Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • فیصل کریم کنڈی کا پی ٹی آئی کے ساتھ کسی بھی رابطے کی تردید

    فیصل کریم کنڈی کا پی ٹی آئی کے ساتھ کسی بھی رابطے کی تردید

    شیر افضل کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو اگر سرکاری موقف دینا بھی ہے تو کسی سنجیدہ شخص سے دلوائیں، شیر افضل مروت غیر سنجیدہ شخص ہیں ان کا دعویٰ بچکانہ ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی سے رابطہ کرنا ہوتا تو کسی سنجیدہ شخص کے ذریعے رابطہ کرتے، ایک ایسا شخص جس کی سنجیدگی پر سوالات اٹھتے ہیں اس کے ذریعہ رابطہ کیوں کرتے۔فیصل کریم کنڈی نے یہ بھی کہا کہ کبھی کہتے ہیں 160 سیٹیں ہیں، ہوا میں باتیں کرتے ہیں، انہیں خود بھی نہیں پتہ کتنی سیٹیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر وہ سمجھتے ہیں دھاندلی والی سیٹیں مل سکتی ہیں تو یہ پیپلز پارٹی یا کوئی اورجماعت نہیں دے سکتی، یہ تو عدالت یا ٹریبونل ہی فیصلہ کرسکتا ہے۔

    پی پی ترجمان نے کہا کہ وہ خواب دیکھ رہے ہیں کہ 150 سیٹیں جیتی ہیں تو خواہشات اور خواب دیکھنے پر پابندی نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے وزیراعظم کےلیے شہباز شریف کو ووٹ دینے کا اعلان کیا، تو پھر ان سے رابطہ کیوں اور کس لیے کریں، شیر افضل مروت کا دعویٰ بچکانہ اور غیر سنجیدہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کو خواب میں بھی آصف زرداری نظر آرہے ہیں، شیر افضل کی باتیں کامیڈی شو والی ہیں، میں تو انہیں سنجیدہ شخص نہیں سمجھتا۔پی پی ترجمان نے مزید کہا کہ شیرافضل مروت کامیڈی شو تو کرسکتے ہیں، لیکن سنجیدہ سیاستدان نہیں بن سکتے، پی ٹی آئی والوں کو پتہ چل گیا ہے کہ اب ان کی حکومت نہیں بن رہی۔اُن کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی سے رابطہ کرنا ہوتا تو کسی سنجیدہ شخص کے ذریعے رابطہ کرتے، ایک ایسا شخص جس کی سنجیدگی پر سوالات اٹھتے ہیں اس کے ذریعہ رابطہ کیوں کرتے۔

  • جے یو آئی نے انتخابی نتائج کو مسترد کر دیا، مولانا کا اپوزیشن میں بیٹھنے کا اعلان

    جے یو آئی نے انتخابی نتائج کو مسترد کر دیا، مولانا کا اپوزیشن میں بیٹھنے کا اعلان

    جمعیت علمائے اسلام نے انتخابی نتائج مسترد کرتے ہوئے میاں نواز شریف کو اپوزیشن میں بیٹھنے کی دعوت دی ہے .

    پارٹی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کہتے ہیں کہ اگر اسٹیبلشمنٹ سمجھتی ہے کہ انتخابات شفاف ہوئے ہیں تو 9مئی کا بیانیہ دفن ہوگیا ہے کیونکہ عوام نے قوم کے غداروں کو ووٹ دئیے ہیں الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کرانے میں ناکام ہوگیا ہے دھاندلی کے خلاف ملک گیر تحریک چلائیں گے ہمارا اختلاف تحریک انصاف کے جسموں سے نہیں ذہین سے ہے وہ بھی ختم ہوجائے گا ۔

    بدھ کے روز مجلس عاملہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ جمیعت علمائے اسلام نے انتخابات کے نتائج کو مسترد کردیاہے موجودہ انتخابات نے 2018کی دھاندلی کا بھی ریکارڈ توڑ ڈالا ہے انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں یرغمال رہا ہے اور پارلیمنٹ اپنی اہمیت کھو بیٹھا ہے انہوں نے کہاکہ ایسا لگ رہا ہے کہ اب فیصلے ایوان میں نہیں بلکہ میدان میں ہوں گے انہوں نے کہاکہ جے یوآئی کی مجلس عاملہ نے مجلس عمومی کو سفارش کی ہے کہ جمعیت کی سیاست کے بارے میں فیصلہ کرے اور ملک میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت سے پاک ماحول میں الیکشن کو شفاف بنایا جاسکے، جے یوآئی جان بوجھ کر کو شکست سے دوچار کیا گیا ہمارا جرم یہ تھا کہ ہم افغانستان میں پر آمن حکومت کے قیام اور دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے کوششیں کر رہے تھے جو امریکہ سمیت عالمی طاقتوں کو قبول نہیں تھے

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جے یوآئی نے فلسطینیوں اور حماس کے موقف کی حمایت کی ہے اسی وجہ سے اسرائیل اور پوری دنیا میں اسرائیلی لابی بھی ہمارے خلاف تھی انہوں نے کہاکہ جے یوآئی ایک نظریاتی قوت ہے جو کسی مصلحت یا سمجھوتے کا شکار نہیں ہوتی اور اپنے عظیم تر مقصد کیلئے تحریک چلائے گی انہوں نے کارکنوں کو تیار رہنے کی ہدایت کی انہوں نے کہاکہ اگر اسٹیبلشمنٹ سمجھتی ہے کہ الیکشن شفاف ہوئے ہیں تو فوج کا 9مئی کا بیانیہ دفن ہوگیا اور قوم کے غداروں کو مینڈیٹ دیا گیا انہوں نے کہاکہ نتائج میں کامیاب اور شکست خوردہ امیدواروں سے بڑی بری رشوتیں لی گئی ہیں میں مسلم لیگ کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ آئین اور اپوزیشن میں بیٹھ جائیں ،

    انہوں نے کہاکہ آپ کو معلوم ہے کہ ہم اسمبلی میں بھی رہے اور باہر تحریک بھی چلتی رہی ہے اس میں کوئی تضاد نہیں ہے. الیکشن کمیشن کا روز اول سے کردار مشکوک رہا ہے اور اب ہماری درخواستوں پر سماعت سے انکار کرکے درخواستوں کو خارج کر رہا ہے ، 22فروری کو اسلام آباد میں 25فروری کوبلوچستان 27فروری کو پشاور 3مارچ کو کراچی اور 5مارچ کو ہم پنجاب کی صوبائی مجلس عمومی کے ساتھ میٹنگ کریں گے، پی ٹی آئی کے ساتھ ہمارے اختلافات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے ہمیں ان کے جسم سے کوئی جھگڑا نہیں ہے ان کے دماغوں سے جھگڑا ہے اور وہ ٹھیک ہوجائے گی ، الیکشن کمیشن دن کو بھی رات ثابت کرنے کی بات کرتا ہے، محمود خان کے مقابلے میں دستبردار امیدوار جو گھر میں سویا ہوا تھا اس کو بتایا گیا کہ آپ جیت چکے ہیں، ہم مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے تابعدار نہیں ہیں،یہ مرکزی مجلس عاملہ کا بیان ہے،ہم نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ پارلیمنٹ میں اپنی حیثیت کے ساتھ جائیں گے اور کسی بھی پارٹی کے ساتھ کوئی اتحاد نہیں کریں گے،جماعت نے نظرثانی کی کوئی گنجائش نہیں رکھی ہے ، میں ماضی میں نہیں جانا چاہتا ہوں اور جو میں نے کہاہے وہ ہم پر گزری ہے ہم نے انتخابی کمپین نہیں کی ہے اور ہمیں دھمکیاں دی جارہی تھی اس قسم کے حالات میں ہم نے الیکشن میں حصہ لیا ہے ہماری بات کسی نے نہیں مانی ہے اور اب ہم بھی کسی کی بات نہیں مانیں گے.

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ہم میدان میں آئیں گے اور ہم نے کسی اور تیور کے ساتھ بات کی ہے، ہم بلوچستان جائیں گے ہماری جماعت نے حکومت سازی کی بات نہیں کی ہے ہم دیگر جماعتوں کو اپنے موقف سے اگاہ کریں گے ،ہ ہمارے دورہ افغانستان کے حوالے سے یہ تبصرے آرہے ہیں کہ اس کو ہمارا جرم قرار دیا گیا اور ہمیں انتخابات میں جان بوجھ کر ہرایا گیا ہے،ہم اسمبلیوں سے استعفیٰ نہیں دیں گے،ہم اگلی تحریک کا شیڈول اور طریقہ کار جماعت کی مشاورت کے ساتھ جاری کریں گے تاہم موجودہ حکومت اور اسمبلیوں کے بارے میں ہمارا موقف واضح ہے، اگر کوئی سمجھتا ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے تو ہمارا ساتھ دیں اور اگر کوئی سمجھتا ہے کہ دھاندلی نہیں ہوئی ہے تو بیٹھا رہے ، اہ پشائور میں خالص افغانی باشندے کو جتوایا گیا ہے،اگر اسٹیبلشمنٹ سیاست سے دستبردار ہوجائے تو ہمارے سروں کا تاج ہے اور اگر سیاست کرے گی تو ہم بھی سیاست سے جواب دیں گے.

    واضح رہے کہ گزشتہ روز ن لیگ اور اتحادی جماعتوں کے وزیراعظم کے امیدوار شہباز شریف نے اتحادی جماعتوں کی پریس کانفرنس میں حکومت بنانے کے اعلان کے بعد مولانا فضل الرحمان سے انکی رہائشگاہ جا کر ملاقات کی تھی، شہباز شریف سے صحافیوں نے سوال بھی کیا تھا جس پر انکا کہنا تھا کہ میرا مولانا فضل الرھمان سے رابطہ ہوا ہے وہ پارٹی اجلاس میں مصرو ف تھے اس لئے آج نہیں آ سکے، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بھی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی تھی، آج مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن میں بیٹھنے کا اعلان کر دیا

    گزشتہ روز حکومتی اتحادی جماعتوں کے اجلاس میں جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان حکومتی اتحاد میں نظر نہیں آئے تھے ، پی ڈی ایم کی ڈیڑھ سالہ حکومت میں مولانا فضل الرحمان کے بیٹے مولانا اسعد محمود وزیر تھے تو وہیں جے یو آئی کے سینیٹر طلحہ محمود بھی وزیر تھے تا ہم کل ہونے والے اتحادیوں کے اجلاس میں مولانا فضل الرحمان نظر نہیں آئے اور نہ ہی انکا کوئی نمائندہ نظر آیا، انتخابات کے بعد شہباز شریف نے دو بار مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کیا، نواز شریف نے بھی دوبار رابطہ کیا لیکن مولانا فضل الرحمان سے ن لیگی قیادت کی ابھی تک ملاقات نہیں ہو سکی،

    میں وزیراعظم کا امیدوار نہیں،کابینہ کا حصہ نہیں البتہ وزیراعظم کوووٹ دیں گے، بلاول

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

  • میاں صاحب کے پاس کمزور مینڈیٹ ہے اور ہم اسکا حصہ نہیں بننا چاہتے،اعتزاز احسن

    میاں صاحب کے پاس کمزور مینڈیٹ ہے اور ہم اسکا حصہ نہیں بننا چاہتے،اعتزاز احسن

    پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اعتزاز احسن نے کہا ہے نوازشریف اور مریم کے حلقے میں دھاندلی ہوئی ہے، اس میں کوئی شک نہیں آنے والی حکومت کمزور حکومت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ سعد رفیق نے جیت پر لطیف کھوسہ کو مبارکباددی، اگر وہ مبارکباد نہ دیتے تو ان کی سیٹ بھی برقرار رکھی جاتی کیونکہ ن لیگ نے انہیں ہر قیمت پر جتوانا ہی تھا۔رہنما پیپلز پارٹی نے کہا کہ ایک پارٹی کو مینڈیٹ ملا ہے ،ہم اس کی نفی نہیں کرنا چاہتے، ہمارا یہی موقف رہا ہے کہ وہ اپنا مینڈیٹ پورا کر لیتے ہیں تو ان کو کرنا چاہئے، میاں صاحب کے پاس کمزور مینڈیٹ ہے،اس میں ہم شریک ہونا نہیں چاہتے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ یہ انا کا مسئلہ نہیں، یہ آئین کا مسئلہ ہے، اگر وہ اپنا مینڈیٹ ثابت کر سکتے ہیں تو ان کیلئے موقع ملنا چاہئے، کیونکہ ہم نئے انتخابات کی طرف جانے سے گریز کریں گے۔ مریم نواز کو وزیراعلیٰ بنانے کا فیصلہ ان کی پارٹی کا ہے، وہ ہارڈ اوپینین رکھنےوالی شخصیت ہیں، انہوں نے بڑی دلیری دکھا ئی ہے، وہ والد کے ساتھ اس وقت لندن سے چلی آئے جبکہ انہیں پتہ تھا کہ وہ سیدھا جیل جائیں گی

  • شہباز شریف چاہتے تھے کہ وزیرا عظم نواز شریف ہو، رانا ثناءاللہ

    شہباز شریف چاہتے تھے کہ وزیرا عظم نواز شریف ہو، رانا ثناءاللہ

    مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ شہباز شریف کو اتحادیوں کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ ہے، شہباز شریف کی رائے تھی کہ نواز شریف وزیراعظم بنیں۔نجی ٹی وی سے گفتگو میں رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ ن لیگ کو عام انتخابات میں سادہ اکثریت نہیں ملی، بدقسمتی سے منقسم مینڈیٹ آیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اتحادی حکومت کو بڑے فیصلے کرنے میں دقت آتی ہے، میری اطلاع کے مطابق آج کی پریس کانفرنس کے بعد نواز شریف نے نامزدگی کا فیصلہ کیا۔ن لیگ پنجاب کے صدر نے مزید کہا کہ اتحادیوں کے ساتھ شہباز شریف بہتر انداز میں کام کر سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف اکیلے کی رائے نہیں ہماری بھی رائے تھی کہ شہباز شریف اتحادی حکومت کے وزیراعظم بنیں۔رانا ثناء اللّٰہ نے یہ بھی کہا کہ مریم نواز کامیاب وزیراعلیٰ کے طور پر پنجاب کی خدمت کریں گی، مہنگائی کے معاملے میں ہم قصور وار نہیں۔

  • اسلام آباد میں فائرنگ،ڈولفن اہلکار زخمی

    اسلام آباد میں فائرنگ،ڈولفن اہلکار زخمی

    ترجمان اسلام آباد کیپیٹل پولیس نے کہا ہے کہ سیکٹر ای الیون میں ڈولفن اہلکاروں پر فائرنگ سے اہلکار زخمی ہوگیا۔ ترجمان اسلام آباد کیپیٹل پولیس کے مطابق زخمی اہلکار تنویر کو 2 گولیاں لگیں، جسے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ ترجمان کے مطابق ڈولفن اہلکار فائرنگ کی اطلاع پر ای الیون پہنچے تھے۔ پولیس کو دیکھتے ہی گاڑی سے ملزمان نے اہلکاروں پر فائرنگ کر دی۔ پولیس ترجمان نے کہا کہ ملزمان کی گاڑی کو تلاش کر کے قبضے میں لے لیا گیا ہے، جبکہ ملزمان فرار ہوگئے۔ ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن نے زخمی پولیس کانسٹیبل کی اسپتال میں عیادت کی، انہوں نے اسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ زخمی اہلکار کے علاج و معالجہ میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔

  • بلاول بھٹو  کا خیال ہے کہ کراچی پر صرف انکا حق ہے،  فیصل سبزواری

    بلاول بھٹو کا خیال ہے کہ کراچی پر صرف انکا حق ہے، فیصل سبزواری

    سوچا تھا الیکشن کے بعد ایک دو دن سکون سے گزریں گے، لیکن بلاول بھٹو کی بات پر جواب دینا لازمی ہے، بلاول بھٹو کہتے ہیں اعتماد کا ووٹ دیں گے لیکن کابینہ کاحصہ نہیں ہوں گے۔ ایم کیو ایم کے رہنما فیصل سبزواری نے کہا کہ بلاول بھٹو نے نامناسب اور غیر دارانہ گفتگو کی، باتیں اتنی کریں بعد میں شرمندہ نہ ہوں۔فیصل سبزواری نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کہتے ہیں ایم کیو ایم کو 17 نشستیں دی گئی ہیں، شاید وہ یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ ان کے علاوہ کوئی نہیں جیت سکتا، ان کو جو نشستیں ملی ہیں ماضی میں ہم ان پر کامیاب ہوتے تھے،
    بلاول صاحب بھول رہے ہیں سرکاری وسائل پر ریلی نکال لینا کمپین نہیں ہوتی۔انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو صدر بھی چاہتے ہیں، سپیکر بھی چاہتے ہیں اور بہت کچھ چاہتے ہیں لیکن حکومت کا حصہ نہیں بننا چاہتے، مسائل توہوں گے لیکن سیاسی جماعتوں کو نبردآزما ہونا ہے، انتخابات کو چیلنج کرنے کا ایک پورا پروسیس موجود ہے، ہم نے تو یہ بات کی کہ پی ٹی آئی سے بھی بات کی جائے۔رہنما کیو ایم نے کہا کہ سارے ساتھ بیٹھیں، جنہوں نے ووٹ ڈالے اور جنہوں نے نہیں ڈالے ان سب کی ذمہ داری ہمارے اوپر ہے، اب الیکشن کمپین کی جذباتی تقاریر کے بجائے سٹیٹس مین شپ کا مظاہرہ کریں، صدرمملکت کے لئے ووٹ تو چاہئے ہوگا۔

  • پی ایم ایل این  کے صدر شہباز شریف کی جےیوآئی سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

    پی ایم ایل این کے صدر شہباز شریف کی جےیوآئی سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

    سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف کی جےیوآئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائشگاہ آمد، شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمان کو اتحاد میں شامل ہونے دعوت دیدی، ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے شہباز شریف کا اپنے تحفظات سے آگاہ کیا، مولانا فضل الرحمان نے جے یوئی آئی کے ساتھ مبینہ دھاندلی کی شکایات کیں، ذرائع نے بتایا کہ مولانا فضل الر حمن نے شکوہ کرتے ہوئے شہباز شریف کو بتایا کہ ہمارا مینڈیٹ کیسے چوری ہوا ، تاہم مولانا فضل الرحمان نے شہباز شریف کو بتایا کہ جماعت کی اکثریت کی رائے ہے ہم اپوزیشن میں بیٹھیں، ذرائع نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے کل مجلس عاملہ کے سامنے شہباز شریف کی درخواست رکھنے کی یقین دہانی کرائی ، اور بتایا کہ جو بھی فیصلہ ہوا آپکو آگاہ کردوں گا،
    ملاقات میں مسلم لیگ ن کے رہنما اسحاق ڈار ، سردار ایاز صادق ،ملک احمد خان موجود تھے، ملاقات میں مولانا عبدالغفور حیدری ، مولانا راشد سومرو ، انجنئیر ضیاء الرحمان شریک ہوئے، دونوں رہنماوں کے درمیان ملکی سیاسی صورتحال پر مشاورت ہوئی ،.

  • کیا  پاکستان پیپلز  پارٹی ،پی ٹی آئی  کے ساتھ چلنے کے انتظار میں بیٹھی تھی؟

    کیا پاکستان پیپلز پارٹی ،پی ٹی آئی کے ساتھ چلنے کے انتظار میں بیٹھی تھی؟

    سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس“ پر جاری ایک پیغام میں لکھا، ’امید تھی کہ عمران خان (نتائج کے بعد) سیاسی جماعتوں سے رابطے کریں گے تاکہ ان کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کے مینڈیٹ کو یقینی بنایا جا سکے اور مسئلے کو حل کیا جاسکے۔ لیکن افسوس، انہوں نے ان سب کو جھڑک دیا۔ آج پھر پی ٹی آئی نے دوسری جماعتوں سے بات نہیں کی۔ یہ اقدام انتہائی تفرقہ انگیز، غیر دانشمندانہ اور خود کو تباہ کرنے والا ہے‘۔
    فرحت اللہ بابر کے اس بیان سے با آسانی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ شاید پیپلز پارٹی کو کہیں کوئی چھوٹی سی امید تھی کہ پی ٹی آئی کی قیادت حکومت سازی کیلئے ان سے رابطہ کرے گی، لیکن ایسا نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا جارہا ہے۔اپنے ایک اور پیغام میں فرحت اللہ بابر نے لکھا کہ ’ووٹرز نے مشکلات کے باوجود پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کو مینڈیٹ دیا، ڈیموکریٹس اس مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہتے تھے، لیکن خان کا کہنا ہے کہ وہ نہ تو پیپلز پارٹی سے بات کریں گے اور نہ ہی مسلم لیگ ن سے، جو کہ حیران کن اور انتہائی مایوس کن ہے۔ مزید یہ کہ پی ٹی آئی میں یقیناً بہت سمجھدار لوگ ہیں‘۔ واضح رہے کہ اس سے قبل سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی کہا ہے کہ اگر پی ٹی آئی ہمارے ساتھ مل کر چلے گی تو یہ ملک کے لئے خوش آئند ہو گا،

  • متحدہ قومی موومنٹ نے شہباز شریف سے حمایت کے بدلے کیا مانگا؟

    متحدہ قومی موومنٹ نے شہباز شریف سے حمایت کے بدلے کیا مانگا؟

    متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے وفد اور صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف کی ملاقات میں ایک بار پھر بلدیاتی نظام سے متعلق آئینی ترمیم کی تجاویز رکھ دیں۔ذرائع کا اس حوالے بتانا ہے کہ شہباز شریف نے آئینی ترمیم پر ایم کیو ایم کے مطالبے پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت سازی کےحوالے سے ملاقات کا ایک اور مرحلہ جلد ہوگا۔ایم کیو ایم وفد کی پارٹی کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کی جبکہ گورنر سندھ کامران ٹیسوری، ڈاکٹر فاروق ستار، مصطفیٰ کمال شامل تھے۔ملاقات میں ن لیگی رہنما اسحاق ڈار، ایاز صادق اور ملک محمد احمد خان بھی موجود تھے۔ملاقات میں سیاسی صورتحال اور حکومت سازی سے متعلق مشاورت اور باہمی تعاون سے آگے بڑھنے پر اتفاق کیا گیا۔

  • نواز شریف کا چوتھی بار وزارت عظمیٰ کا خواب ادھورا، شہباز شریف وزیراعظم نامزد

    نواز شریف کا چوتھی بار وزارت عظمیٰ کا خواب ادھورا، شہباز شریف وزیراعظم نامزد

    اتحادی جماعتوں کی جانب سے واضح حمایت ملنے کے بعد نواز شریف نے شہباز شریف کو وزیراعظم نامزد کر دیا

    نواز شریف جو چوتھی بار وزیراعظم بننے آئے تھے انکا خواب ادھورا رہ گیا، نواز شریف اتحادی وزیراعظم ہوں گے، ن لیگی ترجمان مریم اورنگزیب نے اس بات کی تصدیق کی اور کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف نے وزیراعظم کیلئے شہبازشریف کو نامزد کر دیا ہے نوازشریف نے وزیراعلی پنجاب کے عہدے کےلئے مریم نوازکو نامزد کردیا ہے

    پاکستان کو "نواز”دو، ن لیگ کا ووٹر سے دھوکہ، نواز کی بجائے "شہباز” دے دیا
    نواز شریف لندن سے واپس آئے تو اس وقت سے کہا جا رہا تھا کہ نواز شریف وزیراعظم بننے کے لئے آئے، مسلم لیگ ن نے نواز شریف وزیراعظم کے نام پر انتخابی مہم چلائی،منشور میں پاکستان کو نواز دو کا نعرہ لگایا، تاہم انتخابی نتائج آنے کے بعد نواز شریف نے اتحادی حکومت بنانے کا اعلان کیاالبتہ نواز شریف کا چہرہ اس روز "بجھا بجھا” سا تھا، اس خطاب کے بعد نواز شریف ابھی تک دوبارہ نظر نہیں آئے، آزاد امیدوار جو ن لیگ میں شامل ہو رہے ہیں ان سے شہباز شریف اور مریم نواز ملاقاتیں کر رہے ہیں، اتحادی جماعتوں سے رابطے شہباز شریف کر رہے ہیں تا ہم نواز شریف منظر سے غائب ہو چکے ہیں،این اے 15 سے نواز شریف الیکشن ہار چکے ہیں تو وہیں این اے 130 میں انکی کامیابی کا نوٹفکیشن آج جاری ہو چکا ہے، الیکشن کے دن ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد نواز شریف نے کہا تھا کہ ہمیں واضح اکثریت چاہئے، تاہم نتائج آنے پر نہ واضح اکثریت ملی اور نہ ہی نواز شریف کو جیت ، لاہور سے ن لیگ سیٹیں ہار گئی، خواجہ سلمان رفیق ہار گئے،روحیل اصغر ہار گئے،ایسے میں نواز شریف انتخابات کے بعد شدید پریشان ہیں، یہ بھی امکان ہے کہ نواز شریف حکومت بننے کے بعد دوبارہ لندن چلے جائیں ،کیونکہ وزیراعظم شہباز شریف بن رہے تو نواز شریف کا کسی قسم کا کوئی کردار حکومت میں نہیں رہے گا ، صدر آصف زرداری کو بنانا ن لیگ کی مجبوری بن جائے گا کیونکہ وزارت عظمیٰ کے لئے ووٹ لے رہے،

    قبل ازیں مسلم لیگ ن نے پنجاب میں اپنی حکومت بنانے کیلیے مریم نواز کو وزیراعلیٰ کا امیدوار نامزد کیا ہے۔مسلم لیگ (ن) کو امید ہے کہ نمبر گیم کی برتری حاصل کر کے وہ مریم نواز کو وزیراعلیٰ بنوانے میں کامیاب ہوجائے گی۔آزاد امیدوار ن لیگ میں شامل ہو رہے ہیں اور پنجاب میں ن لیگ کو واضح اکثریت حاصل ہو چکی ہے.

    واضح رہے کہ سابقہ اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی ہے،اسلام آباد میں آصف علی زرداری، خالد مقبول صدیقی، چوہدری شجاعت حسین اور شہباز شریف نے پریس کانفرنس کی ہے جس میں پی ڈی ایم حکومت کے اتحادیوں نے ایک بار پھر ملکر حکومت بنانے کا اعلان کر دیا ہے،

    میں وزیراعظم کا امیدوار نہیں،کابینہ کا حصہ نہیں البتہ وزیراعظم کوووٹ دیں گے، بلاول

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان