Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • پی ٹی آئی  کی جانب سے احتجاج کے حوالے سے  تاحال کوئی درخواست  موصول  نہیں ہوئی،آئی جی اسلام آباد

    پی ٹی آئی کی جانب سے احتجاج کے حوالے سے تاحال کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی،آئی جی اسلام آباد

    پی ٹی آئی نے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) اسلام آباد کو احتجاج کی اجازت کیلئے درخواست دی تھی، جو انتظامیہ کی جانب سے مسترد کردی گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ ہے، دارالحکومت میں کسی بھی احتجاج یا ریلی کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہری کسی بھی سیاسی اجتماع کا حصہ بننے سے گریز کریں، اسلام آباد پولیس احتجاجی سرگرمی میں شریک افراد کے خلاف کارروائی کرے۔ دوسری جانب اسلام آباد پولیس کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے پولیس کو تاحال کوئی درخواست نہیں موصول ہوئی۔پولیس نے ممکنہ احتجاج کے حوالے سے مزید نفری طلب کر لی ہے ۔ ہائی سیکیورٹی زون کے اندر کسی ریلی یا جلوس کی اجازت نہیں ہو گی۔ آئی جی اسلام آباد نے کہا ہے کہ کسی ریلی کی اجازت نہیں ہوگی۔ سڑک بند کرنے اور غیرقانونی اجتماع کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔ریڈ زون کا دائرہ کار فیصل ایونیو تک ہو چکا ہے۔


    کل عوام کو آمدورفت کے دوران دقت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ خواتین ، بزرگوں اور بچوں سے گذارش ہے کہ ایف نائن پارک کی طرف آنے سے گریز کریں۔شہر میں ناکہ بندی اور چیک پڑتال سخت کردی گئی ہے۔ شہری دوران سفر ضروری شناختی دستاویزات ہمراہ رکھیں اور پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔شہری کسی بھی مشکوک سرگرمی کے متعلق پکار 15 یا آئی سی سی ٹی 15 ایپ پر اطلاع دیں۔

  • افغانستان  خصوصی نمائندگان کی اقوام متحدہ کی کانفرنس ، آصف درانی پاکستان کی نما ئندگی کرے گے

    افغانستان خصوصی نمائندگان کی اقوام متحدہ کی کانفرنس ، آصف درانی پاکستان کی نما ئندگی کرے گے

    افغانستان کے لیے پاکستان کے نمائندہ خصوصی آصف درانی 18 اور 19 فروری کو قطر کا دورہ کریں گے، آصف درانی دوحہ میں افغانستان پر خصوصی نمائندوں کے اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔اجلاس کا اہتمام اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی جانب سے کیا جا رہا ہے، کانفرنس کا مقصد افغانستان کے ساتھ بین الاقوامی مشغولیت کے طریقوں پر مزید مربوط اور منظم انداز میں تبادلہ خیال کرنا ہے۔اجلاس میں پاکستان کی شرکت افغانستان میں دیرپا امن اور خوشحالی کیلئے کوششوں کو تقویت دینے کے لیے ہے، پاکستان کی شرکت اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کے ساتھ ہماری فعال کوششوں کا حصہ بھی ہے۔

  • تحریک عدم اعتماد کے دوران فوج غیر جانبدار تھی،رانا ثناء اللہ

    تحریک عدم اعتماد کے دوران فوج غیر جانبدار تھی،رانا ثناء اللہ

    تحریک عدم اعتماد کے دوران فوج غیر جانب دار تھی، اسی لیے بانی پی ٹی آئی نے یہ نعرہ لگایا تھا کہ نیوٹرل تو جانور ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل باجوہ نے ہم سے یہ کہا تھا کہ تحریک عدم اعتماد واپس لے لیں تو بانی پی ٹی آئی نئے الیکشن کرا دیں گے،اُن کا کہنا تھا کہ خدا کی قسم مولانا فضل الرحمان نے دلائل دیے کہ بانی پی ٹی آئی یہودی لابی کا ایجنٹ ہے، یہ ملک تباہ کر دے گا ،، ن لیگی رہنما نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم عدم اعتماد واپس نہیں لیں گے، حکومت سنبھالنے کے بعد جب ہر چیز سامنے آنے لگی تو ہم نے فیصلہ کیا کہ اسمبلی توڑ دیں گے اور الیکشن میں جائیں گے۔رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ اس کے بعد اب مولانا فضل الرحمان ایسی باتیں کر رہے ہیں، جے یو آئی قائد نے دراصل الیکشن نتائج کی فرسٹریشن میں ایسی گفتگو کی، جو اُن کے منصب کو زیب نہیں دیتی۔
    ان کا کہنا تھا کہ اب مولانا کہتے ہیں جنرل فیض نہیں کچھ اور اشخاص تھے، بتائیں وہ کون تھے؟ مولانا ریٹائر شخص کا نام لے رہے ہیں کسی اور کا نام لینے کی ہمت نہیں ہو رہی۔ ن لیگی رہنما نے مزید کہا کہ فضل الرحمان میرے لیے قابل احترام ہیں مگر انہوں نے اپنے آپ سے زیادتی کی ہے، انہوں نے حقائق کے برعکس بات کی، وہ عالم دین ہیں، اُن سے متعلق کیا بات کروں۔انہوں نے کہا کہ یہ کیا بات ہوئی کہ جو شخص ریٹائر ہوا سارا ملبہ اس پر ڈال دیں، جنرل باجوہ یا جنرل فیض سے میری کوئی ہمدردی نہیں۔ن لیگی رہنما نے کہا کہ 16 ماہ میں جو مہنگائی ہوئی اس سے ہمیں سیاسی نقصان ہوا ہے، ملک کو اس دلدل سے نکالنے کےلیے تیار ہیں، اس کا جو بھی نتیجہ نکلے، جو ہونا ہے وہ ہمیں نظر آرہا ہے کچھ ابہام نہیں۔

  • مولانا صاحب نتائج کو نہیں مانتے، ہمارا بیانیہ بھی یہی ہے کہ نتائج کو نہیں مانتے،افضل مروت

    مولانا صاحب نتائج کو نہیں مانتے، ہمارا بیانیہ بھی یہی ہے کہ نتائج کو نہیں مانتے،افضل مروت

    تحریک انصاف کے مرکزی رہنما شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ ’مولانا کے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں‘۔ شیر افضل مروت نے امیر جے یو آئی فضل الرحمان کی بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی اور مولانا صاحب کے تعلقات ہمیشہ خراب رہے، لیکن مولانا کے منہ سے کبھی غلط بات نہیں سنی، حالات و واقعات نے ہمیں یکجا کرنےکی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی تمام جمہوری قوتوں کو ساتھ ملانا چاہتی ہے، ہماری جماعت جنگل کے قانون کا خاتمہ چاہتی ہے۔
    پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ ’مولانا صاحب نے کہا کہ نتائج کو نہیں مانتے، ہمارا بیانیہ بھی یہی ہے کہ نتائج کو نہیں مانتے، میرے خیال میں مولانا کے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں‘۔انھوں نے کہا کہ ن لیگ کے فارم 45 درست ہیں تو الیکشن کمیشن کے پاس جمع کروائے، ہم بھی اپنے فارم 45 جمع کروا دیتے ہیں۔ ہم نے تمام فارم 45 حاصل کرلیے ہیں۔ پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ہماری جنگ اصولوں کی جنگ ہے، یہ صرف 20 حلقوں سے جیتے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ لانگ مارچ اور دھرنے کی تجویز تھی لیکن خان صاحب نے لانگ مارچ کو فی الحال مسترد کردیا۔شیر افضل مروت نے مزید کہا کہ نادرا ایک دن میں معاملہ کلیئر کر دے گا، ن لیگ اقتدار کی بھوکی ہوچکی ہے، ہم اقتدار چاہتے تو پیپلزپارٹی سے ڈیل کرلیتے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم تمام سیاسی قوتوں سے رابطے میں ہیں، ابھی کسی جماعت نے ہمارے احتجاج میں شرکت کا نہیں کہا، ہم پہلے بھی اکیلے احتجاج کرچکے ہیں، جے یو آئی ہمارے ساتھ ملتی ہے تو کوئی مسئلہ نہیں۔

  • سندھ  کے عوام جب سیلاب میں ڈوب رہے تھے تب جی ڈے اے والے کہاں تھے؟ شرجیل میمن

    سندھ کے عوام جب سیلاب میں ڈوب رہے تھے تب جی ڈے اے والے کہاں تھے؟ شرجیل میمن

    پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کورونا میں پیپلز پارٹی کا ایک ایک رکن عوام کی خدمت کر رہا تھا، سیلاب میں ایک پارٹی بتا دیں جو عوام میں موجود تھیں، سیلاب میں پی پی اراکین نے لوگوں کو بچایا اور پانی نکلوایا۔انہوں نے کہا کہ عوام کے مسلط کردہ لوگ دھاندلی کا رونا رو رہے ہیں، لوگ اندھے اور بے وقوف نہیں، آج لوگوں کو کوئی مسئلہ ہو تو وہ سندھ کے اسپتالوں میں علاج کرواتے ہیں۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پی پی پی مخالفین کو انتخابات میں بدترین شکست ہوئی، پی پی پی رہنما نے کہا کہ ان کو آئینی اختیار ہے کہ وہ جلسے اور تقریبات کریں، میرے حلقے میں پیر صاحب کے مرید پیپلز پارٹی کے پکے جیالے ہیں، سندھ میں جی ڈی اے پیپلز پارٹی کی مخالفت میں بنا، یہ اتحاد ہر الیکشن میں بنتا ہے، میں اپنے حلقے کا اعلان کرتا ہوں کہ دوبارہ الیکشن کروالیں۔ شرجیل انعام میمن نے یہ بھی کہا کہ جلسے میں قتل کی باتیں اچھی نہیں ہوتیں، ہمیں معلوم ہے کہ لوگوں نے آپ کو مسترد کیا ہے، کسی ایک حلقے کا نام بتائیں جہاں آپ مقابلہ کر سکتے ہیں۔

  • پی ٹی آئی کا کل ملک گیر احتجاج کا اعلان

    پی ٹی آئی کا کل ملک گیر احتجاج کا اعلان

    کورکمیٹی پی ٹی آئی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی سرپرستی میں عوام کے مینڈیٹ، دستور اور جمہوریت کی کھلی توہین کی راہ روکنا ملک و قوم کے مفاد کیلئے ناگزیر ہے۔پاکستان تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اجلاس ہوا۔ جس کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ذریعے اپنے مینڈیٹ کی توہین عوام قبول کریں گے نہ ہی دستور و جمہوریت کی قبریں کھودنے والوں کو کبھی معاف کریں گے۔اعلامیہ کے مطابق چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے کردار پر تحریک انصاف ہی نہیں، صفِ اوّل کی سیاسی جماعتیں آوازیں اٹھا رہی ہیں، ان کا کمیشن میں بیٹھنے کا مزید کوئی جواز نہیں، فی الفور مستعفیٰ ہوں۔ اعلامیہ میں الیکشن کمیشن پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا گیا کہ عمران خان کو سزا دینے، بلّے کا نشان چھین لینے اور تحریک انصاف کو زبردستی انتخاب سے باہر رکھنے کی کوششوں کے بعد الیکشن کمیشن تحریک انصاف کے نو منتخب اراکینِ پارلیمان کو نہایت مضحکہ خیز تکنیکی بنیادوں پر ڈی سیٹ کرکے عوامی مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالنے کی آخری سازش میں مصروف ہے

  • مسلم لیگ ن کا پارٹی اجلاس، اراکین کا وفاقی حکومت نہ لینے کی تجویز

    مسلم لیگ ن کا پارٹی اجلاس، اراکین کا وفاقی حکومت نہ لینے کی تجویز

    نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے مسلم لیگ (ن) کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی، شرکاء نے نواز شریف کو تجویز دی کہ ہمیں وفاقی حکومت نہیں لینی چاہیے۔ جنگ نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی اجلاس میں شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا گیا کہ پنجاب میں ن لیگ اور آزاد اراکین کے ساتھ مل کر آسانی سے حکومت بنا سکتی ہے۔اسحاق ڈار نے بتایا کہ ن لیگ کی پنجاب میں آزاد اراکین کو ساتھ ملا کر تعداد 154 ہوگئی ہے، جس پر شرکاء نے کہا کہ ہمیں صرف پنجاب پر فوکس کرنا چاہیے۔ذرائع کے مطابق نواز شریف نے کہا کہ وفاقی حکومت بنانے کیلئے کسی اتحادی جماعت کی غیر اصولی بات کو نہیں ماننا چاہیے۔پارٹی اجلاس میں کچھ شرکاء نے رائے دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت لینے کا صرف ایک مقصد ہے کہ ملک معاشی بحران کا شکار ہے، ریاست کو بچانے کی ضرورت ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کے اجلاس میں شہباز شریف، مریم نواز، اسحاق ڈار، مریم اورنگزیب سعد رفیق، اعظم نذیر تارڑ، ایاز صادق، احسن اقبال، رانا تنویر، سلمان شہباز اور ملک احمد خان بھی شریک تھے۔

  • خیبر پختونخوا کابینہ کتنے وزراء پر مشتمل ہو گا

    خیبر پختونخوا کابینہ کتنے وزراء پر مشتمل ہو گا

    خیبرپختونخوا کابینہ کی تشکیل ڈویژنل وائز فارمولا کے تحت ہونے کا امکان ہے۔پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا کابینہ میں 15 وزراء اور 5 مشیر لیے جانے کا امکان ہے جبکہ پہلے مرحلے میں 10 معاونین خصوصی بھی مقرر کیے جائیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حتمی انتخابی نتائج آنے تک تیمور سلیم جھگڑا اور کامران بنگش کو مشیر لیا جاسکتا ہے، تیمورسلیم جھگڑا کو صحت، شکیل خان کو ریونیو اور مشتاق غنی کو تعلیم کے قلمدان دیے جانے کا امکان ہے۔اس کے علاوہ کامران بنگش کو اسپورٹس، عارف احمد زئی کو معدنیات اور خلیق الرحمان کو ایکسائز کے محکمے دیے جائیں گے۔پی ٹی آئی ذرائع نے مزید بتایا کہ ملاکنڈ ڈویژن سے ملک لیاقت علی کو کابینہ میں لیے جانے کا امکان ہے، ملک لیاقت علی کو زراعت کا محکمہ دیا جا سکتا ہے۔پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کابینہ میں پی ٹی آئی کے سینئر ارکان شامل ہوں گے۔

  • سونے کی قیمت میں اضافہ

    سونے کی قیمت میں اضافہ

    سونے کی فی تولہ قیمت میں 1300 روپے کا اضافہ ہوگیا۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونا 1115 روپے مہنگا ہوگیا۔اس کے علاوہ فی تولہ سونے کے نرخ میں 1300 روپے کا اضافہ ہوگیا۔سونے کی فی تولہ قیمت اضافے کے بعد 2 لاکھ 12 ہزار 400 روپے ہوگئی۔10گرام سونے کی قیمت 1 لاکھ 82 ہزار 99 روپے تک پہنچ گئی۔دوسری جانب عالمی بازار میں سونے کا بھاؤ 12 ڈالر اضافے سے 2025 ڈالر فی اونس ہے۔

  • فیض حمید کا نام غلطی سے لیا تھا ،مولانا فضل الرحمن

    فیض حمید کا نام غلطی سے لیا تھا ،مولانا فضل الرحمن

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جنرل(ر) باجوہ، ریٹائرڈ جنرل فیض کو 2018 کے انتخابات میں دھاندلی کا ذمہ دار سمجھتا ہوں۔جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز جنرل (ر) فیض حمید کا نام غلطی سے میری زبان پر آگیا۔فضل الرحمان نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے کو زیادہ زیر بحث لانے کی بجائے تاریخ کے حوالے کیا جائے۔یاد رہے کہ گزشتہ روز نجی ٹی وی کو انٹرویو کے دوران مولانا فضل الرحمان نے انکشاف کیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد قمر جاوید باجوہ کے کہنے پر لائے۔ تحریک عدم اعتماد کے وقت قمر جاوید باجوہ اور فیض حمید رابطے میں تھے۔
    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ میں عدم اعتماد کے حق میں نہیں تھا، عدم اعتماد کی تحریک پیپلزپارٹی چلا رہی تھی، چاہتا تھا تحریک کے ذریعے اس وقت کی حکومت ہٹائی جائے، فیض حمید میرے پاس آئے اور کہا جو کرنا ہے سسٹم کے اندر رہ کر کریں، سسٹم میں رہ کر کرنے کا مطلب اسمبلیوں میں رہ کر کرنا ہے، میں نے انکار کر دیا تھا۔