کوشش ہو گی کہ نواز شریف کے ساتھ مل کر معیشت کو چمکائیں، جو نوکری کر رہا ہے اس کی تنخواہیں بڑھیں گی، دعا کے بغیر کچھ نہیں ہوتا۔چیئرمین استحکامِ پاکستان پارٹی (آئی پی پی) جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ حکومت بنے گی، نواز شریف ہمارے لیڈر ہوں گے، میں نواز شریف کے ساتھ کام کروں گا۔یہ بات ملتان میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ کوشش ہوگی امید رکھنے والوں کی امید پر پورا اتروں، مجھے جو اللّٰہ نے دیا اس سے لوگوں کے حالات بہتر کر رہا ہوں، شیر ہو یا عقاب ہم سب کو مل کر ملک کی بہتری کے لیے کام کرنا ہے۔ دعا کے بغیر کچھ نہیں ہوتا،ہماری کوشش ہوگی امید رکھنے والوں کی امید پر پورا اتروں، مجھے جو اللّٰہ نے دیا اس سے لوگوں کے حالات بہتر کر رہا ہوں،
آئی پی پی کے چیئرمین نے کہا کہ ملک کی معیشت بہتر ہوگی تو تمام لوگ ترقی کریں گے، اللّٰہ ہمیں کامیاب کرے 8 تاریخ کے بعد معیشت کو چمکائیں گے، لاکھوں کی تعداد میں نوکریاں پیدا ہوں گی، نواز شریف کی قیادت میں ملک ترقی کرے گا۔ان کا کہنا ہے کہ میرا بیٹا مستقل طور پر ملتان میں ہوتا ہے، یہ میرا آبائی گھر ہے لیکن آیا یہاں دیر سے ہوں، اللّٰہ نے مجھے موقع دیا کہ اپنے آبائی گھر کی خدمت کروں۔
Author: صدف ابرار
-

نواز شریف کے ساتھ ملکر قوم کی امید پر پورا اتریں گے،جہانگیر ترین
-

بارش کے باعث بجلی کے 120 فیڈر ٹرپ ہوئے، ایک بارش نے سب کو بے نقاب کر دیا۔ حافظ نعیم الحق
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ بارش کے دوران عوام پریشان حال ہیں لیکن میئر کی جانب سے کسی قسم کے کوئی انتظامات نہیں کیے گئے، بارش میں نئی تعمیر شدہ سڑکیں اور سیوریج کا نظام مکمل تباہ ہوگیا۔ امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ کراچی بارش سے ڈوب گیا ،ایک بارش سے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی ) کی کارکردگی کھل کر سامنے آگئی۔کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وسائل کرپشن کی نظر ہو جاتے ہیں، بارش میں شہر ڈوبا ہوا تھا، کے پی اور لاہور میں بارش ہوتی ہے، زندگی چلتی رہتی ہے، یہاں بارش میں زندگی رک جاتی ہے۔ امیرِ جماعتِ اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن نے یہ بھی کہا ہے کہ بارش کے باعث بجلی کے 120 فیڈر ٹرپ ہوئے، ایک بارش نے سب کو بے نقاب کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ موسمیات کی جانب سے بارش کی پیش گوئی کے باوجود نالوں کی صفائی کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا، عوام عام انتخابات سے قبل پیپلز پارٹی کی کراچی کو پیرس بنانے کی دعوی کی حقیقت دیکھ لیں۔حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جماعتِ اسلامی کے بلدیاتی نمائندے رات بھر سڑکوں پر موجود رہے، ہمارے ٹاؤن کے نمائندوں نے بہت سے علاقوں کو کلیئر کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ منصوبوں میں 70 فیصد کرپشن ہوتی ہے، 30 فیصد میں کیا کام ہو گا؟ رات شہر میں 52 ملی میٹر بارش ہوئی، شہر ڈوب گیا، جس سے پی پی کی کارکردگی سامنے آ گئی، پی پی اربوں روپے الیکشن مہم پر لگا رہی ہے۔
امیرِ جماعتِ اسلامی کراچی کا کہنا ہے کہ پوری شارعِ فیصل ڈوبی ہوئی تھی، رات تین تین بجے تک لوگ اپنے گھر پہنچے، کے ایم سی نے ذمےداری ادا نہیں کی، البتہ ہمارے چیئرمین اور کونسلر سڑکوں پر موجود رہے، جو ہدایت سے پہلے ہی سڑکوں پر کھڑے تھے۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پیپلز پارٹی کے ساتھ جرم میں شریک ہے، جس نے مینڈیٹ وڈیروں کو بیچا۔ان کا مزید کہنا ہے کہ آر اوز، ڈی آر اوز کے ذریعے کسی کو جیتنے نہیں دیں گے، ایم کیو ایم دعویٰ کرتی تھی کسی کی حمایت کی ضرورت نہیں، آج 10 جماعتوں کی حمایت کے بعد بھی کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ -

ایم کیو ایم دوسروں سے بھیک مانگ رہے ہیں کہ ہمیں الیکشن جتوا دو۔ مراد علی شاہ
حیدر آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سید مراد علی شاہ نے کہا کہ بلاول بھٹو واحد لیڈر ہیں جو اپنی سوچ سامنے لارہے ہیں، بیان کر رہے ہیں۔ باقی لوگ تو ماضی میں پھنسے ہوئے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا۔ پورا ملک ان سے دو سال میں عاجز آجاتا ہے کہ ان کو نکالو۔ شریفوں نے اپنی مدتِ حکومت پوری نہیں کی۔ لوگ انہیں ووٹ نہ دیں جو ان کا ووٹ ضایع کریں۔ پیپلز پارٹی سندھ میں اچھا فارم کرے گی اور پنجاب سے بھی اچھی نشستیں ملیں گی۔سابق وزیر اعلٰی سندھ کا کہنا تھا کہ حیدر آباد میں پیپلز پارٹی کے چاہنے والے رہتے ہیں۔
سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ میں نے ایم کیو ایم کے کئی دور دیکھے ہیں۔ جب میں اسکول میں پڑھتا تھا تب کراچی میں بھتہ دیے بغیر گزر نہیں سکتے تھے۔ اب حالت یہ ہے کہ یہ لوگ دوسروں سے بھیک مانگ رہے ہیں کہ ہمیں جتوادو۔ ایم کیو ایم مردہ گھوڑا ہے جسے خوراک دے کر زندہ رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایم کیو ایم وہ جماعت ہے جسے اِدھر کہیں تو اِدھر اور اُدھر کہیں تو اُدھر ہو جاتی ہے۔ایک سوال پر سید مراد علی شاہ نے کہا کہ پی پی پی کے حامیوں میں ہر زبان کے بولنے والے ہیں۔ ہم 45 سے 50 سیٹیں حاصل کر لیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور کے پی کے میں بھی ہماری کارکردگی اچھی رہی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ہم 100 سے زیادہ نشستیں حاصل کرلیں گے مگر ہماری کارکردگی بری نہیں رہے گی -

لاہور: کرپشن میں کمی کا کریڈٹ 13 جماعتوں کو جاتا ہے،شہباز شریف
پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے پیسے بانٹ کر کسی کا شناختی کارڈ اپنے پاس رکھنا بد ترین دھاندلی ہے، انہوں نے کہا کہ 8 فروری کو عوام اپنے ووٹ سے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔پارٹی سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آج کچھ سنجیدہ معاملات پر بات کرنا چاہتا ہوں، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ تین دن پہلے آئی ہے، نوازشریف کے دور میں کرپشن انڈیکس میں کمی آئی، نوازشریف کے دور میں کرپشن کو شدید ضرب لگی۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور میں کرپشن انڈیکس میں اضافہ ہوا، پی ٹی آئی دور میں چینی کا بحران پیدا کر کے اربوں کی کرپشن کی گئی، بانی پی ٹی آئی نے ایک رات کہا کہ چینی کرپشن کیخلاف انکوائری شروع کر دی ہے، بانی پی ٹی آئی نے ایک کروڑ نوکریاں دینی تھیں۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف کے دور میں اربوں کھربوں کی سرمایہ کاری ہوئی، اتنی بڑی سرمایہ کاری کے باوجود کرپشن میں کمی آئی، بانی پی ٹی آئی خود کہتے تھے جہاں کرپشن کم ہوتی ہے وہاں کا حکمران ایماندار ہوتا ہے، جہاں کرپشن ہو وہاں کا حکمران چور ہوتا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ آج کچھ سنجیدہ معاملات پر بات کرناچاہتا ہوں، الیکشن میں عوام بیلٹ باکس کے ذریعے ووٹ سے فیصلہ کریں گے، انتخابی مہم آخری لمحات میں ہے، عوام کے فیصلے کاتعلق پاکستان کے مستقبل سے ہوگا، کروڑوں بچے اور بچیاں الیکشن میں ووٹ ڈالیں گے، نوجوانوں کے مستقبل کافیصلہ آئندہ انتخابات سےہے۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 2018 میں بدترین دھاندلی اور جادو ٹونے سے حکومت بنی، دھاندلی زدہ حکومت نے ہم پر بدترین کرپشن کے الزامات لگائے، ہم پر موٹروے بنانے پر الزامات لگائے گئے، کوئی بھی نواز شریف پر کرپشن کے الزامات ثابت نہیں کرسکا، آج موٹروے سے لاکھوں لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔صدر مسلم لیگ ن کا کہنا تھا کہ نوازشریف کے دور میں کھاد سستی دی گئی اور ٹیوب ویل پر سبسڈی دی گئی، مسلم لیگ ن نے ہر دور میں عوام کی خدمت کی، پی ڈی ایم کی حکومت میں کرپشن انڈیکس 140 سے کم ہو کر 133 پر آگیا جس کا کریڈٹ 13 جماعتوں کو جاتا ہے، ایک سالہ اتحادی حکومت کی کارکردگی کا فیصلہ عوام نے کرنا ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت میں چور ڈاکو کا ورد کر کے طوفان بدتمیزی برپا کیا گیا، کچھ قوتوں نے بانی پی ٹی آئی کا ساتھ دے کر انہیں بڑھاوا دیا، ٹرانسپیرنسی رپورٹ کے مطابق 2018 کی حکومت میں پاکستان میں کرپشن بڑھی۔ -

لاہور : حلقہ پی پی 160 پر حملہ،شیری رحمن کی مذمت، تاج حیدر کا چیف الیکشن کمشنر کو خط ،کاروائی کا مطالبہ
نائب صدر پیپلز پارٹی و سینیٹر شیری رحمان نےحلقہ پی پی 160 میں پیپلز پارٹی کے الیکشن آفس پر حملے کی مذمت کی ہے۔ جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے الیکشن سیل کے انچارج تاج حیدر نے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھ دیا۔ خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ ن لیگ کے امیدوار اور غنڈوں نے پی پی 160 میں پیپلز پارٹی کے دفتر پر حملہ کیا، عطا تارڑ غنڈوں کے ہمراہ مصباح الرحمان کے الیکشن آفس میں گھس گئے۔ خط کا متن کے مطابق مسلم لیگ ن نے این اے 127 میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا کیا ہے، عطا تارڑ کے مجرمانہ طرز عمل کی فوری تحقیقات کی جائے۔تاج حیدر نے خط میں مزید لکھا کہ پنجاب پولیس ان غیر قانونی سرگرمیوں میں سہولت کار ہے۔ تاج حیدر نے خط میں مطالبہ کیا کہ ملزمان کو گرفتار اور سی سی پی او لاہور کو عہدے سے ہٹایا جائے۔ دوسری جانب پی پی کی نائب صدر و سینٹر شیری رحمن نے اپنے بیان میں کہا کہ لاہور میں مسلم لیگ ن کے این اے 127 کے امیدوار کی جانب سے پیپلز پارٹی کے الیکشن آفس پر مسلح افراد کے ساتھ حملہ قابل مذمت اور انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افراد نے حلقہ پی پی 160 میں پیپلز پارٹی کے امیدوار میاں مصباح الرحمان کے الیکشن آفس میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی، یہ واقعہ قوانین اور الیکشن کمیشن کے تمام ضابطہ اخلاق کی کھلی خلاف ورزی ہے، الیکشن کمیشن اس واقعے کا سختی سے نوٹس لے اور حملے میں ملوث نمائندوں کے کاغذات مسترد کرے۔رہنما پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ حملے میں ملوث افراد پر الیکشن مہم چلانے پر پابندی لگائی جائے، کوئی بھی عوامی امیدوار اس طرح جتھوں اور دھونس دھمکیوں کی سیاست نہیں کرتا، اس سے پہلے بھی ہمارے انتخابی دفاتر پر حملے ہوئے ہیں۔شیری رحمان نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی کی لاہور میں مقبولیت کی وجہ سے مخالفین بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے ہیں۔
-

کوئٹہ: سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے انتخابی سر گرمیاں متاثر
ڈپٹی کمشنر نے سیکیورٹی خدشات پر امیدواروں کو عوامی اجتماعات سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کو مراسلہ جاری کردیا۔سیکیورٹی ایڈوائزری کوئٹہ سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر انتخاب لڑنے والے امیدواروں کو جاری کی گئی ہے جس میں امیدواروں کو خاص طور پر 4 سے 6 فروری تک غیر ضروری آمد و رفت اور عوامی اجتماعات سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ امیدواروں سے درخواست ہے غیر ضروری عوامی اجتماعات کا انعقاد نہ کریں۔ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے متنبہ کیا ہے کہ نامعلوم دہشت گرد عوامی اجتماع کو نشانہ بناسکتے ہیں۔واضح رہے کہ حالیہ دنوں کے دوران کوئٹہ کے مختلف علاقوں میں انتخابی امیدواروں پر دستی بم حملے کیے گئے تھے۔ -

عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر شاہی سید کا ایم کیو ایم کا ساتھ دینے پر اتفاق
کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے وفد نے اے این پی رہنماؤں سے ملاقات کی۔ایم کیو ایم کے سینئر ڈپٹی کنوینر مصطفیٰ کمال اور شمشاد صدیقی کے مردان ہاؤس پہنچنے پر شاہی سید اور یونس بونیری نے استقبال کیا۔عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر شاہی سید نے کہا ہے کہ میں اپنے کارکنان کو ہدایت دے رہا ہوں، اے این پی کے لوگ ایم کیو ایم کو سپورٹ کریں گے۔ایم کیو ایم اور اے این پی کے رہنماؤں نے مردان ہاؤس میں پریس کانفرنس بھی کی۔شاہی سید نے کہا کہ ہمارے تمام اضلاع کے صدور اور ذمے داران ایم کیو ایم سے مل کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے، بہت جلد کئی حلقوں پر ایم کیو ایم کی حمایت کریں گےاس موقع پر شاہی سید نے کہا کہ میں ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ کمال کا بہت مشکور ہوں، یہ ہمارے پاس چل کر آئے ہیں، ہم مل کر آگے کام کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ میرے لیے ایک نشست کی اہمیت نہیں، آج بہت خوشی کی بات ہے، ہم کئی حلقوں میں ایم کیو ایم کا ووٹ خراب نہیں کریں گے اور ایم کیو ایم کو مکمل سپورٹ کریں گے۔اس موقع پر ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا کہ میں شاہی سید اور ان کے تمام رفقا کا مشکور ہوں، آج ایک تاریخی لمحہ ہے اور تاریخ اس کو یاد رکھے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پی ایس 88 پر شاہی سید کے امیدوار کی بھرپور حمایت کریں گے، ہمارے کارکناں نہ صرف ووٹ بلکہ ہر قسم کا تعاون کریں گے۔
مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کہ اس کے بدلے ایم کیو ایم کوئی مطالبہ نہیں کر رہی، ہمیں ہر وقت ہر رنگ و نسل کے لوگوں کو ایک ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ -

خیبر پختونخوا،عام انتخابات کے پیش نظر طبی عملہ تیار،جبکہ ٹریفک پلان بھی مرتب دے دی گئی
عام انتخابات 2024 کے پیش نظر خیبر پختونخوا کا تمام طبی عملہ تیار کر کے تمام ہسپتالوں میں چھٹیاں منسوخ کر دی گئیں ۔محکمہ صحت خیبرپختونخوا نےتمام میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوشنز، ڈی ایچ اوز کو مراسلہ جاری کر دیا۔مراسلے کے مطابق تمام ہسپتالوں اور متعلقہ اداروں میں تمام اسٹاف کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں، ہسپتال انتظامیہ کو سٹورز میں ضروری ادوایات کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے ۔دوسری جانب عام انتخابات کیلئے منظم ٹریفک پلان تیار کر لیا گیا ہے۔ ٹریفک روانی جاری رکھنے کیلئے بھاری نفری کی تعیناتی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق سٹی ٹریفک پولیس پشاور نے عام انتخابات کیلئے منظم ٹریفک پلان تیار کر لیا ہے۔ اس حوالے سے چیف ٹریفک آفیسر ڈاکٹر زاہد اللہ نے عام انتخابات کے موقع پر ٹریفک روانی برقرار رکھنے کیلئے مختلف سیکٹرز میں 3 ایس پیز، 11 ڈی ایس پیز، ایک ہزار سے زائد ٹریفک آفیسرز اور وارڈنز سمیت دیگر نفری تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔چیف ٹریفک آفیسر ڈاکٹر زاہد اللہ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ شہریوں کو سفری سہولت فراہم کرنے اور کسی بھی قسم کی ٹریفک جام سے بچنے کے لئے سڑکوں پر ٹریفک پولیس کی بھاری نفری تعینات ہو گی۔
-

وزیراعلی پنجاب محسن نقوی کا ایک اور اقدام ، ڈیجیٹل و سوشل میڈیا ٹاور کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔
نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے محکمہ تعلقات عامہ میں ڈیجیٹل و سوشل میڈیا ٹاور کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔اس موقع پر سیکرٹری تعمیرات و مواصلات نے وزیراعلیٰ پنجاب کو میڈیا ٹاور کی تکمیل کے بارے میں بریفنگ دی۔محسن نقوی نے ڈی جی پی آر کے مختلف سیکشن کا معائنہ کیا، افسران سے ملاقات کی اور حکومتی اقدامات کو موثرانداز میں اجاگر کرنے کے لئے متحرک انداز میں فرائض سرانجام دینے کی ہدایت کی۔دوران بریفنگ محسن نقوی کو بتایا گیا کہ میڈیا ٹاور میں سوشل میڈیا ماہرین کیلئے جدید سہولیات دستیاب ہوں گی، میڈیا ٹاور ڈی جی پی آر کے ڈیجیٹل میڈیا ونگ کے طور پر کام کرے گا، 15 کروڑ روپے کی لاگت سے میڈیا ٹاور 3 ماہ میں مکمل کر لیا جائے گا۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ڈی جی پی آر حکومت پنجاب کے فلاحی و عوامی اقدامات کی بہترین تشہیر کے ساتھ فیک نیوز اور ڈس انفارمیشن کا بھی مؤثر مقابلہ کر رہا ہے، خوشی ہے کہ ڈی جی پی آر موجود ہ وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈیجیٹل دور میں داخل ہونے جا رہا ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے ڈیجیٹل و سوشل میڈیا ٹاور کی عمارت کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی، ڈی جی پی آر بلڈنگ پر”ڈی جی پی آر ڈیجیٹل میڈیا“ ونگ کا بورڈ لگانے کا بھی حکم دیا۔صوبائی وزیر اطلاعات عامر میر، سیکرٹری اطلاعات دانیال گیلانی، سیکرٹری تعمیرات و مواصلات سہیل اشرف، کمشنر لاہور محمد علی رندھاوا، ڈی جی پی آر روبینہ افضل، ڈائریکٹر پریس انفارمیشن، ڈائریکٹر نیوز اور متعلقہ حکام اس موقع پر موجود تھے۔
-

عام انتخابات کے نتائج کی ترسیل کیلیے الیکشن مینیجمنٹ سسٹم استعمال کرنے کا فیصلہ
انتخابی نتائج مرتب کرنے کے لیے اس بار آر ٹی ایس استعمال ہوگا نہ ہی آر ایم ای بلکہ الیکشن کمیشن نے 32 کروڑ روپے سے زائد لاگت سے نجی کمپنی سپائر سے خصوصی سافٹ ویئر تیار کروایا ہے۔عام انتخابات کے نتائج کی ترسیل کیلیے الیکشن مینیجمنٹ سسٹم (ای ایم ایس) استعمال کیا جائے گا۔پریزائڈنگ افسران اپنے موبائل پر ای ایم ایس ایپلیکیشن کے ذریعے فارم 45 کی تصویر آراوز کو بھیجیں گے۔ اگر تصویر شیئر نہ ہوسکی تو پریزائڈنگ افسران خود نتیجہ لے کر آر اوز کے پاس جائے گا۔الیکشن مینیجمنٹ سسٹم صرف پولنگ ڈے پراستعمال ہوگا۔ یہ سسٹم آر او کی سطح پرنتائج کی تدوین و ترتیب کیلئے بنایا گیا ہے۔ انتخابی عمل کے بعد اس سسٹم میں فارم 45 اور فارم 47 کا ڈیٹا فیڈ کیا جائے گا۔
آر او کو صوبائی اسمبلی کے حلقے کے نتیجے کے لیے تین ڈیٹا آپریٹرز اور قومی اسمبلی کے حلقے کے لیے چار ڈیٹا آپریٹرز میسر ہوں گے۔ 3600 ڈیٹا انٹری آپریٹرز یہ نتائج مرتب کریں گے۔ ذرائع کے مطابق ہر آر او کے پاس نادرا کا ایک اہلکار بھی ہوگا۔الیکشن کمیشن نے دعویٰ کیا ہے کہ مشق کے دوران نتائج کی ترسیل تسلی بخش رہی تاہم چند مقامات پر کنیٹیوٹی کی دشواری پیش آئی۔ کچھ پریزائڈنگ آفیسرز کو نتائج موصول نہ ہوسکے۔حکام نے ای ایم ایس کو ہییک کیے جانے کے حوالے سے خدشات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سوفٹ ویئر جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔ اس کے سیکیورٹی فیچرز غیر معمولی ہیں۔