Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • ہالینڈ کا معروف ہاکی کلب اتوار کو لاہور پہنچ رہاہے

    ہالینڈ کا معروف ہاکی کلب اتوار کو لاہور پہنچ رہاہے

    بائیس سال بعد یورپین ہاکی کھلاڑی پاکستانی سرزمین پر قدم رکھیں گے، خواجہ جنید ہاکی اکیڈمی کی دعوت پر ہالینڈ کا معروف ہاکی کلب اتوار کو لاہور پہنچ رہاہے، بیس رکنی ڈچ ہاکی کلب اور وزیر اعظم یوتھ ٹیلنٹ ہنٹ ٹیم کے درمیان تین میچوں کی سیریز کھیلی جائے گی،انیس اوراکیس فروری کو پہلے دو میچوں کی میزبانی نیشنل ہاکی اسٹیڈیم لاہور کرے گا،تئیس فروری کو تیسرا میچ نصیر بندہ ہاکی اسٹیڈیم اسلام آباد میں شیڈول ہے۔ چیف آرگنائزر خواجہ جینید کےمطابق تین میچوں پر مشتمل اس دوستانہ سیریز کو یقینی بنانے میں ہائرایجوکیشن کمشن کے چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد، آئی جی پنجاب پولیس ڈاکٹرعثمان انور،ہالینڈ ایمبیسی اسلام آباد، ڈائریکٹر جنرل پاکستان سپورٹس بورڈ شعیب کھوسہ، سپورٹس بورڈ پنجاب حکام نے اہم کردار ادا کیاہے۔
    پہلے میچ کو پنجاب پولیس کے شہدا کے نام کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ بائیس سال بعد یورپین کھلاڑیوں کا پاکستان آنا تازہ ہوا کا جھونکا ہے، اس سے ہاکی کی انٹرنیشنل سرگرمیاں بحال ہونے میں مدد ملے گا، ایک طرف پی ایس ایل کے میچز کھیلےجارہےہیں تو دوسری جانب ڈچ ہاکی کلب کا دورہ پوری دنیا میں پاکستان کا مثبت امیج بنانے میں معاون ہوگا۔
    کلب ممبران اور ان کی فیمیملز کو پاکستان آنے کے لیے قائل کرنےمیں ڈچ ایمبیسی اسلام آباد کا کراداربھی بہت نمایاں رہا۔ مہمان کلب کے لیے پنجاب پولیس کی جانب سے سکیورٹی کے سخت انتظامات کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انوراس معاملے میں خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں،خواجہ جینید نے واضح کیا کہ وزیر اعظم یوتھ ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کے تحت ملک بھر میں نئے کھلاڑیوں کی تلاش اور مختلف کھیلوں کی لیگز کرانے کا ٹاسک بطور چیئرمین مجھے سونپا گیاتھا،

    ہائرایجوکیشن کمشن کے پلیٹ فارم سے ٹیلنٹ ہنٹ ٹرائلز اور لیگز کروانے کا مقصد ہی یہ تھا کہ باصلاحیت کھلاڑیوں کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اپنے ٹیلنٹ کو دکھانے کا موقع دیاجائے، یہ سیریز بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس سے نہ صرف ہاکی کا بین الاقوامی سطح پر تشخص بحال ہوگا بلکہ پاکستان کے حوالے سے منفی پروپیگنڈا کے خاتمے میں بھی بہت مدد ملے گی۔ ۔

  • ایچ بی ایل پی ایس ایل کا نواں ایڈیشن کا پہلا میچ کل کھیلا جائے گا

    ایچ بی ایل پی ایس ایل کا نواں ایڈیشن کا پہلا میچ کل کھیلا جائے گا

    ایچ بی ایل پی ایس ایل کا نواں ایڈیشن کل سے شروع ہونے والا ہے۔ افتتاحی میچ دفاعی چیمپئن اور دو بار کی فاتح لاہور قلندرز اور دو ہی بار کی چیمپئن اسلام آباد یونائیٹڈ کے درمیان قذافی سٹیڈیم لاہور میں کھیلا جائے گا۔میچ کی پہلی گیند رات 8 بجے کرائی جائے گی۔ ڈبل ہیڈر میں دوپہر کا میچ دوپہر 2 بجے شروع ہوگا جبکہ شام کے میچ کی پہلی گیند رات 7 بجے کی جائے گی۔ رمضان المبارک کے دوران ہونے والے میچز رات 9 بجے شروع ہوں گے۔ پی سی بی ہیڈ کوارٹر قذافی اسٹیڈیم ایچ بی ایل پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب کی پہلی بار میزبانی کرے گا۔ شام ساڑھے چھ بجے شروع ہونے والی تقریب میں شائقین نہ صرف شاندار آتش بازی کا نظارہ کریں گے بلکہ عارف لوہار، پاپ بینڈ نوری اور ایچ بی ایل پی ایس ایل 9 کے ترانے کے گلوکار علی ظفر اور آئمہ بیگ سمیت فنکار بھی پرفارم کریں گے۔ اس کے بعد خوبصورت لیزر شو ہوگا۔
    ایچ بی ایل پی ایس ایل 9 میں چار شہر کراچی، لاہور، ملتان اور راولپنڈی ایونٹ کے 34 میچز کی میزبانی کریں گے۔ لاہور کا قذافی سٹیڈیم نو میچوں کی میزبانی کرے گا جس میں لاہور قلندرز ہوم ٹرف پر پانچ میچ کھیلے گی۔ملتان کرکٹ اسٹیڈیم پانچ میچوں کی میزبانی کرے گا جو تمام ملتان سلطانز کے ہونگے – راولپنڈی کا پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم نو میچوں کی میزبانی کرے گا جس میں اسلام آباد یونائیٹڈ پانچ میچوں میں حصہ لے گی۔ پشاور زلمی اپنے 10 میں سے چار میچ راولپنڈی میں کھیلے گی جبکہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز تین میچ پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گی۔کراچی کا نیشنل بینک اسٹیڈیم 11 میچوں کی میزبانی کرے گا جس میں 18 مارچ کو فائنل بھی شامل ہے۔ ہوم سائیڈ کراچی کنگز اس مقام پر پانچ میچز کھیلے گی جبکہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو نیشنل بینک اسٹیڈیم میں تین میچز کھیلنے کو ملیں گے۔

  • پی ٹی آئی کے رہنما لطیف کھوسہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ہم حکومت بنانے کے قریب آچکے ہے،

    پی ٹی آئی کے رہنما لطیف کھوسہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ہم حکومت بنانے کے قریب آچکے ہے،

    بانی پی ٹی آئی کے بغیر پارلیمان چلے گی نہ ہی ہم چلنے دیں گے، عمران خان کے بغیر تو جمہوریت چلے گی نہ ہی ریاست چلے گی۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور نامور وکیل سردار لطیف کھوسہ نے کہا ہے کہ ہم حکومت بنانے کے قریب آچکے ہیں۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کے دوران لطیف کھوسہ نے استفسار کیا کہ کیا مسلم لیگ (ن) کے پاس سادہ اکثریت ہے؟انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ن لیگ کو دھتکار رہے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی حکومت میں نقصان ہوا تھا۔ سردار لطیف کھوسہ نے مزید کہا کہ ہم حکومت بنانےاُن کا کہنا تھا کہ صدر مملکت پی ٹی آئی کو کہیں کہ آپ کو عددی اکثریت حاصل ہے آپ حکومت بنائیں۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے سوا کوئی بھی پارٹی دوبارہ الیکشن میں نہیں جانا چاہتی ہے۔کے قریب آچکے ہیں، جس کی بھی عددی برتری ہوتی ہے اس کو ہی حکومت بنانے کا کہا جاتا ہے۔

  • ترک افواج کے ڈپٹی چیف آف جنرل اسٹاف نے جوائنٹ اسٹاف ہیڈکوارٹرز راولپنڈی کا دورہ

    ترک افواج کے ڈپٹی چیف آف جنرل اسٹاف نے جوائنٹ اسٹاف ہیڈکوارٹرز راولپنڈی کا دورہ

    ترک افواج کے ڈپٹی چیف آف جنرل اسٹاف نے جوائنٹ اسٹاف ہیڈکوارٹرز راولپنڈی کا دورہ کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل عرفان اوزسرٹ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات ہوئی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں دو طرفہ فوجی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فریقین نے دو طرفہ اسٹریٹجک تعلقات کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل عرفان اوزسرٹ نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ وارانہ مہارت کو سراہا۔
    آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل عرفان اوزسرٹ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیوں کا اعتراف کیا۔اس سے قبل جوائنٹ اسٹاف ہیڈ کوارٹرز پہنچنے پر ترک افواج کے ڈپٹی چیف آف جنرل اسٹاف کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔

  • اعجاز سواتی کی رکنیت خطرے میں

    اعجاز سواتی کی رکنیت خطرے میں

    کراچی سے سندھ اسمبلی کی نشست حلقہ پی ایس 88 ملیر سے کامیاب اعجاز سواتی نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اعجاز سواتی کی بنیادی رکنیت معطل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔اس پر پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر خرم شیر زمان کا کہنا ہے کہ اعجاز خان سواتی کی بنیادی رکنیت معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔خرم شیر زمان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کو ایسے لوٹوں کی شمولیت سے گریز کرنا چاہیے، جنہیں گھر سےکوئی ووٹ نہیں دیتا انہیں پی ٹی آئی کے ووٹوں نےجتوایا۔واضح رہے کہ کراچی سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار نو منتخب رکن سندھ اسمبلی اعجاز سواتی پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) میں شامل ہوگئے۔

  • نگران حکومت نے آئی ایم ایف کی شرط پر گیس کی قیمتوں اور گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں اضافہ منظور کر لیا

    نگران حکومت نے آئی ایم ایف کی شرط پر گیس کی قیمتوں اور گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں اضافہ منظور کر لیا

    وفاقی وزیر برائے خزانہ، محصولات، اور اقتصادی امور، ڈاکٹر شمشاد اختر نے وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی اجلاس منعقد کی .اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں گیس قیمتوں اضافے اور مقامی سطح پر تیارشدہ کاروں پر سیلز ٹیکس بڑھانے سمیت آئی بی کیلئے 125 ملین روپے اضافی فنڈ کی منظوری بھی دے دی گئی۔ذرائع کے مطابق پروٹیکٹڈ، نان پروٹیکٹڈ صارفین، کیپٹو پاور پلانٹس کیلئے گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا، پروٹیکٹڈ صارفین کیلئے گیس قیمتوں میں 100 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ متوقع ہے جبکہ نان پروٹیکٹڈ صارفین کیلئے گیس قیمتوں میں 300 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ متوقع ہے۔بلک میں گیس استعمال کرنے والوں کیلئے قیمتوں میں 900 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو اور سی این جی سیکٹر کیلئے قیمتوں میں 170 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ کیا جائے گا، کھاد کارخانوں کیلئے بھی گیس کا ریٹ معمولی بڑھایا گیا ہے۔

    وزارت خزانہ کے مطابق گیس کی قیمتوں میں اضافے کا اطلاق یکم فروری سے ہوگا، قیمتوں میں اضافے کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ سے لی جائے گی۔ ای سی سی اجلاس میں مقامی سطح پر تیارشدہ کاروں پر سیلز ٹیکس بڑھانے کی بھی منظوری دے دی گئی جس کے باعث 40 لاکھ مالیت یا 1400 سی سی کی گاڑیوں پر اب 25 فیصد تک سیلز ٹیکس عائد ہوگا، ایف بی آر کو رواں مالی سال کے دوران اس مد میں 4 ارب روپے کا اضافی ریونیو ملے گا۔ وزارت خزانہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے کھاد کی قیمتوں میں حالہ اضافے کا نوٹس لیتے ہوئے مسابقتی کمیشن کو کھاد قیمتیں بڑھانے میں ملوث افراد کیخلاف تحقیقات کرنے کا حکم دے دیا۔40 لاکھ مالیت یا 1400 سی سی گاڑیوں پر عائد سیلز ٹیکس کو آئندہ بجٹ میں بھی عائد کیا جائے گا، 1400 سی سی گاڑی پر 25 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہونے سے گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔

  • پنجاب اسمبلی کے چار ارکان آئی پی پی میں شامل

    پنجاب اسمبلی کے چار ارکان آئی پی پی میں شامل

    پنجاب اسمبلی کے 4 نو منتخب آزاد اراکین پنجاب اسمبلی نے صدر آئی پی پی علیم خان سے ملاقات میں استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کااعلان کیا ۔ استحکام پاکستان پارٹی میں بھی آزاد اراکین کی شمولیت شروع ہو گئی۔ چار منتخب آزاد ارکین پنجاب اسمبلی نے صدر آئی پی پی علیم خان سے ملاقات کی اور پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ان اراکین میں پی پی 284 تونسہ سے طاہر قیصرانی، پی پی 270 مظفر گڑھ سے زاہد اسماعیل بھٹہ، پی پی 296 راجن پور سے سردار اویس دریشک اور پی پی 91 بھکر سے غضنفر عباس چھینہ شامل ہیں۔


    آئی پی پی میں شامل ہونیوالے اراکین کا کہنا تھا کہ موجودہ ملکی صورتحال میں مضبوط حکومت حالات کا اولین تقاضہ ہے.علیم خان نے پارٹی میں شامل ہونے والے ممبران پنجاب اسمبلی کا خیر مقدم کیا۔اس موقع پر علیم خان نے کہا کہ استحکام اور ملک کو مضبوط معاشی پالیسی دینا اشد ضروری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ غریب مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے، عوام کو فوری ریلیف دینا ہوگا۔علیم خان نے کہا کہ مزید 10 سے 15 اراکین اسمبلی رابطے میں ہیں، جو چند روز میں آئی پی پی میں شامل ہو جائیں گے۔

  • انڈونیشیا  انتخابات ،سابق جنرل پرابوو سوبیانتو کو واضح برتری

    انڈونیشیا انتخابات ،سابق جنرل پرابوو سوبیانتو کو واضح برتری

    آبادی کے اعتبار سے دنیا کے سب سے بڑے مسلمان ملک انڈونیشیا میں گزشتہ روز صدارتی، پارلیمانی اور بلدیاتی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بجے شروع ہوا جو 6 گھنٹے جاری رہنے کے بعد مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے ختم ہو گیا تھا، جس کے بعد ووٹوں کی گنتی شروع ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔دنیا کی تیسری سب سے بڑی جمہوریت اور مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی معیشت رکھنے والے ملک انڈونیشیا بھی انتخابات کا انعقاد ہوا ہے، جس میں سابق وزیر دفاع کو برتری حاصل ہے۔صدارتی انتخابات میں وزیر دفاع پرابوو سوبیانتو کو مضبوط برتری حاصل ہے۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق وہ مخالفین انیس باسویدان اور گنجر پرانوو سے بہت آگے ہیں۔
    بہتر سالہ سابق جنرل پرابوو سوبیانتو کا کہنا تھا کہ غیر سرکاری ابتدائی نتائج کے بعد وہ 55 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کرتے ہوئے واضح طور پر جیت کے لیے پراعتماد ہیں۔ان کے حریفوں انیس باسویدان اور گنجر پرانوو نے کہا ہے کہ وہ ملک کے الیکشن کمیشن کے اعلان کردہ نتائج کا انتظار کریں گے۔غیر سرکاری نتائج کی بنیاد پر جیت کا دعویٰ کرتے ہوئے سابق جنرل پرابو سوبیانتو کا یہ بھی کہنا ہے کہ لوگوں کو الیکشن کمیشن کے سرکاری نتائج کا انتظار کرنا چاہیے۔جکارتا میں اپنے حامیوں سے خطاب کے دوران انہوں نے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انڈونیشیا کی جمہوریت اچھی طرح کام کر رہی ہے۔

  • تمام فیصلوں کی توثیق میاں نواز شریف نے کرنی ہے،خواجہ محمد آصف

    تمام فیصلوں کی توثیق میاں نواز شریف نے کرنی ہے،خواجہ محمد آصف

    مولانا فضل الرحمان نے اگر پی ایم ایل این کو ساتھ چلنے کا کہا ہے تو اسکا مطلب یہی ہے کہ انہوں نے اپنے بیان میں بات چیت کی گنجائش رکھی ہوئی ہے، فضل الرحمان نے ہمیں کہا ہے کہ آئیں ہمارے ساتھ چلیں۔ مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ نواز شریف کی اجازت کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو گا، خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کی 75سالہ تاریخ میں ایک یا دو انتخابات کو چھوڑکرباقی انتخابات متنازعہ رہے، پچھلی 5دہائیوں میں بھی الیکشن دھاندلی زدہ ہی رہے ہیں، انتخابات میں جیت ہار ہوتی ہے ، کہیں پر بھی آپ نہیں کہہ سکتے کہ انتخابات شفاف اور منصفانہ ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کو نوازشریف نے منتخب اس لیے کیاہے کہ وہ ڈیڑھ سال کیلئے وزیراعظم رہے، نواز شریف کو پتا ہے کہ اس دور میں شہباز شریف تمام پارٹیوں کو ساتھ لے کر چلے، شہباز شریف کو نواز شریف کی سو فیصد سپورٹ حاصل ہے اور فیصلے نواز شریف ہی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے پی کے میں جیت رہی ہے تو کہتی ہے یہاں انتخابات ٹھیک ہوئے ہیں، جہاں پر پی ٹی آئی کو کم سیٹیں ملیں ہیں وہاں کہتے ہیں یہاں پر دھاندلی ہوئی ہے، یہ تمام سیاسی پارٹیوں کو وطیرہ بن گیا ہے جہاں ہارتے ہیں کہتے ہیں انتخابات شفاف نہیں ہوئے۔

  • الیکشن 2018ء کی نسبت 2024 میں  58 لاکھ زائد ووٹ ڈالے گئے.فافن

    الیکشن 2018ء کی نسبت 2024 میں 58 لاکھ زائد ووٹ ڈالے گئے.فافن

    الیکشن برائے 2024 کے حوالے سے فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن) نے ووٹر ٹرن آؤٹ پر جائزہ رپورٹ جاری کر دی ہے۔ جس کے مطابق ووٹرز سے متعلق جاری جائزہ قومی اسمبلی کے 264 حلقوں کے فارم 47 پر مبنی ہے۔ فافن کے مطابق 8 فروری 2024 کو پاکستان کے 12ویں عام انتخابات میں تقریباً 60.6 ملین ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ GE-2024 میں 2018 کے مقابلے میں تقریباً 5.8 ملین زیادہ لوگوں نے ووٹ ڈالے جب کہ 54.8 ملین ووٹ ڈالے گئے. ووٹرز کی مطلق تعداد میں اضافے کے باوجود، ٹرن آؤٹ 2018 میں 52.1 فیصد سے کم ہو کر 2024 میں 47.6 فیصد ہو گیا، جس کی بنیادی وجہ رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 2018 میں 106 ملین سے بڑھ کر 2024 میں 128.6 ملین ہو گئی ہے۔ دونوں انتخابات کے درمیان 22.6 ملین۔ اس کے علاوہ ملک کے کچھ حصوں میں سخت سردی، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں تشدد اور دہشت گردی کے خدشات کے ساتھ ساتھ انتخابات کے انعقاد کے بارے میں غیر یقینی صورتحال نے بھی ٹرن آؤٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

    فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک کی یہ رپورٹ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی آفیشل ویب سائٹ سے حاصل کیے گئے 264 قومی اسمبلی کے حلقوں کے فارم 47 (گنتی کے نتائج کا عارضی مجموعی بیان) کے تجزیے پر مبنی ہے۔ تاہم، ووٹر ٹرن آؤٹ کے صنفی تجزیے میں مزید تطہیر کی ضرورت ہے کیونکہ 10 قومی اسمبلی کے حلقوں اور بہت سے صوبائی اسمبلیوں کے حلقوں کے فارم 47 میں پولنگ ووٹوں کی صنفی تفریق شامل نہیں تھی۔فافن کے مطابق الیکشن 2018ء کی نسبت 58 لاکھ زائد ووٹ ڈالے گئے، البتہ ووٹ ڈالنے کی شرح کم ہوئی۔