پاکستان مسلم لیگ ن کی 19 آزاد امیدواروں سے بات چل رہی ہے، پی ایم ایل این کے سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ بلاول کے بیان پر شہباز شریف شکریہ ادا کرچکے ہیں، پیپلز پارٹی نے بہت اچھا اقدام اٹھایا ہے۔سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ آئندہ پانچ سال پاکستان کیلئے چیلنگ ہوں گے، لیکن ماضی میں بھی ن لیگ نے ملک کو مشکلات سے نکالا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی ہمیں سپورٹ کرے گی تو ہمیں بھی سپورٹ کرنا ہوگا، پیپلز پارٹی جس کو صدارت کیلئے نامزد کرے گی ہم سپورٹ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کےدوران بہت مشکلات پیش آئیں گی، تاہم، امید ہے پانچ سال تک پیپلز پارٹی حمایت کرے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف جائے گی تو مشکل فیصلے لینا ہوں گے۔افنان اللہ خان کا کہنا تھا کہ وزیرِاعلیٰ پنجاب کا نام جلد سامنے آجائے گا، مریم نواز بھی وزارت اعلی کی امیدوار ہوسکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہماری 19 آزاد امیدواروں سے بات چل رہی ہے۔
Author: صدف ابرار
-

مریم نواز پنجاب میں وزارت اعلیٰ کی امیدوار ہوسکتی ہیں۔ سینٹر افنان اللہ
-
پختونخوا میں انتظامی، مالی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، امیر حیدر ہوتی
عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ انتخابات میں تمام کارکنان، بھائیوں،بہنوں، ماؤں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ہمارا ساتھ دیا۔جلد ہی مردان کے عوام اور ذمہ داران سے تفصیلی نشست ہوگی جس میں موجودہ حالات اور پارٹی کے آئندہ معاملات کے حوالہ سے فیصلے کریں گے۔ امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ اس سے پہلے باچاخان مرکز پشاور میں اجلاس ہوا ہے، وہاں کئے گئے فیصلے پارٹی کے فیصلے ہیں اور انہی فیصلوں کی بنیاد پر آئندہ لائحہ عمل بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میرے استعفے پر کچھ ساتھی اگر خفا ہیں، یا وہ سمجھتے ہیں کہ میں مایوس ہوں تو ایسا کچھ نہیں۔ ایک نئے حوصلہ کے ساتھ سفر کا آغاز کریں گے۔ میں نے رہبرتحریک خان عبدالولی خان (1988)، ملی مشر اسفندیارولی خان اور مور بی بی بیگم نسیم ولی خان (2002ء) کی طرح اصولوں کی بنیاد پر استعفیٰ دیا تھا۔ اے این پی کے رہنما نے مزید کہا کہ مشر اسفندیارولی خان کا اصرار یہ تھا کہ استعفیٰ منظور نہیں کریں گے لیکن میں نے گستاخی کی اور درخواست کی کہ میرا استعفیٰ منظور کیا جائے۔انتخابات میں جو فیصلہ ہوا اس کا نقصان پختونخوا اور پشتون قوم کو ہوگا۔ وفاق، پنجاب، سندھ میں لگ رہا ہے کوئی حکومتی ڈھانچہ ہوگا لیکن پختونخوا میں انتظامی، مالی بحران مزید شدت اختیار کرے گا۔
-

خیبر پختونخوا کا وزیر اعلی کون ہو گا؟
پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق وزیراعلی کے لیے کئی گروپ بن چکے ہیں جس میں سابق اسپیکر اسد قیصر اپنے بھائی عاقب اللہ کو وزیر اعلی بنانے کے خواہاں ہیں، جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان سے علی امین گنڈا پور بھی وزیر اعلٰی بننے کے لیے بھاگ دوڑ کرنے میں مصروف عمل دکھائی دے رہے ہے۔ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ عاطف خان اپنے گروپ سے وزیر اعلٰی خیبر پختونخواہ کی نامزدگی کے خواہشمند ہے جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے پی کے 79 پر نتائج روکنے کے بعد تیمور جھگڑا ایک بار پھر خود بھی اس دوڑ میں شامل ہیں، تیمور سلیم جھگڑا نے الزام عائد کیا کہ ’پشاور کی آٹھ سیٹوں پر پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد اراکین کو منصوبہ بندی کے تحت ہروایا گیا تاکہ ہم حکومت سے باہر ہو جائیں۔لوگوں نے پی ٹی آئی کو اکثریت دی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت ہماری بنے گی کسی اور سے اتحاد کی ضرورت نہیں۔ تاہم وزیراعلٰی کے نام کا فیصلہ عمران خان خود کریں گے۔
جبکہ ہزارہ ڈویژن سے مشتاق غنی اور اکبر ایوب بھی وزیر اعلی کے لیے امیدوار ہیں۔عاطف خان کا کہنا ہے کہ امید کرتے ہیں بانی چیئرمین خود وزیر اعلی نامزد کریں گے اور وہی وزیر اعلی ہونا چاہئے جسکا کردار صاف ہو۔ ذرائع کے مطابق مردان سے ظاہر شاہ طورو ، مالاکنڈ سے شکیل خان اور ایبٹ آباد سے مشتاق غنی کے نام وزارت اعلیٰ کیلئے پارٹی کے حلقوں میں زیرگردش ہیں۔ -

پی ایم ایل این سے حکومت سازی کے حوالے سے کوئی حتمی بات چیت نہیں ہوئی ،خالد مقبول صدیقی
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ملاقات میں حکومت سازی کے حوالے سے بات چیت کی تردید کردی ہے تو دوسری جانب ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ سندھ سے کامیاب آزاد امیدواروں کی ایک بڑی تعداد نے ایم کیو ایم میں شمولیت کیلئے رابطہ کمیٹی سے رابطہ کیا ہے۔ رائے ونڈ میں مسلم لیگ کے قائد محمد نواز شریف اور پارٹی کے صدر محمد شہباز شریف سے ملاقات کے بعد ایک بیان میں خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ اس وقت ملک کی بات کرنا زیادہ اہم ہے۔ ریاست اور جمہوریت کو بچانے کی ضرورت ہے اور اِسی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔خالد مقبول صدیقی نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت ساتھ ہوئی ملاقات کے بعد بتایا کہ لیگی قیادت سے ملاقات خاصی بار آور ثابت ہوئی ہے تاہم اس میں حکومت سازی کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی۔
اسکے علاوہ خالد مقبول صدیقی نے دعویٰ کیا ہے کہ سندھ میں مضبوط سیاسی اتحاد بنانے کی تیاری شروع کردی گئی ہیں اور اس کیلئے نومنتخب آزاد ارکان سندھ اسمبلی کی ایم کیو ایم سے ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ذرائع کےمطابق عام انتخابات میں سندھ سے کامیاب 10 سے زائد آزاد ارکان نے ایم کیو ایم سے رابطہ کیا ہے۔ ایم کیو ایم نومنتخب ارکان سندھ اسمبلی کو مشاورات کے بعد فیصلے سے آگاہ کرے گی۔
ایم کیوایم کی جانب سے بھی نومنتخب آزاد ارکان سے رابطے کی تصدیق کردی گئی ہے۔خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہم نے مسلم لیگ ن کی قیادت سے حکومت سازی پر کوئی بات نہیں کی۔ گِلے شِکوے کرنے کی اطلاع بھی درست نہیں۔ ملک کے حوالے سے خطرات اور اندیشے ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے وفد نے اتوار کی صبح کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں رائے ونڈ میں مسلم لیگ ن کی قیادت سے ملاقات کی تھی۔اس ملاقات کے حوالے سے خبریں آئی تھیں کہ حکومت سازی کے حوالے سے ابتدائی نوعیت کی گفتگو ہوئی ہے۔ عام انتخابات کے بعد کی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کے دوران دونوں جماعتوں کی قیادت نے رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔ -

پاکستان کومشکل سے نکالنے کے لئے ایک حقیقی مینڈیٹ ضروری تھا،صدر مملکت
سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری بیان میں صدر پاکستان کا کہنا تھا کہ میں پاکستان کے عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، خاص طور پر خواتین کو جو شدید مشکلات کے باوجود بڑی تعداد میں باہر نکلیں اور جمہوریت کی مضبوطی کے لیے ووٹ دیا۔عوام کے مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہیے اور اسے تسلیم کرنا چاہیے، صدر عارف علوی نے پُر امن الیکشن کے انعقاد پر قوم کو مبارکباد دے دی۔ووٹنگ کے عمل سے متعلق صدر پاکستان کا کہنا تھا کہ نوجوان بھی بلخصوص داد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ووٹنگ کے عمل میں پرامن طریقے سے حصہ لے کر ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انکا جمہوریت پر یقین، ولولہ اور تعمیر ملت کا عظم انشاللہ تاریخ رقم کرے گا۔ شدید مالی بحران سے نکلنے، مشکل فیصلے کرنے اور ماضی کی تلخیوں کو دور کرنے کے لیے ایک حقیقی مینڈیٹ ضروری تھا جو نظر آرہا ہے۔
I must congratulate the people of Pakistan, specially the women for coming out in huge numbers, withstanding all pressures and standing up for democracy. The youth deserve a special mention, and I praise them for having decided to take charge of the country by participating…
— Dr. Arif Alvi (@ArifAlvi) February 11, 2024
صدر پاکستان نے مزید کہا کہ ہمیں اس پُرجوش جذبے کا جشن منانا چاہیے اور دنیا کو پاکستان کا یہ خوبصورت چہرہ دکھانا چاہیے۔ ہمارے شاندار مستقبل میں میرا اعتماد مضبوط ہوا ہے کیونکہ لوگوں نے کُھل کر بڑی تعداد میں اپنی مرضی کا اظہارکیا ہے۔جبکہ ملک میں جاری سیاسی گرما گرمی پر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کلہ میرے شہریوں کے اس عظیم مینڈیٹ کا احترام ہونا چاہیئے اور اسے کھل کر تسلیم کرنا چاہیئے۔ سیاست دانوں، ان کی جماعتوں اور ہمارے اداروں کو اللہُ کی طرف سے بھیجے ہوئے اس موقع کو قبول کر کے اس کا فائدہ اٹھانا چاہیے۔ بے شک اللہ پاکستان پر بہت مہربان ہے۔ آؤ میرے لوگو، اٹھو اورمتحد ہو جاؤ، سب کچھ جوڑ کر تعمیر نو کا کام شروع کرو۔ دنیا آپ کی منتظر ہے۔
-

ضلع خیبر میں آپریشن ،داعش کا دہشتگرد ہلاک
ضلع خیبر میں سیکیورٹی فورسز نے ہائی پروفائل دہشت گرد کی خفیہ اطلاع پر آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں داعش کے دہشتگرد سورت گل عرف سیف اللّٰہ کو ہلاک کر دیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشت گرد کمانڈر سے اسلحہ، گولا بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا ہے۔ آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشتگرد کمانڈر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انتہائی مطلوب تھا، علاقے میں موجود دوسرے دہشت گرد کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ دہشت گرد کمانڈر شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ، بھتا خوری اور متعدد دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث تھا۔انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کا کہنا ہے کہ علاقہ مکینوں نے آپریشن کو سراہا اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھرپور تعاون کا اظہار کیا۔
-

اسلام آباد موٹروے بند ،شہریوں کو مشکلات کا سامنا
اسلام آباد تا پشاور موٹروے ہر قسم ٹر یفک کے لئے بند کر دیا گیا ہے ، موٹر وے حکام کے مطابق عوام کی بڑی تعداد احتجاج کے باعث ایم 1 موٹر وے ہر قسم کے ٹریفک کے لئے بند کر دی گئی ہے، جس کے باعٹ موٹر وے پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں موجود ہیں اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ، پولیس کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ الیکشن میں دھاندلی کے خلاف احتجاج کے غرض سے عوام کی پڑی تعداد نے روڈ اور ٹریفک کو بند کر دیا ہے ،واضح رہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں تمام سیاسی جماعتوں کی جاب سے احتجاج اور ریلیوں کا سلسلہ جاری ہے جن میں کچھ فائرنگ کے واقعات بھی سامنے آئے ہے،
احتیاط کریں: سڑک بند ہے!
مقام: ایم-1، پشاور ٹول پلازہ (کلومیٹر 498)۔
وجہ: عوامی احتجاج۔— National Highways & Motorway Police (NHMP) (@NHMPofficial) February 11, 2024
-

تاریخی کامیابی پر قوم، فوج، پولیس، الیکشن کمیشن اور انتظامیہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ جان اچکزئی
پاکستان میں انتشار پھیلانا ملک کے دشمنوں کا ایجنڈا ہے۔ کوئی کچھ بھی کہے اور کرے، ہمیں ہر حال میں جمہوریت کی حفاظت کرنی ہے، اداروں کو محفوظ و مستعد رکھنا ہے۔ بلوچستان کے نگراں وزیر اطلاعات جان اچکزئی نے کہا ہے کہ عام انتخابات کے پرامن انعقاد پر تمام ادارے قوم، فوج، پولیس، پیرا ملٹری فورسز، الیکشن کمیشن اور انتظامیہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔بلوچستان کے نگراں وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ انتخابات کے دوران ملک بھر چند ایک معمولی سی انتظامی پیچیدگیاں ہو جاتی ہیں۔ کہیں کہیں انتخابی نتائج میں تھوڑی سی تاخیر بھی ہو جاتی ہے۔ ایسا ہر انتخابات میں ہوتا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ بعض عناصر آگ بھڑکا کر دشمن کے ایجنڈے پر چل رہے ہیں اور یہ لوگ ’را‘ کے ایجنٹ ہیں، کچھ سادہ لوح افراد بھی ان کے جھانسے میں آجائیں گے، اگر ان کے کسی فعل سے جمہوریت کو نقصان پہنچا تو وہ اس میں برابر کے ذمے دار ہوں گے۔جان اچکزئی نے کہا کہ ہمیں جمہوریت، جمہوری اداروں اور ملک کی حفاظت کرنی ہے، ہمیں دشمن کے ارادے خاک میں ملانے ہیں۔بعض عناصر چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی معمولی سی الجھن کو بہانہ بناکر آگے بھڑکائی جائے۔ ایسے لوگ بھارتی خفیہ ادارے کے ایجنٹ ہیں۔ -

غیر حتمی انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد پوسٹل بیلٹ پیپرز کو بھی مجموعی ووٹوں میں شمار کرنے کے لئے قومی و صوبائی اسمبلی کے امیدوار مدعو
پوسٹل بیلٹ پیپرز کے ذریعے حاصل کردہ ووٹوں کی گنتی کیلئے ریٹرننگ افسران نے قومی و صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کو مدعو کر لیا۔الیکشن ایکٹ کے مطابق پوسٹل بیلٹ پیپر کے ذریعے حاصل کردہ ووٹوں کی گنتی کیلئے ہر حلقے کا ریٹرننگ افسر پوسٹل بیلٹ کے حوالے سے امیدواروں کو تحریری طور پر تاریخ اور وقت سے آگاہ کرتا ہے، غیر حتمی انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد پوسٹل بیلٹ پیپرز کو بھی مجموعی ووٹوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ایکٹ کے مطابق پوسٹل بیلٹ پیپرز کے سربمہر لفافے حلقے کے امیدوار یا ان کے نمائندوں کی موجودگی میں کھولے جاتے ہیں، پوسٹل بیلٹ سے حاصل کردہ ووٹوں کو امیدواروں کے ووٹوں میں شامل کیا جائے گا۔
ریٹرننگ افسران پوسٹل بیلٹ کی گنتی کے بعد فارم 48 کے ذریعے الیکشن کمیشن کو آگاہ کرنے کے پابند ہیں، کم مارجن والے حلقوں میں پوسٹل بیلٹ فیصلہ کن ہوسکتا ہے۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ملک بھر سے قومی و صوبائی اسمبلیوں کیلئے 4 لاکھ 49 ہزار 287 پوسٹل بیلٹ پیپرز کی درخواستیں موصول ہوئیں، قومی اسمبلی کیلئے 2 لاکھ 6 ہزار 533 جبکہ صوبائی اسمبلیوں کیلئے 2 لاکھ 42 ہزار 754 درخواستیں دی گئیں۔ای سی پی کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کیلئے 74 ہزار 274 اور سندھ اسمبلی کیلئے 26 ہزار 649 درخواستیں ملیں، خیبرپختونخوا سے سب سے زیادہ 81 ہزار 282 درخواستیں دی گئیں جبکہ بلوچستان سے 60 ہزار 550 درخواستیں موصول ہوئیں۔ذرائع الیکشن کمیشن کے مطابق متعلقہ ریٹرننگ افسران نے پوسٹل بیلٹ پیپرز درخواست گزار ووٹرز کو بھجوائے، ووٹ بذریعہ ڈاک حق رائے دہی استعمال کرنے والوں میں جیلوں کے قیدی بھی شامل ہیں۔
-

لوئر دیر : دوبارہ گنتی جماعت اسلامی کو شکست
لوئر دیر کی کے 17 پر آزاد امیدوار عبیداللہ کی جانب سے دوبارہ گنتی کی درخواست دی گئی تھی. تاہم پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ عبید الرحمن 23 ہزار 229 ووٹ لیکر کامیاب جبکہ جماعت اسلامی کے امیدوار 19 ہزار 990 ووٹ حاصل کرسکے۔اس سے قبل اسی حلقے پر عبید الرحمن نے 22 ہزار 981 اور اعزازالملک نے 25 ہزار 124 ووٹ لئے تھے، جسکے خلاف عبیداللہ نے دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا تھا، واضح رہے کہ خیبر پختونخواہ صوبائی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواران کو واضح برتری حاصل ہے .