Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • کیا  پاکستان پیپلز  پارٹی ،پی ٹی آئی  کے ساتھ چلنے کے انتظار میں بیٹھی تھی؟

    کیا پاکستان پیپلز پارٹی ،پی ٹی آئی کے ساتھ چلنے کے انتظار میں بیٹھی تھی؟

    سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس“ پر جاری ایک پیغام میں لکھا، ’امید تھی کہ عمران خان (نتائج کے بعد) سیاسی جماعتوں سے رابطے کریں گے تاکہ ان کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کے مینڈیٹ کو یقینی بنایا جا سکے اور مسئلے کو حل کیا جاسکے۔ لیکن افسوس، انہوں نے ان سب کو جھڑک دیا۔ آج پھر پی ٹی آئی نے دوسری جماعتوں سے بات نہیں کی۔ یہ اقدام انتہائی تفرقہ انگیز، غیر دانشمندانہ اور خود کو تباہ کرنے والا ہے‘۔
    فرحت اللہ بابر کے اس بیان سے با آسانی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ شاید پیپلز پارٹی کو کہیں کوئی چھوٹی سی امید تھی کہ پی ٹی آئی کی قیادت حکومت سازی کیلئے ان سے رابطہ کرے گی، لیکن ایسا نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا جارہا ہے۔اپنے ایک اور پیغام میں فرحت اللہ بابر نے لکھا کہ ’ووٹرز نے مشکلات کے باوجود پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کو مینڈیٹ دیا، ڈیموکریٹس اس مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہتے تھے، لیکن خان کا کہنا ہے کہ وہ نہ تو پیپلز پارٹی سے بات کریں گے اور نہ ہی مسلم لیگ ن سے، جو کہ حیران کن اور انتہائی مایوس کن ہے۔ مزید یہ کہ پی ٹی آئی میں یقیناً بہت سمجھدار لوگ ہیں‘۔ واضح رہے کہ اس سے قبل سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی کہا ہے کہ اگر پی ٹی آئی ہمارے ساتھ مل کر چلے گی تو یہ ملک کے لئے خوش آئند ہو گا،

  • متحدہ قومی موومنٹ نے شہباز شریف سے حمایت کے بدلے کیا مانگا؟

    متحدہ قومی موومنٹ نے شہباز شریف سے حمایت کے بدلے کیا مانگا؟

    متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے وفد اور صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف کی ملاقات میں ایک بار پھر بلدیاتی نظام سے متعلق آئینی ترمیم کی تجاویز رکھ دیں۔ذرائع کا اس حوالے بتانا ہے کہ شہباز شریف نے آئینی ترمیم پر ایم کیو ایم کے مطالبے پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت سازی کےحوالے سے ملاقات کا ایک اور مرحلہ جلد ہوگا۔ایم کیو ایم وفد کی پارٹی کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کی جبکہ گورنر سندھ کامران ٹیسوری، ڈاکٹر فاروق ستار، مصطفیٰ کمال شامل تھے۔ملاقات میں ن لیگی رہنما اسحاق ڈار، ایاز صادق اور ملک محمد احمد خان بھی موجود تھے۔ملاقات میں سیاسی صورتحال اور حکومت سازی سے متعلق مشاورت اور باہمی تعاون سے آگے بڑھنے پر اتفاق کیا گیا۔

  • نواز شریف کا چوتھی بار وزارت عظمیٰ کا خواب ادھورا، شہباز شریف وزیراعظم نامزد

    نواز شریف کا چوتھی بار وزارت عظمیٰ کا خواب ادھورا، شہباز شریف وزیراعظم نامزد

    اتحادی جماعتوں کی جانب سے واضح حمایت ملنے کے بعد نواز شریف نے شہباز شریف کو وزیراعظم نامزد کر دیا

    نواز شریف جو چوتھی بار وزیراعظم بننے آئے تھے انکا خواب ادھورا رہ گیا، نواز شریف اتحادی وزیراعظم ہوں گے، ن لیگی ترجمان مریم اورنگزیب نے اس بات کی تصدیق کی اور کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف نے وزیراعظم کیلئے شہبازشریف کو نامزد کر دیا ہے نوازشریف نے وزیراعلی پنجاب کے عہدے کےلئے مریم نوازکو نامزد کردیا ہے

    پاکستان کو "نواز”دو، ن لیگ کا ووٹر سے دھوکہ، نواز کی بجائے "شہباز” دے دیا
    نواز شریف لندن سے واپس آئے تو اس وقت سے کہا جا رہا تھا کہ نواز شریف وزیراعظم بننے کے لئے آئے، مسلم لیگ ن نے نواز شریف وزیراعظم کے نام پر انتخابی مہم چلائی،منشور میں پاکستان کو نواز دو کا نعرہ لگایا، تاہم انتخابی نتائج آنے کے بعد نواز شریف نے اتحادی حکومت بنانے کا اعلان کیاالبتہ نواز شریف کا چہرہ اس روز "بجھا بجھا” سا تھا، اس خطاب کے بعد نواز شریف ابھی تک دوبارہ نظر نہیں آئے، آزاد امیدوار جو ن لیگ میں شامل ہو رہے ہیں ان سے شہباز شریف اور مریم نواز ملاقاتیں کر رہے ہیں، اتحادی جماعتوں سے رابطے شہباز شریف کر رہے ہیں تا ہم نواز شریف منظر سے غائب ہو چکے ہیں،این اے 15 سے نواز شریف الیکشن ہار چکے ہیں تو وہیں این اے 130 میں انکی کامیابی کا نوٹفکیشن آج جاری ہو چکا ہے، الیکشن کے دن ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد نواز شریف نے کہا تھا کہ ہمیں واضح اکثریت چاہئے، تاہم نتائج آنے پر نہ واضح اکثریت ملی اور نہ ہی نواز شریف کو جیت ، لاہور سے ن لیگ سیٹیں ہار گئی، خواجہ سلمان رفیق ہار گئے،روحیل اصغر ہار گئے،ایسے میں نواز شریف انتخابات کے بعد شدید پریشان ہیں، یہ بھی امکان ہے کہ نواز شریف حکومت بننے کے بعد دوبارہ لندن چلے جائیں ،کیونکہ وزیراعظم شہباز شریف بن رہے تو نواز شریف کا کسی قسم کا کوئی کردار حکومت میں نہیں رہے گا ، صدر آصف زرداری کو بنانا ن لیگ کی مجبوری بن جائے گا کیونکہ وزارت عظمیٰ کے لئے ووٹ لے رہے،

    قبل ازیں مسلم لیگ ن نے پنجاب میں اپنی حکومت بنانے کیلیے مریم نواز کو وزیراعلیٰ کا امیدوار نامزد کیا ہے۔مسلم لیگ (ن) کو امید ہے کہ نمبر گیم کی برتری حاصل کر کے وہ مریم نواز کو وزیراعلیٰ بنوانے میں کامیاب ہوجائے گی۔آزاد امیدوار ن لیگ میں شامل ہو رہے ہیں اور پنجاب میں ن لیگ کو واضح اکثریت حاصل ہو چکی ہے.

    واضح رہے کہ سابقہ اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی ہے،اسلام آباد میں آصف علی زرداری، خالد مقبول صدیقی، چوہدری شجاعت حسین اور شہباز شریف نے پریس کانفرنس کی ہے جس میں پی ڈی ایم حکومت کے اتحادیوں نے ایک بار پھر ملکر حکومت بنانے کا اعلان کر دیا ہے،

    میں وزیراعظم کا امیدوار نہیں،کابینہ کا حصہ نہیں البتہ وزیراعظم کوووٹ دیں گے، بلاول

    نومئی جیسا واقعہ دوہرانے کی تیاری، سخت ایکشن ہو گا، محسن نقوی کی وارننگ

    آر او کے دفاتر میں دھاندلی کی گئی، پولیس افسران معاون تھے،سلمان اکرم راجہ

    دادا کی پوتی کے نام پر ووٹ مانگنے والے ماہابخاری کا پورا خاندان ہار گیا

    پی ٹی آئی کو مرکز اور دو صوبوں میں موقع نہ دیا گیا تو حکومت نہیں چل سکتی،بابر اعوان

    الیکشن کمیشن، اسلام آباد کے حتمی نتائج جاری، کئی حلقوں کے نتائج رک گئے

    الیکشن کمیشن ، ریحانہ ڈار کی درخواست پر آر آو کو نوٹس جاری،جواب طلب

    این اے 58، ایاز امیر کی درخواست، نوٹس جاری، آر او طلب، نتیجہ روک دیا گیا

    اگر آزاد کی اکثریت ہے تو حکومت بنا لیں،ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائینگے، شہباز شریف

    پی ٹی آئی کا وفاق اور پنجاب میں ایم ڈبلیو ایم ،خیبر پختونخوامیں جماعت اسلامی سے اتحاد کا اعلان

  • مریم نواز پنجاب میں وزارت اعلیٰ کی امیدوار ہوسکتی ہیں۔ سینٹر افنان اللہ

    مریم نواز پنجاب میں وزارت اعلیٰ کی امیدوار ہوسکتی ہیں۔ سینٹر افنان اللہ

    پاکستان مسلم لیگ ن کی 19 آزاد امیدواروں سے بات چل رہی ہے، پی ایم ایل این کے سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ بلاول کے بیان پر شہباز شریف شکریہ ادا کرچکے ہیں، پیپلز پارٹی نے بہت اچھا اقدام اٹھایا ہے۔سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ آئندہ پانچ سال پاکستان کیلئے چیلنگ ہوں گے، لیکن ماضی میں بھی ن لیگ نے ملک کو مشکلات سے نکالا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی ہمیں سپورٹ کرے گی تو ہمیں بھی سپورٹ کرنا ہوگا، پیپلز پارٹی جس کو صدارت کیلئے نامزد کرے گی ہم سپورٹ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کےدوران بہت مشکلات پیش آئیں گی، تاہم، امید ہے پانچ سال تک پیپلز پارٹی حمایت کرے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف جائے گی تو مشکل فیصلے لینا ہوں گے۔افنان اللہ خان کا کہنا تھا کہ وزیرِاعلیٰ پنجاب کا نام جلد سامنے آجائے گا، مریم نواز بھی وزارت اعلی کی امیدوار ہوسکتی ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ ہماری 19 آزاد امیدواروں سے بات چل رہی ہے۔

  • پختونخوا میں انتظامی، مالی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، امیر حیدر ہوتی

    عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ انتخابات میں تمام کارکنان، بھائیوں،بہنوں، ماؤں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ہمارا ساتھ دیا۔جلد ہی مردان کے عوام اور ذمہ داران سے تفصیلی نشست ہوگی جس میں موجودہ حالات اور پارٹی کے آئندہ معاملات کے حوالہ سے فیصلے کریں گے۔ امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ اس سے پہلے باچاخان مرکز پشاور میں اجلاس ہوا ہے، وہاں کئے گئے فیصلے پارٹی کے فیصلے ہیں اور انہی فیصلوں کی بنیاد پر آئندہ لائحہ عمل بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میرے استعفے پر کچھ ساتھی اگر خفا ہیں، یا وہ سمجھتے ہیں کہ میں مایوس ہوں تو ایسا کچھ نہیں۔ ایک نئے حوصلہ کے ساتھ سفر کا آغاز کریں گے۔ میں نے رہبرتحریک خان عبدالولی خان (1988)، ملی مشر اسفندیارولی خان اور مور بی بی بیگم نسیم ولی خان (2002ء) کی طرح اصولوں کی بنیاد پر استعفیٰ دیا تھا۔ اے این پی کے رہنما نے مزید کہا کہ مشر اسفندیارولی خان کا اصرار یہ تھا کہ استعفیٰ منظور نہیں کریں گے لیکن میں نے گستاخی کی اور درخواست کی کہ میرا استعفیٰ منظور کیا جائے۔انتخابات میں جو فیصلہ ہوا اس کا نقصان پختونخوا اور پشتون قوم کو ہوگا۔ وفاق، پنجاب، سندھ میں لگ رہا ہے کوئی حکومتی ڈھانچہ ہوگا لیکن پختونخوا میں انتظامی، مالی بحران مزید شدت اختیار کرے گا۔

  • خیبر پختونخوا کا وزیر اعلی کون ہو گا؟

    خیبر پختونخوا کا وزیر اعلی کون ہو گا؟

    پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق وزیراعلی کے لیے کئی گروپ بن چکے ہیں جس میں سابق اسپیکر اسد قیصر اپنے بھائی عاقب اللہ کو وزیر اعلی بنانے کے خواہاں ہیں، جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان سے علی امین گنڈا پور بھی وزیر اعلٰی بننے کے لیے بھاگ دوڑ کرنے میں مصروف عمل دکھائی دے رہے ہے۔ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ عاطف خان اپنے گروپ سے وزیر اعلٰی خیبر پختونخواہ کی نامزدگی کے خواہشمند ہے جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے پی کے 79 پر نتائج روکنے کے بعد تیمور جھگڑا ایک بار پھر خود بھی اس دوڑ میں شامل ہیں، تیمور سلیم جھگڑا نے الزام عائد کیا کہ ’پشاور کی آٹھ سیٹوں پر پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد اراکین کو منصوبہ بندی کے تحت ہروایا گیا تاکہ ہم حکومت سے باہر ہو جائیں۔لوگوں نے پی ٹی آئی کو اکثریت دی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت ہماری بنے گی کسی اور سے اتحاد کی ضرورت نہیں۔ تاہم وزیراعلٰی کے نام کا فیصلہ عمران خان خود کریں گے۔
    جبکہ ہزارہ ڈویژن سے مشتاق غنی اور اکبر ایوب بھی وزیر اعلی کے لیے امیدوار ہیں۔عاطف خان کا کہنا ہے کہ امید کرتے ہیں بانی چیئرمین خود وزیر اعلی نامزد کریں گے اور وہی وزیر اعلی ہونا چاہئے جسکا کردار صاف ہو۔ ذرائع کے مطابق مردان سے ظاہر شاہ طورو ، مالاکنڈ سے شکیل خان اور ایبٹ آباد سے مشتاق غنی کے نام وزارت اعلیٰ کیلئے پارٹی کے حلقوں میں زیرگردش ہیں۔

  • پی ایم ایل این سے حکومت سازی کے حوالے سے  کوئی حتمی بات چیت نہیں ہوئی ،خالد مقبول صدیقی

    پی ایم ایل این سے حکومت سازی کے حوالے سے کوئی حتمی بات چیت نہیں ہوئی ،خالد مقبول صدیقی

    متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ملاقات میں حکومت سازی کے حوالے سے بات چیت کی تردید کردی ہے تو دوسری جانب ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ سندھ سے کامیاب آزاد امیدواروں کی ایک بڑی تعداد نے ایم کیو ایم میں شمولیت کیلئے رابطہ کمیٹی سے رابطہ کیا ہے۔ رائے ونڈ میں مسلم لیگ کے قائد محمد نواز شریف اور پارٹی کے صدر محمد شہباز شریف سے ملاقات کے بعد ایک بیان میں خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ اس وقت ملک کی بات کرنا زیادہ اہم ہے۔ ریاست اور جمہوریت کو بچانے کی ضرورت ہے اور اِسی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔خالد مقبول صدیقی نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت ساتھ ہوئی ملاقات کے بعد بتایا کہ لیگی قیادت سے ملاقات خاصی بار آور ثابت ہوئی ہے تاہم اس میں حکومت سازی کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی۔
    اسکے علاوہ خالد مقبول صدیقی نے دعویٰ کیا ہے کہ سندھ میں مضبوط سیاسی اتحاد بنانے کی تیاری شروع کردی گئی ہیں اور اس کیلئے نومنتخب آزاد ارکان سندھ اسمبلی کی ایم کیو ایم سے ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ذرائع کےمطابق عام انتخابات میں سندھ سے کامیاب 10 سے زائد آزاد ارکان نے ایم کیو ایم سے رابطہ کیا ہے۔ ایم کیو ایم نومنتخب ارکان سندھ اسمبلی کو مشاورات کے بعد فیصلے سے آگاہ کرے گی۔
    ایم کیوایم کی جانب سے بھی نومنتخب آزاد ارکان سے رابطے کی تصدیق کردی گئی ہے۔خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہم نے مسلم لیگ ن کی قیادت سے حکومت سازی پر کوئی بات نہیں کی۔ گِلے شِکوے کرنے کی اطلاع بھی درست نہیں۔ ملک کے حوالے سے خطرات اور اندیشے ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے وفد نے اتوار کی صبح کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں رائے ونڈ میں مسلم لیگ ن کی قیادت سے ملاقات کی تھی۔اس ملاقات کے حوالے سے خبریں آئی تھیں کہ حکومت سازی کے حوالے سے ابتدائی نوعیت کی گفتگو ہوئی ہے۔ عام انتخابات کے بعد کی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کے دوران دونوں جماعتوں کی قیادت نے رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔

  • پاکستان کومشکل  سے نکالنے کے لئے  ایک حقیقی مینڈیٹ ضروری تھا،صدر مملکت

    پاکستان کومشکل سے نکالنے کے لئے ایک حقیقی مینڈیٹ ضروری تھا،صدر مملکت

    سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری بیان میں صدر پاکستان کا کہنا تھا کہ میں پاکستان کے عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، خاص طور پر خواتین کو جو شدید مشکلات کے باوجود بڑی تعداد میں باہر نکلیں اور جمہوریت کی مضبوطی کے لیے ووٹ دیا۔عوام کے مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہیے اور اسے تسلیم کرنا چاہیے، صدر عارف علوی نے پُر امن الیکشن کے انعقاد پر قوم کو مبارکباد دے دی۔ووٹنگ کے عمل سے متعلق صدر پاکستان کا کہنا تھا کہ نوجوان بھی بلخصوص داد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ووٹنگ کے عمل میں پرامن طریقے سے حصہ لے کر ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انکا جمہوریت پر یقین، ولولہ اور تعمیر ملت کا عظم انشاللہ تاریخ رقم کرے گا۔ شدید مالی بحران سے نکلنے، مشکل فیصلے کرنے اور ماضی کی تلخیوں کو دور کرنے کے لیے ایک حقیقی مینڈیٹ ضروری تھا جو نظر آرہا ہے۔

    صدر پاکستان نے مزید کہا کہ ہمیں اس پُرجوش جذبے کا جشن منانا چاہیے اور دنیا کو پاکستان کا یہ خوبصورت چہرہ دکھانا چاہیے۔ ہمارے شاندار مستقبل میں میرا اعتماد مضبوط ہوا ہے کیونکہ لوگوں نے کُھل کر بڑی تعداد میں اپنی مرضی کا اظہارکیا ہے۔جبکہ ملک میں جاری سیاسی گرما گرمی پر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کلہ میرے شہریوں کے اس عظیم مینڈیٹ کا احترام ہونا چاہیئے اور اسے کھل کر تسلیم کرنا چاہیئے۔ سیاست دانوں، ان کی جماعتوں اور ہمارے اداروں کو اللہُ کی طرف سے بھیجے ہوئے اس موقع کو قبول کر کے اس کا فائدہ اٹھانا چاہیے۔ بے شک اللہ پاکستان پر بہت مہربان ہے۔ آؤ میرے لوگو، اٹھو اورمتحد ہو جاؤ، سب کچھ جوڑ کر تعمیر نو کا کام شروع کرو۔ دنیا آپ کی منتظر ہے۔

  • ضلع خیبر میں آپریشن ،داعش کا دہشتگرد ہلاک

    ضلع خیبر میں آپریشن ،داعش کا دہشتگرد ہلاک

    ضلع خیبر میں سیکیورٹی فورسز نے ہائی پروفائل دہشت گرد کی خفیہ اطلاع پر آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں داعش کے دہشتگرد سورت گل عرف سیف اللّٰہ کو ہلاک کر دیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشت گرد کمانڈر سے اسلحہ، گولا بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا ہے۔ آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشتگرد کمانڈر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انتہائی مطلوب تھا، علاقے میں موجود دوسرے دہشت گرد کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ دہشت گرد کمانڈر شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ، بھتا خوری اور متعدد دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث تھا۔انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کا کہنا ہے کہ علاقہ مکینوں نے آپریشن کو سراہا اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھرپور تعاون کا اظہار کیا۔

  • اسلام آباد موٹروے بند ،شہریوں کو مشکلات کا سامنا

    اسلام آباد موٹروے بند ،شہریوں کو مشکلات کا سامنا

    اسلام آباد تا پشاور موٹروے ہر قسم ٹر یفک کے لئے بند کر دیا گیا ہے ، موٹر وے حکام کے مطابق عوام کی بڑی تعداد احتجاج کے باعث ایم 1 موٹر وے ہر قسم کے ٹریفک کے لئے بند کر دی گئی ہے، جس کے باعٹ موٹر وے پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں موجود ہیں اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ، پولیس کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ الیکشن میں دھاندلی کے خلاف احتجاج کے غرض سے عوام کی پڑی تعداد نے روڈ اور ٹریفک کو بند کر دیا ہے ،واضح رہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں تمام سیاسی جماعتوں کی جاب سے احتجاج اور ریلیوں کا سلسلہ جاری ہے جن میں کچھ فائرنگ کے واقعات بھی سامنے آئے ہے،