لاہور میں مزدور کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس وقت کوئی ادارہ ایسا نہیں ہے جو مزدور کے بارے میں کچھ سوچ رہا ہو، ہماری اسمبلیوں اور سینیٹ میں صرف جاگیردار بیٹھا ہے، یہاں جو نظام ہے اس میں ہر حکومت میں ایک جیسے لوگ ہی نظر آتے ہیں۔پاکستان کا مزدور لاوارث نہیں ہے، ہماری پوری ٹیم آپ کے ساتھ ہے، مزدور پاکستان کی جان اور عزت ہے مگر ریاست اور پاکستان کا نظام ایسا ہے کہ مزدور سے کام تو لیا جاتا ہے لیکن ان کے گھر والوں کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اگر آج ڈھائی کروڑ بچہ تعلیم سے دور ہے اور سات کروڑ سے زائد نوجوان روزگار سے محروم ہے تو اس کی وجہ مسلم لیگ ن، پی پی پی اور پی ٹی آئی ہیں، ریلوے کی ناکامی کی وجہ اس کا مزدور نہیں بلکہ اس کی کرپٹ مینجمنٹ ہے، اگر وزیر خزانہ کی تنخواہ میں تاخیر ہوتی ہے تو یہ مزدور بھی انتظار کر لیں گے۔امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ ریلوے میں مزدوروں کی بہت ساری آسامیاں خالی ہیں، جو مزدور مر چکے ہیں ان کے بچوں کو ملازمت ملنی چاہئے، لیکن یہ لوگ وہ آسامیاں ختم کر دیتے ہیں، مسلم لیگ ن، پی پی پی اور پی ٹی آئی نے مل کر ریلوے کو تباہ کیا، جب تک یہ لوگ بیٹھے ہیں مزدور ترقی نہیں کرے گا، صرف سرمایہ کار اور جاگیردار ہی ترقی کرے گا۔سراج الحق کا مزید کہنا تھا کہ حکومت مزدوروں کا خیال نہیں رکھتی، جن لوگوں کو آپ اپنی بات سنانا چاہتے ہیں وہ اندھے اور بہرے ہیں، آپ لوگ باہر ہیں اندر کوئی اور فیصلے کر رہا ہے، پاکستان میں کچھ گھرانے ملک کے تمام وسائل کو کنٹرول کر رہے ہیں، جماعت اسلامی ہی پاکستان کے ریلوے نظام کو بہتر کر سکتی ہے۔
Author: صدف ابرار
-

اسلام آباد ٹریفک پولیس ان ایکشن، خلاف ورزی کے صورت میں کاروائی کا فیصلہ
اسلام آباد میں ٹریفک پولیس نے بغیر لائسنس گاڑی چلانے والوں کیخلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے اسلام آباد کے داخلی و خارجی راستوں پر ڈرائیور لائسنس چیک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اسلام آباد میں بغیر ڈرائیونگ لائسنس گاڑی چلانے والوں کے خلاف سخت ایکشن لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ٹریفک پولیس اسلام آباد کے مطابق وفاقی دارالحکومت کے داخلی و خارجی راستوں پر ڈرائیونگ لائسنس چیک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور لائسنس نہ ہونے پر اسلام آباد میں گاڑی داخل یا چلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔پولیس کے مطابق لائسنس نہ ہونے پر نجی یا سرکاری گاڑی کے ڈرائیور کے خلاف کارروائی ہوگی اور اس حوالے سے چیف پولیس آفیسر سیف سٹی پولیس سمیت تعلیمی اداروں کو بھی خطوط ارسال کر دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ لائسنس چیکنگ کیلئے چوک چوراہوں پر اہلکاربھی تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور ایس ایس پی سرفراز ورک نے ٹریفک زون انچارج افسران کو اس بابت عملدرآمد کا حکم بھی جاری کر دیا ہے۔
-

بانی تحریک انصاف کی جانب سےکارکنان کوانتخابات میں حصہ لینے کی تاکید ،اور حکمت عملی کا پیغام
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے نئی انتخابی حکمت عملی کا اعلان کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ کارکنوں کو کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ ترجمان پی ٹی آئی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بانی چئیرمین عمران خان نے ذیادہ سے ذیادہ کارکنان کو الیکشن کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی ہدایت کی ہے تاکہ پارٹی کے پاس آپشنز موجود ہوں۔ پی ٹی آئی اگلے دوہفتوں میں ٹکٹس فائنل کرے گی۔پی ٹی آئی کی جانب سے کاغذات نامزدگی جمع کرانے والوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ’بہتر ہے الیکشن عمل سے وابستہ کسی ماہر وکیل کی خدمات حاصل کر کے کاغذات اچھی طرح چیک کروا کر جمع کروائے جائیں‘۔ترجمان پی ٹی آئی نے یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ کاغذات حاصل کرنے، جمع کروانے یا ان کی جانچ پڑتال کے لئے خود آپ کو جانا ضروری نہیں ہے۔ آپ وکیلوں کی ٹیم کو اس عمل کے لیے استعمال کریں۔پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ہر حلقے سے متعدد مضبوط کورنگ امیدوار بھی کاغذات نامزدگی جمع کروائیں۔ترجمان کے مطابق کاغذات نامزدگی حاصل اور جمع کرتے وقت یہ بتانا ضروری نہیں کہ آپ نے کس جماعت کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنا ہے۔
تحریک انصاف کے کارکنان کے نام اہم پیغام
بانی چئیرمین عمران خان کی ہدایت ہے کہ ذیادہ سے ذیادہ کارکنان الیکشن کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروائیں تاکہ پارٹی کے پاس آپشنز موجود ہوں
ٹکٹس اگلے دو ہفتوں میں فائنل ہوں گے
1: 20 تا 22 دسمبر کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی تاریخ ہے- اس کے…
— PTI (@PTIofficial) December 21, 2023
ساتھ ہی ہدایت کی گئی ہے کہ اثاثہ جات اور بنک قرض، ٹریولنگ ریکارڈ، ٹیکس ریکارڈ وغیرہ انتہائی احتیاط سے چیک کر کے کاغذات جمع کروائیں تاکہ کوئی کمی نہ رہے۔مزید ہدایت کی گئی ہے کہ الیکشن کے طریقہ کار کے ماہرین اور حلقے کے اچھے اور ماہر وکلاء کو اپنی ٹیم کا لازمی جزو بنائیں۔ ترجمان پی ٹی آئی کے مطابق قومی اسمبلی کے انتخابات میں کوئی بھی ووٹر کسی بھی حلقے سے امیدوار ہو سکتا ہے. البتہ صوبائی اسمبلی کے حلقے میں حصہ لینے کیلئے درخواست دہندہ کا اسی صوبے کا ووٹر ہونا لازمی ہے- تجویز کنندہ اور تائید کنندہ سب سے اہم ہیںان کا درخواست دہندہ کے خواہش مند صوبائی / قومی اسمبلی کے متعلقہ حلقے کا ووٹر ہونا لازم ہے- اس سلسلے میں الیکشن کمیشن سے ان کا شناختی کارڈ دے کر متعلقہ ووٹر سرٹیفکیٹ حاصل کیا جا سکتا ہے جو انتہائی ضروری اور ناگزیر پیپر ہے. ہر حلقے سےمتعدد مضبوط کورنگ امیدواران بھی کاغذات نامزدگی جمع کروائیں- چونکہ ٹکٹ جمع کروانے کی تاریخ 11 جنوری ہے اس لیے کاغذات نامزدگی حاصل اور جمع کرتے وقت یہ بتانا ضروری نہیں ہےکہ آپ نے کس جماعت کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنا ہے- اثاثہ جات اور بنک قرض، ٹریولنگ ریکارڈ، ٹیکس ریکارڈ وغیرہ انتہائی احتیاط سے چیک کر کے کاغذات جمع کروائیں تاکہ کوئی کمی نہ رہے- ساتھ لگنے والے ہر پیپر اور فوٹو کاپی کو نوٹری پبلک سے اٹیسٹ کروا کر اچھی طرح چیک کرنے کے بعد جمع کروائیں. کسی ماہر وکیل سے مشورہ کر کے درخواست دہندہ اپنے اوپر ہونے والے نامعلوم کیسز یا ٹیکس نوٹسز وغیرہ کا پتہ کروانے کے لئے متعلقہ ہائیکورٹس میں رٹ کرسکتا ہے. وکیل کے مشورے سے اس رٹ کی کاپی اور بیان حلفی (اگر ضرورت ہو) اپنے کاغذات کے ساتھ لگانا ہوں گے.الیکشن کے طریقہ کار کے ماہرین اور اور حلقے کے اچھے اور ماہر وکلأ کو اپنی ٹیم کا لازمی جزو بنائیں-اپنی متعلقہ ضلعی / مقامی تنظیم سے مستقل رابطہ رکھیں. -

مسلم لیگ ن نے الیکشن کمیشن سے الیکشن شیڈول میں ترمیم کا مطالبہ کر دیا
مسلم لیگ ن کے رہنما اسحاق ڈار نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے 8 فروری کی پولنگ کی تاریخ تبدیل کیے بغیر الیکشن شیڈول میں ترمیم کا مطالبہ کر دیا۔ جس کا مراسلہ الیکش کمیشن بھیج دیا گیا، مراسلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن پولنگ کی تاریخ میں تبدیلی کیے بغیر شیڈول میں ترمیم کر سکتا ہے۔اسحاق ڈار کے مراسلے کے ذریعے مسلم لیگ ن نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کے لیے الیکشن کمیشن سے 2 روز کی توسیع مانگ لی۔
مراسلے میں الیکشن کمیشن سے کہا گیا ہے کہ کاغذاتِ نامزدگی کے ساتھ مختلف دستاویزات بھی جمع کرانا ہوتی ہیں، کاغذاتِ نامزدگی کے ساتھ مختلف سرکاری محکموں کے این او سی بھی منسلک کرنا ہوتے ہیں۔اسحاق ڈار کے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کے لیے صرف 3 دن دیے گئے ہیں جبکہ کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال کے لیے 7 دن مختص کیے گئے ہیں۔اسحاق ڈار نے مراسلے میں کہا ہے کہ دستاویزات مکمل کرنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے، دستاویزات مکمل نہ ہونے پر کاغذاتِ نامزدگی مسترد ہو جاتے ہیں مراسلے میں ن لیگ کی جانب سے استدعا کی گئی ہے کہ امیدواروں کی سہولت کے لیے الیکشن کمیشن کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کی تاریخ میں 2 دن کی توسیع کرے۔اسحاق ڈارکے مراسلے میں یہ استدعا بھی کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن 8 فروری کی پولنگ کی تاریخ تبدیل کیے بغیر الیکشن شیڈول میں ترمیم کرے۔ -

چوہدری پرویز الہی اور شیخ رشید کہاں کہاں سے الیکش لڑے گے؟
نواز شریف اور شہباز شریف نے مل کر ملک کے ساتھ جو کیا وہ عوام کبھی نہیں بھولے گی، معیشت اور غریبوں کی حالت آپ کے سامنے ہی ہے۔ سابق وزیر اعلی پنجاب پرویز الہی انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد کے احاطے میں گفتگو کرتے ہوئے بولے کہ فیلڈ ہی نہیں لیول کیا کرنا ہے، ملک میں جنگل کا قانون ہے۔ کہ نواز شریف پہلے ہی وزیر اعظم بن کر بیٹھا ہوا ہے۔ ملک میں الیکشن شفاف نہ ہونے دیے تو ملک میں اتنا بڑا ہنگامہ ہوگا کہ لوگ تاریخ کو بھول جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن لڑ رہا ہوں 3 جگہوں سے ایم پی اے 3 قومی اسمبلی کے حلقوں سے انتحابات میں حصہ لوں گا، اس وقت قانون کی حالت یہ ہے کہ مجھے 3 بار دل کی تکلیف ہوئی ہے لیکن مجھے اسپتال نہیں جانے دیا گیا۔جوڈیشل کمپلیکس میں چوہدری پرویز الٰہی کی وکیل بابر اعوان اور شیح رشید سے بھی ملاقات ہوئی، شیخ رشید نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں حلقہ 56 اور 57 دونوں سے الیکشن لڑوں گا، پرویز الٰہی نے بھی شیخ رشید کی حمایت کا اعلان کیا۔شیخ رشید نے کہا کہ حلقہ 56 اور 57 سے لڑ رہا ہوں، پرویز الٰہی کا مشکور ہوں کہ انہوں نے میرا ساتھ دیا ہے، میں نے کسی کیخلاف پریس کانفرنس نہیں کی، میں عوامی مسلم لیگ کی جانب سے الیکشن لڑوں گا لیکن پی ٹی آئی کی حمایت حاصل کر لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ پی ٹی آئی میرے ساتھ حلقہ 56 اور 57 میں کھڑی ہے۔
-

چیف الیکشن کمشنر نے نگران وزیراعظم کے مشیر احد خان چیمہ کو آج ہی عہدے سے فارغ کر دیا
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 5 رکنی بنچ نے نگران وزراء کو ہٹانے کے معاملے پر نگران وزیر فواد حسن فواد کے متعلق کیس کی سماعت کی درخواست گزار سید عزیز الدین کاکاخیل ایڈووکیٹ پیش نہ ہوئے جس پر الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔واضح رہے کہ سید عزیز الدین کاکاخیل نے سیاسی وابستگی کی بنیاد پر فواد حسن فواد کو نگران کابینہ سے ہٹانے کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔اس موقع پر وفاقی حکومت کے نمائندے الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے تو چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے حکم دیا کہ احد چیمہ کو ہٹانے کا حکم دیا تھا، لہٰذا آج ہی عمل کروائیں۔واضح رہے کہ دو روز قبل الیکشن کمیشن نے احد چیمہ کو فوری مشیر کے عہدے سے ہٹانے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ عام انتخابات پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
-

سائفر کیس میں اِن کیمرا ٹرائل کے خلاف بانیٔ پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت جاری
سائفر کیس میں اِن کیمرا ٹرائل کے خلاف بانیٔ پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت ہو رہی ہے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب درخواست پر سماعت کر رہے ہیں ا س دوران اسلام آباد ہائی کورٹ سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پراسکیوشن کی درخواست پر عدالت نے ٹرائل اِن کیمرا کرنے کا فیصلہ سنایا، عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ سائفر کیس کی کوریج پر بھی پابندی ہو گی، عدالت نے لکھا کہ کارروائی کی رپورٹنگ سے دوست ممالک کے ساتھ تعلقات پر اثر پڑ سکتا ہے، کہا گیا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کے عمل سے سائفر کی سیکیورٹی کو متاثر کیا گیا، پراسیکیوشن کی طرف سے ایک الزام لگایا گیا، کوئی وضاحت نہیں کی گئی کہ سیکیورٹی کیا تھی؟ متعلقہ حکام بتاتے ہیں کہ سائفر کے کوڈ ہر کچھ ماہ بعد تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ کیا عدالت نے اِن کیمرا پروسیڈنگ کی درخواست پر نوٹس جاری کیا تھا؟ ملزمان پر فردِ جرم کب عائد ہوئی؟ اس کیس میں ایک مسئلہ ہو رہا ہے، ٹرائل کوئی کر رہا ہے اور اپیلیں کوئی دوسرا وکیل دائر کر رہا ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ مسٹر پنجوتھا یہاں ہیں، یہ ٹرائل کر رہے ہیں، انہوں نے بتایا ہے کہ 14 دسمبر کو فردِ جرم عائد ہوئی، 13 دسمبر کو اِن کیمرا کی درخواست پر 14 دسمبر کے لیے نوٹس جاری ہوا تھا۔ اور اس حوالے سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اِن کیمرا کارروائی کی درخواست پر ٹرائل کورٹ نے نوٹس جاری کیا تھا۔
سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو بتایا کہ اہلِ خانہ کو پابند بنایا گیا ہے کہ عدالتی کارروائی سے متعلق بات نہیں کر سکتے۔ عدالت نے پوچھا کہ اگر فردِ جرم عائد ہو گئی ہے تو یہ بھی نہیں بتا سکتے کہ فردِ جرم عائد ہو گئی ہے؟وکیل نے جواب دیا کہ بالکل، انہیں پابند کیا گیا ہے کہ وہ عدالتی کارروائی نہیں بتا سکتے، میڈیا، سوشل میڈیا پر سائفر کیس کی کارروائی پبلش کرنے کی پابندی لگائی گئی ہے۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ راجہ صاحب! آپ کا کیس 1 گھنٹے بعد سنیں گے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو بھی بلا لیتے ہیں پھر تفصیل سے دیکھ لیتے ہیں۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کا 14 دسمبر کا فیصلہ ہائی کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس کی سماعت میں وقفہ کر دیا۔ عدالتِ عالیہ میں وقفے کے بعد سماعت شروع ہوئی تو بانیٔ پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ روسٹرم پر آ گئے۔اس موقع پر پٹیشنر کی بہنیں علیمہ خان اور عظمیٰ خان بھی کمرۂ عدالت میں موجود تھیں جبکہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب ملک میں ہیں؟ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اٹارنی جنرل ملک میں موجود ہیں۔ اس دوران سلمان اکرم راجہ نے دلائل دینا شروع کئے، -

بھارتی انٹیلیجنس ایجنسی کی پاکستان میں دہشتگردی کی مالی معاونت پر تشویش ہے،ترجمان دفتر خارجہ
دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کی جارحیت پر تشویش ہے اور اس کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔دوسرا یہ کہ ٹی ٹی پی کی طرف سے جدید ہتھیاروں کے استعمال پر پاکستان کو شدید تشویش ہے، پاکستان افغانستان سے ٹی ٹی پی کے بارے میں مؤثر اقدامات کی توقع کرتا ہے۔اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ اُمید کرتے ہیں افغانستان کی سرزمین پاکستان مخالف استعمال نہ ہو۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ افغانستان کی طرف سے ٹی ٹی پی کے خلاف کسی ایکشن اور اس کے مؤثر ہونے کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے، افغانستان سے ٹی ٹی پی کے بارے میں مؤثر اقدامات کی توقع کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی انٹیلیجنس ایجنسی کی پاکستان میں دہشتگردی کی مالی معاونت پر تشویش ہے، بھارتی ایجنسی کی معاونت سے متعدد دہشت گرد گروپ پاکستان میں متحرک ہیں، آنے والے دنوں میں اس کی مزید تفصیلات دیں گے۔
ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ بھارت کا اغواء اور دہشت گردی کا نیٹ ورک پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے، پاکستان بھارتی معاونت سے دہشت گردی کا نشانہ رہا ہے، کلبھوشن اس بات کا ثبوت ہے، ہم سمجھتے ہیں پاکستان میں توہین مذہب کا قانون تمام مذاہب کے لیے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان اچھے اور مضبوط تعلقات ہیں، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے امریکا سمیت تمام ممالک سے رابطے میں رہتے ہیں۔دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ نگراں وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ نے امیر کویت کے انتقال پر تعزیت کے لیے کویت کا دورہ کیا، انہوں نے امیر کویت کے انتقال پر حکومت اور پاکستانی عوام کی جانب سے اظہار تعزیت کیا۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ نئی دلی میں پاکستانی ہائی کمیشن نے سکھ یاتریوں کو ویزے جاری کیے، پاکستان اور برونائی کے مابین دوطرفہ مشاورت اور تعاون کا ورچوئل افتتاحی دور منعقد ہوا، رواں ماہ پاکستان نے 366 ہندوؤں کو کٹاس راج میں مذہبی رسومات کے لیے ویزے جاری کیے، رواں سال 8 ہزار 644 بھارتی ہندو اور سکھ زائرین کو ویزے جاری کیے گئے، پاکستان ہندو اور سکھ یاتریوں کو خوش آمدید کہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے وزیرِ خارجہ نے بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہان کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر خطوط لکھے، خطوط میں بھارت کے غیرقانونی زیرِ قبضہ کشمیر میں جاری بھارتی غیرقانونی اور یکطرفہ اقدامات سے آگاہ کیا، پاکستان کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حصول تک ان کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ممتاز زہرہ بلوچ نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کو فلسطین میں جاری اسرائیلی جارحیت پر شدید تشویش ہے، پاکستان غزہ میں اسرائیلی جارحیت کی پُرزور مذمت کرتا ہے۔ -

دنیا بھر میں ایکس سروس بحال ہو گئی
دنیا بھر میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر)کی سروس بحال ہوگئی، غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ اور موبائل ایپلی کیشن دونوں کی سروس آج صبح 11 بجے سے دنیا بھر میں ڈاؤن رہنے کے بعد ایک بار پھر بحال ہوگئی ہے۔
اس سے قبل پاکستان سمیت دنیاکے مختلف ممالک میں ٹویٹر (ایکس) کی سروس کام نہیں کر رہی، ڈاؤن ڈیٹکٹر ڈاٹ کام نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹوئٹر ایکس کی سروسز پوری دنیا میں تعطل کا شکار ہیں۔ ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق دنیا بھر سے تقریباً 70 ہزار شکایات موصول ہوئیں۔ سروس میسر نہ آنے پر سوشل میڈیا صارفین کو مشکلات کا سامناکرنا پڑ رہا ہے، اس بارے میں ابھی تک ٹوئٹر انتظامیہ کی جانب سے کسی قسم کا وضاحتی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایکس پر جانے والے صارفین کو ریگولر ٹوئٹس کی جگہ ’ویکم ٹو یور ٹائم لائن‘ لکھا نظر آیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کوئی بڑا مسئلہ ہوا ہے۔ -

گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں بھارت میں کورونا وائرس سے تین اموات ہوئیں،
کورونا وائرس ایک بار پھر بے قابو ہوتا جا رہا ہے ،بھارت میں 24 گھنٹوں میں کورونا کے 358 کیسز اور تین اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ بھارت میں کورونا وائرس سے اب تک اموات کی تعداد 5 لاکھ 33 ہزار سے زائد ہو گئی ہے بھارتی میڈیا کے مطابق کیرالہ میں 24 گھنٹوں میں کورونا سے 3 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔بھارتی وزارت صحت نے کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر ملک بھر میں ماسک ایڈوائزری جاری کر دی ہے جس کے مطابق تمام بزرگ شہریوں اور ایک سے زائد بیماریوں کے شکار افراد کے لیے ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ بھارت میں کورونا کے نئے سب ویرینٹ جے این 1 کے سبب کورونا کیسز میں اضافہ ہوا ہے، کورونا کے نئے کیسز کیرالہ، کرناٹک، گجرات، تامل ناڈو اور مہاراشٹرا میں سامنے آئے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا، ملائیشیا اور سنگاپور میں کورونا کیسز بڑھنے کی وجہ اسی ویرینٹ کو قرار دیا جا رہا ہے۔
