متحدہ قومی موومنٹ پاکستان( ایم کیوایم پاکستان) کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے زمین بیچ کر اپنا ضمیر بیچ کر 50ہزار ارب روپے کمائے ہیں۔
حیدر آباد میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے بینظیر کو دومرتبہ وزیراعظم بنایا پھر ہم پر ہی آپریشن شروع کر دیا گیا، پیپلزپارٹی یاد رکھنا تمہیں بخشا نہیں جائے گا، حیدر آباد والو آج تیرکے دفن ہونے کا دن ہے۔خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ آج آپ نے پکے قلعہ کی گراؤنڈ بھر کر یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ جشن کہاں منائیں، آج حیدر آباد والو آپ کو دیکھ کر آپ کا دشمن اپنی موت آپ مرگیا ہے، آپ نے اپنے ساتھ پچاس پچاس، سو سو لوگ لے جا کر ووٹ ڈالنا ہے۔
انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بینظیر کو دومرتبہ وزیراعظم بنایا پھر ہم پر ہی آپریشن شروع کر دیا گیا، پیپلزپارٹی یاد رکھنا تمہیں بخشا نہیں جائے گا، حیدر آباد والوں آج تیرکے دفن ہونے کا دن ہے۔خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ آج آپ نے پکے قلعہ کا گراؤنڈ بھر کر یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ جشن کہاں منائیں، آج حیدر آباد والوں آپ کو دیکھ کر آپ کا دشمن اپنی موت آپ مرگیا ہے، آپ نے اپنے ساتھ پچاس پچاس، سو سو لوگ لے جا کر ووٹ ڈالنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دیکھ لو پاکستان والوں آج حیدر آباد کو گراؤنڈ چھوٹا پڑ گیا ہے، آج یہ شہر وارننگ دینے آیا ہے آج حیدر آباد کے جیالے نکل آئیں ہیں، جوخواب میں دیکھ رہے تھے وہ تعبیر حیدرآباد دے رہا ہے،خالد مقبول صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی تمہیں چھوڑا نہیں جائے گا یہ قوم تم سے 15 سال کا حساب لےگی،15 سال تم نے ہماری مرضی کے بغیر قبضہ کیا ہو ا تھا اس کا حساب ایم کیو ایم لے گی، پاکستان بنانے والوں کی اولاد ہیں اس پاکستان کو چلا سکتے ہیں۔
Author: صدف ابرار
-

ہم نے بینظیر کو دومرتبہ وزیراعظم بنایا پھر ہم پر ہی آپریشن شروع کر دیا گیا،خالد مقبول صدیقی
-

کراچی:الیکشن کمیشن کے باہر دھماکہ
کراچی میں الیکشن کمیشن آفس کے باہر معمولی نوعیت کا دھماکہ ہوا ہے۔ تاہم اس سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔حکام کے مطابق کراچی کے علاقے صدر میں شاہراہ عراق پر واقع صوبائی الیکشن کمیشن افس کے باہر فٹ پاتھ پر رکھے ہوئے شاپر میں دھماکہ ہوا۔ ہلکی نوعیت کے دھماکے سے قریب کھڑی ہوئی گاڑیوں یا کسی اور عملہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔پولیس ذرائع کے مطابق گاڑیوں کی پارکنگ کرنے والے ایک نوجوان نے الیکشن کمیشن آفس کے گیٹ کے قریب فٹ پاتھ پر رکھے ہوئے شاپر کو اٹھا کر دوسری طرف رکھا تو دھماکہ ہو گیا۔وقوعہ کے بارے میں مزید چھان بین کی جا رہی ہے۔ ایس ایس پی ساؤتھ کے مطابق بی ڈی سکواڈ نے کنفرم کیا ہے شاپر میں کم مقدار میں بارودی مواد تھا۔ بارودی مواد کے ساتھ کوئی بال بیرنگ یا دوسری نقصان پہنچانے والی چیز نہیں تھی۔ اس جگہ کے حوالے سے کوئی سکیورٹی تھریٹس نہیں تھیں۔
-

ہمیں جب بھی اقتدار ملتا ہے کراچی میں امن لاتے ہیں اور دہشت گردی کا خاتمہ کرتے ہیں،خواجہ سعد رفیق
سعد رفیق نے کہا کہ لاہور نے ہمیشہ نواز شریف اور شہباز شریف کا ساتھ دیا، ہمیں جب بھی اقتدار ملتا ہے کراچی میں امن لاتے ہیں اور دہشت گردی کا خاتمہ کرتے ہیں۔این اے 122 لاہور میں کارنر میٹنگ سے خطاب میں خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ملک بدلوں کا متحمل نہیں ہوسکتا۔انہوں نے کہا کہ ن لیگ کی قیادت کسی بدلے یا انتقام پر یقین نہیں رکھتی ہے، نواز شریف کہہ چکے ہم کسی سے بدلا یا انتقام نہیں لیں گے۔ ن لیگی رہنما نے مزید کہا کہ ہر بار ٹانگ کھینچی گئی، ہمیں کام نہیں کرنے دیا گیا، ہمارا بیانیہ انتقام نہیں صرف کام ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی آج جیل میں بیٹھے ہیں، آپ جہاں بیٹھے ہیں وہاں وہ خود پہنچے ہیں، دوسروں سے رسیدیں مانگتے تھے اپنے پاس کوئی رسید نہیں نکلی.اُن کا کہنا تھا کہ ہماری تو لڑائی ہی صرف یہ ہے کہ ووٹ سے اقتدار میں آؤ اور ووٹ سے ہی جاؤ۔ن لیگی رہنما نے کہا کہ 8 فروری کا الیکشن کسی کی ہار یا جیت کا الیکشن نہیں ہے، یہ پاکستان کے مستقبل کا الیکشن ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ ہمیں موقع ملا تو پاکستان کی تقدیر بدلنے کےلیے ایڑھی چوٹی کا زور لگادیں گے۔
-
الیکشن کمیشن نے انتخابات 2024ء کیلئے ملک کے تمام حلقوں کے بیلٹ پیپرز کی چھپائی مکمل کرلی
الیکشن کمیشن نے انتخابات 2024ء کیلئے ملک کے تمام حلقوں کے بیلٹ پیپرز کی چھپائی مکمل کرلی، 31 اضلاع کے علاوہ باقی تمام اضلاع میں بیلٹ پیپرز کی ترسیل بھی مکمل کرلی گئی، قومی اسمبلی کیلئے سبز اور صوبائی اسمبلی کیلئے سفید کاغذ استعمال کیا گیا۔بیلٹ پیپرز کی طباعت کے حوالے سے الیکشن کمیشن نے بریفنگ میں بتایا گیا کہ بلوچستان کے حلقوں کے بیلٹ پیپرز کی ترسیل مکمل ہوگئی، سیکیورٹی خدشات اور سخت موسم والے علاقوں میں فضائی راستے سے ترسیل کی جارہی ہے۔ 14 جنوری سے شروع ہونیوالا طباعت کا کام 2 فروری کو مکمل کرلیا گیا، سپریم کورٹ کے حکم پر قومی اسمبلی کے 11 اور صوبائی اسمبلیوں کے 5 حلقوں کے بیلٹ پیپرز دوبارہ چھاپے گئے، ان 16 حلقوں کے پرانے بیلٹ پیپرز کو ضابطہ اخلاق کے مطابق تلف کردیا جائے گا۔
بیلٹ پیپرز کی طباعت سے متعلق میڈیا کو غیر رسمی بریفنگ میں ڈی جی پولیٹیکل فنانس مسعود اختر شیروانی نے بتایا کہ تمام حلقوں کے بیلٹ پیپرز کی چھپائی مکمل کر لی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ بیلٹ پیپر اور پرنٹنگ حساس معاملہ ہے، ہم نے ووٹر کا حق ان کے قریب پہنچانا ہے۔ 14 جنوری سے لے کر 2 فروری تک بیلیٹ پیپرز کی چھپائی ہوئی۔ ڈی جی پولیٹیکل فنانس نے بتایا کہ اس مرتبہ 26 کروڑ بیلٹ پیپر چھاپے گئے ہیں۔ قومی اسمبلی کیلئے سبز اور صوبائی اسمبلی کیلئے سفید پیپر چھاپا گیا ہے۔ بیلیٹ پیپرز کی طباعت تین پرنٹنگ پریسز میں کی گئی۔ پرنٹنگ پریسز میں سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ 5 فیصد سنگل کالم، 50 فیصد ڈبل کالم، 30 فیصد 3 کالم، 11.15 فیصد 4 کالم، 2.4 فیصد 5 کالم بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں۔الیکشن کمیشن حکام کی جانب سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ ای سی پی حکام کے مطابق اس مرتبہ 26 کروڑ بیلٹ پیپر چھاپے گئے ہیں، 2018ء کی نسبت 2024ء میں امیدواروں کی تعداد 54.74 فیصد زیادہ اور خصوصی کاغذ کی ضرورت 195 فیصد زائد ہے، بیلیٹ پیپرز کا سائز کم کرکے خصوصی کاغذ کی ضرورت 2400 ٹن سے کم کرکے 2177 ٹن تک لائی گئی ہے۔
حکام کے مطابق بیلٹ پیپرز میں سے 5 فیصد سنگل کالم، 50 فیصد ڈبل کالم، 30 فیصد 3 کالم، 11.15 فیصد 4 کالم اور 2.4 فیصد 5 کالم بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں، بیلٹ پیپرز کے ساتھ اس مرتبہ فارم 45 بھی پرنٹ کرکے بھیجا جارہا ہے۔عام انتخابات کیلئے پولنگ 8 فروری کو ہوگی، جس کیلئے سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کی جانب سے انتخابی مہم جاری ہے، انتخابی مہم کا وقت 6 فروری کی رات 12 بجے ختم ہوجائے گا۔ -

پشاور : وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں ایمرجنسی کنٹرول روم قائم
خیبر پختونخوا میں عام انتخابات کے دوران سیکیورٹی اقدامات کے لئے وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں ایمرجنسی کنٹرول روم قائم کر دیا ہے یہ ایمرجنسی کنٹرول روم 7 فروری سے 9 فروری 2024 تک فعال رہے گا۔ کنٹرول روم انتخابات سے متعلق سرگرمیوں اور ہنگامی صورتحال کے بارے میں متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ کوارڈینیشن کرے گا۔ کنٹرول روم انتخابات کے اختتام تک کسی بھی ہنگامی یا غیر معمولی صورتحال کے بارے میں وزیر اعلی کو بروقت آگاہ کرے گا۔ وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کے ڈپٹی سیکرٹری محسن اقبال ایمرجنسی کنٹرول روم کے انچارج مقرر کئے گئے ہیں۔ وزیر اعلی سیکرٹریٹ نے اس سلسلے میں اعلامیہ جاری کردیا۔
-

نواز، زرادری کی سیاست کا خاتمہ کرنا لازمی ہو گیا ہے ،سراج الحق
جماعت اسلامی ایسا پاکستان چاہتی ہے جو کسی کا غلام نہ ہو،ایسا پاکستان جس میں غربت، مہنگائی بدامنی نہ ہو .فٹبال گراؤنڈ میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا تھا کہ انگریز کے جانے کے بعد ان کے ایجنٹ مافیا نے سیاست اور اداروں پر قبضہ کیا پاکستان پر جن لوگوں نے باریاں لیکر حکمرانی کی وہ پھر شہر شہر پھر کر دوبارہ حکمرانی کیلئے مافیاں مانگ رہے ہیں، ان کی وجہ سے عدالتی نظام تباہ ہوا۔ انہی حکمرانوں نے عوام کے ہاتھوں میں قرض کی ہتھکڑیاں ڈالیں جبکہ نواز، زرداری کی سیاست ختم کئے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا نے یہ بھی کہا کہ جماعت اسلامی عدالتوں میں انگریز کے قانون کی بجائے قرآن کا نظام چاہتی ہے، انگریز چلا گیا ان کے ایجنٹوں نے انگریز کا نظام مسلط رکھا ہوا ہے، جماعت اسلامی معیشت کو ٹھیک اور روزگار فراہم کرنے خواہاں ہیں جبکہ اگر عوام سودی نظام چاہتے ہیں تو ن اور پی پی پی کو ووٹ دیں۔سراج الحق نے کہا کہ فلسطین میں نہتے عوام پر بارود کی بارش ہو رہی ہے۔ جماعت اسلامی اقتدار میں آئی تو مسجد اقصیٰ کا دفاع کرنیوالوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے جبکہ گوجرانوالہ میں مسائل بے شمار ہیں، جماعت اسلامی حکومت میں اکر ان مسائل کا خاتمہ کریگی۔
-

سندھ اور بلوچستان میں پیپلز پارٹی کلین سویپ کرے گی،شرجیل انعام میمن
س بار قوی امکان ہے کہ تمام سیٹیں جیت جائیں گے، پیپلز پارٹی ہر سیٹ سے کامیابی حاصل کرے گی، پنجاب اور کے پی میں بڑی کامیابی ملے گی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے 4 فروری کو بلاول بھٹو کے لئے پروگرام کا اہتمام کیا جا رہا ہے، یہ پروگرام انتہائی تاریخی پروگرام ہوگا، عوام اس پروگرام کو کامیاب کریں گے، عوام اپنے قائد کا عظیم الشان استقبال کرنے جا رہے ہیں،شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی نے ملک کو بدترین معاشی بدحالی میں مبتلا کیا، نواز شریف اور بانی پی ٹی آئی اپنی "میں” سے باہر نہیں نکلے، عوام روٹی، کپڑا، مکان، گیس اور بجلی مانگ رہے ہیں، آصف زرداری کہتے ہیں کہ عوام کو روٹی، کپڑا اور مکان دو۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ بلاول بھٹو نے الیکشن مہم سب سے پہلے شروع کر کے دیگر کو جگایا، لوگ اب پرانی سیاست کو دفن کرنا چاہتے ہیں، عوام نواز شریف اور بانی پی ٹی آئی کے نعروں سے تنگ آچکے ہیں جبکہ چیئرمین پیپلز پارٹی عوام کی بات کر رہے ہیں، یہ نئی سوچ پورے ملک میں مثبت انقلاب لائے گی۔
انہوں نے کہا کہ بہت جھوٹے نعرے عوام نے دیکھ لیے، یہاں بھی ہمارے مدمقابل جماعتوں نے عوام کے لئے کچھ نہیں کیا، لوگوں کو ان کی خواہش پر کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا، کسی کو زبردستی دھاندلی کرنے نہیں دیں گے، سندھ اور بلوچستان میں پیپلز پارٹی کلین سویپ کرے گی، ساؤتھ پنجاب میں بھی پراگریس اچھی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے پیپلز پارٹی کو وفاق میں حکومت بنانے کے لئے آزاد ارکان کی ضرورت پڑے، ہو سکتا ہے کسی جماعت سے بھی بات کریں، ماضی میں بھی ہم نے اسی طرح حکومت بنائی تھی، اگر نمبر پورے ہیں تو بھی دیگر جماعتوں کو ساتھ ملایا جا سکتا ہے، پیپلز پارٹی سنگل میجارٹی بھی لا سکتی ہے۔ -

اسٹریٹیجک کنالز ویژن 2030 اور ایف بی آر اصلاحت کی منظوری ,اپیکس کمیٹی کا اجلاس
نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑکی زیرصدارت سرمایہ کاری کونسل کی اپیکس کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں 24 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ آرمی چیف نے پاک فوج کی جانب سے حکومتی اقدامات کا بھرپور ساتھ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ جب کہ وزیر اعطم نے امید ظاہر کی آئندہ منتخب حکومت ان معاشی پالیسیوں کے تسلسل کو برقرار رکھے گی۔سرمایہ کاری کونسل کی اپیکس کمیٹی کا اجلاس وزیراعظم ہاؤس ہوا، نگراں وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ نے اجلاس کی صدارت کی، اجلاس تقریباً 4 گھنٹے تک جاری رہا۔اجلاس میں آرمی چیف، وزرائے اعلیٰ، چاروں چیف سیکریٹریز، گورنر اسٹیٹ بینک، چیئرمین واپڈا، چیئرمین نادرا اور ایف بی آر حکام شریک ہوئے۔کمیٹی نے اجلاس میں اسٹریٹیجک کنالز ویژن 2030 اور ایف بی آر اصلاحت کی منظوری دیدی۔اپیکس کمیٹی نے ملک کی معیشت کی بہتری کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کو خوش آئند قرار دیا۔کمیٹی نے دوست ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔
آرمی چیف نے پاک فوج کی جانب سے حکومتی اقدامات کا بھرپور ساتھ دینےکےعزم کا اظہار کیا۔اجلاس کے اختتام پر نگران وزیرِ اعظم نے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرزکی طرف سے معاونت کی تعریف کی۔وزیر اعطم نے امید ظاہر کی آئندہ منتخب حکومت ان معاشی پالیسیوں کے تسلسل کو برقرار رکھے گی۔ایس آئی ایف سی ایپکس کمیٹی اجلاس میں 24 نکاتی ایجنڈے، سرکلرڈیٹ اور دیگر اہم امور پرغور کیا گیا۔اجلاس میں مختلف وزارتوں نے ملک میں سرمایہ کاری اور جاری منصوبوں پر بریفنگ دی۔اجلاس میں نگراں وفاقی وزیر فواد حسن فواد نے نجکاری امور پر بریفنگ دی جبکہ ایس آئی ایف سی ایپکس کمیٹی کو ایف بی آر کی تشکیلِ نو پر بھی بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں یو اے ای اور کویت کے ساتھ سرمایہ کاری معاہدوں پر پیشرفت رپورٹ بھی پیش کی گئی۔
کمیٹی نے معیشت کی بہتری کے اقدامات اور ان کی کامیابی کو خوش آئند قرار دیا۔ کمیٹی نے افرادی قوت کی ترقی، مواصلاتی بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے اقدامات کی بھی تعریف کی۔ کمیٹی نے مقامی تنازعات کے حل کیلئے موثر طریقہ کار سے ایک پائیدار نظام بنانے کی تعریف کی، کمیٹی نے دوست ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات پر پیشرفت کا جائزہ بھی لیا۔اجلاس کو بجلی چوری اور متبادل توانائی کے معاہدوں، سرکلر ڈیٹ، آر ایل این جی پاور پلانٹس کی نجکاری پر بریفنگ دی گئی۔ایس آئی ایف سی ایپکس کمیٹی میں ایران گیس پائپ لائن پروجیکٹ پر بھی بات چیت ہوئی اور نئے گھریلو صارفین کے لیے نئی ایل این جی سپلائی پالیسی پیش کی گئی، اس کے علاوہ دیگر رپورٹس بھی اجلاس میں پیش کی گئیں۔ -

پی ٹی آئی امیدوار سلمان اکرم راجہ نے فارم 33 کی تصحیح کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا
این اے 128 سے پی ٹی آئی امیدوار سلمان اکرم راجہ نے فارم 33 کی تصحیح کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا۔درخواست میں کہا گیا کہ فارم 33 میں میرا نام آزاد کی بجائے پی ٹی آئی کے امیدوار کے طور پر لکھا جائے ۔اپنے کاغذاتِ نامزدگی کے ساتھ پارٹی سرٹیفیکیٹ بھی لف کیا۔ ہماری جماعت کو انتخابی نشان نہیں ملا لیکن پی ٹی آئی بطور جماعت ختم نہیں ہوئی۔پارٹی اپنا وجود رکھتی ہے اور اس کے اراکین کو اپنی جماعت سے وابستگی ظاہر کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ لاہور ہائی کورٹ نے میری درخواست پر 25 جنوری کو فیصلہ محفوظ کر کے 29 جنوری کو سنایا، لاہور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو دو دن میں فیصلے کی ہدایت کی،لیکشن کمیشن دو دن میں بھی فیصلہ کرتا ہے تو بھی انتخابات کا دن گزر چکا ہو گا۔فارم 33 پر میرا نام آزاد امیدوار کی بجائے پی ٹی آئی امیدوار کے طور پر درج کیا جائے۔قبل ازیں این اے 128 سے تحریک انصاف کے امیدوار سلمان اکرم راجہ کی خود کو آزاد امیدوار قرار دینے کے خلاف درخواست پر فیصلہ جاری کر دیا۔ فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ دورکنی بنچ درخواست دادرسی کے لیے الیکشن کمیشن کو بھجواتی ہے، الیکشن کمیشن درخواست کو کمپلینٹ تصور کرتے ہوئے قانون کے تحت فیصلہ کرے۔
دورکنی بنچ ںے درخواست پر فریقین کے دلائل سننے کے بعد گزشتہ رات تاخیر سے فیصلہ سنا دیا تھا۔ الیکشن کمیشن کے وکیل نے دلائل میں درخواست کی مخالف کی تھی ۔ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی کو مسترد کر دیا تھا، سپریم کورٹ نے بھی تحریک انصاف کی اپیل مسترد کر دی تھی، اس وقت تحریک انصاف کا کوئی چیئرمیں نہین ہے نہ وجود ہے، پی ٹی آئی کا چیرمیں کے بغیر کوئی وجود نہیں ہے ۔
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ بیرسٹر گوہر نے پارٹی سربراہ کے طور پر انکو پارٹی ٹکٹ جاری کیا۔ جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست پر فیصلہ جاری کر دیا ۔ درخواست میں الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ پاکستان تحریک انصاف 1996 سے الیکشن کمیشن میں بطور سیاسی جماعت رجسٹرڈ ہے، درخواست گزار این اے 128 سے پی ٹی آئی سے حمایت یافتہ امیدوار ہے، عدالت الیکشن کمیشن کی جانب سے آزاد امیدوار ڈیکلیئر کرنے کا اقدام کالعدم قرار دے اور بیلٹ پیپر پر پی ٹی آئی کا امیدوار درج کرنے کا حکم دے۔ -

نیپرا نے پاور سیکٹر کی اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2023 جاری کردی
بجلی کی پیداوار ترسیل تقسیم میں نا اہلی، ایندھن کی فراہمی کو پاور سیکٹر کے بڑے مسائل قرار دیا گیا ہے۔نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے پاور سیکٹر کی اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2023 جاری کردی، جس میں بتایا گیا ہے کہ ایک سال میں میرٹ آرڈر کی خلاف ورزی سے صارفین پر 20 ارب 26 کروڑ روپے سے زائد کا بوجھ پڑا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بجلی کے شعبے میں نجی شعبے کی مداخلت سے بہتری لائی جا سکتی ہے، بجلی کی طلب و پیداوار میں فرق بڑھنے سے پاور سیکٹر میں سرمایہ کاری میں کمی کے سنگین خطرات ہیں، بجلی کمپنیوں میں 781 ارب روپے کی سرمایہ کاری کے باوجود صورتحال بہتر نہیں ہوئی، پاور سیکٹر میں منصوبہ بندی کے فقدان کا بوجھ صارفین پر نہیں ڈالنا چاہیے۔
نیپرا کی رپورٹ میں کہا گیا کہ مقررہ مدت گزارنے کے باوجود پرانے اور خراب کارکردگی والے پلانٹس چلائے جا رہے ہیں، پاور سیکٹر میں وسط و طویل مدتی منصوبہ بندی کا فقدان ہے، سال 2023 کے دوران مختلف بڑے شہروں میں 12 گھںٹے سے زائد لوڈشیڈنگ کی گئی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بجلی کے شعبے میں نجی شعبے کی مداخلت سے بہتری لائی جا سکتی ہے، بجلی کی طلب و پیداوار میں فرق بڑھنے سے پاور سیکٹر میں سرمایہ کاری میں کمی کے سنگین خطرات ہیں، بجلی کمپنیوں میں 781 ارب روپے کی سرمایہ کاری کے باوجود صورتحال بہتر نہیں ہوئی، پاور سیکٹر میں منصوبہ بندی کے فقدان کا بوجھ صارفین پر نہیں ڈالنا چاہیے۔نیپرا کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایک سال میں میرٹ آرڈر کی خلاف ورزی سے صارفین پر 20 ارب 26 کروڑ روپے سے زائد کا بوجھ پڑا، ایل این جی کی قلت اور مہنگے پلانٹس چلانے سے 164 ارب روپے کا بوجھ پڑا، پاکستان کا پاور سیکٹر گردشی قرضے درآمدی فیول ترسیلی خرابیوں اور ناقص گورننس میں جکڑا ہوا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بجلی کی غیر معمولی قیمتوں نے عام آدمی کو بری طرح متاثر کیا، بجلی قیمتوں سے گھریلو صارفین، کمرشل، زرعی سمیت تمام شعبے متاثر ہوئے۔