چین ایشیا اکنامک ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن (CAEDA) کے ایک وفد نے، جس کی قیادت مسٹر چیان کیو ژو اور مسٹر جیان جن گو کر رہے تھے، جمعرات کے روز اسلام آباد میں وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں CAEDA نے پاکستان کے ساتھ مختلف اقتصادی اقدامات میں تعاون کے لیے اپنی دلچسپی کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران، وفد اور وزیر احسن اقبال نے کئی اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا، جن میں “پاکستان زیرو ٹیرف ٹریڈ زون” کا قیام، چینی درآمدات کے لیے سروس سینٹر کا قیام، زراعت اور مویشیوں میں سرمایہ کاری، برآمداتی منصوبے اور B2B سرمایہ کاری شامل تھے۔وفد کے خیر مقدم کرتے ہوئے وزیر احسن اقبال نے پاکستان اور چین کے درمیان گہرے اور برادرانہ تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ایک منفرد اور انمول دوستی میں جڑے ہوئے ہیں۔ وزیر نے حال ہی میں کراچی میں ہونے والے دہشت گردی کے افسوسناک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے اسے پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی بزدلانہ کوشش قرار دیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پاکستان کی حکومت اپنے چینی بھائیوں اور بہنوں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
احسن اقبال نے سی پیک فیز ٹو پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس مرحلے میں B2B شراکت داری کو فروغ ملے گا، جس سے پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان تعاون کے مواقع بڑھیں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس تعاون سے پاکستان کے سرکاری اور نجی شعبوں کی استعداد کار میں اضافہ ہوگا۔معیشت کے استحکام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لیے پختہ عزم رکھتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان میں سیکورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانا اقتصادی ترقی کے لیے ضروری ہے۔وفاقی وزیر نے چینی صنعتوں کی پاکستان منتقلی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں لیبر اور پیداواری لاگت چین کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ انہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ چینی کمپنیوں کے لیے یہ ایک بہترین موقع ہے کہ وہ سستی مصنوعات تیار کر کے انہیں یورپ اور امریکہ کی منڈیوں میں برآمد کریں، جس سے زیادہ منافع کمانے کے مواقع حاصل ہوں گے۔
وزیر احسن اقبال نے پاکستان کے زرعی شعبے میں دستیاب مواقع کو نمایاں کرتے ہوئے خاص طور پر گلگت بلتستان جیسے علاقوں کا ذکر کیا، جہاں چیری جیسی مصنوعات کو مسابقتی نرخوں پر چین کو برآمد کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے وسیع معدنی ذخائر، ماہی گیری، زراعت اور ٹیکسٹائل کے شعبوں میں چین کے ساتھ تعاون کے امکانات ہیں، اور پاکستان ان شعبوں میں ترقی کے لیے چین سے جدید ٹیکنالوجی اور مہارت حاصل کرنا چاہتا ہے۔خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر احسن اقبال نے چینی کاروباری برادری کے لیے سرمایہ کاری اور ترقی کے مواقع پر زور دیا۔ انہوں نے چینی سرمایہ کاروں کی ہر ممکن معاونت کے عزم کا اعادہ کیا اور پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے ون-اسٹاپ سروس سینٹر کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کی مزید مضبوطی کے لیے ایک اہم قدم ہے، جس کے ذریعے پاکستان اور چین کی دوستی کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کی توقع کی جا رہی ہے۔
Author: صدف ابرار
-

پاکستان کے لیے اقتصادی ترقی کے نئے مواقع: چینی وفد کی احسن اقبال سے ملاقات
-

ایف بی آر کی تحقیقات میں سیلز ٹیکس چوری کا بھانڈا پھوٹ گیا
وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے جمعرات کو ایف بی آر ہیڈکوارٹرز میں ایک پریس کانفرنس کے دوران چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال کے ساتھ مختلف صنعتی شعبوں میں سیلز ٹیکس چوری کی تحقیقات کی تفصیلات کا اعلان کیا۔ ان تحقیقات کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ٹیکس چوری اور فراڈ کی وجہ سے ملک میں 3,400 ارب روپے کا ٹیکس گیپ موجود ہے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ ملک میں رجسٹر ہونے کے اہل تین لاکھ مینوفیکچررز میں سے صرف 14 فیصد نے ہی رجسٹریشن کرائی ہے، جس سے سیلز ٹیکس چوری کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ کئی رجسٹرڈ کمپنیاں بھی ٹرن اوور کی غلط رپورٹنگ، زائد ان پٹ ٹیکس کا دعویٰ کرنے اور جعلی رسیدیں استعمال کرنے میں ملوث ہیں۔ پاکستان میں سیلز ٹیکس بہترین بین الاقوامی طریقہ کار کے مطابق ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی صورت میں جمع کیا جاتا ہے۔ اس نظام کے تحت کاروباری اداروں پر بھروسہ کیا جاتا ہے کہ وہ خریداروں سے سیلز ٹیکس وصول کریں گے، لیکن یہ دیکھا گیا ہے کہ اس اعتماد کو بڑے پیمانے پر مجروح کیا جا رہا ہے۔
وزیر خزانہ نے آئرن اینڈ اسٹیل، سیمنٹ، مشروبات، بیٹری اور ٹیکسٹائل کے شعبوں سے متعلق تحقیق کے نتائج کا بھی ذکر کیا۔ آئرن اینڈ اسٹیل کے 33 بڑے کاروباری ادارے 29 ارب روپے کے زائد ان پٹ ٹیکس کا دعویٰ کرتے ہوئے سیلز ٹیکس چوری میں ملوث پائے گئے ہیں۔ یہ ادارے کل فروخت کے 50 فیصد سے زیادہ حصہ کی نمائندگی کرتے ہیں، جبکہ جعلی ان پٹ ٹیکس کا بڑا ذریعہ سکریپ میٹل اور کوئلے کی خریداری ہے۔ بیٹری سیکٹر کے 6 کارخانہ داروں کی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس شعبے کا ایک بڑا حصہ 11 ارب روپے سے زائد ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کا دعویٰ کر رہا ہے، جو کہ اس صنعت کے بہترین طریقوں سے زیادہ ہے۔ سیمنٹ کے 19 کارخانوں نے مالی سال 23-24 میں 18 ارب روپے سے زائد ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کا دعویٰ کیا ہے۔ مشروبات تیار کرنے والے 16 کارخانوں میں سے کچھ نے مالی سال 24-2023 میں 15 ارب روپے سے زائد ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کا دعویٰ کیا ہے۔ ٹیکسٹائل کے 228 کارخانوں کے بارے میں کی گئی تحقیق میں یہ سامنے آیا ہے کہ ان میں سے کئی نے 169 ارب روپے سے زائد ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کا دعویٰ کیا ہے۔
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری کی وجہ سے گزشتہ مالی سال کے دوران گرفتاریوں اور فوجداری مقدمات کے اندراج میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں مالی سال 24-2023 میں جعلی ان پٹ ٹیکس کے دعووں میں نمایاں کمی آئی ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ بڑے پیمانے پر چوری اب بھی جاری ہے اور اس چوری سے نمٹنے کے لیے مزید سخت انفورسمنٹ کے اقدامات کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ وزیر خزانہ نے یہ بھی بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے مختلف شعبوں میں ٹیکس فراڈ کے ثبوت اکٹھے کر لیے ہیں، جن میں بیٹری سیکٹر کے 11 کیسز، آئرن اینڈ اسٹیل کے 897 کیسز اور کوئلے کی خریداری پر جعلی کلیمز کے 253 کیسز شامل ہیں۔ سیلز ٹیکس فراڈ کی کل رقم 227 ارب روپے ہے۔
انہوں نے کہا کہ بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جو آنے والے ہفتوں میں عمل درآمد کیا جائے گا۔ سیلز ٹیکس فراڈ ایک فوجداری جرم ہے اور قانون کے تحت اس کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، جس میں 10 سال تک قید اور بھاری جرمانہ شامل ہو سکتا ہے۔ انفرادی ملکیت کی صورت میں کاروبار کے مالکان، کمپنیوں کے ڈائریکٹرز، سی ای اوز، سی ایف اوز اور دیگر مجاز افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔یہ تحقیقات اور اس کے نتائج واضح کرتے ہیں کہ پاکستان میں ٹیکس نظام میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی موجود ہے، جس کا سدباب کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔ وزیر خزانہ کی جانب سے کی جانے والی یہ پریس کانفرنس ٹیکس چوری کے خلاف حکومتی عزم کا مظہر ہے۔
-

پنجاب میں سیاسی اجتماعات پر پابندی، سیکیورٹی خدشات کی بنا پر دفعہ 144 کا نفاذ
پنجاب کے آٹھ شہروں میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جس کا آغاز جمعرات 10 اکتوبر سے ہو رہا ہے اور یہ پابندی ہفتہ 12 اکتوبر تک جاری رہے گی۔ لاہور سے جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن کے مطابق، ملتان، ساہیوال، سرگودھا، گوجرانوالہ، وہاڑی، پاکپتن، اوکاڑہ اور وزیر آباد میں عوامی اجتماعات، دھرنے، جلسے اور مظاہرے منعقد نہیں کیے جا سکیں گے۔پنجاب حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ متعلقہ ضلعی انتظامیہ کی درخواست پر کیا گیا ہے۔ سیکیورٹی خطرات کا ذکر کرتے ہوئے حکام نے بتایا کہ ایسے عوامی اجتماعات دہشت گردوں کے لیے نرم ہدف بن سکتے ہیں، جس کی وجہ سے انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے یہ اقدامات ضروری ہیں۔
دفعہ 144 کے تحت عائد کردہ یہ پابندیاں عوامی امن و امان کو برقرار رکھنے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ عوامی اجتماعات کی غیر موجودگی میں سیکیورٹی فورسز کو زیادہ آسانی ہوگی کہ وہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی روک تھام کر سکیں۔یہ اقدام ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب ملک میں سیاسی عدم استحکام اور سیکیورٹی خدشات بڑھ رہے ہیں۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس دوران سیکیورٹی فورسز کے احکامات کی پیروی کریں اور کسی بھی غیر قانونی اجتماع میں شرکت نہ کریں۔حکومت کے اس اقدام پر مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے ردعمل سامنے آ سکتا ہے، کیونکہ یہ پابندیاں ان کی سیاسی سرگرمیوں پر اثرانداز ہو سکتی ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات عوامی رائے کو متاثر کر سکتے ہیں اور حکومت کی مقبولیت پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔حکومت کی جانب سے عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ موجودہ حالات میں حکام کے ساتھ تعاون کریں تاکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔ یہ نوٹیفکیشن اس بات کا عکاس ہے کہ حکومت سیکیورٹی کی صورتحال کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
-

سعودی حکومت کا تعاون تاریخی، ملکی معیشت پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے: عبدالعلیم خان
سعودی عرب کے وزیر سرمایہ کاری شیخ خالد بن عبدالعزیز الفالح کی قیادت میں 130 سرمایہ کاروں پر مشتمل اعلیٰ سطحی وفد نے پاکستان کا دورہ کیا، جس میں انہوں نے پاک سعودی بزنس فورم میں شرکت کی۔ اس تقریب میں ڈپٹی وزیراعظم، وفاقی وزراء، بزنس کمیونٹی کے اراکین اور مالیاتی اداروں کے سینئر نمائندے بھی موجود تھے۔
وفاقی وزیر سرمایہ کاری بورڈ، نجکاری اور مواصلات عبدالعلیم خان نے بزنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے باہمی تعلقات لازوال اور یادگار ہیں، اور سعودی حکومت کے تاریخی تعاون کے پاکستان کی معیشت پر دورس اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے مابین روابط میں اضافے کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے بزنس فورم کو کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لئے ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیا۔عبدالعلیم خان نے کہا کہ سرمایہ کاری کی وزارت سعودی بزنس کمیونٹی کو ہر ممکن مدد فراہم کرے گی، اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد بڑھاتے ہوئے تیزی سے آگے بڑھیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گہرے دوستانہ اور مضبوط معاشی تعلقات موجود ہیں، جن میں آنے والے دنوں میں نمایاں اضافہ ہونے کی توقع ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ جغرافیائی اعتبار سے پاکستان سعودی عرب کے لئے جنوبی و وسطی ایشیا سے "گیٹ وے” ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی گہرے پانیوں والی بندرگاہوں کی موجودگی اور ایشیا سے یورپ تک زمینی رابطہ کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا، جس سے کاروباری حجم میں اضافہ ممکن ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ سی پیک کے تحت پاکستان کو معاشی برتری حاصل ہوئی ہے، جس سے انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنا کر تجارتی سرگرمیوں کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ کانفرنس کے دوران مختلف مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہونے کی توقع ہے، جو دونوں ممالک کی بزنس کمیونٹی کے لئے فائدہ مند ثابت ہوں گی۔عبدالعلیم خان نے سعودی وزیر شیخ خالد بن عبدالعزیز الفالح کی آمد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے ان کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لئے اپنے بھرپور تعاون کی پیشکش کی۔
وفاقی وزیر نے بورڈ آف انویسٹمنٹ کے اعلیٰ حکام کے ہمراہ سعودی وفد کے ساتھ اجلاس منعقد کیا، جس میں دو طرفہ سرگرمیوں کو بڑھانے اور سرمایہ کاری کے نئے امکانات پر غور کیا گیا۔ اس اجلاس میں سعودی حکام، مالیاتی اداروں کے نمائندے اور عالمی مالیاتی تعاون کے ڈائریکٹرز نے بھی شرکت کی۔ عبدالعلیم خان نے سعودی حکومت اور شاہی خاندان کے تعاون پر انہیں خراج تحسین پیش کیا، اور پاکستان کے لئے ان کے تعاون کے لئے تہنیتی جذبات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے ملنے والی مدد سے پاکستان کی معیشت کو فروغ ملے گا اور نئے ترقیاتی امکانات پیدا ہوں گے۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے مابین اقتصادی روابط کو مزید مضبوط کرنے اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کو اجاگر کرنے کا اہم اقدام ہے، جس سے پاکستان کی معیشت میں بہتری کی امید ہے۔ -

اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو گورننس اور کوالٹی ایشورنس کے چیلنجز کا سامنا ہے: چیئرمین ایچ ای سی
چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) ڈاکٹر مختار احمد نے پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام کے سامنے موجود گورننس اور کوالٹی ایشورنس کے چیلنجز پر روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے یہ بات ایچ ای سی سیکریٹریٹ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ڈاکٹر مختار احمد نے یونیورسٹیوں کی قیادت، فیکلٹی، اور متعلقہ سرکاری محکموں پر زور دیا کہ وہ گورننس کے مسائل کو حل کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں، کیونکہ یہ مسائل تعلیم و تحقیق کے معیار کو متاثر کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ہم اپنی اعلیٰ تعلیمی اداروں میں گورننس کے نظام کو بہتر بنائیں گے تو اس کا براہ راست اثر تعلیم اور تحقیق کے معیار پر پڑے گا اور مالی مشکلات کا بھی حل نکلے گا، جو بہت سی جامعات کو درپیش ہیں۔انہوں نے ایچ ای سی کی پچھلے دو دہائیوں میں کی جانے والی شاندار کارکردگی کا ذکر کیا اور کہا کہ 2002 میں قیام کے بعد ایچ ای سی نے اعلیٰ تعلیم کی ترقی کے اہم شعبوں پر بھرپور توجہ دی ہے، جس میں فیکلٹی کی ترقی، تحقیق کا فروغ، تکنیکی تیاری، کوالٹی ایشورنس کی پالیسیاں، انفراسٹرکچر کی ترقی، اور بین الاقوامی اشتراک شامل ہیں۔
ڈاکٹر مختار نے حکومت کے مالی چیلنجز کے باوجود اعلیٰ تعلیم کے شعبے کی دیکھ بھال پر شکر گزار ہوتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مزید وسائل کی درخواست کی۔ انہوں نے کہا کہ "اعلیٰ تعلیم کی فنڈنگ گزشتہ کئی سالوں سے جمود کا شکار ہے، جبکہ جامعات کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔” انہوں نے سندھ حکومت کی تعریف کی، جس نے وفاقی گرانٹ کے علاوہ صوبائی جامعات کے لیے خاطر خواہ رقم فراہم کی ہے، اور دیگر صوبوں سے بھی درخواست کی کہ وہ اپنے جامعات کے لیے فنڈز کی فراہمی یقینی بنائیں۔
چیئرمین ایچ ای سی نے کہا کہ پاکستانی جامعات کے لیے ایک ایسا ایکو سسٹم تشکیل دیا گیا ہے تاکہ وہ جامع انداز میں ترقی کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ محققین نے مختلف شعبوں میں کافی تحقیق کی ہے، انہیں اپنی تحقیق کے ملک کی سماجی و اقتصادی ضروریات پر اثرات پر بھی غور کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر مختار نے مزید کہا کہ "ہماری آئی ٹی ٹیم ایک جامع منصوبے پر کام کر رہی ہے تاکہ ہمارے اعلیٰ تعلیمی ادارے باقی دنیا کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکیں۔” انہوں نے ایچ ای سی کی مختلف پالیسیوں کا ذکر کیا جو تعلیم و تحقیق کے معیار کی بہتری کے لیے متعارف کرائی گئی ہیں۔
انہوں نے ایچ ای سی کی طرف سے بی ایس، ایم ایس، اور پی ایچ ڈی کی تعلیم کے لیے فراہم کردہ اسکالرشپس کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ "ہمارے اسکالرز نے ثابت کیا ہے کہ اگر مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ حیرت انگیز کارنامے انجام دے سکتے ہیں۔کھیلوں کے میدان میں ایچ ای سی کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر مختار نے کہا کہ ایچ ای سی کھلاڑیوں کی تربیت کے لیے ایک نرسری کے طور پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کئی کھلاڑی جو ایچ ای سی کے پلیٹ فارم پر تربیت حاصل کر چکے ہیں، اب قومی اور بین الاقوامی چیمپئن شپ میں شاندار کارکردگی دکھا رہے ہیں۔
چیئرمین ایچ ای سی نے انڈسٹری اور تعلیمی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا اور انٹرن شپ کو ڈگری مکمل کرنے کے لیے لازمی قرار دینے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ طلباء کی جاب مارکیٹ میں کمی کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے انٹرپرینیورشپ کورسز متعارف کرائے گئے ہیں، تاکہ طلباء ملازمت کے مواقع پیدا کرنے والے بن سکیں۔تعلیمی اخراجات میں اضافے کے خدشات پر گفتگو کرتے ہوئے، انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ یونیورسٹی کی فیسوں کو کنٹرول کرنا ایچ ای سی کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے، کمیشن اداروں کو پالیسیوں، فنڈنگ، اور اسکالرشپس کے ذریعے سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
اس موقع پر ایچ ای سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ضیاء الحق قیوم، ممبر (ریسرچ اینڈ انوویشن) ڈاکٹر بشریٰ مرزا، نیشنل اکیڈمی فار ہائر ایجوکیشن کی منیجنگ ڈائریکٹر محترمہ نور آمنہ ملک، ایڈوائزر گلوبل انگیجمنٹ اویس احمد، ایڈوائزر اسکالرشپس محمد رضا چوہان، ڈائریکٹر میڈیا اینڈ کوآرڈینیشن طارق اقبال، ڈائریکٹر پلاننگ عرفان اللہ، ڈائریکٹر فنانس محترمہ ثمینہ درانی، اور ڈائریکٹر اسپورٹس جاوید میمن بھی موجود تھے۔ -

سپریم کورٹ کا شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے باعث تین روز کی تعطیلات کا اعلان
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہی اجلاس کے انعقاد کے موقع پر ملک بھر میں تین روز کی تعطیلات کا اعلان کیا ہے۔ یہ تعطیلات 14 سے 16 اکتوبر تک جاری رہیں گی۔ کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن کے مطابق، ان تعطیلات کا اطلاق صرف سپریم کورٹ کی پرنسپل سیٹ اسلام آباد پر ہوگا۔نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ پرنسپل سیٹ اسلام آباد کے علاوہ تمام صوبائی رجسٹریاں معمول کے مطابق کھلی رہیں گی۔ اس اقدام کا مقصد شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے دوران متعلقہ حکام اور قانونی پیشہ ور افراد کی سہولت فراہم کرنا ہے، تاکہ اہم اجلاس کی کامیابی کے لیے انتظامات کو بہتر بنایا جا سکے۔یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا ہے جب ملک بھر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے اعلیٰ حکام کی موجودگی متوقع ہے۔
اجلاس میں مختلف بین الاقوامی مسائل، اقتصادی تعاون، سیکیورٹی چیلنجز اور ترقیاتی منصوبوں پر بات چیت کی جائے گی۔حکومت نے اس حوالے سے تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور اجلاس کی میزبانی کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس تناظر میں، ملک کی عدلیہ بھی اس اہم موقع پر اپنے عمل کو منظم رکھنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔تین روزہ تعطیلات کے دوران سپریم کورٹ میں معمول کے مقدمات کی سماعت نہیں ہوگی، تاہم دیگر عدالتیں اور صوبائی رجسٹریاں اپنی روایتی کارروائی جاری رکھیں گی۔ یہ اقدام عدلیہ کی جانب سے بین الاقوامی فورم پر پاکستان کی شمولیت اور اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے بھی ہے۔حکومت کی جانب سے یہ اقدام ملکی اور بین الاقوامی سطح پر تعاون کی راہوں کو ہموار کرنے کے لیے کیا گیا ہے، تاکہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔ -

سعودی عرب کے وزیر سرمایہ کاری کا پاکستان کے ساتھ 27 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط
اسلام آباد: سعودی عرب کے وزیر برائے سرمایہ کاری خالد بن عبدالعزیز الفالح نے آج اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے دوران کہا کہ پاکستان کے ساتھ دستخط کیے جانے والے 27 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کے نئے سفر کا آغاز ہیں۔ سعودی وزیر نے پاکستانی حکومت کے وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب پاکستان میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے، خاص طور پر کان کنی، زراعت، فوڈ سیکیورٹی، اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری کا پورٹ فولیو سعودی عرب کے عزم کا عکاس ہے کہ وہ پاکستان کی ترقی میں مدد دینے کے لیے تیار ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر سعودی عرب کے ساتھ دہائیوں پر محیط برادرانہ تعلقات کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے، اور یہ تعلقات دن بہ دن مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔
سعودی وزیر کی آمد کو دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری اور معاشی تعلقات کو مضبوط بنانے کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ دورہ باہمی دلچسپی کے شعبوں میں وسیع تر تعاون کو فروغ دے گا۔ انہوں نے سعودی وزیر سرمایہ کاری کو ہلال پاکستان ایوارڈ ملنے پر مبارکباد بھی دی، جو کہ پاکستان سعودی تعلقات کو آگے بڑھانے میں ان کی شاندار خدمات کا اعتراف ہے۔
وزیراعظم نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ اپنے حالیہ دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ دو طرفہ تعلقات میں بڑھتی ہوئی رفتار کا ثبوت ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی خوشی کا اظہار کیا کہ پاکستان سعودی بزنس فورم میں ہونے والی نتیجہ خیز بات چیت نے نئی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کی ہے۔اس موقع پر، وزیراعظم نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے ذریعے ہونے والی پیش رفت پر بھی روشنی ڈالی، جو کہ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کو حکومت کے نجکاری پروگرام سے بھی آگاہ کیا اور ایوی ایشن کے شعبے، خاص طور پر بین الاقوامی ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دی۔
وزیراعظم نے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے حوالے سے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا بھی اعادہ کیا، خاص طور پر دفاعی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کی حمایت کا ذکر کیا۔ انہوں نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) میں سعودی عرب کے موقف کی بھی تعریف کی، خاص طور پر فلسطین، کشمیر، اور اسلامو فوبیا جیسے معاملات پر۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستانی تارکین وطن دونوں ممالک کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اور یہ تعلقات دونوں قوموں کے لیے فائدہ مند ہوں گے۔اس ملاقات میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر، اور دیگر وفاقی وزراء بھی موجود تھے۔ سعودی وزیر سرمایہ کاری کا یہ دورہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مستحکم کرنے میں ایک اہم پیش رفت ہے، اور اس سے دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعاون کی نئی راہیں ہموار ہوں گی۔ -

سپریم کورٹ کا مبارک ثانی کیس کا تحریری فیصلہ: ڈاکٹر راغب حسین نعیمی کا موقف
سپریم کورٹ آف پاکستان نے مبارک ثانی کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے وفاق اور پنجاب حکومت کی جانب سے 24 جولائی کو دائر کی گئی درخواستوں پر وضاحت فراہم کی ہے۔ عدالت نے فیصلہ کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی درخواستوں کے نتیجے میں 19 علماء اکرام کو نوٹس جاری کیے گئے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں بتایا کہ علماء کرام نے پیرا 7، 42 اور 49 (ج) کے حوالے سے اعتراضات اٹھائے۔ ان کے مؤقف کو سننے کے بعد، عدالت نے فیصلہ کیا کہ 6 فروری اور 24 جولائی کے فیصلے میں معترضہ پیراگراف کو حذف کیا جائے۔عدالت کے جاری کردہ فیصلے کے مطابق، مبارک ثانی کیس کی تصحیح شدہ شکل کے بعد، 6 فروری اور 24 جولائی کے فیصلوں کو واپس لے لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گزشتہ فیصلوں سے متاثر ہوئے بغیر ضمانت کیس کا ٹرائل جاری رکھے۔یہ فیصلہ اس معاملے کی قانونی پیچیدگیوں کی روشنی میں سامنے آیا ہے، جس نے عوام اور قانونی حلقوں میں کافی بحث و تمحیص پیدا کی تھی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر راغب حسین نعیمی کا موقف
چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل، ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اس معاملے پر اپنی گہری تشویش اور خیال کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت کے بارے میں قرآن کی آیات اور احادیث کی روشنی میں واضح دلائل پیش کیے ہیں۔ ان کے مطابق، یہ فیصلہ ملک میں موجود مذہبی ہم آہنگی کی ضرورت کو بھی اجاگر کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ اسلام کے بنیادی عقائد کے خلاف جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ڈاکٹر نعیمی نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی فرد یا گروہ کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایسے مذہب کا پیروکار ظاہر کرے جس کے بنیادی عقائد سے وہ انکاری ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ قادیانیوں کا اپنے آپ کو مسلمان یا احمدی مسلمان کہلانا درست نہیں ہے، کیونکہ اس سے اسلامی عقائد کی بنیاد پر سوالات اٹھتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ قادیانیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے مذہب کی حقیقت کو تسلیم کریں اور اس کے مطابق اپنی شناخت کو واضح کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ بحیثیت پاکستانی شہری قادیانیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ آئین میں طے شدہ اپنی آئینی حیثیت کو تسلیم کریں۔ یہ بات اہم ہے کہ آئین پاکستان میں واضح طور پر قادیانیوں کی مذہبی حیثیت کو بیان کیا گیا ہے، اور اس کی پیروی کرنا ہر شہری کا فرض ہے۔ ڈاکٹر نعیمی نے یہ بھی کہا کہ یہ فیصلہ مسلمانوں کے درمیان اتحاد کی ضرورت کو بھی اجاگر کرتا ہے، اور انہیں چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کی مذہبی حساسیت کا احترام کریں۔
یہ معاملہ نہ صرف قانونی نقطہ نظر سے بلکہ سماجی اور مذہبی حوالے سے بھی اہم ہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مذہبی معاملات میں قانونی طریقہ کار کی پیروی ضروری ہے، اور یہ بات مسلمہ ہے کہ کوئی بھی فرد اپنے عقائد کو تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم، اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین کی جانب سے اٹھائے گئے نکات نے اس بات کو بھی واضح کیا کہ مذہبی عقائد کے تحفظ کی خاطر سختی ضروری ہے۔ڈاکٹر نعیمی کے بیان نے ملک میں جاری مذہبی بحث میں ایک نئی جہت کا اضافہ کیا ہے۔ ان کا موقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قادیانیوں کو پاکستان کی مذہبی و ثقافتی حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے اور اپنے آپ کو اسلامی تعلیمات کے دائرے میں لانا چاہیے۔ -

پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس مجوزہ 26ویں آئینی ترمیم پر طلب
پاکستان کی پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی نے مجوزہ 26ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر کل ایک اہم اجلاس طلب کرلیا ہے۔ یہ اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں خورشید شاہ کی زیر صدارت ہوگا، جہاں کمیٹی کے اراکین مجوزہ آئینی ترمیم کے مسودے پر حتمی مشاورت کریں گے۔ذرائع کے مطابق، اس اجلاس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے شامل ہوں گے، جن میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) اور دیگر جماعتوں کے اراکین شامل ہیں۔ اجلاس میں شرکت کے لیے پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، اور عامر ڈوگر کو خصوصی دعوت دی گئی ہے۔ یہ اجلاس خصوصی کمیٹی کا پانچواں ان کیمرہ اجلاس ہوگا، جو کہ آئینی ترمیم کے اہم نکات پر تفصیلی بات چیت کے لیے منعقد کیا جا رہا ہے۔
اجلاس میں حکومت کی طرف سے ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کی شرکت بھی متوقع ہے، جبکہ قانونی ماہر بیرسٹر گوہر اور اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان بھی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اس اجلاس کا مقصد آئینی ترمیم کے حوالے سے ایک جامع سمجھوتے تک پہنچنا ہے، تاکہ ملک میں آئینی اصلاحات کی راہ ہموار کی جا سکے۔ کمیٹی کے اراکین کی جانب سے متوقع طور پر مختلف تجاویز پیش کی جائیں گی، جس کے بعد آئینی ترمیم کا حتمی مسودہ تیار کیا جائے گا۔اس اہم اجلاس کے نتائج ملکی سیاست میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، اور اس کی تمام جماعتوں کے اراکین کی طرف سے بھرپور توجہ متوقع ہے۔ -

خیبرپختونخواہ: سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز میں 4 خوارجی ہلاک، آئی ایس پی آر
سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخواہ کے مختلف علاقوں میں کیے گئے دو آپریشنز کے دوران چار خوارجیوں کو ہلاک کردیا ہے۔ یہ اطلاعات پاکستان آرمی کے ترجمان ادارے، آئی ایس پی آر، کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں سامنے آئی ہیں۔پہلا آپریشن بنوں ضلع کے علاقہ جانی خیل میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیا گیا۔ یہ آپریشن اس وقت شروع ہوا جب سیکیورٹی فورسز کو علاقے میں خوارجی عناصر کی موجودگی کی معلومات ملیں۔ اس دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں سیکیورٹی فورسز نے دو خوارجیوں کو ہلاک کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ اس آپریشن کی کامیابی کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، تاہم یہ بتایا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے عناصر کا تعلق دہشت گردی کی مختلف سرگرمیوں سے تھا۔
دوسرا آپریشن شمالی وزیرستان کے علاقے حسن خیل میں انجام دیا گیا۔ اس آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے خوارجیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور اس فائرنگ کے تبادلے میں دو خوارجی ہلاک ہوئے۔ آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ اس آپریشن کے نتیجے میں مارے گئے خوارجیوں سے اسلحہ اور دیگر ہتھیار بھی برآمد ہوئے ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق، یہ خوارجی سیکیورٹی فورسز کے خلاف دہشت گردی کی کاروائیوں اور معصوم شہریوں کے ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھے۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ان آپریشنز کا مقصد علاقے میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کا قلع قمع کرنا اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔یہ آپریشنز اس بات کا ثبوت ہیں کہ سیکیورٹی فورسز عوام کی سلامتی کے لئے سرگرم عمل ہیں اور دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری رکھیں گی۔ ان کامیاب کارروائیوں سے امید کی جا رہی ہے کہ خیبرپختونخواہ میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئے گی۔