنڈے کے حوالے سے اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عدالت عظمیٰ کے ایک فیصلے کی غلط رپورٹنگ کی وجہ سے کئی غلط فہمیاں پیدا کی جارہی ہیں، ایسا تاثر دیا جارہا ہے جیسے سپریم کورٹ نے دوسری آئینی ترمیم (مسلمان کی تعریف) سے انحراف کیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ فیصلے میں ”مذہب کے خلاف جرائم“ کے متعلق مجموعہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات ختم کرنے کے لیے کہا ہے، یہ تاثر بالکل غلط ہے۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے توہین قرآن اور قادیانیت کی ترویج کے مقدمے سے توہین قرآن اور قادیانیت کی ترویج کی دفعات حذف کرنے کا حکم دیا تھا۔

    سپریم کورٹ کی جانب سے احمدی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے شخص کو ضمانت دینے کے معاملے پر ملک کی مختلف مذہبی سیاسی جماعتیں اور تنظیمیں احتجاج کر رہی ہیں اور فیصلہ سنانے والے ججز پر احمدیوں کی حمایت کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔پنجاب حکومت نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ریوو پیٹیشن دائرکرنے کا فیصلہ کیا ہے، ترجمان پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ جس کی منظوری دے دی گئی ہے۔جس کے بعد سپریم کورٹ کی جانب سے فیصلے سے متعلق وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے یہ قرار دیا تھا کہ الزامات کو درست تسلیم بھی کیا جائے تو ان پر ان دفعات کا اطلاق نہیں ہوتا، بلکہ فوجداری ترمیمی ایکٹ 1932ء کی دفعہ 5 کا اطلاق ہوتا ہے، ان دفعات کے تحت ممنوعہ کتب کی نشر و اشاعت پر زیادہ سے زیادہ 6 ماہ کی قید کی سزا دی جاسکتی ہے، جبکہ ملزم پہلے ہی قید میں ایک سال سے زائد کا عرصہ گزار چکا تھا۔

    اعلامیہ میں کہا گیا کہ اسلامی احکام، آئینی دفعات اور قانون و انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ملزم کی ضمانت پر رہائی کا حکم دیا گیا۔ترجمان سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ افسوس کی بات یہ ہے ایسے مقدمات میں جذبات مشتعل ہوجاتے ہیں اور اسلامی احکام بھلا دیے جاتے ہیں، فیصلے میں قرآن مجید کی آیات اسی سیاق و سباق میں دی گئی ہیں، فیصلے میں غیر مسلموں کی مذہبی آزادی کے متعلق پاکستان کے آئین کی دفعات نقل کی گئی ہیں، ان میں واضح ہے کہ یہ حقوق “قانون، امن عامہ اور اخلاق کے تابع “ ہی دستیاب ہوں گے، آئین میں ہے کہ ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی کرنے، اس پر عمل کرنے اور اسے بیان کرنے کا حق ہوگا، آئین کے مطابق ہر مذہبی گروہ کو اپنے مذہبی ادارے قائم کرنے، دیکھ بھال اور انتظام کا حق ہوگا، سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بنچ اس موضوع پر پہلے ہی تفصیلی فیصلہ دے چکا ہے، جس سے موجودہ فیصلے میں کوئی انحراف نہیں کیا گیا۔

    سپریم کورٹ کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ چیف جسٹس فیصلوں میں قرآن مجید، خاتم النبیین ﷺ کی احادیث، اور ان کی آراء سے استدلال کرتے ہوئے کوشش کرتے ہیں، چیف جسٹس خلفائے راشدین کے فیصلوں اور فقہائے کرام کی آراء سے بھی استدلال کرتے ہوئے کوشش کرتے ہیں۔اعلامیہ کے مطابق آئین کی دفعہ 2، دفعہ 31 اور دفعہ 227 اور قانونِ نفاذِ شریعت 1991ء کی دفعہ 4 کا تقاضا ہے، کسی آئینی شق کی تعبیر میں عدالتی فیصلے میں کوئی غلطی ہوئی تو تصحیح واصلاح اہلِ علم کی ذمہ داری ہے، اس کےلیے آئینی اور قانونی راستے موجود ہیں، چیف جسٹس اور سپریم کورٹ نے کسی کو نظرِثانی سے نہ پہلے روکا ہے نہ ہی اب روکیں گے، عدالتی فیصلوں پر مناسب اسلوب میں تنقید بھی کی جاسکتی ہے، نظرِثانی کا آئینی راستہ اختیار کیے بغیر تنقید کے نام پر عدلیہ یا ججوں کے خلاف منظّم مہم افسوسناک ہے، یہ آئین کی دفعہ 19 میں مذکور اظہارِ رائے کی آزادی کے حق کی حدود کی خلاف ورزی بھی ہے، اس سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کےاس ستون کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

  • سوشل میڈیا پر  چیف جسٹس کو دھمکی آمیز مہم چلانے پر  ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظور

    سوشل میڈیا پر چیف جسٹس کو دھمکی آمیز مہم چلانے پر ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظور

    چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پر دھمکی آمیز مہم چلانے والے ملزم کا جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا۔ملزم عبدالواسع کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے سائبر کرائم راولپنڈی کے حوالے کر دیا گیا، ایف آئی اے سائبر کرائم نے ملزم کے 5 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔ملزم کا جسمانی ریمانڈ مجسٹریٹ عدیل سرور سیال کی عدالت سے حاصل کیا گیا، ایف آئی اے سائبر کرائم کی ٹیم ملزم کو لے کر واپس روانہ ہو گئی۔
    یاد رہے کہ عبدالواسع نامی شخص راولپنڈی کا رہائشی ہے، ملزم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر چیف جسٹس کو دھمکیاں دیں اور کردار کشی کی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم نے چیف جسٹس کیخلاف سوشل میڈیا مہم میں بھی حصہ لیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے عبدالواسع کو حراست میں لے لیا۔ذرائع کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان کیخلاف سوشل میڈیا مہم کے دیگر کرداروں کی شناخت کا عمل جاری ہے، باقی ملوث افراد کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

  • دھاندلی کے الزامات لگانے والے سابق کمشنر راولپنڈی نے الیکشن کمیشن سے معافی مانگ لی

    دھاندلی کے الزامات لگانے والے سابق کمشنر راولپنڈی نے الیکشن کمیشن سے معافی مانگ لی

    انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگانے والے سابق کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چھٹہ نے الیکشن کمیشن سے معافی مانگ لی۔سابق کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چھٹہ کا الیکشن کمیشن کو دیاگیا بیان سامنے آگیا۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ دھاندلی سے متعلق اپنے غلط بیان پر شرمندہ ہوں، پریس کانفرنس میں ریاست مخالف اور بدنیتی پر مبنی بیان دیا جس پر تمام بیوروکیٹس سرکل اور قوم بھی معافی مانگتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ریٹائرمنٹ کی وجہ سے بہت دباؤ میں تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق کمشنر راولپنڈی نے کہا کہ میرا بیان صریحاً غیر ذمہ دارانہ عمل اور غلط بیانی تھی، مجھے اپنے بیان پر بہت شرمندگی ہے، قوم سے معافی چاہتا ہوں،9 مارچ کو ریٹائر ہو رہا تھا، مستقبل اور سرکاری مراعات چھوٹنے سے پریشان تھا۔

    تمام ذمہ داری قبول کرتا ہوں اور حکام کے آگے سرنڈر کرتا ہوں۔بیان میں مزید کہا کہ پنڈی ڈویژن میں الیکشن ڈیوٹی سرانجام دینے والے کسی بھی ریٹرننگ افسر کو کسی کی حمایت یا انتخابی عمل میں مداخلت کا حکم نہیں دیا۔32 سال سرکاری خدمات انجام دیں، 13 مارچ 2024 کو میں نے ریٹائر ہونا تھا۔میں ایک سیاسی جماعت کو ملک گیر احتجاج کیلے فائدہ دینا چاہتا تھا،2018ء کے بعد سیاسی جماعت نے پنجاب حکومت بنائی تو ان کے ساتھ تعلق بنے۔چیف جسٹس پر الزام لگانے کا مقصد ان پر عوام کا اعتماد کم کرنا تھا، میں نے آر اوز کو کسی امیدوار کے حق میں فائدہ دینے کیلئے کوئی ہدایت نہیں کی،یہ واضح ہے کہ چیف جسٹس کا انتخابی عمل میں کوئی کردار نہیں ہے۔ان کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعت کے عہدیدار نے بتایا پارٹی قیادت نے چیف جسٹس کا نام لینے کا کہا ہے۔

  • 2018 کے بعد خیال تھا کہ 2024 کا انتخاب شفاف ہوگا۔ مولا نا فضل الرحمن

    2018 کے بعد خیال تھا کہ 2024 کا انتخاب شفاف ہوگا۔ مولا نا فضل الرحمن

    جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ایک بار پھر ہماری خواہش اور آرزو کو کچل دیا گیا۔اسلام آباد میں اجلاس سے خطاب کرے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ فکر اس بات کی ہے کہ ایک الیکشن کے بعد مسلسل دوسرا الیکشن متنازع ہو تو پارلیمان کی کیا اہمیت ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ جس کو مخالف دیکھا اس کے خلاف کرپشن کے کیسز کردیے، اس الیکشن میں 75 سالہ کرپشن کے ریکارڈ توڑ دیے گئے، جے یو آئی اس کردار سے لاتعلقی کا اظہار کرتی ہے۔
    انہوں نے کہا کہ ہم اپنا تفصیلی فیصلہ مرکزی مجلس عاملہ میں دے چکے ہیں، ہم جمہوریت کےعلمبردار ہیں ہمارے بزرگ آئین کے بانی ہیں، آئین کا تحفظ کرنا ہم اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمیں الیکشن مہم نہیں چلانے دی گئی، میں الیکشن سے پہلے کہتا رہا کہ ہم الیکشن مہم نہیں چلا پا رہے، پارلیمان ہماری اتنی مجبوری نہیں کہ ہم بوٹ چاٹتے رہیں۔
    ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کے ساتھ مل کر ہم نے تحریک چلائی ہے، ہمارے کارکن سڑکوں پر ہوتے تھے مسلم لیگ ن کی قیادت کنٹنیر پر ہوتی تھی، لیکن سال 2018 اور آج کی تینوں بڑی جماعتوں کی سیٹیوں کی تعداد ایک ہے، کل بھی یہ کہتے تھے کہ دھاندلی ہوئی آج بھی دھاندلی کہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اقتدار مل جائے تو الیکشن ٹھیک نہ ملے تو دھاندلی ہوئی ہے، پی ٹی آئی مسلم لیگ ن اور پی پی پی سب کے پیمانے ایک جیسے ہیں۔سربراہ جے یو آئی نے یہ بھی کہا کہ پارلیمنٹ ہمارے ملک کا سپریم ادارہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم فوج کو صرف ملکی دفاع کی صلاحیت دینا چاہتے ہیں، تیس سال سے دہشتگردی ہے اور بڑھتی جارہی ہے، پھر ناراض ہوتے ہیں کہ دفاعی قوت پر تنقید نہ کریں، جب وہ دفاعی قوت سے سیاسی قوت بن جائے گی تو سیاسی قوت پر بات کرنا ہوگی، وہ دفاعی قوت رہیں تو آنکھوں پر پلکوں کے طور پر ہوں گے، جب آنکھوں کی پلکیں آنکھ میں لگیں تو نکالنا پڑتی ہیں۔

  • پی ٹی آئی  انٹرا پارٹی انتخابات،  اکبر ایس بابر  کا انتخابات کا فیصلہ چیلنج کرنے کا فیصلہ

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات، اکبر ایس بابر کا انتخابات کا فیصلہ چیلنج کرنے کا فیصلہ

    3 مارچ کو ہونے والے انٹراپارٹی الیکشن میں علی ظفر چیئرمین کے امیدوار ہوں گے، جبکہ عمر ایوب جنرل سیکریٹری کیلئے امیدوار ہوں گے۔ راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا جیل میں ہونا غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، تحریک انصاف پارلیمنٹ کا حصہ بنے گی اور آگے بڑھے گی۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں معیشت بہتری کی طرف جائے، اگر الیکشن صاف و شفاف نہیں ہوں گے تو معیشت کو نقصان ہوگا، عدالت سے تیزی کے ساتھ ہونے والے فیصلوں کو ساری دنیا نے دیکھا ہے۔ بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ تحریک انصاف پارلیمنٹ کا حصہ بنے گی اور آگے بڑھے گی، جن کے پاس حق حکمرانی نہیں ہے وہ غاصب کےطور پر کرسیوں پر بیٹھیں گے۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی رہنما اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کا نیا انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا فیصلہ چیلنج کریں گے۔اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ تمام موجودہ پی ٹی آئی قیادت کالعدم ہوچکی ہے، اس لیے کسی نئی مہم جوئی کا بھرپور قانونی اور سیاسی مقابلہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کالعدم قیادت کی جانب سے پی ٹی آئی وسائل کا استعمال غیر قانونی ہے، اس پر پابندی عائد کی جائے۔خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے 3 مارچ کو انٹرا پارٹی انتخابات کروانے کا اعلان کیا ہے۔واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے 22 دسمبر 2023 کو انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دیتے ہوئے پی ٹی آئی سے بلے کا انتخابی نشان واپس لے لیا تھا۔

  • بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ دی گئی تو عالمی عدالت جائے گے،عمر ایوب

    بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ دی گئی تو عالمی عدالت جائے گے،عمر ایوب

    پی ٹی آئی کے نامزد وزارت عظمیٰ کے امیدوار عمر ایوب نے کہا ہے ہمیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، پنجاب حکومت اور جیل انتظامیہ کس چیز سے خائف ہیں؟ ہمیں ہمارا حق نہیں دیا جا رہا، ہم اپنے حق کیلئے سپریم کورٹ جائیں یا عالمی عدالت جائیں۔ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ دینا قابل مذمت ہے۔اڈیالہ جیل راولپنڈی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمر ایوب کا کہنا تھا کہ انٹرا پارٹی انتخابات آ رہے ہیں، اپنے لیڈر سے ملاقات کرنی ہے، عدالت نے آج بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنے کی اجازت دی، جج صاحب کا آرڈر اڈیالہ جیل کی انتظامیہ کو بھیج رکھا ہے۔

    عمر ایوب کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزارت عظمیٰ کا امیدوار نامزد کیا ہے، ہمیں آئینی و قانونی حق کیوں نہیں دیا جا رہا؟ ہم دوبارہ جا کر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔عمر ایوب نے کہا کہ کیا ہم اپنے لیڈر سے ملاقات کی اجازت کے لیے عالمی عدالت جائیں؟ انٹرا پارٹی الیکشن ہیں اور دیگر معاملات ہیں، لیڈر سے مشاورت کرنی ہے۔انہوں نے کہا کہ مطالبہ کرتا ہوں کہ پاکستان میں قانون کی بالادستی یقینی بنائی جائے۔ محسن نقوی، ڈاکٹر عثمان، آئی جی جیل خانہ جات اور وزیراعظم کس چیز سےخائف ہیں؟عمر ایوب نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے مجھے قومی اسمبلی میں وزارت عظمیٰ کا امیدوار نامزد کیا ہے، ملاقات کرنا میرا قانونی حق ہے جس سے محروم رکھا جارہا ہے، بتایا جائے کہ ہم کہاں جائیں، میں احکامات لے کر واپس عدالت جارہا ہوں۔

  • بانی پی ٹی آئی کی جانب سے آج آئی ایم ایف کو خط  لکھنےکا فیصلہ کیا گیا ہے  ، بیر سٹر گوہر

    بانی پی ٹی آئی کی جانب سے آج آئی ایم ایف کو خط لکھنےکا فیصلہ کیا گیا ہے ، بیر سٹر گوہر

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جن کے پاس حق حکمرانی نہیں ہے وہ غاصب کے طور پر کرسیوں پر بیٹھے گے، یہ لوگ اگر بازار جائیں، نماز کے لیے جائیں یا کسی بھی جگی جائیں لوگ ان کو چور اعظم کہیں گے۔کہ ہمیں آج بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، عدالتی فیصلوں کو ساری دنیا نے دیکھا ہے، بانی پی ٹی آئی کا جیل میں ہونا غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی پارلیمنٹ کا حصہ بنے گی اور آگے بڑھے گی۔
    بیرسٹرگوہر کا کہنا تھا کہ پارٹی چیئرمین شپ کیلئے ہمارے امیدوار بیرسٹر علی ظفر ہوں گے، عمر ایوب پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری کے امیدوار ہوں گے۔اس موقع پر عمران خان کے وکیل بیرسٹر سید علی ظفر نے کہا کہ ہمارے لیڈرز کے پاس عدالتی احکامات موجود تھے لیکن ملاقات کا موقع نہیں دیا گیا، اسپیکر اور دیگر عہدوں کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک اہم اطلاع ہے، بانی پی ٹی آئی کی جانب سے آج آئی ایم ایف کو خط جاری کیا جائے گا، یورپین یونین کا اپنا ایک چارٹرڈ ہے، جو یہ ہے کہ کوئی قرضہ تب ہی ملے گا جب گڈ گورننس ہو، جس ملک میں گڈ گورننس نہ ہو ترقی یافتہ ممالک اس ملک میں کام نہیں کرتے، پوری دنیا نے دیکھا کہ کیسے لوگوں کا مینڈیٹ رات کے اندھیرے میں چوری کیا گیا، ہمارے جیتے ہوئے امیدواروں کو ہرایا گیا اور ہارے ہوئے لوگوں کو جتوایا گیا۔

  • فوج اور اسٹیبلشمنٹ کو علیحدہ علیحدہ ادارہ سمجھا جانا چاہیے، شیر افضل مروت

    فوج اور اسٹیبلشمنٹ کو علیحدہ علیحدہ ادارہ سمجھا جانا چاہیے، شیر افضل مروت

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ بہت ساری چیزوں پر ہمارا انحصار فوج پر ہے، بانی پی ٹی آئی نے بارہا کہا ہے کہ فوج کے ساتھ کسی مقام پر اختلاف نہیں۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ جسٹس سردار اعجاز اسحاق کی عدالت میں میرے گھر پر ریڈ کا کیس ہوا، کل میرا ملازم گھر واپس آگیا تھا اور میری اس سے گفتگو ہوئی۔ رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ ہمارے انٹرا پارٹی انتخابات 15 دن کے اندر ہو رہے ہیں، ہمیں اپنی پارٹی کو متحرک کرنا ہے، تمام پی ٹی آئی ورکرز اس بار انتخابات میں حصہ لیں گے، جو ہمارے پلیٹ فارم سے لڑنا چاہتے ہیں ان کو سپورٹ کروں گا۔دوران گفتگو شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ فوج اور اسٹیبلشمنٹ کو علیحدہ علیحدہ ادارہ سمجھا جانا چاہیے، فوج بارڈر پر لڑتی ہے اور اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کرتی ہے، بانی پی ٹی آئی نے بارہا کہا ہے کہ فوج کے ساتھ کسی مقام پر کوئی اختلاف نہیں ہے، ہم نے اپنے کنونشن میں بھی فوج کو خراج تحسین پیش کیا، بہت ساری چیزوں پر ہمارا انحصار فوج پر ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ ذہن سے نکال دیں کہ ہم فوج کے خلاف منافرت پھیلانے کی کوشش کریں گے، سیٹ چھیننے پر سامنے تو یہ نظر آرہا ہے کہ الیکشن کمیشن ملوث ہے، الیکشن کمیشن میں ہمارے مقدمات آئے روز تعطل کا شکار ہو رہے ہیں، ہمارا مینڈیٹ سیاسی جماعتوں نے چوری کیا ہے، سیاسی جماعتوں کے سہولت کار الیکشن کمیشن اور آر اوز ہیں۔شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ہماری جنگ پارلیمان کے اندر اور باہر رہے گی، اگر ہمارا مینڈیٹ نہیں ملا تو یہ چین سے حکومت نہیں کر پائیں گے۔شیر افضل مروت نے کہا کہ میرے ملازم نے بتایا اس کی اچھی ٹریٹمنٹ ہوئی ہے اور اسے دو جوڑے کپڑے بھی دیے گئے ہیں، میری داد رسی ہونے پر آج عدالت نے درخواست کو نمٹا دیا ہے، کل پولیس نے میری درخواست پر مقدمہ درج کیا، میرے گھر گھسنے والے دو درجن لوگ تھے، سب نے ماسک پہنے ہوئے تھے جبکہ گھر کے اندر لگے کیمرے کام نہیں کر رہے تھے۔

  • آصف علی زرداری صدر مملکت ، جبکہ وزیراعظم کا منصب شہبازشریف سنبھالیں گے

    آصف علی زرداری صدر مملکت ، جبکہ وزیراعظم کا منصب شہبازشریف سنبھالیں گے

    پیپلز پارٹی اور پی ایم ایل کے نمبرز پور ہوچکے ہے، بلاول بھٹو نے کامیاب مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پی ایم ایل این اور پی پی پی نے اپنا مزاکراتی کام مکمل کر لیا ،لہذا یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ پیپلز پارٹی اور پی ایم ایل این حکومت بنانے جا رہی ہے، لہذا دونوں پارٹی اس بات پر متفق ہے کہ صدر پیپلز پارٹی جبکہ وزیر اعظم پی ایم ایل این سے ہو گا، جس کے مطابق صدارت آصف علی زرادری اور وزارت اعظمی مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف سنبھالے گے،
    بلاول بھٹو کاکہنا تھاکہ ہم نے فیصلے کیے ہیں جلد ان کا اعلان کریں گےاگر پاکستان کی تاریخ دیکھیں تو ہم نے دوسروں کی نسبت وزارت سازی کا عمل بہت تیز سے طے کیا ہےاس بار بھی ماضی کی طرح مزاکرات ہوئے ہیں ۔جلد عہدوں کے بارے میں اعلان کریں گے۔عوام کو گورنر یا اسپیکر جیسے عہدوں میں اتنی دلچسپی نہیں عوام کو انتظار ہیں کہ کون وزیر اعظم بنے گا اور ان کے مسائل حل کرے گاامید ہے کل سے مارکیٹ بھی بہتر انداز سے ردعمل آئیگا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم نے مل کر ملک کو مشکل حالات سے نکالنے کے لئے یہ فیصلہ کیا ،ہم ملک کو کسی بھی چیلنج سے مقابلہ کرنے کے لئے پی ایم ایل این کا ساتھ دے گے،

    مشرکہ پریس کانفر نس سے شہباز شریف نے کہا کہ ہم پی پی پی کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہے کہ ملک کو سخت حالات سے نکالنے کے لئے تیار ہے،شہباز شریف نے کہاہمارے پاس نمبرز پورے ہے ہم ملکر حکومت بنانے کے پوزیشن میں آگئے، انہوں نے کہا کہ ہم آصف علی زرادری کو پانچ سال تک صدر منتخب کرنے میں اپنا بھر پور کوشش کرے گے، یہ سفر آسان نہیں ہوگی ،16 ماہ کا جو تجربہ سی کی وجہ سے ہم یہاں بیٹھے ہے،ہم مشاورت کے ساتھ آگے بڑھے گے،شہباز شریف نے کہا کہ آزاد امیدوار بھی اگر اپنی اکثریت دکھائے ہم انکو بھی قبول کرے گے،انہوں نے کہا کہ باریاں لینے کی نہیں ملک کو سنوارنے کی بات ہے، اس اتحاد نے ملک میں مہناگئی کا مقابلہ کرنا ہے،۔ چند روز قبل پہلے ہم نے اور پھر پیپلزپارٹی نے آزاد امیدواروں کو پیغام دیااور کہا کہ اگر وہ حکومت بنا سکتے ہیں تو بنائیں ہم ان کو مبارکباد پیش کریں گے اور آئین کے تحت ہم اپوزیشن بنچوں پر بیٹھیں گے اور کاروبارزندگی چلائیں گے مگر ان کے پاس مطلوبہ اکثریت نہیں ہے۔انہوں نے سنی اتحاد کونسل اور ایم ڈبلیو ایم کے ساتھ انتظامات کئے تاہم مطلوبہ نمبرز نہیں ہیں۔
    سابق صدر آصف زرداری کاکہنا تھاکہ آپ دوستوں کو یقین دلاتے ہیں کہ ہماری جستجو آپ کیلئے آنیوالی نسلوں اورپاکستان کیلئے ہے جو پاکستانی سن رہے ہیں ان کو دعا کاکہتے ہیں
    قبل ازیں سینیٹراسحاق ڈار کی رہائش گاہ پر صدر ن لیگ شہبازشریف اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات ہوئی ۔ حکومت سازی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیاگیا۔ملاقات میں اسحاق ڈار ، مراد علی شاہ، قمر زمان کائرہ اور احسن اقبال،مراد علی شاہ،اعظم نذیرتارڑ،سردار ایاز صادق بھی موجود تھے۔پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان حکومت سازی کی تشکیل کے معاملات طے پانے پر دعائے خیربھی کی گئی۔

  • بلوچستان میں پی پی پی حکومت بنائے گی،ندیم افضل چن

    بلوچستان میں پی پی پی حکومت بنائے گی،ندیم افضل چن

    پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ندیم افضل چن کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم کا تجربہ اچھا نہیں رہا، الیکشن میں ہمارا بیانیہ ن لیگ کے خلاف تھا، ن لیگ کے ساتھ کئی معاملات پرنظریاتی اختلافات بھی ہیں، پیپلزپارٹی کا فیصلہ ہے کہ وہ وفاقی کابینہ کا حصہ نہیں بنے گی۔ ندیم افضل چن نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان میں حکومت پی پی بنائے گی اور مسلم لیگ ن اُن کی اتحادی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ والے کہتے رہے ہیں کہ اتحادی بلیک میل کرتے ہیں اب ان کو فری ہینڈ ہے اپنی کابینہ بنائیں،ندیم افضل چن نے کہا کہ صدر پاکستان کا عہدہ مسلم لیگ ن کی ڈیمانڈ پر لے رہے ہیں، بلوچستان میں حکومت پی پی بنائے گی اور مسلم لیگ ن اُن کی اتحادی ہوگی۔ رہنما مسلم لیگ ن مصدق ملک نے ندیم افضل چن کے دعوے کی تصدیق کی۔