پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے پیسے بانٹ کر کسی کا شناختی کارڈ اپنے پاس رکھنا بد ترین دھاندلی ہے، انہوں نے کہا کہ 8 فروری کو عوام اپنے ووٹ سے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔پارٹی سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آج کچھ سنجیدہ معاملات پر بات کرنا چاہتا ہوں، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ تین دن پہلے آئی ہے، نوازشریف کے دور میں کرپشن انڈیکس میں کمی آئی، نوازشریف کے دور میں کرپشن کو شدید ضرب لگی۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور میں کرپشن انڈیکس میں اضافہ ہوا، پی ٹی آئی دور میں چینی کا بحران پیدا کر کے اربوں کی کرپشن کی گئی، بانی پی ٹی آئی نے ایک رات کہا کہ چینی کرپشن کیخلاف انکوائری شروع کر دی ہے، بانی پی ٹی آئی نے ایک کروڑ نوکریاں دینی تھیں۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف کے دور میں اربوں کھربوں کی سرمایہ کاری ہوئی، اتنی بڑی سرمایہ کاری کے باوجود کرپشن میں کمی آئی، بانی پی ٹی آئی خود کہتے تھے جہاں کرپشن کم ہوتی ہے وہاں کا حکمران ایماندار ہوتا ہے، جہاں کرپشن ہو وہاں کا حکمران چور ہوتا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ آج کچھ سنجیدہ معاملات پر بات کرناچاہتا ہوں، الیکشن میں عوام بیلٹ باکس کے ذریعے ووٹ سے فیصلہ کریں گے، انتخابی مہم آخری لمحات میں ہے، عوام کے فیصلے کاتعلق پاکستان کے مستقبل سے ہوگا، کروڑوں بچے اور بچیاں الیکشن میں ووٹ ڈالیں گے، نوجوانوں کے مستقبل کافیصلہ آئندہ انتخابات سےہے۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 2018 میں بدترین دھاندلی اور جادو ٹونے سے حکومت بنی، دھاندلی زدہ حکومت نے ہم پر بدترین کرپشن کے الزامات لگائے، ہم پر موٹروے بنانے پر الزامات لگائے گئے، کوئی بھی نواز شریف پر کرپشن کے الزامات ثابت نہیں کرسکا، آج موٹروے سے لاکھوں لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔صدر مسلم لیگ ن کا کہنا تھا کہ نوازشریف کے دور میں کھاد سستی دی گئی اور ٹیوب ویل پر سبسڈی دی گئی، مسلم لیگ ن نے ہر دور میں عوام کی خدمت کی، پی ڈی ایم کی حکومت میں کرپشن انڈیکس 140 سے کم ہو کر 133 پر آگیا جس کا کریڈٹ 13 جماعتوں کو جاتا ہے، ایک سالہ اتحادی حکومت کی کارکردگی کا فیصلہ عوام نے کرنا ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت میں چور ڈاکو کا ورد کر کے طوفان بدتمیزی برپا کیا گیا، کچھ قوتوں نے بانی پی ٹی آئی کا ساتھ دے کر انہیں بڑھاوا دیا، ٹرانسپیرنسی رپورٹ کے مطابق 2018 کی حکومت میں پاکستان میں کرپشن بڑھی۔
Author: صدف ابرار
-

لاہور: کرپشن میں کمی کا کریڈٹ 13 جماعتوں کو جاتا ہے،شہباز شریف
-

لاہور : حلقہ پی پی 160 پر حملہ،شیری رحمن کی مذمت، تاج حیدر کا چیف الیکشن کمشنر کو خط ،کاروائی کا مطالبہ
نائب صدر پیپلز پارٹی و سینیٹر شیری رحمان نےحلقہ پی پی 160 میں پیپلز پارٹی کے الیکشن آفس پر حملے کی مذمت کی ہے۔ جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے الیکشن سیل کے انچارج تاج حیدر نے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھ دیا۔ خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ ن لیگ کے امیدوار اور غنڈوں نے پی پی 160 میں پیپلز پارٹی کے دفتر پر حملہ کیا، عطا تارڑ غنڈوں کے ہمراہ مصباح الرحمان کے الیکشن آفس میں گھس گئے۔ خط کا متن کے مطابق مسلم لیگ ن نے این اے 127 میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا کیا ہے، عطا تارڑ کے مجرمانہ طرز عمل کی فوری تحقیقات کی جائے۔تاج حیدر نے خط میں مزید لکھا کہ پنجاب پولیس ان غیر قانونی سرگرمیوں میں سہولت کار ہے۔ تاج حیدر نے خط میں مطالبہ کیا کہ ملزمان کو گرفتار اور سی سی پی او لاہور کو عہدے سے ہٹایا جائے۔ دوسری جانب پی پی کی نائب صدر و سینٹر شیری رحمن نے اپنے بیان میں کہا کہ لاہور میں مسلم لیگ ن کے این اے 127 کے امیدوار کی جانب سے پیپلز پارٹی کے الیکشن آفس پر مسلح افراد کے ساتھ حملہ قابل مذمت اور انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افراد نے حلقہ پی پی 160 میں پیپلز پارٹی کے امیدوار میاں مصباح الرحمان کے الیکشن آفس میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی، یہ واقعہ قوانین اور الیکشن کمیشن کے تمام ضابطہ اخلاق کی کھلی خلاف ورزی ہے، الیکشن کمیشن اس واقعے کا سختی سے نوٹس لے اور حملے میں ملوث نمائندوں کے کاغذات مسترد کرے۔رہنما پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ حملے میں ملوث افراد پر الیکشن مہم چلانے پر پابندی لگائی جائے، کوئی بھی عوامی امیدوار اس طرح جتھوں اور دھونس دھمکیوں کی سیاست نہیں کرتا، اس سے پہلے بھی ہمارے انتخابی دفاتر پر حملے ہوئے ہیں۔شیری رحمان نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی کی لاہور میں مقبولیت کی وجہ سے مخالفین بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے ہیں۔
-

کوئٹہ: سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے انتخابی سر گرمیاں متاثر
ڈپٹی کمشنر نے سیکیورٹی خدشات پر امیدواروں کو عوامی اجتماعات سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کو مراسلہ جاری کردیا۔سیکیورٹی ایڈوائزری کوئٹہ سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر انتخاب لڑنے والے امیدواروں کو جاری کی گئی ہے جس میں امیدواروں کو خاص طور پر 4 سے 6 فروری تک غیر ضروری آمد و رفت اور عوامی اجتماعات سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ امیدواروں سے درخواست ہے غیر ضروری عوامی اجتماعات کا انعقاد نہ کریں۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے متنبہ کیا ہے کہ نامعلوم دہشت گرد عوامی اجتماع کو نشانہ بناسکتے ہیں۔واضح رہے کہ حالیہ دنوں کے دوران کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں انتخابی امیدواروں پر دستی بم حملے کیے گئے تھے۔ -

عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر شاہی سید کا ایم کیو ایم کا ساتھ دینے پر اتفاق
کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے وفد نے اے این پی رہنماؤں سے ملاقات کی۔ایم کیو ایم کے سینئر ڈپٹی کنوینر مصطفیٰ کمال اور شمشاد صدیقی کے مردان ہاؤس پہنچنے پر شاہی سید اور یونس بونیری نے استقبال کیا۔عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر شاہی سید نے کہا ہے کہ میں اپنے کارکنان کو ہدایت دے رہا ہوں، اے این پی کے لوگ ایم کیو ایم کو سپورٹ کریں گے۔ایم کیو ایم اور اے این پی کے رہنماؤں نے مردان ہاؤس میں پریس کانفرنس بھی کی۔شاہی سید نے کہا کہ ہمارے تمام اضلاع کے صدور اور ذمے داران ایم کیو ایم سے مل کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے، بہت جلد کئی حلقوں پر ایم کیو ایم کی حمایت کریں گےاس موقع پر شاہی سید نے کہا کہ میں ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ کمال کا بہت مشکور ہوں، یہ ہمارے پاس چل کر آئے ہیں، ہم مل کر آگے کام کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ میرے لیے ایک نشست کی اہمیت نہیں، آج بہت خوشی کی بات ہے، ہم کئی حلقوں میں ایم کیو ایم کا ووٹ خراب نہیں کریں گے اور ایم کیو ایم کو مکمل سپورٹ کریں گے۔اس موقع پر ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا کہ میں شاہی سید اور ان کے تمام رفقا کا مشکور ہوں، آج ایک تاریخی لمحہ ہے اور تاریخ اس کو یاد رکھے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پی ایس 88 پر شاہی سید کے امیدوار کی بھرپور حمایت کریں گے، ہمارے کارکناں نہ صرف ووٹ بلکہ ہر قسم کا تعاون کریں گے۔
مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کہ اس کے بدلے ایم کیو ایم کوئی مطالبہ نہیں کر رہی، ہمیں ہر وقت ہر رنگ و نسل کے لوگوں کو ایک ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ -

خیبر پختونخوا،عام انتخابات کے پیش نظر طبی عملہ تیار،جبکہ ٹریفک پلان بھی مرتب دے دی گئی
عام انتخابات 2024 کے پیش نظر خیبر پختونخوا کا تمام طبی عملہ تیار کر کے تمام ہسپتالوں میں چھٹیاں منسوخ کر دی گئیں ۔محکمہ صحت خیبرپختونخوا نےتمام میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوشنز، ڈی ایچ اوز کو مراسلہ جاری کر دیا۔مراسلے کے مطابق تمام ہسپتالوں اور متعلقہ اداروں میں تمام اسٹاف کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں، ہسپتال انتظامیہ کو سٹورز میں ضروری ادوایات کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے ۔دوسری جانب عام انتخابات کیلئے منظم ٹریفک پلان تیار کر لیا گیا ہے۔ ٹریفک روانی جاری رکھنے کیلئے بھاری نفری کی تعیناتی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق سٹی ٹریفک پولیس پشاور نے عام انتخابات کیلئے منظم ٹریفک پلان تیار کر لیا ہے۔ اس حوالے سے چیف ٹریفک آفیسر ڈاکٹر زاہد اللہ نے عام انتخابات کے موقع پر ٹریفک روانی برقرار رکھنے کیلئے مختلف سیکٹرز میں 3 ایس پیز، 11 ڈی ایس پیز، ایک ہزار سے زائد ٹریفک آفیسرز اور وارڈنز سمیت دیگر نفری تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔چیف ٹریفک آفیسر ڈاکٹر زاہد اللہ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ شہریوں کو سفری سہولت فراہم کرنے اور کسی بھی قسم کی ٹریفک جام سے بچنے کے لئے سڑکوں پر ٹریفک پولیس کی بھاری نفری تعینات ہو گی۔
-

وزیراعلی پنجاب محسن نقوی کا ایک اور اقدام ، ڈیجیٹل و سوشل میڈیا ٹاور کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔
نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے محکمہ تعلقات عامہ میں ڈیجیٹل و سوشل میڈیا ٹاور کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔اس موقع پر سیکرٹری تعمیرات و مواصلات نے وزیراعلیٰ پنجاب کو میڈیا ٹاور کی تکمیل کے بارے میں بریفنگ دی۔محسن نقوی نے ڈی جی پی آر کے مختلف سیکشن کا معائنہ کیا، افسران سے ملاقات کی اور حکومتی اقدامات کو موثرانداز میں اجاگر کرنے کے لئے متحرک انداز میں فرائض سرانجام دینے کی ہدایت کی۔دوران بریفنگ محسن نقوی کو بتایا گیا کہ میڈیا ٹاور میں سوشل میڈیا ماہرین کیلئے جدید سہولیات دستیاب ہوں گی، میڈیا ٹاور ڈی جی پی آر کے ڈیجیٹل میڈیا ونگ کے طور پر کام کرے گا، 15 کروڑ روپے کی لاگت سے میڈیا ٹاور 3 ماہ میں مکمل کر لیا جائے گا۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ڈی جی پی آر حکومت پنجاب کے فلاحی و عوامی اقدامات کی بہترین تشہیر کے ساتھ فیک نیوز اور ڈس انفارمیشن کا بھی مؤثر مقابلہ کر رہا ہے، خوشی ہے کہ ڈی جی پی آر موجود ہ وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈیجیٹل دور میں داخل ہونے جا رہا ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے ڈیجیٹل و سوشل میڈیا ٹاور کی عمارت کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی، ڈی جی پی آر بلڈنگ پر”ڈی جی پی آر ڈیجیٹل میڈیا“ ونگ کا بورڈ لگانے کا بھی حکم دیا۔صوبائی وزیر اطلاعات عامر میر، سیکرٹری اطلاعات دانیال گیلانی، سیکرٹری تعمیرات و مواصلات سہیل اشرف، کمشنر لاہور محمد علی رندھاوا، ڈی جی پی آر روبینہ افضل، ڈائریکٹر پریس انفارمیشن، ڈائریکٹر نیوز اور متعلقہ حکام اس موقع پر موجود تھے۔
-

عام انتخابات کے نتائج کی ترسیل کیلیے الیکشن مینیجمنٹ سسٹم استعمال کرنے کا فیصلہ
انتخابی نتائج مرتب کرنے کے لیے اس بار آر ٹی ایس استعمال ہوگا نہ ہی آر ایم ای بلکہ الیکشن کمیشن نے 32 کروڑ روپے سے زائد لاگت سے نجی کمپنی سپائر سے خصوصی سافٹ ویئر تیار کروایا ہے۔عام انتخابات کے نتائج کی ترسیل کیلیے الیکشن مینیجمنٹ سسٹم (ای ایم ایس) استعمال کیا جائے گا۔پریزائڈنگ افسران اپنے موبائل پر ای ایم ایس ایپلیکیشن کے ذریعے فارم 45 کی تصویر آراوز کو بھیجیں گے۔ اگر تصویر شیئر نہ ہوسکی تو پریزائڈنگ افسران خود نتیجہ لے کر آر اوز کے پاس جائے گا۔الیکشن مینیجمنٹ سسٹم صرف پولنگ ڈے پراستعمال ہوگا۔ یہ سسٹم آر او کی سطح پرنتائج کی تدوین و ترتیب کیلئے بنایا گیا ہے۔ انتخابی عمل کے بعد اس سسٹم میں فارم 45 اور فارم 47 کا ڈیٹا فیڈ کیا جائے گا۔
آر او کو صوبائی اسمبلی کے حلقے کے نتیجے کے لیے تین ڈیٹا آپریٹرز اور قومی اسمبلی کے حلقے کے لیے چار ڈیٹا آپریٹرز میسر ہوں گے۔ 3600 ڈیٹا انٹری آپریٹرز یہ نتائج مرتب کریں گے۔ ذرائع کے مطابق ہر آر او کے پاس نادرا کا ایک اہلکار بھی ہوگا۔الیکشن کمیشن نے دعویٰ کیا ہے کہ مشق کے دوران نتائج کی ترسیل تسلی بخش رہی تاہم چند مقامات پر کنیٹیوٹی کی دشواری پیش آئی۔ کچھ پریزائڈنگ آفیسرز کو نتائج موصول نہ ہوسکے۔حکام نے ای ایم ایس کو ہییک کیے جانے کے حوالے سے خدشات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سوفٹ ویئر جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔ اس کے سیکیورٹی فیچرز غیر معمولی ہیں۔ -

سندھ اور بلوچستان میں موسم کا احوال
پی ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ بلوچستان کے شمال مغربی اور وسط ساحلی علاقوں میں بارش کا سلسلہ تھم چکا ہے، بیشتر علاقوں میں دوپہر کے بعد موسم صاف ہونے کا امکان ہے۔پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) بلوچستان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں مغربی سسٹم کمزور پڑ گیا ہے۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ زیارت، کان مہترزئی، توبہ اچکزئی، توبہ کاکڑی میں برفباری کے بعد راستے کھول دیے گئے ہیں۔ توبہ اچکزئی کے مختلف علاقوں کی ندیوں میں سیلابی صورت حال ہے، توبہ اچکزئی میں ڈیمز کی صورت حال کو مانیٹر کیا جا رہا ہے۔
جبکہ محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بلوچستان میں سب سے زیادہ بارش لسبیلہ میں 30 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی جبکہ خضدار میں 13، اورماڑہ میں 4 اور قلات میں 2 ملی میٹر بارش ہوئی۔کراچی کے علاقوں سرجانی ٹاؤن، نارتھ کراچی، بفر زون اور ناگن چورنگی میں تیز بارش شروع ہو گئی۔اس کے علاوہ اسکیم 33 اور اطراف میں بھی بارش ہو رہی ہے۔محکمۂ موسمیات کے مطابق وسطی اور شمالی علاقوں میں بارش برسانے والے بادل موجود ہیں، ان علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ شام تک بارش کا یہ سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہ سکتا ہے۔ سندھ میں کہیں کہیں ہلکی سے معتدل بارش کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہےگزشتہ 24 گھنٹوں میں شارع فیصل پر سب سے زیادہ 75 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ملیر اور سرجانی میں 64، گلشن حدید میں 50، نارتھ کراچی میں 34، یونیورسٹی روڈ پر 30 اور ناظم آباد میں 23 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی۔علاوہ ازیں چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز نے بتایا ہے کہ کراچی میں آج شام تک بارش کا امکان رہے گا۔ان کا کہنا ہے کہ نچلی سطح کے بادل شہر میں موجود ہیں، اس دوران ہلکی سے معتدل بارش ہو سکتی ہے۔چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز کا یہ بھی کہنا ہے کہ 5 فروری کے بعد کراچی میں صبح و رات موسم خنک رہنے کا امکان ہے۔ -

عورت فاؤنڈیشن نے خواتین کو نمائندگی کے لئے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھ دیا
خیبر پختونخوا میں خواتین کو جنرل نشستوں پر 5 فیصد ٹکٹ نہ دینے پر الیکشن کمیشن میں شکایت درج کر دی گئی، عورت فاؤنڈیشن نے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھ کر شکایت درج کروائی ، خط میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ قومی اسمبلی جنرل نشست پر ایم کیو ایم نے 9.6، مسلم لیگ ن نے 7.8 فیصد نشستیں خواتین کو دیں۔ پیپلز پارٹی نے 4.5، جماعت اسلامی نے 4.4، اے این پی نے 3.3 فیصد نشستیں خواتین کو دی ہے، اسکے علاوہ خط میں بتایا گیا کہ بی این پی اور جے یو آئی ایف نے صفر فیصد نشست پر خواتین کو ٹکٹ دیے، جماعتیں 5 فیصد ٹکٹ خواتین کو نہیں دیتیں تو وہ انتخابی نشان کے لیے اہل نہیں ہے عورت فاؤنڈیشن والوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کا نوٹس لے خواتین کو ان کی نمائندگی کا حق دیا جائے،
-

الیکشن کمیشن کا خیبرپختونخوا میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس ، جرمانے
الیکشن کمیشن نے کمپئن کے دوران ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر جرمانے عائد کر دئے، جس کے تحت این اے 41 لکی مروت عثمان سیف اللہ 12 فروری کو طلب کر لیا ہے اسی طرح چئیرمین تحصیل کونسل شمالی وزیرستان پر 20 ہزار روپے جرمانہ عائد کر لیا گیا ، الیکشن کمیشن کی جانب سے پی کے 101 بنوں سےامیدوار پیر واجد علی شاہ کو 5 ہزار روپے جرمانہ عائد کر دیا گیا ،اسی طرح پی کے 102 مسلم لیگ ن سے امیدوار میاں سمیع اللہ شاہ کو 5 ہزار روپے جرمانہ جبکہ پی کے 99 مسلم لیگ ن کے امیدوار غنی رحمان کو 6 فروری کو طلب کر لیا گیا، چئیرمین نیبرہڈ کونسل عارف خان کو 5 ہزار روپے جرمانہ اور چئرمین ویلیج کونسل مردو خیل شاہ آیاز اللہ کو 5 ہزار روپے جرمانہ جبکہ چئیرمین ویلیج کونسل پائی ٹانک محمد سلیمان اور چئیرمین نیبرہڈ کونسل ٹاٹر ٹانک کو 10،10 ہزار روپے جرمانہ عائد کر دیا گیا .