Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • الیکشن کمیشن نے سب کے لئے لیول پلینگ فیلڈ مہیا نہیں کی،سراج الحق

    الیکشن کمیشن نے سب کے لئے لیول پلینگ فیلڈ مہیا نہیں کی،سراج الحق

    الیکشن کمیشن نے ن لیگ، پی پی اور ایم کیو ایم کو سپورٹ کیا، سب کے لیے لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں تھی، یہ ووٹرز کے ساتھ زیادتی تھی جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے منصورہ میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہااُنہوں نے کہا کہ جعلی الیکشن کے نتیجےمیں جو حکومت بنے گی وہ بھی جعلی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کروانےکی آئینی ذمہ داری پوری کرنےمیں ناکام ہوا، الیکشن نتائج جعلی اور دھاندلی زدہ ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ تحقیقات کے لیے آزاد اور غیر جانبدار کمیشن قائم کیا جائے، کراچی میں جماعت اسلامی کا مینڈیٹ چرایا گیا، تمام آزاد سرویز کے مطابق کراچی میں جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں کے درمیان مقابلہ تھا، ایم کیو ایم کہیں موجود نہیں تھی۔


    سراج الحق نے کہا کہ عالمی اداروں اور میڈیا نے بھی الیکشن پر سوالات اٹھا دیے، پولرائزیشن بڑھا دی گئی، انتخابات سے مزید عدم استحکام ہوگا۔اُنہوں نے کہا کہ عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالتے ہوئے ایم کیو ایم کو جتوایا گیا، کراچی کے عوام اس جعل سازی کو قبول نہیں کریں گے، جماعت اسلامی اس کے خلاف بھرپور احتجاج کر رہی ہے، الیکشن کمیشن نے نتائج کو درست نہ کیا تو احتجاج اس کے ہیڈ آفس اسلام آباد تک بڑھا سکتے ہیں۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ آزاد امیدوار بھی ہمارے ساتھ مظاہرے میں شریک ہونا چاہیں تو خوش آمدید کہیں گے۔

  • لاڑکانہ کے علاقے نوڈیرو میں انتخابی بینرزپھاڑنےپر دو گروپوں میں فائرنگ،6 افراد جاں بحق

    لاڑکانہ کے علاقے نوڈیرو میں انتخابی بینرزپھاڑنےپر دو گروپوں میں فائرنگ،6 افراد جاں بحق

    لاڑکانہ کے علاقے نوڈیرو میں انتخابی بینرزپھاڑنےپرجی ڈی اےاورپیپلزپارٹی کےحمایتیوں میں جھگڑاہوگیا،فائرنگ سے6 افرادجاں بحق جبکہ تین زخمی ہوگئے۔
    پولیس کےمطابق بینرزپھاڑنےپر دوگروپوں میں لڑائی پرتشددواقعہ میں تبدیل ہوگئی، دونوں گروپوں کی جانب سے فائرنگ اور لاٹھیوں کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔جس کےنتیجےمیں 3 افرادزخمی ہوگئے۔لاڑکانہ میں پیپلزپارٹی اورجی ڈی اےکےحمایتیوں میں فائرنگ کےنتیجےمیں پولیس اہلکارسمیت 6 افرادجاں بحق اورتین زخمی ہوگئے،وزیراعلیٰ نےآئی جی سےرپورٹ طلب کرلی۔لاڑکانہ کے علاقے نوڈیرو میں انتخابی بینرزپھاڑنےپرجی ڈی اےاورپیپلزپارٹی کےحمایتیوں میں جھگڑاہوگیا،فائرنگ سے6 افرادجاں بحق جبکہ تین زخمی ہوگئے .پولیس کےمطابق بینرزپھاڑنےپر دوگروپوں میں لڑائی پرتشددواقعہ میں تبدیل ہوگئی، دونوں گروپوں کی جانب سے فائرنگ اور لاٹھیوں کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔جس کےنتیجےمیں چھ افرادزخمی ہوگئے۔
    پولیس کےمطابق زخمیوں کوتشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیاگیاجس میں اےایس آئی سمیت تین افرادزخموں کی تاب نہ لاتےہوئےہسپتال میں دم توڑگئے،جاں بحق افرادمیں اےایس آئی سلطان شاہ،شہری عمران ڈاھانی اورحسن چانڈیوشامل ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا سلسلہ رات دیر سے شروع ہوا اور علاقہ میدان جنگ بن گیا،علاقے میں تاحال صورتحال کشیدہ ہے، پولیس کی بھاری نفری علاقے میں پہنچ گئی ہے اور حالات پر قابو پانے کی کوشش کی جارہی ہے۔نگراں وزیراعلیٰ سندھ جسٹس(ر)مقبول باقرنےلاڑکانہ میں فائرنگ کےدوران پولیس اہلکارسمیت تین افرادکےقتل پرافسوس کااظہارکرتےہوئے،ہلاکتوں کانوٹس لیااورآئی جی سندھ سےفوری طورپررپورٹ طلب کرلی۔

  • پنجاب میں دھاندلی کا تماشہ سلمان اکرم راجہ نے شروع کیا ،عظمیٰ بخاری

    پنجاب میں دھاندلی کا تماشہ سلمان اکرم راجہ نے شروع کیا ،عظمیٰ بخاری

    پنجاب کے تما م 100 فیصد رزلٹ دیکھ کر پی ٹی آئی نے شور مچا نا شروع کیا اور دھا ندلی کے تماشے کی ابتدا سلمان اکرم راجہ نے کی، عظمیٰ بخاری نے کہا کہ الیکشن ٹربیونلز کے اندر ہر امیدوار کو ثبوت دینے ہوتے ہیں، جسے اعتراض ہے الیکشن ٹربیونل جا کر بات کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن ذمےدار پارٹی ہے، ہم جھوٹ اور فساد پر یقین نہیں رکھتے، پنجاب میں مسلم لیگ ن واحد اکثریتی پارٹی ہے، مسلم لیگ ن بغیر سپورٹ تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے۔ن لیگی رہنما نے کہا کہ ایک شخص اور ایک فتنے کے لیے پاکستان کا امن تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، قانون ہاتھ میں لینا اور دوبارہ سے فتنہ فساد کی کوشش قبول نہیں کی جائے گی۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ قومی اسمبلی میں بھی مسلم لیگ ن اکثریتی پارٹی ہے، نواز شریف نے شہباز شریف کے ذمے لگایا ہے وہ پارٹیز سے بات کر رہے ہیں۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پاکستان کو مستحکم کرنے اور آگے بڑھانے کی ضرورت ہے، تمام سیاسی جماعتوں کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا، شہباز شریف کی سربراہی میں ن لیگ کی کمیٹی کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں اس وقت بیٹھی ہیں اور بات کر رہی ہیں۔مسلم لیگ ن کی رہنما عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ آزاد امیدواروں کو پارٹی نہیں کہا جاسکتا۔

  • الیکشن کمیشن نے تمام  صوبائی اسمبلیوں کے  نشستوں کے نتائج جاری کر دئے

    الیکشن کمیشن نے تمام صوبائی اسمبلیوں کے نشستوں کے نتائج جاری کر دئے

    غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق بلوچستان اسمبلی میں پیپلز پارٹی اور جمیعت علمائے اسلام پاکستان 11، 11 اور پاکستان مسلم لیگ ن 10 نشستوں پر کامیاب ہوئی ہے۔بلوچستان اسمبلی میں آزاد امیدوار 6، بلوچستان عوامی پارٹی 4، نیشنل پارٹی 3 اور عوامی نیشنل پارٹی 2 نشستوں پر کامیاب ہوئی۔ بلوچستان نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی، بی این پی عوامی اور حق دو تحریک نے 1، 1 نشست حاصل کی۔بلوچستان اسمبلی کی 51 تمام نشستوں کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج سامنے آ گئے۔ اسی طرح الیکشن کمیشن نے پنجاب اسمبلی کی تمام 296 نشستوں کے نتائج کا اعلان کردیا۔8 فروری کو ہونے والے انتخابات میں پنجاب اسمبلی کی 138 نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے ہیں جبکہ مسلم لیگ ن 137 نشستوں پر کامیاب ہوئی ہے۔پیپلز پارٹی 10 اور پاکستان مسلم لیگ پنجاب اسمبلی کی 8 نشستوں پر کامیاب ہوئی ہے۔استحکام پاکستان پارٹی، مسلم لیگ ضیاء اور تحریک لبیک پنجاب اسمبلی کی ایک ایک نشست پر کامیاب ہوئی ہیں۔ اسی طرح الیکشن کمیشن نے خیبرپختونخوا اسمبلی کی 115 میں سے 112 نشستوں کے غیرحتمی نتائج جاری کردیے ہیں، پی ایس 22 اور پی ایس 91 پر انتخابات ملتوی کردیے گئے ہیں جبکہ پی ایس 90 کے نتائج کو روکا گیا ہے۔غیر حتمی نتائج کے مطابق خیبرپختونخوا میں آزاد امیدواروں نے 90 نشستیں جیت لی ہیں، جمعیت علمائے اسلام (پاکستان) کے امیدوار 7 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ مسلم لیگ (ن) 5 نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے، پیپلزپارٹی 4 نشستوں پر کامیاب ہوئی،جماعت اسلامی 3، تحریک انصاف پارلیمنٹیرینز 2 اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) ایک نشست پر کامیابی حاصل کرسکی۔سندھ اسمبلی کی 130 نشستوں میں سے 129 نشستوں کے غیرحتمی نتائج جاری کردیے ہیں جبکہ حلقہ پی ایس 18 گھوٹکی کا نتیجہ روک لیا گیا ہے جس پر 15 فروری کو دوبارہ انتخابات ہوں گے۔غیر حتمی نتائج کے مطابق سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی (پی پی پی) 84 نشستوں کے ساتھ صوبے کی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ایم کیو ایم پاکستان 28 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، آزاد امیدواروں نے 13 نشستیں حاصل کیں، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) اور جماعت اسلامی 2، 2 نشستوں پر کامیاب قرار پائیں۔

  • پولیس موبائل  رات گئے گھر پر حملہ آور ہوئیں ، خرم شیر زمان

    پولیس موبائل رات گئے گھر پر حملہ آور ہوئیں ، خرم شیر زمان

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما خرم شیر زمان نے کہا ہے کہ گزشتہ رات پولیس موبائلیں گھر پر حملہ کرنے کے لئے آئے تھے،کراچی میں ڈیفنس فیز 6 میں گھر پر پولیس چھاپے کے معاملے پر خرم شیر زمان نے بتایا کہ رات ڈھائی بجے 4 موبائلیں گھر پر آئی تھیں۔پی ٹی آئی رہنما نے بتایا کہ شور مچنے پر پولیس والے واپس چلے گئے، موبائلوں میں دس سے بارہ سادہ لباس والے اہلکار تھے اور باقی پولیس والے تھے۔انہوں نے بتایا کہ گھر کے باہر لگے سی سی ٹی وی کیمرے کو بھی توڑا گیا ہے۔خرم شیر زمان نے کہا کہ اہلیہ نے اوپر سے شور مچایا کہ کیوں آئے ہو اور کیا چاہیے، تھوڑی دیر بعد محلے والے باہر نکل آئے اور شور مچنے پر پولیس اہلکار واپس چلے گئے۔واضح رہے کہ این اے 241 کراچی ساؤتھ 3 کے تمام 234 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی نتیجے کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار مرزا اختیار بیگ 52456 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے جبکہ آزاد امیدوار خرم شیر زمان 48610 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے تھے۔

  • قومی اسمبلی کے تمام حلقوں کے نتائج موصول

    قومی اسمبلی کے تمام حلقوں کے نتائج موصول

    الیکشن کمیشن کو قومی اسمبلی کے تمام 266 حلقوں کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج موصول ہوگئے ۔ آزار امید وار 101 نشستوں کے ساتھ سر فہرست ہیں جبکہ مسلم لیگ ن 75دوسرے اور پیپلز پارٹی 54 نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے جبکہ ایم کیو ایم 17 ,جے یو آئی 4,پاکستان مسلم لیگ ق 3 نشستوں پر کامیاب ہوئے ہیں۔ استحکامِ پاکستان اور بلوچستان نیشنل پارٹی 2 دو نشستوں پر کامیاب ہوئی جبکہ نیشنل پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی، پختونخوا نیشنل عوامی پارٹی،مسلم لیگ ضیا، ایم ڈبلیو ایم ایک ایک نشست جیت سکے۔ این اے 88 خوشاب کا نتیجہ روک دیا گیا، این اے باجوڑ کی8 پولنگ ملتوی کی گئی۔
    https://www.elections.gov.pk/national-assembly

  • پاکستان کے فضائی حدود  مکمل طور پر محفوظ ہے، پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی

    پاکستان کے فضائی حدود مکمل طور پر محفوظ ہے، پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی

    پاکستان کی فضائی حدود ہر قسم کے فلائٹ آپریشنز کے لیے "محفوظ” ہے، پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اتوار کو کہا کہ اس ہفتے ایک یورپی ایئر سیفٹی ایجنسی کی جانب سے کراچی اور لاہور میں کم اونچائی پر پرواز کرنے والے طیاروں کو "مسلسل ممکنہ خطرے” کے بارے میں خبردار کیا گیا تھا۔ تاہم 28 جولائی کو، یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے ایک ایڈوائزری جاری کی جس میں کہا گیا کہ پاکستان میں "تشدد مخالف غیر ریاستی ایکٹر گروپس کی تصدیق شدہ اینٹی ایوی ایشن ہتھیار” کی موجودگی کا مطلب ہے کہ فلائٹ سے نیچے کی اونچائی پر فلائٹ آپریشنز کو بہت زیادہ خطرہ ہے۔ ایڈوائزری میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ کشمیر کا بین الاقوامی سطح پر متنازعہ خطہ علاقائی تنازعہ کا مرکز بنا ہوا ہے، اس نے مزید کہا کہ خطے میں فوجی کارروائیاں شہری ہوا بازی کے لیے ممکنہ خطرہ ہیں اور فوجی تنازعہ بڑھنے کی صورت میں غلط شناخت کے معاملات کا باعث بن سکتے ہیں۔
    پی سی اے اے کے ترجمان سیف اللہ نے ایڈوائزری کو ایک طرف رکھتے ہوئے کہا کہ ای اے ایس اے نے ماضی میں اکثر اس طرح کی وارننگ جاری کی ہیں۔
    اس حوالے سے سیف اللہ نے عرب نیوز کو بتایا، ’’اگر ہم پاکستان کو دیکھیں تو یہاں تمام طیارے اڑ رہے ہیں۔ "اس وقت ایسا کوئی خطرہ نہیں ہے جس کی وجہ سے ہم ہوائی جہاز گراؤنڈ کریں کیونکہ اگر کوئی خطرہ ہوتا تو ہم سب سے پہلے انہیں گراؤنڈ کرتے۔” انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں، ہماری فضائی حدود ہر قسم کے فلائٹ آپریشنز کے لیے محفوظ ہے.تاہم پاکستان کی قومی ایئرلائن ای اے ایس اے اور یورپی کمیشن کی جانب سے عائد کردہ پروازوں پر پابندی کا سامنا کر رہی ہے۔ یہ پابندی مئی 2020 میں کراچی میں ہونے والے ہوائی حادثے کے بعد نافذ کر دی گئی تھی ، جس کی وجہ ملک کے سابق وزیر ہوا بازی میں سے ایک کی جانب سے قومی ایئر لائن کے اندر لائسنس کے مسائل کو قرار دیا گیا تھا۔EASA کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایجنسی پرواز پر پابندی کے حوالے سے PCAA کے ساتھ "تعمیری بات چیت” کر رہی ہے۔

  • سیاسی جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ،مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کی رہائش گاہ پر سیاسی سرگرمیاں

    سیاسی جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ،مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کی رہائش گاہ پر سیاسی سرگرمیاں

    مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کی آج چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات کا امکان ہے۔حکومت سازی کے لیے مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کی رہائش گاہ پر سیاسی سرگرمیاں شروع ہو گئیں۔ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف ظہور الہٰی روڈ پر چوہدری شجاعت کی رہائش گاہ آئیں گے۔نواز شریف اور چوہدری شجاعت حسین کی ملاقات دوپہر 2 بجےمتوقع ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف چوہدری شجاعت سے وفاق اور پنجاب میں حکومت سازی کے لیے تعاون کی درخواست کریں گے۔خیال رہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف سے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے چار رکنی وفد کی ملاقات جاری ہے،
    اسکے علاوہ سابق صدر آصف علی زرداری اور پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کے درمیان بھی آج ملاقات ہو گی جس میں حکومت سازی کے حوالے سے بات چیت ہو گی۔حکومت سازی کے لیے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے بھی پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری سے گزشتہ روز ملاقات کی تھی اور دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔

  • پی ٹی آئی رہنما بابر اعوان نے 9 فروری  کے انتخابی نتائج ماننے سے انکار کر دیا

    پی ٹی آئی رہنما بابر اعوان نے 9 فروری کے انتخابی نتائج ماننے سے انکار کر دیا

    پاکستان کی تاریخ کے سب سے متنازع الیکشن ہوئے، الیکشن کمیشن کے باہر بابر اعوان کی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دو سال تک پری پول دھاندلی ہوتی رہی پھر یحیی خان ماڈل آیا، انہوں نے کہا کہ میں سرگودھا اور فیصل آباد سے امیدواروں کے نتائج چیلنج کرتا ہوں، ہمارے امیدوار ان تمام حلقوں میں جیتے ہیں، بابر اعوان
    نے مزید کہا کہ نواز شریف نو فروری سے اب تک بلٹ کے زور پر جیتنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ بانی پی ٹی آئی الیکشن میں بھاری اکثریت سے جیتے ہیں، بابر اعوان
    نے کہا کہ الیکشن میں ہم 179 نشستوں پر اکثریت پر ہیں، بابر اعوان ہم 9 فروری کے فیصلے کو نہیں مانتے، بابر اعوان نے کہا کہ آسٹریلیا ، امریکہ اور برطانیہ نے 9 فروری کو مسترد کیا ہے، انہوں نے کہا کہ بینگن جیت گیا لندن سے آیا شیر ہار گیا،

  • پاکستان پیپلز پارٹی نے بلاول بھٹو زرداری کے لیے وزارت عظمیٰ کا مطالبہ کر دیا

    پاکستان پیپلز پارٹی نے بلاول بھٹو زرداری کے لیے وزارت عظمیٰ کا مطالبہ کر دیا

    ن لیگ کے ساتھ مل کر اتحادی حکومت بنانے کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی نے بلاول بھٹو زرداری کے لیے وزارت عظمیٰ کا مطالبہ کر دیا۔دی نیوز کے مطابق کو نواز لیگ کے ذرائع سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے سابق وزیراعظم شہباز شریف سے سابق صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو نے جمعہ کی رات کو ملاقات کی اور مستقبل میں اتحادی حکومت بنانے پر گفتگو کی۔ہفتہ کو پارٹی ذرائع نے نواز لیگ کے رہنماؤں سے وفاق اور پنجاب میں حکومت سازی کے لیے مختلف آپشنز پر غور کیا۔ اس حوالے سے نواز لیگ کی قیادت نے ہفتہ کو ایک اجلاس بھی منعقد کیا جس کی صدارت شہباز شریف نے کی تھی۔اس اجلاس میں سینیٹر اسحٰق ڈار، خواجہ سعد رفیق، سردار ایاز صادق، مریم اورنگزیب، ملک محمد احمد خان، سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، عطااللہ تارڑ، خواجہ عمران نذیر اور دیگر نے شرکت کی۔
    ذرائع نے بتایا کہ شہباز شریف نے اپنی پارٹی کے ارکان کو بتایا کہ سابق صدر آصف زرداری نے بات کا آغاز ہی بلاول بھٹو کو وزیراعظم بنانے اور مرکزی وزارتی پورٹ فولیوز دینے کے مطالبے سے کیا۔ذرائع کے مطابق شہباز شریف نے پارٹی رہنماؤں کو مزید بتایا کہ اس کے بدلے میں آصف علی زرداری نے نواز لیگ کو پنجاب میں حکومت سازی کے لیے حمایت دینے کی پیشکش کی۔ نواز لیگ کے صدر نے حکومت سازی کے متعدد آپشنز پر بھی گفتگو کی۔یہ بھی زیر غور آیا کہ اگرچہ نواز لیگ ملک میں ’سب سے بڑی‘ سیاسی جماعت کی حیثیت سے سامنے آئی ہے لیکن یہ اب بھی اپنے تئیں حکومت نہیں بنا سکتی اور اسے دیگر پارٹیوں یا آزاد ارکان کی ضرورت ہوگی۔