آبادی کے اعتبار سے دنیا کے سب سے بڑے مسلمان ملک انڈونیشیا میں گزشتہ روز صدارتی، پارلیمانی اور بلدیاتی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بجے شروع ہوا جو 6 گھنٹے جاری رہنے کے بعد مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے ختم ہو گیا تھا، جس کے بعد ووٹوں کی گنتی شروع ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔دنیا کی تیسری سب سے بڑی جمہوریت اور مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی معیشت رکھنے والے ملک انڈونیشیا بھی انتخابات کا انعقاد ہوا ہے، جس میں سابق وزیر دفاع کو برتری حاصل ہے۔صدارتی انتخابات میں وزیر دفاع پرابوو سوبیانتو کو مضبوط برتری حاصل ہے۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق وہ مخالفین انیس باسویدان اور گنجر پرانوو سے بہت آگے ہیں۔
بہتر سالہ سابق جنرل پرابوو سوبیانتو کا کہنا تھا کہ غیر سرکاری ابتدائی نتائج کے بعد وہ 55 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کرتے ہوئے واضح طور پر جیت کے لیے پراعتماد ہیں۔ان کے حریفوں انیس باسویدان اور گنجر پرانوو نے کہا ہے کہ وہ ملک کے الیکشن کمیشن کے اعلان کردہ نتائج کا انتظار کریں گے۔غیر سرکاری نتائج کی بنیاد پر جیت کا دعویٰ کرتے ہوئے سابق جنرل پرابو سوبیانتو کا یہ بھی کہنا ہے کہ لوگوں کو الیکشن کمیشن کے سرکاری نتائج کا انتظار کرنا چاہیے۔جکارتا میں اپنے حامیوں سے خطاب کے دوران انہوں نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انڈونیشیا کی جمہوریت اچھی طرح کام کر رہی ہے۔
Author: صدف ابرار
-

انڈونیشیا انتخابات ،سابق جنرل پرابوو سوبیانتو کو واضح برتری
-

تمام فیصلوں کی توثیق میاں نواز شریف نے کرنی ہے،خواجہ محمد آصف
مولانا فضل الرحمان نے اگر پی ایم ایل این کو ساتھ چلنے کا کہا ہے تو اسکا مطلب یہی ہے کہ انہوں نے اپنے بیان میں بات چیت کی گنجائش رکھی ہوئی ہے، فضل الرحمان نے ہمیں کہا ہے کہ آئیں ہمارے ساتھ چلیں۔ مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ نواز شریف کی اجازت کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو گا، خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کی 75سالہ تاریخ میں ایک یا دو انتخابات کو چھوڑکرباقی انتخابات متنازعہ رہے، پچھلی 5دہائیوں میں بھی الیکشن دھاندلی زدہ ہی رہے ہیں، انتخابات میں جیت ہار ہوتی ہے ، کہیں پر بھی آپ نہیں کہہ سکتے کہ انتخابات شفاف اور منصفانہ ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کو نوازشریف نے منتخب اس لیے کیاہے کہ وہ ڈیڑھ سال کیلئے وزیراعظم رہے، نواز شریف کو پتا ہے کہ اس دور میں شہباز شریف تمام پارٹیوں کو ساتھ لے کر چلے، شہباز شریف کو نواز شریف کی سو فیصد سپورٹ حاصل ہے اور فیصلے نواز شریف ہی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے پی کے میں جیت رہی ہے تو کہتی ہے یہاں انتخابات ٹھیک ہوئے ہیں، جہاں پر پی ٹی آئی کو کم سیٹیں ملیں ہیں وہاں کہتے ہیں یہاں پر دھاندلی ہوئی ہے، یہ تمام سیاسی پارٹیوں کو وطیرہ بن گیا ہے جہاں ہارتے ہیں کہتے ہیں انتخابات شفاف نہیں ہوئے۔
-

الیکشن 2018ء کی نسبت 2024 میں 58 لاکھ زائد ووٹ ڈالے گئے.فافن
الیکشن برائے 2024 کے حوالے سے فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے ووٹر ٹرن آؤٹ پر جائزہ رپورٹ جاری کر دی ہے۔ جس کے مطابق ووٹرز سے متعلق جاری جائزہ قومی اسمبلی کے 264 حلقوں کے فارم 47 پر مبنی ہے۔ فافن کے مطابق 8 فروری 2024 کو پاکستان کے 12ویں عام انتخابات میں تقریباً 60.6 ملین ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ GE-2024 میں 2018 کے مقابلے میں تقریباً 5.8 ملین زیادہ لوگوں نے ووٹ ڈالے جب کہ 54.8 ملین ووٹ ڈالے گئے. ووٹرز کی مطلق تعداد میں اضافے کے باوجود، ٹرن آؤٹ 2018 میں 52.1 فیصد سے کم ہو کر 2024 میں 47.6 فیصد ہو گیا، جس کی بنیادی وجہ رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 2018 میں 106 ملین سے بڑھ کر 2024 میں 128.6 ملین ہو گئی ہے۔ دونوں انتخابات کے درمیان 22.6 ملین۔ اس کے علاوہ ملک کے کچھ حصوں میں سخت سردی، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں تشدد اور دہشت گردی کے خدشات کے ساتھ ساتھ انتخابات کے انعقاد کے بارے میں غیر یقینی صورتحال نے بھی ٹرن آؤٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
FAFEN’s Analysis of Voter Turnout for#Election2024
Highest Turnout in Tharparkar; Lowest in South Waziristan. Stay Tuned for More Updateshttps://t.co/KpU3nRME3N
— FAFEN (@_FAFEN) February 14, 2024
فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک کی یہ رپورٹ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی آفیشل ویب سائٹ سے حاصل کیے گئے 264 قومی اسمبلی کے حلقوں کے فارم 47 (گنتی کے نتائج کا عارضی مجموعی بیان) کے تجزیے پر مبنی ہے۔ تاہم، ووٹر ٹرن آؤٹ کے صنفی تجزیے میں مزید تطہیر کی ضرورت ہے کیونکہ 10 قومی اسمبلی کے حلقوں اور بہت سے صوبائی اسمبلیوں کے حلقوں کے فارم 47 میں پولنگ ووٹوں کی صنفی تفریق شامل نہیں تھی۔فافن کے مطابق الیکشن 2018ء کی نسبت 58 لاکھ زائد ووٹ ڈالے گئے، البتہ ووٹ ڈالنے کی شرح کم ہوئی۔
-

ہم مل کر ملک اور کراچی کو نئی سمت میں لے کر جائیں گے، خالد مقبول صدیقی
مردان ہاؤس میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صوبائی صدر شاہی سید سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے بتایا کہ ہمارے درمیان تعلیم، صحت اور دیگر مسائل پربات ہوئی۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہم شاہی سید کو اپنی طرف بھی بلائیں گے، ہم مل کر ملک اور کراچی کو نئی سمت میں لے کر جائیں گے، اس شہرکا امن پاکستان کا امن ہے، آج ہم نے نفرتوں ،تصادم اورلڑائی کا راستہ بند کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاہی سید سے ملاقات کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں تھا، ہمارے درمیان کوئی سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہیں ہوئی بلکہ سیٹ شیئرنگ ہوئی ہے، انہوں نے ہمارے امیدواروں کوسپورٹ کیا، شاہی سید نےکراچی کےمسائل حل کرنےکےلیےہمارےموقف کی تائیدکی ہے۔
-

مسلم لیگ ق کے نو منتخب ارکان نے چودھری شجاعت کے فیصلوں پہ لبیک کہ دیا
پارٹی قائد چودھری شجاعت حسین کے ویژن کو لے کر آگے بڑھیں گے مسلم لیگ ق کے نو منتخب اراکین پنجاب اسمبلی کا غیر رسمی اجلاس ہوا۔ اجلاس کی صدارت چودھری سالک حسین نے کی، اجلاس میں سابق وفاقی وزیر چودھری وجاہت حسین بھی موجود تھے۔چودھری سالک حسین ، چودھری وجاہت حسین نے نو منتخب اراکین کو مبارکباد دی، نومنتخب اراکین نے چودھری شجاعت حسین کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ نو منتخب اراکین پنجاب اسمبلی نے کہا کہ پارٹی قائد چودھری شجاعت حسین کے ویژن کو لے کر آگے بڑھیں گے۔
-

پی پی پی رابطہ و کوآرڈینیشن کمیٹی کا مسلم لیگ ن کی کمیٹیوں کے درمیان مشاورتی اجلاس
پاکستان پیپلزپارٹی کی رابطہ و کوآرڈینیشن کمیٹی کا مسلم لیگ ن کی کمیٹیوں کے درمیان مشاورتی اجلاس ہوا ہے، پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی کمیٹیوں کے درمیان اجلاس میں ملک میں مہنگائی، بیروزگاری اور غربت سے نجات کے حوالے سے تجاویز پیش کئے گئے، پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی کمیٹیوں کا معاشی، سیاسی، امن و امان او دہشت گردی کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مستحکم جمہوری حکومت کے وقت کی ضرورت ہونے پر اتفاق کیا ہے، اجلاس میں اتفاق میں اس بات پر مکمل اتفاق ہوا کہ پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی کمیٹیوں کے درمیان کل ایک اور اجلاس ہوگا جس میں ن لیگ کے دیگر صوبوں کے نمائندگان شریک ہوں گے، دیگر ہم خیال سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد معاملات کو حتمی شکل دی جائے گی،
اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی کی رابطہ و کوآرڈینیشن کمیٹی کا مسلم لیگ ن سے رابطہ
اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی کمیٹیوں کے درمیان مشاورتی اجلاس ہوا
اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی کمیٹیوں کے درمیان اجلاس میں ملک میں مہنگائی، بیروزگاری اور… pic.twitter.com/HZx02lNiQp
— PPP (@MediaCellPPP) February 14, 2024
-

پنجاب بیوروکریسی نے مریم نواز کو رپورٹ پیش کر دیا
پنجاب کی بیوروکریسی ابھی سے پی ایم ایل این کی تابع ، مسلم لیگ ن کی جانب سے نامزد وزیراعلیٰ مریم نواز کو رپورٹ کرنا شروع کر دیا۔چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان نے مریم نواز سے جاتی امرا میں ملاقات کی، چیف سیکرٹری نے مریم نواز کو صوبے کے حوالے سے تفیصلی بریفنگ دی اور مریم نواز کو منصب کے لیے نامزدگی پر مبارکباد بھی دی۔واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے مریم نواز کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کیلئے نامزد کیا ہے جبکہ شہباز شریف کو وزیراعظم کیلئے نامزد کیا گیا ہے
-

صدر مملکت کو وفاقی ٹیکس محتسب نے سالانہ رپورٹ برائے سال 2023 پیش
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو وفاقی ٹیکس محتسب نے سالانہ رپورٹ برائے سال 2023 پیش کر دی۔ ٹیکس محتسب آصف محمود جاہ نے صدر مملکت کو محتسب کی مجموعی کارکردگی پر بریفنگ بھی دی۔ اس موقع پر صدر مملکت نے کہا ٹیکس دہندگان کو 17.74 ارب روپے کے ریفنڈز کی فراہمی قابل تحسین ہے۔ محتسب نے ٹیکس دہندگان کی سہولت اور ٹیکس حکام کی بدانتظامی کےخلاف شکایات کے حل کے لیے اقدامات سے آگاہ کیا۔ وفاقی ٹیکس محتسب نے 2023 میں 8963 معاملات پر کارروائی کی۔ بریفنگ کے مطابق ٹیکس محتسب نے 2023 میں 17 ارب روپے سے زائد کے ٹیکس ریفنڈ کلیمز کا فیصلہ کیا۔ ٹیکس ریفنڈ کی رقم ایف بی آر کی جانب سے متاثرہ ٹیکس دہندگان کو ادا کی گئی۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ملک میں آگاہی مہم اور نئےعلاقائی دفاتر سے ٹیکس محتسب کی رسائی بڑھانے کے لئے ٹھوس اقدامات کیے گئے۔ امریکا، کینیڈا، سوئیڈن، یو اے ای، ہانگ کانگ اور فلپائن میں اعزازی مشیر تعینات کیے گئے۔ بریفنگ کے مطابق تاجر برادری کی سہولت کے لئے مختلف ایوانہائے صنعت و تجارت سے اعزازی مشیر مقرر کیے۔ انہوں نے صدر کو آگاہ کیا کہ ٹیکس حکام کی بدانتظامی کے خلاف فوری ردِعمل یقینی بنانے کے لئے موبائل ایپ تیار کی گئی۔ بریفنگ کے مطابق ایپ سے شکایت کنندگان کو شکایات درج کرنے اور معلومات لینے میں مدد ملے گی۔ محتسبین کی پیشہ ورانہ مہارت بڑھانے کے لئے معلوماتی تربیتی سیشنز بھی منعقد کیے گئے۔ اس موقع پر صدر مملکت نے کہا کہ ٹیکس محتسب نے سال 2023 میں ریکارڈ کیسز پر کارروائی کی اور ملک میں گڈ گورننس کےفروغ میں مؤثر کردار ادا کیا۔
-

اے این پی کا دھاندلی کے خلاف احتجاج کرنے کا فیصلہ
اے این پی کا مبینہ انتخابی دھاندلی کے خلاف احتجاج کا اعلاندھاندلی زدہ انتخابات کے خلاف انشاء اللہ احتجاجی تحریک کا آغاز ضلع صوابی سے ہوگا۔ 20 فروری بروز منگل ضلع صوابی میں جبکہ 23 فروری بروز جمعہ چارسدہ میں احتجاج کیا جائیگا۔ ہم پرامن رہیں گے لیکن اگر انتخابات کی طرح آپ نے یہاں بھی دھاندلی کی کوشش کی تو میں وضاحت کرچکا ہوں کہ میں آپ کیلئے ولی خان سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہوں لہذا ہمیں اپنے حقوق کیلئے لڑنے دیں اور آپ حکومتیں بناتے اور ہٹاتے رہیں،
-

پنجاب اسمبلی کےمزید 4 ارکان نے مسلم لیگ (ن) میں شامل
آزاد منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی کی پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا سلسلہ جاری ہے ،آزاد حیثیت سے کامیاب ہونے والے پنجاب اسمبلی کےمزید 4 ارکان نے مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے کا اعلان کیا ، چاروں نومنتخب ارکان اسمبلی نے نواز شریف اور شہباز شریف پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ۔ تفصیلات کے مطابق پی پی 132 سے سلطان باجوہ، پی پی 288 سےحنیف پتافی، پی پی 289 سے محمود قادر خان اور پی پی 94 تیمور لالی مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوگئے ،چاروں نومنتخب ارکان نے نامزد وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف سے ملاقات کی ،اس موقع پر پارٹی رہنما رانا تنویر، خواجہ سعد رفیق، عطاء اللہ تارڑ، سردار اویس خان لغاری، خواجہ عمران نذیر، سردار احمد خان لغاری اور دیگر بھی موجود تھے۔ شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) میں شامل ہونے پر سب کا شکریہ ادا کیا اور ان کا خیرمقدم کیا ،چاروں ارکان نے نواز شریف اور اتحادی جماعتوں کی جانب سے وزیراعظم نامزد ہونے پر شہباز شریف کو بھی مبارک دی۔اس موقع پر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہم سب قائد نواز شریف اور عوام کے اعتماد پر پورا اتریں گے، اتحاد اور تعاون ہی پاکستان کو مشکلات سے نکال سکتا ہے، قائد نواز شریف کی رہنمائی میں عوام کی خدمت کریں گے، نواز شریف کے وژن پر عمل کریں گے، پاکستان کو معاشی خطرات اور مہنگائی کے عذاب سے عوام کو نجات دلانا اولین چیلنج ہوگی،