تحریک انصاف کے مرکزی رہنما شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ ’مولانا کے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں‘۔ شیر افضل مروت نے امیر جے یو آئی فضل الرحمان کی بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی اور مولانا صاحب کے تعلقات ہمیشہ خراب رہے، لیکن مولانا کے منہ سے کبھی غلط بات نہیں سنی، حالات و واقعات نے ہمیں یکجا کرنےکی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی تمام جمہوری قوتوں کو ساتھ ملانا چاہتی ہے، ہماری جماعت جنگل کے قانون کا خاتمہ چاہتی ہے۔
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ ’مولانا صاحب نے کہا کہ نتائج کو نہیں مانتے، ہمارا بیانیہ بھی یہی ہے کہ نتائج کو نہیں مانتے، میرے خیال میں مولانا کے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں‘۔انھوں نے کہا کہ ن لیگ کے فارم 45 درست ہیں تو الیکشن کمیشن کے پاس جمع کروائے، ہم بھی اپنے فارم 45 جمع کروا دیتے ہیں۔ ہم نے تمام فارم 45 حاصل کرلیے ہیں۔ پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ہماری جنگ اصولوں کی جنگ ہے، یہ صرف 20 حلقوں سے جیتے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ لانگ مارچ اور دھرنے کی تجویز تھی لیکن خان صاحب نے لانگ مارچ کو فی الحال مسترد کردیا۔شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ نادرا ایک دن میں معاملہ کلیئر کر دے گا، ن لیگ اقتدار کی بھوکی ہوچکی ہے، ہم اقتدار چاہتے تو پیپلزپارٹی سے ڈیل کرلیتے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم تمام سیاسی قوتوں سے رابطے میں ہیں، ابھی کسی جماعت نے ہمارے احتجاج میں شرکت کا نہیں کہا، ہم پہلے بھی اکیلے احتجاج کرچکے ہیں، جے یو آئی ہمارے ساتھ ملتی ہے تو کوئی مسئلہ نہیں۔
Author: صدف ابرار
-

مولانا صاحب نتائج کو نہیں مانتے، ہمارا بیانیہ بھی یہی ہے کہ نتائج کو نہیں مانتے،افضل مروت
-

سندھ کے عوام جب سیلاب میں ڈوب رہے تھے تب جی ڈے اے والے کہاں تھے؟ شرجیل میمن
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کورونا میں پیپلز پارٹی کا ایک ایک رکن عوام کی خدمت کر رہا تھا، سیلاب میں ایک پارٹی بتا دیں جو عوام میں موجود تھیں، سیلاب میں پی پی اراکین نے لوگوں کو بچایا اور پانی نکلوایا۔انہوں نے کہا کہ عوام کے مسلط کردہ لوگ دھاندلی کا رونا رو رہے ہیں، لوگ اندھے اور بے وقوف نہیں، آج لوگوں کو کوئی مسئلہ ہو تو وہ سندھ کے اسپتالوں میں علاج کرواتے ہیں۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پی پی پی مخالفین کو انتخابات میں بدترین شکست ہوئی، پی پی پی رہنما نے کہا کہ ان کو آئینی اختیار ہے کہ وہ جلسے اور تقریبات کریں، میرے حلقے میں پیر صاحب کے مرید پیپلز پارٹی کے پکے جیالے ہیں، سندھ میں جی ڈی اے پیپلز پارٹی کی مخالفت میں بنا، یہ اتحاد ہر الیکشن میں بنتا ہے، میں اپنے حلقے کا اعلان کرتا ہوں کہ دوبارہ الیکشن کروالیں۔ شرجیل انعام میمن نے یہ بھی کہا کہ جلسے میں قتل کی باتیں اچھی نہیں ہوتیں، ہمیں معلوم ہے کہ لوگوں نے آپ کو مسترد کیا ہے، کسی ایک حلقے کا نام بتائیں جہاں آپ مقابلہ کر سکتے ہیں۔
-

پی ٹی آئی کا کل ملک گیر احتجاج کا اعلان
کورکمیٹی پی ٹی آئی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی سرپرستی میں عوام کے مینڈیٹ، دستور اور جمہوریت کی کھلی توہین کی راہ روکنا ملک و قوم کے مفاد کیلئے ناگزیر ہے۔پاکستان تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اجلاس ہوا۔ جس کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ذریعے اپنے مینڈیٹ کی توہین عوام قبول کریں گے نہ ہی دستور و جمہوریت کی قبریں کھودنے والوں کو کبھی معاف کریں گے۔اعلامیہ کے مطابق چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے کردار پر تحریک انصاف ہی نہیں، صفِ اوّل کی سیاسی جماعتیں آوازیں اٹھا رہی ہیں، ان کا کمیشن میں بیٹھنے کا مزید کوئی جواز نہیں، فی الفور مستعفیٰ ہوں۔ اعلامیہ میں الیکشن کمیشن پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا گیا کہ عمران خان کو سزا دینے، بلّے کا نشان چھین لینے اور تحریک انصاف کو زبردستی انتخاب سے باہر رکھنے کی کوششوں کے بعد الیکشن کمیشن تحریک انصاف کے نو منتخب اراکینِ پارلیمان کو نہایت مضحکہ خیز تکنیکی بنیادوں پر ڈی سیٹ کرکے عوامی مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالنے کی آخری سازش میں مصروف ہے
-

مسلم لیگ ن کا پارٹی اجلاس، اراکین کا وفاقی حکومت نہ لینے کی تجویز
نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے مسلم لیگ (ن) کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی، شرکاء نے نواز شریف کو تجویز دی کہ ہمیں وفاقی حکومت نہیں لینی چاہیے۔ جنگ نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی اجلاس میں شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا گیا کہ پنجاب میں ن لیگ اور آزاد اراکین کے ساتھ مل کر آسانی سے حکومت بنا سکتی ہے۔اسحاق ڈار نے بتایا کہ ن لیگ کی پنجاب میں آزاد اراکین کو ساتھ ملا کر تعداد 154 ہوگئی ہے، جس پر شرکاء نے کہا کہ ہمیں صرف پنجاب پر فوکس کرنا چاہیے۔ذرائع کے مطابق نواز شریف نے کہا کہ وفاقی حکومت بنانے کیلئے کسی اتحادی جماعت کی غیر اصولی بات کو نہیں ماننا چاہیے۔پارٹی اجلاس میں کچھ شرکاء نے رائے دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت لینے کا صرف ایک مقصد ہے کہ ملک معاشی بحران کا شکار ہے، ریاست کو بچانے کی ضرورت ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کے اجلاس میں شہباز شریف، مریم نواز، اسحاق ڈار، مریم اورنگزیب سعد رفیق، اعظم نذیر تارڑ، ایاز صادق، احسن اقبال، رانا تنویر، سلمان شہباز اور ملک احمد خان بھی شریک تھے۔
-

خیبر پختونخوا کابینہ کتنے وزراء پر مشتمل ہو گا
خیبرپختونخوا کابینہ کی تشکیل ڈویژنل وائز فارمولا کے تحت ہونے کا امکان ہے۔پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا کابینہ میں 15 وزراء اور 5 مشیر لیے جانے کا امکان ہے جبکہ پہلے مرحلے میں 10 معاونین خصوصی بھی مقرر کیے جائیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حتمی انتخابی نتائج آنے تک تیمور سلیم جھگڑا اور کامران بنگش کو مشیر لیا جاسکتا ہے، تیمورسلیم جھگڑا کو صحت، شکیل خان کو ریونیو اور مشتاق غنی کو تعلیم کے قلمدان دیے جانے کا امکان ہے۔اس کے علاوہ کامران بنگش کو اسپورٹس، عارف احمد زئی کو معدنیات اور خلیق الرحمان کو ایکسائز کے محکمے دیے جائیں گے۔پی ٹی آئی ذرائع نے مزید بتایا کہ ملاکنڈ ڈویژن سے ملک لیاقت علی کو کابینہ میں لیے جانے کا امکان ہے، ملک لیاقت علی کو زراعت کا محکمہ دیا جا سکتا ہے۔پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کابینہ میں پی ٹی آئی کے سینئر ارکان شامل ہوں گے۔
-

سونے کی قیمت میں اضافہ
سونے کی فی تولہ قیمت میں 1300 روپے کا اضافہ ہوگیا۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونا 1115 روپے مہنگا ہوگیا۔اس کے علاوہ فی تولہ سونے کے نرخ میں 1300 روپے کا اضافہ ہوگیا۔سونے کی فی تولہ قیمت اضافے کے بعد 2 لاکھ 12 ہزار 400 روپے ہوگئی۔10گرام سونے کی قیمت 1 لاکھ 82 ہزار 99 روپے تک پہنچ گئی۔دوسری جانب عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 12 ڈالر اضافے سے 2025 ڈالر فی اونس ہے۔
-

فیض حمید کا نام غلطی سے لیا تھا ،مولانا فضل الرحمن
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جنرل(ر) باجوہ، ریٹائرڈ جنرل فیض کو 2018 کے انتخابات میں دھاندلی کا ذمہ دار سمجھتا ہوں۔جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز جنرل (ر) فیض حمید کا نام غلطی سے میری زبان پر آگیا۔فضل الرحمان نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے کو زیادہ زیر بحث لانے کی بجائے تاریخ کے حوالے کیا جائے۔یاد رہے کہ گزشتہ روز نجی ٹی وی کو انٹرویو کے دوران مولانا فضل الرحمان نے انکشاف کیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد قمر جاوید باجوہ کے کہنے پر لائے۔ تحریک عدم اعتماد کے وقت قمر جاوید باجوہ اور فیض حمید رابطے میں تھے۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ میں عدم اعتماد کے حق میں نہیں تھا، عدم اعتماد کی تحریک پیپلزپارٹی چلا رہی تھی، چاہتا تھا تحریک کے ذریعے اس وقت کی حکومت ہٹائی جائے، فیض حمید میرے پاس آئے اور کہا جو کرنا ہے سسٹم کے اندر رہ کر کریں، سسٹم میں رہ کر کرنے کا مطلب اسمبلیوں میں رہ کر کرنا ہے، میں نے انکار کر دیا تھا۔ -

سابق دور میں فوج نے تمام سیاسی جماعتوں سے عدم اعتماد کی تحریک واپس لینے کی درخواست کی تھی،ایم کیو ایم
ہنما ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ سابق دور میں فوج نے تمام سیاسی جماعتوں سے عدم اعتماد کی تحریک واپس لینے کی درخواست کی تھی، اس وقت تو عدم اعتماد پیش کی جا چکی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ دوسری جماعتوں کی طرف سے جو احتجاج کیا جارہا ہے کہ ہمیں مینڈیٹ ملا ہے اوران کا مینڈیٹ چوری ہوا ہے،جماعت اسلامی کاحق ہے دھرنادے اور احتجاج کرے، 2018 میں ہمارے ساتھ اس سے زیادہ بُرا ہو ا تھا ہم نے قانونی راستہ اختیار کیا تھا، کراچی والوں نے ہمیں مینڈیٹ دیا ہے اور ہم اس کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ جن خدشات کا اظہارکیاتھا وہ سامنے آرہے ہیں، مشکل حالات میں انتخابات ہوئےاب نئی بحث چھیڑدی گئی ہے اسی طرح مرکزی رہنما ایم کیو ایم مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے اعلان کیا کہ وہ امریکہ سےورلڈ کپ جیت کرآئے اور انڈیا نے کشمیر پرقبضہ کرلیا ، جب انڈیا نے کشمیر پر قبضہ کیا تو یہاں سگنل بند کرکے صرف احتجاج کیاگیا، بانی پی ٹی آئی کو کشمیر کےبارڈرپر فوج لگانی چاہیے تھی ، کل کوئی حملہ کرےگاتو کیاٹریفک لائٹ روک کرکھڑےہوجائیں گے۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پی ٹی آئی کےدور میں ڈھائی سال تک بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے، پی ٹی آئی نے پولیس، بلدیات، تعلیم اور صحت کے شعبے میں کوئی ریفارمز نہیں کیں۔رہنما ایم کیوایم نے مزید کہا کہ ڈرامے بازی نہ رکی توریلی کااعلان کریں گے ،کراچی میں کوئی گھرسے نہیں نکل پائےگا، ہماری نواب شاہ میرپورخاص سے سیٹیں چھینی گئی ہیں، ملک کو ہیجان کی کیفیت میں مت ڈالیں۔
-

مسلم لیگ (ن) کو قومی اسمبلی کی ایک اور پنجاب اسمبلی کی مزید 6 نشستیں مل گئیں
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینئیر نائب صدر اور نامزد وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف سے آزاد ارکان اسمبلی کی ملاقات کی ہے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 92 بھکر سے آزاد حیثیت میں انتخاب جیتنے والے رشید اکبر نوانی مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو گئے پی پی 90 بھکر سے احمد نواز نوانی، پی پی 92 اور 93 بھکر سے کامیاب عامر عنایت شاہانی اور پی پی 272 مظفر گڑھ سے جیتنے والے رانا عبدالمنان کا بھی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان کر دیا . پی پی 205 خانیوال سے اکبر حیات ہراج اور پی پی 212 خانیوال سے اصغر حیات ہراج کا بھی مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا اسی طرح پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینئیر نائب صدر اور نامزد وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف سے آزاد ارکان اسمبلی کی ملاقات ہوئی ، رشید اکبر نوانی، احمد نواز نوانی، عامر عنایت شاہانی، رانا عبدالمنان، اکبر حیات ہراج اور اصغر حیات ہراج کا قائد محمد نواز شریف پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا، مریم نواز شریف کا آزاد ارکان کا مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا خیرمقدم اور فیصلے پر مبارکباد دی، قائد محمد نواز شریف، شہباز شریف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی پاکستان، عوام اور پنجاب کے لئے خدمات تاریخی ہیں، آزاد ارکان اسمبلی کی گفتگو کی ،ازاد ارکا اسمبلی نے کہا کہ پاکستان کو مسائل سے نکالنے کی صلاحیت اور قابل عمل ایجنڈا صرف مسلم لیگ (ن) کے پاس ہے. اپنے حلقے کے عوام اور سپورٹرز کی مشاورت سے مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا، انہوں نے مزید کہا کہ آپ کے جذبے اور قومی سوچ کی قدر کرتے ہیں،
لاہور: 16 فروری
پاکستان مسلم لیگ (ن) کو قومی اسمبلی کی ایک اور پنجاب اسمبلی کی مزید 6 نشستیں مل گئیں
قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 92 بھکر سے آزاد حیثیت میں انتخاب جیتنے والے رشید اکبر نوانی مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو گئے
پی پی 90 بھکر سے احمد نواز نوانی، پی پی 92 اور 93 بھکر سے… pic.twitter.com/4jn61ql5Rf
— PMLN (@pmln_org) February 16, 2024
مریم نواز شریف کی آزاد ارکان اسمبلی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے تعمیر پاکستان کے قافلے میں شمولیت اختیار کی، مریم نواز شریف نے کہا کہ آپ کی حمایت پاکستان اور عوام کو مشکلات سے نکالنے میں بڑی مددگار ہوگی، ہمارے لئے اقتدار نہیں، ملک اور عوام کی خدمت اہم ہے، مریم نواز شریف نے گفتگو کرتے مزید کہا کہ
نواز شریف پاکستان کو انتشار سے بچانے اور متحد کرنے والی قوت کا نام ہے، نواز شریف آج بھی پاکستان جبکہ مخالفین اپنی ذات کی بات کر رہے ہیں، مریم نواز شریف
نے کہا کہ پاکستان کو انتشار نہیں، استحکام چاہیے، انتشار پھیلانے والے آج بھی انتشار ہی پھیلا رہے ہیں کیونکہ ان کا ایجنڈا ہی انتشار ہے، مریم نواز شریف نے مزید کہا کہ
پنجاب کے عوام نے ہمیں مینڈیٹ دیا، ان کی خدمت کا حق ادا کریں گے، پنجاب کو ترقی کی مثال بنائیں گے، اور پاکستان کو بچانے کے لئے ایک لاکھ بار بھی سیاسی مفاد قربان کرنا پڑا تو کریں گے، وطن پر جان بھی قربان ہے، -

تحریک انصاف کا مرکز اور پنجاب میں اپوزیشن میں بیٹھنے کا اعلان
پی ٹی آئی وفد کی اسد قیصر کی سربراہی میں قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد شیر پاؤ سے ملاقات کی ہے ، پی ٹی آئی وفد میں بیرسٹر سیف، شوکت یوسفزئی اور دیگر شامل تھے،قومی وطن پارٹی کے وفد کی قیادت آفتاب احمد خان شیر پاؤ کررہے ہیں . قومی وطن پارٹی کے وفد میں مرکزی سیکرٹری جنرل احمد نواز جدون شامل تھے، وفد میں سینئر نائب چیئرمین حاجی غفران اور نائب چیئرمین ہاشم بابر اور صوبائی چیئرمین سکندر حیات خان شریک ہوئے ، آفتاب شیر پاؤ نے پی ٹی آئی وفد کا خیر مقدم کیا ،
ملاقات میں انتخابات سے متعلق امور پر دوطرفہ بات چیت ہوئی،ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی وفد نے بانی پی ٹی آئی کا پیغام آفتاب احمد خان شیر پاؤ کو پہنچایا ، ذرائع نے بتایا کہ ملک بھر میں عام انتخابات میں جس دھاندلی ہوئی چاہتے ہیں آپ ساتھ دیں، پی ٹی ائی وفد ذرائع نے مزید بتایا آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے خیبرپختونخوا میں انتخابات پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ،پی ٹی آئی وفد نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کا پیغام آفتاب احمد خان شیر پاؤ کو پہنچایا۔پی ٹی وی وفد نے کہا کہ ملک بھر میں عام انتخابات میں جس دھاندلی ہوئی چاہتے ہیں آپ ساتھ دیں۔جمہوری وطن پارٹی کے چیئرمین آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے خیبرپختونخوا میں انتخابات پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔
اس سے قبل پی ٹی آئی وفد کا قومی وطن پارٹی کے چئیرمن آفتاب شیر پاؤ سے رابطہ ہوا تھا، جس میں ملاقات کا وقت شام 5 بجے طے پایا تھا۔یاد رہے کہ خیبر پختونخوا میں حکومت سازی کے لیے پی ٹی آئی نے جے یو آئی ف ، جماعت اسلامی اوردیگر جماعتوں سے بھی رابطے کیے ہیں ۔ ملاقات کے بعد بیر سٹر سیف علی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نو منتخب ممبران کے ہمراہ قومی وطن پارٹی کے سربراہ کے پاس آئے ہیں، ملاقات بانی چئیرمین کی ہدایت کے مطابق ہو رہی ہے اس وقت دھاندلی زدہ انتخابات کے نتیجے میں ملک میں بے چینی ہے ووٹر کی امانت میں خیانت ہوئی ہے کچھ لوگ حکومت ملنے پر خوش ہو رہے ہیں یہ پارلیمانی جمہوریت کیلئے بہت بڑا مسئلہ ہے،بیر سٹر سیف نے مزید کہا کہ ہم ملک میں ہم آہنگی اور مفاہمت کی فضا چاہتے ہیں، بانی چئیرمین کی ہدایت پر ہم نے مرکز اور پنجاب میں اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیاہے ،انہوں نے کہا کہ ہمیں فارم 45 کے مطابق تنہا حکومت بنانے کی اکثریت مل چکی ہے،ہم قانون اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے احتجاج کریں گے،اور عدالتوں سے انصاف مانگتے ہیں،بیر سٹر سیف نے بتایا آفتاب شیر پاؤ اور ان کے رہنماوں کو تجویز دی کہ مشترکہ لائحہ عمل اپنایا جائے اسی طرح شیر پاؤ نے کہا سیاسی عدم استحکام سے معاشی عدم استحکام آئے گا،قومی وطن پارٹی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ دھاندلی کے معاملے پر کمیٹی سے بات کر کے آگاہ کریں گے.