اسلام آباد: وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے کہا ہے کہ حکومت بجلی کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، جس کے تحت بجلی کی پیداواری کمپنیز کے ساتھ باہمی مشاورت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بجلی کی قیمت میں 10 روپے فی یونٹ کمی ہونی چاہیے، اور حکومت اس حوالے سے اقدامات اٹھا رہی ہے۔پریس کانفرنس کے دوران، وزیر توانائی نے عوام کو یقین دلایا کہ حکومت کی یہ کوششیں عوام کو ریلیف فراہم کریں گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں آئی پی پیز (انڈپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز) کے ساتھ معاہدوں پر بات چیت کرنا بھی شامل ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ حکومت نے یہ جائزہ لیا ہے کہ کون سے پاور پلانٹس ضروری ہیں اور کون سے نہیں۔
سردار اویس لغاری نے بتایا کہ انہوں نے پانچ آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت کا آغاز کیا ہے اور معاہدوں کا جائزہ لیا ہے، جس کے نتیجے میں ایک باہمی اتفاق رائے قائم ہوا ہے۔ انہوں نے اپنی ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی اقدامات کے ذریعے 17 ارب روپے کی بچت کی گئی ہے، اور آئی پی پیز مالکان کا بھی شکریہ ادا کیا۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ "ہم نے 411 ارب روپے کی بچت کو عملی طور پر کرکے دکھایا ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں کمی ضروری ہے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔” انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بجلی کے سیکٹر میں بہت ساری اصلاحات کی ضرورت ہے، اور انہوں نے آرمی چیف کی ٹاسک فورس میں حمایت کا ذکر کیا۔
سردار اویس لغاری نے بتایا کہ حکومت نے ایک نئے ادارے کی منظوری دی ہے، جس کے تحت بجلی خریداری کا عمل آسان بنایا جائے گا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اب بجلی کے خریدار صرف سینٹرل چیزنگ ایجنسی پر منحصر نہیں ہوں گے، بلکہ بجلی کی خرید و فروخت کے لیے آزادانہ ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔وزیر توانائی نے یہ بھی کہا کہ حیدرآباد، کوئٹہ اور سکھر کے ڈسٹری بیوشن کمپنیز کا نقصان گزشتہ تین ماہ میں بڑھا ہے۔ سردیوں میں بجلی کے استعمال میں اضافہ کرنے کے لیے حکومت ایک نئے پروگرام پر غور کر رہی ہے اور انہوں نے ڈسٹری بیوشن کمپنیز کے لاسز میں کمی کی نوید سنائی۔سردار اویس لغاری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ چند دنوں میں معاہدوں کو عملی شکل دی جائے گی اور عوام کی بہتری کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم باقی آئی پی پیز کے ساتھ کام کو آگے بڑھائیں گے اور مستقبل میں کپیسٹی پیمنٹس کا دوبارہ جائزہ لیں گے۔”
Author: صدف ابرار
بجلی کی قیمت میں 10 روپے فی یونٹ کمی کی کوششیں ہو رہی ہے : اویس لغاری

پی ٹی آئی سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو کی نااہلی کے لیے ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجا گیا
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو کی نااہلی کے حوالے سے ایک اہم ریفرنس چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھیج دیا ہے۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا جب سینیٹر ابڑو کے خلاف زیر التو نیب ریفرنس کے حوالے سے قانونی کاروائی جاری تھی۔ ریفرنس میں واضح کیا گیا ہے کہ سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو ٹیکنوکریٹ سیٹ کے لیے مطلوبہ قانونی تقاضوں پر پورا نہیں اُترتے، جس کی وجہ سے انہیں نااہل قرار دینے کی درخواست کی گئی ہے۔ریفرنس کے مطابق، سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو نے اپنے حلف نامے میں فراہم کردہ معلومات میں گمراہی برتی ہے، خاص طور پر زیر کفالت افراد، زرعی آمدنی اور اثاثوں کے حوالے سے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے کاغذات نامزدگی کے ساتھ جمع کرائی گئی ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں اپنے بچوں کی ملکیت والی زرعی اراضی کو چھپانے کی کوشش کی۔
مزید یہ کہ سینیٹر ابڑو نے اپنے ٹیکس گوشواروں میں اصل زرعی آمدنی کو بھی پوشیدہ رکھا اور کاغذات نامزدگی داخل کرنے سے پہلے غیر واضح رسیدیں فراہم کیں، جو ان کے مالی معاملات کی شفافیت پر سوالات اٹھاتی ہیں۔یہ اقدام پی ٹی آئی کے اندرونی معاملات اور سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو کے کردار پر ایک نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس ریفرنس کی وجہ سے سینیٹر کی حیثیت اور آئندہ سیاسی مستقبل کے بارے میں مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کی قیادت کو اس معاملے میں جوابدہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ صورتحال ملک کی سیاسی فضا میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے، جس کے اثرات سینیٹ کی کارکردگی اور پارٹی کی ساکھ پر مرتب ہوسکتے ہیں۔ سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو کے نااہل ہونے کی صورت میں پی ٹی آئی کو اپنے سیاسی سٹریٹیجیز پر نظر ثانی کرنی پڑ سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب پارٹی کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔
روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کی تعداد 7.46 لاکھ، رقوم 8.74 ارب ڈالر
ستمبر 2024 کے دوران روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس (RDA) کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جب 11,138 نئے اکاؤنٹس کھولے گئے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، ستمبر تک روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کی مجموعی تعداد 7 لاکھ 46 ہزار 251 تک پہنچ چکی ہے۔روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے پاکستان کو موصول ہونے والی ترسیلات زر بھی مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ ستمبر کے مہینے میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں 16 کروڑ 80 لاکھ امریکی ڈالر جمع کرائے گئے، جس سے ان اکاؤنٹس میں جمع ہونے والی کل رقم 8 ارب 74 کروڑ ڈالر تک جا پہنچی ہے۔ان جمع شدہ رقوم میں سے 5 ارب 55 کروڑ ڈالر مقامی سطح پر مختلف شعبوں میں استعمال ہوئے، جبکہ ایک ارب 66 کروڑ ڈالر نکلوائے جا چکے ہیں۔ مزید برآں، اسٹیٹ بینک کے مطابق، آر ڈی اے اکاؤنٹس میں واجب الادا رقوم کا حجم ایک ارب 53 کروڑ ڈالر ہے، جو مستقبل میں ادا کیے جانے والے وعدوں کی نمائندگی کرتا ہے۔یہ ڈیجیٹل اکاؤنٹس پاکستان کی معیشت میں بیرونی سرمایہ کاری اور ترسیلات زر کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جو ملکی معیشت کی بہتری کے لیے امید کی ایک کرن ہیں۔

حکومت نمبرز پورے کرنے کے لیے ایم این ایز کو ہراساں کر رہی ہے، شیخ وقاص اکرم
تحریک انصاف کے سینئر رہنما شیخ وقاص اکرم نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے پاس آئینی ترمیم کے لیے درکار ممبرانِ قومی اسمبلی کی تعداد موجود نہیں ہے، ورنہ حکومت اب تک یہ ترمیم منظور کر چکی ہوتی۔ انہوں نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اس معاملے پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔شیخ وقاص اکرم کا کہنا تھا کہ "ہمارے ممبران قومی اسمبلی (ایم این ایز) کی تعداد پوری ہے، لیکن حکومت کے نمبرز مکمل نہیں ہیں۔ اگر ان کے پاس مکمل تعداد ہوتی، تو وہ آئینی ترمیم کو فوراً پارلیمنٹ میں پیش کر چکے ہوتے۔مزید وضاحت کرتے ہوئے، انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت اپنے نمبرز پورے کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کر رہی ہے۔ "ایم این ایز کو گھروں سے اٹھایا جا رہا ہے اور ہراساں کیا جا رہا ہے تاکہ وہ حکومت کا ساتھ دیں،” شیخ وقاص اکرم نے کہا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ تحریک انصاف نے اپنے سات ایم این ایز کو چھپا دیا ہے تاکہ حکومت انہیں اپنے حق میں استعمال نہ کر سکے۔
مولانا فضل الرحمان کے آئینی ترامیم کے حوالے سے کردار پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ مولانا نے یقین دلایا ہے کہ وہ اپنی سیاسی طاقت کو حکومت کے حق میں استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ "مولانا فضل الرحمان نے اس معاملے پر اپنی ضمانت دی ہے کہ وہ کسی آئینی ترمیم کے لیے اپنا کندھا پیش نہیں کریں گے،شیخ وقاص اکرم نے سپیکر قومی اسمبلی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خط سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کو درکار نمبرز پورے نہیں ہیں۔ انہوں نے اس پر زور دیا کہ تحریک انصاف کی جانب سے اپوزیشن کے کردار کو مضبوطی سے ادا کیا جا رہا ہے، اور اس معاملے میں حکومت کی کمزوریاں عیاں ہو رہی ہیں .چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ انہیں اپنا عہدہ چھوڑنا ہوگا۔ ان کے اس بیان نے قانونی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔جب خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کے غائب ہونے کے بارے میں پوچھا گیا، تو شیخ وقاص اکرم نے وضاحت کی کہ علی امین گنڈا پور نے خود بتایا ہے کہ وہ کہاں تھے۔ یہ معاملہ حالیہ دنوں میں خبروں کی زینت بنا رہا ہے، لیکن شیخ وقاص اکرم کی جانب سے یہ بیان ان تمام افواہوں کا جواب سمجھا جا رہا ہے۔
حکومت کی سمگلنگ کے خلاف سخت کارروائیاں: گاڑیوں کی ضبطی کا حکم
حکومت نے سمگلنگ کے خلاف اپنی کوششوں کو تیز کرتے ہوئے سمگلنگ میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کی ضبطی کا حکم دے دیا ہے۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر، تمام سرکاری اداروں کو اس معاملے میں سخت اقدامات کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ 3 اکتوبر کو جاری کردہ ایک ایس آر او میں ترمیم کے ذریعے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ سمگلنگ میں ملوث گاڑیوں کو اب جرمانہ ادا کرکے نہیں چھڑایا جا سکے گا۔ اس ترمیم کا مقصد سمگلنگ کی روک تھام اور حکومت کے عزم کا اظہار ہے۔
چیئرمین ایف بی آر نے اس بات پر زور دیا کہ سمگلنگ نے ملک کی معیشت کو طویل عرصے سے متاثر کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب سے سمگلنگ میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کو ضبط کر کے مستقل طور پر بند کیا جائے گا، جس سے پاکستان کی معاشی سرحدوں کی حفاظت میں مدد ملے گی۔ یہ اقدامات ملک کی معیشت کی سالمیت کے تحفظ کے لیے کیے جا رہے ہیں، اور حالیہ ترمیم ان کوششوں کا حصہ ہے۔ حکومتی عزم کے ساتھ، توقع کی جا رہی ہے کہ یہ نئے اقدامات سمگلنگ کے خاتمے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی کی بریت کی درخواست پر سماعت منسوخ
اسلام آباد: بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ نیب ریفرنس کی سماعت منسوخ کر دی گئی ہے۔ یہ سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں مقرر تھی، لیکن جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی غیر موجودگی کی وجہ سے اس کی کارروائی نہیں ہو سکی۔ عدالت نے احتساب عدالت کو اس کیس کے حتمی فیصلے سے روکا ہوا ہے، جس کے باعث یہ معاملہ زیر التوا ہے۔ عدالت میں یہ سماعت چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی مشترکہ سربراہی میں ہونی تھی۔ تاہم، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی طبیعت میں خرابی آنے کے باعث وہ سماعت کے لیے دستیاب نہیں تھے۔ یہ بات اہم ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ابھی تک 190 ملین پاؤنڈ نیب ریفرنس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی بریت کی درخواست کی اگلی سماعت کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔ عدالت کی جانب سے جلد ہی اس کیس کی سماعت کی نئی تاریخ متعین کی جائے گی۔عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف یہ ریفرنس قومی احتساب بیورو (نیب) نے دائر کیا تھا، جس میں مبینہ طور پر مالی بے ضابطگیوں اور کرپشن کے الزامات شامل ہیں۔ اس کیس کی سماعت کا انتظار ملک کی سیاسی صورتحال کے پیش نظر خاصی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ پی ٹی آئی کے بانی کی قانونی حیثیت اور مستقبل کی سیاسی حکمت عملی اس معاملے کے فیصلے پر منحصر ہے۔

صدر آصف زرداری عالمی فورم میں شرکت کے لئے کل ترکمانستان روانہ ہونگے
اسلام آباد: صدر آصف زرداری کل ترکمانستان کے دارالحکومت اشکاباد روانہ ہوں گے جہاں وہ امن و ترقی کے عالمی فورم میں شرکت کریں گے۔ یہ دورہ ترکمانستان کے صدر سردار بردی محمد اف کی خصوصی دعوت پر کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق، اشکاباد میں ہونے والے اس اہم فورم میں ایران کے نو منتخب صدر مسعود پزشکیان بھی شریک ہوں گے، جبکہ 11 اکتوبر کو روسی صدر کا بھی اشکاباد کا دورہ متوقع ہے۔ اس فورم میں علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، اور اس موقع پر مختلف رہنماؤں کے درمیان اہم ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔صدر آصف زرداری کا یہ دورہ خطے کی امن و ترقی کے حوالے سے اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔

امریکی صحافی کے سخت سوالات: پریس کانفرنس میں امریکا کی دوہری پالیسی بے نقاب
واشنگٹن: ایک حالیہ پریس بریفنگ کے دوران، ایک امریکی صحافی نے اپنے سوالات کے ذریعے امریکی حکومت کی خارجہ پالیسی پر شدید تنقید کی، جس نے امریکا کی دوہری معیارات کو عیاں کر دیا۔ صحافی نے خاص طور پر اسرائیل کے ایران پر ممکنہ حملے، یوکرین میں روس کے خلاف کارروائیاں، اور بائیڈن انتظامیہ کی غزہ میں نسل کُشی کے حوالے سے سرگرمیوں پر سوالات اٹھائے۔صحافی نے کہا، "جولائی میں وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا تھا کہ ایران دو ہفتوں میں ایٹمی ہتھیار حاصل کر لے گا۔ میرے خیال میں، اب تک ایران ایٹم بم بنا چکا ہوگا۔” اس سوال نے بریفنگ کے دوران موجود افراد کو چوکنا کر دیا، کیونکہ یہ سوال امریکا کی اپنی ایٹمی پالیسیوں اور ایران کے خلاف عائد الزامات کی جانب اشارہ کرتا ہے۔
اس کے بعد صحافی نے یوکرین کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "یوکرین نے روس کے علاقوں میں کئی حملے کیے ہیں، اور ہم جانتے ہیں کہ روس کے پاس چھ ہزار ایٹم بم ہیں۔” انہوں نے مزید کہا، "ایک ایٹمی طاقت کے خلاف ملیشیا کو مسلح کرنا انتہائی خطرناک ہے۔” اس تنقید نے امریکا کی خارجہ پالیسی پر سوال اٹھایا کہ کیا یہ واقعی عالمی امن کے لیے خطرہ نہیں بن سکتا؟صحافی نے انتباہ کرتے ہوئے کہا، "اگر ایٹمی جنگ چھڑی تو انسانیت کی تمام تر محنت لمحوں میں تباہ ہو جائے گی۔” ان کے اس بیان نے یہ ظاہر کیا کہ ایٹمی جنگ کے ممکنہ اثرات کی سنجیدگی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
امریکی صحافی نے بائیڈن انتظامیہ کی خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا، "آپ کہتے ہیں کہ پوٹن اور خمینی دہشت گرد ہیں، لیکن آپ نے غزہ میں نسل کُشی کے لیے فنڈنگ کی ہے۔ آپ روزانہ آکر دوسری قوموں کی اخلاقیات پر لیکچر دیتے ہیں، لیکن آپ کے پاس کیا حق ہے؟صحافی کے سوالات پر امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر واضح طور پر تلملا گئے۔ انہوں نے جواب دیا، "اگر آپ پالیسی کے مطابق سوال کریں گے تو میں جواب دوں گا۔” لیکن صحافی نے جواب دیا کہ "آپ ایٹمی جنگ چھیڑنے کا رسک لے رہے ہیں تو سوالوں کے جواب بھی دیں۔” اس پر ملر نے جواب دینے کے بجائے دوسرے صحافی کی طرف اشارہ کیا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ان کے سوالات کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا۔
یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بین الاقوامی سیاست میں سوالات کے جواب دینا کتنا مشکل ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب وہ حکومتی پالیسیوں کی حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں۔ اس پریس بریفنگ نے امریکا کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے اہم سوالات اٹھائے ہیں اور یہ ظاہر کیا ہے کہ عالمی سطح پر مسائل کا سامنا کرنے کے لیے شفافیت اور جوابدہی کتنی ضروری ہے۔
مولانا فضل الرحمان کا وانا اور خیبر میں جرگے کے شرکا پر تشدد کی مذمت
جمیعت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وانا اور خیبر میں جرگے کے شرکا پر ہونے والے تشدد کی شدید مذمت کی ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ریاست کو قبائل کی بات سننی چاہیے، بصورت دیگر تشدد اور فائرنگ کے واقعات سے حالات مزید خراب ہوں گے۔مولانا فضل الرحمان نے اس تشدد کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حکومت اور ریاست پر زور دیا کہ وہ حالات کو خراب کرنے سے گریز کریں۔ انہوں نے کہا، "تشدد سے تحریکیں ختم نہیں ہوتیں بلکہ مزید ابھرتی ہیں۔ مذاکرات کے ذریعے مسائل کو حل کیا جانا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ جرگے، مظاہرے، اور دھرنے جمہوریت کا حسن ہیں، اور یہ سمجھنا مشکل ہے کہ حکومت ان سے اتنی خوفزدہ کیوں ہو جاتی ہے۔ انہوں نے اس موقع پر جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس دکھ کی گھڑی میں یاد رکھا جائے گا۔ فضل الرحمان نے زخمیوں کے فوری طبی امداد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالی انہیں جلد صحت عطا فرمائے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں آئینی ترمیم کے ڈرافٹ کی سماعت کل ہوگی
اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر کی درخواست پر آئینی ترمیم کے ممکنہ ڈرافٹ کی سماعت کل مقرر کی گئی ہے۔ عدالت میں یہ درخواست دائر کی گئی ہے کہ آئینی ترمیم کا ڈرافٹ عوام کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ اس پر عوامی رائے حاصل کی جا سکے۔سماعت کا عمل چیف جسٹس عامر فاروق کریں گے، جس میں درخواست میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئینی ترمیم کے مسودے کو منظر عام پر لانا ضروری ہے۔ مصطفیٰ نواز کھوکھر نے اپنی درخواست میں یاد دلایا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے دوران بھی عوام کی رائے لی گئی تھی، اسی طرح اس نئی آئینی ترمیم کے معاملے میں بھی عوام کو رائے دینے کا حق ملنا چاہیے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ کسی آئینی ترمیم کو ایک دن میں پاس کرنا جمہوری اور پارلیمانی اصولوں کے خلاف ہے۔ سابق سینیٹر نے قومی اسمبلی کے قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مجوزہ قانون سازی کو سرکاری گزٹ میں شائع کرنا لازمی ہے۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ عوام کو اس آئینی ترمیم پر رائے دینے کے لیے کم از کم آٹھ ہفتے کا وقت دیا جائے، اور وفاقی حکومت کو وزارت قانون کی ویب سائٹ پر ڈرافٹ پبلک کرنے کی ہدایت کی جائے۔








