Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • 2018 کے بعد خیال تھا کہ 2024 کا انتخاب شفاف ہوگا۔ مولا نا فضل الرحمن

    2018 کے بعد خیال تھا کہ 2024 کا انتخاب شفاف ہوگا۔ مولا نا فضل الرحمن

    جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ایک بار پھر ہماری خواہش اور آرزو کو کچل دیا گیا۔اسلام آباد میں اجلاس سے خطاب کرے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ فکر اس بات کی ہے کہ ایک الیکشن کے بعد مسلسل دوسرا الیکشن متنازع ہو تو پارلیمان کی کیا اہمیت ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ جس کو مخالف دیکھا اس کے خلاف کرپشن کے کیسز کردیے، اس الیکشن میں 75 سالہ کرپشن کے ریکارڈ توڑ دیے گئے، جے یو آئی اس کردار سے لاتعلقی کا اظہار کرتی ہے۔
    انہوں نے کہا کہ ہم اپنا تفصیلی فیصلہ مرکزی مجلس عاملہ میں دے چکے ہیں، ہم جمہوریت کےعلمبردار ہیں ہمارے بزرگ آئین کے بانی ہیں، آئین کا تحفظ کرنا ہم اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمیں الیکشن مہم نہیں چلانے دی گئی، میں الیکشن سے پہلے کہتا رہا کہ ہم الیکشن مہم نہیں چلا پا رہے، پارلیمان ہماری اتنی مجبوری نہیں کہ ہم بوٹ چاٹتے رہیں۔
    ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کے ساتھ مل کر ہم نے تحریک چلائی ہے، ہمارے کارکن سڑکوں پر ہوتے تھے مسلم لیگ ن کی قیادت کنٹنیر پر ہوتی تھی، لیکن سال 2018 اور آج کی تینوں بڑی جماعتوں کی سیٹیوں کی تعداد ایک ہے، کل بھی یہ کہتے تھے کہ دھاندلی ہوئی آج بھی دھاندلی کہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اقتدار مل جائے تو الیکشن ٹھیک نہ ملے تو دھاندلی ہوئی ہے، پی ٹی آئی مسلم لیگ ن اور پی پی پی سب کے پیمانے ایک جیسے ہیں۔سربراہ جے یو آئی نے یہ بھی کہا کہ پارلیمنٹ ہمارے ملک کا سپریم ادارہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم فوج کو صرف ملکی دفاع کی صلاحیت دینا چاہتے ہیں، تیس سال سے دہشتگردی ہے اور بڑھتی جارہی ہے، پھر ناراض ہوتے ہیں کہ دفاعی قوت پر تنقید نہ کریں، جب وہ دفاعی قوت سے سیاسی قوت بن جائے گی تو سیاسی قوت پر بات کرنا ہوگی، وہ دفاعی قوت رہیں تو آنکھوں پر پلکوں کے طور پر ہوں گے، جب آنکھوں کی پلکیں آنکھ میں لگیں تو نکالنا پڑتی ہیں۔

  • پی ٹی آئی  انٹرا پارٹی انتخابات،  اکبر ایس بابر  کا انتخابات کا فیصلہ چیلنج کرنے کا فیصلہ

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات، اکبر ایس بابر کا انتخابات کا فیصلہ چیلنج کرنے کا فیصلہ

    3 مارچ کو ہونے والے انٹراپارٹی الیکشن میں علی ظفر چیئرمین کے امیدوار ہوں گے، جبکہ عمر ایوب جنرل سیکریٹری کیلئے امیدوار ہوں گے۔ راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا جیل میں ہونا غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، تحریک انصاف پارلیمنٹ کا حصہ بنے گی اور آگے بڑھے گی۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں معیشت بہتری کی طرف جائے، اگر الیکشن صاف و شفاف نہیں ہوں گے تو معیشت کو نقصان ہوگا، عدالت سے تیزی کے ساتھ ہونے والے فیصلوں کو ساری دنیا نے دیکھا ہے۔ بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ تحریک انصاف پارلیمنٹ کا حصہ بنے گی اور آگے بڑھے گی، جن کے پاس حق حکمرانی نہیں ہے وہ غاصب کےطور پر کرسیوں پر بیٹھیں گے۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی رہنما اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کا نیا انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا فیصلہ چیلنج کریں گے۔اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ تمام موجودہ پی ٹی آئی قیادت کالعدم ہوچکی ہے، اس لیے کسی نئی مہم جوئی کا بھرپور قانونی اور سیاسی مقابلہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کالعدم قیادت کی جانب سے پی ٹی آئی وسائل کا استعمال غیر قانونی ہے، اس پر پابندی عائد کی جائے۔خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے 3 مارچ کو انٹرا پارٹی انتخابات کروانے کا اعلان کیا ہے۔واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے 22 دسمبر 2023 کو انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دیتے ہوئے پی ٹی آئی سے بلے کا انتخابی نشان واپس لے لیا تھا۔

  • بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ دی گئی تو عالمی عدالت جائے گے،عمر ایوب

    بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ دی گئی تو عالمی عدالت جائے گے،عمر ایوب

    پی ٹی آئی کے نامزد وزارت عظمیٰ کے امیدوار عمر ایوب نے کہا ہے ہمیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، پنجاب حکومت اور جیل انتظامیہ کس چیز سے خائف ہیں؟ ہمیں ہمارا حق نہیں دیا جا رہا، ہم اپنے حق کیلئے سپریم کورٹ جائیں یا عالمی عدالت جائیں۔ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ دینا قابل مذمت ہے۔اڈیالہ جیل راولپنڈی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمر ایوب کا کہنا تھا کہ انٹرا پارٹی انتخابات آ رہے ہیں، اپنے لیڈر سے ملاقات کرنی ہے، عدالت نے آج بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنے کی اجازت دی، جج صاحب کا آرڈر اڈیالہ جیل کی انتظامیہ کو بھیج رکھا ہے۔

    عمر ایوب کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزارت عظمیٰ کا امیدوار نامزد کیا ہے، ہمیں آئینی و قانونی حق کیوں نہیں دیا جا رہا؟ ہم دوبارہ جا کر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔عمر ایوب نے کہا کہ کیا ہم اپنے لیڈر سے ملاقات کی اجازت کے لیے عالمی عدالت جائیں؟ انٹرا پارٹی الیکشن ہیں اور دیگر معاملات ہیں، لیڈر سے مشاورت کرنی ہے۔انہوں نے کہا کہ مطالبہ کرتا ہوں کہ پاکستان میں قانون کی بالادستی یقینی بنائی جائے۔ محسن نقوی، ڈاکٹر عثمان، آئی جی جیل خانہ جات اور وزیراعظم کس چیز سےخائف ہیں؟عمر ایوب نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے مجھے قومی اسمبلی میں وزارت عظمیٰ کا امیدوار نامزد کیا ہے، ملاقات کرنا میرا قانونی حق ہے جس سے محروم رکھا جارہا ہے، بتایا جائے کہ ہم کہاں جائیں، میں احکامات لے کر واپس عدالت جارہا ہوں۔

  • بانی پی ٹی آئی کی جانب سے آج آئی ایم ایف کو خط  لکھنےکا فیصلہ کیا گیا ہے  ، بیر سٹر گوہر

    بانی پی ٹی آئی کی جانب سے آج آئی ایم ایف کو خط لکھنےکا فیصلہ کیا گیا ہے ، بیر سٹر گوہر

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جن کے پاس حق حکمرانی نہیں ہے وہ غاصب کے طور پر کرسیوں پر بیٹھے گے، یہ لوگ اگر بازار جائیں، نماز کے لیے جائیں یا کسی بھی جگی جائیں لوگ ان کو چور اعظم کہیں گے۔کہ ہمیں آج بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، عدالتی فیصلوں کو ساری دنیا نے دیکھا ہے، بانی پی ٹی آئی کا جیل میں ہونا غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی پارلیمنٹ کا حصہ بنے گی اور آگے بڑھے گی۔
    بیرسٹرگوہر کا کہنا تھا کہ پارٹی چیئرمین شپ کیلئے ہمارے امیدوار بیرسٹر علی ظفر ہوں گے، عمر ایوب پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری کے امیدوار ہوں گے۔اس موقع پر عمران خان کے وکیل بیرسٹر سید علی ظفر نے کہا کہ ہمارے لیڈرز کے پاس عدالتی احکامات موجود تھے لیکن ملاقات کا موقع نہیں دیا گیا، اسپیکر اور دیگر عہدوں کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک اہم اطلاع ہے، بانی پی ٹی آئی کی جانب سے آج آئی ایم ایف کو خط جاری کیا جائے گا، یورپین یونین کا اپنا ایک چارٹرڈ ہے، جو یہ ہے کہ کوئی قرضہ تب ہی ملے گا جب گڈ گورننس ہو، جس ملک میں گڈ گورننس نہ ہو ترقی یافتہ ممالک اس ملک میں کام نہیں کرتے، پوری دنیا نے دیکھا کہ کیسے لوگوں کا مینڈیٹ رات کے اندھیرے میں چوری کیا گیا، ہمارے جیتے ہوئے امیدواروں کو ہرایا گیا اور ہارے ہوئے لوگوں کو جتوایا گیا۔

  • فوج اور اسٹیبلشمنٹ کو علیحدہ علیحدہ ادارہ سمجھا جانا چاہیے، شیر افضل مروت

    فوج اور اسٹیبلشمنٹ کو علیحدہ علیحدہ ادارہ سمجھا جانا چاہیے، شیر افضل مروت

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ بہت ساری چیزوں پر ہمارا انحصار فوج پر ہے، بانی پی ٹی آئی نے بارہا کہا ہے کہ فوج کے ساتھ کسی مقام پر اختلاف نہیں۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ جسٹس سردار اعجاز اسحاق کی عدالت میں میرے گھر پر ریڈ کا کیس ہوا، کل میرا ملازم گھر واپس آگیا تھا اور میری اس سے گفتگو ہوئی۔ رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ ہمارے انٹرا پارٹی انتخابات 15 دن کے اندر ہو رہے ہیں، ہمیں اپنی پارٹی کو متحرک کرنا ہے، تمام پی ٹی آئی ورکرز اس بار انتخابات میں حصہ لیں گے، جو ہمارے پلیٹ فارم سے لڑنا چاہتے ہیں ان کو سپورٹ کروں گا۔دوران گفتگو شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ فوج اور اسٹیبلشمنٹ کو علیحدہ علیحدہ ادارہ سمجھا جانا چاہیے، فوج بارڈر پر لڑتی ہے اور اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کرتی ہے، بانی پی ٹی آئی نے بارہا کہا ہے کہ فوج کے ساتھ کسی مقام پر کوئی اختلاف نہیں ہے، ہم نے اپنے کنونشن میں بھی فوج کو خراج تحسین پیش کیا، بہت ساری چیزوں پر ہمارا انحصار فوج پر ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ ذہن سے نکال دیں کہ ہم فوج کے خلاف منافرت پھیلانے کی کوشش کریں گے، سیٹ چھیننے پر سامنے تو یہ نظر آرہا ہے کہ الیکشن کمیشن ملوث ہے، الیکشن کمیشن میں ہمارے مقدمات آئے روز تعطل کا شکار ہو رہے ہیں، ہمارا مینڈیٹ سیاسی جماعتوں نے چوری کیا ہے، سیاسی جماعتوں کے سہولت کار الیکشن کمیشن اور آر اوز ہیں۔شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ہماری جنگ پارلیمان کے اندر اور باہر رہے گی، اگر ہمارا مینڈیٹ نہیں ملا تو یہ چین سے حکومت نہیں کر پائیں گے۔شیر افضل مروت نے کہا کہ میرے ملازم نے بتایا اس کی اچھی ٹریٹمنٹ ہوئی ہے اور اسے دو جوڑے کپڑے بھی دیے گئے ہیں، میری داد رسی ہونے پر آج عدالت نے درخواست کو نمٹا دیا ہے، کل پولیس نے میری درخواست پر مقدمہ درج کیا، میرے گھر گھسنے والے دو درجن لوگ تھے، سب نے ماسک پہنے ہوئے تھے جبکہ گھر کے اندر لگے کیمرے کام نہیں کر رہے تھے۔

  • آصف علی زرداری صدر مملکت ، جبکہ وزیراعظم کا منصب شہبازشریف سنبھالیں گے

    آصف علی زرداری صدر مملکت ، جبکہ وزیراعظم کا منصب شہبازشریف سنبھالیں گے

    پیپلز پارٹی اور پی ایم ایل کے نمبرز پور ہوچکے ہے، بلاول بھٹو نے کامیاب مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پی ایم ایل این اور پی پی پی نے اپنا مزاکراتی کام مکمل کر لیا ،لہذا یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ پیپلز پارٹی اور پی ایم ایل این حکومت بنانے جا رہی ہے، لہذا دونوں پارٹی اس بات پر متفق ہے کہ صدر پیپلز پارٹی جبکہ وزیر اعظم پی ایم ایل این سے ہو گا، جس کے مطابق صدارت آصف علی زرادری اور وزارت اعظمی مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف سنبھالے گے،
    بلاول بھٹو کاکہنا تھاکہ ہم نے فیصلے کیے ہیں جلد ان کا اعلان کریں گےاگر پاکستان کی تاریخ دیکھیں تو ہم نے دوسروں کی نسبت وزارت سازی کا عمل بہت تیز سے طے کیا ہےاس بار بھی ماضی کی طرح مزاکرات ہوئے ہیں ۔جلد عہدوں کے بارے میں اعلان کریں گے۔عوام کو گورنر یا اسپیکر جیسے عہدوں میں اتنی دلچسپی نہیں عوام کو انتظار ہیں کہ کون وزیر اعظم بنے گا اور ان کے مسائل حل کرے گاامید ہے کل سے مارکیٹ بھی بہتر انداز سے ردعمل آئیگا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم نے مل کر ملک کو مشکل حالات سے نکالنے کے لئے یہ فیصلہ کیا ،ہم ملک کو کسی بھی چیلنج سے مقابلہ کرنے کے لئے پی ایم ایل این کا ساتھ دے گے،

    مشرکہ پریس کانفر نس سے شہباز شریف نے کہا کہ ہم پی پی پی کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہے کہ ملک کو سخت حالات سے نکالنے کے لئے تیار ہے،شہباز شریف نے کہاہمارے پاس نمبرز پورے ہے ہم ملکر حکومت بنانے کے پوزیشن میں آگئے، انہوں نے کہا کہ ہم آصف علی زرادری کو پانچ سال تک صدر منتخب کرنے میں اپنا بھر پور کوشش کرے گے، یہ سفر آسان نہیں ہوگی ،16 ماہ کا جو تجربہ سی کی وجہ سے ہم یہاں بیٹھے ہے،ہم مشاورت کے ساتھ آگے بڑھے گے،شہباز شریف نے کہا کہ آزاد امیدوار بھی اگر اپنی اکثریت دکھائے ہم انکو بھی قبول کرے گے،انہوں نے کہا کہ باریاں لینے کی نہیں ملک کو سنوارنے کی بات ہے، اس اتحاد نے ملک میں مہناگئی کا مقابلہ کرنا ہے،۔ چند روز قبل پہلے ہم نے اور پھر پیپلزپارٹی نے آزاد امیدواروں کو پیغام دیااور کہا کہ اگر وہ حکومت بنا سکتے ہیں تو بنائیں ہم ان کو مبارکباد پیش کریں گے اور آئین کے تحت ہم اپوزیشن بنچوں پر بیٹھیں گے اور کاروبارزندگی چلائیں گے مگر ان کے پاس مطلوبہ اکثریت نہیں ہے۔انہوں نے سنی اتحاد کونسل اور ایم ڈبلیو ایم کے ساتھ انتظامات کئے تاہم مطلوبہ نمبرز نہیں ہیں۔
    سابق صدر آصف زرداری کاکہنا تھاکہ آپ دوستوں کو یقین دلاتے ہیں کہ ہماری جستجو آپ کیلئے آنیوالی نسلوں اورپاکستان کیلئے ہے جو پاکستانی سن رہے ہیں ان کو دعا کاکہتے ہیں
    قبل ازیں سینیٹراسحاق ڈار کی رہائش گاہ پر صدر ن لیگ شہبازشریف اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات ہوئی ۔ حکومت سازی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیاگیا۔ملاقات میں اسحاق ڈار ، مراد علی شاہ، قمر زمان کائرہ اور احسن اقبال،مراد علی شاہ،اعظم نذیرتارڑ،سردار ایاز صادق بھی موجود تھے۔پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان حکومت سازی کی تشکیل کے معاملات طے پانے پر دعائے خیربھی کی گئی۔

  • بلوچستان میں پی پی پی حکومت بنائے گی،ندیم افضل چن

    بلوچستان میں پی پی پی حکومت بنائے گی،ندیم افضل چن

    پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ندیم افضل چن کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم کا تجربہ اچھا نہیں رہا، الیکشن میں ہمارا بیانیہ ن لیگ کے خلاف تھا، ن لیگ کے ساتھ کئی معاملات پرنظریاتی اختلافات بھی ہیں، پیپلزپارٹی کا فیصلہ ہے کہ وہ وفاقی کابینہ کا حصہ نہیں بنے گی۔ ندیم افضل چن نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان میں حکومت پی پی بنائے گی اور مسلم لیگ ن اُن کی اتحادی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ والے کہتے رہے ہیں کہ اتحادی بلیک میل کرتے ہیں اب ان کو فری ہینڈ ہے اپنی کابینہ بنائیں،ندیم افضل چن نے کہا کہ صدر پاکستان کا عہدہ مسلم لیگ ن کی ڈیمانڈ پر لے رہے ہیں، بلوچستان میں حکومت پی پی بنائے گی اور مسلم لیگ ن اُن کی اتحادی ہوگی۔ رہنما مسلم لیگ ن مصدق ملک نے ندیم افضل چن کے دعوے کی تصدیق کی۔

  • سوات مینگورہ میں زلزلے کے جھٹکے

    سوات مینگورہ میں زلزلے کے جھٹکے

    مینگورہ شہر اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔زلزلے کے بعد لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔
    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 4.1 ریکارڈ کی گئی۔یاد رہے کہ گزشتہ روز گلگت بلتستان کےمختلف علاقوں میں زلزلےکے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔ گلگت بلتستان میں آنے والے زلزلے کی شدت 5.0ریکارڈ کی گئی تھی۔ اورزلزلے کی گہرائی 25 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی تھی۔

  • حکومت سازی کے معاملات طے پا گئے،  پیپلز پارٹی  کابینہ کا حصہ نہیں بنے گی

    حکومت سازی کے معاملات طے پا گئے، پیپلز پارٹی کابینہ کا حصہ نہیں بنے گی

    پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان معاملات طے پا گئے،بلاول بھٹو کچھ دیر میں زرداری ہاؤس میں پریس کانفرنس کرے گے . ذرائع کے مطابق سینیٹراسحاق ڈار کی رہائش گاہ پر صدر ن لیگ شہبازشریف اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات ہوئی ۔ حکومت سازی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیاگیا۔ملاقات میں اسحاق ڈار ، مراد علی شاہ، قمر زمان کائرہ اور احسن اقبال،مراد علی شاہ،اعظم نذیرتارڑ،سردار ایاز صادق بھی موجود تھے۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کابینہ کا حصہ نہیں بنے گی۔صدر پاکستان اور چیئرمین سینیٹ،گورنر پنجاب اور گورنر خیبرپختونخوا کا عہدہ پیپلزپارٹی کو ملے گا۔سپیکر قومی اسمبلی ن لیگ کا ہو گا ۔ پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان حکومت سازی کی تشکیل کے معاملات طے پانے پر دعائے خیربھی کی گئی۔

    بلاول بھٹو زرداری کچھ دیر میں زرداری ہاؤس میں پریس کانفرنس کریں گے۔حکومت سازی میں بڑا بریک تھرو سامنے آگیا۔نامزد وزیراعظم شہبازشریف کی چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو سے ملاقات جاری ہے ۔ذرائع کے مطابق شہبازشریف اور بلاول بھٹو زرداری ملاقات اہم شخصیت کی رہائش گاہ پرہورہی ہے۔دونوں رہنما اپنے اپنے موقف میں لچک دکھانے،اتفاق کی صورت میں حکومت سازی کیلئے حتمی معاہدہ کریں گے۔ واضح رہے کہ شہبازشریف نے بلاول بھٹو سے ملاقات سے قبل مری میں سابق وزیراعظم نوازشریف سے اہم ملاقات کی جس میں رابطہ کمیٹی نے مذاکرات کے حوالےسے خصوصی بریفنگ دی ۔

    مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی بات چیت میں تعطل آگیا ہے جبکہ ن لیگ کے سامنے ایم کیو ایم نے بھی اپنی شرائط رکھ دیں۔دوسری طرف شہباز شریف نے اسلام آباد میں حکومت سازی کے معاملے پر اپنی مشاورتی کمیٹی کے ساتھ بیٹھک لگالی ہے۔وفاق میں شمولیت کیلئے ایم کیو ایم نے تین مطالبات ن لیگ کے سامنے رکھ دیے، ن لیگ کی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں شہباز شریف کو پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے ساتھ ہونے والے مذاکرات پر بریفنگ دی گئی۔ شہباز شریف کی دونوں جماعتوں کی قیادت سے آج ملاقات متوقع ہے جبکہ بلوچستان اسمبلی کے 2 نومنتخب آزاد ارکان نے شہباز شریف سے ملاقات کی۔

  • پی ایس ایل 9:ملتان سلطانز اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے درمیان  میچ جار ی

    پی ایس ایل 9:ملتان سلطانز اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے درمیان میچ جار ی

    پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے سیزن نائن کا پانچواں میچ آج ملتان سلطانز اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے درمیان ملتان کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلا جا رہا ہے۔ 145 رنز کے ہدف میں ملتان سلطانز ا 10 اوورز میں77 رنز سکور کر سکی ہے

    پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 9 کے پانچویں میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے ملتان سلطانز کو جیت کےلیے 145 رنز کا ہدف دے دیا۔ ملتان سلطانز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کی دعوت دی۔ یونائیٹڈ کی ٹیم ابتدا سے ہی مشکلات کا شکار رہی اور وقفے وقفے سے وکٹیں گرنے کا سلسلہ جاری رہا۔
    اسلام آباد یونائیٹڈ کی جانب سے سلمان علی آغا نے 52 رنز کی اننگز کھیلی جبکہ جارڈن کوکس 41 رنز بنا کر نمایاں رہے۔ دیگر کھلاڑیوں میں کولن منرو 8، ایلکس ہیلز 2، اعظم خان 13، شاداب خان 11، نسیم شاہ 2، فہیم اشرف نے ایک جبکہ عماد وسیم، ٹائمل ملز اور عبید شاہ بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹے۔ سلطانز کی جانب سے عباس آفریدی اور محمد علی نے 3، 3 وکٹیں لیں۔ اسامہ میر نے دو جبکہ ڈیوڈ ویلی نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے اس میچ کےلیے دونوں ٹیموں میں ایک ایک تبدیلی کی گئی ہے۔

    ملتان سلطانز میں جہاں شاہنواز دہانی کی گہ اولی اسٹون کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے جبکہ اسلام آباد یونائیٹڈ نے حیدر علی کو آرام کروا کر جارڈن کوز کو پلیئنگ الیون کا حصہ بنایا ہے۔محمد رضوان سلطانز کی قیادت کر رہے ہیں جبکہ دیگر کھلاڑیوں میں ڈیوڈ ملاتن، ریزا ہینڈرکس، یاسر خان، افتخار احمد، خوشدل شاہ، ڈیوڈ ویلی، اسامہ میر، عباس آفریدی، محمد علی اور اولی اسٹون شامل ہیں۔شاداب خان کی قیادت میں میدان میں اترنے والی اسلام آباد یونائیٹڈ میں ایلکس ہیلز، کولن منرو، سلمان علی آغا، اعظم خان، جارڈن کوز، عماد وسیم، فہیم اشرف، نسیم شاہ، عبید شاہ اور ٹائمل ملز شامل ہیں۔ٹاس کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے اسلام آباد یونائیٹڈ کے کپتان شاداب خان کا کہنا تھا کہ ٹاس پر آپکا کنٹرول نہیں ہوتا۔یاد رہے کہ ایونٹ میں دونوں ٹیمیں آج اپنا دوسرا میچ کھیل رہی ہیں۔ اسلام آباد یونائیٹڈ نے اپنے پہلے میچ میں دفاعی چیمپئن لاہور قلندرز کو 8 وکٹوں سے شکست دی تھی جبکہ ملتان سلطانز نے کراچی کنگز کو 55 رنز سے مات دی تھی۔