Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذخائر میں اضافہ

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذخائر میں اضافہ

    اسلام آباد: سٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ ترین اعلامیے کے مطابق، ملکی زرمبادلہ ذخائر میں ایک اہم تبدیلی آئی ہے، جس میں سٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے جبکہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں کمی دیکھی گئی ہے۔ سٹیٹ بینک کے ذخائر میں 10.63 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ ذخائر 16 اپریل 2022 کی بلند سطح 10.80 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ یہ اضافہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مرکزی بینک کی مالیاتی حکمت عملی نے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے میں ایک مثبت کردار ادا کیا ہے۔ دوسری جانب، کمرشل بینکوں کے ذخائر میں 4.22 کروڑ ڈالر کی کمی آئی ہے، جس کے نتیجے میں یہ ذخائر 5.23 ارب ڈالر پر آگئے ہیں۔ یہ کمی ممکنہ طور پر بینکوں کی جانب سے قرضوں کی ادائیگی اور دیگر مالیاتی ضروریات کی وجہ سے ہوئی ہے، جس کا اثر ملکی معاشی صورتحال پر بھی پڑ سکتا ہے۔

    ملکی مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں 10 اکتوبر تک 6.41 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کی حالت میں مجموعی طور پر بہتری آئی ہے۔ یہ اضافہ ملکی معیشت کے لئے ایک مثبت علامت ہے اور سرمایہ کاروں کے لئے بھی امید کی کرن ہے۔حکومت کی جانب سے مختلف اقتصادی اقدامات اور اصلاحات کے ذریعے معیشت کو مستحکم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، جس کا مقصد زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری لانا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو ملکی معیشت میں استحکام پیدا ہوسکتا ہے، جو کہ ایک مثبت پیغام ہے۔اس تبدیلی کے اثرات کا جائزہ لینے کے لئے ماہرین نے مزید تجزیے کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے، خاص طور پر یہ دیکھنے کے لئے کہ یہ زرمبادلہ کے ذخائر کی حالت میں بہتری کے لئے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔یہ صورتحال پاکستانی معیشت کے مستقبل کے لئے اہم ہے، اور اس پر توجہ دینا ضروری ہوگا تاکہ معیشت کی صحت کو بہتر بنایا جا سکے اور معاشی چیلنجز کا سامنا کیا جا سکے۔

  • حافظ نعیم الرحمان کا آئی پی پیز سے معاہدوں کے خاتمے پر مثبت ردعمل، عوامی ریلیف کا مطالبہ

    حافظ نعیم الرحمان کا آئی پی پیز سے معاہدوں کے خاتمے پر مثبت ردعمل، عوامی ریلیف کا مطالبہ

    لاہور: جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے آج ایک پریس کانفرنس میں اس بات کا خیرمقدم کیا کہ وزیراعظم نے پانچ انڈپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ساتھ معاہدے ختم کر دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے اور جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ "آج پانچ آئی پی پیز کے معاہدوں کو وزیراعظم نے ختم کیا، ہم اس پیش رفت کا خیر مقدم کرتے ہیں۔” انہوں نے وضاحت کی کہ کپیسٹی پیمنٹ کے مد میں بچ جانے والی رقم کا عوام کے بجلی کے بلوں میں ریلیف دینے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ کپیسٹی پیمنٹ کا مطلب یہ ہے کہ حکومت ان بجلی کی کمپنیوں کو پیسے دیتی ہے جو بجلی پیدا نہیں کر رہی ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک جاری رہے گی اور حکومت پر دباؤ برقرار رکھیں گے۔ "بڑے جاگیرداروں پر ٹیکس لگانے کا عمل ابھی باقی ہے،” انہوں نے مزید کہا۔ حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کی جانب سے تنخواہ دار لوگوں پر 400 ارب روپے کے ٹیکس کا تخمینہ لگانے پر تنقید کی اور پٹرول کی لیوی واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "بجلی کے بلوں میں ٹیکسوں کو ختم کیا جائے اور گیس اور بجلی کے بلوں پر ایک ہزار روپے کا فکس ٹیکس بھی ختم ہونا چاہیے۔
    حافظ نعیم الرحمان نے مریم نواز کے کسانوں کو مافیا کہنے پر بھی تنقید کی، یہ کہتے ہوئے کہ وہ شوگر مافیا پر لگام کیوں نہیں ڈالتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "کسان مافیا کا لفظ جاگیرداروں اور شوگر مافیا کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔” انہوں نے نشاندہی کی کہ اس سال پچاس فیصد کپاس کی کاشت کم ہوئی ہے اور اس بار لوگ گندم لگانے کے لیے تیار نہیں ہیں، جس کی وجہ سے فوڈ کرائسز پیدا ہو گا۔حافظ نعیم الرحمان نے بین الاقوامی صورتحال پر بھی تبصرہ کیا، خاص طور پر افغانستان کے ساتھ سرحد کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "ایک طرف افغانستان کا بارڈر ہے جہاں جنگ کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔” انہوں نے مریم نواز کے بیان پر سوال اٹھایا کہ "وہ بھارت کے ساتھ ماحولیاتی ڈپلومیسی کی بات کرتی ہیں، لیکن وزیراعلیٰ کی ڈومین ہی نہیں کہ وہ وفاق کی سطح پر بات کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ "کوئی بھی احتجاج جس میں ملک کے خلاف نعرے لگائے جائیں، اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔” حافظ نعیم الرحمان نے بھارت کی کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا بھی ذکر کیا، کہا کہ "بھارت ایک لاکھ کشمیریوں کو شہید کر چکا ہے۔

  • کراچی میں چینی کانوائے پر خودکش حملے کی تحقیقات: چینی ٹیم کا دورہ اور شواہد کا معائنہ

    کراچی میں چینی کانوائے پر خودکش حملے کی تحقیقات: چینی ٹیم کا دورہ اور شواہد کا معائنہ

    کراچی: ایئرپورٹ سگنل کے قریب چائنیز کانوائے پر ہونے والے خودکش حملے کی تحقیقات کے سلسلے میں چینی تفتیش کاروں کی ایک اعلیٰ سطحی ٹیم کراچی پہنچ گئی ہے۔ اس ٹیم نے جائے وقوعہ کا تفصیلی دورہ کیا اور دھماکے کی جگہ کا معائنہ کیا۔چائنیز انویسٹی گیٹرز کی ٹیم نے جائے حادثہ پر موجود تمام شواہد کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کی۔ پاکستانی تحقیقاتی اداروں کے اعلیٰ افسران نے چینی ٹیم کو دھماکے کے مقام پر پیش آنے والے واقعے اور اب تک کی تحقیقات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ پاکستانی اداروں نے چینی ٹیم کو بتایا کہ دھماکے میں استعمال ہونے والے مواد، حملہ آور کی شناخت اور حملے کے پیچھے کار فرما عناصر کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔چینی تفتیشی ٹیم نے جائے وقوعہ پر موجود تباہ شدہ گاڑیوں اور وہاں پھیلے ہوئے دیگر شواہد کا بغور جائزہ لیا۔ پاکستانی اداروں کے فراہم کردہ شواہد کے علاوہ چینی انویسٹی گیٹرز نے خود بھی شواہد جمع کئے، جن میں بارودی مواد کے نمونے شامل ہیں۔ ٹیم نے جائے دھماکہ سے اہم نمونے جمع کرکے اپنی لیب میں مزید تجزیے کے لئے بھیجے ہیں تاکہ اس حملے میں استعمال ہونے والے دھماکہ خیز مواد کی نوعیت کا تعین کیا جا سکے۔
    جائے وقوعہ کے معائنے کے دوران سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے تھے۔ چینی تفتیش کاروں کے پہنچنے سے قبل ہی پورے علاقے کو سیکیورٹی اہلکاروں نے گھیرے میں لے لیا تھا تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ مقامی پولیس اور رینجرز کے دستے علاقے میں تعینات رہے اور چینی ٹیم کی حفاظت کے لئے سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے۔یہ بھی قابل ذکر ہے کہ چینی تفتیش کاروں کا یہ دورہ اُس وقت ہو رہا ہے جب پاکستان میں چینی شہریوں اور تنصیبات پر ہونے والے حملوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔ چینی حکومت اپنی ٹیم کی مدد سے حملے کے محرکات اور اس کے پیچھے کارفرما عناصر کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔پاکستانی حکومت نے چینی شہریوں کی حفاظت کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے سیکیورٹی اقدامات کو مزید سخت کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی تعاون اور مشترکہ تحقیقات کا یہ سلسلہ جاری رہے گا تاکہ چینی شہریوں کو محفوظ رکھنے کے لئے مؤثر حکمت عملی وضع کی جا سکے۔یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں چینی شہریوں پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جو پاکستان میں چینی منصوبوں اور اقتصادی مفادات کو نشانہ بنانے کی ایک سازش کا حصہ ہیں۔ اس حوالے سے چینی اور پاکستانی ادارے مشترکہ طور پر تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ ان حملوں کے پیچھے موجود نیٹ ورکس کو بے نقاب کیا جا سکے۔

  • بجلی کی قیمت میں 10 روپے فی یونٹ کمی کی کوششیں ہو رہی ہے : اویس لغاری

    اسلام آباد: وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے کہا ہے کہ حکومت بجلی کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، جس کے تحت بجلی کی پیداواری کمپنیز کے ساتھ باہمی مشاورت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بجلی کی قیمت میں 10 روپے فی یونٹ کمی ہونی چاہیے، اور حکومت اس حوالے سے اقدامات اٹھا رہی ہے۔پریس کانفرنس کے دوران، وزیر توانائی نے عوام کو یقین دلایا کہ حکومت کی یہ کوششیں عوام کو ریلیف فراہم کریں گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں آئی پی پیز (انڈپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز) کے ساتھ معاہدوں پر بات چیت کرنا بھی شامل ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ حکومت نے یہ جائزہ لیا ہے کہ کون سے پاور پلانٹس ضروری ہیں اور کون سے نہیں۔
    سردار اویس لغاری نے بتایا کہ انہوں نے پانچ آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت کا آغاز کیا ہے اور معاہدوں کا جائزہ لیا ہے، جس کے نتیجے میں ایک باہمی اتفاق رائے قائم ہوا ہے۔ انہوں نے اپنی ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی اقدامات کے ذریعے 17 ارب روپے کی بچت کی گئی ہے، اور آئی پی پیز مالکان کا بھی شکریہ ادا کیا۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ "ہم نے 411 ارب روپے کی بچت کو عملی طور پر کرکے دکھایا ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں کمی ضروری ہے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔” انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بجلی کے سیکٹر میں بہت ساری اصلاحات کی ضرورت ہے، اور انہوں نے آرمی چیف کی ٹاسک فورس میں حمایت کا ذکر کیا۔
    سردار اویس لغاری نے بتایا کہ حکومت نے ایک نئے ادارے کی منظوری دی ہے، جس کے تحت بجلی خریداری کا عمل آسان بنایا جائے گا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اب بجلی کے خریدار صرف سینٹرل چیزنگ ایجنسی پر منحصر نہیں ہوں گے، بلکہ بجلی کی خرید و فروخت کے لیے آزادانہ ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔وزیر توانائی نے یہ بھی کہا کہ حیدرآباد، کوئٹہ اور سکھر کے ڈسٹری بیوشن کمپنیز کا نقصان گزشتہ تین ماہ میں بڑھا ہے۔ سردیوں میں بجلی کے استعمال میں اضافہ کرنے کے لیے حکومت ایک نئے پروگرام پر غور کر رہی ہے اور انہوں نے ڈسٹری بیوشن کمپنیز کے لاسز میں کمی کی نوید سنائی۔سردار اویس لغاری نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ چند دنوں میں معاہدوں کو عملی شکل دی جائے گی اور عوام کی بہتری کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہم باقی آئی پی پیز کے ساتھ کام کو آگے بڑھائیں گے اور مستقبل میں کپیسٹی پیمنٹس کا دوبارہ جائزہ لیں گے۔”

  • پی ٹی آئی سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو کی نااہلی کے لیے ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجا گیا

    پی ٹی آئی سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو کی نااہلی کے لیے ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجا گیا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو کی نااہلی کے حوالے سے ایک اہم ریفرنس چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھیج دیا ہے۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا جب سینیٹر ابڑو کے خلاف زیر التو نیب ریفرنس کے حوالے سے قانونی کاروائی جاری تھی۔ ریفرنس میں واضح کیا گیا ہے کہ سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو ٹیکنوکریٹ سیٹ کے لیے مطلوبہ قانونی تقاضوں پر پورا نہیں اُترتے، جس کی وجہ سے انہیں نااہل قرار دینے کی درخواست کی گئی ہے۔ریفرنس کے مطابق، سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو نے اپنے حلف نامے میں فراہم کردہ معلومات میں گمراہی برتی ہے، خاص طور پر زیر کفالت افراد، زرعی آمدنی اور اثاثوں کے حوالے سے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے کاغذات نامزدگی کے ساتھ جمع کرائی گئی ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں اپنے بچوں کی ملکیت والی زرعی اراضی کو چھپانے کی کوشش کی۔
    مزید یہ کہ سینیٹر ابڑو نے اپنے ٹیکس گوشواروں میں اصل زرعی آمدنی کو بھی پوشیدہ رکھا اور کاغذات نامزدگی داخل کرنے سے پہلے غیر واضح رسیدیں فراہم کیں، جو ان کے مالی معاملات کی شفافیت پر سوالات اٹھاتی ہیں۔یہ اقدام پی ٹی آئی کے اندرونی معاملات اور سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو کے کردار پر ایک نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس ریفرنس کی وجہ سے سینیٹر کی حیثیت اور آئندہ سیاسی مستقبل کے بارے میں مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کی قیادت کو اس معاملے میں جوابدہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ صورتحال ملک کی سیاسی فضا میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے، جس کے اثرات سینیٹ کی کارکردگی اور پارٹی کی ساکھ پر مرتب ہوسکتے ہیں۔ سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو کے نااہل ہونے کی صورت میں پی ٹی آئی کو اپنے سیاسی سٹریٹیجیز پر نظر ثانی کرنی پڑ سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب پارٹی کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔

  • روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کی تعداد 7.46 لاکھ، رقوم 8.74 ارب ڈالر

    روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کی تعداد 7.46 لاکھ، رقوم 8.74 ارب ڈالر

    ستمبر 2024 کے دوران روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس (RDA) کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جب 11,138 نئے اکاؤنٹس کھولے گئے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، ستمبر تک روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کی مجموعی تعداد 7 لاکھ 46 ہزار 251 تک پہنچ چکی ہے۔روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے پاکستان کو موصول ہونے والی ترسیلات زر بھی مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ ستمبر کے مہینے میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں 16 کروڑ 80 لاکھ امریکی ڈالر جمع کرائے گئے، جس سے ان اکاؤنٹس میں جمع ہونے والی کل رقم 8 ارب 74 کروڑ ڈالر تک جا پہنچی ہے۔ان جمع شدہ رقوم میں سے 5 ارب 55 کروڑ ڈالر مقامی سطح پر مختلف شعبوں میں استعمال ہوئے، جبکہ ایک ارب 66 کروڑ ڈالر نکلوائے جا چکے ہیں۔ مزید برآں، اسٹیٹ بینک کے مطابق، آر ڈی اے اکاؤنٹس میں واجب الادا رقوم کا حجم ایک ارب 53 کروڑ ڈالر ہے، جو مستقبل میں ادا کیے جانے والے وعدوں کی نمائندگی کرتا ہے۔یہ ڈیجیٹل اکاؤنٹس پاکستان کی معیشت میں بیرونی سرمایہ کاری اور ترسیلات زر کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جو ملکی معیشت کی بہتری کے لیے امید کی ایک کرن ہیں۔

  • حکومت نمبرز پورے کرنے کے لیے ایم این ایز کو ہراساں کر رہی ہے، شیخ وقاص اکرم

    حکومت نمبرز پورے کرنے کے لیے ایم این ایز کو ہراساں کر رہی ہے، شیخ وقاص اکرم

    تحریک انصاف کے سینئر رہنما شیخ وقاص اکرم نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے پاس آئینی ترمیم کے لیے درکار ممبرانِ قومی اسمبلی کی تعداد موجود نہیں ہے، ورنہ حکومت اب تک یہ ترمیم منظور کر چکی ہوتی۔ انہوں نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اس معاملے پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔شیخ وقاص اکرم کا کہنا تھا کہ "ہمارے ممبران قومی اسمبلی (ایم این ایز) کی تعداد پوری ہے، لیکن حکومت کے نمبرز مکمل نہیں ہیں۔ اگر ان کے پاس مکمل تعداد ہوتی، تو وہ آئینی ترمیم کو فوراً پارلیمنٹ میں پیش کر چکے ہوتے۔مزید وضاحت کرتے ہوئے، انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت اپنے نمبرز پورے کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کر رہی ہے۔ "ایم این ایز کو گھروں سے اٹھایا جا رہا ہے اور ہراساں کیا جا رہا ہے تاکہ وہ حکومت کا ساتھ دیں،” شیخ وقاص اکرم نے کہا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ تحریک انصاف نے اپنے سات ایم این ایز کو چھپا دیا ہے تاکہ حکومت انہیں اپنے حق میں استعمال نہ کر سکے۔
    مولانا فضل الرحمان کے آئینی ترامیم کے حوالے سے کردار پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ مولانا نے یقین دلایا ہے کہ وہ اپنی سیاسی طاقت کو حکومت کے حق میں استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ "مولانا فضل الرحمان نے اس معاملے پر اپنی ضمانت دی ہے کہ وہ کسی آئینی ترمیم کے لیے اپنا کندھا پیش نہیں کریں گے،شیخ وقاص اکرم نے سپیکر قومی اسمبلی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خط سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کو درکار نمبرز پورے نہیں ہیں۔ انہوں نے اس پر زور دیا کہ تحریک انصاف کی جانب سے اپوزیشن کے کردار کو مضبوطی سے ادا کیا جا رہا ہے، اور اس معاملے میں حکومت کی کمزوریاں عیاں ہو رہی ہیں .چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ انہیں اپنا عہدہ چھوڑنا ہوگا۔ ان کے اس بیان نے قانونی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔جب خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کے غائب ہونے کے بارے میں پوچھا گیا، تو شیخ وقاص اکرم نے وضاحت کی کہ علی امین گنڈا پور نے خود بتایا ہے کہ وہ کہاں تھے۔ یہ معاملہ حالیہ دنوں میں خبروں کی زینت بنا رہا ہے، لیکن شیخ وقاص اکرم کی جانب سے یہ بیان ان تمام افواہوں کا جواب سمجھا جا رہا ہے۔

  • حکومت کی سمگلنگ کے خلاف سخت کارروائیاں: گاڑیوں کی ضبطی کا حکم

    حکومت کی سمگلنگ کے خلاف سخت کارروائیاں: گاڑیوں کی ضبطی کا حکم

    حکومت نے سمگلنگ کے خلاف اپنی کوششوں کو تیز کرتے ہوئے سمگلنگ میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کی ضبطی کا حکم دے دیا ہے۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر، تمام سرکاری اداروں کو اس معاملے میں سخت اقدامات کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ 3 اکتوبر کو جاری کردہ ایک ایس آر او میں ترمیم کے ذریعے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ سمگلنگ میں ملوث گاڑیوں کو اب جرمانہ ادا کرکے نہیں چھڑایا جا سکے گا۔ اس ترمیم کا مقصد سمگلنگ کی روک تھام اور حکومت کے عزم کا اظہار ہے۔
    چیئرمین ایف بی آر نے اس بات پر زور دیا کہ سمگلنگ نے ملک کی معیشت کو طویل عرصے سے متاثر کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب سے سمگلنگ میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کو ضبط کر کے مستقل طور پر بند کیا جائے گا، جس سے پاکستان کی معاشی سرحدوں کی حفاظت میں مدد ملے گی۔ یہ اقدامات ملک کی معیشت کی سالمیت کے تحفظ کے لیے کیے جا رہے ہیں، اور حالیہ ترمیم ان کوششوں کا حصہ ہے۔ حکومتی عزم کے ساتھ، توقع کی جا رہی ہے کہ یہ نئے اقدامات سمگلنگ کے خاتمے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی بریت کی درخواست پر سماعت منسوخ

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کی بریت کی درخواست پر سماعت منسوخ

    اسلام آباد: بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ نیب ریفرنس کی سماعت منسوخ کر دی گئی ہے۔ یہ سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں مقرر تھی، لیکن جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی غیر موجودگی کی وجہ سے اس کی کارروائی نہیں ہو سکی۔ عدالت نے احتساب عدالت کو اس کیس کے حتمی فیصلے سے روکا ہوا ہے، جس کے باعث یہ معاملہ زیر التوا ہے۔ عدالت میں یہ سماعت چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی مشترکہ سربراہی میں ہونی تھی۔ تاہم، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی طبیعت میں خرابی آنے کے باعث وہ سماعت کے لیے دستیاب نہیں تھے۔ یہ بات اہم ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ابھی تک 190 ملین پاؤنڈ نیب ریفرنس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی بریت کی درخواست کی اگلی سماعت کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔ عدالت کی جانب سے جلد ہی اس کیس کی سماعت کی نئی تاریخ متعین کی جائے گی۔عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف یہ ریفرنس قومی احتساب بیورو (نیب) نے دائر کیا تھا، جس میں مبینہ طور پر مالی بے ضابطگیوں اور کرپشن کے الزامات شامل ہیں۔ اس کیس کی سماعت کا انتظار ملک کی سیاسی صورتحال کے پیش نظر خاصی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ پی ٹی آئی کے بانی کی قانونی حیثیت اور مستقبل کی سیاسی حکمت عملی اس معاملے کے فیصلے پر منحصر ہے۔

  • صدر آصف زرداری عالمی فورم میں شرکت کے لئے کل ترکمانستان روانہ ہونگے

    صدر آصف زرداری عالمی فورم میں شرکت کے لئے کل ترکمانستان روانہ ہونگے

    اسلام آباد: صدر آصف زرداری کل ترکمانستان کے دارالحکومت اشکاباد روانہ ہوں گے جہاں وہ امن و ترقی کے عالمی فورم میں شرکت کریں گے۔ یہ دورہ ترکمانستان کے صدر سردار بردی محمد اف کی خصوصی دعوت پر کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق، اشکاباد میں ہونے والے اس اہم فورم میں ایران کے نو منتخب صدر مسعود پزشکیان بھی شریک ہوں گے، جبکہ 11 اکتوبر کو روسی صدر کا بھی اشکاباد کا دورہ متوقع ہے۔ اس فورم میں علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، اور اس موقع پر مختلف رہنماؤں کے درمیان اہم ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔صدر آصف زرداری کا یہ دورہ خطے کی امن و ترقی کے حوالے سے اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔