الیکشن کمیشن نے انتخابات 2024ء کیلئے ملک کے تمام حلقوں کے بیلٹ پیپرز کی چھپائی مکمل کرلی، 31 اضلاع کے علاوہ باقی تمام اضلاع میں بیلٹ پیپرز کی ترسیل بھی مکمل کرلی گئی، قومی اسمبلی کیلئے سبز اور صوبائی اسمبلی کیلئے سفید کاغذ استعمال کیا گیا۔بیلٹ پیپرز کی طباعت کے حوالے سے الیکشن کمیشن نے بریفنگ میں بتایا گیا کہ بلوچستان کے حلقوں کے بیلٹ پیپرز کی ترسیل مکمل ہوگئی، سیکیورٹی خدشات اور سخت موسم والے علاقوں میں فضائی راستے سے ترسیل کی جارہی ہے۔ 14 جنوری سے شروع ہونیوالا طباعت کا کام 2 فروری کو مکمل کرلیا گیا، سپریم کورٹ کے حکم پر قومی اسمبلی کے 11 اور صوبائی اسمبلیوں کے 5 حلقوں کے بیلٹ پیپرز دوبارہ چھاپے گئے، ان 16 حلقوں کے پرانے بیلٹ پیپرز کو ضابطہ اخلاق کے مطابق تلف کردیا جائے گا۔
بیلٹ پیپرز کی طباعت سے متعلق میڈیا کو غیر رسمی بریفنگ میں ڈی جی پولیٹیکل فنانس مسعود اختر شیروانی نے بتایا کہ تمام حلقوں کے بیلٹ پیپرز کی چھپائی مکمل کر لی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ بیلٹ پیپر اور پرنٹنگ حساس معاملہ ہے، ہم نے ووٹر کا حق ان کے قریب پہنچانا ہے۔ 14 جنوری سے لے کر 2 فروری تک بیلیٹ پیپرز کی چھپائی ہوئی۔ ڈی جی پولیٹیکل فنانس نے بتایا کہ اس مرتبہ 26 کروڑ بیلٹ پیپر چھاپے گئے ہیں۔ قومی اسمبلی کیلئے سبز اور صوبائی اسمبلی کیلئے سفید پیپر چھاپا گیا ہے۔ بیلیٹ پیپرز کی طباعت تین پرنٹنگ پریسز میں کی گئی۔ پرنٹنگ پریسز میں سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ 5 فیصد سنگل کالم، 50 فیصد ڈبل کالم، 30 فیصد 3 کالم، 11.15 فیصد 4 کالم، 2.4 فیصد 5 کالم بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں۔الیکشن کمیشن حکام کی جانب سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ ای سی پی حکام کے مطابق اس مرتبہ 26 کروڑ بیلٹ پیپر چھاپے گئے ہیں، 2018ء کی نسبت 2024ء میں امیدواروں کی تعداد 54.74 فیصد زیادہ اور خصوصی کاغذ کی ضرورت 195 فیصد زائد ہے، بیلیٹ پیپرز کا سائز کم کرکے خصوصی کاغذ کی ضرورت 2400 ٹن سے کم کرکے 2177 ٹن تک لائی گئی ہے۔
حکام کے مطابق بیلٹ پیپرز میں سے 5 فیصد سنگل کالم، 50 فیصد ڈبل کالم، 30 فیصد 3 کالم، 11.15 فیصد 4 کالم اور 2.4 فیصد 5 کالم بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں، بیلٹ پیپرز کے ساتھ اس مرتبہ فارم 45 بھی پرنٹ کرکے بھیجا جارہا ہے۔عام انتخابات کیلئے پولنگ 8 فروری کو ہوگی، جس کیلئے سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کی جانب سے انتخابی مہم جاری ہے، انتخابی مہم کا وقت 6 فروری کی رات 12 بجے ختم ہوجائے گا۔
Author: صدف ابرار
-
الیکشن کمیشن نے انتخابات 2024ء کیلئے ملک کے تمام حلقوں کے بیلٹ پیپرز کی چھپائی مکمل کرلی
-

پشاور : وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں ایمرجنسی کنٹرول روم قائم
خیبر پختونخوا میں عام انتخابات کے دوران سیکیورٹی اقدامات کے لئے وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں ایمرجنسی کنٹرول روم قائم کر دیا ہے یہ ایمرجنسی کنٹرول روم 7 فروری سے 9 فروری 2024 تک فعال رہے گا۔ کنٹرول روم انتخابات سے متعلق سرگرمیوں اور ہنگامی صورتحال کے بارے میں متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ کوارڈینیشن کرے گا۔ کنٹرول روم انتخابات کے اختتام تک کسی بھی ہنگامی یا غیر معمولی صورتحال کے بارے میں وزیر اعلی کو بروقت آگاہ کرے گا۔ وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کے ڈپٹی سیکرٹری محسن اقبال ایمرجنسی کنٹرول روم کے انچارج مقرر کئے گئے ہیں۔ وزیر اعلی سیکرٹریٹ نے اس سلسلے میں اعلامیہ جاری کردیا۔
-

نواز، زرادری کی سیاست کا خاتمہ کرنا لازمی ہو گیا ہے ،سراج الحق
جماعت اسلامی ایسا پاکستان چاہتی ہے جو کسی کا غلام نہ ہو،ایسا پاکستان جس میں غربت، مہنگائی بدامنی نہ ہو .فٹبال گراؤنڈ میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا تھا کہ انگریز کے جانے کے بعد ان کے ایجنٹ مافیا نے سیاست اور اداروں پر قبضہ کیا پاکستان پر جن لوگوں نے باریاں لیکر حکمرانی کی وہ پھر شہر شہر پھر کر دوبارہ حکمرانی کیلئے مافیاں مانگ رہے ہیں، ان کی وجہ سے عدالتی نظام تباہ ہوا۔ انہی حکمرانوں نے عوام کے ہاتھوں میں قرض کی ہتھکڑیاں ڈالیں جبکہ نواز، زرداری کی سیاست ختم کئے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا نے یہ بھی کہا کہ جماعت اسلامی عدالتوں میں انگریز کے قانون کی بجائے قرآن کا نظام چاہتی ہے، انگریز چلا گیا ان کے ایجنٹوں نے انگریز کا نظام مسلط رکھا ہوا ہے، جماعت اسلامی معیشت کو ٹھیک اور روزگار فراہم کرنے خواہاں ہیں جبکہ اگر عوام سودی نظام چاہتے ہیں تو ن اور پی پی پی کو ووٹ دیں۔سراج الحق نے کہا کہ فلسطین میں نہتے عوام پر بارود کی بارش ہو رہی ہے۔ جماعت اسلامی اقتدار میں آئی تو مسجد اقصیٰ کا دفاع کرنیوالوں کے ساتھ کھڑے ہوں گے جبکہ گوجرانوالہ میں مسائل بے شمار ہیں، جماعت اسلامی حکومت میں اکر ان مسائل کا خاتمہ کریگی۔
-

سندھ اور بلوچستان میں پیپلز پارٹی کلین سویپ کرے گی،شرجیل انعام میمن
س بار قوی امکان ہے کہ تمام سیٹیں جیت جائیں گے، پیپلز پارٹی ہر سیٹ سے کامیابی حاصل کرے گی، پنجاب اور کے پی میں بڑی کامیابی ملے گی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے 4 فروری کو بلاول بھٹو کے لئے پروگرام کا اہتمام کیا جا رہا ہے، یہ پروگرام انتہائی تاریخی پروگرام ہوگا، عوام اس پروگرام کو کامیاب کریں گے، عوام اپنے قائد کا عظیم الشان استقبال کرنے جا رہے ہیں،شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی نے ملک کو بدترین معاشی بدحالی میں مبتلا کیا، نواز شریف اور بانی پی ٹی آئی اپنی "میں” سے باہر نہیں نکلے، عوام روٹی، کپڑا، مکان، گیس اور بجلی مانگ رہے ہیں، آصف زرداری کہتے ہیں کہ عوام کو روٹی، کپڑا اور مکان دو۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ بلاول بھٹو نے الیکشن مہم سب سے پہلے شروع کر کے دیگر کو جگایا، لوگ اب پرانی سیاست کو دفن کرنا چاہتے ہیں، عوام نواز شریف اور بانی پی ٹی آئی کے نعروں سے تنگ آچکے ہیں جبکہ چیئرمین پیپلز پارٹی عوام کی بات کر رہے ہیں، یہ نئی سوچ پورے ملک میں مثبت انقلاب لائے گی۔
انہوں نے کہا کہ بہت جھوٹے نعرے عوام نے دیکھ لیے، یہاں بھی ہمارے مدمقابل جماعتوں نے عوام کے لئے کچھ نہیں کیا، لوگوں کو ان کی خواہش پر کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا، کسی کو زبردستی دھاندلی کرنے نہیں دیں گے، سندھ اور بلوچستان میں پیپلز پارٹی کلین سویپ کرے گی، ساؤتھ پنجاب میں بھی پراگریس اچھی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے پیپلز پارٹی کو وفاق میں حکومت بنانے کے لئے آزاد ارکان کی ضرورت پڑے، ہو سکتا ہے کسی جماعت سے بھی بات کریں، ماضی میں بھی ہم نے اسی طرح حکومت بنائی تھی، اگر نمبر پورے ہیں تو بھی دیگر جماعتوں کو ساتھ ملایا جا سکتا ہے، پیپلز پارٹی سنگل میجارٹی بھی لا سکتی ہے۔ -

اسٹریٹیجک کنالز ویژن 2030 اور ایف بی آر اصلاحت کی منظوری ,اپیکس کمیٹی کا اجلاس
نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑکی زیرصدارت سرمایہ کاری کونسل کی اپیکس کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں 24 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ آرمی چیف نے پاک فوج کی جانب سے حکومتی اقدامات کا بھرپور ساتھ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ جب کہ وزیر اعطم نے امید ظاہر کی آئندہ منتخب حکومت ان معاشی پالیسیوں کے تسلسل کو برقرار رکھے گی۔سرمایہ کاری کونسل کی اپیکس کمیٹی کا اجلاس وزیراعظم ہاؤس ہوا، نگراں وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ نے اجلاس کی صدارت کی، اجلاس تقریباً 4 گھنٹے تک جاری رہا۔اجلاس میں آرمی چیف، وزرائے اعلیٰ، چاروں چیف سیکریٹریز، گورنر اسٹیٹ بینک، چیئرمین واپڈا، چیئرمین نادرا اور ایف بی آر حکام شریک ہوئے۔کمیٹی نے اجلاس میں اسٹریٹیجک کنالز ویژن 2030 اور ایف بی آر اصلاحت کی منظوری دیدی۔اپیکس کمیٹی نے ملک کی معیشت کی بہتری کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کو خوش آئند قرار دیا۔کمیٹی نے دوست ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔
آرمی چیف نے پاک فوج کی جانب سے حکومتی اقدامات کا بھرپور ساتھ دینےکےعزم کا اظہار کیا۔اجلاس کے اختتام پر نگران وزیرِ اعظم نے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرزکی طرف سے معاونت کی تعریف کی۔وزیر اعطم نے امید ظاہر کی آئندہ منتخب حکومت ان معاشی پالیسیوں کے تسلسل کو برقرار رکھے گی۔ایس آئی ایف سی ایپکس کمیٹی اجلاس میں 24 نکاتی ایجنڈے، سرکلرڈیٹ اور دیگر اہم امور پرغور کیا گیا۔اجلاس میں مختلف وزارتوں نے ملک میں سرمایہ کاری اور جاری منصوبوں پر بریفنگ دی۔اجلاس میں نگراں وفاقی وزیر فواد حسن فواد نے نجکاری امور پر بریفنگ دی جبکہ ایس آئی ایف سی ایپکس کمیٹی کو ایف بی آر کی تشکیلِ نو پر بھی بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں یو اے ای اور کویت کے ساتھ سرمایہ کاری معاہدوں پر پیشرفت رپورٹ بھی پیش کی گئی۔
کمیٹی نے معیشت کی بہتری کے اقدامات اور ان کی کامیابی کو خوش آئند قرار دیا۔ کمیٹی نے افرادی قوت کی ترقی، مواصلاتی بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے اقدامات کی بھی تعریف کی۔ کمیٹی نے مقامی تنازعات کے حل کیلئے موثر طریقہ کار سے ایک پائیدار نظام بنانے کی تعریف کی، کمیٹی نے دوست ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات پر پیشرفت کا جائزہ بھی لیا۔اجلاس کو بجلی چوری اور متبادل توانائی کے معاہدوں، سرکلر ڈیٹ، آر ایل این جی پاور پلانٹس کی نجکاری پر بریفنگ دی گئی۔ایس آئی ایف سی ایپکس کمیٹی میں ایران گیس پائپ لائن پروجیکٹ پر بھی بات چیت ہوئی اور نئے گھریلو صارفین کے لیے نئی ایل این جی سپلائی پالیسی پیش کی گئی، اس کے علاوہ دیگر رپورٹس بھی اجلاس میں پیش کی گئیں۔ -

پی ٹی آئی امیدوار سلمان اکرم راجہ نے فارم 33 کی تصحیح کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا
این اے 128 سے پی ٹی آئی امیدوار سلمان اکرم راجہ نے فارم 33 کی تصحیح کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا۔درخواست میں کہا گیا کہ فارم 33 میں میرا نام آزاد کی بجائے پی ٹی آئی کے امیدوار کے طور پر لکھا جائے ۔اپنے کاغذاتِ نامزدگی کے ساتھ پارٹی سرٹیفیکیٹ بھی لف کیا۔ ہماری جماعت کو انتخابی نشان نہیں ملا لیکن پی ٹی آئی بطور جماعت ختم نہیں ہوئی۔پارٹی اپنا وجود رکھتی ہے اور اس کے اراکین کو اپنی جماعت سے وابستگی ظاہر کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ لاہور ہائی کورٹ نے میری درخواست پر 25 جنوری کو فیصلہ محفوظ کر کے 29 جنوری کو سنایا، لاہور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو دو دن میں فیصلے کی ہدایت کی،لیکشن کمیشن دو دن میں بھی فیصلہ کرتا ہے تو بھی انتخابات کا دن گزر چکا ہو گا۔فارم 33 پر میرا نام آزاد امیدوار کی بجائے پی ٹی آئی امیدوار کے طور پر درج کیا جائے۔قبل ازیں این اے 128 سے تحریک انصاف کے امیدوار سلمان اکرم راجہ کی خود کو آزاد امیدوار قرار دینے کے خلاف درخواست پر فیصلہ جاری کر دیا۔ فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ دورکنی بنچ درخواست دادرسی کے لیے الیکشن کمیشن کو بھجواتی ہے، الیکشن کمیشن درخواست کو کمپلینٹ تصور کرتے ہوئے قانون کے تحت فیصلہ کرے۔
دورکنی بنچ ںے درخواست پر فریقین کے دلائل سننے کے بعد گزشتہ رات تاخیر سے فیصلہ سنا دیا تھا۔ الیکشن کمیشن کے وکیل نے دلائل میں درخواست کی مخالف کی تھی ۔ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی کو مسترد کر دیا تھا، سپریم کورٹ نے بھی تحریک انصاف کی اپیل مسترد کر دی تھی، اس وقت تحریک انصاف کا کوئی چیئرمیں نہین ہے نہ وجود ہے، پی ٹی آئی کا چیرمیں کے بغیر کوئی وجود نہیں ہے ۔
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ بیرسٹر گوہر نے پارٹی سربراہ کے طور پر انکو پارٹی ٹکٹ جاری کیا۔ جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست پر فیصلہ جاری کر دیا ۔ درخواست میں الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ پاکستان تحریک انصاف 1996 سے الیکشن کمیشن میں بطور سیاسی جماعت رجسٹرڈ ہے، درخواست گزار این اے 128 سے پی ٹی آئی سے حمایت یافتہ امیدوار ہے، عدالت الیکشن کمیشن کی جانب سے آزاد امیدوار ڈیکلیئر کرنے کا اقدام کالعدم قرار دے اور بیلٹ پیپر پر پی ٹی آئی کا امیدوار درج کرنے کا حکم دے۔ -

نیپرا نے پاور سیکٹر کی اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2023 جاری کردی
بجلی کی پیداوار ترسیل تقسیم میں نا اہلی، ایندھن کی فراہمی کو پاور سیکٹر کے بڑے مسائل قرار دیا گیا ہے۔نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے پاور سیکٹر کی اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2023 جاری کردی، جس میں بتایا گیا ہے کہ ایک سال میں میرٹ آرڈر کی خلاف ورزی سے صارفین پر 20 ارب 26 کروڑ روپے سے زائد کا بوجھ پڑا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بجلی کے شعبے میں نجی شعبے کی مداخلت سے بہتری لائی جا سکتی ہے، بجلی کی طلب و پیداوار میں فرق بڑھنے سے پاور سیکٹر میں سرمایہ کاری میں کمی کے سنگین خطرات ہیں، بجلی کمپنیوں میں 781 ارب روپے کی سرمایہ کاری کے باوجود صورتحال بہتر نہیں ہوئی، پاور سیکٹر میں منصوبہ بندی کے فقدان کا بوجھ صارفین پر نہیں ڈالنا چاہیے۔
نیپرا کی رپورٹ میں کہا گیا کہ مقررہ مدت گزارنے کے باوجود پرانے اور خراب کارکردگی والے پلانٹس چلائے جا رہے ہیں، پاور سیکٹر میں وسط و طویل مدتی منصوبہ بندی کا فقدان ہے، سال 2023 کے دوران مختلف بڑے شہروں میں 12 گھںٹے سے زائد لوڈشیڈنگ کی گئی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بجلی کے شعبے میں نجی شعبے کی مداخلت سے بہتری لائی جا سکتی ہے، بجلی کی طلب و پیداوار میں فرق بڑھنے سے پاور سیکٹر میں سرمایہ کاری میں کمی کے سنگین خطرات ہیں، بجلی کمپنیوں میں 781 ارب روپے کی سرمایہ کاری کے باوجود صورتحال بہتر نہیں ہوئی، پاور سیکٹر میں منصوبہ بندی کے فقدان کا بوجھ صارفین پر نہیں ڈالنا چاہیے۔نیپرا کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایک سال میں میرٹ آرڈر کی خلاف ورزی سے صارفین پر 20 ارب 26 کروڑ روپے سے زائد کا بوجھ پڑا، ایل این جی کی قلت اور مہنگے پلانٹس چلانے سے 164 ارب روپے کا بوجھ پڑا، پاکستان کا پاور سیکٹر گردشی قرضے درآمدی فیول ترسیلی خرابیوں اور ناقص گورننس میں جکڑا ہوا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بجلی کی غیر معمولی قیمتوں نے عام آدمی کو بری طرح متاثر کیا، بجلی قیمتوں سے گھریلو صارفین، کمرشل، زرعی سمیت تمام شعبے متاثر ہوئے۔ -

پی ٹی آئی کی کالعدم قیادت کی طرف سے انٹرا پارٹی کے نام پر ناٹک رچانے کی کوشش کی گئی،اکبر ایس بابر
اگر نئے انٹراپارٹی الیکشن کے نام پرعمل جاری رکھتے تو پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اکبر ایس بابر نے کہا کہ پی ٹی آئی کی کالعدم قیادت کی طرف سے انٹرا پارٹی کے نام پر ناٹک رچانے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نےپہلے بھی مطلع کیا تھا کہ ہم انٹراپارٹی الیکشن میں مقابلہ کریں گے،پاکستان تحریک انصاف کی تمام قیادت قانونی طور پر کالعدم ہوچکی ہے،جماعت میں ایک ویکوم ہے جسے پورا کرنے کے لیے ہم نے ایک نیشنل کانفرنس بلائی ہے،جن کے گھر سے پی ٹی آئی نے جنم لیا وہ بھی کانفرنس میں شریک تھے،حالات ہر روز ثابت کر رہے ہیں کہ ہم نے جو جدوجہد شروع کی وہ ٹھیک ہے،بڑے الزامات لگے کردار کشی کی گئی لیکن ہم ڈٹے رہے،8سال تک فارن فنڈنگ کیس میں یہ جھوٹے ثابت ہوئے،انٹراپارٹی الیکشن کے حوالے سے بھی ہم سرخرو ہوئے،الیکشن کمیشن نے فیصلہ دیا کہ یہ انٹراپارٹی الیکشن کے نام پر دھوکہ ہوا،پی ٹی آئی آج تباہی کے دہانے پر ہے،کئی نوجوان ہیں جوکہ پراپیگنڈا کے متاثرین ہیں میں انہیں معصوم سمجھتا ہوں،کچھ لوگ سمجھتے ہیں میں پی ٹی آئی کا دشمن ہوں لیکن میں پی ٹی آئی کا سب سے بڑا دوست ہوں۔انھوں نے کہا کہ ہم اس کوشش میں ہیں پی ٹی آئی کو ایک جمہوری ادارہ بنایا جائے، ایک ایسا ادارہ جو قانون سے بالاتر نہ ہو، ایک ایسی قیادت ہو جو قوم کو بنانے پر توجہ دے، ایک ایسی قیادت جو نوجوانوں کی زبان پر گالی اور ہاتھ میں ڈنڈا نہ دے، یہ وہ بنیادی اصول تھے جس کے تحت پارٹی بنائی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ پارٹی ایک خوبصورت خواب تھا جو ڈراؤنی حقیقت بن چکا، چاہتے ہیں پی ٹی آئی ایک ایسی سیاسی قوت بنے جس سے پاکستان معاشی طور پر آگے پڑھے۔
-

سیاست کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کرنے سے ملک کو نقصان ہو رہا ہے،بلاول بھٹو زرداری
پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عوام کی بلاتفریق خدمت کریں گے، ہم سب مل کر مہنگائی، غربت کا مقابلہ کریں گے، عوام کے ساتھ بیٹھ کر تمام مسائل کا حل نکالوں گا۔ پیپلزپارٹی نفرت اور تقسیم کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی، حکومت بنی تو نفرت اور تقسیم کی سیاست کو دفن کروں گا۔ آصفہ بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ حکومت میں آکر ملک بھر میں 30 لاکھ گھربنا کردیں گے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ نہ کھپے نہ کھپے، میاں صاحب نہ کھپے، اگر کوئی جماعت آپ کی نمائندگی کر سکتی ہے تو وہ پیپلز پارٹی ہے، ہم نے بہت مشکل دور دیکھے، کوویڈ کا دور دیکھا، سیلاب کا سامنا کیا، سیلاب کے دوران شکار پور آیا تھا، سیلاب متاثرین خواتین کا مطالبہ تھا کہ گھر بنا کر دیے جائیں، بطور وزیر خارجہ پوری دنیا سے پیسا اکٹھا کیا، 20 لاکھ گھر بنا رہے ہیں۔
بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ سندھ میں نفرت کی سیاست شروع کرنے والوں کو بھرپور جواب دیں، تیر پر ٹھپا لگا کر میرے امیدواروں کو منتخب کروادیں، مجھے شکار پور سے 100 فیصد نشستیں چاہئیں، مجھے اکثریت دلائیں گے تو آپ کے مسائل حل کرنا آسان ہوگا، آپ کی جدوجہد کر رہا ہوں، آپ پیپلز پارٹی کا ساتھ دیں، آپ کے جو مسائل ہوں گے، آپ کے ساتھ بیٹھ کر حل نکا لوں گا۔پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ دیگر سیاسی جماعتیں نفرت اور تقسیم کی سیاست کر رہی ہیں، سیاست کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کرنے سے ملک کو نقصان ہو رہا ہے، تخت لاہور کی لڑائی کا بوجھ آپ اٹھا رہے ہیں، پیپلز پارٹی نفرت کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی، وزیراعظم بن کرنفرت اور تقسیم کی سیاست ختم کروں گا، کوئی مذہب، لسانی اور فرقہ وارانہ سیاست پر تقسیم کرنا چاہتا ہے، میں بلا تفریق آپ کی خدمت کرنا چاہتا ہوں۔ -

استحکام پاکستان پی ایم ایل این کے ساتھ ملکر قوم کی قسمت بدل سکتی ہے،جہانگیر ترین
مسلم ن لیگ اور آئی پی پی عوام کی قسمت بدل دینگے، مل کر لوگوں کی خدمت کرنی ہے۔ سربراہ استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) جہانگیر ترین نے ملتان میں جلسے سے خطاب میں کہا کہ مجھے بہت خوشی ہوتی ہے ملتان آکر، یہ حلقہ میرا آبائی گھر ہے،میں سیاست میں حادثاتی طور پر آیا۔ان کا کہنا تھا کہ میرے لوگوں نے میرے اوپر مہربانی کی اور میں لودھراں سے 40 ہزار ووٹوں سے جیتا۔انھوں نے مزید بتایا کہ میرے بہنوئی احمد محمود نے مجھے رحیم یار خان سے الیکشن لڑنے کا کہا، مجھے ایوان میں جاکر پتا چلا کہ یہاں تو سیاست ہی مختلف ہے۔انھوں نے کہا کہ مجھ سے کہا گیا کہ آبائی گھر میں جاکر الیکشن لڑیں آپ وہاں سے جیتیں گے، جب سے میں نے کاغذات جمع کروائے ہیں آپ کی محبت دیکھ کر بہت خوش ہوں۔سربراہ استحکام پاکستان پارٹی جہانگیر ترین نے کہا کہ آپ نے مجھے کامیاب کیا تو میں ملتان کو کبھی نہیں چھوڑوں گا۔انھوں نے کہا کہ لودھراں میں بہت کام کیے ہیں پہلے جو 100 کام کیے تھے اب 500 کروں گا۔ اگر عوام مجھے الیکشن جیتوائیں گے تو اپنے حلقے میں کام شروع ہی 500 سے ہوگا۔